میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

پیش نظر مضمون میں فاضل مقالہ نگار نے بالکل نئے ڈھنگ میں علم اُصولِ حدیث کو عین عقلی تقاضوں کے مطابق درست ثابت کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا واجب الاتباع ہونا ایک ایمانی حقیقت اور دین اسلام کا اساسی تقاضاہے، لیکن ایک تاریخی حقیقت کے طورپر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامینِ مقدسہ کو اُمت ِاسلامیہ درست طورپر محفوظ کرنے میں کامیاب رہی ہے یا نہیں ؟ اس مضمون میں اسی پہلو کو موضوع بحث بناتے ہوئے ثابت کیا گیاہے کہ صدیوں کے انسانی ارتقا کے باوجود آج بھی کسی بات کو درست طورپرمحفوظ کرنے میں دورِ حاضر کے محققین اور جدید سائنس وعقل کوئی اضافہ کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔ فی زمانہ انکارِ حدیث کے متعدد رجحانات کے پس منظر میں مصنف کی یہ تحلیلی وتجزیاتی کاوش لائق ستائش ہے۔ ح م



'حدیث' سے مراد
حدیث سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول اقوال، افعال، تقریرات اور تصویبات ہیں ۔ چند جدیددانشوروں کے علاوہ تمام اُصولیین کے نزدیک دلیلِ شرعی ہونے کے اعتبار سے حدیث اور سنت کے لفظ باہم مترادف ہیں ۔ البتہ جب یہ لفظ ایک دوسرے کے مقابلے میں آئیں توسنت سے مراد اسوہ حسنہ او رحدیث اس کی روایت ہوتی ہے،گویا شریعت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا عمل (قول وفعل وتصویب) ہوا تو حدیث اسی عمل کا بیان۔ کبھی کبھار سنت کا لفظ بدعت یا رائے کے مقابلہ میں بھی بولا جاتا ہے۔ (دیکھئے: الوجیز في أصول الفقه از ڈاکٹر عبدالکریم زیدان: ص161، جبکہ متجددین کے تصورِ حدیث کے لئے دیکھئے: 'میزان' از جاوید احمد غامدی: ص10 اور 'مبادیٔ تدبر حدیث'از مولانا امین احسن اصلاحی: ص28)

ہم یہاں اَحادیث کے لئے 'منقولات' کا لفظ استعمال کریں گے تاکہ ہماری گفتگو زیادہ معروضی ہوسکے۔ احادیث کے لئے منقولات کا لفظ اس لئے بھی منتخب کیا گیا ہے کہ ادیانِ عالم میں فقط مسلمانوں نے ہی علم منقولات کو فنی اور علمی بنیادوں پر ٹھوس شکل دی ہے۔ علاوہ ازیں اسلامی منقولات میں اگرچہ قرآنِ مجید بھی شامل ہے، لیکن ہماری گفتگو فقط احادیث تک محدود ہوگی کیونکہ قرآنِ مجید عام طور پر محل اختلاف نہیں ۔

علم منقولات ؍ حدیث کے معتبر ہونے کا عقلی جائزہ (اہل عقل ومنطق کے ہاں )
اس حیثیت سے کہ منقولات کی نسبت ہدایت ِالٰہی کی طرف کی جاتی ہے، اس میں کسی داخلی غلطی اور عیب کا ہونا ناممکن ہے اور یہ علم دنیاوی اور اُخروی کامیابی کا سب سے اعلیٰ علم ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ منقولات ہم تک معتبر ذرائع سے پہنچیں ۔

منقولات کی قابلِ اعتبار ہونے کے لحاظ سے دو قسمیں ہیں :
متواترات اور اخبارِ احاد

متواترات میں قول کی نسبت قائل کی طرف یقین کے درجے پرہوتی ہے، چنانچہ اس پر اہل عقل اور روایت پسندوں کا اتفاق ہے۔ البتہ چند عقلا کا اس چیز میں ضرور اختلاف ہے کہ یہ یقین علم ضروری ہے یا نظری؟ جمہور عقلا کے نزدیک یہ علم یقینی ضروری ہے جب کہ بعض اسے نظری کہتے ہیں۔ 1

تواتر کی کئی اقسام ہیں : تواتر الطبقة جیسے قرآنِ کریم
تواتر ِلفظی جیسے (من کذب عليَّ متعمداً... الخ)

تواتر ِمعنوی یا تواتر القدر المشترک جیسے پانچ نمازیں ، صلوٰة العید، قیامِ رمضان
تواتر ِعملی (تعامل) جیسے پانچ نمازوں کی رکعات اور نصابِ زکوٰة وغیرہ

تواتر اپنی تمام صورتوں میں علم یقینی ضروری کا فائدہ دیتا ہے، لیکن قدرِ مشترک کا تواتر کبھی کبھار علم یقینی نظری کا فائدہ بھی دیتا ہے۔ اخبارِ آحاد میں قول کی نسبت قائل کی طرف کبھی یقین کے قریب قریب ہوتی ہے اور کبھی ظنِ غالب میں ، کبھی تردّد میں اور کبھی شک میں ۔ چنانچہ خبر صحیح 'یقین' کا، خبر حسن 'ظن غالب' کا اور خبر ضعیف 'تردّد یا شک' کا فائدہ دیتی ہے۔

ان اُمور میں کوئی اختلاف نہیں ، اختلاف صرف اس بات میں ہے کہ خبر واحد عمل کو واجب قرار دیتی ہے ... یا نہیں ؟

اکثر عقلا بشمول معتزلہ وغیرہ کے نزدیک عقلی طور پر خبر ِواحد عمل کو جائز قرار دیتی ہے، واجب نہیں یعنی خبر واحد سے حاصل شدہ معلومات پر عمل کرنا جمہور عقلا کے نزدیک ناجائز نہیں بلکہ جائز ہے، البتہ وہ اس کو واجب نہیں مانتے۔جبکہ جملہ اہل السنہ والجماعہ کے نزدیک از روئے سماع خبرواحد عمل کو واجب قرار دیتی ہے۔2

بعض نئے دانشور احادیث کے ذریعے دین میں کوئی مستقل بالذات اضافہ کو سرے سے جائز نہیں سمجھتے، البتہ اگر احادیث قرآن کی شرح کے طور پر سمجھ میں آئیں تو پھر ان پر عمل ہوسکتا ہے۔ ان کا یہ نظریہ جمہور عقلا اور سماع دونوں کے خلاف ہے۔کیونکہ جمہور عقلا نے خبر واحد سے تعبد (مستقل بالذات و براہِ راست) کو کبھی بھی ناجائز قرار نہیں دیا، البتہ اس کا وجوب عقلا کے نزدیک محلِ اختلاف رہا ہے۔ اور اسی طرح جملہ اہل سنت ہمیشہ خبر واحد سے دین میں مستقل بالذات اضافہ کے وجوب کے بھی قائل رہے ہیں ۔ 3
محدثین عام طور پر ہر ضعیف اور موضوع حدیث سے اظہارِ براء ت کرتے ہیں اور صرف صحیح یا حسن حدیث کو ہی واجب ِقبول قرار دیتے ہیں ۔

تصحیح وتضعیف ِحدیث؛ ایک سائنس
محدثین نے علم منقولات کی جانچ پرکھ کے لئے ایسے اُصول مقرر کئے ہیں جو ایک سائنس کا درجہ رکھتے ہیں ۔کیونکہ سائنس ایسے معروضی کلیات بتاتی ہے جو تجربہ کے وقت برابر طور پر ایک جیسا نتیجہ ظاہر کرتے ہیں ، چاہے تجربہ کرنے والا کوئی ہو اور چاہے جس زمان اور مکان میں تجربہ کیا جائے اور چاہے جس ایجابی یا منفی جذبے کے ساتھ کیا جائے۔ 4

منقولات کی جانچ پرکھ کا علم (اُصولِ حدیث) اس حیثیت سے ایک سائنس ہے کہ یہ سائنس کی طرح اپنے موضوع پر ایک کامل، منضبط، جامع مانع اور منظم علم ہے جو ہمیں ایسے کلیات (فارمولے) بتلاتا ہے جن کے ذریعے ہم منقولات کی علمی یا سندی حیثیت متعین کرسکتے ہیں ۔

اُصولِ حدیث کا مل ومنضبط، جامع مانع اور منظم علم اس طرح ہے کہ اس کے مشمولہ تمام قواعد میں مزید اضافہ انتہائی مشکل ہے۔ مثلاً راوی کے ضعف کے اسباب، روایت کے ضعف کے اسباب ، روایت کی تقویت کے اسباب، اَخذ و تحمل کی شرائط، ضعیف احادیث کی اقسام اور صحیح احادیث کے درجات وغیرہ۔

اُصولِ حدیث ایسے کلیات پر مشتمل ہے جو منقولات کی عقلی حیثیت متعین کرتے ہیں ۔ کلیات سے مراد ایسے جامع مانع عقلی قوانین جن کی روشنی میں تحقیق کرنے سے ایک جیسے نتائج اَخذ ہوں ۔ان قوانین کی روشنی میں کوئی بھی شخص تحقیق کرکے علم منقولات کی حیثیت متعین کرنے میں اپنی رائے پیش کرسکتا ہے اور اُصول و قواعد کی روشنی میں دیگر محدثین کے فیصلوں سے اختلاف کرسکتا ہے۔

یاد رہے کہ اُصولِ حدیث منقولات کی عقلی حیثیت متعین کرتا ہے مثلاً حدیث کا متواتر، مشہور، غریب، موضوع،مرسل، منقطع، معضل، موقوف یا مقطوع ہونا وغیرہ۔ یہ سب منقولات کی فنی حیثیت کا اظہار ہے اور ان پر عمل کا حکم ایک عقلی حکم ہے۔ مثلاً موضوع، معضل اور منقطع حدیث پر عمل کرنا عقلاً درست نہیں ، کیونکہ یہ ضعیف احادیث کی شاخیں ہیں اور ضعیف حدیث میں خبر کا صدق و ثبوت، اس کے کذب؍ عدم ثبوت سے راجح نہیں ہوتا وغیرہ۔ محدثین مسلم فقیہ ہونے کی حیثیت سے منقولات پر عمل کی شرعی حیثیت بھی متعین کرتے ہیں ، لیکن ان کی اُصولِ حدیث کی کتب مجرد عقلیت کا بھی شاہکار ہیں ۔

البتہ بعض اوقات، منقولات کی فنی حیثیت متعین ہونے کے بعد ان پر عمل کی عقلی و شرعی حیثیت متعین کرنے میں محدثین و فقہا مں۔ اختلاف بھی ہوجاتا ہے جیسے مرسل پر عمل کرنے میں محدثین و فقہا کا اختلا ف ہے۔اسی طرح خبر واحد کی قبولیت پر فقہاے احناف و مالکیہ کی چند اضافی شرائط میں محدثین کو اختلاف ہے... وغیرہ

محدثین کا علم یعنی علم منقولات کی جانچ پرکھ اس لحاظ سے بھی ایک سائنس ہے کہ محدثین جس حدیث کی جو حیثیت متعین کرتے ہیں ، اس کو کوئی بھی شخص چیلنج کرسکتا ہے اور فنی اُصول و ضوابط کی روشنی میں کوئی بھی چیز غلط یا صحیح ثابت کرسکتا ہے۔ اس فن میں محدثین نے کبھی جذبات، تعصّبات اور خوش فہمیوں کامظاہر ہ نہیں کیا حتیٰ کہ صحت کی اعلیٰ ترین کتب صحیح بخاری اور مسلم بھی تفصیلی جرح و نقد کے لئے موضوعِ بحث رہی ہیں ، لیکن نقد و جرح نے ہمیشہ انکی اعلیٰ حیثیت کومزید نکھارا ہے جیسے دارقطنی کی صحیح بخاری پر تنقیداور ابن حجر کے جوابات وغیرہ

اُصولِ حدیث اور اسماء الرجال یعنی اسلامی منقولات کی جانچ پرکھ کا علم، خالص معروضی (Objective)ہے، موضوعی (Subjective)نہیں ۔ یعنی کسی حدیث کی جانچ پڑتال میں اُصول و قواعد کے مطابق، اسماء الرجال کی خارجی فنی شہادت کو دیکھا جاتا ہے نہ کہ اپنے نفسی، خیالی، داخلی پسند و ناپسند کو۔ اسی طرح کسی حدیث کی جانچ پڑتال میں ذاتی فہم، اجتہاد، ظن وتخمین اور استنباط و استخراج کو بھی کوئی دخل نہیں ۔ کوئی بھی شخص اپنے اجتہاد سے کسی حدیث کو صحیح یا ضعیف قرار نہیں دے سکتا۔ اسے لازماً کسی حدیث کی تصحیح و تضعیف کے لئے اُصول و قواعد کے مطابق خارجی فنی شہادات اور اسماء الرجال کے دلائل پیش کرنا ہوں گے۔ اس حیثیت سے منقولات کی جانچ پرکھ کا علم ایک سائنس ہے کہ یہ سائنس کی طرح معروضی ہے، موضوعی نہیں ۔

علم منقولات اس طرح سے سائنسی بنیادوں پر مضبوط ہے کہ عام طور پر اگر ایک راوی حفظ و دیانت میں ضعیف ثابت ہوجائے تو اس سے نقل شدہ تمام سینکڑوں حدیثیں ضعیف قرار پاتی ہیں اور کوئی محدث تعصب یا خوش فہمی کی بنیاد پر اس چیز کا انکار نہیں کرتا۔ عام طور پر ایسا ممکن نہیں کہ ایک ضعیف راوی کی بعض احادیث تو اس کے ضعف کی وجہ سے ضعیف قرا رپائیں اور بعض نہ قرار پائیں ۔ یہ چیز علم منقولات کے سائنٹفک ہونے کی مضبوط ترین دلیل ہے۔

اِستقراء سے معلوم ہوا کہ عموماً احادیث، محدثین کے نزدیک بالاتفاق صحیح ہوتی ہیں یا بالاتفاق حسن ہوتی ہیں یا بالاتفاق ضعیف ہوتی ہیں یا بالاتفاق مردود ہوتی ہیں ۔ البتہ کبھی کبھار بعض معقول وجوہات کی بنا پر حدیث کی حیثیت متعین کرنے میں اختلاف ہوجاتا ہے، لیکن اختلا ف میں حیرت انگیز بعد نہیں ہوتا ہے بلکہ نتیجہ باہمی طور پر قریب قریب (Precise)ہوتا ہے مثلاً یہ ممکن نہیں کہ کسی حدیث کو کوئی محدث 'موضوع' قرار دے اور دوسرا محدث اسی حدیث کو اوّل درجہ کی صحیح قرار دے اور یہ چیز بھی اسلامی علم منقولات کے سائنٹفک ہونے کی دلیل ہے۔

اسلامی منقولات میں ضعف دو قسم کا ہوتا ہے:
1۔مشخص و متعین ضعف اور 2۔غیر مشخص و غیر متعین ضعف
متعین ضعف وہ ہے جس کو معلوم کیا جاسکے اور جس کی نشاندہی کی جاسکے مثلاً اتصال کا نہ ہونا، راوی کا ضبط کمزور ہونا وغیرہ جبکہ اس کے مقابلے میں ایک ضعف وہ ہے جو متعین نہیں بلکہ اس کو فرض کیا جاتا ہے کہ تمام تر صحت کے باوجود ممکن ہے، کسی راوی سے غلطی ہوگئی ہو۔

محدثین کا علم منقولات اس قدر مضبوط عقلی بنیادوں پر قائم ہے کہ کسی بھی صحیح قرار دی گئی حدیث میں کوئی مشخص یا معین ضعف تلاش کرنا ممکن نہیں ہوتا،کیونکہ محدثین انسانی بساط کے مطابق تمام انواعِ ضعف کی تلاش کے بعد حدیث کو صحیح قرار دیتے ہیں ۔ ایسی حدیث یقین کے قریب قریب درجہ کا فائدہ دیتی ہے۔

البتہ اس میں نادانستگی یا لا علمی میں کسی نہ کسی عقلی خطا کا امکان ہوتا ہے، لیکن یہ امکان صحت کے بیسیوں پہلوؤں کے مقابلہ میں قابلِ التفات نہیں ہوتا،یہاں پر خطا صرف ممکن ہوتی ہے، واجب یا راجح نہیں ہوتی۔

ایسی عقلی خطا کی وجہ سے حدیث کو ردّ کرنا جائز تھا، اگر صحابہ کا یہ طرزِ عمل نہ ہوتاکہ وہ دورِ نبویؐ اور دورِ نبویؐ کے بعد ایک دوسرے سے احادیث سنتے اور اس پر عمل کرتے تھے۔ (صحابہ کے طرزِ عمل کو تفصیل سے دیکھنے کے لئے: الرسالة امام شافعی و دیگر کتب اُصولِ فقہ )
عقلی طور پر بھی مذکورہ وجوہات کی بنا پر حدیث کو ردّ کرنا راجح یا واجب نہیں ۔

محدثین کے نزدیک علم منقولات کی جانچ پرکھ کے اُصول
محدثین نے علم منقولات کی جانچ پرکھ کے لئے جو اُصول وضع کئے، ان میں سند و متن دونوں کی جانچ پرکھ شامل ہے۔ چنانچہ محدثین کا اتفاق ہے کہ صحیح الاسناد حدیث اس وقت تک قابلِ قبول نہیں جب تک اس کا متن بھی شذوذ و علل سے پاک نہ ہو۔

سند؛ رواة کے اوصاف اور معرفت کا عقلی جائزہ
سند میں محدثین ہر ہر راوی کے اوصاف اور باہمی ملاقات کا جائزہ لیتے تھے، محدثین نے راویوں کے اوصاف اس عقلی انداز میں مقرر کئے کہ ان میں کسی قسم کا اضافہ یا کمی ممکن نہیں ۔ مثلاً راوی کا مسلمان ہونا اور ساری زندگی میں ایک دفعہ بھی حدیث ِنبویؐ میں جھوٹ ثابت نہ ہونا اور نہ روزمرہ زندگی میں کوئی جھوٹ ثابت ہونا؛اور نہ ہی وہ کسی کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوا ہو اور نہ وہ صغائر پر اصرار کرتا ہو اور نہ وہ حدیث کے اَخذ و تحمل پر جسمانی اور ذہنی سستی کرتا ہو اور نہ وہ کسی اعتقادی بدعت کا شکار ہو وغیرہ وغیرہ۔ یہ اوصاف و شرائط ایسی ہیں جس پر مزید اضافہ عقلاً ناممکن ہے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ راویوں کے اوصاف کی پہچان ناممکن ہے، لیکن یہ دعویٰ غلط ہے۔ کیونکہ محدثین کے نزدیک مجہول العین، مجہول الحال اور مستور راوی ناقابل قبول ہوتا ہے.ہر راوی کی جرح و تعدیل معاصر اساتذہ اور تلامذہ کرتے ہیں۔ مسلمان صدیوں سے ثقہ قاضی ، ثقہ حاکم، ثقہ شاہد، ثقہ امام، ثقہ عالم، ثقہ داعی کی پہچان غیر ثقہ کی نسبت سے کرتے آئے ہیں ۔


اور راوی کی اپنی پہچان کے اعتبار سے تین قسمیں ہیں :

  1. بعض وہ جن کی عدالت تواتر سے ثابت ہے
  2. بعض وہ جن کی عدالت مشہور اور مستفیض ہے
  3. بعض وہ جن کی عدالت صرف ایک یا دو ائمۂ نقد سے ثابت ہے۔


عموماً اکثر احادیث کی اسناد کا بڑا حصہ 'متواتر العدالہ' راویوں پر مشتمل ہوتا ہے جیسے کثیر الروایہ صحابہ و تابعین و تبع تابعین اور ائمہ کرام رحمہم اللہ اور جن رواة کی عدالت مشکوک یا قلیل الثبوت ہو دوسروں کی متابعت سے ان کی کمزوری دور ہوجاتی ہے۔(تفصیل کے لئے : تحفة الأشراف في معرفة الأطراف از ابن حجر عسقلاني؛ تقریب التهذیب از ابن حجر)

سند ؛ رواة کا حفظ اور معرفت ِحفظ کا عقلی جائزہ
بعض لوگ کہتے ہیں کہ رواة کے حافظے کو پہچاننا ناممکن ہے لیکن یہ دعویٰ باطل ہے، کیونکہ اہلِ فن کے نزدیک حافظے کی پہچان کبھی مشکل نہیں رہی، شرط یہ ہے کہ

حافظے کے لئے کوئی نہ کوئی میزان ہو مثلاً حفاظِ قرآن کے لئے میزان قرآن ہے، اسی طرح سے قرونِ اولیٰ میں رواة کے حافظے کی پہچان کے لئے ان سے ائمہ رواة کی مروی اَحادیث تھیں ۔ چنانچہ محدثین کا اتفاق ہے کہ جو راوی روایت کرتے وقت برترثقات راویوں کی مخالفت کرتا ہو، اس کی روایت ناقابل قبول ہے۔ چنانچہ مخالفة الثقات حفظ کی پہچان کا پہلا میزان ہے۔ اور حفظ کی پہچان کا دوسرا میزان راوی کا اعتماد ہے کہ راوی روایت کرتے وقت اوہام ، تردّد یاشکوک کا شکار نہ ہو۔

'حفظ' ظن یا یقین کا موجب؛جدیدعلم نفسیات (Psychology)کی روشنی میں
ابتدا میں عموماً علم منقولات کا تعلق سراسر حفظ اور یادداشت سے تھا۔ حفظ ایک غیر حسی اور غیرمادّی چیز ہے، لیکن محدثین نے حفظ کی صلاحیت کو ایک مکمل فن بنا دیا۔چنانچہ مختلف محدثین، ائمہ کرام، رواة ِ حدیث سے یہ بات تواتر سے ثابت ہے کہ وہ حدیث کی یادداشت کے لئے آٹھ باتوں کا اہتمام کرتے تھے:

  1. سماع کے وقت چستی اور ہوشیاری
  2. کتابت
  3. مقابلہ و اِعادہ
  4. مذاکرہ
  5. تعمد و تحفظ
  6. باہمی سوال و جواب
  7. ناقلین پر غوروخوض
  8. روایت پر تفقہ(معنوی غوروفکر)

 

اِن آٹھ اُمور کے ساتھ حفظ شدہ چیز تقریباً یقین کا فائدہ دیتی ہے۔


حفظ کے درج بالا آٹھ اُمور کے بارے میں قرنِ اوّل و قرنِ ثانی میں رواة ِ حدیث ونقاد ائمہ حدیث نے آپس میں ایک دوسرے کو بہت تلقین کی ہیں ۔ اس دور مںپ حافظہ سے متعلق، محدثین کی علمی و فکری چہل پہل کو معلوم کرنے کے لئے امام رامہرمزی (260 تا360) کی کتاب سب سے زیادہ مفید ہے۔ یہ کتاب اُصولِ حدیث کی قدیم ترین کتاب ہے اور قدیم ائمہ رواة ِحدیث کے اقوال، براہِ راست ذاتی سند سے پیش کرتی ہے۔(تفصیل کیلئے: المحدث الفاصل از امام رامهرمزي اور الکفایة في أصول الروایة از خطیب بغدادي)

جدید علم نفسیات(Psychology)کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ حافظے سے تعلق رکھنے والے مسائل کبھی تو یقین کافائدہ دیتے ہیں ، کبھی ظنِ غالب کا، کبھی ترددّ کا اور کبھی اوہام کا۔ علم نفسیات کے نزدیک تکرارِ فعل، اوّلیت ِفعل، تأثر ِفعل ، تأثر کی شدت، تازگی اور اُصول دلچسپی کی بنیادوں پر حفظ، عین یقین یا تقریباً یقین کا فائدہ دیتا ہے۔ مثلاً
تکرارِ فعل کی مثال           میں روز صبح اُٹھ کرمسواک کرتا ہوں

اوّلیت ِفعل کی مثال           میری آنکھوں کا دیکھا ہوا برفباری کا پہلا منظر

تاثر فعل اور اسکی شدت کی مثال           یہ بات کہ کل میرے ہمسائے کے گھر میں بجلی گری

فعل کے تازہ ہونے کی مثال           یہ بات کہ ایک منٹ پہلے میں کرسی پربیٹھا تھا۔

یہ تمام بیانات قرائن کی بنیاد پر اس قدر مضبوط ہیں کہ حفظ کے ساتھ تعلق کے باوجود یقین کا فائدہ دیتے ہیں اور ان کاانکار کرنے والابے عقل اور احمق کہلائے گا۔5

محدثین کرام بھی حفظ کی ان بنیادوں پراس قدر مضبوط تھے کہ ان کی حفظ شدہ چیز یقین کے قریب قریب علم کا فائدہ دیتی ہے مثلاً محدثین کی روایات کا اکثر حصہ مشاہدہ، عمل، تجربہ، مشق اور تکرارِ فعل سے تعلق رکھتا ہے اور ایسی چیز کبھی نہیں بھولی جاسکتی اور اسی طرح محدثین نے علم حدیث کو ایک شوقیہ تفریح کے طور پر اختیار نہیں کیا بلکہ اس کے لئے زندگیاں وقف کردیں ، دن رات کے اکثر اوقات علم الحدیث میں گزارے۔ ایسے فنی ماہرین اپنے فن کی کسی ادنیٰ یا اعلیٰ بات سے غافل نہیں رہ سکتے۔

'فن جرح و تعدیل' کا عقلی جائزہ
جرح و تعدیل اور رجال کا علم مضبوط بنیادوں پر قائم ہے جس کی ایک ٹھوس نشانی یہ ہے کہ صحاحِ ستہ کے اکثر رواة کی ائمہ نقد کے اتفاق کے ساتھ حیثیت متعین ہوتی ہے۔ چنانچہ صحاحِ ستہ کے اکثر راوی خواہ ثقہ ہیں یا ضعیف ،ائمہ جرح و تعدیل کے اتفاق کے ساتھ ہیں جیسا کہ اسماء الرجال کی فنی کتب کے استقراء سے ثابت ہے۔

بعض لوگوں کے نزدیک فن جرح و تعدیل ایک انتہائی کمزور اورناقابل اعتبار علم ہے۔ وہ جرح و تعدیل کے ذریعے ہونے والے تمام اسماء الرجال کو شکوک و اوہام کا مجموعہ سمجھتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ہونے والی منقولات کی جانچ پرکھ کو بھی قابل اعتنا نہیں جانتے۔ایسے لوگوں کا رویہ مضبوط علمی بنیادوں پر قائم نہیں ۔

جرح و تعدیل پر اعتراضات
بعض لوگوں کے نزدیک راویوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچتی ہے۔یہ راوی مختلف علاقوں اور مختلف زمانوں میں پھیلے ہوئے تھے، ان کے کوائف جمع کرنا مشکل تھا اور پھر اسماء الرجال کے ماہرین براہِ راست ان راویوں سے نہ مل سکے بلکہ ان راویوں کے متعلق مختلف عوام و خواص سے معلومات اکٹھی کرتے تھے۔ یہ سادہ طریقہ کا ر اس قدر کمزور تھا کہ راویوں کی حیثیت متعین کرنے میں اکثر طور پر اسماء الرجال کے ماہرین کا آپس میں اختلاف ہوجاتا تھا اور کبھی تعصب کی وجہ سے لاشعوری طور پر افراط و تفریط کا شکار ہوجاتے تھے۔ 6


جوابات:یہ تمام دعویٰ جات سرسری مطالعہ کا نتیجہ ہیں اور معترض کی فن حدیث اور اسماء الرجال میں عدمِ رسوخ کی علامت ہیں ۔

یہ کہنا غلط ہے کہ ائمۂ نقد نے رجال کے حالات کے اَوصاف کا علم عوام سے اکٹھا کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ائمہ نقد یا تو براہِ راست رواة سے ملتے تھے یا اُن خواص سے معلومات اکٹھی کرتے جو رواة سے مل چکے ہوتے اور ائمہ نقد کا یہ گروہ ہر دور، ہر زمانے اور ہر علاقے میں سرگرم رہا ہے جو ضعیف راویوں کو صحیح راویوں سے الگ کرتا رہا ہے اور اس کی باقاعدہ تحریری یادداشت تبع تابعین کے دور سے ہی شروع ہوگئی تھی جس کو بعد ازاں یحییٰ قطان، علی بن مدینی،یحییٰ بن معین، احمد بن حنبل، ابوزرعہ، ابوحاتم اور امام بخاری رحمہم اللہ وغیرہ نے مدوّن کیا۔7

نیز ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ ''راوی اپنی پہچان کے اعتبار سے تین اقسام پر ہیں ۔ بعض وہ جن کی عدالت تواتر سے ثابت ہے... الخ''

اگرچہ یہ کہنا غلط ہے کہ قابل اعتمار راویوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچی ہے۔ محدثین کے نزدیک راویوں میں قابل اعتماد رواة فقط چندہزارنفوس پرمشتمل تھے جس کی تعداد تقریب التہذیب کے مطابق 8826 ہے۔ یہ وہ رواة ہیں جن سے صحاحِ ستہ کی تمام احادیث مروی ہیں اورصحاحِ ستہ علماے اسلام کے نزدیک معیاری مقبول احادیث کا سب سے بڑا مجموعہ ہے اور ان احادیث کے رواة بھی تاریخی اعتبارسے راویوں کے جم غفیر میں ہیروں کی طرح ہیں ۔8

اگر کبھی ائمہ نقد کسی راوی کی حیثیت متعین کرنے میں اختلاف کرتے ہیں تو وہ صرف تعبیرات و اصطلاحات اور مزاج کا اختلاف کرتے ہیں ، وگرنہ حقیقت میں اختلاف نہیں ہوتا۔ چنانچہ ایسی صورت میں کسی نتیجہ پر پہنچنا آسان ہوتا ہے۔

اور اگر کوئی نتیجہ نہ نکل سکے تو راوی اپنی اختلافی حیثیت پر برقرار رہتا ہے اور اس کی حدیث بھی قطعی حجت نہیں ہوتی۔ یہ بات عقلاً کتنی مضبوط ہے کہ جو راوی مختلف فیہ ہے، اس کی روایت بھی قطعی حجت نہیں ۔ اس تناظر میں اسلامی منقولات کا تمام علم ایسی معقولیت پر مبنی ہے جس کا انکار صرف ہٹ دھرم اور خواہش پرست ہی کرسکتا ہے۔9

اور ائمہ نقد اپنے لاشعوری تعصب یا غلو سے بچنے کے لئے از خود یہ اُصول قائم کرتے ہیں کہ وہ تمام جرح ناقابل قبول ہوں گی جو کسی بڑے امام کے بارہ میں تعصب کے شائبہ کی بنا پر ہو۔ اس اُصول کے نتیجہ میں جرح و تعدیل کا علم خالص معروضی ہے ۔ اسی وجہ سے اگر کسی راوی کے بارے میں ائمہ ناقدین کاکوئی اختلاف ہے تو وہ قابل حل ہے، لا ینحل نہیں ۔

حدیث کے متن کی پہچان
سند کے بعد حدیث کی صحت اور سقم کو پہچاننے کے لئے متن کی جانچ پڑتال بھی ضروری ہے، اس کو آج کل عموماً'اُصولِ درایت' کہہ دیا جاتا ہے۔اگر بالفرض فن حدیث میں اصول درایت کا یہ طریقہ معتبر ہو تو پھر بھی محدثین کے ہاں اس کے علمی ضوابط ہیں ،کیونکہ محدثین اُصولِ درایت میں صرف یہ دیکھتے تھے کہ حدیث کا متن شذوذ، علل اور منکر و مضطرب ہونے سے پاک ہو۔

موضوع حدیث کے اندر اُصولِ درایت یہ ہیں کہ موضوع روایات کے الفاظ حس، عقل سلیم، مسلمہ تاریخی روایات، مسلمہ شرعی قواعد اور قرآن کی صراحت کے خلاف ہوتے ہیں ۔

کسی محدث سے عملاًیہ ثابت نہیں کہ وہ فن حدیث کی رو سے روایت کے صحیح ثابت ہو جانے کے باوجود ایسی حدیث کے متن کی پرکھ کے لئے یہ لازم قرا ر دیتا ہو کہمعتبر حدیث وہ ہوتی ہے جو قرآن کے خلاف نہ ہو اور نہ علم و عقل کے مسلمات کے خلاف ہو۔ جمہور اہل سنت اور محدثین کامشہور نظریہ بیان کیاجاچکا ہے کہ صحیح حدیث کا ایسا ہونا ہی ناممکن ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُصولِ حدیث کی بنیاد پر احادیث کو پرکھنے کا فن محدثین کے نزدیک عقلی اعتبار سے اس قدر مضبوط ہے کہ وہ تصور ہی نہیں کرسکتے کہ اُصولِ حدیث کی بنیاد پر صحیح قرار پانے والی کوئی حدیث قرآن، شرعی قواعد، عقل ِسلیم وغیرہ کے خلاف ہو۔ البتہ کسی جگہ ایسا شائبہ محسوس ہو تو محدثین ہمشہ تطبیق کے طریقے پر چلے ہیں اور تطبیق کی راہ میں اُنہوں نے کوئی مشکل محسوس نہیں کی۔

البتہ چند جدیدمحققین، فن حدیث کے اصولوں کو نظر انداز کر کے مطلق ردّ و قبول کے لئے اُصول بناتے ہیں کہ وہ قرآن اور عقل کے مسلمات کے خلاف نہ ہو اور اس کی تائید میں محدثین کی طرف سے خطیب بغدادی کی الکفایة کا بھی حوالہ دیتے ہیں ۔10

خطیب بغدادی کا درج بالا حوالہ اہل الرائے کے طریقے کے بیان پر محمول کیا جائے گا کیونکہ خطیب بغدادی سے پہلے کے ائمہ حدیث اور ان کے بعد اُصولِ حدیث کے تمام ماہرین جیسے حافظ ابن صلاح شہرزوری، امام ابن کثیر، حافظ عراقی، امام نووی، امام سیوطی، حافظ ابن حجر، حافظ سخاوی وغیرہم میں سے کسی نے اس انداز سے صحیح حدیث کے قبول و ردّ کا ذکر نہیں کیا البتہ فقہاے اہل الرائے کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ اس انداز سے بعض صحیح احادیث کو ردّ کرتے ہیں ۔

حدیث ضعیف کی پہچان اور اس کا عقلی جائزہ
حدیث ضعیف وہ ہے جس کا صدق اس کے کذب کی بہ نسبت راجح نہ ہوسکے، اگرچہ مساوی ہو یا مرجوح ہو۔
یہ محدثین کے عقل و فن کی احتیاط کا کمال ہے کہ ثبوت و عدمِ ثبوت کامساوی احتمال رکھنے والی حدیث کوبھی ضعیف قرار دیتے ہیں ۔
شدید ضعف والی روایات بالاتفاق مردود ہیں ۔

البتہ بعض لوگوں کے نزدیک ضعیف حدیث فضائل اعمال میں مطلق طور پر مقبول ہوگی، بعض ضعیف احادیث کو فضائل اعمال میں بھی چند شرطوں کے ساتھ قبول کرتے ہیں ، مثلاً 1۔ضعیف حدیث کسی صحیح حدیث کے معارض نہ ہو،2۔ وہ حدیث کسی اَصل کے تحت ہو اور اس پر عمل کرتے ہوئے احتیاط کی نیت کی جائے، نہ کہ ثبوت کی۔

بعض فقہا نے نسبتاً کم ضعف والی احادیث کو احکام میں بھی قبول کیا ہے جیسے احناف اور حنابلہ وغیرہ۔ ان کا کہنا ہے کہ ضعیف حدیث میں صدق کا رجحان غالب نہیں ہوتا، لیکن بہرحال اس میں صدق کا اِمکان ہوتا ہے اور ایسی حدیث بہرحال مجرد انسانی رائے سے بہتر ہے۔

درج بالا تمام رویوں میں عقلی اعتبار سے سب سے سخت رویہ محدثین کا ہے کہ وہ ضعیف حدیث کو احکام میں مطلق طور پر قبول نہیں کرتے۔ اگرچہ اس میں صدق و ثبوت کا امکان موجود ہوتا ہے۔ فضائل اعمال میں بھی محققین اصحاب الحدیث 'ضعیف حدیث' کو مطلق طورپر قبول نہیں کرتے۔ یہ بات غور طلب ہے کہ محدثین کا طبقہ احادیث کا جس قدر والہ و شیدا ہے، اسی قدر اس کو نقد کی بھٹی میں زیادہ پرکھنے کا عادی ہے اور عموماً فقہا اس چیز کے حامل نہیں ۔

ضعیف حدیث کے متعلق درج بالا مختلف مکاتب ِفکر کے باوجود ان میں سے کسی کا قول ایسا نہیں جو عقل و بصیرت کے صریح منافی ہو۔

حدیث کی تدوین کے مراحل کا عقلی جائزہ
اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے اور تاریخی اعتبار سے ثابت ہے کہ صحیح حدیث ہر دور میں الگ تھلگ اور واضح رہی ہے۔ حتیٰ کہ یہ اس دور میں بھی واضح تھی جب حدیث کی مستقل تدوین نہیں ہوئی تھی۔ جیسا کہ ثقات و ائمہ کا ایک بڑا طبقہ ہر دور میں احادیث کا حافظ تھا اور ان کا علم، حفظ و اتقان دیگر رواة کے حفظ کا میزان تھا۔

صحاح ستہ کی احادیث کے اِستقراء سے ثابت ہوتا ہے کہ اکثر احادیث یا تو پانچ واسطوں پر مشتمل ہوتی ہیں یا چھ واسطوں پر۔ اس حساب سے اگر ہم اندازہ لگائیں تو حدیث دورِنبویؐ سے لے کر صحاحِ ستہ کے مصنّفین تک چھ طبقوں میں منقسم ہوسکتی ہے ۔ یہ طبقے تقریب کے لئے ہیں ، نہ کہ تحقیق کے لئے۔

پہلا طبقہ کبار صحابہؓ اور صغار صحابہؓ کا ہے۔ اہل سنت کااجماع ہے کہ تمام صحابہ عادل ہیں کیونکہ صحابہ کرامؓ نے مکی اور مدنی دور کے اندر دین کی خاطر شجاعت، جاں نثاری ، ایثار اور قربانیوں کی عظیم داستانیں رقم کیں اور اللہ تعالیٰ نے موقع بہ موقع صحابہ کرامؓ کو تعریف و تحسین سے نوازا۔ اس طبقہ کے اندر حدیث مکمل طور پر سینوں میں موجود تھی اور چند صحابہ نے اپنی ذاتی یادداشت کے لئے حدیث کو لکھا ہوا بھی تھا۔ صحابہؓ کے حفظ و اتقان کے حوالے سے عقلی گفتگو ممکن ہے، لیکن راویوں کے حفظ و اتقان کے متعلق جو باتیں ہم پہلے بیان کرچکے ہیں ۔ اس کی روشنی میں صحابہؓ کے حفظ و اتقان کو بھی عقلی اعتبار سے پرکھا جاسکتا ہے۔

صحابہ کے بعد دوسرا طبقہ کبار تابعین کا ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو براہِ راست صحابہؓ کی گود میں پل کر جوان ہوئی۔ استقراء سے ثابت ہوتا ہے کہ کبار تابعین میں ضعیف راویوں کی تعداد گنی چنی ہے اور باقی تمام تابعین حفظ و اتقان اور عدالت میں مضبوط تھے۔ اس دور میں حدیث کے اندر کذب گوئی کا رواج نہ تھا اور حدیث کی سندبیان کرنے کا رواج بھی نہ تھا اور حدیث کی خاطر لمبے لمبے رحلات اور اسفار کی بھی کوشش نہ کی گئی۔ ہر بزرگ تابعی نے اپنے اُستاد صحابی کی مسند سنبھالی۔اس دور میں کبار تابعین کاحفظ واتقان کمال درجے کاتھا اور ان میں درجہ بندی ممکن نہ تھی، کیونکہ روایات محدود تھیں اور اساتذہ بھی محدود تھے۔اس دور میں حدیث کو انفرادی تحریری یادداشت کی شکل میں حفظ کرنے پر زور دیا گیا۔

کبار تابعین کے بعد صغار تابعین کا طبقہ ہے۔ اس طبقہ میں حدیث محدود سینوں سے نکل کر لاتعداد سینوں میں منتقل ہوئی۔ سندوں میں تعدد اور طوالت پیدا ہوئی۔ راویوں کی درجہ بندی ہوئی، کذب گوئی کا رواج ہوا۔ حدیث کی تدوین کی پہلی کوشش امام زہری کے سپرد ہوئی۔ رحلات کا آغاز ہوا۔ ضعیف راویوں اور ضعیف روایتوں کی بدولت جرح و تعدیل کا آغاز ہوا۔ اس طبقہ میں بھی مجموعی طور پر حفظ و اتقان باقی طبقوں کی بہ نسبت بہتر ہے۔

تابعین کے بعد کبار تبع تابعین کا طبقہ ہے۔ سندوں میں طوالت اور تعددِ طرق کی وجہ سے جب احادیث کا ضعف بڑھا تو حفاظ کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگیا۔ کذب گوئی رائج ہوئی تو ثقات راویوں کی تعداد بھی بڑھ گئی اور ہر ہر علاقہ میں جرح و تعدیل کے مستقل امام اُبھر کر سامنے آگئے اور اس دور میں ہر بڑے عالم نے اپنی ایک مسند تحریر کی جن میں مشہور ترین مسندات و کتب امام مالک اور ان کے بیسیوں معاصرین کی ہیں ۔

٭ اگلا طبقہ صغار تبع تابعین کا ہے۔ اس طبقہ میں سند طویل ہوگئی اور طرق متعدد ہوگئے۔ خطا کے امکانات بڑھ گئے۔ ضعیف راوی بکثرت پھیل گئے۔ موضوع روایات کا چرچا ہونے لگا،لیکن اس کے مقابلہ میں ثقات راویوں کی تعدد بھی بڑھ گئی۔ حفاظِ حدیث کو مستقل کتابیں میسر آئیں ۔ جرح و تعدیل کا فن پہلی دفعہ مدوّن ہوا جس میں سابقہ تمام طبقوں کے کمزور رواة پرتبصرہ کیا گیا۔ امام یحییٰ بن سعید قطان پہلے مستقل مدوّن تھے۔ کتب ِاحادیث کے حواشی وتعلیقات پر ضعیف راویوں کا تذکرہ کیا گیا۔

مصنّفین صحاحِ ستہ کے اساتذہ کا دور: اس دور میں احادیث فی نفسہٖ محدود و معین تھیں لیکن مختلف سندوں کی وجہ سے ایک ایک متن سینکڑوں سندوں سے مروی تھا جس کی وجہ سے مجموعی طور پر روایات کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی۔ ان روایات میں اسناد اپنی ابتدا میں غریب یا عزیز تھیں ، لیکن بعد والے طبقوں میں مشہور، مستفیض اور متواتر ہوگئیں ۔ سندوں اور متنوں میں اِضطراب، قلب، وہم اور اِدراج وغیرہ واقع ہونے لگا۔ لیکن ثقات کی تعداد بھی سابقہ طبقوں کی تعداد سے کئی گنازیادہ ہوگئی۔ جرح و تعدیل کے امام بکثرت پیدا ہوگئے۔ راویوں کے حالات پر کتابیں لکھی گئیں ۔ ہم عصر اور ماضی کے رواة کاجائزہ مختلف احادیث کے حواشی سے لیا گیا یاجرح و تعدیل کے اماموں سے سینہ بہ سینہ لیا گیا۔ اس دور میں جرح و تعدیل مکمل طور پر مدوّن ہوگیا۔ مشہور امام تین تھے: یحییٰ بن معین، علی بن مدینی اور احمد بن حنبل۔ اس دور کے اندر ہر بڑے محدث نے اپنی مسموعات کو باقاعدہ کتاب کی شکل دی۔ چنانچہ حدیث کی کتابوں کی تعداد سینکڑوں ہوگئی۔

مصنّفین صحاحِ ستہ کا دور:اس دور میں صحیح احادیث کو اور نسبتاً قوی ترین احادیث کو الگ تھلگ جمع کرنے کا سوچا گیا۔ چنانچہ صحاحِ ستہ کا وہ مجموعہ سامنے آیا جو احادیث کی تمام کتب کے درمیان اعلیٰ ترین حیثیت رکھتے ہیں ۔ صحاحِ ستہ کی موجودگی میں سابقہ بعض حدیث کی کتابوں کی ضرورت نہ رہی۔ چنانچہ وقت گزرنے کے ساتھ ان میں سے کچھ ضائع ہوگئیں اس طرح سے جرح و تعدیل پر سب سے پہلا تفصیلی کام امام بخاری نے کیاجس کی موجودگی میں جرح و تعدیل کی سابقہ کتب بتدریج متروک ہوگئیں ۔11

صحاحِ ستہ کا فنی حکم
تدوینِ صحاحِ ستہ کے بعد ہر دورکے محدثین، حدیث کی کتابوں کے استقرا کے بعد یہ ثابت کرتے ہیں کہ حدیث کی تمام کتابوں کی بہ نسبت مشہور چھ کتابیں بلند ترین صحت کی حامل ہیں اور کچھ معمولی مقدار کے علاوہ تمام صحیح اورحجت احادیث ان میں جمع ہوگئی ہیں ۔ ان کتابوں کے نام معروف ہیں : صحاحِ ستہ مںن لفظ صحاح، حدیث ِمقبول کے معنی میں ہے اور ان کتابوں کو صحاح علی وجه التغلیب کہتے ہیں ، وگرنہ ان کے اندر کچھ ضعیف احادیث بھی موجود ہیں ۔ ان صحاحِ ستہ میں بلند ترین کتب صحیح بخاری و مسلم ہیں ۔ ان کے بعد سنن ابوداؤد اور نسائی ہیں پھر جامع ترمذی اور ابن ماجہ کا درجہ ہے۔ آخری مذکور چاروں کتب'سنن اربعہ' بھی کہلاتی ہیں ۔ ان چاروں کتب کی اکثر احادیث حسن درجے کی ہیں جو علماء محدثین کے نزدیک حجت ہیں ۔

٭ علماے محدثین کے نزدیک صحاحِ ستہ سے ہٹ کر کسی کتاب میں صحیح حدیث کا ہونا ممکن ہے لیکن اس کا مرکزی متن صحاحِ ستہ میں ضرور مذکور ہوگا۔ ایسا بہت کم ہے کہ کوئی نئے متن والی حدیث صحاحِ ستہ سے ہٹ کر کسی کتاب میں آئی ہو۔12
درج بالا اُمور سے حاصل ہوا کہ اسلامی علم منقولات عقل، سائنس اور جدید علم نفسیات کی رُو سے مضبوط ترین بنیادوں پر قائم ہے اور اسلامی منقولات کا انکار عقل کے صریح منافی ہے۔
سمعی اعتبار سے بھی اسلامی منقولات پر عمل واجب ہے۔ اس کے وجوب کا انکار کرنے والا جمیع اہل سنت (صحابہ و سلف صالحین، حنابلہ، شوافع، مالکیہ، احناف، محدثین اور اہل ظاہر وغیرہ) کا بھی مخالف ہے۔ ھٰذا ما عندي واﷲ اعلم بالصواب


حوالہ جات
1.  تفصیل کے لئے دیکھئے :'برہان' کے مباحث، تفہیم المنطق از ڈاکٹر عبداللہ عباسی ندوی،تسہیل المنطق،عربی از عبدالکریم بن مراد اَثری، نیز دیگر منطق و اُصولِ فقہ کی کتب
2. تفصیل کے لئے دیکھئے: الاحکام از امام آمدی ج4، أبحاث المتواتر والخبر الواحد المحصول؛ امام رازی ج3؍ ص904؛ ارشاد الفحول از امام شوکانی ج1؍ ص167 و دیگر کتب ِاُصولِ فقہ
3. جدید دانشوروں کے مطالعہ کے لئے:دیکھئے :میزان از جاوید احمد غامدی: ص10 نیز اُن کے حدیث و سنت سے متعلق آڈیو، وڈیو لیکچرز
4. سائنس، فلسفہ اور مذہب کے اُصولی فرق کے لئے دیکھئے: مقدمہ کتاب' فلسفہ جدید اور اس کے دبستان' از ڈاکٹر سی اے قادر و دیگر
5. تفصیل کے لئے : 'نفسیات' از ڈاکٹر سی اے قادر؛ 'نفسیات' کرامت حسین ؛ ' نفسیات' برائے بی اے از ٹی ایم یوسف ... مباحث ِحافظہMemory
6. مبادیٔ تدبر حدیث از امین احسن اصلاحی، باب6 :'سند کی عظمت اور اس کے بعض کمزور پہلو'
7. تفصیل کے لئے: تہذیب الکمال از علامہ مزی؛ تہذیب التہذیب ازحافظ ابن حجر و دیگر کتب اسماء الرجال نیز دفاعِ حدیث پر جدید فکری کتب جیسے اہتمام المحدثین بنقد الحدیث از ڈاکٹر لقمان سلفی، السنة ومکانتھا في التشریع الإسلامي از ڈاکٹر مصطفی سباعی، القرآنیون وشبھاتھم حول السنة از ڈاکٹرخادم حسین الٰہی بخش وغیرہ
8. تفصیل کے لئے : تقریب التہذیب از ابن حجر عسقلانی تقدیم محمد عوامہ ، دارالرشید ، شام
9. تفصیل کے لئے دیکھئے: الرفع والتکمیل في الجرح و التعدیل از عبدالحی لکھنوی ،مقدمہ تقریب التہذیب بتقدیم محمد عوامہ و دیگر اسماء الرجال کے اُصولوں کی کتب
10. تفصیل کے لئے دیکھئے: میزان ص7 از جاوید احمد غامدی؛ مبادیٔ تدبر حدیث ازامین احسن اصلاحی نیز دیکھئے الکفایة في علم الراویة، باب ذکر ما یقبل فیه خبر الواحد وما لایقبل فیه
11. تفصیل کے لئے دیکھئے: تاریخ حدیث پر مشہور کتب: 'تاریخ حدیث و محدثین' مترجم غلام احمد حریری؛ تاریخ التشریع الإسلامي از مناع القطان؛ اهتمام المحدثین بنقد الحدیث، از ڈاکٹر لقمان سلفی
12. تفصیل کے لئے دیکھئے: حجة اﷲ البالغہ از شاہ ولی اللہ باب طبقة کتب الحدیث۔ تقریب النووی از امام نووی النوع الأوّل: الصحیح مع تدریب الراوی از امام سیوطی ص99 و دیگر کتب اُصولِ حدیث