میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

1923ء میں سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کی صورت میں خلافتِ اسلامیہ کا ادارہ ختم ہو گیا۔ ملحد و سیکولر ترک رہنما مصطفیٰ کمال پاشا نے اپنی ایک تقریر کے دوران آسمان کی طرف اپنا مکا لہراتے ہوئے خدا کو دکھایا او مسلمانوں میں پہلی دفعہ خدا کے تصور کو ریاست سے جدا کرنے کی بدعت کا آغاز فرمایا۔ مصطفیٰ کمال پاشا اور اس کی ترینڈ نیشنل اسمبلی کے کفریہ عقائد و نظریات پر مبنی قانون سازی نے مملکتِ ترکی کو خلافتِ اسلامیہ سے 'جمہوریہ کفریہ' کی طرف دھکیل دیا۔

اللہ کے رسول ﷺ کے دور سے لے کر 1923ء تک خلافتِ اسلامیہ کسی نہ کسی شکل میں کہیں نہ کہیں قائم رہی تھی، لیکن اب کی بار اُمتِ مسلمہ کی تارییخ میں پہلی مرتبہ چشم فلک نے یہ المناک منظر بھی دیکھا کہ اُمتِ مسلمہ خلافت کے مقدس ادارے سے محروم ہو گئی۔

دوسری طرف خلافتِ اسلامیہ سے جمہوریہ کفریہ کی طرف ترکی کے اس سفر اور خلافت سے محرومی نے اُمتِ مسلمہ کے ہر خطے میں بے چینی اور اضطراب کی لہر پیدا کر دی۔ یہی وہ زمانہ ہے کہ جب مصر، برصغیر پاک و ہند سمیت دنیا کے دوسرے خطوں میں خلافتِ اسلامیہ کی بحالی کے لئے مختلف تحریکوں کی بنیاد رکھی گئی۔ 1923ء سے تا حال اُمت میں یہ فکر پھول کی خوشبو کی مانند پھیلتی ہی چلی گئی ہے کہ خلافت کے ادارے کی دوبارہ بحالی مسلمانوں کی اولین اور اَشد ذمہ داری ہے اور اس عالم ارضی میں مسلمانوں کے مسائل کا واحد حل صحیح معنوں میں ایک اسلامی ریاست کا قیام ہے۔

چنانچہ پاکستان کے قیام کے فوراً بعد ہی علمائے کرام، دینی جماعتوں کے قائدین اور صالح فکر کے حامل مفکرین نے پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی ریاست بنانے کے لئے آئینی وقانونی جدوجہد کا آغاز کیا۔ مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا ظفر احمد عثمانی، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی، مولانا عبد الحامد بدیوانی، مولانا ظفر احمد انصاری، ڈاکٹر محمد حمید اللہ، ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی اور سردار عبد الرب نشتر رحمہم اللہ اجمعین وغیرہ کی کوششوں کے نتیجے میں 1949ء میں قرار داد مقاصد منظور ہوئی اور ریاست جمہوریہ پاکستان نے اس قرار داد کو اپنے آئین کا مقدمہ بناتے ہوئے کلمہ شہادت کا اقرار کیا اور بظاہر مسلمان ہو گئی۔

قرار دادِ مقاصد کے حصول کے بعد بھی علما کی طرف سے نفاذِ اسلام کی آئینی و قانونی کوششیں جاری رہیں۔ 1950ء ہی کے لگ بھگ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں آئین سازی کے لئے سرکاری سطح پر ایک بورڈ قائم کیا گیا جس کا نام 'بورڈ آف تعلیماتِ اسلامیہ' رکھا گیا۔ اس بورڈ میں اگرچہ اس وقت کے نامور دانشور اور علماء مثلاً سید سلیمان ندوی، ڈاکٹر محمد حمید اللہ، مفتی محمد شفیع، مولانا ظفر احمد انصاری اور مفتی جعفر حسین وغیرہ شامل تھے، لیکن حکومت نے اس بورڈ کی پیش کی گئی سفارشات کو قانون سازی میں کوئی اہمیت نہ دی۔

قیامِ پاکستان کے فوراً بعد جب بھی علماء یا دینی حلقوں کی طرف سے حکمران طبقے سے اسلامی قانون کے نفاذ کا مطالبہ کیا جاتا تو ان کی زبانوں پر ایک ہی کلمہ استعجاب جاری ہو جاتا؛ کون سا اسلام نافذ کیا جائے!؟ حنفی، بریلوی، شافعی، اہل تشیع کا، یا اہل حدیث کا؟ چنانچہ جنوری 1951ء میں ملک کے نامور شیعہ، بریلوی، دیو بندی اور اہلحدیث علمائے کرام کی ایک جماعت نے بائیس نکات پر مشتمل ایک متفقہ فارمولا منظور کیا۔ اس قرارداد پر دستخط کرنے والوں میں مولانا مودودی، سید سلیمان ندوی، مفتی محمد شفیعع، مولانا ظفر احمد انصاری، مولانا ادریس کاندھلوی، مولانا محمدد علی جالندھری، مولانا محمد یوسف بنوری،مولانا عبد الحامد بدیوانی، پیر مانکی شریف اور مفتی جعفر حسین وغیرہ رحمہم اللہ جیسی نامور شخصیات شامل تھیں۔

علمائے حق کی جانب سے پاکستان کے قانون اور آئین کو اسلامی بنانے کی یہ کوشش تقریباً نصف صدی تک جاری رہیں۔1

بورڈ آف تعلیماتِ اسلامیہ ہو یا ادارۂ تحقیقاتِ اسلامیہ، اسلامی نظریاتی کونسل ہو یا وفاقی شرعی عدالت، ان سب اداروں کا قیام علمائے کرام کی اِسی جدوجہد کا مرہونِ منت تھا۔ ایک وقت تھا جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل میں ملک کے جید علماء شامل ہوتے تھے اور اب صورت اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔ بہرحال اکثر و بیشتر ایسا ہوا کہ علما کی تحریک کے نتیجے میں حکومتِ وقت کی طرف سے جب بھی قانون و آئین کو اسلامی بنانے کے لئے کچھ ادارے قائم ہوئے یا بورڈ بنائے گئے، یا تو وہ ملکی سیاست کی بھینٹ چڑھ گئے یا اگر علمائے حق کو ان اداروں میں نمائندگی کا موقع دیا بھی گیا تو ان کی بیش بہا تحقیقات کو ردّی کی ٹوکری کی نذر کر دیا گیا۔ اصحابِ اقتدار کے اس طرزِ عمل کی وجہ سے آہستہ آہستہ علما کے ایک طبقے میں بھی مایوسی اور بد دلی اس قدر گھر کر گئی کہ وہ نفاذِ اسلام کے لئے پر امن آئینی و قانونی جدوجہد سے بھی کٹ کر ہمہ تن قرآن و حدیث کی تعلیم میں مشغول ہو گئے۔ یہ تو تصویر کا ایک رخ ہوا۔

تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ افغانستان میں روس کے خلاف جہاد کے نتیجے میں پاکستان کے مذہبی حلقوں میں جذبہ جہاد کی آبیاری ہوئی۔ اس جہاد کے نتیجے میں افغانستان میں روس کو شکست ہوئی اور طالبان کی حکومت قائم ہو گئی۔ نائن الیون کے بعد افغانستان پر امریکی حملہ ہوا، امارتِ اسلامیہ افغانستان ختم ہو گئی اور امریکہ کے خلاف طالبان کی طویل گوریلا جنگ کا آغاز ہوا۔ وزیرستان، مالا کنڈ ڈویژن، سوات اور صوبہ سرحد کے کئی ایک دوسرے حصوں سے مجاہدین کی ایک بہت بڑی تعداد جہادِ افغانستان میں شریک ہونے کے لئے افغانستان گئی، لیکن وہاں کے طالبان کو اس وقت کے مخصوص حالات کے اعتبار سے افراد کی بجائے حکمتِ عملی اور جدید اسلحہ کی زیادہ ضرورت تھی۔ پس افغانستان کے خاص حالات کے پیش نظر پاکستانی مجاہدین کی اتنی بڑی تعداد طالبان کے لئے ایک اضافی بوجھ تو بن سکتی تھی، لیکن مفید نہ تھی۔ چنانچہ طالبان قیادت سے مشورے کے نتیجے میں یہ مجاہدین واپس پاکستان آگئے۔

دوسری طر امریکہ نے پرویز مشرف حکومت پر القاعدہ، طالبان اور عرب مجاہدین کو پکڑوانے میں تعاون کے لئے دباؤ ڈالا تو پرویز مشرف کی حکومت نے امریکی ڈالروں کے حصول کی خاطر سوات اور مالا کنڈ ڈویژن کے افغانستان سے واپس آنے والے مقامی مجاہدین کو پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے کرنا شروع کر دیا جو کہ امریکہ کو اصلاً مطلوب بھی نہ تھے۔ 2

اس عمل کے نتیجے میں صوبہ سرحد کے اس خطے کی عوام میں حکومت کے خلاف شدید نفرت پر مبنی ردّ عمل پیدا ہوا اور پرویز مشرف کی ظالم حکومت کے خلاف انتقامی جذبات نے ایک مقامی تحریک جہاد کی صورت اختیار کر لی۔ اقتدار کے نشے میں مست فوجی ڈکٹیٹر نے اس تحریک کو دبانے کے لئے معصوم سواتی عوام پر وحشیانہ بمباری کروائی۔ رہی سہی کسر وزیرستان اور قبائلی علاقوں میں امریکی جہازوں کے ڈرون حملوں اور اس پر حکومتِ وقت کی مجرمانہ خاموشی نے پوری کر دی۔ آئے روز امریکہ کے ڈرون حملوں کا دائرہ وسیع ہوتا ہی جا رہا ہے اور یہ بات بھی اظہر من الشمّس ہے کہ امریکہ کے ان حملوں کے جواب میں سوائے وائٹ ہاؤس کی خدمت میں درخواستیں پیش کرنے کے ہماری افواج یا حکومتِ وقت میں کوئی حکمتِ عملی اختیار کرنے یا کاروائی کرنے کی ہمت یا جرات نہیں ہے۔ صلیبی ٹیکنالوجی کا اس قدر رعب و خوف ہمارے جرنیلوں کے دلوں میں بٹھا دیا گیا اور امریکی ڈالروں کی ایسی محبت ہمارے حکمرانوں کے جسم و جان میں پلا دی گئی ہے کہ اگر امریکہ پاکستان کے صوبہ سرحد کی طرح چاروں صوبوں پر بھی ڈرون حملے شروع کر دے تو شاید پھر بھی حکومت پاکستان کی رِٹ (Writ) چیلنج نہیں ہو گی لیکن اگر سوات کے عوام حکومت کے ظالمانہ عدالتی نظام سے نجات حاصل کرنے کے لئے عدل و انصاف مہیا کرنے والی عدالتوں کے قیام پر اصرار کریں تو حکومت پاکستان کے لئے رِٹ (Writ) کا مسئلہ فوری پیدا ہو جاتا ہے۔

وزیرستان کے جہاد کی حقیقت بھی یہی ہے کہ وہاں بھی عرب مجاہدین کو پکڑوانے کے لئے پرویز مشرف حکومت کی طرف سے فوجیں چڑھائی گئیں جس کے نتیجے میں وہاں کے قبائلیوں نے اپنے جان و مال کے تحفظ کی خاطر حکومت پاکستان کے خلاف دفاعی جہاد شروع کیا جس نے اپنوں کے خون کے قصاص کی خاطر بالآخر اقدامی قتال کی صورت اختیار کر لی ہے۔ اس کی تفصیلات ہم نےاپنے ایک مضمون میں بیان کی ہیں جو کہ ماہنامہ 'الاحرار' لاہور کے جنوری، اپریل، مئی اور جون 2008ء میں چار اقساط میں شائع ہو چکا ہے۔ سونے پر سہاگہ یوںہوا کہ حکومتِ پاکستان نے صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں پر امریکی ڈرون حملوں کے بعد اپنی خفت مٹانے کے لئے اپنی فضائی فورسز کو معصوم قبائلی عوام کو شہید کرنے پر لگا دیا۔ قبائلی علاقوں اور مالا کنڈ ڈویژن میں امریکہ اور ان کے حواری پاکستانی حکومت کے خلاف دفاعی جہاد کی اس تحریک نے کئی ایک طالبان گروہوں اور جہادی تحریکوں کو جنم دیا اور بڑھتے بڑھتے اس تحریک نے اقدامی قتال، خود کش حملوں، قتال فرضِ عین اور امریکہ نواز حکومتوں کی تکفیر کا ایک طویل سلسلہ شروع کر دیا۔

اس دفاعی جہاد کے اقدامی قتال کے مرحلے میں داخل ہونے کے پیچھے مقامی افراد کے رد عمل کے علاوہ ایک اہم سبب یہ طرزِ فکر بھی ہے کہ پاکستان میں بھی ایک حقیقی اسلامی ریاست کا قیام صرف عسکری طریقے ہی سے ممکن ہے۔ سوات میں اُبھرتی ہوئی طالبان تحریک، پرویز مشرف کی امریکہ نواز حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں نے یہ فکر عام کر دیا ہے کہ مذہبی حلقے کو امریکہ کی غلامی کے علاوہ پاکستان کے ظالم حکمرانوں سے بھی نجات حاصل کرنی ہے۔ اس میں کیا شک ہے کہ آزادی ہر مسلمان، مسلمان تو کیا ہر انسان کا ایک بنیادی حق ہے۔

آج صوفی محمد کی تحریک کو کبھی رحمٰن ملک، کبھی زرداری، کبھی الطاف حسین اور کبھی جنرل کیانی یہ الزام دیتے نظر آتے ہیں کہ یہ تحریک لوگوں پر اسلام کے نام پر جبراً اپنے انتہا پسندانہ نظریات مسلط کرنا چاہتی ہے۔ ہم یہ پوچھتے ہیں کہ پاکستان کے قیام کے بعد سے اب تک تقریباً ساٹھ سال کے طویل عرصے میں چند افراد پر مشتمل حکومتی ٹولے یا مارشل لاء ڈکٹیٹروں نے ملک کے مذہبی حلقوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے؟ آئین و قانون کے نام پر عوام الناس پر ان کی مرضی کے خلاف اپنے ملحدانہ اور کفریہ نظریات کو کبھی 'انڈیا ایکٹ 1935ء' کے نام پر اور کبھی 'تحفظِ حقوقِ نسواں بل' کی آڑ میں جبراً نافذ کرنا یا بے گناہ پاکستانی عوام کو پکڑ پکڑ کر امریکہ کے ہاتھوں چند ڈالروں کے عوض بیچ دینے کو کیا آزادی و مساوات کا نام دیا جائے؟ بیروزگاری کے عفریت، معاشی بد حالی، فقر و فاقہ کے نتیجے میں خود کشیاں، غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ، جرائم کی کثرت، عدالتوں میں انصاف کا بحران، پولیس اور لینڈ مافیا کا ظلم و ستم، امن و امان کی تباہی، انٹر نیٹ اور کیبل کی صورت میں عریانی و فحاشی کا سیلاب، وڈیرہ شاہی، جاگیردارانہ نظام، کرپشن، رشوت خوری، چوری و ڈکیتی، زنا و گینگ ریپ، عورتوں کو زندہ دفن کر دینا، غیر انسانی طبقاتی تقسیم، منشیات و شراب کی سر عام فروخت، گلی کوچوں اور سڑکوں پر ڈاکوؤں کی قتل و غارت اور عامة الناس پر ظلم و ستم کی انتہا کرنے والی لسانی و علاقائی تنظیمیں۔۔۔ کیا پاکستان کی عوام یہ سب کچھ چاہتی ہے؟ اگر نہیں تو اس کو اُن پر مسلط کرنے کا ذمہ دار کون ہے؟ حکومت کا ظالمانہ اور کرپشن پر مبنی ناقص نظام یا طالبان؟ پاکستانی معاشرے پر ان گندگیوں کو کس نے جبراً مسلط کیا ہے؟ حکومتِ وقت نے یا مولانا صوفی محمد نے؟

اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام یا نفاذِ شریعت یا قیام عدلِ اجتماعی یا ظالم حکمرانوں سے آزادی حاصل کرنے کے حوالے سے مذہبی طبقے اپنی جدوجہد کے اعتبار سے بنیادی طور پر دو مناہج میں تقسیم ہو گئے ہیں۔ ایک منہج تو عسکری ہے جو حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کا ثمر ہے اور دوسرا منہج اس مقصد کے حصول کی خاطر ہر اس جدوجہد پر مشتمل ہے جو پاکستان کے آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہو۔

پاکستان کے قیام کے فوراً بعد علماء اور دینی تحریکوں نے نفاذِ شریعت کے لئے دوسرے منہج کو ہی اختیار کیا۔ ہمارے خیال میں اس طریقۂ کار کو اختیار کرنے کی وجہ یہ نہ تھی کہ اگر پاکستان کے حکمران کافر ہوتے تو پھر بھی علماء اسلامی ریاست کے قیام کے لئے دوسرے منہج ہی کو اختیار کرتے، کیونکہ پہلا منہج ناقابل عمل اور ناممکن ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں برصغیر پاک و ہند میں 1857ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد علماء نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ اس خطہ ارضی میں مسلمانوں کی حکومت دوبارہ بحال کرنے کے لئے عسکری طریقۂ کار ممکن نہیں رہا تو اُنہوں نے اگلی ایک صدی (1857ء تا 1947ء) تک مسلمانوں کی آزادی اور ایک اسلامی ریاست کے قیام کی خاطر اپنی جدوجہد کا رُخ آئینی، قانونی اور سیاسی طریقہ کار کی طرف پھیر دیا۔ لال مسجد کے واقعے کے بعد علماء کے بیانات سے ایک دفعہ پھر یہ بحث واضح ہو گئی ہے کہ اُنہوں نے اپنے حق میں نفاذِ شریعت کے لئے پر اَمن جدوجہد ہی کو اصل منہج قرار دیا ہے۔ اگرچہ علماء وہ پر امن جدوجہد کر رہے ہیں یا نہیں؟۔۔۔۔ یہ ایک سوالیہ نشان ضرور باقی رہ جاتا ہے!!

سوات میں تحریکِ نفاذ شریعت محمدی کے بارے میں اس وقت مذہبی حلقے دو حصوں میں تقسیم ہو گئے ہیں۔ ایک تو حکومتی و سیاسی ملاؤں کا ٹولہ ہے جو حکومت وقت کی تائید و خوشنودی حاصل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ درباری مولویوں اور گدی نشینوں کا یہ طبقہ کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ توحید کے متوالوں کی حکومت قائم ہو اور مذہبی استحصال پر مبنی ان کے کاروبار و تجارت متاثر ہو۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ بعض سرکاری مولویوں نے مولانا صوفی محمد کے بعض فتاویٰ پر شدید جرح کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر مولانا صوفی محمد نے پارلیمنٹ کو کفریہ قرار دیا ہے تو جمہوری نظام کے کفر ہونے میں راسخون فی العلم کے ہاں کہاں دو آرا پائی جاتی ہیں؟ جمہوری نظام کفر تو ہے، لیکن اس کفر کے ساتھ رویہ یا معاملہ کیسا ہونا چاہئے؟ اس کفر یہ نظام میں رہتے ہوئے اس کو تبدیل کرنے کی جدوجہد کیسے ہو؟ کفریہ نظام کی تبدیلی کے لئے اس میں شامل ہو کر اس کے خلاف جدوجہ کی جائے مثلاً بذریعہ انتخاب یا کسی حکومتی ادارے مثلاً اسلامی نظریاتی کونسل شرعی عدالت کی سرپرستی کے ذریعے آئین، قانون اور نظام میں تبدیلی لائی جائے یا اس سے باہر رہتے ہوئے انتخابات کے علاوہ احتجاج کا رستہ اختیار کیا جائے؟ یہ موضوع در حقیقت علما کے مابین محل اختلاف ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مولانا صوفی محمد کے اس بیان سے کسی فتویٰ کی اہمیت سامنے آئی ہے اور حکمران طبقے نے اپنے خلاف کفر کے فتویٰ میں جو دفاعی انداز اختیار کیا ہے،و ہ قابل تعجب ہے۔ ہمارے خیال میں یہ وہ موقع ہے جبکہ علمائے پاکستان کو متحد ہو کر پارلیمنٹ، حکومتِ وقت اور جمہوری نظام کی شرعی حیثیت کو فتویٰ کی زبان سے واضح کرنا چاہئے اور اس میں مقصد لوگوں کو خروج یا بغاوت پر آمادہ کرنا نہ ہو بلکہ:

اس سے اصل مقصود الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے اس بحث کو اُجاگر کرنا ہو کہ کیا قرآن و سنت کی روشنی میں حکمران طبقے، موجودہ جمہوری نظام اور حکومتی پالیسیوں میں واقعتاً کچھ مسائل ایسے ہیں کہ جن کی وجہ سے وہ تکفیر کے مستحق ٹھہرتے ہیں تاکہ حکومت وقت کی خارجہ و داخلہ پالیسیوں میں اپنے عوام کے بنیادی حقوق کے پاس، عدل و انصاف کی فراہمی اور اسلامی تعلیمات کے لحاظ کی طرف مثبت میلان و رجحان پیدا ہو۔

اس اجتماعی فتوے سے ایک دوسرا اہم تر مقصد یہ حاصل کیا جا سکتا ہے کہ ایک اسلامی فلاحی ریاست کے قیام اور نفاذِ شریعت کے لئے وکلا کی چیف جسٹس بحالی تحریک یا نواز شریف کے لانگ مارچ کی طرز پر سارے ملک میں ایک پر امن عوامی احتجاجی تحریک برپا کی جا سکتی ہے۔

ہمارے مخلص مذہبی طبقے بالخصوص کا المیہ یہ ہے کہ نفاذِ شریعت یا قیامِ خلافت کے لئے ان کے ذہن میں کوئی منہج ہے تو وہی خروج یا بغاوت کا طریقہ کار ہے جو فی زمانہ ریاست اور کسی عوامی جماعت کے مابین بہت زیادہ عدمِ توازن کی وجہ سے ناقابل عمل ہونے کے ساتھ ساتھ ناممکن بھی ہو چکا ہے۔ اور اس منہج کے تیزی سے پھیلنے کا بنیادی سبب ہمارے حکمرانوں کا حد سے بڑھتا ہوا ظلم ہے۔ اگر جذبات کی بات ہوتی تو شاید ہم بھی کہتے کہ حجاج کی نسل سے تعلق رکھنے والے معصوم بچیوں، عورتوں، بوڑھوں اور نوجوانوں کے ان قاتلوں کی سزا یہ ہے کہ مال روڈ پر لا کر ان پر ٹینک چڑھا دیئے جائیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم کر کیا سکتے ہیں؟

اس وقت جذبات سے زیادہ عقل کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں نفاذِ شریعت کی عسکری تنظیموں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وہاں عمل، فکر سے پچاس کلو میٹر آگے دوڑ رہا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے فکر و عمل کا دوڑ مقابلہ ہو رہا ہو۔ اس وقت اُمتِ مسلمہ کو امریکہ اور اس کے حواریوں سے یہ جنگ جیتنے کے لئے جسم و جان سے زیادہ فکر و نظر کے استعمال کی ضرورت ہے۔ نفاذِ شریعت کے لئے ایک طویل جدوجہد کے بعد مولانا صوفی محمد کو بھی یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی تھی کہ پاکستان میں سکریت یا خروج کے رستے کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ ہمارے خیال میں اگر لال مسجد کے واقعے میں بھی ایک پر امن احتجاجی تحریک کی صورت میں نفاذِ شریعت کا مطالبے کو آگے بڑھایا جاتا تو بہت بہتر تھا۔

اس وقت لوہا گرم ہے اور اس کو چوٹ لگانے کا وقت آگیا ہے۔ علمائے پاکستان کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مالا کنڈ میں شریعت کے نفاذ کے تحفظ اور سارے ملک میں نظامِ عدل کے قیام کی خاطر ایک پر امن احتجاجی تحریک کا آغاز کریں۔ سیاسی پارٹیاں اپنے عہدوں اور وکلا انگریزوں کے بنائے ہوئے کالے قوانین کے تحفظ کی خاطر قربانیاں دے سکتے ہیں، مظاہرے کر سکتے ہیں، دھرنے دے سکتے ہیں تو علما اور طلبا، دین اسلام، ظلم و ستم کے خاتمے اور عدل و انصاف کے قیام کی خاطر کیوں ایسا نہیں کر سکتے؟

ہمارے ہاں عام طور پر مفتیانِ کرام مجاہدین کے حق میں قتال کی فرضیت کے فتویٰ جاری کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں کہ شاید اُنہوں نے اپنے حصے کا فرض ادا کر دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ، برطانیہ، اسرائیل، انڈیا اور ان کے حواریوں کے ظلم و بربریت کے خلاف قتال فرضِ عین ہے، فرضِ عین ہے، فرضِ عین ہے، اگر یہ صفحات اجازت دیتے تو ہم ستر مرتبہ اس جملے کو دہراتے۔ ہمیں اختلاف قتال کی فرضیت میں نہیں ہے بلکہ اس میں ہے کہ کس پر فرض ہے؟ ہمارے نزدیک یہ قتال اسلامی ریاستوں کے سربراہان، حکمرانوں اور اصحابِ اقتدار پر فرض ہے اور علما، طالبانِ دین اور مصلحین پر فرض یہ ہے کہ اپنے ملک کے حکمرانوں اور اصحابِ اقتدار کو اس قتال پر ہر آئینی، احتجاجی، قانونی، لسانی، علمی، اخلاقی اور تحریری ذرائع و وسائل، اخبارات، رسائل و جرائد، الیکٹرانک میڈیا، جلسے جلوسوں، دھرنوں، سیمینارز اور کانفرنسوں کے انعقاد، اجتماعی مباحثوں اور مکالموں اور عوامی دباؤ کے ذریعے مجبور کریں اور اگر پھر بھی حکمران اس فریضے کی ادائیگی سے انکار کریں تو مذکورہ بالا تمام پر امن کوششوں کے ذریعے، ان حکمرانوں کی معزولی اور ان کی جگہ اس عہدے کی اہلیت رکھنے والے اصحابِ علم و فضل کی تقریری، علما اور داعیانِ حق کا بنیادی فریضہ ہو گا تاکہ ریاستی سطح پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے عالمی ظلم کے خلاف قتال کا فریضہ سر انجام دیا جا سکے۔

ہمارے نزدیک علما کا جہاد یہ ہے کہ علمائے کرام، دینی جماعتیں اور ان کے کارکنان اور دینی مدارس کے طلبہ، وزیرستان اور دوسرے قبائلی علاقوں میں وہنے والے وحشیانہ ڈرون حملوں اور قبائلی علاقوں میں پاکستانی افواج و فضائیہ کی پر تشدد کاروائیوں کے خلاف ملک گیر سطح پر پر امن جلسے اور جلوسوں کا اہتمام کریں۔ عوام الناس کی رائے ہموار کریں۔ سٹریٹ پاور بڑھائیں۔ اسلامی نظام عدلِ اجتماعی کے نفاذ تک وکلا کی طرح مسلسل مظاہرے کریں۔ امریکہ کی حمایت ختم کرنے کے لئے حکومتِ وقت کے خلاف دھرنے دیں۔ بے غیرت، بے دین اور ظالم حکمرانوں کی معزولی کی خاطر پر عزم لانگ مارچ کریں۔ پاکستان کی پاک سر زمین پر اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لئے ہر پر امن جدوجہد اختیار کریں اور نتائج اللہ کے حوالے کر دیں۔

المیہ یہ ہے کہ پاکستان کا مذہبی طبقہ اس طرح کی پر امن جدو جہد کے ذریعے اسلام، جہاد اور مجاہدین کی جو مدد کر سکتا ہے، وہ تو کرتا نہیں ہے بس ساری توانائی اس پر ہی خرچ ہو جاتی ہے کہ ایک عام سپاہی یا فوجی کافر ہے یا مسلمان؟ عام مسلمان پر قتال فرضِ عین ہے یا فرضِ کفایہ؟ مدارس میں بیٹھ کر جہاد کے حق میں فرضِ عین ہونے کے فتاویٰ جاری کرنے سے یہ نفسیاتی تسکین تو کسی مفتی صاحب کو حاصل ہو سکتی ہے کہ اُنہوں نے جہاد کی خاطر بہت گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں، لیکن اگر وہی مفتیان حضرات جہاد اور مجاہدین کے حق میں حکومت کے خلاف پر امن مظاہرہ کرتے اور جماعت اسلامی کے کارکنان یا وکلا کی طرح سر پھٹواتے تو خارج میں نتائج بہت مختلف ہوتے۔ ہمارے خیال میں پاکستان میں اسلام و عدل کا نفاذ پرامن جدوجہد اور قربانیاں دینے سے ہو گا اور پاکستان میں نفاذِ اسلام کے بعد ملتِ کفر سےجہاد و قتال کا مرحلہ آئے گا اور ساری دنیا میں اسلام کا غلبہ ریاستی سطح پر ہونے والے جہاد و قتال سے ہو گا۔

ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ انڈیا ہو، امریکہ، اسرائیل ہو یا برطانیہ، ان ظالم اقوام کے ظلم کے خلاف جہاد و قتال اسی صورت میں کامیاب ہو سکتا ہے جبکہ پاکستان میں پہلے اسلامی نظام کا نفاذ ہو جائے اور پھر ریاست کی سطح پر ان عالمی ہشت گردوں کے خلاف قتال کیا جائے۔ پس پاکستان میں اسلامی نظام کا نفاذ صحیح منہج پر قائم ہونے والی جہاد و قتال کی عالمی تحریک کا پہلا زینہ ہے اور ہمارے خیال میں اس پہلے زینے تک پہنچنے کے لئے کامیاب طریقہ کار وہی ہو گا جو کہ عدم تشدد پر مبنی ہو۔

علمائے دیو بند کی تبلیغی جماعت، مولانا مودودی کی جماعتِ اسلامی، ڈاکٹر اسرار احمد کی تنظیم اسلامی اور مولانا صوفی محمد کی تحریکِ نفاذ شریعت محمدی اس وقت تک اسی منہج پر مختلف مراحل اور مدارج میں کام کر رہی ہیں اور پاکستان میں نفاذِ اسلام کے لئے پر امن جدوجہد کے ذریعے راہ ہموار کر رہی ہیں۔ علما کو چاہئے کہ وہ ان تحریکوں کے تعاون سے نفاذِ شریعت کے لئے ایک عظیم احتجاجی تحریک کی بنیاد رکھیں۔ یہی ہمارے نزدیک جہاد کا وہ حقیقی عمل ہے جس کو تیز کرنے کی اشد ضرورت ہے اور یہ اسی وقت تیز ہو سکتا ہے جبکہ علمائے دیو بند، اہل الحدیث علما اور بریلوی اہل علم کی سرپرستی اس کو حاصل ہو گی۔ معروف اہل حدیث رہنما حافظ ابتسام الٰہی ظہیر نے مولانا صوفی محمد کے بیانات اور اقدامات کی تحسین کی ہے۔ ہمارے خیال میں نفاذِ شریعت کی خاطر اتحاد کی راہ ہموار کرنے کے لئے مذہبی اختلافات سے بالا تر ہو کر ایسے تائیدی بیانات دینا، اس لحاظ سے ایک قابل تحسین امر ہے کہ ہر مذہبی گروہ نفاذِ شریعت کے مسئلے کو اپنا مسئلہ سمجھتا ہے۔

کچھ ہی دن پہلے اخبار میں ایک خبر شائع ہوئی کہ کراچی کے حلقہ دیو بند کے علما نے تحریک نفاذ شریعت محمدی کے دفاع کے لئے ایک حکمتِ عملی تیار کرنے کے لئے جامعہ فاروقیہ میں علماء کا ایک اجلاس طلب کیا ہے۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ مورٔخہ 27؍ اپریل کو جامعہ نعیمیہ لاہور میں ملی مجلس شرعی کے زیر اہتمام بھی اہل تشیع، اہل الحدیث، بریلوی اور دیو بندی علما کی ایک مجلس کا انعقاد ہوا۔ جس میں ایک مشترکہ اعلامیہ کے ذریعے سوات اور مالا کنڈ ڈویژن میں نفاذِ شریعت کے حکومتی اقدام کو برقرار رکھنے اور سارےپاکستان میں نظامِ عدل کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ علما نے اپنے اس اجلاس اس بات کو واضح کیا ہے کہ سوات میں نافذ ہونے والے نظامِ عدل کی ایک دفعہ کے مطابق تمام فرقوں کو ان کے پرسنل لاز میں ان کے مذہب کے مطابق فیصلے حاصل کرنے کی آزادی ہو گی اور قاضیوں کا تقرر بغیر کسی مسلکی تفریق کے کیا جائے گا۔ ایسا ہی ایک اجلاس مؤرخہ 30ء اپریل کو جامعہ اشرفیہ میں اور ۶ مئی کو مسجد قادسیہ میں بھی منعقد ہوا جس میں اس نفاذ شریعت کے مسئلے پر علما کے مابین اتفاق رائے کے نتیجے میں مشترکہ لائحة عمل تشکیل دیا گیا۔ دوسری طرف مؤرخہ 28؍ اپریل کی خبر یہ بھی ہے کہ سیکورٹی فورسز کے صوبہ سرحد کے علاقے لوئر دیر میں آپریشن کو مولانا صوفی محمد نے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور طالبان نے ایک بار پھر سوات کی گلیوں میں مسلح ہو کر گشت شروع کر دی ہے۔ دوسری طرف مرکزی حکومت نے بھی اے این پی کی رضا مندی سے سوات میں ایک بڑے آپریشن کی تیاری کر لی ہے۔

ہمارے خیال میں ضرورت اس بات کی ہے کہ علما اس وقت اپنی سرپرستی میں ایک پر امن تحریک کا آغاز کریں۔ عدل کے قیام، غریب کو انصاف مہیا کرنے، ساری قوم کو امریکہ کی غلامی سے نجات دلوانے، ظالم حکمرانوں کے ظلم کے خاتمے، حدود اللہ کے نفاذ، امن و امان کے قیام، عریانی و فحاشی کے سیلاب کی روک تھام، اُخروی نجات اور مسلمانانِ پاکستان کی دنیاوی فلاح و بہبود کی خاطر ایک ایسی پر امن احتجاجی تحریک برپا کرنے میں آخر کیا مانع ہے کہ جس میں علما کسی کی جان لینے کی بات نہ کرتے ہوں بلکہ ظالم و فاسق حکمرانوں سے آزادی کے طلب گار ہوں۔

پاکستان کے مذہبی حلقے کو ان ظالم حکمرانوں اور ان کے جابرانہ نظام سے آزادی کی یہ جنگ لڑنی ہو گی۔ یہ جنگ ضرور ہو گی، آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں! اور یہ جنگ بغیر کسی بندوق، کلاشنکوف، اسلحے یا راکٹ لانچر کے لڑی جائے گی۔ اور ان شاء اللہ فتح ہمارا مقدر ہے۔ اللهم أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعه وأرنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابه۔ آمین یا ربّ العٰلمین!

حوالہ جات
1. علماء کی اس طویل جدوجہد کا تذکرہ ڈاکٹر محمود احمد غازی نے اپنے ایک مقالے میں کیا ہے جو ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں کی کتاب 'علم اُصولِ فقہ: ایک تعارف' کی تیسری جلد میں شامل ہے۔
2. اس بارے میں مزید معلوم کے لے: مراد کرناز کی عبرت ناک داستان بعنوان ''جب مجھے تین ہزار ڈالر میں امریکیوں کے ہاتھ فروخت کیا گیا۔'' ماہنامہ اردو ڈائجسٹ فروری 2009ء میں ملاحظہ فرمائیں۔