میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

مقالہ معابد الكفار وأحكامها في بلاد المسلمين[1]کے مباحث کا خلاصہ
نئے کفریہ معابد کی تعمیر
1) أجمع الفقهاء على تحريم إحداث معابد للكفار في البلاد التي أسلَم أهلها عليها قبل الفتح الإسلامي؛ كالمدينة واليمن، أو التي أحدَثها المسلمون؛ كالبصرة، وبغداد، أو في بلاد شبه الجزيرة العربية، ولا يجوز مصالحةُ أهل الذِّمة على إحداث معبدٍ لهم في هذه البلاد، ويجب هدم كلِّ معبدٍ مُحْدَثٍ فيها.
مدینہ ویمن جیسے علاقے جن کے سب باشندے جہاد سے پہلے مسلمان ہوچکے تھے، یا بصرہ وبغداد جیسے علاقے جنہیں مسلمانوں نے ہی آغاز سے آباد کیا اورجزیرہ عرب کے تمام علاقوں میں کفار کے نئے معابد تعمیر کرنے کی حرمت پر سب مسلمانوں کا اجماع ہے اور یہاں ذمیوں سے کسی نئے معبد کی تعمیر پر کوئی معاہدہ کرنا جائز نہیں اور ہر نئے تعمیرشدہ معبد کو ڈھادینا واجب ہے۔
٢) لا يجوز إحداث معابد للكفار في البلاد التي فتحها المسلمون عُنْوَة، أو صلحًا مطلقًا، أو صلحًا على أن تكون للمسلمين، على الراجح من أقوال الفقهاء.
فقہا ے کرام کے راجح قول کے مطابق جن علاقوں کو مسلمانوں نے طاقت ،غیر مشروط صلح یا اس وضاحت کے ساتھ فتح کیا ہو کہ وہ معابد مسلمانوں کی ملکیت ہوں گے، تو وہاں بھی کفار کی نئی عبادت گاہیں تعمیر کرنا ناجائز ہے۔
٣) لا يُمنع أهلُّ الذمة من إحداث معابد لهم في البلاد التي فتحها المسلمون صلحًا على أن تكون أرضُها لأهل الذمة بخَراجٍ يُؤدُّونه للمسلمين؛ في أصحّ قولي الفقهاء.
فقہا کے راجح قول کے مطابق کفار کو ایسے علاقوں میں نئے معابد بنانے سے منع نہیں کیا جائے گا جن کو مسلمانوں نے اس مشروط صلح کے ساتھ فتح کیا ہو کہ زمین اہل ذمہ کی ہوگی اور وہ مسلمانوں کو اس کا خراج ادا کریں گے۔
٤) إن المملكة العربية السعودية لها موقف واضح وجَليٌّ وهو المنع من إقامة معابد للكفار على أرضها، وهذا هُو الشرع الذي أمر به الله ورسوله.
حکومتِ سعودی عرب کا دوٹوک اور کھلا موقف یہ ہے کہ اس کی سرزمین پر کفریہ معابد قائم نہیں ہوسکتے، اور یہی وہ شریعت ہے جس کا اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ نے حکم دیا ہے۔
٥) لا يجوز نقلُ المعبد من مكانه الذي أقرَّ فيه إلى مكان يمنع فيه من إحداث المعابد.
’’کفار کی کسی جائز سرزمین میں عباد ت گاہ ایسے مقام پر منتقل نہیں کی جاسکتی جہاں ان کی نئی عبادت گاہ بنانا ناجائز ہو۔
٦) لا يجوزُ لطائفة من أهل الذمة في بلاد المسلمين تحويلُ معبدهم لملة أخرى، إلا في أرضٍ صُولِح الكفار على أن تكون لهم.
’’اہل ذمہ کو مسلمانوں کے علاقوں میں کسی اور مذہب کو اپنی عبادت گاہ منتقل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، سوائے ایسی سرزمین کے جہاں کفار سے اس شرط پر صلح کی گئی ہو۔‘‘
سابقہ کفریہ معابد کو منہدم کرنا
٧) كلُّ معبد وجَبَ هدمُه وإزالته لسبب اقتضى ذلك؛ شُرع تحويلُه إلى مسجد يُعبد فيه الله، ويُوحَّدُ، مع إزالة كلِّ أثر ومَعْلَمٍ للشرك.
ہر ایسی عبادت گاہ جس کو کسی شرعی سبب کی بنا پر گرانا اور ختم کرنا ضروری ہو، اس پر اللّٰہ کی عبادت اور توحید کے لئے مسجد بنائی جاسکتی ہے، بشرطیکہ وہاں سے شرک کی ہرعلامت اور اثرات کا خاتمہ کردیا جائے۔
٨) لا يجوزُ هدمُ معابد الكفار القديمة في الأرض التي يفتحُها المسلمون صلحًا، وتكون رقبتها للكفار بخَرَاجٍ يؤدونه للمسلمين ما لم ينقضِ الكفارُ العهدَ، وهكذا لا يجوز هدمُ معابد الكفار القديمة في أرض فتحها المسلمون صلحًا على أن تكون للمسلمين وشرط الكفار إبقاء معابدهم.
کفار کی ایسی قدیم عبادت گاہیں جن کو مسلمانوں نے صلح کرکے فتح کیا ہو اور کفار کے ذمے اس زمین کا خراج بھی ہو ، تو جب تک کفار اپنا عہد ایفا کریں، ان کفریہ عبادت گاہوں کو منہدم کرنا ناجائز ہے۔ اسی طرح کفار کی وہ قدیمی عبادت گاہیں جنہیں مسلمانوں نے اس مشروط صلح کے ساتھ فتح کیا ہو کہ ان کے کفریہ معابد باقی رہیں گے، تو ان کو بھی گرانا جائز نہیں ہے۔
٩) المعابدُ القديمة بأرضٍ فتَحَها المسلمون عَنْوَة، أو فُتحَتْ بصلحٍ مُطلقٍ يجوز لإمام المسلمين هدمُها، ويجوز إبقاؤها، ويفعل الإمامُ ما هو الأصلحُ للمسلمين.
ایسی قدیمی عبادت گاہیں جنہیں قوت یا غیرمشروط صلح کے ساتھ مسلمانوں نے فتح کرلیا ہو، تو مسلمانوں کے حاکم کے لئے ان کو گرانا اور باقی رکھنا ، دونوں ہی جائز ہیں۔ اور حاکم کو مسلمانوں کی مصلحت کے مطابق اقدام کرنا چاہیے۔
١٠) إن قولَ من قال: "إن الأصنام التي يجبُ أن تُحطَّم هي ما كانت تُعبَدُ دون ما سواها." قولٌ عارٍ عن الصحة، وهو شذوذ، ومخالفةٌ لإجماع الفقهاء.
یہ موقف صحت وسلامتی سے بعید ہےکہ جن بتوں کی پرستش کی جاتی ہو، صرف انہی کو گرانا ضروری ہے، باقی بتوں کو چھوڑا جاسکتا ہے۔ یہ فقہا کے اجماع کے خلاف ایک شاذ موقف ہے۔
کفریہ معابد میں آمد ورفت
١١) يجوز للمسلم التروّل بمعابد الكفار إن احتاج لذلك؛ لنحو: بردٍ، أو مطر، على الراجح من أقوال الفقهاء.
فقہا کے راجح قول کے مطابق مسلمانوں کے لئے کفریہ معابد میں حسب ضرورت سردی، بارش وغیرہ کے موقع پر سستانا؍ پناہ لینا جائز ہے۔
١٢) يُكره للمسلم أن يُصلِّي في المعابد التي بها صورٌ لذوات الأرواح، وتشتدُّ الكراهة إذا كانت الصورُ في قبلة المصلي، فإن خلَت المعابد من الصور فالصلاة بها جائزة من غير كراهة، في أصح أقوال الفقهاء.
مسلمان کے لئے جاندار کی تصویر وں والے کفریہ معابد میں نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ اور یہ کراہت اس وقت شدید تر ہوجاتی ہے، جبکہ یہ تصاویر قبلہ کی سمت میں ہوں۔ تاہم اگر ان معابد کو تصویروں سے پاک کرلیا جائے تو علما کے صحیح قول کے مطابق ان میں بلاکراہت نماز پڑھنا درست ہے۔
١٣) يجوز للمسلم دخولُ معابد الكفار في غير أوقات أعيادهم ومناسباتهم، وذلك مشروط بعدم تَكْرارِ الدخول والمداومة عليه، ويجب عليه حالَ دخوله أن يكون معتزًّا بدينه، لا منبهرًا ومعجبًا ومستحسنًا لما يراه؛ لخطورة ذلك على دينه.
مسلمان کفریہ معابد میں ان کی عیدوں اور خاص مواقع کے علاوہ جاسکتے ہیں۔ البتہ ایسا بہ کثرت یا ہمیشہ نہیں ہونا چاہیے۔ اور مسلمانوں کو ایسے مقامات پر جاتے ہوئے اپنے دین پر فخرکرنا چاہیے، نہ کہ وہ ان سے متنفر اور کفریہ مظاہر کو اچھا سمجھ کر ان سے خوش ہونے والا ہو، کیونکہ ایسے رویے سے اس کے دین پر خطرناک اثرات پڑ سکتے ہیں۔
١٤) لا يجوز للمسلم أن يستجيبَ لطلب والدَيْه أو أحدهما إذا أمراه بأن يذهب بهما إلى المعبد، وعليه أن يتلطَّف في رَدِهما، ويجتهد في إرضائهما.
مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ والدین یا کسی ایک کے مطالبے پر اُنہیں ان کفریہ معابد میں لے کر جائے۔ ایسے وقت میں اسے چاہیئے کہ ان کو ٹالنے میں نرمی کا مظاہرہ اور ان کو راضی کرنے کی بھرپور کوشش کرے۔
کفریہ معابد کے حقوق
١٥) إذا تجسَّس الذِّميُّ أو المستأمن على المسلمين، وكان من شأنه اتِّخاذ المعبدَ مأوًى لأعماله التجسسيَّة - فإنه يُنتقَضُ عهدُه، ويُخيَّر ولي الأمر في عقوبته، ما بين قتلٍ، أو استرقاقٍ بحسب ما يراه محقِّقًا لمصلحة المسلمين.
جب کوئی کافر(ذمی یا مستامن) جاسوسی کا مرتکب ہو اور جاسوسی کے مذموم مقاصد کے لئے اپنے معابد کو استعمال کرے تو اس سے اس کا معاہدہ اما ن ٹوٹ جاتا ہے۔ اور حاکم وقت، مسلمانوں کی مصلحت کے مناسب حال اس کو سزا دینے، یا قتل وقید کردینے کا اختیار رکھتا ہے۔
١٦) لا يجوزُ تنجيسُ معابد الكفار بقضاء الحاجة فيها أو نحو ذلك، وعلى وليِّ الأمر معاقبةُ مَن يَصدُرُ منه ذلك.
کفریہ معابد کو نجاست وغیرہ سے ناپاک کرنا ناجائز ہے، اور حاکم وقت ایسا کرنے والے کو سزا دے ۔
١٧) لا يجوز غَصْبُ وسرقة ما بداخل معابد الكفار من ممتلكاتٍ، بما في ذلك الأصنام والصلبان، ويجب ردُّ ما غصب أو سُرِق بعينه إن كان باقيًا، وضمانُه إن كان تالفًا ما لم يكن التالف مما أَهْدَر الشرعُ قيمتَه؛ كالأصنام، والخمر.
’’کفریہ معابد کے اندر ملکیتی چیزوں، بتوں اور صلیبوں کو چوری کرنا اور چھین لینا ناجائز ہے۔ اگر بعینہٖ وہ چیزیں مل جائیں تو اُنہیں واپس کرنا لازمی ہے۔ اور ضائع ہوجانے کی صورت میں ایسی اشیا کی مالیت نہیں دی جائے گی، جن کی مالیت کو شرع نے رائیگاں کردیا ہے، جیسے بت اور شراب وغیرہ
معابد کفریہ کی تزئین وآرائش اور ان کی طرف دعوت وفروغ کی حرمت
١٨) ترميمُ المعابد معصية لله، مسلمًا كان الفاعل أو كافرًا، والبحثُ فيه إنما هو من حيث منع الكفار منه أو عدم منعهم، وقد اتَّفق الفقهاء على أن الكفار يُمنعون من ترميم معابدِهم في البلاد التي يبنيها المسلمون، أو يُسلم أهلها عليها، واتفقوا على أن الكفار لا يمنعون من ذلك في بلد صُولحوا على أن يكون لهم، أو في بلد فتَحَه المسلمون صلحًا على أن يكون لهم، وشَرَط أهل الذمة إبقاءَ معابدهم وترميمَها.
کفریہ معابد كی تجدید وتعمیرکرنا اللّٰہ کی نافرمانی کا موجب ہے، چاہے کوئی مسلمان یہ کام کرے یا کافر۔ اور اس میں فیصلہ کن امر’ کفار کے منع وعدم منع‘ کے لحاظ سے ہی ہے۔فقہا کا اس پر اتفاق ہے کہ جن علاقوں کو مسلمانوں نے بنایا ہو، یا اس کے سب باشندے اسلام لا چکے ہوں ، وہاں کفار کو اپنے معابد کی تجدید وتعمیرسے روکا جائے۔ تاہم جن علاقوں میں صلح اس بنا پر ہو کہ معابد کفار کے پاس ہی رہیں گے، وہاں انہیں روکنا بھی بالاتفاق منع ہے۔ یا ایسے علاقے جنہیں مسلمانوں نے اس معاہدہ صلح پر فتح کیا ہے کہ وہ معابد کفار کے پاس ہوں گے اور اہل ذمہ اپنے معابد اور ان میں ترمیم کرسکیں گے۔
١٩) لا يجوز أن تُزخرَف معابد الكفار بأي شكل من أشكال الزخرفة، كما لا يجوزُ لهم أن ينقشوا شعاراتهم على ظواهر حيطان معابدِهم وأبوابها من الخارج إذا كانوا في مصرٍ من أمصار المسلمين وقُرَاهم، ولا يُتعرض لهم إذا فعلوا ذلك في القرى التي انفردوا بها، وصولحوا على أن تكونَ لهم.
کفریہ معابد کو کسی بھی نوعیت کی زینت و آرائش سے مزین کرنا ممنوع ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کے شہروں اور بستیوں میں موجود کفریہ معابد کی بیرونی دیواروں اوردروازوں پر اہل کفر کے شعائر کو نمایاں نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم جن بستیوں میں صرف کافر ہی بستے ہوں اور اس پر اُنہوں نے صلح کررکھی ہو تو وہاں اُنہیں روکا نہیں جاسکتا۔
٢٠) لا تجوز الدعاية للمعابدِ؛ بترغيب السائحين في زيارتها بأي نوع من أنواع الدعاية والإعلان، وعلى وليِّ أمر المسلمين منعُ مَن يقوم بالدعاية والترويج لزيارة معابد الكفار في بلاد المسلمين.
کفریہ معابد کی طرف سیاحوں کو اعلان و دعوت کی کسی صورت سے بلانا ناجائز ہے۔مسلمانوں کے حاکم کا فرض ہے کہ جو بلادِ اسلامیہ میں کفریہ معابد کی ترویج اور اعلان کرے تو اس کا سدباب کرے۔
٢١) يَحرمُ صنعُ وبيعُ واقتناءُ مُجسَّمات معابد الكفار ذات الشكل المعماري.
کفریہ معابد کی تعمیر سے ملتے جلتے ماڈل بنانا، بیچنا اور سٹاک رکھنا حرام ہے۔
٢٢) لا يجوزُ للمسلم أن يقومَ بنقش صورة تمثالٍ لذي روح على خاتم أو غيره، كما يحرمُ على المسلم لُبْسُ الخاتم المنقوش عليه صورة تمثال لذي روح، ولا يجوزُ بيعُه أو شراؤه.
کسی مسلمان کو اپنی انگوٹھی وغیرہ پر کسی ذی روح کے مجسمے کا کوئی نقش بنانا جائز نہیں۔اسی طرح کسی جاندار کے مجسمے والی نقش شدہ انگوٹھی پہننا اور اس کی خریدوفروخت کرنا بھی حرام ہے۔
٢٣) يحرم على المسلم أن يصنع صليبًا من أية مادة ويحرم عليه أن ينقش صورة الصليب على الخاتم وغيره، ولا يجوز له لبسه واقتناؤه.
کسی بھی میٹریل سے صلیب بنانا مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے۔ ایسے ہی انگوٹھی وغیرہ پر صلیب بنانا بھی ناجائز ہے۔ اس کو پہننا اور اس کو سنبھالنا بھی ناجائز ہے۔
کفریہ معابد سے مالی لین دین اور ان کی سہولت کاری، تجدید وتزئین کی حرمت
٢٤) يحرم على من يتولى إدارة الشركات السياحية أن يُوجِدَ وظائف لمرشدين سياحيين لقاصدي المعابد، ويحرم على المسلم أن يتولَّى هذا العمل بأجرة أو بدونها، ولا يجوز للمسلم أن يدفع أجرةً على دخوله لمعبدٍ من معابد الكفار، ولا يجوز له أن يتولَّى إدارة وتحصيل الأموال وأخذها من السائحين.
ٹریول ایجنسیوں کے مالکان پر ان کفریہ معابد کی طرف رہنمائی کرنے والے گائیڈوں کے معاوضے؍ ملازمتیں دینا حرام ہے۔ اور کوئی مسلمان بھی مفت یا اجرت پر یہ کام کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ کسی کفریہ معبد میں داخلے کی فیس دینا بھی مسلمان پر جائز نہیں۔ اور یہ بھی کہ سیاحوں سے اس کی ٹکٹیں؍ اجرت جمع کرنے اور اس کام کی تنظیم کی ذمہ داری لی جائے۔
٢٥) يَحرُم بيع وتأجير الأرض أو الدار لمن يتخذها معبدًا للكفار.
کفریہ معابد کے لئے کوئی زمین یا علاقہ بیچنا ؍ کرایہ پر دینا حرام ہے۔
٢٦) يجوز شراء المعابد إذا لم يُمكن استنقاذُها من أيدي الكفار إلا بالشراء.
جب کفار سے خرید نے کے علاوہ کفریہ معابد کو واپس لینے کی کوئی صورت نہ ہو تو اسے خریدنا جائز ہے۔
٢٧) لا يحلُّ للمسلم أن يقوم بعمل التصاميم الهندسية للمعابد، كما لا يحلُّ له أن يعمل في معابد الكفار بنَّاءً، أو نجارًا أو مُستَخْدَمًا، أو حارسًا.
کسی مسلمان کے لئے کفریہ معابد کی تعمیر کی پلاننگ، آرکیٹیکٹ انجنیئرنگ کرنا بھی جائز نہیں ۔ ایسے ہی کسی معبد میں معمار، بڑھئی،ورکر اور گارڈ بننا بھی جائز نہیں۔
٢٨) لا يجوز للمسلم أن يُوقف أو يُوصي أو يتصدَّق لمعابد الكفار، ببنائها أو ترميمها أو فرشها أو إنارتها أو للمتعبِّدين فيها، أو خَدَمَتِها وسَدَنَتِها وكذلك لا تجوز ولا تصحُّ تلك العقود من الكافر أيضًا في حالة تحاكمه إلينا.
مسلمان پر کفریہ معبد کے لئے وقف کرنا، کوئی وصیت کرنا، صدقہ کرنا ناجائز ہے جس سے اس کی تعمیر، تجدید، فرش اور لائٹنگ کی جائے یا اس میں آنے والوں، اس کے ملازموں اور ورکروں کو سہولت ملتی ہو۔ اور اگر کفار اسلامی عدالت سے ایسی وصیت اور صدقہ کے سلسلے میں رجوع کریں تو اس (ناجائز عمل) کا قانونی اِجرا کرنا جائز نہیں۔‘‘
کفریہ معابد کی توسیع ناجائز ہے!
سوال : ایک نصرانی پادری کے گھر کے نزدیک میدان تھا، جس میں ایک بوسيده کنیسہ تھا۔اس کی چھت نہیں تھی،اس کے شکستہ ہونے کا کسی مسلما ن کو پتہ نہیں تھا۔ تو پادری نے وہ میدان خرید کراس کو آباد کر دیا اور کنیسہ کوعمارت میں داخل کر دیا، اس کی دیواروں کو درست کیا اور اس میں آباد کاری کی، نصرانی اس میں جمع ہو کر اپنے شعار بلند کرنے لگے، اس کو بعض حکام نے بلوایا تو وہ اپنی قوت کا مظاہرہ کرنے لگا، بعض اعرابیوں کو اپنے ساتھ ملا لیا اور شر کا اظہار کرنے لگا۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس کا یوں جواب دیا:
لَيْسَ لَهُ أَنْ يُحْدِثَ مَا ذَكَرَهُ مِنْ الْكَنِيسَةِ وَإِنْ كَانَ هُنَاكَ آثَارُ كَنِيسَةٍ قَدِيمَةٍ بِبَرِّ الشَّامِ فَإِنَّ بَرَّ الشَّامِ فَتَحَهُ الْمُسْلِمُونَ عَنْوَةً وَمَلَكُوا تِلْكَ الْكَنَائِسَ؛ وَجَازَ لَهُمْ تَخْرِيبُهَا بِاتِّفَاقِ الْعُلَمَاءِ وَإِنَّمَا تَنَازَعُوا فِي وُجُوبِ تَخْرِيبِهَا. وَلَيْسَ لِأَحَدِ أَنْ يُعَاوِنَهُ عَلَى إحْدَاثِ ذَلِكَ وَيَجِبُ عُقُوبَةُ مَنْ أَعَانَهُ عَلَى ذَلِكَ. وَأَمَّا الْمُحْدِثُ لِذَلِكَ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ فَإِنَّهُ فِي أَحَدِ قَوْلَيْ الْعُلَمَاءِ يُنْتَقَضُ عَهْدُهُ وَيُبَاحُ دَمُهُ وَمَالُهُ؛ لِأَنَّهُ خَالَفَ الشُّرُوطَ الَّتِي شَرَطَهَا عَلَيْهِمْ الْمُسْلِمُونَ وَشَرَطُوا عَلَيْهِمْ أَنَّ مَنْ نَقَضَهَا فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ مِنْهَا مَا يُبَاحُ مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ. وَاَللَّهُ أَعْلَمُ.[2]
’’پادری کے لئے یہاں کنیسہ بنانا جائز نہیں، اگرچہ اس میں پرانے کنیسے کے آثار موجود ہوں۔ کیوں کہ یہ شام کی خشک زمین پر ہے اور اس کو مسلمانوں نےقوت و غلبہ سےساتھ فتح کیا تھا، یہ ان کی ملکیت تھی۔ تو مسلمانوں کے لئے ان کنیسوں کو ختم کرنا جائز تھا، اس پر مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ اگرچہ اس میں اختلاف ہے کہ آیا اس کو گرانا واجب ہے یا نہیں؟ کسی کے لئے جائز نہیں ہے کہ اس پادری کی معاونت کرے، جو ایسا کرے گا اس پر عقوبت واجب ہو گی۔ اگر یہ کام کرنے والا کوئی ذمی ہوگا ،توعلما کے ایک قول کے مطابق اس کا عہد ختم ہو جائے گا، اس کا خون اور مال مباح ہوجائے گا۔ کیوں کہ اس نے ان شرائط کی مخالفت کی ہے، جو مسلمانوں نے اس پر عائد کی ہیں۔ مسلمانوں نے ان پر شرط لگائی تھی کہ جس نے عہد توڑ دیا اس پر وہ سب احکام لاگو ہوں گے، جو اہل حرب پر ہوتے ہیں۔‘‘
کفریہ معابد کے سیاحتی دورے اور اُن میں عبادت کا حکم
شیخ الاسلام ابن تیمیہ  سے پوچھا گیا کہ کفار کے معابد مثلاً بیت المقدس کے بڑے گرجا: قُمامہ اورجبل صہیون ، بیت اللحم، اور عیسائی کنیساؤں وغیرہ کی زیارت کا شرعی حکم کیا ہے؟ تو آپ نے جواب دیا:
الجواب: فَمَنْ زارَ مَكانًا مِنْ هذهِ الأمكنَةِ مُعتَقِدًا أنَّ زيارتَهُ مُستَحَبَّةٌ، والعبادَةُ فيهِ أفضَلُ مِنَ العبادَةِ في بَيْتِهِ، فَهُوَ ضالٌّ خارِجٌ عَنْ شريعَةِ الإسلامِ يُستتابُ فإنْ تابَ وإلاَّ قُتِلَ. وأمَّا إذا دَخَلَها الإنسانُ لِحاجَةٍ، وعَرَضَتْ لَهُ الصَّلاةُ فيها، فَللعُلماءِ فيها ثَلاثَةُ أقوالٍ: في مَذَهَبِ أحْمَدَ وغَيْرِهِ قِيلَ: تُكْرَهُ الصَّلاةُ فيها مُطلَقًا، واختارَهُ ابنُ عقيلٍ وهوَ مَنقولٌ عَنْ مالِكٍ، وقِيلَ: تُباحُ مُطلَقًا، وقيلَ: إنْ كانَ فيها صُوَرٌ نُهِيَ عَنِ الصَّلاةِ وإلاَّ فَلا، وهَذا مَنْصوصٌ عَنْ أحْمَدَ وغَيْرِهِ، وهُوَ مَرْويٌّ عَنْ عُمَرَ بنِ الخَطابِ رضي الله عنه وغَيْرِهِ، فإنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «لا تَدْخُلُ المَلائِكَةُ بَيْتًا فيهِ صُورَةٌ»(البخاري رقم:3226). ولَمَّا فَتَحَ النَّبِيُّ عليه الصلاة والسلام مَكَّةَ كانَ في الكَعبَةِ تَماثيلُ فَلَمْ يَدخُلِ الكعبةَ حَتَّى مُحِيَتْ تِلْكَ الصُوَرُ واللهُ أعلَمُ.[3]
’’جو بھی شخص ایسے کفریہ مقامات کا دورہ اس عقیدہ کے ساتھ کرتا ہے کہ یہ نیک کام ہے، اور ان میں عبادت کرنا گھر میں عبادت سے بہتر ہے، تو ایسا شخص گمراہ اور شریعتِ اسلامیہ سے خارج ہے، اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے، اگر توبہ کرلے تو درست وگرنہ اس کو (بطورِسزا)قتل کردیا جائے۔البتہ اگر کوئی شخص ایسے مقامات پر کسی ضرورت کی بنا پر جائے اور وہاں نماز کا وقت ہوجائے تو اس میں علما کے تین موقف ہیں: امام احمد کے مطابق وہاں نماز پڑھنا مطلقاًمکروہ ہے۔ابن عقیل اور امام مالک نے اسی موقف کو اختیار کیا ہے۔ دوسرا موقف یہ ہے کہ مطلق طور پر نماز پڑھنا جائز ہے۔اور یہ بھی موقف رکھا گیا ہے کہ اگر تصاویر موجود ہوں تو نماز سے روکا جائے گا، وگرنہ نہیں۔ اور یہ موقف امام احمد سے بھی ملتا ہے۔ اور یہی سیدنا عمر بن خطاب وغیرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصاویر ہوں۔ اور نبی کریم ﷺ نے جب مکہ فتح کیا تو کعبہ میں بت تھے۔ آپ اس وقت تک کعبہ میں نہیں گئے جب تک سارے بُت گرا نہ دیے گئے۔‘‘
حوالہ جات:
[1]    کنگ سعود یونیورسٹی ، الریاض کے شعبہ ’اسلامی تہذیب ‘ ، فیکلٹی آف ایجوکیشن میں مرحلہ ایم فل کا مقالہ 1429ھ
[2]    مجموع فتاوی ابن تیمیہ: 28؍ 647
[3]    مجموع فتاوی ابن تیمیہ :27؍14- 16