سوال:ایک شخص کے چند بیٹے کاروبار کے علاوہ دینی اور رفاہی کام بھی کرنا چاہتے ہیں، وہ عدالت کے روبرو باہمی معاہدہ کرتے ہیں کہ جو بیٹے کاروبار کریں گے، وہ دینی اور رفاہی خدمات کا خرچ بھی برداشت کرتے رہیں گے۔ عام طور پر مشہور ہے کہ صدقہ یا ہبہ کا وعدہ پورا کرنا ضروری نہیں ہوتا لیکن عدالت نے اس معاہدے کی توثیق کرتے ہوئے فیصلہ سنادیا ہے۔ اب اس سلسلے میں درج ذیل سوالات کے شرعی جوابات مطلوب ہیں:
وعدہ یا عقد ایک ہی چیز ہیں یا الگ الگ؟
عدالتی فیصلہ سے اس پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
اگر کسی وقت عدمِ استطاعت کا مسئلہ پیداہو جائے تو اس کاکیا حل ہوگا؟


جواب:صورتِ مسئولہ میں باہمی معاہدے کی حیثیت شرعی طور پر عقد کی ہے جس کا پورا کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی اس میں پس وپیش کرے تو اسے بذریعہ عدالت مجبور کیا جاسکتاہے کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے جیساکہ صحیح بخاری میں حضرت سمرہ بن جندبؓ ، معروف تابعی حضرت حسن بصری رحمة اللہ علیہاور قاضیٔ کو فہ سعید بن اشوع رحمة اللہ علیہ سے منقول ہے۔1

امام اسحق بن راہویہ بھی اسی نقطہ نظر کے حامی ہیں۔2
٭ خلیفہ راشد حضرت عمررحمة اللہ علیہ بن عبد العزیز بھی اسی کے قائل ہیں۔
٭ اس حوالے سے یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اگر مسئلہ ایسے یک طرفہ وعدے کا ہوتا جس سے دوسرے فریق پر کوئی ذمہ داری عائد نہ ہو تی تو اختلاف کی گنجائش تھی لیکن ایسا وعدہ جوکسی سبب سے متعلق ہو، جملہ فقہا کے نزدیک اِجماعی طورپر پورا کرنافرض ہے۔3
امام غزالی،ابن العربی اور مشہور فقہی مسالک کے دیگر فقہا بھی یہی کہتے ہیں۔ائمہ سلف میں امام ابن شبرمہؒ کا قول اس معاملہ میں کلید کی حیثیت رکھتاہے۔
باہمی معاہدے کے طور پر بھی صورتِ مسئولہ کی پابندی لازمی تھی لیکن جب عدالت نے فیصلہ دے کر توثیق کر دی تواب نزاع ختم ہو جانا چاہیے کیونکہ نزاع کی صورت میں عدالتی فیصلہ ہی حرفِ آخر ہوتاہے۔
شریعت کے اصول فَاتَّقُوا اﷲَ مَا اسْتَطَعْتُمْ اور لَا يُكَلِّفُ اﷲُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا یہی بتاتے ہیں کہ فرض وواجب کام کے سلسلے میں استطاعت شرط ہے اور اگر کسی وقت استطاعت نہ رہے یا عقد کا ذمہ دار دیوالیہ ہوجائے تو یہ فیصلہ عدالت کرے گی کہ متعلقہ شخص اس ذمہ داری کو کہاں تک پورا کر سکتاہے ؟


اراکین فتوٰی کونسل
شیخ الحدیث مفتی عبید اللہ عفیف شیخ الحدیث مولانا محمد رمضان سلفی
مولانا حافظ صلاح الدین یوسف مولانا حافظ عبد الرحمن مدنی
مولانا محمد شفیق مدنی مولانا عبد السلام فتح پوری
ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)
نوٹ: اس موضوع پر کلیہ أبي ہریرة للشریعة کے شیخ الحدیث محترم حافظ ذوالفقار علی صاحب
کا تفصیلی مقالہ آئندہ شمارہ میں ملاحظہ فرمائیں۔ ادارہ


دعاے صحت کی درخواست
'محدث' کے فاضل مقالہ نگار اور فتنۂ پرویزیت کی تردید میں بیسیوں مضامین وکتب سپردِ قلم کرنے والے جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد دین قاسمی کی گذشتہ دنوں ایک حادثے میں کلائی کی ہڈی فریکچر ہوگئی ہے جس کی وجہ سے فاضل موصوف ان دنوں علیل ہیں۔ قارئین سے گذارش ہے کہ فاضل موصوف ودیگر مریض حضرات کے حق میں شفائے عاجلہ اور صحت ِکاملہ کی دعا فرمائیں۔ آمین! ادارہ 'محدث'


 حوالہ جات

1. صحیح بخاری:بَابُ مَنْ أَمَرَ بِـإِنْجَازِ الْوَعْدِ

2. حوالہ مذکورہ

3. تفسیر قرطبی:ج9؍ص79