Muhaddis-327-Jan,Feb2009

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

دنیا کے ۵ درجن کے لگ بھگ مسلم ممالک میں اس وقت کس نوعیت کا اجتماعی نظام مؤثر طور پر کار فرما ہے، اور یہاں کے 'مسلم'معاشرے کن اساسی تصورات کے تحت تشکیل پارہے ہیں ؟ یہ اس دور کے باشعور مسلمان کے لئے بنیادی اہمیت کا سوال ہے۔ اس بارے میں ایک واضح موقف اختیار کرنے کے بعد ہی معاشرتی اصلاح کے دینی فریضے سے عہدہ برا ہونے کے لئے موزوں لائحہ عمل تجویز اور اختیار کیا جاسکتا ہے۔ زیر نظر تحریر میں مغربی ریاست اور اسلامی اجتماعیت کے بعض فکری پہلوؤں کا تقابل کرتے ہوئے بعض اہم نکات کی نشاندہی کی ایک مخلصانہ کوشش کی گئی ہے۔مزید تائیدکے لئے اسی شمارہ میں مشہور برطانوی فلسفی برٹرینڈرسل کے ایک مضمون کا اُردو ترجمہ بھی شامل اشاعت ہے۔راقم بھی اس سلسلے میں کافی عرصے سے ایک رائے رکھتا ہے، جو زیر نظر فکری و فلسفیانہ تجزیہ کی بہ نسبت قدرے واقعاتی اور ظاہری ہے۔ زیر نظر مضمون کے بعد، آئندہ شمارہ میں اسی بحث کو ایک دوسرے زاویہ سے پیش کیا جائے گا، ان شاء اللہ (مدیر)



اس مضمون میں ہم خلافت اور موجودہ مسلم ریاستوں کے بنیادی فرق پر روشنی ڈالیں گے جس سے یہ واضح ہوجائے گا کہ اکثر و بیشتر مسلم ریاستیں خیر القرون کی خلافت تو کجا خلافت ِعثمانیہ و مغلیہ کے ہم پلہ بھی نہیں ۔ درج ذیل تمام فرق بذاتِ خود تفصیل طلب موضوعا ت ہیں لیکن نفسِ مضمون کا لحاظ اور خوفِ طوالت کے سبب ہم اختصارکو ملحوظِ خاطر رکھیں گے۔

اوّل: قومی بمقابلہ اسلامی ریاست
خلافت اور موجودہ ریاستوں کا پہلا فرق یہ ہے کہ اب ہم نے قومی ریاستیں قائم کرلی ہیں ، جبکہ پہلے کبھی ایسا نہ ہوا تھا ۔ قوم کا مطلب ہے: ایک مخصوص جغرافیائی حدود کی بنا پر اپنا تشخص تلاش کرنا، جیسے پاکستانی، عراقی، ایرانی وغیرہ۔ یہ ویزے اور سفارتخانوں (embacies) کی بھرمار اسی قوم پرستانہ تصورِ تشخص کا نتیجہ ہے ۔ قوم پرستی کی چند بنیادی صفات ہیں :

  • اس کی بنیاد نفرت ہوتی ہے یعنی قوم پرستی اپنی قوم کے علاوہ دوسروں کو اپنا حریف سمجھنے کا تقاضا کرتی ہے۔
  • خیر وشر کو قومی پیمانوں پر طے کیا جاتا ہے، یعنی خیر اسی شے کو سمجھتا ہے جو ایک مخصوص جغرافیے میں رہنے والے افراد کے لئے بہتر ہو جیسا کہ موجودہ جہادِ افغانستان کے وقت ہماری حکومت نے 'سب سے پہلے پاکستان' کے نعرے میں کیا۔
  • قوم ہمیشہ اپنے لئے جیتی ہے، اس کا مطمع نظر مادی ترقی اور حصولِ طاقت کے ذریعے صرف ایک مخصوص علاقے کے لوگوں کا معیارِ زندگی بلند کرنا ہوتا ہے، اسی معنی میں قومی ریاست سرمایہ دارانہ ریاست ہوتی ہے جس کا مقصد افراد کی آزادی یعنی سرمائے میں لامتناہی اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ خیال رہے کہ قوم پرستی سرمایہ داری کی مختلف تعبیرات میں سے ایک تعبیر ہی ہے۔
  • قوم کے پاس مادی ترقی و خوش حالی کے علاوہ نوعِ انسانی کی فلاح و ہدایت کا کوئی دوسرا لائحۂ عمل نہیں ہوتا۔ سرمائے کی بڑھوتری ہی وہ واحد خیر ہے جسے قوم خود بھی اپناتی ہے اور دوسروں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتی ہے۔
  • قومیت کبھی جغرافیائی حدود پار نہیں کرسکتی یعنی قوم پرستانہ نظریے کے لئے کسی دوسرے علاقے کے رہنے والے لوگوں کو اپنی شناخت میں سمو لینے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔


اسی لئے قومی ریاست ہمیشہ ایک استعماری ریاست ہوتی ہے جس کا مقصد دوسروں کو مغلوب کرنا ہوتا ہے یعنی ایک قوم پرست شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کی قوم باقی سب قوموں پر غالب آجائے اور اُنہیں محکوم بنا کر رکھے، لہٰذاہر وہ کام 'خیر' کہلاتا ہے جو قوم کے غلبے کاباعث بنے۔

قومیت کا یہ تشخص اور اس کا استحکام و پھیلاؤ اُمت کے اس بنیادی تصور ہی کے خلاف ہے جہاں جغرافیائی حدود بے معنی ہیں اور جس کے مطابق اسے اپنے لئے نہیں بلکہ دوسروں کیلئے جینا ہے جیسا کہ ارشاد ہوا:

كُنتُمْ خَيْرَ‌ أُمَّةٍ أُخْرِ‌جَتْ لِلنَّاسِ ...﴿١١٠﴾...سورة آل عمران
'' تم بہترین اُمت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے۔''

یعنی اُمت ِمسلمہ کا مقصد بنی نوعِ آدم کی اصلاح ہے ۔ اس تصورِ ملت میں صرف دو ہی گروہ ہیں ، ایک امت ِاجابت اور دوسری اُمت ِ دعوت، گویا یہاں اُمت ِمسلمہ کا تعلق ملت ِکفر کے ساتھ نفرت کے اُصول پر نہیں بلکہ دعوت و اصلاح کے اُصول پر استوار ہے اور اگر کسی وجہ سے ملت ِکفر کے ساتھ لڑائی و دشمنی کا معاملہ ہے بھی تو اس لئے نہیں کہ دنیا کے مال و متاع پر قبضہ کرنے کے نتیجے میں وہ ہم سے آگے نکل گئے ہیں بلکہ صرف یہ ہے کہ وہ حق کی اس دعوت کے پھیلاؤ میں مزاحمت اور دنیا میں فتنہ کا باعث بن رہے ہیں جو انسانوں کے خالق نے ان کے لئے پسند فرمایا ہے۔

تصورِ قومیت اور اُمت کبھی ایک ساتھ پنپ نہیں سکتے، کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں ، اوّل الذکر کی بنیاد نفرت جبکہ مؤخر الذکر کی محبت پر ہے۔ اسلامی ریاست استعماری نہیں بلکہ جہادی ہوتی ہے جہاں ریاست کی توسیع کا مقصد دوسروں کو محکوم بنانا نہیں بلکہ دعوت و تبلیغ اسلام کے مواقع پیدا کرکے دوسروں کو اُمت ِمسلمہ میں شریک کرنا ہوتا ہے اور اس تسخیر قلوب کے مقصد کے لئے طاقت سے بڑھ کر کردار کی ضرورت ہوتی ہے ۔ چنانچہ اسلامی خلافتیں ہمیشہ جہادی رہی ہیں یہاں تک کہ خلافت ِعثمانیہ و مغلیہ بھی جہادی ریاستیں ہی تھیں جن میں پھیلاؤ آتا رہا، مثلاً خلافت ِعثمانیہ عثمان خاں کے دور 1288ء میں صرف ساڑھے سات ہزار مربع میل سے شروع ہوکر محمدفاتح کے دور 1471ء تک ایک لاکھ مربع میل سے بھی زیادہ ہوگئی تھی۔ اس میں شک نہیں کہ آخر دور میں ہم نے ریاست کی توسیع کو اسلام میں اصلاح فرد اور تعمیر معاشرت کے کام سے کاٹ دیا تھا اور یہی ہمارے زوال کی اصل وجہ تھی، کیونکہ اس کی وجہ سے دائرئہ اسلام میں شامل ہونے والے غیر مسلمین کی تعداد کم سے کم تر ہوتی چلی گئی جس سے اسلامی شخصیت و معاشرت غیر مانوس ہوگئے اور نتیجتاً ہماری ریاست افراد کو اجنبی اور جبر لگنے لگی جس کے زوال پر وہ خوشی محسوس کرتے۔

دوم : نمائندگی عوام بمقابلہ نیابت ِرسولﷺ
موجودہ جمہوری ریاستوں میں عوام کو رعایا کے بجائے citizens یعنی اصل حاکم (autonomous) مانا جاتا ہے اور ریاست و حکومت محض عوام کی سوچ اور خوا ہشات کو پورا کرنے کے لئے عوام کی نمائندگی کا نام ہے۔ یعنی حکومت چلانے والے افراد عوامی نمائندے (representatives) ہوتے ہیں جن کا مقصد حصولِ لذت کی ذہنیت کا عموم اور عوام کی خواہشات کی تسکین کے لئے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا ہوتا ہے۔ یہی عوامی نمائندگی جمہوریت کی حقیقت ہے جہاں مفاد ات ہی وہ پیمانہ ہیں جس پر ریاست و جمہور کے تعلق کو پرکھا جاتا ہے۔ حاکم و محکوم کے درمیان یہی رشتہ ہے، قیادت اور عوام کے مابین یہی میثاقِ وفا ہے۔ جو اسے پورا کرے، اس کی حمایت کی جا تی ہے اور جو عوام کی جھولی کو مراعات و سہولیات سے نہ بھر سکے، اس کا عمل قابل اتباع نہیں ہوتا۔

سارا جمہوری فلسفہ، اس چھتری کے تحت قائم ادارے اور این جی اوز وغیرہ اسی عقیدے کے فروغ کا وسیلہ ہیں ۔ جمہوریت کا معنی ہی یہ ہے کہ فیصلے عوام کی مرضی اور خواہشات کی بنا پر ہونے چاہئیں ، گویا اس کا مطلب خیرو شر کا منبع انسانی خواہشات کو مان لینا ہے۔ اس کے مقابلے میں اسلامی ریاست میں عوام رعایا (subject) ہوتے ہیں اور خلیفہ عوام الناس کا نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سیاسی نائب ہوتا ہے جس کی ذمہ داری عوام الناس کی خواہشات کو شریعت کے تابع کرنے کی ذہنیت عام کرنا ہوتا ہے، نہ یہ کہ خود عوام کی خواہشات کے پیچھے چلنا۔ اِسی معنی میں جو ریاست جتنی زیادہ جمہوری ہوتی ہے، اتنی ہی غیر اسلامی ہوتی ہے۔ گویاجمہوریت میں پیری مریدی کا تعلق ہی اُلٹ جاتا ہے ، یہاں عوام بجائے مرید کے پیر (فیصلہ کرنے اور ہدایت دینے والے) بن جاتے ہیں اور حاکم جس کا کام لوگو ں کی رشدوہدایت کا انتظام کرنا ہوتا ہے، اس معنی میں مرید بن جاتا ہے کہ ہر کام سے پہلے عوام الناس کی خواہشات کی طرف دیکھتا ہے۔

لوگوں نے ووٹ کو بیعت کا متبادل سمجھ لیا ہے حالانکہ ووٹ توبیعت کی عین ضد ہے۔ بیعت کا مطلب حصولِ ہدایت کے لئے عوام کا اپنے نفس کو کسی بلند تر ہستی کے سپرد کردینا ہے جبکہ ووٹ کا معنی عوام کی حکمرانی قبول کرکے حاکم کا خود کو ان کے نفس کے سپرد کردینا ہے۔

علم اسلامی میں خیروشر کی تعیین میں عوام کی خواہشات اور اس کی کثرت کی کوئی شرعی حیثیت ہے ہی نہیں بلکہ خلافت میں فیصلے اس بنیاد پر ہوتے ہیں کہ کسی معاملے میں شارع کی منشا و رضا حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے اور ظاہر ہے، یہ طے کرنے والے علماء ہی ہوتے ہیں جو در حقیقت قرآن و سنت کا علم رکھتے ہیں ۔ چنانچہ نمائندگی عوام کا تصور نہ تو کبھی کسی اسلامی ریاست بشمول خلافت ِراشد ہ میں ہی ملتا ہے اور نہ ہی اسلامی تعلیمات میں اس کا کوئی ذکر ہے۔ دوسرے لفظوں میں عوام الناس کی حاکمیت اور نمائندگی کے تصورات بدعاتِ سیئہ ہیں ۔

سوم :سوشل سائنسز بمقابلہ علومِ شرعیہ کی بالادستی
اسلامی ریاست کے قیام کا خواب اس وقت تک شرمندئہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک اسلامی علوم (یعنی علم کتاب وسنت، فقہ اور زہد وتقویٰ) کا معاشرتی غلبہ قائم نہ ہو جائے، کیونکہ نظامِ علم ہی ریاستی حکمت ِعملی اور اسے نافذ کرنے والے افراد مہیا کرتا ہے ۔ ہر نظامِ علمیت معاشرے میں تین بنیادی مقاصد انجام دیتا ہے :

  1. غالب علمی و ثقافتی ورثے کو اس طرح اگلی نسل تک منتقل کرنا کہ اسے حاصل کئے بغیر معاشرے میں کامیاب زندگی کا تصور نا ممکن ہو جائے۔
  2. افراد کو چندمخصوص مقاصد ِزندگی اور معاشرتی اقدار بطور مقصد ِحیات قبول کرنے پر تیار کرکے معاشرے میں فکری ہم آہنگی پیدا کرنا۔
  3. اَفراد کے تعلقات کے نتیجے میں قائم شدہ معاشرے اور ریاست کو پیش آمدہ مسائل حل کرنے کے لئے حکمت ِعملی اور اسے عملی جامہ پہنانے کیلئے اس علمیت کے حامل با صلاحیت افراد فراہم کرنا۔ چنانچہ کوئی معاشرہ و ریاست تبھی اسلامی بن سکتی ہے کہ جب اس کی غالب علمیت سائنس (بشمول نیچرل و سوشل سائنسز) نہیں بلکہ اسلامی علمیت ہو، کیونکہ جب تک اسلامی علمیت غالب نہیں ہوگی، معاشرتی فیصلوں اور ریاستی حکمت ِعملی کی اسلامی بنیاد فراہم نہیں کی جاسکتی۔ اسلامی علمیت در حقیقت کتاب وسنت، عقیدہ، فقہ اور زہد و تقویٰ کی صورت میں متشکل ہوکر سامنے آتی ہے۔ مثلاً فقہ اسلامی کا مقصد قرآن و سنت میں وارد شدہ نصوص سے وہ مسائل اخذ کرنا ہے جن کی روشنی میں یہ طے کیا جا سکے کہ اَن گنت انسانی اعمال و افعال سے رضاے الٰہی کے حصول کا درست طریقہ کیا ہے۔ نیز یہ معلوم کیا جا سکے کہ افراد کے تعلقات کو کن ضروری بندشوں کا پا بند بنا کر معاشرے کو احکاماتِ الٰہی کے تابع کیا جاسکتا ہے ۔


بالکل اسی طرح مغربی سوشل سائنسز کا دائرئہ کار سرمایہ دارانہ معاشرے و ریاست کا جواز، اس کے امکانِ قیام کے لئے ضروری حالات کی نشاندہی و ریاستی لائحۂ عمل کی ترتیب و تنظیم کرنا ہے۔ جدید سوشل سائنسز کا مقصد ایک طرف سرمایہ دارانہ شخصیت، معاشرے و ریاست کی علمی توجیہ پیش کرنا ہے اور دوسری طرف یہ افراد کے تعلقات میں آزادی کی ان لازمی حدود کا تعین کرنے کے اُصول وضع کرتی ہیں جن کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ معاشرتی و ریاستی صف بندی وجود میں آسکے۔ دوسرے لفظوں میں سو شل سائنسز کا دائرہ عمل ایک ایسے نئے دستور، نئے قانون اورنئے معا شرتی نظام و سیاسی ڈھانچے کا قیا م ہے جسے الہامی اور آسمانی قانون سے کوئی واسطہ یا رابطہ نہ ہو،جہاں کوئی رعایا (subjects) نہ ہو بلکہ سب شہری (citizens) ہوں ۔ اس پس منظر میں اسلامی تاریخ اور موجودہ ریاستوں پر غور کیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ ہماری پوری تاریخ میں جو علمیت غالب رہی، وہ اسلامی علمیت تھی جس کا ایک مظہر موجودہ درسِ نظامی ہے جو در حقیقت سلطنت ِمغلیہ میں ایک طرح کا 'سول سرونٹ کورس' تھا۔

چنانچہ ہماری تاریخ میں اسلامی علمیت ہی کی بنیاد پر ریاستی حکمت ِعملی وضع کی جاتی تھی، گوکہ اس حکمت ِعملی میں حکمران اپنے بعض ذاتی مفادات کو بھی شامل کردیتے تھے۔ اس کی مثال بالکل اسی طرح ہے جیسے دورِ حاضر میں ریاستی حکمت ِعملی سوشل سائنسز بالخصوص علم معاشیات کے اُصولوں سے طے کی جاتی ہے اور حکمران طبقہ اسی حکمت ِعملی کے اندر رہتے ہوئے ساتھ ساتھ اپنے مفادات کا تحفظ بھی کرتا ہے۔

سب دیکھ سکتے ہیں کہ جوں جوں سائنسی علمیت (مادہ پرستانہ اِفادیت) کو عروج حاصل ہوتا ہے، اسی رفتار سے اسلامی علمیت معاشروں میں بے معنی ہوتی چلی جاتی ہے۔ سائنسی علم کا معنی لامحدود انسانی خواہشات کی تکمیل کے لئے کائنات پر ارادئہ انسانی کا تسلط قائم کرنا ہے۔ سائنسی علمیت کے مطابق 'علم' رضا ے الٰہی کے حصول کا طریقہ جان لینا نہیں ، بلکہ تسخیر کا ئنا ت یا بہ الفاظ دیگر انسانی ارادے کے کائناتی قوتوں پر تسلط قائم کرنے کا طریقہ جان لینے کا نام ہے اور سائنسی علمیت اس جاہلانہ ذہنیت و جنون کو پروان چڑھاتی ہے کہ انسانی عقل کو استعمال کر کے فطرت کے تمام رازوں سے پردہ اٹھا نا نیز انسانی ارادے کو خود اس کے اپنے سوا ہر بالا تر قوت سے آزاد کرنا عین ممکن ہے۔

دوسرے لفظوں میں سائنسی علمیت کا مقصد انسان کو خود اپنا خدا بننے کا مکلف بنانا ہے۔ یہ تصورِ علم ایک ایسی شخصیت کا علمی جواز فراہم کرتا ہے جو انبیاے کرام کی تعلیمات سے کوسوں دور اور اخلاقِ رزیلہ سے متصف ہونے کے با وجود بھی معا شرے میں ایک با عزت علمی مقام پر فائز ہوسکتی ہے۔ یہ علمیت ایسا ریاستی لائحہ عمل فراہم کرتی ہے جس میں فیصلوں کی بنیاد شارع کی رضا کے بجائے لوگوں کی خواہشات ہوتی ہے۔ چونکہ موجودہ مسلم ریاستوں میں غالب علمیت یہی جاہلی علمیت ہے لہٰذا یہ کسی بھی معنی میں اسلامی خلافت کے ہم پلہ نہیں ہیں بلکہ جیسے جیسے ہمارے ممالک اس علمیت کے شکنجے میں پھنستے جارہے ہیں ، اتنا ہی زیادہ یہ استعمار کے وفادار اور طاغوتی نظام کے حامی و ناصر بنتے جا رہے ہیں ۔

چہارم : دستور (ہیومن رائٹس ) بمقابلہ شریعت (نظامِ عدل و قضا) کی بالادستی
ہمارے ملکوں کا نظام قانون آئین یا دستور پر مبنی ہے اور دستور وہ شے ہے جو حاکمیت ِالٰہی کی نفی اور حاکمیت ِانسان کی بالا دستی قائم کرتا ہے اور نفاذِ شریعت کے امکانات کالعدم کردیتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ دستور کتابِ الٰہی کا متبادل ہے اور جمہوری ریاستوں میں اسے ویسی ہی تقدیس حاصل ہوتی ہے جیسی مذہبی ریاستوں میں کتابِ الٰہی کو۔ دستورمیں قانون سازی کی بنیاد ہیومن رائٹس ہوتے ہیں جسکے مطابق فرد کو اپنی آزادی استعمال کرکے خواہشات کی تسکین کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ اس قانون سازی کے دو بڑے مقاصد ہوتے ہیں :

الف) ہر فرد کے اس حق کو ممکن بنانا کہ وہ زیادہ سے زیادہ آزادی حاصل کرسکے (یعنی جو چاہنا چاہے، چاہ سکے اور اسے حاصل کرنے کا زیادہ سے زیادہ مکلف ہو سکے) یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے کی عین ویسی ہی آزادی میں رکاوٹ نہ بنے۔یعنی اس بات کو طے کرنے کے لئے کہ افراد کو کیا کرنے کی اجازت ہوگی، اس سوال کا جواب دینا چاہئے کہ کیا تمام افراد کو اس عمل کی اجازت دینے کے بعد بھی اس عمل کو کرنا ممکن ہے یا نہیں ؟ مثلاً فرض کریں : ایک شخص چاہتا ہے کہ وہ شراب پئے،اب سوال یہ ہے کہ اگر تمام افراد ایسا کریں تو کیا ایسا کرنا ممکن ہے؟ چونکہ تمام افراد کو اس فعل کی اجازت دینے سے افراد کی خواہشات میں کوئی تصادم لازم نہیں آتا، لہٰذا شراب پینا بالکل درست عمل ہے ۔لیکن اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ شراب پی کر کار چلائے تو یہ ٹھیک نہیں ، کیونکہ اگر تمام افرادکو ایسا کرنے کی اجازت دی جائے تو کوئی بھی شخص گاڑی نہیں چلا سکتاجس سے واضح ہوا کہ شراب پینا توٹھیک عمل ہے مگر شراب پی کر گاڑی چلانا غلط ہے۔ اس جاہلانہ اُصول کے مطابق ایک بھائی کا اپنی بہن سے ، باپ کا بیٹی سے اور بیٹے کا ماں سے بدکاری کرنا عین درست عمل ہے، کیو نکہ اگر تمام افراد ایسا کرنے لگیں تو بھی ایسا کرنے میں افراد کی خواہشات میں ٹکراؤ کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔اَخلاقیات کے اسی اصول کو کانٹ (Kant)کا آفاقی اُصول (Principle of universalisability)کہا جاتا ہے۔ اس اصول کے مطابق ایک فرد کا ہر وہ فعل اور خواہش قانوناًجائز ہے جسے وہ خواہشات میں ٹکراؤ آئے بغیر تمام انسانوں کو کرنے کی اجازت دینے پر تیار ہوسکتا ہے۔

ب) ہر فرد کے اس مساوی حق کو ممکن بنانا کہ وہ دوسروں کو اپنی آزادی اس طرح استعمال کرنے پر مجبور کرسکے جس سے وہ دوسرا شخص اس فرد کی آزادی میں مداخلت نہ کر سکے یعنی اگر ایک باپ اپنی بیٹی کو یونیورسٹی کے کسی رات کے فنکشن میں جانے سے منع کرے تو اس بیٹی کو اس بات کا حق حاصل ہونا چاہئے کہ و ہ پولیس کو بلواکر اپنے باپ کو جیل بھجوا دے اور خود یونیورسٹی جا سکے۔ اسی طرح اگر ایک باپ اپنی اولاد کو نماز نہ ادا کرنے پر سرزنش کرے تو اولاد کو یہ حق حاصل ہو کہ وہ باپ کو ان کی آزادی میں مداخلت کرنے سے روک سکیں ۔

دستور کے مطابق افراد کی خواہشات ہی وہ اساس ہیں جو ایک جمہوری معاشرے میں قانون سازی کی واحد بنیاد بن سکتی ہیں ، نیز یہ کہ افراداپنے اس حق کو اس طرح استعمال کریں کہ جس کے نتیجے میں افراد کی خواہشات میں اس طرح تحدید ہو کہ افراد کی آزادی میں بحیثیت مجموعی زیادہ سے زیادہ اضافہ ہوسکے ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری اکثر و بیشتر ریاستیں ہیومن رائٹس پر مبنی دستوری و جمہوری ریاستیں ہیں جس کا صاف مطلب ہوا کہ یہ لبرل سیکولر ریاستیں ہیں ۔ اس کے بر خلاف خلافت کا منصب نظامِ قضا کا تقاضا کرتا ہے جہاں فیصلے شرع کی روشنی میں طے کئے جاتے ہوں ۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ پوری اسلامی تاریخ میں ریاستی قانون کی بنیاد شریعت رہی ہے جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ہماری عدالتوں میں شرعی نظام قضا قائم تھا جہاں اسلامی علمیت کے ماہرافراد شریعت کی روشنی میں فیصلے کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ مغلیہ سلطان عالمگیر نے کوئی دستور نہیں بلکہ فقہاے کرام کے فتاویٰ کو جمع کرکے اسے اپنی سلطنت کا قانون بنادیاتھا جس سے معلوم ہوا کہ افراد کے معاملات اس دور کے مسلمان حکمران کی دانست میں شرعی احکامات کے مطابق طے ہوتے تھے۔قطع نظر اس کے کہ وہ کسی خاص فقہ کی تعلیمات کے مطابق ہوں ۔ اسی طرح ہمارے ہاں حسبہ کا ادارہ بھی قائم تھا جس کا مقصد نہی عن المنکر کی بنیاد پر لوگوں سے اطاعت کرانا تھا۔ الغرض حاکمیت ِدستور اور نفاذِ شریعت و اعلاے کلمة اللہ دو متضاد مقاصد ہیں ، نظامِ قضا و حسبہ اسی وقت قائم ہوسکتا ہے جب اسلامی علمیت اور اس کے حاملین افراد کا معاشرتی غلبہ ہو نہ کہ دستور اور سوشل سائنسز کا۔

پنجم : مذہبی معاشرت بمقابلہ سول سوسائٹی
معاشرے سے مراد وہ ادارے ہیں جو افرادکے ان تعلقات سے وجود میں آتے ہیں جنہیں وہ برضا و رغبت اختیار کرتے ہیں ۔ کسی بھی معاشرتی صف بندی کی نوعیت افراد کے ان مقاصد اور ان اقدار پر مبنی ہوتی ہے جن کے حصول کی خاطر وہ آپس میں تعلقات قائم کرتے ہیں ۔ یعنی معاشرتی تنظیم کی ہیئت اور نوعیت اس بات پر منحصر ہے کہ جو افراد یہ معاشرہ بنا رہے ہیں ان کے میلانات ، رجحانات اور خواہشات کیا ہیں اور وہ دوسروں سے تعلقات استوار کر کے کن مقاصد کا حصول چاہتے ہیں ۔ چونکہ سرمایہ دارانہ معاشرے میں ہر فرد اپنی خواہشات کی تکمیل کرنا چاہتا ہے، لہٰذا لوگ جس بنیاد پر اپنے تعلقات قائم کرتے ہیں وہ ان کی 'ذاتی غرض ' (Self-interest)ہوتی ہے یعنی ہر فرد ان تعلقات و روابط کے ذریعے اپنی کسی ذاتی خواہش ہی کی تکمیل کرنا چاہتا ہے ۔ ایسے تعلقات سے تعمیر ہونے والے معاشرے کو مارکیٹ یا سول سوسائٹی کہتے ہیں جہاں ہر تعلق اغراض کی طلب و رسد (Demand & Supply) کے اُصول پر قائم ہوتا ہے۔ ایسی سوسائٹی میں ہر شخص اپنی اغراض کی بنیاد پر interest-groups (غرضی گروہ) بناتا ہے، مثلاً محلہ و مارکیٹ کمیٹیاں ، مزدور تنظیمیں ، اساتذہ و طلبہ تنظیمیں ، صارفین و تاجروں کی یونین، عورتوں اور بچوں کے حقوق کی تنظیمیں و دیگر این جی اوز وغیرہ۔ اس کے اظہار کے مختلف طریقے ہیں جہاں تعلقات کی بنیاد صلہ رحمی یا محبت نہیں بلکہ اغراض ہوتی ہیں ۔ جتنے زیادہ افراد ان اداروں پر منحصر ہوتے چلے جاتے ہیں ، سول سوسائٹی اتنی ہی مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے ۔ نتیجتاً ذاتی اغراض و حقوق کی ذہنیت و سیاست پختہ ہوتی چلی جاتی ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کا اصل مقصد ہے ۔

سول سوسائٹی کی اکائیاں تبھی وجود میں آتی ہیں جب خاندان کا ادارہ کمزور ہوجاتا ہے، یہ اکائیاں فرد کی زندگی کے اس خلا کو پر کرنے کے لئے وجود میں آتی ہیں جو روایتی اداروں کے ختم ہوجانے سے پیدا ہوتا ہے۔ سول سوسائٹی درحقیقت مذہبی معاشرت کی ضد ہے، جہاں تعلقات کی بنیاد صلہ رحمی ، محبت اور باہمی تعاون کا جذبہ ہوتا ہے اور ان جذبات پر مبنی تعلقات سے جو فطری ادارہ تشکیل پاتا ہے، اسے خاندان و برادری کہتے ہیں جو اسلامی معاشرت کا جز اوّل ہے ۔ پوری اسلامی تاریخ میں ہماری معاشرت اسلامی تھی، تعلقات کی بنیاد صلہ رحمی تھی جس کی وجہ سے خاندان مضبوط تھے، حرص و حسد کو معاشرتی عموم حاصل نہ تھا۔ مخلوط معاشرت کی وبا ظاہر نہ ہوئی تھی اورتقریباً تمام افراد تزکیۂ نفس کے لئے بھی عبادات اور شریعت کی دیگر رہنمائی پر عمل کرتے تھے۔ موجودہ مسلم ریاستوں میں جو معاشرت عام ہورہی ہے وہ اسلامی نہیں بلکہ سول سوسائٹی ہے جس کا سب سے بڑا اظہار خاندان و برادری کی کمزوری، بے حیائی و فحاشی کے فروغ اور افراد کاتربیت گاہوں سے لاتعلق ہوجانے کی صورت میں واضح ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہماری حکومتیں جس نوعیت کی حکمت ِعملی پر عمل پیرا ہیں ، وہ سول سوسائٹی کو مضبوط اور مذہبی معاشرت کو کمزور کرنے کے لئے مؤثر ترین ہتھیار ہے۔

بعض شبہات
شبہ نمبر1: مسلم ممالک میں نماز، جمعہ، نکاح، حج و دیگر فرائض ادا کرنے کی پوری آزادی ہے تو پھر ان پر 'کافرانہ یا فاسقانہ ریاست ' کا لیبل کیوں چسپاں کیا جائے؟
یہ جتنے اُمور گنوائے گئے ہیں ،ان سب کی ادائیگی کی اجازت تو دورِ برطانیہ میں بھی تھی، نیز موجودہ ہندوستان کے مسلمان بھی اُنہیں آزادی کے ساتھ ادا کرتے ہیں ، اور تو اور یورپ اور امریکہ وغیرہ میں بھی نماز، جمعہ، نکاح، حج و دیگر کئی فرائض اسلامی ادا کرنے کی پوری آزادی ہے تو کیا یہ سب ملک دارالاسلام ٹھہریں گے؟

مزید برآں جیسے ایک فرد کا ایمان معتبر ہونے کے لئے چند شرائط ہیں بالکل اسی طرح ریاست بھی اسلامی تب ہی ہوتی ہے جب وہ اسلامی اصولوں کے مطابق قائم ہو، گو کہ اس میں عملی خامیاں قبول کی جاسکتی ہیں مگر اُصولی باتوں پر ایمان لانا تو شرط ہے۔ اکثر و بیشتر موجودہ مسلم حکومتیں تو سرمایہ دارانہ نظام پر مبنی ہیں جہاں اقتدار کا منبع عوام کی خواہشات کو مان لیا گیا ہے۔ شرع کے بجائے ہیومن رائٹس پر مبنی دستور نافذ ہے تو یہ اسلامی کیسے ہوگئیں ؟ مسئلہ یہ ہے کہ ہم سرمایہ داری کو صحیح طریقے سے پہچانتے نہیں جس کی وجہ سے ایسے سوالات پیدا ہوتے ہیں ۔ اگر مسلمان عیسائی قانون کے مطابق ریاست چلائیں تو کیا وہ اسلامی ریاست ہوگی؟ بالکل اسی طرح اگر مسلمان سرمایہ دارانہ قانون کے مطابق ریاست چلائیں گے تو وہ ریاست اسلامی نہیں ہوگی، کیونکہ سرمایہ داری بھی عیسائیت ہی کی طرح ایک مستقل کافرانہ مذہب ہے۔

شبہ نمبر2:کیا پاکستان کے آئین میں قرآن و سنت کے منافی قانون سازی نہ کرسکنے کا آرٹیکل اسے اسلامی ریاست نہیں بنا دیتا ؟

1949 کی قرارداد مقاصد ہو یا 1973 کا دستور، علماء اس میں ایسے ہی دھوکہ کھا گئے جیسے سترہویں ترمیم کے وقت مشرف سے دھوکہ کھا گئے تھے۔ علماء پر دستوری ریاست و ہیومن رائٹس کی حقیقت صحیح طریقے سے واضح نہ ہو سکی تھی جس کی بنا پر اُنہوں نے دستور میں مذہب کی پیوندکاری کرنے کی کوششیں کیں ، حالانکہ جس شے کو اُصولاً رد کرنا چاہئے تھا، وہ بذاتِ خود ہیومن رائٹس پر مبنی دستوری قانون ہے جو کہ کتاب و سنت کا عملی متبادل ہے۔ ہیومن رائٹس پر مبنی دستور میں مذہبی پیوندکاری کی مثال ایسی ہی ہے جیسے عقیدئہ تثلیث میں توحید تلاش کرنا۔ ہوسکتا ہے، علما نے 1949ء میں یہ پوزیشن سوشلزم کے بڑھتے ہوئے خطرات کی بنا پر اختیار کی ہو ،واللہ اعلم۔ لیکن اصل غلطی 1949 میں نہیں بلکہ 1920ء سے شروع ہوئی کہ جب خلافت ِاسلامی برپا کرنے کے لئے انقلابی جدوجہد سے مایوس ہوکر بعض علما نے ریاست کو غیر اقدار ی سمجھ کر تحریک ِخلافت کے بجائے تحریک ِاستخلاصِ وطن کا ساتھ دینا شروع کیا۔

قرار داد مقاصد ہو یا 1973 کا دستور، یہ شقیں تو ریاست کو کافرانہ نظام کے ماتحت چلانے کا بہانہ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شقیں ہمیشہ طاقِ نسیاں پر پڑی رہتی ہیں اور ہمارے ملک میں بے شمار قوانین خلافِ شرع ہونے کے باوجود پچھلے 34 سالوں سے عدلیہ ٹس سے مس نہیں ہوتی، بلکہ اس کے بجائے جب کبھی کوئی اسلامی قانون نافذ کرنے کا معاملہ پیش آئے تو اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتی ہے جیسا کہ سود کے خلاف قانون اور حسبہ بل کے معاملات میں دیکھا گیا۔

ان اسلامی نما شقوں کی حیثیت صرف اتنی ہے کہ اُنہیں خود 'ہم نے' دستور میں رکھا ہے اور اگر 'ہم' چاہیں تو اُنہیں ختم بھی کرسکتے ہیں گویا اصل حاکمیت 'ہماری ' ہی ہے ۔ پھر ان شقوں پر مبنی شرعی قوانین کی نوعیت کسی بالادست قانون کی نہیں بلکہ وفاقی شرعی عدالت کے ایک 'مشورے' کی ہوتی ہے جنہیں عدالت ِ عظمیٰ چاہے تو ردّ کرسکتی ہے، گویا اصل حاکمیت تو دستوری قانون ہی کی ہوگی اور شارع کی بات بس ایک مشورے کے طور پر کہی اور سنی جا سکتی ہے۔العیاذباللہ

اسلامی ریاست صرف قرآن و سنت کے خلاف فیصلہ 'نہ' کرنے کی پابند نہیں ہوتی بلکہ ہر فیصلہ قرآن وسنت اور اسلامی علمیت کی روشنی میں کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ گویا مسلمانوں پر شریعت اسلامیہ کی پابندی صرف سلبی نہیں بلکہ ایجابی بھی ہے۔ شرع کے دائرے کو تشکیل قانون میں صرف اس حد تک محدود کرنا کہ قانون کا کوئی فیصلہ شرع کے خلاف نہ ہو، اس مفروضے پر مبنی ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی دائرہ عمل ایسا بھی ہے جہاں شارع نے انسان کو اپنی خواہشات پر چلنے کے لئے آزاد چھوڑ دیا ہے نیز قانون کا دائرہ شرع کے دائرے سے وسیع تر ہے۔ جبکہ اصل معاملہ اس کے عین برعکس ہے کہ شریعت ہمیں ہر معاملے کا حکم قرآن و سنت کی روشنی میں طے کرنے کا طریقہ بتاتی ہے اور اسلامی ریاست کا یہ وظیفہ ہوتا ہے کہ وہ براہ راست کتاب وسنت یا قابل اجتہاد مسائل میں اہل علم کی شرعی رہنمائی سے تمام معاملات میں شرعی موقف اپنائے۔ شرع محض فرائض ، واجبات اور محرمات کا ہی نام نہیں بلکہ اس کا دائرہ سنن، مندوب، مستحب، مکروہ ، اساء ت و خلافِ اولیٰ کے درجات تک اس طرح پھیلا ہوا ہے کہ پیدائش سے لے کر موت تک کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ انسانی فعل بھی اس کی گرفت سے باہر نہیں ۔ لہٰذا طے کرنے کی بات یہ نہیں کہ کوئی فیصلہ شرع کے خلاف نہ ہو بلکہ یہ ہے کہ ہر فیصلہ شرع کے تقاضوں کے مطابق ہو،کیونکہ اوّل الذکر رویہ شرع کو فرائض اور محرمات تک محدود کردیتا ہے۔