میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

حکومت کا روایتی اور اسلامی نظریہ
ہمیشہ سے انسانی معاشروں کو طاقت وغلبہ اور حاکم ومحکوم کے ذریعے منظم کیا جاتا رہا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں ایک غالب طاقت کے احکام، دوسروں کو تسلیم کرنا پڑتے ہیں اور وہی محکوموں کے حقوق کا تعین کرتا ہے۔ ماضی میں غالب عسکری ، مالی یا نظریاتی قوتیں کمزوروں پر غلبہ جما کر اُنہیں اپنے مفاد پر مبنی قوانین وضوابط کا پابند کردیتیں اور ان کے جان ومال پر قابض ہوجایا کرتی تھیں۔
اسلام نے انسانوں میں فطری حاکمیت کو جاری تو رکھا کہ دباؤ کے بغیر انسان سدھار پر قائم نہیں رہتا، لیکن غلط وجوہات کی بنا پر حکومت کے ناجائز طریقوں جیسے جاگیرداری ، بادشاہت اور پاپائی نظریات کی کھلی نفی کی۔ اسلام نے حاکمیت کے نظریے کو ایک جیسے اوصاف کے مالک انسانوں کے ظلم وتعدی سے نکال کر ،مخلوقِ انسانی کےلئے رضامندی اور آزادی سے اللّٰہ تعالیٰ کی حاکمیت قبول کرنے کا عقیدہ پیش کیا۔ دعوت وتلقین کے ذریعے جو انسان اس کو مان لیتا ہے، وہ مطیع ومتبع (مُسلم) قرارپاکر، اپنی پوری انفرادی واجتماعی زندگی اللّٰہ کی ہدایت کے تحت بسر کرنے کا عہد کرتا ہے۔ جو لوگ اس ہدایت کو نہیں مانتے، طاقت میسر آنے کے بعد اسلام مسلمانوں کو جہادِ کفار کی ہدایت دیتا ہے کیونکہ کسی معاشرے میں بھی انسانوں کو اپنے جیسے انسانوں پر جبر وتسلط کا کوئی حق نہیں اور یہی بات جنگِ قادسیہ 15ھ میں سیدنا ربعیؓ بن عامر نے وقت کی سپرپاور کسریٰ کے جرنیل رستم فرخزاد کو کہی تھی کہ ’اسلام کا مقصد اللّٰہ کے بندوں کو ، اس کے ظالم بندوں کی غلامی سے نکال کر اللّٰہ کی بندگی میں دینا‘[1] ہے۔
اللّٰہ جل جلالہ کی اس عبادت وطاعت کو ہر معاشرے کے سماجی قانون Public Lawمیں جاری وساری کرنا جہاد کا مقصد ہے جبکہ انفرادی طور پر ہر انسان بلاجبر واکراہ جو بھی نظریہ اختیار کرے، اُسی پر اس کی ذاتی فلاح و نجات کا دار ومدار ہے۔ اللّٰہ کی حاکمیت کا علم : اللّٰہ کی کتاب، اس کے رسولﷺ کی ہدایات اور اس کے بہترین پیروکار صحابہ کرام ﷢ کے اجتماعی معمولات سے ہوتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کی حاکمیت کو ہردور میں اس کے نبی مکرم ﷺکا سیاسی جانشین خلیفہ، اللّٰہ کے دین پر عمل پیرا اور علوم نبوت کے وارث علماے ربانی(ارکانِ شوریٰ) کی مشاورت کے ساتھ مل کر نافذ وجاری[2] کرتا ہے۔ نازل شدہ احکام کو براہِ راست اور تدبیر ی اُمور میں شوریٰ کی مشاورت کے ذریعے خلیفہ مسلمانوں اور ان کی امان میں آنے والے کفار پر اللّٰہ کی ہدایات کو اس لئے جاری کرتا ہے تاکہ اُن کے دین ودنیا ، ہر دو کی دائمی، ہمہ نوعیتی اور مکمل صلاح وفلاح ہوجائے۔
حکومت کا الحادی متجددانہ نظریہ
معلوم تاریخ سے دو،تین صدیاں پہلے تک، دنیا میں حاکم ومحکوم کے اسی نظریے پر عمل ہوتا رہا اور نظریاتی بنیادوں پر ہی حکومت وممالک تشکیل پاتے رہے۔ تاآنکہ باغی انسانوں نے ظالم حکام کے ساتھ ساتھ ، اپنے خداے واحد وبرتر کی عبادت وطاعت سے بھی آزادی کا نعرہ لگایا، اور انسان کی حاکمیت کے نام پر ، بیرونی غلبہ وتسلط کی بجائے انسانوں کی داخلی؍ ذاتی پسند وناپسند کو حکومت کی بنیاد قراردیا۔ اب ظاہر ہے کہ تمام انسان تو حکومت نہیں کرسکتے، نتیجتاً ماضی کے جابر وطاقتور حاکم کا شاکی باغی انسان اکثریتی اور غالب عوام کی حکومت وتسلط کا نعرہ لگانے پر مجبور[3] ہوگیا۔ اور اس نے نظریاتی معاشروں کی بجائے، زمینی ؍وطنی حدبندیوں میں اپنے آپ کو بانٹ لینے کا نعرہ لگایا۔اپنے خالق ربّ کریم کے باغی ومنکر (کافر) انسان نے زندگی کے ہر میدان میں خباثت وشیطنت کو پروان چڑھایا، جیسے کھانے میں خنزیر جیسی نجاست، پینے میں شراب جیسی بدبو دار چیز(جو شرفِ انسانیت عقل کی دشمن ہے)، سننے میں فسق وفجور پر مبنی میوزک، جھوٹ پر استوار مردو زَن کے صنفی رشتے ، تعلقات میں بدکاری اور جسم فروشی ، محرم رشتوں میں جنسی تعلقات، مردوزَن کے جوڑے کی بجائے ہم جنس پرستی، جانوروں سے بدکاری ، فحاشی وعریانی اور بدنظری کو ایک تہذیب کا درجہ دینا، دنیامیں آنے سے قبل رحم مادر میں اسقاطِ حمل کے ذریعے کروڑں انسانوں کو ہلاک کردینا، ڈے کیئر کے ذریعے معصوم بچوں کو مامتا سے محروم اور اولڈ ہاؤسز کے ذریعے بوڑھوں کو اولاد واعزہ کے شفیق تعلق سے دور کرنے کا ظلم ،اعتقاد میں اللّٰہ کو چھوڑ کر خود ساختہ سیکڑوں دیوتاؤں، تثلیث کے تین خداؤں، اللّٰہ کی فرضی اولاد کے یہودی وعیسائی مشرکانہ دعؤوں، محسن انسانیت ﷺ کو دہشت گرد اور ان کی مسلسل توہین کو انسانی حق سمجھنا، قرآنِ مجید کو صحیفہ رحمت کی بجائے انسانیت دشمن کتاب بتانا اور اُسے نذرِ آتش کرنا، انسانیت کو مہلک ترین ہتھیاروں کا تحفہ اور دنیا بھر میں موت کی سوداگری کرنا، عراق، افعانستان، کشمیر، برما، انڈیا، چیچنیا، بوسنیا، دو عالمی جنگوں، ہیروشیما، ماسکو اور بیجنگ میں کروڑوں[4] انسانوں کوصفحہ ہستی سے مٹانا، معیشت میں سود وٹیکس کے ذریعے غریب انسانوں کے وسائل کو صرف ایک فیصد سے کم انسانوں میں بانٹ دینا، اور قمار بازی کے ہر سو پھیلے اڈّے Casinosوغیرہ۔
اللّٰہ کی نعمت کا استحصال کرنے والے پرآسائش لوگوں کے چند سالہ دنیوی زندگی کے خود ساختہ حقوق کی محافظ اس تہذیب ِ مغرب نے اپنے گوناگوں مظالم کے ساتھ یہ نعرہ بھی لگایا کہ ’’غلبہ وطاقت کی بجائے، اب معاشروں میں حکومت کا معیار انسانوں کے ذاتی فیصلے یعنی حق خو دارادی ؍ استصوابِ رائے ؍ ووٹنگ ہوگی۔‘‘ تہذیبِ حاضر کا بھیانک پہلو یہ ہے کہ مذکورہ بدترین مظاہر کی حامل قوتوں نے طاقت حاصل کرکے، اقوام متحدہ United Nationsکے نام سے اپنے مفادات کا محافظ ایک ادارہ تشکیل دیا، جس نے مغربی طاقتوں کی پشت پناہی اور منصوبہ بندی سے دنیا میں پہلی بار دو صد ریاستوں پر ایک کفریہ اور جابرانہ عالمی نظام بھی تشکیل دے لیا ۔ عالمی جنگوں کے بعد طاقتور حکومتوں نے مسلسل معاہدوں اور ادارتی صف بندی کے ذریعے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر اپنی طاقتوں کو یوں منظم کیا کہ دیگر ریاستوں کو ان کے وضع کردہ اُصولوں پر قیام، بقا، اور عالمی روابط کی اجازت ملی۔ یہ ادارہ کوئی خودکار وجود نہیں رکھتا، بلکہ امریکی صدر نے یالٹا کانفرنس 1945ء میں جنگِ عظیم دو م کی دو فاتح طاقتوں: برطانیہ اور روس کے سربراہوں کے ساتھ ملاقات میں اپنے تمام مطالبات کو اقوام متحدہ پر مرکوز کیا اور دنیا کو منظم کرنے اور اپنے ڈھنگ پرچلانے کی منصوبہ بندی[5] کی،جبکہ اس سے قبل جنگ عظیم اوّل کا نتیجہ چھ صدیوں پر محیط عظیم اسلامی سلطنت: خلافتِ عثمانیہ کی شکست وریخت کی صورت نکل چکا تھا۔ اقوام متحدہ کی لازمی شرائط کی پاسداری کرتے ہوئے سیکڑوں ریاستیں وجود میں آئیں اور اقوام متحدہ کا ’عالمی منشور برائے حقوق انسانی ‘ان ریاستوں کا آسمانی صحیفہ قرار پایا ، اور اس کو تسلیم نہ کرنے والا تہدید وتعذیب کا مستحق ٹھہرا۔ اقوام متحدہ نے 1948ء کے نام نہاد’عالمی منشور انسانیت‘ UNHR میں تمام مغربی طاقتوں کی تائید سے اپنایہ فریضہ قرار دیا کہ
Article 21: (1) Everyone has the right to take part in the government of his country, directly or through freely chosen representatives.
(3) The will of the people shall be the basis of the authority of government; this will shall be expressed in periodic and genuine elections which shall be by universal and equal suffrage and shall be held by secret vote or by equivalent free voting procedures.
’’آرٹیکل 21:(1) ہر شخص کو اپنے ملک کی حکومت میں براہ راست یا آزادانہ طور پر منتخب کئے ہوئے نمائندوں کے ذریعے حصہ لینے کا حق ہے۔
(3) عوام کی مرضی حکومت کے اقتدار کی بنیاد ہوگی۔ یہ مرضی وقتاً فوقتاً ایسے حقیقی انتخابات کے ذریعے ظاہر کی جائے گی جو عام اور مساوی رائے دہندگی سے ہوں گے ۔ اور جو خفیہ ووٹ یا اس کے مساوی کسی دوسرے آزادانہ طریق رائے دہندگی کے مطابق عمل میں آئیں گے۔ ‘‘
اسلام کی رو سے نہ تو ہرفرد اقتدار میں آنے کا حق رکھتا ہے، بلکہ یہ حق کی بجائے ان لوگوں کا فریضہ؍ خدمت ہے جو اہلیت: قوت وامانت میں عام مسلمانوں سے ممتاز ہوں۔ اور نہ ان کا تقرر عوام کی ووٹنگ کی بنا پر ہے۔ راقم نے اس موضوع پر شرعی دلائل سے مزین دو جامع مضامین میں اس موقف کے مثبت دلائل جمع کرکے ، شبہات واعتراضات کا ازالہ کردیا[6] ہے۔ یہ دونوں حقوق اسی اللّٰہ سے باغی انسان(ہیومن ازم) کے مادرپدر تصورِ آزادی کا نتیجہ ہیں، جو انکار(کفر) کے مظہر اور اسلام (اطاعت) کے نقیض ہیں۔ سادہ الفاظ میں مادرپدر آزادی کا نتیجہ معاشرتی حاکمیت کے نظریۂ حق خود ارادی ؍ استصوابِ رائے میں نکلتا ہے اور اسلام میں اللّٰہ کی حاکمیت کا نتیجہ الٰہی حاکمیت کے تقاضے: دعوت وجہاد کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
جب حق خود ارادی Self Determinationاور انسان پرستی Humanismسیاسی نظریے میں ڈھلتی ہے تو معاشروں کو اپنےمن چاہے نظریات کی بنا پر تشکیل دیتی ہے۔ اور مخصوص علاقوں میں بٹ کر اکثریت کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ اقلیت پر اپنی حکومت قائم کرلے۔ جبکہ نفس مسلم جب دعوت کے نتیجے میں اسلام کو قبول کرکے، بندگی وطاعت کا راستہ اختیار کرتا ہے، تو اپنی ذات کو اسلام پر کاربند کرنے کے لئے ’نفسی جہاد‘(جهاد بالنّفس )اور پھر دوسروں سے ظلم کا خاتمہ کرنے کے لئے ’اقدامی جہاد ‘کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
قومی ریاستوں (National States) کا نظریہ جہاں انسانیت میں جذبۂ ہمدری کی بجائے اپنے اپنے مفادات اور خود غرضی کا داعی ہے،وہاں عدل وانصاف اور خوبیوں کی بجائے نسلی قرابت کی بنا پر فیصلوں کا مطالبہ کرتا ہے ۔ یہ نظریہ خود سری اور حقارت کو پروان چڑھاتا ہے اور وطن پرستی نے انسانیت کے زر خیز کھیت کو نامعقول سیمنٹ سے بنی دیواروں میں بانٹ کر انسانی اتحاد کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ قائم کر دی ہے۔ قومی ریاستوں کا اعجاز ہے کہ تاریخ میں پہلی بار نظریاتی حکومتوں کے بعد ، مفاد پرستانہ وطنی ریاستوں کی تعداد دو صد سے تجاوز کرچکی ہے۔ ماضی میں اسی وطن پرستی نے برطانیہ وفرانس، ہالینڈ اور سپین اور پھر جنگ عظیم اول ودوم کی صورت میں قتل وغارت کی درد ناک مثالیں قائم کی ہیں۔
حال میں ایک انسان کی شناخت ، انسانیت کی بجائے علاقہ وریاست کی مرہون منت ہے، جس کے بعد بالاتر قوم کے جانور بھی محکوم قوم کے انسانوں سے اہم تر ہوجاتے ہیں۔ بلند بانگ عظمت کے دعویدار انسانی حقوق کا انحصار بھی انسان کی بجائے شہریت پر ہے، اور اسی شہری کو حقوق دینے کی ریاست پابند ہوتی ہے، جو اس کی حدود میں آتا ہو۔ اس ظلم کا نتیجہ ہے کہ برما اور لیبیا کے انسان بپھرے سمندروں پر تختوں کے سہارے چھوڑ دیے جاتے اور ’مہذب دنیا ‘ ان کو انسان سمجھ کر قبول کرنے سے انکاری ہوجاتی ہے۔ گویا انسانی حقوق دراصل ’شہری حقوق‘ ہیں۔
ہر ملک میں دو، تین لاکھ لوگوں کا گروہ جب چاہے منظم ہوکر، اپنے سیاسی حقوق کی آوازبلند کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں عراق وایران اور ترکی میں بسنے والی کرد نسل کے مسلمان خلافتِ عثمانیہ کے تحت تو صدیوں پرسکون رہے، لیکن اب کردستان کے کے نام سے نئی ریاست کے لئے بڑھتے مطالبے آئے روز قتل وغارت اور جنگ وجدل کی فضا قائم رکھتے ہیں۔ ایسی ہی صورتحال بلوچستان کی بھی ہے ، گویا اقوام متحدہ کے نام نہاد انسانی حقوق نے ، انسان کو سیاسی اکائیوں میں تقسیم درتقسیم کی ترغیب دے کر نظریاتی وحدت اور انسانی اخوت کی بجائے مفادات اور خود غرضی کے ظالمانہ اور وحشیانہ نظام کو جاری وساری کردیا ہے۔ اسی اُصول کے تحت 2001 ءمیں انڈونیشیا سے عیسائی ’مشرقی تیمور ‘بنا اور 2011ء میں سوڈان سے ’جنوبی سوڈان‘ علیحدہ ہوچکا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے تحت انکارِ جہاد کا غیر شرعی ریاستی معاہدہ
انڈیا اور پاکستان کو بالترتیب 1949ء اور 1956ء میں آزاد ریاست کی حیثیت اس وقت ملی، جب اپنے دساتیر میں انہوں نے سرفہرست مغرب کے وضع کردہ انسانی حقوق کی پاسداری کو قانونی حیثیت دی۔ مذکورہ آرٹیکل کی دونوں شقیں اسلام اور مسلم روایات سے متصادم ہیں۔ اوربظاہر اقوام متحدہ کے اس ’مہذب فریضہ‘ کے بعد قائم ہونے والے قومی ریاست کے جبری نظام سے دنیا میں انسانوں کی ایک بڑی جماعت پر طاقت وقبضہ کے ذریعے حکومت کرنا ناممکن ہوگیا ہے، کیونکہ جو ملک بھی ایسا کرے گا، اس کو انسانی حقوق کی پامالی کے جرم میں، مغربی طاقتوں کی تائیدیافتہ اقوام متحدہ اور اس کی کفریہ سکیورٹی کونسل کے قہروعتاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عالمی جبری قانون کے اس آرٹیکل کا مطلب یہ بھی ہے کہ عملاً اقوام متحدہ کے ضوابط کی پاسداری پر قائم ہونے والی ریاستیں فریضہ جہاد سے منحرف ہونے کا عہد کرتی ہیں۔ اور کوئی بھی ریاست اقدامی جہاد یعنی طاقت کے ذریعے اللّٰہ کی حکومت کو قائم کرنے کا ’جرم ‘ کرنے کی مجاز نہیں رہی۔ یہی غیر شرعی معاہدہ پچاس سے زائد تما م مسلم ریاستیں بھی کرچکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام مسلم ریاستوں کے دساتیر میں جہاد کا نام ونشان بھی نہیں ملتا، اور ہر ملک میں وزیر جنگ کو ’وزیر دفاع‘ تو کہا جاتا ہے، ڈیفنس منسٹری تو ہوتی ہے، لیکن وزیر جہاد یا وزارتِ جہاد کا کسی مسلم ملک میں کوئی نام ونشان[7] نہیں ملتا۔
یاد رہے کہ متفقہ اسلامی احکام اور خیرالقرون کی مسلمہ روایت کے مطابق جہاد اقدامی بھی ہوتا ہے اور دفاعی بھی ۔ جہاد کو دفاع تک محدود کردینا ، مغربی طاقتوں کی آشیر بادسے بننے والی اقوام متحدہ کے بنائے عالمی نظام کا تقاضا ہے جو اسلام سے کھلا انحراف ہے۔ دوسری طرف اقدامی جنگ کی صلاحیت صرف انسانی حقوق کی نام لیوا، کفر کی سرکردہ طاقتوں پر مشتمل سیکورٹی کونسل کو حاصل ہے جو وہ افغانستان میں 2001ء میں طالبان اور پھر عراق میں داعش کے خلاف عملاً کرچکی ہے، جس کو جاوید غامدی جیسے سرپھرے مفکر ’اقوام متحدہ کا جہاد‘ قرار دینے سے نہیں چوکتے۔ نبوی اصطلاح کے ساتھ اس سے بڑا مذاق اور کیا ہوسکتا ہے؟
اقوامِ متحدہ کے اس جابرانہ وکفریہ قانون کا ہی شاخسانہ ہے کہ افغانستان وعراق میں امریکہ خود حکومت کرنے کی بجائے، وہاں کے کٹھ پتلی علاقائی صدور ؍ وزیر اعظم کو ان ممالک پر مسلط کرنے پر مجبور ہے۔ جہاں تک جہادِ افغانستان 1980ء کا تعلق ہے تو مغربی ممالک کے مفاد کی خاطر، دفاع کی حد تک جہاد کا نعرہ بلند کیا گیا، اور جب مغربی ایجنڈا پورا ہوگیا تو وہی جہاد دہشت گردی بن گیا۔ رہا پاکستان کا جہادِ کشمیر تو وہ پاکستان کا ایسا داخلی نعرہ ہے جس کا خمیازہ مغربی طاقتوں اور اقوام متحدہ کے FATFکی آشیر باد سے اب پاکستان کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
٭ مغرب کی الحادی اور سفاک و جابر طاقتوں کے بنائے عالمی ریاستی نظام نے جہاں عالمی سطح پر ملت کے جسد واحد کے نبوی مطالبے کو تارتار کردیا ہے۔ وہاں ہر مسلم ریاست کے اندر حق خود ارادیت کے لئے قائم سیاسی جماعتوں کے ذریعے مسلمانوں کو کلمہ حق کی بجائے اپنی اپنی پارٹی کی عصبیت کے خلافِ قرآن نظریے کا اسیر بنادیا ہے۔ اُمت کے ہر گروہ کو سیاسی مفاد کے نام پر ایک دوسرے سے نبرد آزما کرکے اسلامی اُخوت و ہمدردی کو پارہ پارہ کردیا ہے ۔پھر افسوس کہ کس طرح بعض تجدد پسند مسلمان جمہوریت کے اسی وطنی ، افتراقی اور سیاسی نظریے کو اسلامی باور کرانا چاہتے ہیں، جس نے حق خود ارادیت کے متبادل ’اسلام کی کوہان جہاد‘ کا بھی بوریا بستر لپیٹ دیا ہے ۔پھر علمی زوال کی انتہا دیکھیے کہ اُمت میں غیروں کی مرعوبیت کے مارے دانشور اُٹھتے اور ببانگ دہل لوگوں کو اسلام بتا کر ، اس کفر کی دعوت بھی دیتے ہیں کہ
’’جدید قومی ریاست کے بارے میں ایک بنیادی احساس روایتی مذہبی اذہان میں ہےکہ اسے قبول کرلینا جہاد کی تنسیخ تسلیم کرلینے کے مترادف ہے۔ قومی ریاست کے جدید تصور میں جہاد کی گنجائش نہیں کیونکہ کسی بھی بنیاد پر دوسری ریاست کی جغرافیائی حدود یا انتظام کار میں مداخلت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یوں جہاد اور قومی ریاست میں تباین پایا جاتا ہے۔... فقہ اسلامی کی روایتی اور کلاسیکی تعبیر کے تناظر میں ، مسلمان اور غیر مسلم ریاست کے مابین اصل تعلق جنگ کا ہی ہے۔ جدید قومی ریاست جہاد کی ذمہ داری میں ایک مانع کا درجہ رکھتی ہے۔ ... اس اصول پر دنیا کے اجتماعی اخلاقی ضمیر کا اجماع ہوچکا ہے اور کوئی طاقتور سے طاقتور حکومت بھی اس کی خلاف ورزی کرے تو اخلاقی اور قانونی طو رپر اس کا جواز تسلیم نہیں کیاجاتا۔‘‘ مختصراً [8]
مدیر ’الشریعہ ‘جناب عمار خاں کے اس مختصر مضمون میں جابجا مغالطے اور مغربی نظریات کو اسلام میں داخل کرنے کی ناروا کوشش ہے۔ پہلے تو جہاد کے’ روایتی اور کلاسیکل موقف‘ کی پھبتی کسی گئی ہے، یعنی سارے ائمہ فقہا ومحدثین کی تشریحات پر بیک جنبش قلم سیاہی پھیر دی گئی، کیا یہی ہے صحابہ کرامؓ اور ائمہ فقہا  کا احترام؟ پھر جہاد کو لازماً جنگ سے ہی تعبیر کیا گیا ہے، جبکہ مسلم سپہ سالار کے لئے مقابل کو دعوت وصلح کی پیش کش بھی شرع اسلامی کا ہی حصہ ہے۔ پھر اسلامی اصطلاح ’اجماع‘ کو پوری دنیا کے مسلم وکفار کے درمیان متفق بناکر پیش کیا گیا ہے، حالانکہ یہ اجماع کب ہوا ؟اور کس نے اسے قبول کیا اور کونسی اسلامی حکومت اس امر کی مجاز ہے کہ قرآ ن کریم کے مسلمہ حکم جہاد کو منسوخ قرار دینے کا عالمی معاہدہ کرے، اور بصورتِ اجماع بھی اس خلافِ قرآن عہد کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟کسی شرعی حکم پر فوری طور پر عمل پیرا نہ ہونا اور بات ہے، کہ ہر وقت ہر حکم زیر عمل نہیں ہوتا او راس کے اُصولی جواز پر اعتراض کرنا اور اس سے دستبرداری پر اپنے قومی دساتیر میں مفاہمت کرلینا بالکل اورچیزبلکہ سراسر تحریف ہے۔
پھر ان کے سرپرست میدان میں آکر اسلامی عقائد کو پامال کرتے ، حقائق سے نگاہیں چراتے اور کفر کی زبان بولتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں۔ کشمیر پر حالیہ بھارتی ظلم کے حوالے سے 23؍ اگست 2019ء کو بھارتی صحافی اروند سہارن کوویڈیو بیا ن دیتے ہوئے جاوید غامدی نے ارشاد فرمایا کہ
’’جہاد کسی مذہبی بنیاد پر نہیں بلکہ کسی اچھے مقصد کے لئے جدوجہد کرنے کا نام ہے جو ظلم وعدوان اور زیادتی کے خلاف ہوتا ہے، جیسا کہ طالبان کے خلاف2001ء میں 19 مغربی ممالک کی افواج نے اقدام کیا تو وہ عین جہاد ہے۔جب اقوام متحدہ جنگ کا حکم دے تو وہ جہاد ہوتا ہے۔‘‘[9]
اسلام کے نام پر مغربی مغالطوں کا فروغ
پیچھے مذکورہ نظریات وحقائق کو دیکھیں، اور مغرب پرستوں کی مغالطہ آرائیوں کوپڑھیں، اور اپنے علمی زوال کا نوحہ لکھیے کہ ایسا وقت بھی اُمتِ محمد ﷺپر آنا تھا کہ کھلم کھلا اسلامی احکام کا مذاق اڑایا جاتا، اور اسلامی شعائر کے نام پر کفرکا بول بولا کیا جاتا۔ علمی زوال کی انتہا دیکھیے کہ ہر دم فقہی جمود اور مسلکی فرقہ واریت کی دعوت دینے والے، جب مغرب نوازی پر آتے ہیں تو فقہا کے بارہ صدیوں پر محیط مسلسل موقف سے یہ کہہ کر جان چھڑانا چاہتے ہیں کہ یہ سارا تو دورِ عروج کافقہی بیانیہ ہے۔ ہمیں اب دورز وال کا فقہی موقف ازسرنوترتیب دینا ہوگا ۔کوئی زیادہ خودسر، اپنے مخصوص ماحول میں ائمہ کرام کا نام نہ لے سکیں تو اس ساری فقہ کو ’کلاسیکل فقہ‘ قرار دے کر، گویا امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک اور ائمہ محدثین رحمہم اللّٰہ اور ان کے نشانات قدم پر چلنے والے ہزاروں علما وفقہا کی سیکڑوں کتب پر محیط علمی ذخیرے پر بیک قلم خطِ تنسیخ پھیر دیتے ہیں اور اپنے تئیں اسلام کی اس روایتی تشریح سے پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن وسنت تو کسی مخصوص دور کے لئے نہیں اور قرآن وسنت کا ہر حکم ہر زمان ومکان اور ہر اُمتی کے لئے واجب الاتباع ہے۔ اب قرآن وسنت میں جہادِ اقدامی یا حاکم کے دینی فرائض پر دسیوں صریح آیات واحادیث موجو د ہوں تو کلاسیکل فقہ قرار دے کر اس سے پیچھا چھڑانا ایسے ہی ہے جیسا کہ آج کل لبرل لوگ قرآن وسنت کے دوٹوک احکام کو جب برا نہیں کہہ سکتے تو ان کی نشاندہی کرنے والے علماے کرام کی مذمت کرکے دل کی بھڑاس نکال لیتے ہیں۔
٭ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اسلام کیا شخصی آزادی کا قائل نہیں؟ اور کونسی مجبوری ہے کہ حق خو دارادیت اور مفاہمت کے ذریعے اسلام خطرے میں پڑجاتا ہے۔ تو اس کی وضاحت یہ ہے کہ اسلام انسان کو قبول اسلام سے قبل ہر طرح کی مذہبی آزادی دیتا ہے، لیکن اس بات کی آزادی نہیں دیتا کہ اسلام (اطاعت) کا نام لینے اور محمدﷺ کا کلمہ پڑھ لینے کے بعد ، وہ اعتقادی اور عملی نفاق کا شکار ہو۔ جی چاہے تو نماز پڑھے اور جی چاہے تو سود کا کاروبار چلائے۔ جی چاہے تو چوری سے بچے اور کبھی من چلے تو بدکاری بھی کرڈالے۔ اسلام ہم سے پورے دین میں داخل ہونے بلکہ ہر نظام ہی کامل اتباع کا مطالبہ کرتا ہے۔اور بعض دین کو ماننا ، بعض دین کو ترک کردینا قرآن کی رو سے نفاق ورسوائی اور آخرت میں عذابِ عظیم کا شاخسانہ ہے۔ اسلام کی ساری مفاہمت قبولِ اسلام کے وقت موجود ہے، لیکن پوری آزادی سے اسلام میں داخل ہونے کے بعد پھر اسلام کو ترک کرنا بھی قابل گردن زدنی ہے۔ اس کے بالمقابل جمہوریت ایک ایسا خودساختہ مغربی نظام حیات ہے جہاں ایک ہی معاشرے میں بیک وقت حاکم محکوم موجود ہوتے ہیں، اور اکثریت جس وقت جتنا قانون بنانا اور اختیار کرنا چاہے، اس کو قائم اور جاری کرسکتی ہے۔ چاہے تو زکاۃ کو جاری کردے، اور چاہے تو شیعہ کو مستثنیٰ کردے، اور چاہے تو سود کو سندِ قبولیت دے دے، چاہے تو جہاد دفاعی کوقبول کرے اور جہادِ اقدامی کو منسوخ کردے۔ لیکن کفر سے ایسی اُصولی مفاہمت، اسلام میں داخل ہونے کے بعد مسلمان کے لئے بالکل روا نہیں، بلکہ اللّٰہ کا پورے دین میں داخل ہونے اور کامل اطاعت کو اس کے لئے مختص کردینے کا مطالبہ ہے، جبکہ جمہوریت کا حاکمانہ نظریہ اس میں اُصولی تفریق قبول کرتا ہے۔
٭ کہا جاتا ہے کہ پاکستان جہاد کی بجائے اقوام متحدہ کے نظریہ خود ارادی پر قائم جمہوری ووٹوں کے نتیجے میں بنا، جن ووٹوں کو یکجا کرنے کے لئے آل انڈیا مسلم لیگ نے کلمہ طیبہ ’پاکستان کا مطلب کیا: لاالہ الا اللّٰہ‘ کا نعرہ لگایا تھا۔ اس طرح جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ثابت ہوئی، وہاں پاکستان کے نام سے علیحدہ ریاست بنانے کا فیصلہ ہوا۔ بہرطور پاکستان کا مطالبہ اور نظریہ اس پہلے جمہوری الیکشن 1937ء سے پہلے بھی علامہ اقبال پیش کر چکے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد قراردادِ مقاصد نے پاکستان کا رخ تو متعین کردیا جو بعد ازاں قومی دستور 1973 کا لازمی حصہ بھی بن گیا، لیکن عملاً ملک کو آزادی اقوام متحدہ کی گائیڈ لائن پر بنے ہوئے ایسے دستور پاکستان کی تشکیل 1956ء کے بعد حاصل ہوئی جس میں انسانی حقوق کو بالاترین حیثیت دی گئی تھی۔ بعدازاں 1973ء کے دستور میں اسلام کو بھی خصوصی ا ہمیت حاصل ہوگئی اور ملک کے دو نظریاتی محور قرار پائے۔
پاکستان میں اس اُصولی تفریق کا نتیجہ ہے کہ پورا ملک اپنی شناخت کی تلاش میں بھٹک رہا ہے۔ ہرہر حکومتی مرحلے اور ادارے میں دوغلا کردار جاری وساری ہے۔ ملک کے نام کے طور پر اسلامی اور جمہوریہ بیک وقت، دستور میں دیکھیں تو آرٹیکل 8 میں انسانی حقوق بالاترین، اور آرٹیکل 227 اور 203 میں شریعت بالاتر، قومی ترانے میں پاک سرزمین کا نظام ’قوتِ عوا م ‘میں مذکور ہے تو قرارداد مقاصد میں ’ اللّٰہ تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلاشرکت غیرے حاکم مطلق‘ہے۔ سیاسی نظام میں دیکھیں تو عوامی حاکمیت کے لئے ان کے نمائندوں پر مشتمل پارلیمان اور اسلامی مشاورت کے لئے علماے کرام پر مشتمل متوازی اسلامی نظریاتی کونسل ، عدالتوں کو دیکھیں تو انگریزی قانون کی پروردہ سپریم کورٹ اورہائی کورٹس اور ان کے متوازی وفاقی شرعی عدالتیں، قوانین کو دیکھیں تو چوری، زنا، شراب اور نکاح پر متوازی قوانین دستیاب ہیں۔ معاشی نظام میں دیکھیں تو سٹیٹ بنک کی سرپرستی میں بنکوں میں جاری سودی کاروبار اور کرنسی چھاپنے کا حکومتی کھیل، اور اس کے متوازی بیت المال، صوبائی زکوٰۃ کونسلیں بھی کام کررہی ہیں۔ تعلیمی نظام میں دیکھیں تو سیکولر تعلیم کو فروغ دینے والی یونیورسٹیاں اور کالجز، اور اس کے متوازی اسلامی نظام تعلیم کے نمائندہ بچے کھچے دینی مدارس کی حکومتی رجسٹریشن بھی جاری ہے۔ ابلاغی ذرائع میں الحادی نظریات کو پھیلانے والے ٹی وی چینلز کے ساتھ ساتھ، محدود دینی موضوعات کی تبلیغ کرنے والے مذہبی چینلز بھی آن ایئر ہیں۔ رہنمائی دینے کے لئے نام نہاد ٹی وی مذہبی سکالرز بھی دستیاب ہیں اور نکاح وطلاق کے لئے علما ے کرام کے فتویٰ بھی چل رہے ہیں۔ ان تما م متوازی اداروں میں غالب کون ہے اور برائے نام کردار کس کا ہے، اس کا تجزیہ ہم قارئین پر چھوڑتے ہیں۔ لیکن یہ ایک امر طے شدہ ہے کہ پاکستان جیسی اسلام کی تجربہ گاہ میں ہم نے ابھی تک اپنی سمت کا فیصلہ نہیں کیا، ہم دراصل رحمٰن کو راضی کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور شیطان کا ساتھ چھوڑنا نہیں چاہتے۔ اور ایک پرتعیش اور من چاہی زندگی کے ذریعے صحابہ کرام﷢ جیسے اُخروی نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں۔                       ٭٭
حوالہ جات:
[1]    الله ابتعثنا لنخرج من شاء من عبادة العباد إلى عبادة الله، ومن ضيق الدنيا إلى سعتها ومن جور الأديان إلى عدل الإسلام فأرسلنا بدينه إلى خلقه لتدعوهم إليه (البدایۃ والنہایۃ از حافظ ابن کثیر: جلد ہفتم،غزوہ قادسیہ)
[2]    جب اللّٰہ تعالیٰ کی مخلوق کا اسی کی عبادت وطاعت پر کاربند ہونا ہی اسلام ہے، تو اللّٰہ کی ہدایت میں انسانوں کا عمل دخل اتنا ہی ہے جس قدر مجبوری ہے۔ قرآن وسنت اور اجماع کے بعد حکا م وعلما اسلام یعنی اللّٰہ کی حاکمیت کو نافذ ورائج کرتے ہیں۔ اور حکام وعلما کا وہی اقدام ’اللّٰہ کا حکم‘ کہلا سکتا ہے جس میں وہ اللّٰہ کی منشاومراد تک درست طور پر پہنچے ہوں۔ جس کی صورت یہ ہے کہ حکام اپنے قوانین کی منفعت ،مقاصدِ شرع سے ہم آہنگی اور کتاب وسنت سے عدم مخالفت کو، اور علما اپنے شرعی موقف کی دلیل کو کتاب وسنت سے بیان کریں۔ بصورتِ غلطی ، حکام وعلما کی رائے ، اللّٰہ تعالیٰ کی بجائے انہی کی طرف منسوب ہوگی، اور اس کی دل سے حقیقی اتباع کرنا ضرور ی نہیں، تاہم فوری مصلحت کی خاطر ظاہری حد تک اس پر عمل بجا لایا جاسکتا ہے۔ یہی مقصد ہے امام ابن تیمیہ کے اس موقف کا: وَأُولُو الْأَمْرِ صِنْفَانِ: الْأُمَرَاءُ وَالْعُلَمَاءُ، وَهُمْ الَّذِينَ إذَا صَلَحُوا صَلَحَ النَّاسُ، فَعَلَى كُلٍّ مِنْهُمَا أن يتحرى بما يَقُولُهُ وَيَفْعَلُهُ طَاعَةَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَاتِّبَاعَ كِتَابِ اللَّهِ. (السياسة الشرعية: 127)کہ ’’مسلم معاشرے کے دو حاکم : علما اور امراء ہیں ،( پہلے نظریاتی وشرعی حاکم اور دوسرے واقعاتی وتدبیری حاکم )، اورمعاشروں کی فلاح وصلاح کا دارومدار ان دونوں پر موقوف ہے۔ اور دونوں کا فریضہ قرآن وسنت میں غور وفکر کرکے اللّٰہ کی منشا کی جستجوکرنا ہے۔ ‘‘اسی کو ایسی الٰہی حکومت(حکم شرعی) کہتے ہیں جس کا فرد ومعاشرہ کے مختلف میدانوں میں (اصولِ فقہ کی زبانی ) حاکم ہونے کے ناطے خالق عزوجل نے اپنی محکوم مسلمان مخلوق سے مطالبہ کیا ہے۔
[3]    آزادی کی نام لیوا جمہوریت کے اسی جابرانہ نظریے کو علامہ اقبال نے اس شعر میں بیان کردیا ہے: ؏
دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب                  تو سمجھتا ہے، یہ آزادی کی ہے نیلم پری
[4]    اگر مغربی تہذیب کے قیام میں کا م آنے والے انسانوں کی ہلاکت کا جائزہ لیا جائے تو ساری معلوم انسانی مذہبی تاریخ کی جنگوں کے مقتولین سے اس کی تعداد بلاشبہ سیکڑوں گنا متجاوز ہے۔ جمہوریت واشتراکیت نے اپنے قیام کے وقت کتنے نفوس کے خون سے ہاتھ رنگے اور قیام کے بعد مقدس نظریات کے نام پر جس طرح انسانیت کے خون کی ہولی کھیلی، اس کا شماریاتی مطالعہ ہی رونگٹے کھڑے کردینے والا ہے۔ جنگ عظیم اوّل ودوم:تین کڑوڑ، انقلاب روس؍ ماسکو 1917ء میں لینن نے دو کڑوڑ، چین میں ماؤزے تنگ کے 3کڑوڑ بہیمانہ قتل، پھر ان کے وضع کردہ قوانین جس طرح کروڑوں انسانوں کو وجود میں آنے سے قبل عالم عدم سدھارتے ہیں۔
اس سے قبل الحادی استعمارنے جس طرح دنیا بھر کی نوآبادیوں میں سفاکانہ مظالم کا ارتکاب کیا۔ جمہوریت کے نقطہ آغاز فرانسیسی انقلاب 1789ء کا شعار گلے کاٹنے والی’گلوٹین‘ مشین کا تذکرہ آج بھی تاریخی کتب میں بدترین بربریت کی داستان سناتا ہے۔ برصغیر میں انگریزی استعمار کسی جمہوری مکالمہ کے نتیجے میں نہیں ، بلکہ بدترین تشدد اور قتل وغارت ، مکاری وسفاکی اور سازش وفریب کے نتیجے میں قائم اور مستحکم ہوا۔ بنگال کے قحط، امرتسر کے جلیانوالہ باغ اور پشاور و گوجرانوالہ میں ہونے والی درندگی اس کے چند بچے کچھے اَوراق ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت 40 لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کی قتل وغارت بھی برطانوی سازش کا حصہ تھی جب راتوں رات ریڈکلف لکیر کھینچ کر نہتے مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی۔ پھر کشمیر وفلسطین کے سلگتے مسائل بھی اسی مغرب کی ’انسان دوست تہذیب ‘ کے تحفے ہیں جن کی تعریف میں مرعوبیت پسند ہردم رطب اللسان رہتے ہیں۔
[6]    دیکھیں: مجلّہ جہات الاسلام، پنجاب یونیورسٹی، لاہور: ’حاکم کی اہلیت اور شرعی ضوابط‘شمارہ دسمبر 2018ء، اور ’حاکم کے تقرر میں عوام کا کردار‘شمارہ جون 2019ء
[7]    اسی بنا پر پاکستان کے ایٹم بم کے دفاعی مقاصد کے لئے ہونے کی دہائی دی جاتی اور اعزاز کی بجائے اس کا تحفظ کرنا ، مغرب نے پاکستان کے لئے مستقل دردِ سر بنا رکھا ہے۔
[8]    ’قومی ریاست اور جہاد ‘از عمار خاں ناصر ...ماہ نامہ الشریعہ، گوجرانوالہ، جون 2018ء ، ص 3
[9]    ایک طرف اس بیان کو دیکھیں اور دوسر ی طرف اقوام متحدہ کے کشمیر پر کردار کا جائزہ لیں جس کو اسی شمارے کے مستقل مضمون میں پیش کیا گیا ہے تو عجب تضادات سامنے آتے ہیں۔ کیونکہ اقوام متحدہ کی ہدایت پر ظلم کے خلاف جہاد کرنا تو کجا، یہ ادارہ خودکفر وظلم کا سب سے بڑا محافظ نظر آتا ہے۔