پرویز جب مشرف بہ حکم رانی ہوا کہ فضا سے زندہ اترا تھا تو بالکل حق کے اُس ضیاء کے برعکس جو فضا میں راہیٔ ملک بقا ہوا تھا، پاکستان کو روشن خیال بنانے کے لیے ہم پیالہ و نوالہ و خیالوں کواکٹھا کیا تو انہوں نے بے حیاؤں کی دوڑیں لگوا دیں یہ کہہ کر حیا والے آنکھیں اور گھروں کے در بند کرلیں یا بے حیاؤں کے ساتھ مل کر حکم رانوں کو راضی کرلیں ۔ چاہے عرش عظیم کا رب مالک الملک ناراض ہوجائے۔     ؎

 

بے حیا باش ہرچہ خواہی کن

 


بسنت منا کر پالا اُڑنت ہوا یا نہ، حیا اُڑنت ہوگئی۔ گڈے اور گڈیاں اڑانے کے ساتھ ساتھ بھنگڑے ڈالنا، آوازے کسنا، فحش ریکارڈنگ، چھتوں پر زندہ گڑیوں کا برہنہ پن، اسلحہ کی نمائش اور فائرنگ،شراب کی محفلیں ، شوروغوغا اور نازیبا حرکات کرکے کفار اور شیاطین کو خوش کیا گیا۔ دو سال کے بعد آج پنجاب کے مسلمان گورنر (جس کا نام مدینہ کے گورنر سلمان فارسیؓ کے نام سے ملتا ہے، جسے سیدنا محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بیت سے قرار دیا تھا) کے نام کی تاثیر بھی بسنت سے مشرف ہوگئی۔محض اس لیے کہ عدلیہ کی بحالی سے ظلم کی تاریکی کے خاتمے کو برداشت کرنا ناممکن لگتا تھا۔روشن خیال پاکستان تو جشن بہاراں سے مرصع ہوتاہے، چاہے سینکڑوں معصوم بچوں کے لاشے تڑپیں ، معصوم بچوں کے باپوں کی گردنیں کٹ جائیں اور سینکڑوں سہاگ اجڑیں ، بچے یتیم ہوں ، ان کے خون کی سرخی سے ان کے چہرے روشن ہوں گے یا خیال؟ کیا حال ہوگا جب بدحال پاکستان کے یہ لاشے قیامت کے دن اللہ کے دربار میں کہہ رہے ہوں گے کہ ’’کس گناہ بے لذت کی پاداش میں تم نے ہمیں مارا اور مروایا؟‘‘ کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے بجائے بسنت کی پتنگوں اور اڑانے والے پتنگوں کے جھنڈے میں سیاہ رُو محروم شفاعت نہ ہوں گے؟

سیدہ فاطمہؓ اور ان کے عظیم بابا شافع روزِ جزا، شفیع المذنبین یہ نہیں پوچھیں گے کہ تم نے ہمیں گالیاں دینے والے بدبخت کی یاد میں بسنت مناکر کون سے روشن خیال اور خوش حال پاکستان کو وجود بخشا؟جو تمہارے کرتوتوں کی وجہ سے بدحالی اور عدلیہ کی بحالی کے بغیر ظلم کی تاریکیوں کا گڑھ بن رہا تھا۔

وہ بھی اسی پنجاب کا گورنر تھا۔ نام زکریا خان تھا، لیکن وہ قانون پابند اور اسلام پابند تھا۔ صرف زبانی کلامی قانون پسند اور اسلام پسند نہ تھا۔ 1709ء کی بات ہے کہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ کے ایک ہندو حقیقت رائے بھاگ دونی کے خبث ِباطن کا اظہار رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے کے لیے پمفلٹ شائع کیا۔ مسلمانوں کا ایمان زندہ تھا، حیا زندہ تھی۔ ان کے احتجاج (دھرنے)پر مجرم پنجاب کی عدالت عالیہ کے سپرد کردیاگیا۔ اس زمانے میں NROکا وجود نہ تھا، نہ انصار برنی جیسا وکیل وزیر تھا۔ زکریا خان گورنر نے بے لاگ عدل کے لیے 3 ہندو، 3 مسلمان اور 2 سکھ جج مقرر کئے۔ 8 ججوں کے سامنے اس خبیث بدبخت شاتم ِ رسول کے دفاع کے لیے ہندو اور انگریز وکیلوں نے ٹِل لگایا مگر ٹُل نہ لگ سکا اور عدالت نے اس کے لیے پھانسی کا ٹَل کھڑکا دیا۔ رحم کی اپیل مسترد ہوئی اور وہ تختہ دار پر لٹک گیا۔

ہندوؤں نے جلوس نکال کر عدالت عالیہ کے ججوں اور کارندوں کے علاوہ حقیقت رائے کے سیالکوٹ کے محلے دار مسلمانوں اور وکیلوں کو موت کے گھاٹ اتار کر اپنی جہنم پکی کرلی۔ حقیقت رائے کی بیوی بلونتی سکھنی تھی، وہ بھی سکھ ہوگیا۔ لہٰذا ہندوؤں کے علاوہ سکھوں کا ہیرو بن گیا۔ اسے کوٹ خواجہ سعید لاہور میں دبا دیا گیا۔ اسے ’’بابے دی مڑھی‘‘ کا نام دیا گیا۔ تین دن یہاں زرد کپڑے پہن کر زردپتنگیں اڑا کر راجہ رنجیت سنگھ ، درباریوں اور عوام الناس کے ساتھ بسنت منایا کرتا تھا۔ لاہور میں چاندی کے سکوں کی برسات ہوا کرتی تھی۔ ان کا ہیرو تو تھا لیکن مسلمانوں نے جہالت سے بابے کی مڑھی پر چڑھاوے چڑھانے کے ساتھ ساتھ بسنت مناکر ان سے بھی زیادہ جان مال عزت و آبرو، ایمان اور پاکستان کی بربادی کا سامان کیا ہے، کیونکہ دین اسلام کی غیرت کا چراغ گل ہوجائے تو کفر بغیر ہتھیار فاتح ہوجاتا ہے۔

حکیم الامت علامہ اقبال کا یہ سوال بجا ہے:

کون ہے تارک آئین رسول مختارؐ
مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار
کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعارِ اغیار
ہوگئی کس کی نگاہ طرزِ سلف سے بیزار

قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغام محمدﷺ کا تمہیں پاس نہیں


اس کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ:


پھر مفلسوں نے رکھ دیئے ان کے سروں پہ تاج
جن رہبروں کا ان سے کوئی واسطہ نہیں
اے زمین! دوزخ کدہ ہے تو غریبوں کے لئے
خون سے تو رہبروں کو پالتی ہے کس کے لئے؟

 


آج کے حاکم اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو میدان محشر میں کیا جواب دیں گے؟

بسنت گزرگئی، لیکن محبتوں کے شہد میں یہ زہرملا کرکیا ملا؟ ہنستی اور کھیلتی آنکھوں کورُلانے سے آپ کو کتنی خوشی ملی؟ اگر رونا مستقل ہے تو رُلانا کیا لازم ٹھہرا۔ رُلنا، رُلانا، رولنا کبھی اپنے دل کو پھرولنا، یہ تیری خوشی کیسی ہے؟ یہ خوشی ہے یا سفاکی۔ آنکھوں کے خواب اور ہاتھوں کے گلاب والے معصوم بچوں کی معصوم خواہشوں کو مٹی میں ملایا۔ خاک و خون کا کھیل رچا کر قیصر و کسریٰ سے نسبتیں قائم کرکے سوچا کہ تو نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ اگر تو یقین کی منزل سے دور تھا تو ان کا کیاقصور تھا، جن کی یقین کی منزل کو تو نے ہلاکے رکھ دیا۔ اسی پاک سرزمین پر پلا بڑھا، چلا پھرا اور اسی سرزمین کو خون سے نہلا کر ایسا صلہ کیا دیا؟ کیوں دیا؟
بتانا! کیوں دیا یہ صلہ !

اگر قرآن وسنتکے نورسے حاکمیت کو منور کرکے لوگوں کے دلوں اور گھروں کے اندھیرے دور نہیں کرنا چاہتے تو قدیم چین کے اس بادشاہ کو پیش نظر رکھو جس نے دانش اور کنفیوشش کے پاس خود جاکر کامیابی کے لیے گُر پوچھے۔ تو اس نے تین امور پر توجہ دینے کے لیے کہا:

  1. ملکی سرحدوں کی حفاظت
  2. خوراک کی یقینی فراہمی
  3. حکمران پر عوام کا اعتماد۔ شاہ نے ترجیح پوچھی تو سرحدوں کی حفاظت اور عوامی اعتماد بتایاگیا۔

شاہ نے پھر پوچھا: ان دونوں میں سے ایک کو ترجیح دینی پڑے تو کنفیوشس نے کہا اپنے اور عوام کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچانا۔ اسی سے وہ سرحدوں کی حفاظت میں حاکم کے ساتھ ہوں گے، چاہے انہیں بھوکا رہنا پڑے۔ اس نے کہا یاد رکھو عدم اعتماد ہوا تو مضبوط ترین فوجی طاقت اور اقتصادی خوش حالی بھی حکومت کو نہیں بچا سکتی اور نہ تاریخ میں نیک نامی ہوگی، کیونکہ جغرافیہ ہی ملک کا بدل جاتا ہے۔ ہمارے وطن عزیز کا 71ء کا سانحہ مشرق پاکستان عدم اعتماد کا ہی شاخسانہ تھا۔اللہ تعالی سوچنے سمجھنے کی توفیق دے!