میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

''مولانا صوفی محمد بن الحضرت حسن اور صوبائی حکومت کے کامیاب مذاکرات کے بعد صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آج سے مالا کنڈ ڈویژن بشمول ضلع کوہستان ہزارہ کے نظام عدالت کے تعلق میں جتنے غیر شرعی قوانین یعنی قرآن و سنت کے خلاف ہیں، وہ موقوف اور کالعدم تصور ہوں گے یعنی ختم ہوں گے۔ اسی نظامِ عدالت میں شریعتِ محمدی جس کی تفصیل اسلامی فقہ کی کتابوں میں موجود ہے اور اس کے ماخذ چار دلائل ہیں: کتاب اللہ، سنت رسول، اجماع اور قیاس وجوباً نافذ العمل ہوں گے۔ اس کے خلاف کوئی فیصلہ قبول نہیں ہو گا اور اس کی نظر ثانی یعنی اپیل کی صورت میں ڈویژن کی سطح پر دار القضاء یعنی شرعی عدالت بنچ قائم کر دیا جائے گا جس کا فیصلہ حتمی ہو گا۔

حضرت صوفی محمد بن الحضرت حسن کے باہمی مشورے سے عدالتی شرعی نظام کے ہر نکتے پر تفصیلی غور کرنے کے بعد اس کا مکمل اطلاق مالا کنڈ ڈویژن بشمول ضلع کوہستان ہزارہ میں امن قائم کرنے کے بعد باہمی مشورہ سے کیا جائے گا۔ ہماری حضرت صوفی محمد بن الحضرت حسن سے درخواست ہے کہ وہ اپنا پر امن احتجاج ختم کرنے کے بعد مالا کنڈ ڈویژن کے تمام علاقوں میں امن قائم کرنے میں حکومت کا ساتھ دیں۔''

دستخط حکومتی عہدیداران

  • میاں افتخار حسین (صوبائی وزیر اطلاعات)
  • حاجی ہدایت اللہ خاں (صوبائی وزیر لائیو سٹاک)
  • فیاض خان طورو (سیکرٹری محکمہ داخلہ)
  • محمد فاروق سرور (سیکرٹری محکمہ قانون)
  • طاہر علی شاہ (صوبائی وزیر صحت)
  • ہمایوں خاں
  • اخوند زادہ سکندر خاں


دستخط عہدیداران تحریک نفاذ شریعت محمدی

  • مولانا محمد عالم (نائب امیر، مالا کنڈ ڈویژن بشمول کوہستان)
  • امیر عزت خاں (ترجمان، مالا کنڈ ڈویژن بشمول کوہستان)
  • مولانا سرور محمد (رکن شوری تحریک۔۔۔۔)