سوات میں نفاذِ عدل کے حوالے سے 'ملی مجلس شرعی' کا اجلاس 27؍ اپریل 2009ء بروز پیر بعد نمازِ مغرب جامعہ نعیمیہ، لاہور میں منعقد ہوا جس میں تمام مکاتبِ فکر اور مسالک کے نمائندہ علمائے کرام نے بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہوئے مشترکہ اعلامیہ کی منظوری دی۔

اجلاس میں مولانا ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی (جامعہ نعیمیہ)، مولانا حافظ عبد الرحمٰن مدنی (جامعہ رحمانیہ)، مولانا مفتی محمد خان قادری (جامعہ اسلامیہ)، مولانا محمد اکرم کاشمیری (جامعہ اشرفیہ)، ڈاکٹر محمد امین، مولانا غلام رسول سیالوی، حافظ اسعد عبید، امیر العظیم، انجینئر سلیم اللہ خاں، حافظ عاکف سعید (امیر تنظیم اسلامی)، ڈاکٹر سید محمد نقوی نجفی، جناب مہدی حسن (جامعہ منتظر)، مولانا شہزاد مجددی، مولانا تقویم الحق (مرکز علوم اسلامیہ منصورہ)، شیخ الحدیث عبید اللہ عفیف، مولانا عبد الغفار روپڑی، قاری احمد میاں تھانوی، ڈاکٹر حافظ حسن مدنی، مولانا ثناء اللہ، قاری شیخ محمد یعقوب (جماعۃ الدعوۃ)، علامہ ارشد حسن ثاقب اور مولانا مجیب الرحمٰن انقلابی سمیت دیگر علمائے کرام شریک ہوئے۔ اجلاس میں درج ذیل اعلامیہ پر اتفاق کیا گیا:

1. سوات میں نظامِ عدل، نفاذِ شریعت اور معاہدہ امن کی مکمل حمایت کرتے ہوئے قرار دیا گیا کہ شرعی عدالتوں کے لئے قاضیوں کا تقرر مسلک سے بالا تر ہو کر کیا جائے۔
2. سوات اور قبائلی علاقوں سمیت پاکستان بھر میں سنجیدگی اور خلوصِ دل سے تمام شعبہ ہائے زندگی میں عملی طور پر اسلام نافذ کیا جائے۔
3. نفاذِ اسلام کی حکمتِ عملی اور ترجیحات کا تعین کرنے کے لئے تمام مکاتبِ فکر کے مستند علمائے کرام پر مشتمل ایک شریعہ بورڈ' بنایا جائے۔
4. دہشت گردی کے خاتمے کے لئے امریکی پالیسی سے فوری علیحدگی اختیار کرتے ہوئے امریکہ و یورپ کی معاونت بند کی جائے۔ نیز امریکی ڈرون حملوں اور امریکہ، اسرائیل، بھارت اور افغانستان اپنے گٹھ جوڑ سے جو مداخلت کار قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں بجھوا رہے ہیں، اسے ملک دشمن کاروائی قرار دیتے ہوئے فوری سد باب کیا جائے۔
5. قبائلی علاقوں کے عوام کو ساتھ ملایا جائے، وہاں خلوصِ دل سے معاہدے کے مطابق مکمل شریعت نافذ کی جائے اور ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں بلکہ انہیں پاکستان کا باقاعدہ حصہ قرار دیا جائے۔
6. یہ اجلاس ان عناصر کی مذمت کرتا ہے جو حیلے بہانے سے حکومتِ پاکستان اور تحریک نفاذِ شریعت محمدی کے درمیان معاہدے اور مفاہمت کو سبوتاژ کرنے کی سازش کر رہے ہیں اور یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ان کے جھانسے میں آئے بغیر ایسے اقدامات سے گریز کرے جس سے امن و امان تباہ اور وطن عزیز کی سالمیت خطرے میں پڑے۔ نیز ایسے بیانات اور اقدامات سے مکمل طور پر گریز کیا جائے جس سے مسلمانوں کے مختلف مکاتبِ فکر میں باہمی اختلافات و انتشار کو ہوا ملتی ہو۔ ان علاقوں میں عبادتگاہوں، مزارات، مذہبی شخصیات کو تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے سابقہ نقصان کی تلافی کی جائے۔
7. 'ملی مجلس شرعی' نظامِ عدل، بحالی امن اور نفاذِ شریعت کے لئے حکومت اور فاٹا کی اسلامی تحریکوں کے مثبت اقدامات کی تعریف و حمایت کرتی ہے، تاہم یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہاں کی اسلامی تحریکوں کو نفاذِ شریعت کی حکمتِ عملی اور ترجیحات کے تعین پر پاکستان کے جید علما سے مشاورت کرنی چاہئے۔ چنانچہ ملی مجلس نے تمام مکاتبِ فکر کے مندرجہ ذیل علما پر مشتمل ایک کمیٹی مقرر کی جو مولانا صوفی محمد اور طالبان رہنماؤں سے مل کر ان سے مشاورت کرے گی تاکہ قبائلی علاقوں اور پاکستان کے لئے نفاذِ شریعت، قیام نظامِ دل اور بحالی امن و امان کے لئے ایک متوازن اور معتدل پالیسی کے رہنما خطوط وضع کئے جا سکیں:

(۱) مولانا حافظ فضل الرحیم
(2) مولانا ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی
(۳) مولانا حافظ عبد الرحمٰن مدنی
(۴) مولانا عبد المالک، منصورہ
(۵) مولانا مفتی محمد خاں قادری
(۶) مولانا عبد الغفار روپڑی
جس میں باہمی مشاورت سے مزید علمائے کرام کا اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔