میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

عن أم الفضل قالت:رأیت کأن في بیتي عضوًا من أعضاء رسول اﷲ ﷺ قالت:فجزعت من ذلك فأتیت رسول اﷲ ﷺ فذکرتُ ذلك له فقال: (خیرًا،تلد فاطمة غلامًا فتکفلینه بلبن ابنك قثم) قالت: فولدت حسنًا فأعطیته فأرضعته حتی تحرك أو فطمته،ثم جئت به إلی رسول اﷲ ﷺ فأجلسته في حجرہ فبال،فضربت بین کتفیه،فقال:(ارفقي بابني رحمك اﷲ أو أصلحك اﷲ أوجعتِ ابني؟) قالت: قلتُ یارسول اﷲ ﷺ! اخلع إزارك والبس ثوبًا غیرہ حتی أغسله،قال:(إنما یغسل بول الجاریة وینضح بول الغلام) 1
''میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعضاے شریفہ میں سے ایک عضو ہے۔ میں اس سے پریشان ہوئی اور رسول اللہ کے پاس حاضر ہوئی اور آپ سے اس واقعہ کا تذکرہ کیا تو آپ ؐنے فرمایا: اچھی بات ہے، فاطمہ ایک لڑکا جنے گی تو تم اپنے بیٹے قثم کے دودھ کے ذریعے اس کی کفالت کرو گی۔ وہ کہتی ہیں کہ فاطمہ نے حسن کو جنم دیا اور اسے میرے سپرد کر دیا۔ میں نے اسے دودھ پلایا حتیٰ کہ وہ ہوشیار ہوگیا یا حتیٰ کہ میں نے اس کا دودھ چھڑا دیا۔ پھر مںا اسے آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا تو بچے نے پیشاب کر دیا جس پر میں نے اس کے کندھوں کے درمیان مارا۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بیٹے سے نرمی کا برتائو کرو، اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے یا تیری حالت کو درست فرما دے تو نے میرے بیٹے کو تکلیف دی ہے۔ اس نے کہا: میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! اپنی چادر اُتار کر کوئی اور کپڑا پہن لیجئے تاکہ اسے میں دھو دوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے جبکہ لڑکے کے پیشاب پر چھینٹے مارے جاتے ہیں ۔''

خواب ایک حقیقت ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب وحی ہوتا ہے اور اس کی صحیح تعبیر ایک مبارک علم ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے انبیا، پھر ان کے متبعین کو دیتا ہے۔ خواب کو عربی میں 'رؤیا' کہتے ہیں اور حدیث میں رؤیا کی نسبت اللہ کی طرف کی گئی ہے۔(2) خواب کے لئے ایک لفظ حُلُم بھی بیان کیا جاتا ہے جس کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے۔(3)رؤیا کو 'رؤیا صالحة' اور حلم کو 'رؤیا السوء' بھی کہا جاتا ہے۔(4) خوابوں کی ایک تیسری قسم بھی بتائی جاتی ہے جو پراگندہ خیالات پر مبنی ہوتے ہیں ۔ حدیث میں اس کی تعبیر 'خودکلامی' سے کی گئی ہے۔(5) برے اور ڈرائونے خواب شیطانی ہوتے ہیں ، ان کے نظر آنے پر
بائیں کندھے کی طرف نَفث یعنی تھو تھو کرنا۔
تعوذ یعنی أعوذ باﷲ من الشیطن الرجیم پڑھنا اور
پہلو بدل لینا سنت ہے۔(6)

ایسے خوابوں کو بزبانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم 'نیند میں شیطان کی تفریح' قرار دیا گیا ہے۔(7) لہٰذا ان خوابوں کا کسی دوسرے کے سامنے اظہار کرنے اور ان کی تعبیر کروانے سے منع فرمایا گیا ہے۔(8)جب کہ رؤیا صالحة کو مُبَشِّرَات (9)قرار دیا گیا اور ان کی تعبیر کروانے کو پسند کیا گیا۔ البتہ خواب ہمیشہ اپنے دوست یعنی خیرخواہ یا نیک مخلص عالم سے ہی بیان کرنا چاہئے۔(10)صحابہ کرامؓپسند کرتے تھے کہ وہ رئویا صالحہ دیکھیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعبیر کروا سکیں ۔(11)

یہ درست ہے کہ رؤیا صالحہ نبوت کا حصہ ہے لیکن کتنے فیصد؟ اس میں مختلف احادیث میں مختلف تعداد آتی ہے: چھیالیس فیصد (%46)،12پینتالیس فیصد (%45)13اور ایک حدیث میں ستر (70) اجزاے نبوت میں محض ایک جز کو رؤیاصالحہ قرار دیا گیا ہے۔(14) سب سے زیادہ روایات میں (% 46)منقول ہے اور امام بخاریرحمة اللہ علیہ نے اسے ہی اہمیت دی ہے بلکہ وہ کتاب التعبیرمیں جتنی روایات لائے ہیں ' سب میں %46 ہی مذکور ہے اور یہی بات جمہور علماء کے ہاں بھی مقبول ہے۔

سنن ابودائود کی شرح میں منذریرحمة اللہ علیہ نے اس کی مختلف توجیہات بھی پیش کی ہیں :
چونکہ نبوت کا عرصہ 23 سال پر محیط ہے اورماقبل نبوت عرصہ چھ ماہ آپ کو خواب دکھلائے گئے جو کہ نبوت کے عرصہ کا چھیالیسواں حصہ ہے۔

مؤمن کے لئے چھیالیس فیصد اورفاسق کے لئے 70 میں سے ایک حصہ ہے۔(15) لیکن امام منذری رحمة اللہ علیہ شاید اس طرف نہیں گئے کہ یہ عرصہ سے متعلق نہیں بلکہ علم نبوت میں سے چھیالیسواں حصہ مراد ہے۔(16) اس لئے کہ انبیاء علیہم السلام کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں ، قرآنِ مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خواب کا تفصیلی تذکرہ ہے:

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ ٱلسَّعْىَ قَالَ يَـٰبُنَىَّ إِنِّىٓ أَرَ‌ىٰ فِى ٱلْمَنَامِ أَنِّىٓ أَذْبَحُكَ فَٱنظُرْ‌ مَاذَا تَرَ‌ىٰ ۚ قَالَ يَـٰٓأَبَتِ ٱفْعَلْ مَا تُؤْمَرُ‌ ۖ سَتَجِدُنِىٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّـٰبِرِ‌ينَ ﴿١٠٢فَلَمَّآ أَسْلَمَا وَتَلَّهُۥ لِلْجَبِينِ ﴿١٠٣ وَنَـٰدَيْنَـٰهُ أَن يَـٰٓإِبْرَ‌ٰ‌هِيمُ ﴿١٠٤ قَدْ صَدَّقْتَ ٱلرُّ‌ءْيَآ ۚ إِنَّا كَذَ‌ٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ ﴿١٠٥...سورة الصافات... (17)
''پھر جب وہ (بچہ) اتنی عمر کو پہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے، تو اس (ابراہیم علیہ السلام) نے کہا: میرے پیارے بچے! میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں ۔ اب تو بتا کہ تیری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے جواب دیا کہ اَبّا! جو حکم ہوا ہے، اسے بجا لایئے۔ ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ غرض جب دونوں مطیع ہوگئے اور اس (باپ) نے اس (بیٹے) کو پیشانی کے بل گرا دیا۔ تو ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیم! یقینا تو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا، بیشک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں ۔''

اور اسی خواب کو بنیاد بنا کر اُنہوں نے اپنے فرزند ِ گرامی اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کی کوشش کی۔ اُنہوں نے اسے اپنے ربّ کا حکم قرار دیا اور نبی کو بذریعہ وحی ہی حکم دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ابراہیم علیہ السلام کے خواب کو وحی قرار دینے پر نکیر فرمانے کے بجائے اسی واقعہ کو قرآن کا حصہ بنا دیا، جو اِس بات پر دلیل ہے کہ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں ۔ چنانچہ حافظ ابن قیم رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ
وکان الأنبیاء یوحٰی إلیھم في منامھم کما یوحٰی إلیھم في الیقظة (18)
''انبیاء علیہم السلام کو خواب میں بھی اسی طرح وحی کی جاتی ہے جس طرح حالت ِبیداری میں وحی کی جاتی ہے۔''

اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب دکھلائے گئے، کبھی ان خوابوں میں براہِ راست وہی مناظر دکھلائے گئے کہ جن کی تعبیر کی ضرورت نہیں تھی بلکہ صبح ہوتے ہی بلاکم و کاست وہی حالات و واقعات پیش آتے۔(19) اور کبھی خوابوں میں علائم و آثار دکھائے جاتے جن کی تعبیر و تاویل کی جاتی اور وہ تعبیر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم زبانِ ناطقِ وحی سے خود فرماتے۔(20) لہٰذا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب وحی کی ایک صورت تھی، اسی لئے وحی کی متعینہ صورتوں میں ایک خواب بھی ہیں ، اور اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے بعد مبشرات من النبوة کی خبر دی یعنی کہ علم نبوت کے تمام اجزا اُٹھ جائیں گے، لیکن آثار و علائم کے ذریعے مبشرات دی جائیں گی، اور یہی آثار و علائم 'مبشرات' یعنی رئویاے صالحہ ہیں ۔ اب ''من علم علمہ ومن جھل جھلہ'' کے مصداق ہر بندہ اپنے عقل و علم کی مدد سے اپنا حصہ اس میں سے وصول کر لے گا ،چونکہ غیر نبی کی تعبیرخواب نبوی بصیرت کے بغیر ہوتی ہیں لہٰذا وہ غلط بھی ہوسکتی ہیں اورصحیح بھی جیسے صلح حدیبیہ سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں عمرہ، طواف اور سعی وغیرہ کرتے دکھلایا گیا، لیکن جب عمرہ نہ کیا جاسکا تو کچھ لوگوں نے کہا کہ خواب تو عمرہ کا تھا۔ جبکہ اللہ نے صلح حدیبیہ جیسے بظاہر مشکل معاہدے کو 'فتح مبین' قرار دیا۔(21)اور اسی سورہ میں آگے چل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کو سچا اور حقیقت کر دینے کی نوید سنائی گئی:
لَّقَدْ صَدَقَ ٱللَّهُ رَ‌سُولَهُ ٱلرُّ‌ءْيَا بِٱلْحَقِّ ۖ لَتَدْخُلُنَّ ٱلْمَسْجِدَ ٱلْحَرَ‌امَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُ‌ءُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِ‌ينَ لَا تَخَافُونَ ۖ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا فَجَعَلَ مِن دُونِ ذَ‌ٰلِكَ فَتْحًا قَرِ‌يبًا ...﴿٢٧...سورة الفتح (22)
''یقینا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کاخواب سچا کردکھایا کہ ان شاء اللہ تم یقینا پورے امن و امان کے ساتھ مسجد ِحرام میں داخل ہوگے سر منڈواتے اور سر کے بال کترواتے ہوئے (چین کے ساتھ) نڈر ہو کر۔ وہ ان اُمور کو جانتا ہے جنہیں تم نہیں جانتے، پس اس نے اس سے پہلے ایک نزدیک کی فتح تمہیں میسر کی۔''

تو یہاں کچھ لوگ جو اس نبوی خواب کی صحیح تعبیر نہ کرسکے تھے،اور یہ امر ان کے لئے مایوسی کا سبب بنا تھا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش تھے کہ آپؐ نے خواب کی وحی کے ذریعے صلح کو آثار وعلائم میں دیکھ لیا تھا۔ دراصل خواب اور نبوی تعبیر دونوں وحی ہیں ، حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا آغاز بھی خواب پر مشتمل وحی سے ہوااور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غارِ حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی تو وہ بیداری کی طرح خواب میں بھی نازل ہوئی تھی۔ طبری کی روایت ہے:
(فجاء ني جبریل وأنا نائم،بنمط من دیباج، فیه کتاب فقال: اقرأ،فقلت: ما أقرأ۔ فغتّني حتی ظننتُ أنه الموت، ثم أرسلني،۔۔۔ فقال: اِقرا، فقلت: ماذا أقرأ؟،۔۔۔قال: {اِقْرَأ بِسْمِ رَبِّکَ ...الخ} قال: فقرأتها،قال: ثم انتھٰی، ثمَّ انصرف عني،وھبـبتُ من نومي وکأنما کتب في قلبي کتابا)
''میں سویا ہوا تھا۔میرے پاس جبریل آئے ان کے پاس ریشمی غلاف تھاجس میں ایک کتاب تھی انہوں نے مجھے کہا:پڑھو! میں نے کہا کیا پڑھوں ؟ اس نے مجھے ڈھانپ لیا حتی کے میں نے خیال کیاکہ موت آگئی ہے۔پھر مجھے چھوڑ دیااور کہا کہ پڑھو۔میں نے کہاکیا پڑھوں ۔ اس نے کہا پڑھو۔إقْرَأ بِسْمِ ... الخ میں نے یہ پڑھا تو میری یہ کیفیت ختم ہوگئی اور وہ چلے گئے۔مجھے میری نیند سے بھی کچھ عطا کیا گیا ہے۔گویا کہ میرے دل میں کتاب لکھ دی گئی ہے۔''

طبرانی میں اس کے بعد حالت ِبیداری میں جبرئیل کے آنے کا بھی ذکر ہے۔ سیرت ابن ہشام میں بھی اس خواب کا تذکرہ ہے۔(23) لیکن عالم بیداری میں جبرئیل کے آنے کا واقعہ نہیں ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اس روایت کو معتبر تسلیم کیا ہے اور اس پر ان الفاظ میں تبصرہ کیا ہے کہ ''حضرت جبرئیل علیہ السلام کا خواب میں آنا بیداری کے عالم میں آنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذہنی تیاری کے لئے تھا۔ (24)

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمة اللہ علیہ نے بھی اس روایت کا تذکرہ کیا ہے۔ (25)اور آپ اس کے ساتھ حضرت عائشہ کی حدیث بھی بطریق أبي الأسود عن عروہ لے کر آئے ہیں :
أن النبي ﷺ کان أول شانه یرٰی في المنام... (26)

پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ
أول ما بدیٔ به رسول اﷲ من الوحي الرؤیا الصالحة في النوم (27)
'' وحی کا آغاز جس اسلوب پر ہوا وہ رئویاے صالحہ تھے جو عالم نیند میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھے۔''

اس حدیث کے الفاظ پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا باقاعدہ وحی کے ظاہری نزول سے پہلے کے چھ ماہ کے دوران عالم نیند میں دکھلائے گئے خوابوں کو وحی کہہ رہی ہیں ۔ درحقیقت یہ وحی ہی ہیں اور خواب کو اسالیب ِوحی میں سے ایک اُسلوب قرار دینا ان کی فقیہانہ بصیرت اور علمی بیداری کی بہترین مثال ہے۔ اسی حدیث میں آگے فرماتی ہیں :
فکان لا یرٰی رؤیا إلا جاء ت مثل فلق الصبح (28)
''رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ دیکھتے، وہ سپیدئہ صبح کی طرح دن میں حقیقت بن جاتا ہے۔''

گویا دن میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات اور حرکات و سکنات کی خبر اللہ تعالیٰ ان کو وحی یعنی خواب کے ذریعے دے دیتا۔ باقاعدہ وحی جلی کے آغاز کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خوابی وحی یا وحی فی المنام کا سلسلہ بند نہیں کیا گیا۔ بلکہ بعض خبریں اور احکام کسی مصلحت کے تحت براہِ راست وحی کے بجائے وحی کے دوسرے طریقوں جن میں خواب اور الہام شامل ہیں کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی جاتیں ۔

وحی کے لئے ایک ہی طریقہ اور اُسلوب اختیار کرنے کی بجائے مختلف اسالیب کیوں اختیار کئے گئے؟ یقینا اس میں کئی حکمتیں پنہاں ہوں گی اور یہ اس موضوع پر دادِ تحقیق دینے والوں کے لئے ایک وسعت پذیر موضوع ہے، لیکن میرے مطالعہ کا ماحصل یہ ہے کہ انسانی ضروریات کی تکمیل کے لئے مختلف اسالیب اختیار کئے جاتے ہیں ، اور عہدئہ نبوت بھی انسانی ضروریات کی تکمیل کے لئے مقرر کیا گیا، اگرچہ اللہ کی قدرت اس سے بہت بلند ہے کہ وہ ضروریات کے رخ اور مقاصد کی محتاج ہو اور اس کے لئے ضروریات کو تبدیل کرنا، ان کی ہیئت کو بدل دینا یا ان کی تکمیل ایک ہی اُسلوب سے کر دینا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ایسے ہی وہ ضروریات کو بغیر کسی طبعی شکل اور سہارے کے بھی لوگوں کو پورا کرنے کی توفیق دے سکتا ہے۔ انبیاء کرام کے ہاتھوں پر اسی توفیق کے اظہار کا نام معجزہ ہے جیسے پانی کی ضرورت لاحق ہونے پر اللہ کے لئے کوئی مشکل نہ تھا کہ وہ کوئی چشمہ جاری فرما دیتا، کسی چشمے کا زمین پر ظہور مروجہ فطرت کے مطابق ہوتا،لیکن اس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُنگلیوں کے درمیان چشمے کی ہیئت پیدا کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لعابِ دہن کی برکت سے پانی کے چند قطروں یا ایک گھونٹ کو چشمہ بنا دینا مافوق الفطرت اُسلوبِ حاجت روائی تھا جس کا مقصد ِعظیم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو سچا ثابت کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں کے ایمان میں اضافہ کرنا تھا۔ کیونکہ اللہ مؤمنین کے ایمان میں اضافہ کے لئے امکانات و ماحول پیدا کرتا رہتا ہے حالانکہ یہ عین ممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پانی کی ضرورت لاحق نہ ہونے دیتا۔

دراصل ہر دور کا انسان کچھ مافوق الفطرت کارکردگیاں دیکھنے کا فطری تجسس رکھتا ہے، لہٰذا اس کے فطری تجسس کی تسکین کے لئے دیگر اسالیب اختیار کرنے پڑے۔ اسی طرح انسان بشارتوں اور امداد کے لئے مختلف حسیات سے تائید پانا چاہتا ہے۔ کبھی حقیقت میں مجرم کو دی گئی سزا یا دھمکی کچھ اثر نہیں دکھاتی،لیکن خواب میں ڈرائونا انجام اُسے برائی سے دور ہونے میں مکمل مدد مہیا کر رہا ہوتا ہے اور کبھی حقیقی بیداری میں تسلی کے الفاظ بے اثر ہو جاتے ہیں تو عالم نیند میں دی گئی تسلی سب غم تحلیل کر دیتی ہے۔ اسی طرح لوگوں کے سامنے اپنے پیامبر کو معتبر بنانے کے لئے ہی اُسے معجزات دیئے جاتے ہیں ، بالکل اسی طرح وحی کبھی خفیہ، کبھی ظاہری، کبھی رات کو، کبھی دن میں ، کبھی فرشتے کا انسانی شکل میں ، کبھی فرشتے کی اصلی ہیئت پر، کبھی غیبی آواز سے، کبھی خواب میں ، کبھی الہام کرکے، کبھی القا کرکے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر پر نازل کرتا ہے اور پھر ہر اُسلوب سے دی گئی وحی کو سچ کر دکھاتا ہے۔ مقصود یہ ثابت کرنامعلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام حسیات اور تمام حالتیں مکمل طور پر شیطان سے محفوظ اور مامون ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکمل طور پر ذہنی آسودگی کے حامل ہیں اور آپؐ کے شعور کی طرح لاشعور اور تحت الشعور بھی اللہ کے مقرر کردہ فرشتوں کے ظاہری اسباب کے ساتھ محفوظ کر دیئے گئے ہیں ۔ جنون کی کوئی کیفیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کبھی طاری نہیں ہوسکتی اور اپنے مضبوط ہوش و حواس آپؐ کبھی گم نہیں پاتے۔(29)

وہ اَحکام جو بذریعہ خواب وحی کئے گئے، ان میں سے سب سے اہم کلماتِ اذان ہیں ۔ اگرچہ کلماتِ اذان کا خواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نہیں دیکھا،لیکن آپ جن خوابوں کی تعبیر فرما دیں چونکہ وہ تعبیر زبان ناطقِ وحی سے دی جاتی ہے لہٰذا اُسے بھی وحی کا درجہ حاصل ہوگا۔ اس میں ہماری دلیل یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جو بات یا کام کیا جاتا اور آپ ؐ اس کو پسند فرماتے یا پھر اس کی نکیر نہ فرماتے وہی 'تقریری حدیث' کہلاتی ہے۔ لہٰذا اذان کے کلمات جو خواب میں صحابی کو بتائے گئے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریری حدیث ہے اور حدیث عقیدئہ اہل السنہ والجماعت کے مطابق وحی ہے۔

البتہ مختلف نوعیت کی خبریں جوکئی مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ خواب وحی کی گئیں ، وہ پانچ اسباب کے تحت کی گئیں :
ایقان و یقین میں پختگی کا سبب
خانگی تفکرات سے آزادی اور قلبی سکینت کا سبب
اُنسیت پیدا کرنے کا سبب
علومِ نبوت کی صداقت کا سبب
کسی شخص کے احوالِ آئندہ سے آگاہی کا سبب

ان کی تفصیل یہ ہے:
پچھلے صفحات میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب میں آ کر پہلی وحی {ٱقْرَ‌أْ بِٱسْمِ رَ‌بِّكَ ٱلَّذِى خَلَقَ ﴿١ خَلَقَ ٱلْإِنسَـٰنَ مِنْ عَلَقٍ ﴿٢ ٱقْرَ‌أْ وَرَ‌بُّكَ ٱلْأَكْرَ‌مُ ﴿٣ ٱلَّذِى عَلَّمَ بِٱلْقَلَمِ ﴿٤} (30)دینے کی تفصیل دی گئی، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذہنی تیاری کے لئے تھا اور یہی ذہنی تیاری یقین و ایقان کی پختگی کا سبب تھا جیسے کہ ابن کثیررحمة اللہ علیہ کے حوالہ سے سلف کا فہم گزر چکا ہے۔

نبوت کے گیارھویں سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت حزین ہونے کی بنا پر پورے سال کو عام الحزن قرار دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرپرست چچا اور گھر میں ڈھارس بندھانے والی زوجہ مطہرہ حضرت خدیجہ ؓ دونوں داغِ مفارقت دے گئے۔ اس حالت کو شاید کوئی امتی محسوس نہیں کرسکتا، بس ہلکا سا اندازہ وہ شخص کرسکتا ہے جو خود ناگفتہ بہ حالات میں کسی مضبوط ظاہری سہارے اور تھپکی دے کر ہمت بندھانے والے ہاتھوں سے محروم ہو جائے۔ اس نہایت سخت وقت اور نہایت شدید حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرورت تھی ذہنی سکینت کی، خانگی اُمور کے تفکرات سے آزادی کی، اور قلبی کیفیات کے اطمینان کی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی تصویر خواب میں دکھلائی گئی اور یہ وحی کیا گیا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہوں گی۔ دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خانگی زندگی، محبت و اُلفت اور تعلقات و صحبت سب شیطانی ہتھکنڈوں سے محفوظ و مامون تھی۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی بھی حکم الٰہی ہوتا تھا۔ (31)

بہرحال صحیح بخاری اور مسلم کے علاوہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خواب دیگر کتب ِحدیث میں موجود ہے:
(أریتك في المنام مرتین، إذا رجل یحملك في سرقة من حریر، فیقول: ھذہ امرأتك،فأکشفھا فإذا ھي أنت،فأقول: إن یکن ھٰذا من عند اﷲ یمضه) (32)
''مجھے خواب میں دو مرتبہ تم دکھلائی گئی' کہ ایک آدمی تھا جو ریشم کے غلاف میں تںہی اُٹھائے ہوئے تھا، اس نے بتایا کہ ''یہ آپ ؐ کی بیوی ہے۔'' جب میں نے اُسے کھولا تو وہ تم تھی۔ میں نے سوچا: یہ خواب اللہ کی طرف سے ہوا تو اللہ اسے ضرور پورا کرے گا۔''

مسلمان مکہ مکرمہ میں نہایت مظلومی کی زندگی گزار رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جامع نظام رکھنے کے باوجود مکہ مکرمہ میں اس کا نفاذ تو ایک طرف، کھلے عام ذاتی حیثیت میں عمل بھی نہیں کرسکتے تھے۔ جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایسی کوشش کی، اُنہیں شدید تکالیف دی گئیں ۔ ابوذر غفاری ؓحالانکہ مکی نہ تھے، نہ ہی قریشی تھے اور نہ ہی ان کے حلیف، اس کے باوجود اُنہیں اعلانیہ عمل کی کوشش پر کس طرح پیٹا گیا جس کی تفصیلات کتب ِحدیث و تاریخ میں موجود ہیں (33)۔...چنانچہ ایک طرف شعور و حواس تھے کہ وہ اس ظلم کی چکی سے نکلنے کی ہر طرح کوشش فرما رہے تھے اور دسری طرف بیت اللہ کی محبت تھی کہ اس کا جوار چھوڑنا قطعاً آسان نہ تھا، جبکہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے عملی اظہار کامرکز 'مدینہ منورہ' کو مقرر فرمایا تھا۔ اور مکہ کے باسی رہائش کیلئے مکہ پر کسی کو فوقیت نہیں دیتے تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو 'یثرب' کی سرزمین سے اُنسیت پیدا کرنے کے لئے بذریعہ خواب وحی کی اور دارِہجرت کی اطلاع دی۔ امام بخاریرحمة اللہ علیہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کو مختلف ابواب میں اپنی اجتہادی بصیرت کے ساتھ ذکر کیا ہے:

عن أبي موسٰی أراہ عن النبي ﷺ قال: (رأیتُ في المنام أني أھاجر من مکة إلی أرض بھا نخل...) (34)
''سیدنا ابو موسی اشعریؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں مکہ سے کھجوروں والی سر زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔''

پس اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دار ِہجرت سے اُنسیت پیدا ہوئی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو وقتاً فوقتاً اس سے آگاہ کرتے رہے جس سے نبوت کی صداقت کا بھی اہتمام ہوا۔

نبوت اور علومِ نبوت کی صداقت کے اسباب مہیا کرنا بھی لازمی تھے تاکہ لوگوں کے ذہنوں کے شکوک و شبہات کو دور کیا جاسکے، اگرچہ عہد ِرسالت کے مسلمانوں کا ایمان بڑا مضبوط تھا ،لیکن وحی خواب کے اس اُسلوب سے دو طرح کا فائدہ حاصل ہوا: اس دور کے مسلمانوں کی مضبوطی کا امتحان لیا گیا اور آئندہ آنے والے اَدوار کے مسلمانوں میں علومِ نبوت کے بارے میں اوہام و شکوک کو رفع کیا گیا اور ساتھ ہی ساتھ اُنہیں اپنے دور کے احوال میں صراطِ مستقیم کی تلاش کے لئے حساس کر دیا گیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے اَدوار کے آثار و علائم بتائے اور فتنوں کی پیش گوئیاں کیں ۔ حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
استیقظ النبي ﷺ ذات لیلة، فقال: سبحان اﷲ ماذا أنزل اللیلة من الفتن وماذا فتح من الخزائن،أیقظوا صواحب الحجر، فَرُبَّ کاسیة في الدنیا عاریة في الآخرة (35)
''ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نیند سے جاگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! آج رات کتنے فتنے نازل کئے گئے اور کتنے خزانے فتح کئے گئے۔ حجرے والیو! جاگو، کتنی ہی عورتیں ہوں گی جو دنیا میں کپڑے پہنتی ہیں مگر آخرت میں ننگی ہوں گی۔''

اس باب میں زینب بنت جحش کی حدیث بھی آتی ہے جو اہل عرب کے بارے میں ہے۔ (36)

اسی طرح کسی شخص کی دلجوئی کرنا اللہ کو پسند ہوتا تو بذریعہ خواب اس کے اَحوال کی وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کر دی جاتی۔ ایک مرتبہ آپؐ نے اپنا خواب بیان فرمایا:
(دخلتُ الجنة فإذا أنا بقصر من ذھب؟ فقلت: لمَن ھذا؟ ' فقالوا: لرجل من قریش فما منعني أن أدخله یا ابن الخطاب إلا ما أعلم من غیرتك) قال: وعلیك أغار یا رسول اﷲ؟ (37)
'' میں جنت میں داخل ہوا۔اچانک میں نے سونے کا محل دیکھا۔میں نے پوچھا:یہ کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: قریش کے ایک آدمی کا ہے۔اے ا بن خطاب:مجھے تیری غیرت نے اس محل میں داخل ہونے سے روک دیا۔سیدنا عمرؓ نے فرمایا:یا رسول اللہؐ! کیامیں آپ پر غیرت کھاؤں گا۔''

غلبہ شریعت ِمحمدیہ علی صاجہا الصلوة والسلام پر یقین میں اضافہ بھی خواب میں وحی کے نزول کا ایک اہم سبب رہا۔ لہٰذا خزانوں کے فتح کی خوشخبری اور اُمت ِمحمدیہ علی صاجہا الصلوٰة والسلام کی جہادی کامیابیوں کی خبریں بھی وحی بصورت خواب کا موضوع رہا ہے۔ چنانچہ اُمّ حرام رضی اللہ عنہا کے گھر میں قیلولہ کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو خواب دکھلایا گیا، وہ اسی سبب کے تحت معلوم ہوتا ہے۔ امام بخاریرحمة اللہ علیہ اپنی صحیح میں حدیث نمبر 7001 کے تحت اُمّ حرام کے گھر قیلولہ کرنے اور خواب سے بیداری کا قصہ لے کر آئے ہیں ، جبکہ 7002 نمبر والی حدیث میں اُمّ حرام ضی اللہ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکالمہ نقل کرتے ہیں :
قالت: فقلت: ما یضحك یا رسول اﷲ؟ قال:(ناس من أمتي عرضوا علي غزاة في سبیل اﷲ، یرکبون ثبج ھذا البحر ملوکًا علی الأسرة، أومثل الملوك علی الأسرة...)
''اُمّ حرام رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا:اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سی بات خوش کر رہی ہے تو آپؐ نے فرمایا: میری اُمت کے کچھ لوگ میرے سامنے (خواب میں ) پیش کئے گئے جو اللہ کی راہ میں جنگ کر رہے تھے۔ وہ سمندر کی سطح پر اس طرح رواں دواں ہیں جیسے بادشاہ تخت پر رونق افروز ہوں ...''

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(لم یبق من النبوة إلا المبشرات) قالوا:وما المبشرات؟ قال:( الرؤیا الصالحة) (38)
''نبوت سے کوئی شے باقی نہیں رہی،سوائے مبشرات کے،صحابہ نے پوچھا:مبشرات کیا ہیں ؟ آپؐ نے فرمایا:اچھا خواب۔''

مبشرات، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عہد ِرسالت میں بھی دیکھتے رہے اور خوشخبریاں ، زبانِ نبوت سے تعبیر پا کر حاصل کی جاتیں ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کے دیکھے گئے خواب کو بھی وہی اہمیت دی ہے جو کسی مرد کے خواب کو۔ امام بخاری رحمة اللہ علیہ حضرت عثمان بن مظعون ؓ کی وفات پر اُمّ العلاء کے تبصرہ (Remarks) پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اظہارِ استفسار کی حدیث لے کر آئے ہیں ۔ اور اس کا عنوان باب رؤیا النساء(39)رکھا ہے جس سے اُن کا مطلب یہی ہے کہ عورتوں کے خواب بھی مردوں کے خواب کی طرح اہمیت رکھتے ہیں ۔ جبکہ باب العین الجاریة في المنام میں یہ حدیث مکرر لائے ہیں اور اُس حدیث میں وضاحت ہے کہ اُنہوں نے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خواب بیان فرمایا کہ اُنہوں نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے لئے بہتا چشمہ دیکھا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ذاک عمله یجري له) (40)

عصر حاضر میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر پیش گوئی سچ ثابت ہو رہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''آثارِ قیامت میں سے ایک یہ ہے کہ مسلمان کے خواب دن کی روشنی کی طرح سچے ثابت ہوں گے۔ٌ(41) چنانچہ مسلمانوں کو چاہئے کہ تعبیر کے آداب بھی سیکھیں کہ یہ انبیا کی سنت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو تعبیر خواب سکھلائی۔ٍ(42)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خوابوں کی تعبیر سکھلائی گئی اور آپؐ نے اپنے اور صحابہؓ کے خوابوں کی تعبیر فرمائی اور وہ اللہ نے سچ کر دکھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گائے کو ذبح کرنے کا یا اپنی تلوار کو دستے سے ٹوٹا اور پھر اس کو اچھی حالت میں اور خود کو زرہ میں دیکھا تو اس کی تعبیر اہل بیت کے کسی فرد کی شہادت، غزوہ میں مسلمانوں کی ہزیمت اور پھر ریاست ِمدینہ کی مضبوطی سے کی۔َ(43)اللہ تعالیٰ نے تعبیر خواب کو علم قرار دیا ہے۔(44)

تعبیر کے بہترین آداب تعبیر الرؤیا لابن سیرین میں تفصیل سے درج ہیں :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اگر خواب میں زیارت ہو تو اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(من رأني في المنام فقد راٰني فـإن الشیطان لا یمتثل بي) (45)
''جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کرسکتا۔''

پس اگر کوئی بیان کرے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت کی ہے تو اُسے چاہئے کہ خواب میں نظر آنے والے حلیہ کو کسی کے سامنے بیان کرے اور پھر کتب ِحدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک سے مطابقت دیکھی جائے۔ اگر ہو جائے تو وہ واقعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اگر نہ ہوسکے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہیں ، کیونکہ شیطان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمثیل میں نہیں آسکتا۔ کسی اور شکل میں آ کر لفظاً دھوکہ تو دے سکتا ہے کہ یہ نبی ہیں جیسے کہ مرزا قادیانی نے خود کو مسیح علیہ السلام باور کروانے کی کوشش کی، وہ مسیح علیہ السلام کی شکل اختیار نہ کرسکا، لیکن لوگو ں کو مسیح علیہ السلام کا دھوکہ تو دیتا رہا۔ واللہ أعلم بالصواب!

 حوالہ جات
1. سنن ابن ماجہ:3923 ،مسند احمد:3996
2. صحیح مسلم:2261
3. ایضاً
4. ایضاً
5. ایضاً: 2263
6. ایضاً:2261
7. ایضاً:2266
8. ایضاً:2261
9. صحیح بخاری: 6990
10. صحیح مسلم:2261
11. صحیح بخاری: 7030
12. ایضاً: 6983
13. صحیح مسلم:2262
14. ایضاً:2265
15. مختصر سنن أبي داودللمنذري مع المعالم:2967
16. ایضاً :2977
17. سورہ الصافات :102تا105
18. منذری،مختصر سنن ابی داؤد:2967
19. صحیح بخاری :3
20. صحیح مسلم:2270
21. سورة الفتح :1
22. سورة الفتح :37
23. سیرة ابن ہشام:2361
24. البدایہ والنھایہ:63
25. فتح الباری:311
26. ایضاً
27. صحیح بخاری: 3
28. ایضاً
29. فتح الباری:1042،105
30. سورہ العلق :1تا5
31. سورہ الاحزاب : 36،37
32. صحیح بخاری : 7011
33. صحیح بخاری:3522
34. ایضاً:3622
35. صحیح بخاری :115
36. ایضاً:3598
37. ایضاً: 7024
38. ایضاً:6990
39. باب نمبر 13، ح:7004
40. ایضاً: 7018
41. صحیح مسلم:2263
42. سورہ یوسف : 37
43. فتح الباری:4327
44. فتح الباری: 35311
45. صحیح مسلم :5919

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ ٱلسَّعْىَ قَالَ يَـٰبُنَىَّ إِنِّىٓ أَرَ‌ىٰ فِى ٱلْمَنَامِ أَنِّىٓ أَذْبَحُكَ فَٱنظُرْ‌ مَاذَا تَرَ‌ىٰ ۚ قَالَ يَـٰٓأَبَتِ ٱفْعَلْ مَا تُؤْمَرُ‌ ۖ سَتَجِدُنِىٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّـٰبِرِ‌ينَ ﴿١٠٢