میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

چند دن پہلے اِس موضوع پر دار العلوم کراچی کا متفقہ فتویٰ پڑھنے کو ملا پھر ذوالحجہ 1429ھ کے 'البلاغُ میں جامعہ امدادیہ فیصل آباد کے مولانا زاہد صاحب اور دسمبر 2008ء کے 'محدث' میں مولانا زاہد الراشدی کے شائع شدہ مضامین نظر سے گزرے۔ جون 2008ء کے 'محدث' میں جامعہ اشرفیہ کے مولانا یوسف خان صاحب کا مضمون اس سے قبل دیکھ چکا تھا۔ یہ سب حضرات ویڈیو اور سی ڈی سے سکرین پر حاصل شدہ صورت کو تصویر نہیں مانتے۔ ہمیں ان حضرات سے اتفاق نہیں ہوا اور مناسب معلوم ہوا کہ ہم واضح دلائل کے ساتھ اپنا موقف بھی پیش کر دیں اور ضروری وضاحتیں بھی کر دیں۔ راقم

بسم اللہ حامداً ومصلیًا
ایک وقت تھا کہ کسی سطح پر کسی صورت کے بننے یا بنانے کے اعتبار سے دو صورتیں ہوتی تھیں:
ناپائیدار عکس جو کسی کی صنعت کے بغیر پانی پر یا آئینہ پر خود بخود بنتا ہے اور شے کے سامنے سے ہٹ جانے پر خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔

کاغذ یا کپڑے یا کسی اور چیز پر پائیدار نقش بنایا جائے جس کی بقا کا مدار عکس کے خلاف ذی صورت کے سامنے نہ ہونے پر نہ ہو۔

کسی جاندار کی صورت گری کی پہلی صورت یعنی کسی جاندار کو مثلاً آئینہ کے سامنے کھڑا کرنا بالاتفاق جائز ہے جبکہ دوسری صورت یعنی کاغذ یا کپڑے وغیرہ پر کسی بھی طریقے سے کسی جاندار کا پائیدار نقش بنانا برصغیر کے، ہمارے علماء کے نزدیک بالاتفاق ناجائز ہے۔

اور بنیادی طور پر یہی دو صورتیں ہیں اور ان کے علاوہ کوئی تیسری صورت نہیں ہے لیکن جدید زمانے میں صورت گری کی مزید دو نئی صورتیں سامنے آئیں:
پہلی صورت: فلم کی نیگیٹو (Negative) ریل پر بنائی ہوئی تصویروں میں سے روشنی گزار کر سامنے سکرین پر اس کا عکس ڈالا جائے۔ نیگیٹو فلم پر تصویر کا ہونا تو واضح ہے لیکن اُس میں سے روشنی گزار کر سکرین پر تصویر کا عکس ڈالنا کیا حکم رکھتا ہے؟ اس کو ہم آگے بیان کرینگے۔

دوسری صورت: ڈیجیٹل (Digital) کیمرے کے ذریعہ سے پہلے ویڈیو ٹیپ یا سی ڈی تیار کی جاتی ہے جس میں کوئی تصویر نہیں ہوتی بلکہ برقی ذرات یا شعاعی اعداد و شمار ایک ترتیب سے محفوظ ہو جاتے ہیں پھر وی سی آر VCR کے ذریعہ ویڈیو ٹیپ کو چلا کر کمپیوٹر سے سی ڈی کو چلا کر مطلوبہ منظر کو سکرین پر لایا جاتا ہے۔ سکرین پر دیکھے جانے والے منظر کانقش پائیدار نہیں ہوتا بلکہ جونہی ویڈیو اور سی ڈی کا سکرین سے رابطہ ختم کیا جاتا ہے تو سکرین خالی ہو جاتی ہے۔

غرض پہلی صورت کے برخلاف اس صورت میں اوّل تو ٹیپ یا ڈسک پرسرے سے تصویر نہیں ہوتی دوسرے اس کو چلانے پر سکرین پر صورت تو نر آتی ہے لیکن اس کا نقش پائیدار نہیں ہوتا۔ اُوپر ہم بتا چکے ہیں کہ بنیادی طور پر دو ہی صورتیں ہیں یا تو عکس یا تصویر۔ اب ہمیں دیکھنا ہے کہ ویڈیو ٹیپ یا سی ڈی سے سکرین پر حاصل شدہ صورت یا منظر عکس کے ساتھ لاحق ہے یعنی عکس کے حکم میں ہے یا تصویر کے ساتھ لاحق اور اس کے حکم میں ہے۔ اس کو جاننا دو مقدموں پر موقوف ہے۔

مقدمہ نمبر 1: تصویر کیا ہوتی ہے؟
عکس وہ ہوتا ہے جو خود بخود آئینے میں یا پانی پر یا ٹی وی سکرین پر بنے جبکہ لائیو پروگرام ہو یا متعدد آئینوں کو ایک خاص ترتیب میں رکھ کر دُور تک عکس کو لے کر جانا ہو، ا ان میں عکس بننا کسی کے عمل کا محتاج نہیں ہوتا۔ یہ تو ہے کہ آپ کسی کے سامنے آئینہ رکھ دیں یا ٹی وی کے لائیو پروگرام کا سیٹ اَپ تیار کر دیں یا متعدد آئینوں کو ایک ترتیب سے رکھ دیں۔ یہ عمل آپ کا ہو گا لیکن عکس آنے میں آپ کا کوئی عمل نہیں ہوتا۔جب ذُو عکس آئینہ اور سیٹ اَپ کے سامنے ہوں گے تو عکس خود بخود بنے گا اور ذُو عکس کے سامنے سے ہٹ جانے سے عکس ختم ہو جائے گا۔

اس کے بر خلاف تصویر میں عکس کو بنایا جاتا ہے یا خود بنے ہوئے عکس کو محفوظ کیا جاتا ہے مثلاً آئینہ میں بنے ہوئے عکس کو روغن پینٹ وغیرہ لگا کر محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ کیمرہ سے لی گئی فوٹو کے بارے میں بحث سے یہ بات ثابت ہے کہ طریقۂ کار کو اہمیت حاصل نہیں ہے، لہٰذا عکس بنانا کسی بھی طریقہ سے ہو، اس سے فرق نہیں پڑتا۔

پہلے دور میں عکس بنانے کا صرف ایک طریقہ تھا یعنی یہ کہ وہ پائیدار ہو، اس لئے فقہا نے عکس اور تصویر میں فرق اس کی پائیداری کی بنیاد پر کیا، اب ہمارے دور میں عکس بنانے کا ایک نیا طریقہ ایجاد ہوا ہے جس میں بنایا ہوا عکس پائیدار تو نہیں ہوتا، لیکن وہ عکس بہرحال بنایا جاتا ہے، بنائے بغیر وہ عکس نہیں بنتا۔ ذُو عکس کو ٹی وی سکرین یا کمپیوٹر سکرین کے سامنے کھڑا کر دیجئے، کچھ عکس نہیں بنے گا۔ اب آپ ویڈیو کیمرہ لیجئے اور ویڈیو ٹیپ تیار کیجئے پھر اس ٹیپ کو وی سی آر پر چلائیے تو آپ کو اس سکرین پر منظر اور عکس نظر آئے گا۔ یہ عکس خود بخود نہیں بنا بلکہ آپ کے بنانے سے بنا ہے اور آپ نے اس کا سبب محفوظ کر لیا ہے اور جب چاہیں عکس کو دیکھ سکتے ہیں، لہٰذا تصویر بنانے یا عکس بنانے کی آج کے اعتبار سے دو صورتیں ہوئیں: ایک پائیدار اور دوسری ناپائیدار۔

حدیث میں جاندار کی صورت بنانے کے عمل کو مُضاھات یعنی اللہ تعالیٰ کی صورت گری کی صفت کے ساتھ مشابہت کہا گیا ہے، اصل چیز عکس بنانے کا عمل ہے۔ اس کی اس حدیث سے بھی تائید ہوتی ہے:
عن أبي ھریرة قال سمعت رسول اللہ ﷺ یقول: ((قال اللہ عزَّوجلّ ومن أظلم ممَّن ذھب یخلق کخلقي۔۔۔)) الخ 1
''حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ بتاتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو میری بنائی ہوئی (جاندار کی) صورت کی طرح صورت بنانے لگے۔''

اس حدیث میں پائیدار اور ناپائیدار کے فرق کے بغیر مشابہت کرنے کے عمل کو ذکر کیا ہے جو دونوں صورتوں میں یکساں ہے۔

علاوہ ازیں تصویر بنائی جا چکی ہو تو اب مسئلہ اس کے استعمال کا رہ جاتا ہے کہ اگر احترام کی جگہ میں ہو تو ناجائز اور توہین کی جگہ پر تو ہو جائز۔ اصل مسئلہ تصویر بنانے کے عمل کا ہے اور عمل عکس بنانے کی دونوں صورتوں میں یکساں ہے۔

حاصل یہ ہے کہ تصویر سازی یعنی عکس بنانے کے دو طریقے ہیں: ایک پائیدار اور دوسرا غیر پائیدار اور تصویر یعنی بنائے ہوئے عکس میں پائیدار اور غیر پائیدار شامل ہیں۔

مقدمہ نمبر 2: آئینے کے عکس اور سکرین پر ویڈیو اور سی ڈی کے ذریعے حاصل شدہ صورت میں فرق:

ویڈیو اور سی ڈی میں صنعت ہوتی ہے اور آدمی کے اختیار سے ہوتی ہے جبکہ عکس میں ایسا نہیں ہوتا۔

سکرین پر جب چاہے صورت لانے (Produce) کرنے کے لئے ویڈیو یا سی ڈی میں اس کے اسباب کو محفوظ کر لیا جاتا ہے، آئینہ کے عکس میں ایسا نہیں ہوتا۔

ذی صورت کے غائب ہونے کے باوجود جب چاہو سکرین پر صورت کو ظاہر (Produce) کیا جا سکتا ہے، عکس میں ایسا نہیں ہوتا۔

سکرین پر جتنی طویل مدت چاہو، صورت کو برقرار رکھ سکتے ہو۔ چاہو تو دائمی طور پر رکھو جبکہ عکس میں ایسا نہیں ہوتا۔

ویڈیو اور سی ڈی میں عمل و صنعت کی وجہ سے مضاہات کا معنی پایا جاتا ہے، عکس میں ایسا نہیں ہوتا۔

ٹی وی کے لائیو (Live) پروگرام میں واضح طور پر عکس ہوتا ہے، اس کے مقابلے میں ویڈیو اور سی ڈی کے ذریعہ تحصیلِ صورت میں عمل کہیں زیادہ ہے لہٰذا وہ عکس سے قطعی مختلف ہے۔

حدیث میں ہے کہ ہم اَن پڑھ اُمت ہیں، اس لئے شریعت کے احکام کا مدار فطری طریقوں پر ہونا چاہئے۔ ویڈیو اور سی ڈی بنانے اور اُس سے صورت حاصل کرنے کے عمل کو دیکھ کر یہ حکم لگانا کہ یہ آئینہ کے عکس سے مختلف ہے، فطری طریقہ ہے، اس فطری طریقہ کو چھوڑ کر بلا وجہ سائنسی تدقیقات کی بنیاد پر اس کو آئینہ کے عکس کی طرح سمجھنا حدیث کے خلاف ہے۔

ویڈیو اور سی ڈی سے حاصل شدہ صورت کا حکم:
اُوپر کے دو مقدموں کو سمجھ لینے کے بعد یہ نتیجہ نکالنا مشکل نہیں کہ ویڈیو اور سی ڈی سے حاصل شدہ صورت یا تو خود تصویر ہے یا تصویر کے زیادہ قریب ہے اور حکم میں اس کے ساتھ لاحق ہے۔

تنبیہ1: یہ بات اہم ہے کہ ویڈیو یا سی ڈی بنانا بذاتِ خود مطلوب و مقصود نہیں ہے بلکہ اس سے اصل مقصود سکرین پر صورت کو ظاہر کرنا ہے۔ لہٰذا ویڈیو اور سی ڈی بنانے سے لے کر سکرین پر ظاہر کرنے تک مقصد کے اعتبار سے ایک عمل ہے۔ مقصد کو نظر انداز کر کے اس عمل کو مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کرنا اور ہر ٹکڑے کو مستقل اور علیحدہ مقصود سمجھ کر مسئلہ کو دیکھنا درست نہیں۔ مشہور فقہی ضابطہ ہے: الأمور بمقاصدھا لہٰذا ویڈیو ٹیپ اور سی ڈی بنانے کے عمل کو سکرین پر ظاہر کی جانے والی صورت سے علیحدہ نہیں کیا جائے گا اور یہ سمجھا جائے گا کہ ذی صورت کی صورت کو اس طرح محفوظ کیا ہے کہ ذی صورت کی عدم موجودگی میں بھی جب چاہیں اس کی صورت کو حاصل کر سکیں۔ اس پہلو سے بھی ویڈیو اور سی ڈی سے حاصل شدہ صورت کاغذ کی تصویر کے زیادہ قریب ہے اور اسی کے ساتھ لاحق ہونے کے مناسب ہے۔

تنبیہ2: انہی مذکورہ وجوہ کی بنا پر اُوپر ہم نے جس نیگیٹو فلم کی ریل کا ذِکر کیا تھا کہ جس میں سے روشنی گزار کر سکرین پر تصویروں کا عکس ڈالا جاتا ہے وہ عکس بھی تصویر ہی کے حکم میں ہے۔

دو اہم وضاحتیں:
پہلی وضاحت: مولانا زاہد الراشدی مدظلہ نے دسمبر 2008ء کے شمارہ محدث میں شائع شدہ اپنے مضمون میں حضرت مفتی کفایت اللہؒ کے فتوے سے یہ بات کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کے نزدیک بھی ٹی وی و سکرین پر نظر آنے والی نقل و حرکت پر تصویر کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اُنہوں نے مفتی صاحبؒ کی یہ بات تو نقل کی کہ ''تصویر کھینچنا اور کھینچوانا ناجائز ہے، خواہ دستی ہو یا عکسی دونوں تصویریں ہیں اور تصویر کا حکم رکھتی ہیں۔'' لیکن پھر اُن کے اس فتوے کو نقل کر کے کہا:
''سینما اگر اخلاق سوز اور بے حیائی کے مناظر سے خالی ہو اور اُس کے ساتھ گانا بجانا اور ناجائز اَمر نہ ہو تو فی حد ذاتہ مباح ہو گا۔''

مولانا زاہد الراشدی صاحب نے یہ مطلب نکالا کہ:
''تصویر اور سکرین دونوں کے بارے میں حضرت مفتی صاحبؒ کے ارشادات کا مطالعہ کیا جائے تو اس کے سوا کچھ نتیجہ نہیں نکلتا کہ وہ تصویر اور سکرین دونوں کو الگ الگ سمجھتے تھے۔ اُن کے نزدیک سکرین پر تصویر کا اطلاق نہیں ہوتا اور اگر دیگر ممنوع امور سے خالی ہو تو سکرین حد ذاتہ مباح کا درجہ رکھتی ہے۔''

ہم کہتے ہیں: حضرت مفتی کفایت اللہ صاحبؒ کے فتوے سے مذکورہ مطلب نکالنا بہر حال درست نہیں کیونکہ اُن کے زمانے میں سینما کی فلم کی ریل نگیٹو کی صورت میں ہوتی تھی جس پر واضح طور پر تصویر کے نقش ہوتے تھے اور جاندار کی تصویر چھوٹی ہو یا بڑی اُس کو بنانا بالاتفاق ناجائز ہے۔ تو جب سینما کی سکرین پر آنے والی جاندار کی صورت اُس کی تصویر بنانے پر موقوف تھی تو مفتی صاحبؒ کی بات سے یہ مطلب کیسے نکل سکتا ہے کہ وہ اپنے زمانے کی سکرین پر دکھائی جانے والی نیگیٹو فلم بنانے کو جائز سمجھتے ہوں گے۔

اگر کوئی یہ کہے کہ یہ احتمال ہے کہ مفتی صاحب ''نیگیٹو فلم کو جائز نہ سمجھتے ہوں گے لیکن اُس کے بننے کے بعد سکرین پر حاصل شدہ صورت کو تصویر بھی نہ سمجھتے ہوں گے تو ہم جواب میں کہتے ہیں:
مفتی صاحبؒ کے کلام میں اس احتمال پر کوئی صراحت یا دلالت نہیں ہے۔

اس کے بارے میں ہم اوپر وضاحت کر چکے ہیں کہ وہ بھی تصویر کے حکم میں ہے۔

رہا سینما کے فی حد ذاتہ مباح ہونے کا معاملہ تو یہ ہمیں بھی تسلیم ہے۔ سینما و فلم جو جاندار کی تصویر اور گانے بجانے سے خالی ہو اور جس میں کوئی ناجائز امر بھی نہ ہو، وہ بلاشبہ مباح ہے۔ فلم کے ذریعہ سے جغرافیہ، تاریخ اور سائنس کے مضامین سیکھے جا سکتے ہیں۔ جاندار کو بھی بغیر سر اور چہرے کے دکھایا جا سکتا ہے۔ ٹی وی، وی سی آر اور سی ڈی کا بھی یہی حکم ہے کہ وہ فی ذاتہ مباح ہیں جبکہ اُن کے پروگرام جاندار کی تصویر سے خالی ہوں، اسی پر مولانا زاہد الراشدی صاحب کی ذکر کردہ مفتی جمیل احمد صاحب تھانویؒ کی یہ عبارت بھی محمول ہے:
''ان کا (یعنی ٹی وی، وی سی آر کا) حکم آلاتِ لہو و لعب اور گانے کے آلات کا نہیں ہو سکتا کہ جس پر نیک کاموں کی بے حرمتی بنتی ہو۔ ان میں ہر مباح بھی جائز اور نیک کام بھی جائز ہے۔''2

اور اسی پر مولانا ادریس کاندھلویؒ کا یہ کلام بھی محمول ہے:
''یہ (ٹی وی سکرین) چاقو ہے، اس سے خربوزہ کاٹو گے تو جائز ہے اور کسی کا پیٹ پھاڑو گے تو ناجائز ہے۔''3

دوسری وضاحت: دار العلوم کراچی کے رمضان 1429ھ میں جاری کئے گئے فتوےٰ میں جاندار کی تصویر کے بارے میں فقہا کی آراء کو اس طرح بیان کیا گیا ہے:
''اگر تصویر مجسموں کی شکل میں ہو اور اُس کے وہ تمام اعضاء موجود ہوں جن پر زندگی کا انحصار ہوتا ہے۔ نیز وہ تصویر بہت چھوٹی بھی نہ ہو اور گڑیوں کی قسم سے بھی نہ ہو تو اس کے حرام ہونے پر پوری اُمت کا اتفاق ہے یعنی اس کا بنانا اور استعمال کرنا بالاتفاق حرام اور ناجائز ہے اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔

لیکن اگر تصویر مجسموں کی شکل میں نہ ہو بلکہ وہ کاغذ یا کپڑے وغیرہ پر اس طرح بنی ہوئی ہو کہ اس کا سایہ نہ پڑتا ہو تو اس کے بارے میں ائمہ کرامؒ کے یہاں اختلاف پایا جاتا ہے۔ جمہور فقہاء کرامؒ کا موقف اس میں بھی یہی ہے کہ یہ بھی ناجائز ہے، البتہ امام مالکؒ سے ایسی تصویر کے جائز اور ناجائز ہونے کی دونوں روایتیں منقول ہیں۔ اس لئے علمائے مالکیہ کے یہاں اس مسئلہ میں اختلاف ہے۔

بعض مالکیہ ایسی تصویر بلا کسی کراہت کے مطلقاً جائز قرار دیتے ہیں خواہ وہ موضع امتہان میں ہو یا نہ ہو۔ مالکیہ میں سے جو حضرات ان تصاویر کے جائز ہونے کا فتویٰ دے رہے ہیں اُن میں بہت سے بڑے بڑے محققین علماء بھی شامل ہیں۔ علامہ ابن القاسم مالکیؒ، علامہ دردیر مالکیؒ، علامہ ابی مالکیؒ۔۔۔ وغیرہ جلیل القدر محققین قابل ذکر ہیں۔

حنابلہ کے یہاں بھی کپڑے یا پردے پر بنی ہوئی تصویر کے جائز اور ناجائز ہونے کی دونوں روایتیں موجود ہیں۔ علامہ ابن قدامہ حنبلیؒ نے 'المغنی' میں اور علامہ ابن حجر عسقلانیؒ نے 'فتح الباری' میں حنابلہ کا مذہب بیان کرتے ہوئے لکھا کہ اُن کے یہاں کپڑے پر بنی ہوئی تصویر حرام نہیں۔۔۔۔ بعض سلف مثلاً حضرت قاسم بن محمد بن ابی بکر (جن کا شمار فقہائے مدینہ میں ہوتا ہے) سمیت بعض صحابہ و تابعین کے بارے میں یہ منقول ہے کہ وہ حضرات بھی سایہ والی اور غیر سایہ والی تصویر میں فرق کرتے ہیں، سایہ دار تصاویر کو ناجائز اور غیر سایہ دار تصاویر کو جائز سمجھتے ہیں۔

ہم کہتے ہیں کہ دار العلوم کے فتوے کی اس عبارت سے یہ وہم ہوتا ہے کہ شاید بعض مالکیہ اور حضرت قاسم بن محمدؒ سمیت بض صحابہ و تابعین کے رائے ہے کہ جاندار کی غیر سایہ دار تصویر بنانا بھی جائز ہے اور اس کو ہر طرح سے استعمال کرنا بھی۔

جاندار کی تصویر میں دو باتیں اہم ہوتی ہیں۔ ایک اُس کو بنانا اور دوسرے اس کو استعمال کرنا۔ مورتی یا مجسمہ کے بارے میں تو فتوے میں مذکور ہے کہ اس کو بنانا اور استعمال کرنا دونوں ہی ناجائز ہیں۔ لیکن کاغذ اور کپڑے وغیرہ پر تصویر کے بارے میں وضاحت نہیں کہ بعض مالکیہ اور حضرت قاسم بن محمدؒ کے نزدیک جواز بنانے کا بھی ہے یا نہیں۔

یہی صورت حال مولانا تقی عثمانی کی تکملة فتح الملھم کی عبارت کی ہے۔ مولانا لکھتے ہیں:
وقد اختلف الروايات عن مالك في مسئلة التصوير ولذلك وقع الاختلاف بين العلماء المالكية في ھذا والذي اجمعت عليه الروايات والأقوال في مذھب المالكية حرمة التصاوير المجسدة التي لھا ظل والخلاف في ما ليس له ظل مما برسم علي ورق أوثوب4
''تصویر کے مسئلہ میں امام مالکؒ سے مختلف روایتیں ملتی ہیں۔ اسی وجہ سے اس بارے میں مالکی علما کے درمیان اختلاف واقع ہوا ہے۔ مورتیوں کی حرمت پر تو مالکیہ کے تمام اقوام و روایات متفق ہیں، البتہ کاغذ یا کپڑے پر بنائی ہوئی تصویر میں اختلاف ہے۔''

اس طرح کی موہوم عبارتیں پڑھ کر بعض اہل علم حضرات بھی خلافِ واقعہ اس غلطی میں مبتلا ہو گئے کہ بعض مالکیہ کے نزدیک کاغذ وغیرہ پر تصویر بنانا جائز ہے۔

جامعہ اشرفیہ لاہور کے مولانا محمد یوسف خان تکملة فتح الملھم وغیرہ سے ایک عبارت نقل کر کے اُس کا ترجمہ کرتے ہیں:
فالحاصل أن المنع من اتخاذ الصور مجمع عليه فيما بين الائمة الأربعة إذا كانت مجسدة، أما غير المجسدة منھا فاتفق الأئمة الثلاثة علي حرمتھا أيضا والمختار عن الأئمة المالكية كراھتھا لكن ذھب بعض المالكية إلي جوازھا5
''خلاصہ یہ ہے کہ ائمہ اربعہؒ کے نزدیک تصویر کشی بالاتفاق ناجائز ہے جبکہ وہ مجسم شے ہو۔ البتہ غیر مجسم شے کی تصویر کشی کی حرمت پر تین ائمہ فقہا تو متفق ہیں اور مالکیہ کا مختار مسلک کراہت کا ہے لیکن بعض مالکیہ کے یہاں اس کا جواز بھی پایا جاتا ہے۔''

جامعہ امدادیہ فیصل آباد کے مولانا محمد زاہد صاحب لکھتے ہیں:
''کیونکہ بیشتر فقہا کے یہاں جاندار کی تصویر کے بنانے یا رکھنے میں متعدد استثناءات موجود ہیں۔''6

ہم کہتے ہیں کہ اصل بات یہ ہے کہ تصویر کے مسئلہ میں دو لفظ استعمال ہوتے ہیں۔ ایک تصویر بمعنی مصدر یعنی تصویر بنانا اور دوسرے اتخاذِ صورت یعنی تصویر کو رکھنا اور استعمال کرنا۔

تصویر سازی یعنی تصویر بنانا خواہ مورتی کی صورت میں ہو یا کاغذ و کپڑے پر وہ بالاتفاق حرام ہے۔ مالکیہ میں سے کسی نے یہ تصریح نہیں کی کہ اُن کے نزدیک کاغذ و کپڑے پر تصویر بنانا جائز ہے۔ اسی وجہ سے امام نوویؒ لکھتے ہیں:
قال أصحابنا وغیرھم من العلماء تصویر صورة الحیوان حرام شدید التحريم وھو من الكبائر لأنه متوعَّد عليه بھذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث وسواء صنعه بما يُمتھن أو بغيره فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاھاة لخلق الله تعالٰي وسواء ما كان في ثوب أو بساط أو درھم أو دينار أو فلس أو إناء أو حائط أو غيرھا7
''ہمارے اصحاب (یعنی علمائے شافعیہ) اور دیگر علماء فرماتے ہیں کہ جاندار کی تصویر بنانا شدید حرام ہے اور کبیرہ گناہ ہے کیونکہ اس پر احادیث میں سخت وعید آئی ہے خواہ اس کو ایسی چیز پر بنایا ہو جس کی اہانت کی جاتی ہو یا کسی دوسری چیز پر۔ غرض تصویر بنانا ہر حال میں حرام ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے ساتھ مشابہت ہے۔ اور خواہ تصویر سازی کپڑے پر ہو یا چادر پر ہو یا درہم، دینار یا پیسے پر ہو یا برتن یا دیوار وغیرہ پر ہو۔''

البتہ تصویر رکھنے اور استعمال کرنے کے بارے میں کچھ اختلاف ہے۔ امام نوویؒ لکھتے ہیں:
أما اتخاذ المصور فیه صورة حیوان فإن کان معلقًا علی حائط أو ثوبا ملبوساً أو غمامة ونحو ذلك مما لا يعد ممتھنا فھو حرام وإن كان في بساط يداس ومخدة وسادة ونحوھا مما يمتھن فليس بحرام
''رہا کسی مصور چیز کو رکھنا یا استعمال کرنا جس میں کسی جاندار کی صورت میں ہو تو اگر وہ دیوار پر لٹکی ہوئی یا پہننے والا کپڑا ہو یا عمامہ ہو اور انہی کی طرح کا کوئی ایسا استعمال جو اہانت کا شمار نہ ہوتا ہو تو وہ حرام ہے اور اگر جاندار کی صورت ایسے فرش پر ہو جو پاؤں تلے روندا جاتا ہو یا بیٹھنے کی گدی پر ہو اور اس طرح کا کوئی ایسا استعمال جو اہانت کا شمار ہوتا ہو تو وہ حرام نہیں ہے۔''

اتخاذِ صورت یعنی تصویر کے رکھنے اور استعمال کرنے کے بارے میں وہبہ زُحیلی لکھتے ہیں:
ونقل ابن حجر في فتح الباري شرح البخاري عن ابن العربي رأيه في اتخاذ الصور قائلا: حاصل ما في اتخاذ الصور أنھا إن كانت ذات أجسام حرم بالإجماع وإن كانت رقمًا فأربعة أقوال:
الاوّل: يجوز مطلقًا عملا بحديث ((إلا رقمًا في ثوب))
الثاني: المنع مطلقا
الثالث: إن كانت الصورة باقية الھيئة قائمة الشكل حرم وإن كانت مقطوعة الرأس أو تفرقت الأجزاء جاز
الرابع: إن كانت مما يمتھن جاز وإلالم يجز

''علامہ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں تصویر کے استعمال کے بارے میں ابن العربی سے نقل کیا ہے کہ تصویر کے استعمال کے بارے میں خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر وہ مورتی اور مجسمہ ہے تو بالاتفاق حرام ہے اور اگر کسی چیز پر نقش ہو تو چار اقوال ہیں:
  1. ہر حال میں جائز ہے۔ اس کی دلیل حدیث کے الفاظ ((إلا رقمًا فی ثوب)) ہے۔
  2. ہر حال میں ناجائز ہے۔
  3. اگر تصویر کی اپنی مکمل شکل قائم ہے تو حرام ہے اور اگر اس کا سر کٹا ہوا ہو یا اجزا متفرق ہوں تو جائز ہے۔
  4. اگر استعمال اہانت کا ہے تو جائز ہے ورنہ ناجائز ہے۔

امام نوویؒ نے بعض سلف کے بارے میں فرمایا:
وذھب بعض السلف إلي أن الممنوع ما كان له ظل وأما ما لا ظل له فلا باس باتخاذه مطلقا
''بعض سلف کا قول ہے کہ سایہ دار تصویریں (یعنی مورتیاں) منع ہیں اور رَہیں غیر سایہ دار تصویریں تو اُن کو رکھنا اور استعمال کرنا ہر طرح سے جائز ہے۔''

اوپر جن بعض مالکیہ کا ذکر ہے، اُن میں سے علامہ دردیرؒ لکھتے ہیں:
والحاصل أن تصاوير الحيوان تحرم إجماعا إن كانت كاملة لھا ظل مما يطول استمراره بخلاف ناقص عضو لا يعيش به لو كان حيوانا وبخلاف ما لا ظل له كنقش في ورق أو جدار أو في ما لا يطول استمراره خلاف والصحيح حرمته8
''حاصل یہ ہے کہ جانداروں کی تصویروں کا استعمال بالاتفاق حرام ہے اگر وہ مکمل ہوں اور سایہ دار ہوں اور ایک عرصہ تک رہتی ہوں برخلاف اُس تصویر کے جس میں ایسا عضو کم ہو جس کے بغیر جاندار زندہ نہیں رہ سکتا اور بر خلاف غیر سایہ دار تصویر کے جیسے کاغذ یا دیوار پر نقش ہو۔

اگر ایسی چیز پر نقش ہو جو زیادہ دیر نہیں رہتی مثلاً خربوزے کے چھلکے پر تو اس میں اختلاف ہے۔ اور صحیح یہ ہے کہ یہ بھی حرام ہے۔''

اس عبارت میں تصاویر کی حرمت اور عدمِ حرمت سے مراد استعمال کی حرمت وغیرہ ہے کیونکہ یہاں کاغذ یا دیوار پر نقش کے جائز ہونے کا حکم لگایا ہے۔ حالانکہ امام نوویؒ کی بات اُوپر گزر چکی ہے کہ ان پر بھی تصویر بنانا بالاتفاق حرام ہے۔ لہٰذا یہاں مراد استعمال ہے نہ کہ تصویر سازی۔ اسی طرح حضرت قاسم بن محمدؒ کے بارے میں جو روایت ہے، اس کو ابن ابی شیبہ نے نقل کیا ہے:
عن ابن عون قال دخلت علی القاسم وھو بأعلی مكة في بيته فرأيت في بيته حجلة فيھا تصاوير الندس والعنقاء
''ابن عون کہتے ہیں کہ میں بالائی مکہ میں حضرت قاسم بن محمدؒ کے گھر میں داخل ہوا تو میں نے اُن کے کمرے میں ایک پردہ دیکھا جس پر پرندوں کی تصویریں تھیں۔''

اس روایت میں بھی جاندار کی تصویر کے استعمال کا ذکر ہے، بنانے کا کچھ ذکر نہیں ہے۔

حوالہ جات
1. صحیح بخاری: 7559
2. محدث' دسمبر 2008ء: ص 48
3. ایضاً: ص 48
4. ج 4؍ ص 159
5. تکملة فتح الملھم 4ء159، فتح الباری: 10؍ 391
6. مجلّہ البلاغ ص 15 ذوالحجہ 1429ھ
7. شرح مسلم: 14؍81
8. تكلمة فتح الملھم: 4؍159