ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • اپریل
2009
حسن مدنی
'عدل و انصاف' کسی بھی مہذب معاشرے کے لئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے، پاکستانی قوم بھی اس وقت عدل کے دوراہے پر کھڑی ہے، جس کے قیام کے لئے ملک کی دو بڑی تحریکیں سرگرمِ عمل ہیں۔ ہر دو تحریکوں کا پس منظر، نوعیت اور ہدف گو مختلف ہے لیکن دونوں کا اساسی نعرہ اور مطالبہ 'عدل کا قیام' ہے۔ 15؍ فروری کو سوات میں شرعی نظامِ عدل کے قیام کا معاہدہ ہو، یا 15؍ مارچ کی شب ملک میں آزاد عدلیہ کا قیام، یہ دونوں اپنی اپنی نوعیت کے اہم سنگ ہائے میل ہیں جن کے اثرات تادیر
  • اپریل
2009
محمد زکریا الزکی
پیش نظر مضمون میں فاضل مقالہ نگار نے بالکل نئے ڈھنگ میں علم اُصولِ حدیث کو عین عقلی تقاضوں کے مطابق درست ثابت کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا واجب الاتباع ہونا ایک ایمانی حقیقت اور دین اسلام کا اساسی تقاضاہے، لیکن ایک تاریخی حقیقت کے طورپر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامینِ مقدسہ کو اُمت ِاسلامیہ درست طورپر محفوظ کرنے میں کامیاب رہی ہے یا نہیں ؟ اس مضمون میں اسی پہلو کو موضوع بحث بناتے ہوئے ثابت کیا گیاہے کہ صدیوں کے انسانی
  • اپریل
2009
زاہدہ شبنم
''میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعضاے شریفہ میں سے ایک عضو ہے۔ میں اس سے پریشان ہوئی اور رسول اللہ کے پاس حاضر ہوئی اور آپ سے اس واقعہ کا تذکرہ کیا تو آپ ؐنے فرمایا: اچھی بات ہے، فاطمہ ایک لڑکا جنے گی تو تم اپنے بیٹے قثم کے دودھ کے ذریعے اس کی کفالت کرو گی۔ وہ کہتی ہیں کہ فاطمہ نے حسن کو جنم دیا اور اسے میرے سپرد کر دیا۔
  • اپریل
2009
ذوالفقار علی
چونکہ لوگوں کے ما بین لین دین کے تمام معاملات میں مرکز و محور زَر ہی ہوتاہے، اس لئے ہر معاشی نظام میں زر اور اس کے متعلقات کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ زَر کی اس اہمیت کے پیش نظر علماے اسلام نے بھی اپنی تحریری کاوشوں میں اس موضوع کے تمام پہلوؤں پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ اسلام کے قرونِ اُولیٰ میں قانونی زر سونے،چاندی کے سکوں (دنانیر و دراہم) کی شکل میں ہوتاتھا مگر دورِ حاضر میں تمام ممالک کے مالیاتی نظام کی اساس کاغذی کرنسی ہے، سونے چاندی کے سکے پوری 
  • اپریل
2009
رفیق احمد بالاکوٹی
اسلام کی طرف منسوب مروّجہ بینکاری نظام کو ملک کے جمہور اہل فتویٰ، خلافِ شریعت قرار دیتے ہیں۔ اس رائے کے متفقہ اظہار کے لئے 25؍شعبان المعظم 1429ھ بمطابق 28؍اگست2008ء کو ملک کے چاروں صوبوں کے مشہور و معروف اربابِ فقہ و فتاویٰ کاایک اجتماع شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان کے زیر صدارت، جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کراچی میں منعقد ہوا۔
  • اپریل
2009
شعیب عالم
دورِجدید میں 'ڈیجیٹل سسٹم' کے نام سے ایک نیانظام متعارف ہواہے۔ یہ نظام اپنی فنی تکنیک میں سابقہ تصویر ی نظام سے قدرے مختلف ہے،کیونکہ پرانے نظام میں پہلے کیمرے کے ذریعے کسی منظرکاعکس لے کرریل پر محفوظ کیاجاتاتھااورپھراسے کیمیائی عمل سے گذاراجاتا اور پھر کسی پردے یاکاغذوغیرہ پرتصویر کوحاصل کیا جاتاتھا۔ جب کہ اس نئے نظام میں کسی منظرکی روشنیوں کو ہندسوں کی صورت میں محفوظ کرلیاجاتاہے
  • اپریل
2009
محمد رفیق چودھری
جناب غامدی صاحب نت نئے طریقوں سے حدیث کی حجیت کا انکار کرتے ہیں :کبھی وہ حدیث اور سنت میں تفریق پیدا کرتے ہیں ۔کبھی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوۂ حسنہ اور حدیث دو الگ الگ اور مختلف چیزیں ہیں ۔کبھی فرماتے ہیں کہ حدیث سے دین کا کوئی عقیدہ، عمل اور حکم ثابت نہیں ہوتا۔کبھی ارشاد ہوتا ہے کہ سنت، خبر واحد (اخبارِ آحاد) سے ثابت نہیں  ہوسکتی اس کے لیے تواتر شرط ہے۔ اس طرح وہ مختلف حیلوں بہانوں سے حدیث کی اہمیت گھٹانے اور اسے دین اسلام
  • اپریل
2009
محمد زبیر
ماہنامہ 'اشراق' مارچ 2009ء کے شمارے میں پروفیسر خورشید صاحب کا مضمون'چہرے کا پردہ احادیث و آثار کی روشنی میں' میں شائع ہوا۔ ایک زمانے میں جبکہ پروفیسر صاحب چہرے کے پردے کے موضوع پر ماہنامہ 'اشراق' میں لکھ رہے تھے، ہم نے اُنہیں یہ مشور ہ دیا تھاکہ اگر واقعتا وہ اس موضوع پر کوئی سنجیدہ اور علمی کام کرناچاہتے ہیں تو وہ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ کی کتابوں: جلباب المرأۃ المسلمۃ اور الردّ المفحم کا ترجمہ کر دیں۔
  • اپریل
2009
سمیع الرحمن
کسی قوم یا ملک کی ترقی میں تعلیم اور تحقیق کا کردار اہم ہوتا ہے۔ جس کے لیے بطورِ مسلمان ہمارے لیے سیرت النبیاہی اُسوۂ حسنہ ہے۔ سیرت النبی ا پر انفرادی ، ادارہ جاتی کتب و رسائل کی اشاعت کے ساتھ علمی تحقیق کے لیے قومی سطح کی جامعات نہایت اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ پاکستانی جامعات میں ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر دیگر موضوعات کے علاوہ سیرت النبی ا پر تحقیقی مقالے لکھوائے جاتے ہیں
  • اپریل
2009
شیخ مزمل احسن
پرویز جب مشرف بہ حکم رانی ہوا کہ فضا سے زندہ اترا تھا تو بالکل حق کے اُس ضیاء کے برعکس جو فضا میں راہیٔ ملک بقا ہوا تھا، پاکستان کو روشن خیال بنانے کے لیے ہم پیالہ و نوالہ و خیالوں کواکٹھا کیا تو انہوں نے بے حیاؤں کی دوڑیں لگوا دیں یہ کہہ کر حیا والے آنکھیں اور گھروں کے در بند کرلیں یا بے حیاؤں کے ساتھ مل کر حکم رانوں کو راضی کرلیں ۔ چاہے عرش عظیم کا رب مالک الملک ناراض ہوجائے۔