میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

سوات میں 'نظامِ عدل ریگولیشن' کے بعد پاکستان بھر میں نفاذِ شریعت کی بحث ایک بار پھر تازہ ہو گئی ہے۔ 'نظامِ عدل' ریگولیشن کی حقیقی نوعیت سے ملکی اور بین الاقوامی میڈیا نے تو عوام کو تا حال متعارف نہیں کرایا بلکہ میڈیا تحریکِ نفاذ شریعت کے سربراہ صوفی محمد کے اَفکار کو اپنے طور پر اُچھالنے میں مشغول ہے۔ اس تناظر میں یہ پہلو بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ مغرب کے جدید سیاسی اور معاشی افکار (جمہوریت اور اشتراکیت) کی جن مسلم اہل علم نے اسلامی جمہوریت' اور 'اسلامی اشتراکیت' کے نام سے حمایت کی تھی، ان کا مقصد اشتراکیت و جمہوریت کی بجائے در حقیقت کسی بھی شکل میں اسلام کے غلبہ و نفاذ کی منزل تک پہنچنا تھا۔ اس پہلو پر ڈاکٹر محمد امین نے زیر نظر مقالہ میں بھی روشنی ڈالی ہے جسے ہم بلا تبصرہ فکر و نظر کے کالموں میں اس لئے شائع کر رہے ہیں کہ محدث کی ادارتی رائے انہی کالموں میں آئندہ پیش کی جائے گی۔ ان شاء اللہ۔

مولانا صوفی محمد اور طالبان نے سوات میں نظامِ عدل اور نفاذِ شریعت کے حوالے سے جو امن معاہدہ حکومت پاکستان سے کیا ہے اور اس کے بعد مولانا صوفی محمد صاحب نے جو تقاریر کی ہیں، ان میں سے دو باتیں اہم تر ہیں: ایک یہ کہ جمہوریت کفر ہے اور دوسرے یہ کہ پاکستان کا موجودہ عدالتی نظام غیر شرعی اور ناقابل قبول ہے۔ اس حوالے سے جن لوگوں کو مولانا صوفی محمد صاحب کے خیالات سے اختلاف ہے، اُنہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ یہ طالبان کی شریعت ہے جو ہم نہیں مانتے۔ جب کہ بعض لوگ مولانا صوفی محمد کی حمایت کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگ اس مرحلے پر کنفیوژ بھی ہو گئے ہیں اور اُنہیں سمجھ نہیں آرہی کہ اس بارے میں صحیح اسلامی موقف کیا ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ ان حالات میں ایک عام پاکستانی مسلمان کو اپنا ذہن واضح رکھنے کے لئے چار سوالوں کا دو ٹوک جواب ملنا چاہئے۔
  1. کیا جمہوریت کفر ہے؟
  2. کیا پاکستان کا عدالتی نظام غیر اسلامی ہے؟
  3. کیا طالبان کا اسلام صحیح ہے؟
  4. موجودہ حالات میں نفاذِ اسلام اور طالبانائزیشن کے حوالے سے صحیح اسلامی موقف کیا ہونا چاہئے؟ ؎

یہ سوالات وقتی اور سیاسی ہونے کے علاوہ علمی پہلو بھی رکھتے ہیں جو تفصیل طلب ہے۔ اب ہم ہر ایک سوال کا مستقل طور پر جواب دینے کی کوشش کریں گے:

1. کیا جمہوریت کفر ہے؟
اس سوال پر غور کرتے ہوئے یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اس وقت دنیا پر مغربی تہذیب کا غلبہ ہے۔ مغرب نے اپنے معاشی، سیاسی اور حربی تفوق کو اپنے فکری غلبے کا ذریعہ بنایا ہے اور یوں وہ اپنی تہذیب کی یونیورسلائزیشن کی مہم پر کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ مسلم دنیا کو بھی پہلے اس نے بزورِ بازو فتح کیا، کچلا، تباہ و برباد کیا اور پھر ان کو ہمیشہ غلام رکھنے کے لئے مسلم ممالک میں اجتماعی ادارے (سیاسی، معاشی، قانونی، سماجی، تعلیمی۔۔۔۔) اپنی فکر و فلسفے پر قائم کئے اور مسلمانوں کے دل و دماغ کو فتح کرنے کی بھرپور کوشش کی جس میں اسے خاصی کامیابی ملی۔ مغرب نے اپنے ہمہ جہتی تہذیبی غلبے سے جن افکار و تصورات کو بالعموم دنیا میں اور بالخصوص مسلم ممالک میں مروّج کیا ہے، ان میں سے ایک جمہوریت بھی ہے۔

مغرب نے جمہوریت کو بطورِ ایک عقیدہ، ایک دین اور مسلمہ اُصول دنیا میں رائج کیا ہے گو وہ اپنے مسلمات کے لئے 'دین' اور 'عقیدہ' کے الفاظ استعمال نہیں کرتا، کیونکہ مغربی تہذیب تحریکِ اصلاح مذہب (Reformation) اور تحریکِ تنویر (Enlightenment) کے دوران مذہب (عسائیت) کو ردّ کرنے کے نتیجے میں آگے بڑھی تھی، لیکن ان افکار کی عملاً دنیائے مغرب میں وہی حیثیت ہے جو دین و مذہب کے ماننے والوں کے ہاں عقیدے کی ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جمہوریت مغربی تہذیب کا عقیدہ اور مسلمہ اُصول ہے جس کے حسن و قبیح پر بات کرنے اور اسے رد کرنے کے امکان کی کوئی گنجائش نہیں۔

بد قسمتی سے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی مغربی تہذیب کے زیر اثر جمہوریت کو بطورِ عقیدہ اور بحیثیتِ طے شدہ مسلمہ اُصول مان لیا ہے اور وہ اس کے خلاف کوئی بات سنے اور سمجھنے کے لئے تیار نہیں۔ چنانچہ مسلم سیاستدانوں، صحافیوں، ادیبوں، دانشوروں بلکہ علمائے کرام کی ایک بڑی تعداد بھی، خصوصاً وہ جو عملی سیاست میں ہیں، جمہوریت کو بطورِ عقیدہ اور طے شدہ مسلمہ اصول مانتی ہے اور اس کے خلاف کوئی دلیل سننے کو تیار نہیں۔

لیکن بایں ہمہ یہ ایک علمی حقیقت ہے جس کا انکار ممکن نہیں کہ مغربی تہذیب جن فکری بنیادوں پر کھڑی ہے، وہ ملحدانہ اور خلاف اسلام ہے۔ مغربی تہذیب جن فکری اساسات اور نظریات پر مبنی ہے ان میں سے اہم چار ہیں:

  1.  ہیومنزم (Humanism)
  2. سیکولرزم (Scularism)
  3.  سرمایہ داریت (Capitalism) اور
  4. ایمپریزم (Empiricism)


'ہیومنزم' کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنا خدا خود ہے، وہ خود مختار اور آزاد بلکہ مختار کل اور قادرِ مطلق ہے اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کر سکتا ہے۔ کوئی بالا تر ہستی ایسی نہیں جس کی اطاعت اس پر واجب ہو۔

'ہیومنزم' کا تصور چونکہ خدا کو ردّ کرتا تھا اور عیسائیت سے متصادم تھا (خواہ وہ برائے نام ہی تھی) لہٰذا ہیومنزم کے ردّ عمل میں وہاں سیکولرزم کا نظریہ اُبھرا جس کا مطلب یہ تھا کہ اگر کوئی خدا کو ماننا چاہتا ہے تو اپنی پرائیویٹ زندگی میں مان لے، لیکن اجتماعی زندگی سے اس خدا کا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے یعنی اس خدا کو یہ حق نہیں کہ وہ معاشرے اور ریاست کے اجتماعی اُمور میں مداخلت کرے۔

کیپٹل ازم یعنی نظامِ سرمایہ داری اصلاً ایک معاشی نظریہ تھا، لیکن یہ بتدریج طرزِ زندگی بن گیا جس کا مطلب یہ تھا کہ دنیا میں بنیادی اہمیت مال و دولت کو حاصل ہے اور یہی عزت کا معیار ہے۔ لہٰذا ہر فرد کی ساری صلاحیت، وقت اور محنت صرف اسی پر صرف ہونی چاہئے۔ اس تصور نے حبِ دنیا اور حبِ مال کو انسانی جدوجہد کا واحد ہدف بنا دیا اور زیادہ سے زیادہ دولت، سہولتوں اور آسائشوں کا حصول ہی مقصدِ زندگی ٹہرا۔ بنک بیلنس، کار، کوٹھی، معیارِ زندگی یہی حاصل زندگی ہے۔ اس سے منطقی طور پر آخرت کی اہمیت اور اس کا تصور نظروں سے اوجھل ہو گیا۔

ایمپریسزم کا مطلب یہ ہے کہ حق صرف وہ ہے جو تجربے اور مشاہدے سے ثابت ہو سکے اور جو عقل و دلیل کے مطابق ہو۔ یہ اُصول مغرب میں سائنس و ٹیکنالوجی کی بنیاد بنا اور ما بعد الطبیعیات (مذہبی و اخلاقی اصولوں) کے رد کا باعث ٹھہرا، کیونکہ اس سے وحی، ایمان اور عقیدے کی نفی ہوتی ہے۔

خلاصہ یہ کہ مغربی تہذیب کے اِن بنیادی اُصولوں سے مغرب کا جو ورلڈ ویو (طرزِ حیات یعنی تصور انسان، تصور الہ اور تصور کائنات) اُبھر کر سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کائنات کا کوئی الہ نہیں، انسان کسی کا عبد نہیں، زندگی بس اس دنیا کی زندگی ہے، اسی کی فکر کرنی چاہئے (آخرت کی نہیں) اور حق صرف وہ ہے جو تجربے اور مشاہدے میں آسکے گویا وحی اور قرآن کی نفی! مطلب یہ کہ مغربی افکار کی رو سے ان کے ورلڈ ویو کا نتیجہ ہے: خدا کے تصور کا انکار، رسالت کے تصور کا انکار، آخرت کے تصور کا انکار اور وحی اور قرآن کا انکار یعنی ارکانِ ایمان کا انکار!

ان تصورات کے تحت ہی مغرب کی ساری زندگی اور زندگی کے مختلف شعبوں کا تانا بانا بُنا گیا۔ مثلاً وہاں کی سیاسی زندگی کا محور ہے: جمہوریت۔ جمہوریت کا مطلب ہے عوام کی خدائی۔ فرد چونکہ ہیومنزم کی رو سے آزاد، خود مختار بلکہ مختارِ مطلق ہے، اس لئے اس کے نمائندے بھی مختارِ مطلق ہیں۔ وہ جس پارلیمنٹ میں جا کے بیٹھیں گے، وہ بھی مختارِ مطلق ہو گی اور جو قانون چاہے بنا سکے گی، جس چیز کو چاہے حلال اور جس کو چاہے حرام قرار دے سکے گی۔ چنانچہ مغرب کے پارلیمانوں نے جوئے، شراب، زنا، لواطت وغیرہ کو جائز قرار دیا ہوا ہے۔

وہ ریاست اور معاشرے کو چلانے کے لئے جو بنیادی قانون بنا دے (یعنی آئین) وہ بھی مقدس و محترم ہے جس کی خلاف ورزی کی سزا موت ہے، کیونکہ وہ اس فرد کے نمائندوں نے بنایا ہے جو خود مختار اور مختارِ مطلق ہے، جو خود حق ہے اور خود حق و باطل کا فیصلہ کرنے والا ہے، وہ اپنا خدا خود ہے، لہٰذا اس کے نمائندوں کا بنایا ہوا آئین بھی معیارِ حق و باطل ہے۔

یہ ہے مغربی اور جو کچھ ہم نے اس کی فکری اساسات اور خود اس کے بارے میں ابھی بیان کیا ہے، اس کے بعد اس بات میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی کہ مغربی جمہوریت خلافِ اسلام ہے۔ یہ جن نظریات پر کھڑی ہے، وہ بھی ملحدانہ ہیں اور اس کا اپنا ڈھانچہ بھی خلافِ اسلام ہے۔

اسلامی جمہوریت؟
جب مغربی جمہوریت کو خلافِ اسلام کہا جائے تو اس کا جواب عام طور پر یہ دیا جاتا ہے کہ چلئے مان لیا کہ مغربی جمہوریت خلافِ اسلام ہے، لیکن ہم کون سا مغربی جمہوریت کو مانتے ہیں، ہم تو اسلامی جمہوریت کو مانتے ہیں۔ اب یہ اسلامی جمہوریت کیا ہے؟اس کی حقیقت پر بھی غور کر لیجئے!


اہل مغرب نے چالاکی یہ کہ کہ جب اسے مسلمان ملکوں سے مجبوراً نکلنا پڑا تو اس نے اقتدار جان بوجھ کر ان لوگوں کے حوالے کیا جو اس کی تہذیب کے رسیا اور اس سے مرعوب تھے۔ جو اس کی تہذیب، اس کی فکر، اس کے آئین، اس کے قوانین، اس کی جمہوریت، اس کی تعلیم کو مسلمان معاشرے میں رائج کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ ان کے ایک پروردہ (مصطفیٰ کمال اتا ترک) نے بر سر اقتدار آنے کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ خلاف کا خاتمہ کر دیا اور مغربی جمہوریت اپنے ہاں نافذ کر دی۔ یہی دوسرے مسلم ممالک میں ہوا۔

علماء نے یہ دیکھ کر کہ خلافت ختم ہو گئی، حکومت ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو اسلام پر عمل کرنا نہیں چاہتے، جو شریعت نافذ کرنا چاہتے اور اجتہاد کر کے نئے ماحول اور نئی ضرورتوں کے مطابق اسلام کا نیا سیاسی ڈھانچہ بنانا نہیں چاہتے تو اُنہوں نے مجبوراً یہ فیصلہ کیا کہ اگر یہ مسلمان حکمران (جو اندرونِ خانہ مغربی طاقتوں کے آلہ کار تھے، ان کی مدد ہی سے اقتدار میں آئے تھے اور ان کی تائید ہی سے اقتدار میں رہنا چاہتے تھے) کچھ بنیادی اسلامی باتوں کو مان لیں اور اسے آئین میں شامل کر لیں تو ہم اس جمہوریت کو قابل قبول سمجھ لیں گے۔ چنانچہ اُنہوں نے جدوجہد کر کے حکمرانوں سے کچھ باتیں منوا لیں اور باقی باتیں منوانے اور جدوجہد کا راستہ کھلا رکھنے کے لئے اس نظام کے اندر رہ کر کام کرنا منظور کر لیا۔ اس طرح اس مغربی جمہوریت کو جو اصلاً ملحدانہ افکار پر مبنی تھی، مشرف بہ اسلام کر اور سمجھ لیا گیا اور اس پر ہم پاکستانی مسلمان پچھلے ساٹھ سال سے عمل ہوتا دیکھ رہے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ 'اسلامی جمہوریت' اسلام کے سیاسی نظام کا صحیح مظہر ثابت ہوئی ہے؟ کیا اس سے معاشرہ اسلامی ہوا ہے؟ کیا اس کی مدد سے زندگی کے دوسرے شعبوں میں اسلام آیا ہے؟ کیا اس سے عوام کے مسائل حل ہوئے ہیں؟ کیا غریبوں کے حالات بدلے ہیں؟کیا سرمایہ داروں، جاگیرداروں، وڈیروں اور نوابوں سے عوام کی جان چھوٹی ہے؟ کیا اسمبلیوں میں اسلامی کردار و اخلاق کے حامل لوگ پہنچے ہیں؟ کیا آئین سو فیصد اسلامی ہے؟ کیا سارے قوانین اسلام کے مطابق بنائے جا رہے ہیں؟ ان سب باتوں کا جواب ہاں میں دینا ممکن نہیں ہے۔ بلکہ حالات اس کے برعکس ہیں صرف دو شعبوں کی مثال لے لیجئے:

ذرائع ابلاغ بے حیائی، عریانی اور فحاشی پھیلا رہے ہیں۔ میوزک اور ڈانس کو رواج دے رہے ہیں اور مغربی افکار و اقدار کو عام کر رہے ہیں اور مسلم معاشرے کی حیا، عفت، پاکیزگی اور اخوت پر مبنی اقدار کو تباہ کر رہے ہیں۔

ایسے ہی ہمارا نظام تعلیم آج بھی مغرب کے غلام پیدا کر رہا ہے کیونکہ انگلش میڈیم عام ہے، بچوں کو نرسری سے انگریزی پڑھائی جاتی ہے اور اور A لیول کے امتحانات، آکسفورڈ کی غیر مسلم و غیر پاکستانی مصنّفین کی لکھی ہوئی کتابیں، پینٹ کوٹ نکٹائی کا یونیفارم، مخلوط تعلیم، تعلیم کو تجارت بنا دینا۔۔۔ غرض ذہن سازی اور تعمیر شخصیت و کردار کا سارا ڈھانچہ مغربی فکر و تہذیب کے مطابق ہے۔ یہی حال دوسرے شعبہ ہائے زندگی کا ہے۔ ان حالات میں یہ کہنا کہ ہماری جمہوریت 'اسلامی جمہوریت' ہے۔ یہ معاشرے کو اسلامی بنا رہی ہے اور اسے جاری رہنا چاہئے اور اسے خوب پھلنا پھولنا چاہئے، یہ محض خود فریبی ہے۔
ہماری اس گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ
مغربی جمہوریت خلافِ اسلام ہے، کیونکہ مغربی تہذیب کے بنیاد اُصول و نظریات خلافِ اسلام ہیں۔

مغربی جمہوریت سے مصالحت کر کے اور اس میں اسلام کے چند اُصولوں کی پیوند کاری سے ہمارے حکمرانوں اور بعض دینی رہنماؤں نے 'اسلامی جمہوریت' کا جو ملغوبہ تیار کیا تھا، وہ غیر مؤثر ثابت ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں معاشرے میں اسلام نہیں آیا بلکہ مغربی تہذیب کا غلبہ ہوا ہے۔ سیاست ہی نہیں بلکہ سارے شعبہ ہائے حیات سیکولر ہو چکے ہیں۔ مغربی جمہوریت اور اسلامی جمہوریت کے حوالے سے مذکورہ بالا حقائق کو تسلیم کر لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اس کے بعد عملاً اس مسئلے کا حل کیا ہو، یہ ہم آخر میں عرض کریں گے۔

کیا پاکستان کا عدالتی نظام اسلامی ہے؟
جمہوریت کو کفر کہنے کے علاوہ مولانا صوفی محمد صاحب نے دوسری بات جو کہی ہے اور جو بظاہر بہت سے لوگوں کو چبھی ہے، وہ یہ ہے کہ پاکستان کا عدالتی نظام غیر اسلامی ہے۔ پاکستان کی ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ آئین کے مطابق فیصلے سناتی ہیں نہ کہ شریعت کے مطابق۔ لہٰذا سوات کی قاضی کورٹس کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں وہی سنی جائیں گی اور یہ کہ وہ پاکستانی ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کو شرعی عدالتوں کے لئے بطورِ اپیل کورٹ تسلیم نہیں کرتے اور نہ وکیلوں کے لئے کوئی کردار مانتے ہیں۔

بظاہر ان لگوں کے لئے جنہوں نے موجودہ عدالتی نظام کو تسلیم کیا ہوا ہے اور وہ اسے اسلامی سمجھتے ہیں، یہ بات نا قابل تصور ہے کہ اسے غیر شرعی کہہ کر رد کر دیا جائے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب پاکستان بنا تو جن لوگوں نے پاکستان بنایا اور اُنہوں نے جو وعدے کئے اور جو لوگوں کا جذبہ اور توقعات تھیں، اس میں ہر آدمی یہ توقع کرتا تھا کہ پاکستان بنے گا تو ہر طرف ایمان کی بہار آجائے گی، اجتماعی زندگی کے سارے شعبوں میں تبدیلی آئے گی اور ہر شعبے کی اسلامی تناظر میں تنظیم نو ہو گی، لیکن عملاً کچھ بھی نہ ہوا یا یوں کہہ لیجئے کہ بہت ہی تھوڑا ہوا اور برائے نام ہوا۔ قانونی اور عدالتی پہلو سے ذرا مندرجہ ذیل حقائق پر غور کیجئے:

دینی قوتوں کے دباؤ ڈالنے، مہمی چلانے اور جیلوں میں جانے کے نتیجے میں مجبوراً اس وقت کی مسلم لیگی حکومت نے قرار دادِ مقاصد پاس کی اور اس میں آئین کے اسلامی پہلوؤں کا ذکر کیا، لیکن اسے آئین کا دیباچہ بنا دیا گیا اور آئین کے قابل نفاذ حصے میں شامل نہ کیا گیا۔ (جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں اسے آئین میں شامل کر لیا گیا، لیکن آئینی تشریحات کے جھرمٹ میں اس کی آپریشنل حیثیت پھر بھی مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی)۔
آئین میں یہ بات بھی تسلیم کی گئی کہ پاکستان میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جائے گا، لیکن اسے بھی پالیسی اُصولوں میں ڈال دیا گیا اور آئین کے قابل نفاذ حصے میں شامل نہیں کیا گیا۔انگریزوں کے بنائے ہوئے ہزاروں قوانین کا تسلسل جاری رکھا گیا۔

اسلامی نظریاتی کونسل بنائی گئی، لیکن اس کا کردار ہمیشہ مشاورتی رکھا گیا اور اسے اختیارات سے محروم رکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تناظر میں قانون سازی کے لئے اس کی طرف سے دی جانے والی تمام تجاویز درازوں میں بند پڑی رہ جاتی ہیں۔ اُنہیں دستوری تقاضے کے مطابق اسمبلی میں پیش نہیں کیا جاتا اور اگر کبھی پیش کر بھی دیا جائے تو اس کے مطابق قانون سازی نہیں کی جاتی۔

لاء کالجز میں قانون کی تعلیم کے ساتھ شریعت وفقہ اور عربی زبان کی تدریس کا کوئی انتظام نہیں۔

ججز کی اسلامی شریعت و قانون کی تربیت کا کوئی اہتمام نہیں۔

وکلا کے پیشے میں جو غیر اسلامی اقدار و رسوم جڑ پکڑ چکی اور اس کا لازمی حصہ بن چکی ہیں، ان کے ازالے کے لئے کوئی کوششیں بروئے کار نہیں لائی جاتیں۔

نچلی عدالتوں، ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں مفتی یا شریعت وفقہ کا کوئی ماہر بھی موجود نہیں ہوتا جو بوقتِ ضرورت عدالت کو شریعتِ اسلامی کے حوالے سے ماہرانہ رائے دے سکے۔

ہمارا سارا قانونی ڈھانچہ 'برطانوی پروسیجرل لا' پر مشتمل ہے جو تاخیر کا سبب بنتا ہے جب کہ اسلامی اُصول یہ ہے کہ عدل میں تاخیر دل کی نفی کے مترادف ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ مقدمات کے فیصلے جلد ہوں اور اسلامی عدالتوں میں ہمیشہ فیصلے جلد ہی ہوتے ہیں، لیکن ہماری موجودہ عدالتوں میں صورت اس کے بالکل برعکس ہے۔ فوجداری عدالتوں کی حالت بھی الگ سے پتلی ہے، جب کہ ہماری دیوانی عدالتیں تو آدمی کو دیوانہ بنا کررہتی ہیں ایک نسل مقدمہ درج کرائے تو بعض اوقات دوسری نسل کو فیصلہ سننا پڑتا ہے۔

زمانۂ قدیم کی طرح ہماری عدالتوں میں انصاف آج بھی بکتا ہے۔ عدالت میں کورٹ فیس جمع کروانا پڑتی ہے، عدالتی عملے کو بخشش دینا پڑتی ہے اور وکیلوں کی بھاری بھر کم فیسوں سے لوگ کنگال ہو جاتے ہیں۔

یہ بات معروف ہے اور سب تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کی زیریں عدالتوں میں رشوت و کرپشن کی بھرمار ہے حتیٰ کہ اعلیٰ عدالتوں میں بھی ججوں کے کردار کے کمزور پہلو اکثر اخبارات میں زیر بحث آتے رہتے ہیں۔

فیڈرل شریعت کورٹ قائم تو کی گئی ہے، لیکن وہاں علماء جج تعینات ہی نہیں کئے جاتے بلکہ ہائی کورٹ کے ججوں کو بطورِ سزا وہاں بھجوا دیا جاتا ہے اور عدالت کو اکثر غیر فعال رکھا جاتا ہے۔

اعلیٰ عدالتوں کے جج اکثر وکلا میں سے لئے جاتے ہیں بلکہ اسلامی شریعت وفقہ میں مہارت ججوں کی تعیناتی کی شرائط میں سرے سے شامل ہی نہیں ہوتی۔ چونکہ یہ وکلا ان تعلیمی مراحل سے گزرے ہوتے ہیں جن میں شریعت و فقہ کا علم و ادراک نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، لہٰذا یہی خرابی انہی وکلا کے ذریعے ججوں کی صورت میں برابر قائم رہتی ہے۔

آئین میں اس امر کی کوئی ضمانت نہیں کہ ہماری اسمبلیوں میں ایسے لوگ بھی پہنچیں جو اسلامی شریعت اور فقہ کے ماہر ہوں تاکہ وہ قانون سازی میں فعال کردار ادا کر سکیں جب کہ عام ارکانِ اسمبلی کی تعلیم و تربیت ایسی نہیں ہوتی کہ وہ اسلامی تناظر میں قانون سازی کر سکیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آئین میں رکن اسمبلی بننے کے لئے جو شرائط مقرر کی گئی ہیں، ان پر کہیں بھی عمل نہیں ہوتا۔ نہ الیکشن کمیشن ان پر عمل کرواتا ہے اور نہ عدالتیں بلکہ حکومتیں بھی اس میں دلچسپی نہیں لیتیں۔

پاکستان میں 1979ء سے حدود قوانین نافذ ہیں، لیکن ان پر عمل در آمد نہیں ہوتا۔ آج تک کسی چور کے ہاتھ اور کسی ڈاکو کے پاؤں نہیں کٹے، کسی زانی کو کوڑے نہیں لگے اور کسی زای کو رجم نہیں کیا گیا حالانکہ معاشرے میں ان جرائم کی بھرمار ہے۔ ان قوانین کا البتہ یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ پولیس کے رشوت کے ریٹ بڑھ گئے ہیں۔

انصاف دلانے میں پولیس کا بنیادی کردار ہوتا ہے، لیکن ہماری پولیس کا رویہ اتنا ایمان شکن ہے کہ الامان والحفیظ۔ کسی بھی پاکستانی سے اپنے شیر جوانوں کے بارے میں رائے لے لیجئے وہ کانوں کو ہاتھ لگائے گا۔

ہماری جیلوں کا حال اتنا ناگفتہ بہ ہے کہ وہاں فرشتہ بھی چلا جائے تو عادی مجرم اور شیطان بن کر نکلتا ہے جبکہ جیلیں بھی نظامِ دل کا ایک حصہ ہوتی ہیں اور ان کا کردار بھی صحیح ہونا ضروری ہے۔

ان ساری کوتاہیوں کی موجودگی میں کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ہمارا نظامِ عدل اسلامی ہے اور اسلامی تقاضوں پر پورا اُترتا ہے؟ سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے ججوں کی اکثریت سیکولر، وکیلوں کی اکثریت مادّہ پرست اور ہماری عدالتوں کا مجموعی ماحول غیر اسلامی ہے۔ اس کے باوجود اگر ہم اس تلخ حقیقت کا سامنا کرنے پر تیار نہیں اور اپنے نظامِ عدل کو اسلامی کہنے پر مصر ہیں تو کسی کو سیاہ کو سفید کہنے سے کون روک سکتا ہے؟ لیکن کسی کے سیاہ کو سفید کہنے سے سیاہ سفید ہو نہیں جاتا۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم پچھلے ساٹھ سال میں اس عدالتی ماحول کے عادی ہو گئے ہیں اور سٹیٹس کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، ورنہ اگر ہم تجزیاتی یا تنقیدی نگاہ سے دیکھیں تو موجودہ عدالتی ڈھانچے کو اسلامی کہنا بہت مشل ہے۔

یہ بھی ظاہر ہے کہ اس ڈھانچے کو کوئی اس لئے غیر اسلامی نہیں کہتا کہ ججوں کو قاضی اور وکیلوں کو مفتی کیوں نہیں کہا جاتا، یا ہائی کورٹ کو دار القضاء کیوں نہیں کہا جاتا؟ اور وکیل اور جج پینٹ اور نکٹائی پہن کر عدالتوں میں کیوں آتے ہیں؟ یہ چیزیں غیر اہم ہیں۔ اصل بات وہ نقائص اور کوتاہیاں ہیں جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔

لہٰذا اگر ہم موجودہ عدالتی نظام کو بدلنا چاہتے ہیں اور اسے اسلام کے مطابق بنانا چاہتے ہیں تو ان ساری خامیوں کو دور کرنا ہو گا۔ آئین کے قابل نفاذ حصے میں یہ لکھنا ہو ا کہ قرآن و سنت سپر آئین ہیں، قانون کا بنیادی مآخذ ہیں اور آئین کا کوئی جزو قرآن و سنت کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ پارلیمنٹ اور انتظامیہ کوئی ایسا قانون نہیں بنا سکتیں جو قرآن و سنت کے خلاف ہو اور عدالتیں اس امر کی پابند ہونی چاہئیں کہ وہ فیصلے قرآن و سنت کے مطابق کریں گی۔ پھر اسمبلیوں میں قانون سازی کو اسلام کے مطابق رکھنے کے لئے ضروری اقدامات کرنا ہوں گے جیسے عام ارکان کے لئے اخلاق و کردار کی کڑی شرائط اور اسلامی شریعت و فقہ کے ماہرین کے اسمبلی میں پہنچنے کا اہتمام جس کی کئی صورتیں ممکن ہیں، لیکن تفصیل کا یہ موقع نہیں۔

قانون کی تعلیم کے ساتھ شریعت و فقہ اور عربی زبان کی تدریس کو لازمی کرنا ہو ا۔ موجودہ وکیلوں اور ججوں کی اسلامی شریعت و فقہ اور عربی زبان میں تربیت کا انتظام کرنا ہو گا۔ انصاف کی فوری فراہمی کے لئے موجودہ طریق کار کو بدلنا ہو ا۔ وکیلوں، پولیس اور جیل کے نظام میں مؤثر اصلاحات لا کر ان کا کردار بدلنا ہو گا۔

خلاصہ یہ کہ ہمارا موجودہ عدالتی نظام غیر اسلامی ہے اور جب تک صحیح نیت کے ساتھ مندرجہ بالا خطوط پر اس کی مکمل اوور ہالنگ نہ ہو، اسے اسلامی کہنا محض مذاق ہو گا۔ عدالتی نظام میں یہ تبدیلیاں کون لائے گا اور یہ کیسے آئیں گی؟ اس سوال کا جواب ہم قارئین پر چھوڑتے ہیں کہ وہ اس پر غور و تدبر فرمائیں۔ ہم نے اگر یہاں یہ بحث چھیڑ دی تو بات زیر بحث موضوع سے دور نکل جائے گی اور طویل بھی ہو جائے گی۔

1. مولانا صوفی محمد اور طالبان کا تصورِ شریعت:
اس وقت تک جو گفتگو ہوئی، اس کا حاصل یہ ہے کہ اگر مولانا صوفی محمد کے الفاظ اور اُسلوب سے صرفِ نظر کر لیا جائے تو ان کے اس موقف میں وزن ہے کہ مغربی جمہوریت مبنی بر کفر اور خلاف اسلام ہے اور پاکستان میں مروج 'اسلامی جمہوریت' اسلامی تناظر میں اپنے نتائج کے حوالے سے غیر مؤثر اور ناکام ثابت ہوئی ہے اور اسی طرح پاکستان کا عدالتی نظام صحیح اسلامی تقاضوں پر پورا نہیں اُترتا۔ لیکن ان معاملات کی تفصیل میں جایا جائے اور نفاذِ شریعت کے حوالے سے مولانا صوفی محمد اور طالبان کی دوسری پالیسیوں کا تجزیہ کیا جائے تو یہ کہے بغیر چارہ نہیں کہ ان کا موقف دین کی مین اسٹریم اور جمہور علماء کے متفقہ فیصلے اور اُمت کے مجموعی تعامل کے خلاف ہے خصوصاً تین معاملات میں:

1. امر بالمعروف و نہی عن المنکر میں قوت کے استعمال کے حوالے سے:
جمہور علماء کا موقف صدیوں سے یہ ہے کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کام پر امن طریقے سے ہونا چاہئے اور طاقت استعمال کرنے کی اجازت صرف وہاں ہے جہاں کسی کے پاس اختیار ہو، اور جتنا اختیار ہو اتنی ہی طاقت استعمال کرنی چاہئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر حکومت اپنی یہ ذمہ داری پوری نہ کرے تو عامة المسلمین اور دینی جماعتوں اور اداروں کو حکومت کو توجہ دلانی چاہئے کہ وہ اپنے اس اہم دینی فریضے سے غفلت کا ارتکاب نہ کرے، اور جہاں تک یہ ہو سکے، پر امن طریقے سے یہ خام خود بھی کرنا چاہئے، لیکن کسی گروہ کو حکومت کی طرح یہ اختیار بہر حال نہیں ہے کہ وہ قوت و طاقت سے یہ فریضہ انجام دینے لگے جیسے امر بالمعروف میں نفاذِ حدود یا نہی عن المنکر میں اسدادِ عریانی و فحاشی وغیرہ، کیونکہ جمہور علماء کی رائے یہ ہے کہ ان کاموں کے لئے حکومتی اختیار ضروری ہے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر اسی صورت میں کئے جا سکتے ہیں جب کہ اس سے بڑا شر پیدا ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔

2. غیر صالح مسلم حکمران کے خلاف خروج کے حوالے سے:
سیدنا حسین بن علیؓ اور سیدنا عبد اللہ بن زبیرؓ جیسے عظیم، متقی، پر عزم، شجاع، بارسوخ اور قرابت دارانِ رسول ﷺ کی جدوجہد، شہادت اور قربانی کے باوجود نظامِ سلطنت میں تبدیلی نہ آنے سے اُمت (خصوصاً اہل سنت) میں یہ رویہ اہمیت اختیار کر گیا کہ آئندہ سیاسی نظام کو قوت سے بدلنے کی بجائے پر امن طور پر تبدیل کرنے کا راستہ اپنایا جائے اور اسی پر پچھلے ساڑھے تیرہ سو سال سے اُمت کا عمل ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ غیر صالح مسلم کمران کو قوت سے بدلنے کا لازمی نتیجہ تخت یا تختہ کی صورت میں نکلتا ہے۔ نکلنے والے سمجھتے ہیں کہ وہ 'شرعی جہاد' کے لئے نکلے ہیں جب کہ یہ حکمان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ قانونی طور پر قائم مسلم حکومت کے خلاف 'بغاوت' فرو کر رہے ہیں لہٰذا وہ پوری قوت سے اُنہیں کچلنے اور امن و امان بحال کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ چنانچہ یہ 'خروج' کامیاب ہو جائے تو 'اسلامی انقلاب' اور ناکام ہو جائے تو 'بغاوت' بن جتا ہے۔ دونوں صورتوں میں مسلمانوں میں باہم قتل و غٓرت ہوتی ہے، معاشرے میں بد امنی پھیلتی ہے، زندگی کی ساری سرگرمیاں تلپٹ ہوتی ہیں اور اس انتشار و اضطراب سے اُمت کا نقصان ہوتا ہے۔

اسی اُصول پر امت کا ماضی میں عمل رہا ہے اور ا بھی ہے۔ پاکستان میں 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ چونکہ اہل سنت رہتے ہیں جن کے علماء کا یہی موقف ہے لہٰذٓ مولانا صوفی محمد، طالبان اور قبائلی علاقوں کے دوسرے مسلح گروہوں کا موقف جمہور اُمت کے خلاف ہے۔ جس کی زندہ مثال لال مسجد اور جامعہ حفصہ کا معاملہ ہے کہ وفاق المدارس کے جید علماء اور اس کی مرکزی قیادت کا فیصلہ یہی تھا کہ اُنہوں نے مولانا عبدبرادران سے کہا تھا کہ آپ کے مقاصد اور اہداف صحیح ہیں، لیکن آپ کا طریق کار صحیح نہیں ہے۔

اور خصوصاً آج کل کے سیاسی در میں جب ہر ملک کا آئین پر امن تبدیلی کا راستہ کھولتا ہے خواہ وہ انتخابات کی صورت میں ہو یا سول نافرمانی کی صورت میں، بشرطیکہ عامة المسلمین کی حمایت آپ کو حاصل ہو۔ اس وجہ سے آج کل جمہور علما پر امن تبدیلی ہی کی حمایت کرتے ہیں خواہ مسلم حکمران کتنے ہی غیر صالح اور غیر مقبول کیوں نہ ہوں، چنانچہ مشرف جیسے سیکولر، ظالم اور جابر ڈکٹیٹر کے خلاف بھی جس نے پاکستان کو امریکہ کے ہاتھوں تقریباً بیچ ہی دیا اور وہ بھی صرف اپنے اقتدار کی قیمت پر، جمہور علما نے کبھی اس کے خلاف اُمت کو ہتھیار اُٹھانے کی اجازت کا فتویٰ نہیں دیا اور وہ اب بھی حکومت پاکستان اور اس کی فوج کے خلاف طالبان اور دیگر گروہوں کی جدوجہد کو 'شرعی جہاد' قرار نہیں دیتے۔

3. نفاذِ شریعت کی حکمتِ عملی اور ترجیحات کے حوالے سے:
بلاشبہ مسلم حکمرانوں پر فرض ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں شریعت نافذ کریں، لیکن نفاذِ شریعت کی حکمت عملی کیا ہونی چاہئے اور اس کی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟ اس حوالے سے بھی مولانا صوفی محمد اور طالبان کا موقف جمہور علما کے خلاف ہے۔ جمہور علماء کے نزدیک نفاذِ شریعت کا کام ذہن سازی کے بعد، تدریج کے ساتھ عصری تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے کرنا چاہئے جب کہ مولانا صوفی محمد اور طالبان کا اُسلوب یہ ہے کہ وہ اس نازک اور حساس کام کو الل ٹپ طریقے سے اور غلط ترجیحات کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔

دین کی کس کتاب میں یہ لکھا ہے کہ نفاذِ شریعت کا آغاز نفاذ حدود اور کوڑے مارنے سے کرنا چاہئے؟ مولانا شرف علی تھانوی نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ اگر مجھے حکومت مل جائے تو پہل دس سال تطہیر افکار اور اصلاحِ قلوب و عقول کا کام کروں ا۔

اسی طرح مولانا مودودی نے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد لکھا تھا کہ افراد کی تربیت اور ماحول کی تبدیلی کے بغیر موجودہ حالات میں نفاذِ حدود مناسب نہیں۔

اور نفاذِ شریعت کی یہ کون سی ترجیح ہے کہ اس کی ابتدا کالی پگڑی پہننے کے وجوب سے کی جائے یا حجاموں کی دکانیں، بچیوں کے سکول اور سی ڈی کی دکانیں جلانے سے کی جائے؟ نفاذِ دین کی ترجیحات کی صحیح بنیاد یہ ہے کہ پہلے تطہیر افکار اور اصلاحِ قلوب و عقول کے لئے سنجیدہ محنت کی جائے، لوگوں کی دینی تعلیم و تربیت کی جائے اور ابتدا ترغیب سے ہو نہ کہ ترہیب سے، سدِ ذریعہ کے طور پر پہلے برائی کے رستے بند کئے جائیں، لوگوں کی ضروریات پوری کی جائیں، دین پر عمل کو لوگوں کے لئے پر کشش بنایا جائے، معاشرے میں باہم اخوت و محبت پیدا کی جائے تاکہ وہ دینی احکام پر عمل کرنے اور خیر کے راستے پر چلنے میں ایک دوسرے کا دست و بازو بنیں، ان سب مراحل کے بعد کہیں ترہیب اور سزا کا سوچا جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر حکمران نفاذِ شریعت میں سنجیدہ اور مخلص ہوں تو مولانا صوفی محمد اور پاکستانی طالبان کے تصورِ شریعت کے معاملے سے نمٹا جا سکتا ہے اور اس کی آسان صورت یہ ہے کہ تحریکِ نفاذِ شریعت محمدی اور پاکستانی طالبان کے رہنماؤں سمیت پاکستان کے سارے مسالک کے اہم اور معتدل مزاج علماء کا ایک 'شریعت بورڈ' بنا دیا جائے جو پاکستان میں نفاذِ شریعت کی حکمتِ عملی اور ترجیحات کا تعین کرے اور اس کی متفقہ سفارشات پر عمل کر لیا جائے تو یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ کیونکہ مولانا صوفی محمد اور طالبان بیک وقت حکومت اور سارے علماء سے لڑائی مول لینا نہیں چاہیں گے اور اگر بفرضِ محال وہ من مانی پر اُتر بھی آئیں تو عوام کی حمایت سے محروم ہو جائیں گے۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ ہمارے حکمران عموماً اور صوبے اور مرکز میں اس وقت موجود حکمران خصوصاً (اے این پی اور پی پی پی) نفاذِ اسلام کے حوالے سے مخلص ہیں ہی نہیں۔ یہ تو مجبوری اور صوفی محمد اور طالبان کے دباؤ میں ان کے کم سے کم مطالبات ماننا چاہتے ہیں بلکہ وعدہ کر کے ان سے بھی حیلے بہانے مکر جانا چاہتے ہیں۔

دوسری طرف یہ بھی ایک تلخ، لیکن ناقابل انکار حقیقت ہے کہ قبائلی علاقوں میں نفاذِ شریعت کی علمبردار مجاہدین کی بعض تنظیمیں بھی اس کام کے لئے مخلص نہیں، کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اپنے گھس بیٹھئے اور مداخلت کار داخل کر دیئے ہیں اور ان کو اُنہوں نے مجاہدین کی تنظیموں میں بھی داخل کر دیا ہے اور بعض کو ڈالروں سے خرید لیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کے ان قبائلی علاقوں میں مجاہدین اور طالبان کے بعض غیر مخلص لوگ اور گروہ حکومتِ پاکستان اور اس کے اداروں کو زک پہنچانا چاہتے ہیں اور امن قائم ہونے دینا یا اسلام کا نفاذ ان کا دردِ سر ہی نہیں۔ ان کی ڈوریاں تو کہیں اور سے ہلائی جا رہی ہیں اور ہلانے والوں کے مقاصد یہ ہیں کہ عالم اسلام کے اس عظیم ایٹمی ملک کو سیاسی اور معاشی عدمِ استحکام اور فکری انتشار کا شکار کر دیا جائے، اسے ایٹمی قوت نہ رہنے دیا جائے اور اسے بھارت کا غلام بنا دیا جائے۔۔۔۔۔ اللہ ہمیں ان کی مکروہ سازشوں سے بچائے، پاکستان کی حفاظت فرمائے اور ہمارے حکمرانوں کو اپنے ذاتی مفادات کے چنگل سے نکل کر ملک و ملت کے مفاد میں فیصلے کرنے کی توفیق طا فرمائے۔ آمین!

4. سوات اور طالبانائزیشن؛ حل کیا ہے:
یہ موقف اختیار کرنے کے بعد کہ مولانا صوفی محمد اور طالبان کی یہ رائے صحیح ہے کہ مغربی جمہوریت کفر ہے، پاکستان کی 'اسلامی جمہوریت' غیر مؤثر اور ناکام ثابت ہو چکی ہے اور پاکستان کا نظامِ عدل اسلامی تقاضے پورے نہیں کرتا۔ لیکن دوسری طرف امر بالمعروف و نہی عن المنکر میں قوت کے استعمال، غیر صال مسلم حکمران کے خلاف جہاد کرنے اور نفاذِ شریعت کے طریق کار اور اس کی حکمتِ عملی اور ترجیحات کے تعین کے حوالے سے مولانا صوفی محمد اور طالبان کی پالیسیاں جمہور علماء اور جمہور مسلمانوں کی متفقہ رائے کے خلاف ہیں جنہیں وہ بزورِ باز و نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس صورتِ حال کا حل کیا ہو؟ صحیح فیصلے پر پہنچنے کے لئے ہمیں حالات کے تمام پہلو ایک نظر میں سامنے رکھنا ہوں گے، چنانچہ ہماری طالب علمانہ رائے میں اس وقت منظر نامہ یہ ہے کہ:
یہودیوں کے ساتھ مل کر امریکہ پچھلی ڈیڑھ دہائی سے یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ عالم اسلام کی ابھرتی ہوئی طاقتوں کو نہ صرف پر امن سازشوں کے ذریع بلکہ قوت سے بھی ملیا میٹ کر دینا ہے تاکہ اسلام کی نشاةِ ثانیہ کا راستہ روکا جا سکے۔ اور یہ کوئی نئی بات نہیں، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں تو وہ پہلے دن سے کر رہے ہیں اور ان کی اسلام اور مسلم دشمنی کا گواہ خود قرآن کریم، نبی کریم ﷺ کی صحیح احادیث اور اُمت کی پوری تاریخ ہے۔ صلیبی جنگوں، عالم اسلام پر حملہ کر کے اسے غلام بنانے، ان کے اجتماعی ادارے تباہ کر کے اور ان کی مغربی فکر و تہذیب کے مطابق تجدید کر کے مسلمانوں کے دل و دماغ فتح کرنے اور اُنہیں اپنی فکر و تہذیب کا رسیا بنانے، پھر مجبوراً مسلم ملکوں کو تھوڑی بہت آزادی دے کر مسلم حکمرانوں کا اپنا کاسہ لیس بنانے، اُنہیں مسلم عوام سے لڑانے اور اُنہیں سیاسی، معاشی، سماجی طور پر کمزور اور غیر مستحکم کرنے کی سازشوں کے تسلسل میں جب اُنہوں نے دیکھا کہ ان کی ساری رکاوٹوں اور سازشوں کے باوجود کچھ مسلمان ملک بیدار ہو گئے ہیں اور مضبوط ہو گئے ہیں تو اُنہوں نے قوت استعمال کرنے اور اُبھرتے ہوئے مسلم ممالک کو تباہ و برباد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ پہلی باری عراق کی تھی، دوسرا ہدف افغانستان بنا اور اب تیسری باری پاکستان کی ہے۔

یہاں امریکہ پہلے فوج کو بر سر اقتدار لایا پھر حکمران آرمی جنرل کو جیب میں ڈال کر افغانستان کا تورا بورا بنایا، پھر جب وہ انتہائی غیر مقبول ہو کر کام کا نہ رہا تو ایک 'جمہوری حکومت'کو آگے لانے کے لئے سیکولر پی پی پی اور آمر میں سمجھوتہ (NRO) کروایا اور اب پی پی پی کی حکومت امریکہ آلہ کار کے طور پر کام کر رہی ہے اور فوج بھی امریکہ اور حکومت کا ساتھ دے رہی ہے۔ گویا اگر یہی حالات جاری رہتے ہیں تو پاکستان کی سالمیت شدید خطرے میں ہے اور پاکستان کے موجودہ سیاسی اور فوجی حکمران خود اس کے وجود کے لئے سیکورٹی رسک بن چکے ہیں، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت سے کوئی راستہ نکالیں۔

پاکستان کو کمزور کرنے، توڑنے اور اس کی ایٹمی صلاحیت ختم کرنے کے لئے یہ بھی امریکہ حکمتِ عملی کا حصہ ہے کہ نیٹو فورسز کے دباؤ کے ساتھ ساتھ اس نے نہ صرف پاکستان کے اندر اپنے ڈرون طیاروں سے حملے شروع کر رکھے ہیں بلکہ امریکی سی آئی اے، بھارتی را، اسرائیلی موساد اور افغان خاد نے مل کر پاکستان کے قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں مداخلت کار بھجوا دیئے ہیں جو پاکستان اور پاکستانی فوج کے خلاف گوریلا جنگ لڑ رہے ہیں اور اس کے شہروں اور سیکورٹی فورسز کے خلاف خود کش حملے کر رہے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ اُنہوں نے بڑی محنت و کوشش سے پاکستان خصوصاً اس کے قبائلی علاقے میں مخابرات اور جاسوسی کا منظم نیٹ ورک قائم کر لیا ہے اور طالبان اور دیگر مسلح تنظیموں میں اپنے افراد داخل کر دیئے ہیں اور ان میں سے بعض کی قیادتوں کو ڈالروں سے فتح کر لیا ہے اور وہ اُنہیں پاکستان اور اس کی فوج کے خلاف لڑا رہے ہیں۔

پاکستان کے سیاسی حکمران اور اس کی فوج یہ سب کچھ جانتے ہیں، لیکن اپنے اقتدار کے لئے اور حبِ جاہ و مال کے لئے امریکی غلامی قبول کئے ہوئے ہیں اور بے حمیتی سے یہ سب کچھ برداشت کر رہے ہیں۔ اس صورتِ حال سے نکلنے کے لئے جب وہ ہاتھ پاؤں مارتے ہیں تو اس وقت ان کو ایک راستہ یہ نظر آتا ہے کہ قبائلی علاقوں میں جو مسلح تنظیمیں پاکستان اور اسلام سے مخلص ہیں، وہ ان کو اپنے ساتھ ملائیں تاکہ مداخلت کاروں کا راستہ روکا جا سکے۔ جب حکومت قبائلی علاقوں میں اس طرح کا کوئی معاہدہ کرتی ہے تو نہ صرف امریکہ اور اس کے اتحادی اس کی مخالفت کرتے ہیں بلکہ پاکستان میں اس کے تنخواہ یافتہ اور لے پالک آسمان سر پر اُٹھا لیتے ہیں۔ ان میں الیکٹرانک میڈیا کے بعض ٹی وی چینل، پرنٹ میڈیا کے بعض اخبارات، حکومت کے اندر بیٹھے ہوئے بعض اہم وزراء، مخصوص مفادات کے حامل بعض سیاسی گروہ، کئی مذہبی سکالر، بعض دانشور، ادیب اور صحافی، این جی اوز اور حقوقِ انسانی کی بعض تنظیمیں شامل ہیں۔ گویا یہ بھی ایک خاصا بڑا نیٹ ورک ہے جو امریکی سی آئی اے پاکستان میں چلا رہی ہے۔ ہم نے فتنے سے بچنے کے لئے کسی کا نام نہیں لیا، لیکن واقفانِ حال تو انہیں جانتے ہیں۔ اور ہمارا ذاتی خیال یہ ہے کہ عام لوگ بھی ان کو اب آہستہ آہستہ پہچاننے لگے ہیں اور وہ وقت ان شاء اللہ دور نہیں جب کافروں کے یہ دریوزہ گر اور ان کے حمایتی پوری طرح بے نقاب ہو کر عوامی نفرت اور غضب کا شکار ہو جائیں گے۔

اس مضمون کے تیسرے حصے میں ہم نے مولانا صوفی محمد اور طالبان کے جس تصورِ شریعت کا ذکر کیا ہے، اس سے ظاہر ہے کہ ان کا نقطہ نظر ان معاملات میں واقعی انتہا پسندانہ، جمہور علما کی رائے کے خلاف اور پاکستانیوں کی اکثریت کے لئے ناقابل قبول ہے۔ لیکن ہم یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ طالبان اتنے طاقتور ہیں کہ وہ پاکستانی فوج کو شکست دے کر اسلام آباد یا کراچی پر قبضہ کر سکتے ہیں، لیکن اس کا امکان خدانخواستہ اس لئے نظر آتا ہے کہ امریکہ، بھارت، اسرائیل اور افغانستان چاہتے ہیں کہ ایسا ہو اور اس کے لئے وہ طالبان کو اسلحہ بھی دیں گے، پیسہ بھی دیں گے، نفری بھی دیں گے بلکہ بالواسطہ طریقے سے غالباً اب بھی وہ یہ سب کچھ اُنہیں دے رہے ہیں۔

اگر خدانخواستہ ایسا ہوتا ہے تو وہ ایک تیر سے کئی شکار کریں گے۔ نفاذِ شریعت کو بدنام کریں گے تاکہ وہ دنیا میں قابل قبول نہ رہ سکے۔ پاکستانی فوج اور حکومت کو طالبان سے لڑا کر دونوں کو کمزور کریں گے۔ عام پاکستانیوں کے دل میں مجاہدین سے نفرت کو کامیابی سے اُبھار سکیں گے اور یہ تو ان کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے کہ وہ ممبئی جیسا ایک اور جعلی واقعہ بھارت میں کر کے بھارتی افواج کو پاکستان کی مشرقی سرحد پر لے آئیں گے۔ یوں پاکستان اور پاکستانی فوج مشرق، شمال اور مغرب تینوں طرف سے گھیرے میں لے لی جائے گی اور خاکم بدہن امریکہ، اسرائیل اور بھارت اسے توڑنے اور اس کی ایٹمی صلاحیت ختم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

ہمارے اس تجریے کی رو سے پاکستان میں طالبانائزیشن کے غلبے کا حقیقی خطرہ موجود ہے۔ لیکن کیا اس صورتِ حال کا کوئی حل نہیں؟ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم ابھی تک دیوار سے نہیں لگے اور اگر مندرجہ ذیل تین نکاتی حکمتِ عملی اختیار کی جائے تو یہ مسئلہ ان شاء اللہ حل ہو جائے گا اور پاکستان اور پاکستانی قوم مزید طاقتور ہو کر اُبھرے گی، ان شاء اللہ!

1. امریکی غلامی کا خاتمہ:
حکومت فوج، پارلیمنٹ، ساری سیاسی جماعتوں، صوبوں اور عوام کے تعاون سے فوری طور پر دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ سے باہر نکل آئے۔ امریکیوں اور نیٹو سے ساری سہولتیں واپس لے۔ قبائلی علاقوں پر ڈرون حملوں اور مداخلت کاروں کو پاکستان کی سالمیت کے خلاف دشمنی قرار دے کر اُنہیں قوت سے روک دے اور ان کا مقابلہ کرے۔ یہ صرف ذہنی غلامی، مرعوبیت او خلاقی کمزوری ہے کہ حکومت یہ نہیں کر پا رہی، ورنہ اگر حکومت یہ فیصلہ کرے تو عوام اس کا بھرپور ساتھ دیں گے اور بھوکے رہ کر بھی لڑیں گے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ، نیٹو اور بھارت سے جنگ کی نوبت نہیں آئے گی، صرف بہادری سے امریکی غلامی کا جوا گردن سے اُتارنے کا فیصلہ کرنا ہو گا۔ ایران نے امریکہ کی ڈکٹیشن قبول کرنے سے انکار کر دیا تو امریکہ نے ایران کا کیا بگاڑ لیا؟ پاکستان کا بھی وہ کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ یہ صرف اعصاب کی جنگ ہوتی ہے جو ہم ہمت کریں تو جیت سکتے ہیں۔ اگر حکومتِ پاکستان یہ فیصلہ کر لے تو مخلص طالبان اور دیگر مسلح گروپ یقیناً اس کا ساتھ دیں گے، سوائے بِکے ہوئے کچھ لوگوں کے، جن سے نمٹا جا سکتا ہے۔

2. پاکستان میں صدقِ دل سے نفاذِ اسلام:
طالبانائزیشن کے روکنے کی دوسری تیر بہدف تدبیر یہ ہے کہ نہ صرف قبائلی علاقوں بلکہ پاکستان میں خلوص، صدقِ دل اور انتہائی سنجیدگی سے شریعت نافذ کر دی جائے۔ اس کے لئے ہم اوپر تجویز پیش کر چکے ہیں کہ سارے دینی مسالک کے معتمد اور معتدل علما پر مشتمل ایک 'شریعہ بورڈ' بنا دیا جائے جو نفاذِ شریعت کی حکمتِ عملی اور ترجیحات کا تعین کرے۔ اس بورڈ کی متفقہ سفارشات کو ان شاء اللہ ساری پاکستانی قوم تسلیم کرے گی۔ سارے مسالک کے علماء پر مشتمل اس طرح کا ایک پلیٹ فارم 'ملی مجلس شرعی' کے نام سے پہلے سے لاہور میں کام کر رہا ہے، اس کو بھی توسیع دی جا سکتی ہے۔

ہم تسلیم کرتے ہیں کہ امریکہ اور مغرب پاکستان میں نفاذ اسلام کا یہ کام نہیں ہونے دے گا اور ہمارے حکمران بھی ساٹھ سال کی برائے نام اور کمزور 'اسلامی جمہوریت' کے جس ڈھکوسلے سے دل بہلا رہے ہیں اور دینی قائدین بھی سیاسی قیادت کے مزے لوٹ رہے ہیں اور عملاً سیکولر ہو چکے ہیں، ان کے لئے بھی شریعت کا حقیقی نفاذ ہضم کرنا مشکل ہے، لیکن یہ 'کر لو یا موت کو قبول کرو' Do or Die والا مسئلہ ہے۔ اس میں آپشن کوئی نہیں۔ یا سچے دل سے پاکستان میں اسلام نافذ کیجئے یا پھر طالبان کا اقتدار اور وحشی اسلام قبول کرنا پڑے گا یا پھر امریکی اور بھارتی غلامی میں ایک غیر ایٹمی مریل سا پاکستان قبول کر لیجئے جس میں خانہ جنگی ہو رہی ہو گی اور وہ جلد یا بدیر بھارت میں ضم ہو جائے گا (خاکم بہ دہن) اور یہی امریکہ اور بھارت چاہتے ہیں۔

3. پاکستان کے دین پسند شہریوں کا لانگ مارچ:
تیسری اور آخری تدبیر طالبانائزیشن سے بچنے کی یہ ہو سکتی ہے کہ اگر حکومت پاکستان ٹس سے مس نہ ہو اور موجودہ سٹیٹس کو برقرار رکھنے پر مصر رہے (جس کا لازمی نتیجہ پاکستان کی تباہی ہو گا) تو پھر آخری حل یہ ہے کہ اس ملک کے مخلص دینی عناصر متحد ہو کر سڑکوں پر آجائیں اور لانگ مارچ اور دھرنے کے ذریعے حکومت کو بدل دیں یا حکومت کو مذکورہ بالا کردار انجام دینے پر مجبور کر دیں۔ اس کے لئے دین اور پاکستان کا درد رکھنے والے سارے افراد، گروہوں، تحریکوں، اداروں، مذہبی اور سیاسی جماعتوں، دینی مدرسوں، کالجوں یونیورسٹیوں کے طلبہ، سول سوسائٹی کے پروفیشنلز (ڈاکٹرز، پروفیسرز، انجینئرز، وکلاء، صحافی، ادیب، دانشور۔۔۔۔) غرض دین کا درد رکھنے والا ہر پاکستانی اور اس کے اسلامی تشخص کو بچانے کی خواہش رکھنے والا ہر فرد اور ہر ادارہ اس کے لئے نکل کھڑا ہو۔

یہ سیل بے پناہ جب سڑکوں پر نکل آئے گا تو کوئی اس کا راستہ نہیں روک سکے گا۔ ہم ایوب خان اور بھٹو کے خلاف تحریکوں اور حال ہی میں نواز شریف کے لانگ مارچ کی صورت میں اس کے تین کامیاب تجربے دیکھ چکے ہیں۔

اور اگر ہم یہ بھی نہیں کریں گے توچوتھا کوئی آپشن نہیں۔ پھر آسمان والے ہم پر روئیں گے اور زمین والے ہم پر نوحے پڑھیں گے، کیونکہ اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ جو قوم خود کو نہیں بدلتی خدا بھی اس کے حالات نہیں بدلتا اور پھر تباہی اس کا مقدر ہوتی ہے۔ لیکن ہم اپنی قوم سے مایوس نہیں ہیں، اس کی مٹی میں ابھی کچھ نم باقی ہے اور اگر کسان کھرپی لے کر آ گیا تو پھر ایک فصل اُگے گی، تروتازہ جو تنومند ہو گی، بہترین پھل لائے گی، مؤمنوں کے دل اس سے ٹھنڈے ہوں گے اور کفار کے دل اس سے جلیں گے۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز (اور یہ اللہ کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں ہے) بشرطیکہ ہم میں سے ہر فرد اپنے حصے کا کام کرنے کے لئے اُٹھ کھڑا ہو۔