ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • فروری
2020
حسن مدنی
زیر نظر تحریر سے قبل ’حق خود ارادی اور جہاد‘ پر اسی شمارے میں شائع شدہ راقم کے اُصولی مضمون کا مطالعہ مناسب ہوگا، جو مسئلہ کشمیر کے تناظر میں ہی لکھا گیاہے۔              ( ح۔م)
مسئلہ کشمیر کے دو حل ہیں: ایک اسلامی جہاد اور دوسرا مغربی حق خود ارادی۔ تقسیم ہند کے وقت جہاد کی بجائے، حق خود ارادی کے ذریعے اُن خطوں کو پاکستان سے ملانے کا فیصلہ کیا گیا، جہاں مسلمان اکثریت میں تھے۔
  • فروری
2020
حسن مدنی
اسلام کا یہ تقاضا ہے کہ مسلمان اور غیر مسلم دونوں عبادات کی طرح سماجی اطوار میں بھی ایک دوسرے کی مشابہت سے گریز کریں ۔ اسلام اپنی مرضی سے کوئی بھی عقیدہ اختیار کرنے پر جبر کا توقائل نہیں، لیکن کسی شخص کو غیر عقیدہ کے اپنے اوپر اظہار سے منع کرتا ہے کیونکہ یہ مغالطہ آرائی ہے جو دوسروں کو اُلجھن میں ڈالتی ہے۔ جو شخص جس عقیدہ کا حامل ہو، اس کی زبان کے ساتھ وجود اور عادات سے بھی واضح ہونا چاہیے کہ وہ کس مذہب یا کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہے۔
  • فروری
2020
محمد نعمان فاروقی
مسلمانوں کی عملی زندگی میں سب سے زیادہ اور عبادات میں سے اہم اور مسلسل ادا کی جانے والی عبادت نماز ہے۔ اس لحاظ سے مسلمانوں کو اپنی عبادات میں بہت زیادہ واسطہ ائمہ کرام سے رہتا ہے۔ کیونکہ ان کی اقتدا میں نماز پڑھی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں ہم نے بچے کے کان میں اذان، پھر نکاح اور نمازِ جنازہ بھی ائمہ کے سپرد کیا ہوا ہے۔ جس قدر ائمہ کرام کی ضرورت زیادہ ہے، اسی قدر ائمہ اور ان کے نمازیوں میں فاصلے بھی زیادہ ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ دونوں ہی ایک دوسرے سے شکایت کناں رہتے ہیں۔
  • فروری
2020
حسن مدنی
حکومت کا روایتی اور اسلامی نظریہ
ہمیشہ سے انسانی معاشروں کو طاقت وغلبہ اور حاکم ومحکوم کے ذریعے منظم کیا جاتا رہا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں ایک غالب طاقت کے احکام، دوسروں کو تسلیم کرنا پڑتے ہیں اور وہی محکوموں کے حقوق کا تعین کرتا ہے۔ ماضی میں غالب عسکری ، مالی یا نظریاتی قوتیں کمزوروں پر غلبہ جما کر اُنہیں اپنے مفاد پر مبنی قوانین وضوابط کا پابند کردیتیں اور ان کے جان ومال پر قابض ہوجایا کرتی تھیں۔
  • فروری
2020
اوریا مقبول جان
شاید چند برسوں بعد کوئی اس قافلے کے لٹنے کا ماتم کرنے والا بھی میسر نہ ہو۔آج یہ داستان رقم کر دو، مرتب کردو کہ شاید گردآلود الماریوں میں موجود بوسیدہ کتابوں سے آج سے کئی سال بعد کسی کو اس تہذیب کے لٹنے اور برباد ہونے کا سراغ مل جائے۔ تہذیبیں آہستہ آہستہ اُجڑتی ہیں اور لوگ نئی تہذیب کو بھی آہستہ آہستہ اوڑھتے ہیں۔ لیکن اگر کسی منصوبہ بندی سے تبدیلی لائی جا رہی ہو تو اس کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے اور دوسری بات یہ کہ تبدیلی لانے والے گذشتہ تہذیب کے نشان تک بھی مٹا دیتے ہیں۔