عالم اسلام کے مایہ ناز امام ِہمام، امام مالک اور ان کی عظیم الشان تالیفِ لطیف الموطأ کی مسلمانوں کے ہاں بہت قدر و منزلت ہے۔شروع سے لیکر اب تک اس پر بہت کچھ لکھا گیا، اور ہنوز یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ زیر نظر مضمون میں موطا اور اس کے مصنف کے تعارف کا مختصراً بیان ہے۔ اصل تحریر عربی میں تھی جو چار برس قبل 2015ء میں مدینہ یونیورسٹی کے کلیۃ الحدیث کے کورس مصادر السنّة میں بطور ’مقالہ‘ جمع کروائی گئی تھی۔ اب کچھ حک واضافہ کے ساتھ اسے اُردو زبان میں پیش کیا جارہا ہے۔
(1)      امام مالک بن انس کا تعارف
اسم گرامی و نسب نامہ اور کنیت ولقب: ابو عبد اللّٰہ مالک بن انس بن مالک بن أبي عامر بن عمرو بن الحارث بن غیمان بن خثیل بن عمرو الحمیری الأصبحي المدني التیمي القرشي.[1]
ولادتِ باسعادت: امام صاحب کے سنہ ولادت کے متعلق تین اقوال ہیں: 93ھ،94ھ اور 92ھ، لیکن خود امام صاحب نے اپنی تاریخ ولادت 93ھ بیان کی ہے، لہٰذا اما م ذہبی نے اسی بات کو ترجیح دی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کی والدہ تین سال تک حالت حمل میں رہی تھیں۔[2]
پرورش و نشو نما: امام صاحب علم وفضل سے معمور گھرانے میں پیدا ہوئے، آپ کے دادا ابو عامر﷜ شرفِ صحابیت سے فیض یافتہ تھے[3]، جبکہ والد محترم کا شمار صحابہ کرام کے کبار تلامذہ میں ہوتا ہے۔[4]
آپ کے ایک بھائی بھی پختہ عالم دین تھے، امام صاحب بیان فرماتے ہیں:
’’ابن شہاب زہری کے ہم عمر میرے ایک بردار تھے۔ والد محترم نے ہمارا امتحان لینے کے لیے ایک دن سوال پوچھا۔ بھائی نے صحیح جواب دیا، جبکہ مجھ سے غلطی ہوئی، تو والد محترم نے فرمایا: تمہیں کبوتروں نے طلبِ علم سے غافل کردیا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات بہت ناگوار گزری۔ میں نے علم حاصل کرنے کا عزم باندھا، اور سات آٹھ سال تک ابن ہرمز کی شاگردی اختیار کیے رکھی۔ میں تھیلی میں کھجوریں ڈال کر اُن کی اولاد کو دے دیتا، اور کہتا کہ اگر کوئی شیخ کے بارے میں پوچھے تو کہہ دیں کہ مشغول ہیں۔ ایک دفعہ شیخ نے خادمہ سے کہا کہ دیکھو دروازے پر کون ہے؟ اس نے دیکھا کہ مالک کھڑے ہیں، برہم ہو کر بولی: وہی أشقر (سفید بالوں اور آنکھوں والا) ہے، اور تو کوئی نہیں۔ شیخ نے کہا: اس کو آنے دو، یہ لوگوں میں عالم کا درجہ رکھتے ہیں۔‘‘[5]
امام صاحب سترہ سال کی عمر میں نافع مولیٰ عمر، سعید المقبری، ابن شہاب زہری اور ابن دینار جیسے اجل علما سے شرفِ تلمذ حاصل کرچکے تھے[6]، اور اکیس سال کی عمر میں باقاعدہ درس و تدریس اور مسند افتا سنبھال لی تھی، اور پھر اطراف واکنافِ عالم سے علما و طلبہ آپ کے پاس حاضر ہونا شروع ہوئے۔ اور یہ سلسلہ ابو جعفر المنصور کی خلافت سے لیکر ہارون الرشید کے زمانہ تک عروج کو پہنچا اور آپ کی وفات تک جاری و ساری رہا۔[7]
خود امام صاحب سے طلبِ علم یا درس و تدریس کے لیے سفر کرنا منقول نہیں۔ آپ ساری عمر مدینہ منورہ میں ہی مقیم رہے، سوائے حج کے مکہ مکرمہ کے علاوہ کہیں سفر نہیں کیا۔ بلکہ ایک بار خلیفہ مہدی نےآپ کو بغداد لے جانے کی خواہش ظاہر کی، آپ نے درج ذیل حدیثِ نبوی پڑھ کر یہ پیشکش ٹھکرادی:
«الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ».[8]
’’کاش لوگ جان لیں کہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہے۔‘‘
سراپاے مبارک اور عادات و خصائل
امام صاحب طویل قد، بھاری جسم کے مالک تھے۔ سر اور داڑھی کے بال شدید سفید تھے، لباس بھی عمدہ سفید زیب تن کیا کرتے۔ انگوٹھی بائیں ہاتھ میں پہنتے، خضاب وغیرہ استعمال نہ کرتے اورمونچھوں کو حلق کرنے کو عیب شمار کرتے تھے۔ آپ کی مجلس انواع واقسام کے قالین وغیرہ سے مزین انتہائی پرتکلف ہوتی۔ شور وغل اور قیل وقال کی ذرا گنجائش نہ تھی۔ سب ادب و احترام اور ہیبت سے خاموش رہتے۔سوال کرنے کی ہمت نہ تھی۔ باہر سے آنے والے اجنبی اور مہمان لوگ بعض دفعہ حدیث وغیرہ کے متعلق سوال کرلیا کرتے تھے۔ حبیب نامی آپ کے ایک کاتب تھے، وہی آپ کی کتابوں کی قراءت کرتے، باقی سب سماعت فرماتے ۔ اگر کہیں غلطی ہوتی تو امام صاحب خود ہی وضاحت فرماتے۔[9]
راوی بیان کرتے ہیں کہ امام صاحب درسِ حدیث کے لیےباوضو ہو کر بہترین لباس زیب تن کرکے، بالوں کو سنوار کر اور بہترین خوشبو لگا کر نکلتے، اور فرماتے: یہ حدیثِ رسول ﷺ کی تعظیم و توقیر کا تقاضا ہے۔ اگر کوئی بآواز بلند بولتا تو یہ آیتِ مبارکہ پڑھتے: ﴿ لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ ﴾ اور فرماتے:
’’نبی کریم ﷺ کی حدیث کے پاس رفعِ صوت آپ ﷺ کے پاس رفعِ صوت کے مترادف ہے۔‘‘[10]
شیوخ و اساتذہ اور تلامذہ
امام صاحب اساتذہ و شیوخ کے انتخاب میں حد درجہ احتیاط کیا کرتے تھے۔ بہت سارے نیک اور صالح لوگوں کو صرف اس لیے چھوڑ دیا کرتے تھے، کہ ان کی علمی قد وقامت امام صاحب کے ذوق و مزاج کے مطابق نہ ہوتی۔ امام صاحب نے وقت کے جلیل القدر اور اکابر علما و محدثین سے ہی استفادہ کیا، جن میں سے چند مشاہیر کے نام یوں ہیں: نافع مولیٰ ابن عمر، سعید المقبري، نعیم المجمر،وہب بن کیسان، زہری، ابن المنکدر عبد اللّٰہ بن دینار، ایوب سختیانی، ابو الزناد اور ربیعۃ الراے (الرأي)جیسے علمائے مدینہ ۔[11]
امام صاحب کے تلامذہ میں شافعی، ثوری، ابن عیینہ، شعبہ، یحییٰ انصاری، یحیی القطان، ابن مہدی اورابن مبارک جیسے جلیل القدر ائمہ، محدثین اور فقہا کی ایک طویل فہرست کتبِ تراجم میں موجود ہے۔[12]
عقیدہ ومسلک
امام صاحب حدیث وسنت ، عقیدہ و فقہ کے امام ہیں۔آپ ان جلیل القدر تبع تابعین میں سے ہیں جو بطورِ اُسوہ و نمونہ اُمت میں مشہور ہوئے۔مذاہب اربعہ میں سے دوسرا مذہب آپ کی طرف منسوب ہے۔ امام شاطبی نے امام مالک بن انس کا ایک عظیم الشان قول نقل فرمایا ہے:
قبض رسول الله ﷺ وقد تمّ هذا الأمر واستكمل، فينبغي أن تتبع آثار رسول الله ﷺ وأصحابه، ولا يتبع الرأي، فإنه متى ما اتبع الرأي جاء رجل آخر أقوى في الرأي منك فاتبعته، فكلما غلبه رجل اتبعه، أرى أن هٰذا بعد لم يتم."[13]
’’نبی کریم ﷺ دین کو مکمل کرکے گئے، لہٰذا نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم کی ہی اتباع کریں۔ رائے اور قیاس کی طرف نہ جائیں، کیونکہ عقل پرستی کوئی معیار نہیں۔ آپ کوئی عقلی نکتہ لائیں گے، کل کو کوئی دوسرا اس کا توڑ لے آئے گا۔ اور عقل تو عیار ہے سو بھیس بنالیتی ہے، لہٰذا انسان کسی ایک بات اور موقف پر مطمئن نہ ہوسکے گا۔‘‘
امام صاحب کا ایک اور قول ہے جو ضرب المثل کی حد تک مشہور ہے، فرماتے ہیں:
"السنّة سفينة نوح من ركبها نجا ومن تخلف عنها غرق."[14]
’’ سنت تو سفینۂ نوح ہے، جو اس میں سوا ر ہوگا محفوظ رہے گا، اس سے محروم رہنے والا غرق ہوگا۔‘‘
ہیثم بن جمیل بیان فرماتے ہیں کہ میں نے امام صاحب سے پوچھا :کچھ لوگ عمر فاروق ﷜ اور ابراہیم نخعی ﷫ کے اقوال ذکر کرتے ہیں، اور پھر کہتے ہیں کہ ہم ابراہیم کے قول کو لیتے ہیں...کیا یہ درست ہے؟
امام صاحب نے پوچھا: کیا عمر ﷜ کا موقف صحیح سند سے ثابت ہوتا ہے؟ کہا: جی تو فرمایا:
’’ایسے لوگوں سے اس منہجی انحراف سے توبہ کروائی جائے جو صحابہ کی بات چھوڑ تے ہیں۔‘‘
قلت لمالك بن أنس: يا أبا عبد الله! إن عندنا قومًا وضعوا كتبًا يقول أحدهم ثنا فلان عن فلان عن عمر بن الخطاب بكذا وكذا وفلان عن إبراهيم بكذا، ويأخذ بقول إبراهيم، قال مالك: وصحّ عندهم قول عمر؟ قلت: إنما هي رواية كما صحّ عندهم قول إبراهيم، فقال مالك: هؤلاء يُستتابون.[15]
امام صاحب اتباعِ کتاب وسنت کا درس دیا کرتے تھے:
قال معن بن عيسى: سمعت مالكا يقول: إنما أنا بشر أخطئ وأصيب، فانظروا في رأيي، فكل ما وافق الكتاب والسنة فخذوا به، وكل ما لم يوافق الكتاب والسنة فاتركوه.[16]
’’معن بن عیسی بیان کرتے ہیں، امام مالک نے فرمایا: میں ایک انسان ہوں، جس سے درست کے ساتھ ساتھ غلطیاں بھی ہوتی ہیں۔ میرے موقف کو پرکھو، جو کتاب وسنت کے مطابق ہو، اس کو لو، اور کتاب وسنت کے مخالف کو چھوڑ دو۔‘‘
امام صاحب بسا اوقات یہ شعر بھی پڑھا کرتے تھے:
وخير أمور الدين ما كان سنة                       وشر الأمور المحدثات البدائع[17]
’’بہترین دینی کام وہ ہے جو سنت کے مطابق ہو، اور بدترین وہ جو بدعات و خرافات پر مشتمل ہو۔ ‘‘
علمی مقام اور تعریف و توصیف
معن بن عیسی فرماتے ہیں کہ مالک ثقہ،ثبَت ،مامون ،پر ہیز گار، عالم و حجت تھے۔[18]
امام شافعی ﷫ فرماتے ہیں: ’’سنت و اثر میں مالک کی حیثیت ایک ستارے سی ہے،اگر مالک اور ابن عیینہ نہ ہوتے تو حجاز علم سے محروم رہتا۔ مالک کو کسی حدیث میں ذرا شک ہوتا، تو مکمل طور پر اس سے کنارہ کشی کرلیتے۔ پھر فرمایا: ’’مالک میرے معلم ہیں، ا‘نہیں سے ہم نے علم حاصل کیا۔ ‘‘
راوی بیان کرتے ہیں کہ امام شافعی ﷫، امام مالک ﷫ پر کسی کوبرتری دینے کے قائل نہ تھے۔
وہب بن خالد کا بیان ہے: ’’مشرق و مغرب میں مالک سے بڑھ کر حدیثِ نبوی کا کوئی امین موجود نہیں۔‘‘[19]
ایک مشہور حدیث ہے :
«يُوشِكُ أَنْ يَضْرِبَ النَّاسُ أَكْبَادَ الإِبِلِ يَطْلُبُونَ العِلْمَ فَلَا يَجِدُونَ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْ عَالِمِ المَدِينَةِ.»[20]
’’لوگ علمی سیرابی کے لیے دور دراز کے سفر کریں گے، لیکن اُنہیں عالم مدینہ سے بڑھ کر کوئی عالم نہ ملے گا۔‘‘
سفیان بن عیینہ و عبد الرزاق فرماتے ہیں: ’’یہاں عالم مدینہ سے مراد امام مالک بن انس ہیں۔‘‘[21] ابن عیینہ یہ بھی اعتراف کرتے ہیں کہ ’’مالک سے بڑھ کر راویوں میں احتیاط کرنے والا اور ان کا علم رکھنے والا کوئی نہیں۔‘‘[22]
امام احمد ﷫سے پوچھا گیا کہ زہری کے تلامذہ میں روایتِ حدیث میں سب سے زیادہ پختہ کون ہے؟ فرمایا:
’’مالک بن انس ، جو ہر چیز میں پختگی رکھتے ہیں۔‘‘[23]
حماد بن زید خود بہت بڑے محدث ہیں۔ امام مالک﷫ کی وفات کی خبر ملی، بے ساختہ گویا ہوئے:
’’ اللّٰہ رحم کرے، اب ان جیسا کوئی نہیں رہا۔‘‘[24]
امام ابن حبان فرماتے ہیں: فقہاے مدینہ میں رواۃ کی جانچ پڑتال کی داغ بیل ڈالنے والے مالک ہیں، جنہوں نے صحیح وضعیف میں امتیاز کا منہج قائم کیا، اور اسی کو امام شافعی﷫ نے آگے بڑھایا۔[25]
امام نووی فرماتے ہیں: ’’مالک کی امامت و جلالت، عظمت و سیادت، تبجیل و توقیر، حفظ و تثبت کے اقرار واعتراف، اور حدیثِ رسول ﷺکی تعظیم پر تمام علما کا اتفاق و اتحاد ہے۔‘‘[26]
امام ذہبی کی وسعت مطالعہ امام کی شان میں نذرانۂ عقیدت یوں پیش کرتی ہے:
’’امام مالک﷫ کو کچھ ایسی فضیلتیں حاصل ہوئی ہیں کہ میرے علم کی حد تک دیگر لوگ ان سے محروم رہے ہیں: ایک: طولِ عمر اور علو روایت۔ دوسرا :ذہنِ رسا وفہمِ عمیق اور وسعتِ علم۔ تیسرا :تمام علما کا ان کے حجت و صحیح الروایہ ہونے پر اتفاق۔ چوتھا: امام کی دیانت و عدالت اور اتباع سنت پر یک زبان ہونا۔ پانچواں :فقہ و فتویٰ اور اُصولِ استدلال میں ان کی مہارت کا اعتراف کرنا۔‘‘[27]
تالیفات
موطا امام کی شہرہ آفاق تصنیف ہے، اس کے علاوہ بھی رسالة في القدر، رسالة في النجوم ومنازل القمراور الأقضية اور إجماع أهل المدينة کے ناموں سے ان کے رسائل کا ذکر ملتا ہے۔[28]مالکیوں نے امام کے علوم وفنون سے متعلق کئی ایک مجموعے ترتیب دیے ہیں۔ جن میں المدونة سب سے معروف ہے۔
آزمائش اور صبر وثبات
کئی ایک جلیل القدر علما کلمہ حق کہنے کی پاداش میں وقت کے حکمرانوں کے زیر عتاب رہے، امام مالک بھی اُنہیں میں سےایک ہیں۔جبری طلاق نہیں ہوتی، امام کا مشہور فتویٰ ہے۔ یہ حاکم وقت کو پسند نہیں تھا، جس کے سبب امام صاحب کو بہت مشقت و اذیت کا سامنا کرنا پڑا، اس واقعہ کی تمام تفصیلات قاضی عیاض نے ترتیب المدارك (2؍130)میں ذکر کی ہیں، حافظ عبد اللّٰہ محدث روپڑی نے اس کا ذکر اپنی کتاب ’حکومت اور علماے ربانی‘(ص 25تا29) میں بھی کیا ہے، وہیں سے خلاصۃً اسے یہاں ذکر کیا جاتا ہے:
بعض فقہا نے ایک ایسا فتویٰ دے دیا کہ اُمراء و سلاطین کی عیاشی و شہوت رانی کے لیے انتہائی زبردست دلیل اور بہترین حربہ ہونے کے ساتھ نصوصِ شرعیہ کے بالکل خلاف و منافی تھا، فتویٰ کے الفاظ یہ تھے:
’’اگر کسی مرد سے زبردستی یاڈرا دھمکا کر (قتل وغیرہ کا خوف دلا کر) اس کی عورت سے طلاق حاصل کرلی جائے تو ایسی طلاق بالکل حق وصواب اور جائز و صحیح ہے۔‘‘
جب یہ فتویٰ امام دار الہجرۃکے روبرو پیش ہوا تو آپ نے «لا طلاق ولا عتاق في إغلاق»[29] والی حدیث کے پیش نظر علیٰ الاعلان اس کی تردید و تکذیب کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں فرمایا کہ "طلاق المکرَه لیس بشيء" یعنی جبر و اکراہ سےحاصل کردہ طلاق بالکل لغو وباطل ہے۔ ایسی مطلقہ عورت سے نکاح کرنا ویسے ہی حرام و ناجائز ہے جیسا کہ عام منکوحہ عورتوں سے شریعت نے حرام و ناجائز قرار دے دیا ہے۔
نہ صرف یہ بلکہ عالم مدینہ اس حدیث سے یہ فتوی بھی دیتے کہ جس طرح طلاق المکره غلط وباطل ہے، ویسے ہی بزور شمشیر بیعتِ خلافت حاصل کرنے والے خلیفہ کی بیعت بھی شرعاً جائز و صحیح نہیں۔ اور منصور کی بیعتِ خلافت چونکہ جبر و اکراہ پر مبنی تھی، اس لیے عالم مدینہ کے دونوں اعلانات بظاہر حکومت کو کھلا چیلنج تھے، اور اس طرفہ پر طرہ یہ ہوا کہ ان دنوں مدینہ منورہ کا گورنر جعفر بن سلیمان تھا جو منصور عباسی کا چچا زاد بھائی تھا۔ جب دونوں اعلانات اس نے سنے تو شاہی قرابت اور حکومت کےنشہ سےسرشار اس نے امام صاحب کو انتباہی نوٹس دیا کہ اپنے فتویٰ سے رجوع کریں یا کم ازکم آئندہ ایسا فتوی نہ دیں۔
حضرت امام مالک﷫ کا وجود ہی فطرتاً کتاب وسنت کی نشر و اشاعت کے لیے مختص تھا، بنابریں آپ نے گورنر جعفر بن سلیمان کے انتباہی نوٹس کی ایک ذرہ پروا نہ کی، بلکہ مزید جوش و خروش سے رد ّو تردید کرتے ہوئے کھلم کھلا اعلان کرتے رہے: طلاق المکره لیس بشيء یعنی جبر و اکراہ سے حاصل کردہ طلاق غلط وباطل ہے۔ جعفر شاہی آرڈر کی توہین دیکھ کر آگ بگولہ ہوگیا اور پولیس کو حکم دیا کہ امام صاحب کو اخلاقی مجرم کی حیثیت سے انتہائی ذلیل کن حالت میں پیش کیا جائے۔ امام صاحب کو لایاگیا، جعفر نے اپنا مطالبہ دہرایا۔ امام صاحب نے پھر اسی شان سے اسے ٹھکرادیا، اور فرمایا: اگر تمہارے مفتیوں کےپاس کوئی نص قطعی موجود ہے تو پیش کرو، ورنہ ہم فتویٰ کو واپس لینے یا اس سے باز رہنے کے لیےقطعاً تیار نہیں۔
والی مدینہ نے زچ ہو کر امام صاحب کو مار پیٹ کا حکم دے دیا۔ امام صاحب کوڑوں کی ضرب سے چلانے کی بجائے طلاق المکره لیس بشيء کے نعرے بلند کرتے جاتے۔ اپنی خفت و ندامت کو مٹانے کے لیے ظالم وقت نے حکم دیا کہ اس باغی کا منہ کالا کرکے پورے شہر میں گھمایاجائے۔ امام صاحب وہاں بھی سر عام یوں فرمانے لگے: ’’مجھے جاننے والے تو خوب جانتےہیں، جو نہیں جانتا وہ سن لے کہ میں مالک بن انس اصبحی ہوں، اور ڈنکے کی چوٹ کہتاہوں کہ جبرو اکراہ کی طلاق کی کوئی حیثیت نہیں۔ ‘‘والی مدینہ کوخبر کی گئی کہ تم نے امام کو ذلیل و رسوا کرنے کا پلان کیا تھا، لیکن امام اُلٹا حکومت کے ظلم وغصب کی داستان گلی کوچوں میں بیان کر رہے ہیں، تو والی مدینہ نے کہا کہ امام صاحب کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ حکومتی کارندوں سے خلاصی پاتے ہی امام صاحب مسجدِ نبوی گئے وہاں بطورِ شکرانہ دوگانہ ادا کیا۔خلیفہ منصور کو جب یہ صورت حال پہنچی تو بہت برہم ہوا، اور والی مدینہ جعفر کو کہلا بھیجا کہ تمہاری بیوقوفی کی یہ سزا ہے کہ ابھی فورا گدھے پر سوار ہو کردار الخلافہ بغداد حاضری دو، خلیفہ منصور نے جعفر بن سلیمان کو معزول کردیا اور خود مدینہ حاضری دے کر امام صاحب سے معذرت خواہ ہوا ۔
یہ تھا وقت کے امام ہمام مالک بن انس کا وقت کے حکمران سے تعامل، ان کی شجاعت و بہادی اور کلمہ حق سے دین کا سر بلند ہوا، اور وقت کے حکمران کو ذلت وپستی کا سامنا کرنا پڑا۔
وفات
علم وعمل اور اشاعتِ کتاب وسنت سے بھرپور 85 سالہ زندگی گزار کر امام مالک 14ربیع الاول 179ھ میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔ یہ خلیفہ ہارون الرشید کا زمانہ تھا، مدینہ کے والی عبد اللّٰہ بن محمد بن ابراہیم عباسی تھے۔ انہوں نے امام صاحب کا جنازہ مسجد نبوی میں پڑھایا، اور آپ کو مسجد نبوی سے ملحق بقیع الغرقد قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔[30]
(2)      موطا امام مالک کا تعارف
نام ، وجہ تسمیہ اور تلفظ
اس مایہ ناز کتاب کا نام ’موطا‘ ہے، جس میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں۔ امام مالک﷫ کی نسبت سے اسے ’موطا امام مالک‘ بھی کہا جاتا ہے۔البتہ بعض دفعہ موطا کی نسبت امام صاحب کے بعض تلامذہ یعنی راویانِ موطا کی طرف بھی کردی جاتی ہے، مثلاً کہا جاتا ہے:’ موطا امام محمد‘ لیکن بہتر یہ ہے کہ ’موطا مالک بروایتِ محمد‘ جیسی کوئی تعبیر استعمال کی جائے، تاکہ کسی قسم کا کوئی اشکال پیدا نہ ہو کیونکہ امام محمد کی موطا نامی کتاب کوئی مستقل تصنیف نہیں، بلکہ وہ موطأ مالک کی ایک روایت ہے۔ جس میں 3686 کی بجائے 1008 مرویات [31]ہیں۔
موطأ نام کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ موطأ توطِئة سے ہے، جس کا مطلب ہے ’’کسی چیز کو آسان ومیسر کردینا۔‘‘[32] چونکہ امام صاحب کا مقصد حدیث وفقہ کو ایک سہل اُسلوب میں پیش کرنا تھا، اس لیے اس کا نام موطأ رکھا گیا۔[33]ایک اور وجہ تسمیہ بھی بیان کی جاتی ہے جو کہ امام صاحب کے درج ذیل قول سے ماخوذ ہے:
"عرضت كتابي هٰذا على سبعين فقيهًا من فقهاء المدينة فكلّهم واطأني عليه فسميته الموطأ."[34]
میں نے یہ کتاب مدینہ کے ستر فقہا کے سامنے پیش کی، سب نے اس کے متعلق رضامندی و موافقت کا اظہارکیا، لہذا اس کا نام ’موطا‘ رکھ دیا۔
اس طرح یہ موطا مواطَأة یعنی موافقة سے ہوگا، لیکن اس میں ایک اشکال ہے کہ مواطأة باب مفاعَلة ہے، جبکہ موطأ باب تفعیل سے ہے جس کا حل یوں کیا جاسکتا ہے کہ توطئة باب تفعیل کو’ تنقیح وتحریر ‘ کے معنی میں لیا جائے ، اور یہ توجیہ کی جائے کہ جب ستر فقہائے مدینہ نے کتاب کے مندرجات کو دیکھا، اس کی جانچ پڑتال کی، تو گویا وہ تنقیح و تحریر کے بعد موطأ کہلانے کی حقدار ٹھہری۔ و اللّٰہ اعلم!
یہاں یہ فائدہ بھی قابل ذکر ہے کہ لفظ موطأ میں لغوی طور پر دو وجہیں جائز ہیں: ایک الموطأ واوکے ساتھ، اور دوسرا المؤطأ ہمزہ کے ساتھ، جیسا کہ قرآن کریم میں ﴿ وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْؕ﴾ میں وُقِّـتَت بھی جائز ہے۔[35]              اور دونوں کے مفہوم میں فرق کوئی فرق نہیں ۔
سبب تالیف
موطا کے سبب تالیف کے بیان میں ایک سے زائد روایات ہیں:ایک یہ ہے کہ امام صاحب نے یہ کتاب عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور کے کہنے پر تصنیف فرمائی تھی۔ دوسری روایت کے مطابق یہ گزارش خلیفہ مہدی نے کی تھی[36]۔ ایک تیسری روایت یہ بیان کی جاتی ہے کہ امام صاحب نے عبد العزیز ابن الماجشون کی موطأ دیکھی، تو اُنہیں احساس ہوا کہ اس موضوع پر مزید بہترین کتاب ہونی چاہیے، اور پھر آپ نے موطا کی تصنیف کا آغاز کیا۔[37]
ان تینوں روایات میں جمع و تطبیق اس طرح ممکن ہے کہ پہلے ابو جعفر المنصور نے امام صاحب سے یہ گزارش کی ہوگی، لیکن امام صاحب سوچ وفکر میں ہوں گے۔پھر بعد میں خلیفہ مہدی نے بھی یہی طلب دہرائی تو امام صاحب کا عزم مزید پختہ ہوا، اور پھر جب آپ نے اس وقت کی تصنیفات دیکھیں تو ان میں سب سے بہترین موطا ابن الماجشون محسوس ہوئی، لیکن ساتھ اس میں موجود بعض کوتاہیوں کو دیکھ کر ایک جامع اور آسان موطا تالیف کرنے کا آغاز کردیا۔ و اللّٰہ اعلم!
موطا کو دستور بنانے کی پیشکش
امام صاحب کےسوانح نگاروں نے یہ بات بھی نقل کی ہے کہ ابو جعفر المنصور نے امام صاحب کو پیش کش کی تھی کہ آپ اجازت دیں، تو موطا کو بطور دستور اور آئین کےنافذکردیا جائے ، لیکن امام صاحب نے رضامندی ظاہر نہ کی۔ ابن سعد اس واقعہ کو یوں بیان کرتے ہیں:
’’ مالک بیان کرتے ہیں کہ حج کے موقعہ پر ابو جعفر المنصور نے مجھے بلوایا اور کہا: میرا عزم ہے کہ آپ کی کتاب یعنی موطا کے نسخے تیار کروا کر تمام اسلامی علاقوں میں بھیجوں اور اسے نافذ کرنے کا حکم جاری کردوں، کیونکہ اصل علم تو مدینہ میں ہے۔ میں نے عرض کی: امیر المؤمنین یہ کام نہ کیجیے، کیونکہ اقوال، احادیث و روایات کا علم تمام لوگوں میں منتشر ہوچکا ہے، اور ہر ایک نے اپنے علم وفہم کے مطابق موقف بنالیا ہے، ایسی صورت حال میں لوگوں کا اپنے ہاں رائج الوقت طریقے سے دستبردار ہونا بہت مشکل ہوگا، لہٰذا ہر شہر کو اپنے علمی وفقہی اختیارات کے مطابق ہی رہنے دیا جائے۔ ابو جعفر نے کہا: بخدا اگرآپ اجازت دیتے تو میں اسے نافذ کرکے ہی رہتا۔‘‘
امام صاحب کے الفاظ یوں ہیں:
يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! لاَ تَفْعَلْ هَذَا فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ سَبَقَتْ إِلَيْهِمْ أَقَاوِيلُ وَسَمَعُوا أَحَادِيثَ وَرَوَوْا رِوَايَاتٍ وَأَخَذَ كُلُّ قَوْمٍ بِمَا سَبَقَ إِلَيْهِمْ وَعَلِمُوا بِهِ وَدَانُوا بِهِ مِنِ اخْتِلاَفِ النَّاسِ وَغَيْرِهِمْ وَإِنَّ رَدَّهُمْ عَمَّا قَدِ اعْتَقَدُوهُ شَدِيدٌ فَدَعِ النَّاسَ وَمَا هُمْ عَلَيْهِ وَمَا اخْتَارَ كُلُّ أَهْلِ بَلَدٍ مِنْهُمْ لأَنْفُسِهِمْ .[38]
یہی بات الفاظ کے ذرا اختلاف سے امام کے تلامذہ ابو معصب الزہری ، الحارث بن مسکین اور محمد بن مسلمۃ القعنبی وغیرہ سے بھی مروی [39]ہے۔ الغرض امام صاحب اپنی کتاب کو بطور قانون اور دستور نافذ کرنے پر راضی نہ ہوئے، كيونكہ وحی کے علاوہ کوئی چیز بطور شریعت نافذ نہیں كی جاسکتی ہے، اور امام صاحب خود مسجد نبوی میں لوگوں کو قبر نبوی کی طرف اشارہ کر کرکے یہی منہج سکھاتے رہے کہ
"كُلُّ أَحَدٍ يُؤْخَذُ مِنْ قَوْلِه، وَيُتْرَكُ، إِلاَّ صَاحِبَ هَذَا القَبْرِ ﷺ."[40]
’’اس صاحبِ قبر ﷺکے علاوہ ہر ایک کی بات میں اخذ و رد ّ کا احتمال باقی رہتا ہے۔‘‘
موضوعاتِ کتاب
اجمالی طور پر تو کتاب کا موضوع احادیث رسول ﷺو آثارِ صحابہ کا بیان ہے، البتہ تفصیلی طور پر مضامین موطا کو آٹھ قسموں میں بیان[41] کیا جاسکتا ہے:
پہلی قسم:مرفوع و متصل احادیث                                  دوسری قسم: مرسل احادیث
تیسری قسم: منقطع احادیث                                       چوتھی قسم: مرفوع حکمی
پانچویں قسم: بلاغیات                                           چھٹی قسم: اقوالِ صحابہ و تابعین
ساتویں قسم: امام مالک کا تفقہ و اجتہاد                                 آٹھویں قسم: لغوی وتفسیری افادات
کتاب کا طریقۂ تالیف اور مصنف کی شرط
امام صاحب نے کتاب کو فقہی ابواب پر مرتب کیا ہے۔ صرف احادیثِ صحیحہ پر اکتفا کرنے کی بجائے اقوالِ صحابہ وتابعین بھی ذکر کیے ہیں۔ مسند کے ساتھ ساتھ مرسل حدیث سے بھی احتجاج کرتے ہیں، اسی طرح سیدنا عمر فاروقؓ اور عبد اللّٰہ بن عمرؓ [42] سے وارد مسائل سے بھی استدلال کرتے ہیں۔ اہل مدینہ صحابہ وتابعین کے فتاویٰ سے زیادہ مانوسیت رکھتے ہیں بالخصوص اگر کسی مسئلہ میں فقہاے سبعہ کا اتفاق ہوجائے۔[43]
امام صاحب نے احادیث نبویہ پر اکتفا کی کرنے کی بجائے اقوال صحابہ وتابعین کو اس لیے ذکر کیا، کیونکہ یہ اسلامی فقہی مصادر میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، اس کے بغیر تفقہ فی الحدیث ممکن نہیں، امام کامقصد صرف نصوصِ شریعت کی تدوین نہ تھا، بلکہ آپ نصوص سے مسائل کے استنباط و استدلال کے لیے ایک جامع طرز اُسلوب متعارف کروانا چاہتے تھے۔
ابن العربی رقم طراز ہیں: قَصَدَ في كتابِه هذا تبيينَ أصولِ الفقهِ وفروعِهِ.[44]
’’ امام کا اس کتاب کی تالیف سے مقصد فقہ کے اصول وفروع کا بیان تھا۔‘‘
امام ابن عاشور فرماتے ہیں:
’’امام صاحب کا مقصد علِم شریعت کی وضاحت تھی، اور علم شریعت صرف احادیث نبویہ میں ہی منحصر نہیں، بلکہ صحابہ کرام جنہوں نے نبی کریم ﷺکے معاملات و عادات کو براہ راست ملاحظہ کیا، ان کے فیصلے اور فتاوی بھی بہت اہمیت کے حامل ہیں۔‘‘[45]
احادیثِ موطا کا درجہ
جیسا کہ گزر چکا کہ احادیثِ موطا کی مختلف آٹھ اقسام ہیں، تو ہر قسم کا درجہ بھی الگ ہے، لہٰذا پہلی قسم یعنی مرفوع و متصل احادیث سب کی سب صحیح ہیں، اور علما کا اس پر اتفاق ہے، بلکہ یہ تمام احادیث صحیحین بلکہ کتبِ ستہ میں بھی موجود ہیں۔[46]
بلکہ امام بخاری کے طریقہ تالیف میں یہ بات مذکور ہے کہ انہیں اگر امام مالک کی روایت سے کوئی حدیث مل رہی ہو، تو وہ اسی کو ذکر کرنے کا اہتمام کرتے ہیں، چاہے امام مالک کی روایت کے لیے انہیں نَازِل یعنی لمبی سند ہی کیوں نہ اختیار کرنا پڑے۔ ابن عاشور فرماتے ہیں:
’’امام بخاری تکلفاً مالک کی روایت کو لیتے ہیں، چاہے ان کو بعید ترین سند کا ہی سہارا کیوں نہ لینا پڑے۔ ‘‘[47]
رہی بات موطا میں موجود مُرسَل احادیث کی، تو اس کے متعلق موطا کے رازدان و ماہر ابن عبد البر فرماتے ہیں کہ موطا کی مراسیل دیگر متصل اسانید سے بھی ثابت ہیں، یہی وجہ ہے کہ یحییٰ بن سعید القطان فرمایا کرتے تھے: ’’مالک کی مراسیل مجھے سب سے عزیز ہیں، کیونکہ ان سے صحیح مراسیل کسی کی نہیں‘‘[48]، البتہ درج ذیل حدیث:عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ الْكِنَانِيِّ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى النَّاسَ فِي قَبَائِلِهِمْ يَدْعُو لَهُمْ وَأَنَّهُ تَرَكَ قَبِيلَةً مِنَ الْقَبَائِلِ قَالَ وَإِنَّ الْقَبِيلَةَ وَجَدُوا فِي بَرْذَعَةِ رَجُلٍ مِنْهُمْ عِقْدَ جَزْعٍ غُلُولًا فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ عَلَيْهِمْ كَمَا يُكَبِّرُ عَلَى الْمَيِّتِ کی ابن عبد البر کوکہیں مسند نہیں ملی۔[49]
رہی منقطع احاديث تو اس حوالے سے قاضی عیاض کا کہنا ہے کہ ’’ابن مسعود کے اقوال امام صاحب نے عبد اللّٰہ بن ادریس اَودی کے واسطہ سے روایت کیے ہیں، اور بقیہ اصحاب کے آثار عبد الرحمٰن بن مہدی کے توسط سے[50]۔‘‘ گویا قاضی عیاض یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ موطأ میں منقطع احادیث کی اسانید بھی معروف ہیں، امام صاحب نے شاید شہرت کی بنا پر انہیں ذکر نہیں کیا۔ و اللّٰہ اعلم!
موطا میں بلاغات کی تعداد 239 ہے[51]، حافظ ابن عبد البر نے ان تمام کی اسانید ذکر کردی ہیں، البتہ چار کی اسانید انہیں نہیں مل سکیں:
1:" إني لا أنسى ولكن أنسى لأسن."[52]
2: "إذا نشأت بحرية ثم تشاءمت فتلك عين غديقة." [53]
3:"أن رسول الله ﷺ أري أعمار الناس قبله فكأنه تقاصر أعمار أمته، أن لا يبلغوا من العمل مثل الذي بلغه غيرهم في طول العمر فأعطاه الله ليلة القدر خيرًا من ألف شهر."[54]
4: أن معاذ بن جبل قال: آخر ما أوصاني به رسول الله ﷺ: و قد وضعت رجلي في الغرز أن قال: «حسِّن خلقك للناس»."[55]
بعد والے علما کو ان چار احادیث کی اسانید بھی مل گئی تھیں، حافظ ابن صلاح کا اس حوالے سے ایک مستقل رسالہ ہے جس میں یہ تفصیلات موجود ہیں۔ان چار احادیث کے متعلق ابن صلاح کی تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ دو اور تین نمبر احادیث کی اسانید ضعیف ہیں، جبکہ پہلی حدیث صحیح اور چوتھی حدیث حسن درجے کی ہے۔[56]
موطا کی قدر ومنزلت
کتبِ حدیث میں موطأ اعلیٰ منزلت پر فائز ہے، بالکل ابتدائی مصادر حدیث میں سےہے۔فقہ و حدیث کی جامع پہلی کتاب ہے، امام شافعی فرمایا کرتے تھے:
ما في الأرض كتاب في العلم أكثر صوابًا من موطأ مالك.[57]
’’روے زمین پر موطا سے صحیح ترین کتاب موجود نہیں ہے۔‘‘
امام ابن العربی فرماتے ہیں:
’’بخاری دوسرے نمبر پر جبکہ موطا پہلے نمبر پر ہے، بعد والی تمام کتبِ حدیث کی بنیاد موطا ہی ہے۔‘‘[58]
یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ موطا کو صحیحین پر ترجیح اس بنیاد پر ہے کہ موطا اَسبق واَقدم ہے، اور متقدم ہونا بذاتِ خود ایک فضیلت ہے، کیونکہ بعد والے سب اوّلین کے خوشہ چین ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کی کتبِ حدیث میں کوئی ایک ایسی نہ ہوگی جس میں امام مالک﷫ اور موطأ کی روایات موجود نہ ہوں، اس اعتبار سے موطأ کو افضل کہا جاسکتا ہے، ورنہ عمومی اعتبار سے یہی بات درست ہےکہ
’’صحیح بخاری ومسلم قرآن کے بعد افضل ترین کتابیں ہیں، جیسا کہ اس پر امت کا اجماع ہے۔‘‘[59]
ذہبی فرماتے ہیں: ’’موطا کی لوگوں کے ہاں شان، اور دلوں میں جو ہیبت و وقار ہے، یہ اسی کا خاصہ ہے۔‘‘[60]
حجۃ الہند شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلوی﷫ فرماتے ہیں:
’’یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ کتبِ فقہ میں موطا امام مالک کے پائے کی کوئی کتاب نہیں ہے،کیونکہ کتاب کی فضلیت کے کچھ معیارات ہیں، مثلاً اس کا مصنف عظیم شخصیت ہو، یاکتاب میں صحت کا التزام ہو، یا اس کی احادیث مشہور ہوں، یا عامۃ المسلمین کے ہاں اسے قبولِ عام حاصل ہو، یا اس میں اہم مقاصد دین کا استیعاب ہو وغیرہ، یہ جتنی خوبیاں ہیں، موطا میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔‘‘[61]
صحیح بات یہ ہے کہ موطأ میں چونکہ صرف صحیح احادیث پر اکتفا نہیں کیا گیا، اس لیے صحیحین کو اس پر فوقیت حاصل ہے، یہی وجہ ہے علامہ کتانی نے صحیحین کے بعد موطا کو تمام کتب ِحدیث پر فوقیت دی ہے۔[62]
موطا میں امام صاحب کے شیوخ
امام ذہبی﷫ اور امام غافقی نے موطا میں امام صاحب کے شیوخ کی فہرست مرتب کی اور ان سے مروی روایات کی تعداد ذکر کی ہے۔ ذہبی نے 94 رواۃ کا ذکر کیا ہے[63] جبکہ غافقی نے 92 بیان کیے ہیں۔[64] غافقی کی فہرست میں 7 ایسے نام ہیں جنہیں ذہبی نے ذکر نہیں کیا، اور ذہبی نے دس ایسے نام ذکر کیے ہیں، جو غافقی کی فہرست میں نہیں ہیں۔ اس طرح یہ کل ملا کر تقریباً 102 شیو خ بن جاتے ہیں، جن سے امام مالک نے موطا میں روایات بیان کی ہیں۔
روایاتِ موطا
موطا کی تالیف کے زمانے سے ہی اہل علم نے اس کی روایت و تحدیث کا اہتمام کیا، امام صاحب کے تلامذہ ایک دوسرے سے بڑھ کر موطأ کی روایت و عنایت کرتے رہے۔ حافظ ابن عبد البر﷫ فرماتے ہیں:
’’احادیث موطا، فقہی مسائل و فتاوی کی روایت کرنے والوں کو امام دارقطنی نے ایک تصنیف میں جمع کیا ہے، جن کی تعداد تقریبا ًہزار کے قریب ہے۔‘‘[65]
راویوں کی کثرت کے سبب موطا کے نسخوں او روایتوں میں اختلاف بھی موجود ہے، قاضی عیاض مالکی (م544ھ) نے اس حوالے سے کافی تحقیق کی ہے، اور ان کے دور یعنی چھٹی صدی ہجری میں موطأ کے تیس کے قریب نسخے شمار کیے جاتے تھے، جن میں سے بیس خود قاضی عیاض کی دسترس میں تھے۔[66]
روایاتِ موطأ میں سب سے مشہور روایت یحیی بن یحیی اللیثی ﷫کی ہے، جب مطلقا موطأ کہا جائے تو یہی روایت مراد ہوتی ہے، جبکہ دیگر روایات ذکر کرتے ہوئے ساتھ راویوں کی صراحت کردی جاتی ہے۔
روایاتِ موطا پر مستقل تصانیف بھی ہیں، أنوار المسالك إلى روایات موطأ مالك میں 16 روایات کا تذکرہ ہے، اسی طرح شیخ سلیم بن عید ہلالی کی تحقیق سے شائع شدہ موطا میں دو روایات کا مزید اضافہ ہے، اس طرح یہ کل اٹھارہ روایت بن جاتی ہیں۔ ذیل میں ایک جدول کی شکل میں ان روایات کو ذکر کیا جاتا ہے، ساتھ نصوص کی تعداد اور مطبوع و مخطوط کی معلومات کا بھی حسبِ استطاعت اضافہ کردیا گیا ہے:
ن

راوی موطأ کا نام مع سن وفات

حالت

تعداد نصوص

1

رواية يحيٰى بن يحيٰى الليثي (ت 233هـ )

مطبوعہ

3676 ( ط. الأعظمي )

2

رواية محمد بن الحسن الشيباني (ت 179هـ )

مطبوعہ

1008 ( ط عبد الوهاب)

3

رواية أبي مصعب الزهري (ت 241هـ )

مطبوعہ

3069 ( ط بشار عواد)

4

رواية سعيد بن عفير الأنصاري (ت 226هـ )

نامعلوم

 
5

رواية سليمان بن برد المصري (ت210هــ )

نامعلوم

 
6

رواية عبد الرحمٰن بن القاسم (ت191هـ )

مطبوعہ

527 ( ط علي زئي )

7

رواية عبدالله بن مسلمة القعنبي (ت221هـ )

مطبوعہ

695 ( ط التركي )

8

رواية عبدالله بن وهب القرشي (ت 197هـ )

مخطوطہ

مركز ودود للمخطوطات

9

رواية عبد الله بن يوسف التنيسي (ت 218هـ )

نامعلوم

 
10

رواية محمد بن المبارك الصوري (ت 215هـ )

نامعلوم

 
11

رواية مصعب بن عبدالله الزبيري (ت 230 هـ )

نامعلوم

 
11

رواية مطرف بن عبدالله المدني (ت220 هـ )

نامعلوم

 
12

رواية معن بن عيسي القزاز (ت 198هـ )

نامعلوم

 
13

رواية يحيى بن بكير المصري (ت 213هـ )

مطبوعہ

غیر شمارکردہ ( ط الهلالي )

14

رواية يحيى بن يحيى النيسابوري (ت 226هـ )

نامعلوم

 
15

رواية أبي حذافة أحمدبن إسماعيل السهمي(ت259 هـ)

نامعلوم

 
16

رواية علي بن زياد أبو الحسن العبسي(ت190هـ )

مطبوعہ

غیر شمارکردہ ( ط الهلالي )

17

سويد بن سعيد أبو محمد الحدثاني (ت240هـ )

مطبوعہ

غیر شمارکردہ ( ط الهلالي )

موطا کی مختلف روایات میں احادیث کی تعداد میں کافی فرق کی وجہ یہ ہے کہ امام صاحب سے ان لوگوں نے مختلف اوقات میں کتاب سنی، اور امام صاحب اس میں مسلسل حک و اضافہ کرتے رہتے تھے۔ [67]
شروحاتِ موطا
شروع سے لیکر اب تک علما مختلف انداز سے موطا کی خدمت سرانجام دیتے رہے ہیں:کسی نے شرح کی، کسی نے رجالِ موطا کے حالاتِ زندگی لکھے، کسی نے مراسیل و منقطعات کی اسانید کا اہتمام کیا، کسی نے اطراف الموطا، وترتیب المسانید پر کام کیا۔ قاضی عیاض فرماتے ہیں:
’’کتب حدیث میں جو اہتمام موطا کے ساتھ رہا ہے، وہ کسی اور کتاب کو نصیب نہیں ہوا۔ موافق و مخالف سب اس کی قدر ومنزلت ، روایت کرنے، اور احادیث کو ماننے پر متفق ہیں۔‘‘[68]
بعض محققین نے شروحاتِ موطا کی تعداد 130 بیان کی [69]ہے، چند اہم کا تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے:
تفسير غريب الموطأ لمحمد بن عبدالسلام ( سحنون ) القيرواني (ت 265هـ)
مسند الموطأ لأبي القاسم الجوهري الغافقي (ت 381 هـ)
التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد لابن عبد البر (ت 463هـ)
الاستذكار للحافظ ابن عبد البر (ت 463هـ)
المنتقى لأبي الوليد الباجي (ت474هـ)
الإيماء في أطراف الموطأ لأحمد بن طاهر الداني (ت520هـ)
القبس في شرح موطأ مالك بن أنس لابن العربي (ت 543هـ)
الدرة الوسطى في مشكل الموطأ لمحمد بن خلف القرطبي (ت 557هـ)
المشروع المهيأ في ضبط مشكل رجال الموطأ لابن مخلوف التلمساني(ت 868 هـ)
تنوير الحوالك للسيوطي (ت 911هـ)
أنوار كواكب نهج السالك بشرح موطأ مالك للزرقاني (ت 1122هـ)
إرشاد السالك لشرح مقفل موطأ مالك لعلي بن أحمد الفأسي (ت 1143هـ)
التعليق الممجد على موطأ محمد لعبد الحي اللكنوي (ت 1304هـ)
أوجز المسالك بشرح موطأ مالك لزكريا الكاندهلوي (ت 1348هـ)
ضوء السالك لمحمد رفيق الأثري حفظه الله
طبعاتِ کتاب
موطا کی کئی طبعات ( ایڈیشن)ہیں، چند اہم کا تذکرہ ذیل میں موجود ہے:
الموطأ، بترتيب الشيخ فواد عبد الباقي، طبعة مطبعة البابي الحلبي وغيره.
الموطأ، بتحقيق الشيخ الأعظمي، موسسة زايد، أبو ظبي، الإمارات.
الموطأ برواية الليثي، بتحقيق الشيخ بشار عواد، طبعة مؤسسة الرسالة، بيروت.
الموطأ برواياتها الثمانية (الليثي، والقعنبي، وأبي مصعب الزهري، والحدثاني، وابن بكير، وابن القاسم، وابن زياد، ومحمد بن الحسن) بتحقيق سليم بن عيد الهلالي، طبعة مكتبة الفرقان بالأمارات.
الموطأ برواية ابن القاسم، بتحقيق و تخريج و ترجمة الشيخ زبير علي زئي، المكتبة الإسلامية، لاهور، باكستان.
الموطأ برواية الشيباني، بتحقيق الشيخ عبدالوهاب عبد اللطيف، المكتبة العلمية.
الموطأ برواية القعنبي، بتحقيق عبدالمجيد التركي، دار الغرب الإسلامي، بيروت
حوالہ جات:
[1]       الطبقات لابن سعد:5/ 465، وفيات الأعيان لابن خلكان:4 / 135
[2]       الثقات لابن حبان:7/459، سير أعلام النبلاء:7 / 150، تاريخ الإسلام للذهبي:4/719
[3]     الإصابة لإبن حجر:7/248
[4]     مشاهير علماء الأمصار لابن حبان: ص 212
[5]     ترتيب المدارك للقاضي عياض:1/115
[6]     تهذيب الأسماء واللغات للنووي:2/75، تاريخ الإسلام للذهبي:4/ 719
[7]    سير أعلام النبلاء للذهبي:7/154
[8]    صحيح مسلم :2/992 (رقم1363)
[9]     الطبقات لابن سعد:5/465، 468، 469
[10]   تهذيب الأسماء واللغات:2/77
[11]   تاريخ الإسلام للذهبي:4/719
[12]  تهذيب الأسماء و اللغات:2/75
[13]            الاعتصام للشاطبي:1/ 140 و2/ 660
[14]            ذم الکلام للهروي: ص 210
[15]            إعلام الموقعين لابن القيم:2/ 201
[16]            جامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر:1/ 775
[17]             الاعتصام للشاطبي:1/ 115
[18]           الطبقات لابن سعد:5/ 469
[19]           تهذيب الأسماء واللغات:2 / 76
[20]            سنن الترمذي:5/47 (2680)، باب ما جاء في عالم المدينة.
[21]             سنن الترمذي:5/ 47
[22]             الجرح والتعديل لابن أبي حاتم:8/204
[23]             الجرح والتعديل لابن أبي حاتم:8/205
[24]             تهذيب الأسماء واللغات:2/77
[25]             الثقات لابن حبان:7/459
[26]             تهذيب الأسماء واللغات:2/76
[27]   تذكرة الحفاظ للذهبي:1/157
[28]   ترتيب المدارك وتقريب المسالك للقاضي عياض:2/90
[29]   سنن أبي داود:2/258 (2193)، باب في الطلاق على غلط،سنن ابن ماجه:1/660 (2046)، باب طلاق المكره والناسي. امام البانی نے اس حدیث کوحسن قرار دیا ہے۔ (إرواء الغليل:7/113 (2047)
[30]   الطبقات لابن سعد: 5/469، الثقات لابن حبان:7/459
[31] امام محمد نے امام مالک سے تقریباً تین سال تک علم حاصل کیا، اور ان کے بقول انہوں نے امام صاحب سے 700 سے زائد احادیث سماعت کیں۔ (سیر اعلام النبلاء:8؍75)، موطا بروایۃ محمد مطبوعہ میں مرويات کی تعداد 1008 ہے لیکن اس میں کافی ساری روایات امام محمد کی ’زیادات ‘ہیں۔ جیساکہ حدیث نمبر 13 تا 34 میں سے ایک بھی امام مالک کے طریق سے نہیں ہے۔ کتبِ حدیث میں یہ منہج عام ہے کہ بعض دفعہ راوی کتاب اپنے شیخ کی روایات کے ساتھ ساتھ اپنی سند سے بھی احادیث درج کردیتے ہیں۔ جیساکہ مسند احمد میں امام کے صاحبزادے عبد اللّٰہ کی زیادات مشہور ہیں۔ موطا کی مختلف روایات میں موجود مرویات کے تقابل کے لیے اس مضمون کا ’روایاتِ موطا‘ والا حصہ ملاحظہ کریں۔
[32]   لسان العرب لابن منظور:1/195
[33]   ترتيب المدارك:2/73
[34]   تنوير الحوالك للسيوطي:1/7
[35]   شذا العرف في فن الصرف لأحمد الحملاوي: 125
[36]   ترتيب المدارك:2/71–73
[37]   التمهيد:1/86 ، ترتيب المدارك:2/76
[38]   الطبقات لابن سعد:9/441
[39]   ترتیب المدارك:1/60 ، سیر أعلام النبلاء:8/79
[40]   سير أعلام النبلاء :8/ 93
[41]   كشف المغطى لابن عاشور:29، والمدخل إلى موطأ مالك بن أنس:ص91–93
[42]   امام صاحب فرماتے ہیں، عمر فاروقؓ امامت کے درجہ پر فائز تھے، ان کے بعد زید بن ثابت ؓہوئے، پھر عبد اللّٰہ بن عمر ؓ۔ امام صاحب کے الفاظ یوں ہیں: "كان إمام الناس عندنا بعد عمر بن الخطاب زيد بن ثابت - يعني بالمدينة -. قال: وكان إمام الناس بعده عندنا عبد الله بن عمر. (الإستيعاب في معرفة الأصحاب: 1/160)
[43]   كشف المغطى لابن عاشور:ص22- 28، والمدخل إلى موطأ مالك بن أنس:ص79-101
[44]   المسالك في شرح موطأ مالك لابن العربي: 1/ 436
[45]   كشفى المغطى:ص40
[46]   كشفى المغطى:ص29
[47]   كشفى المغطى:ص30
[48]   سنن الترمذي:5/754
[49]   التمهيد: 23/ 429
[50]   ترتيب المدارك:2/75
[51]   یہ تعداد شیخ سلیم ہلالی کی تحقیق سے شائع شده موطا میں دی گئی فہرست سے شمار کی گئی ہے۔
[52]   الموطأ:2/138 (رقم331)
[53]   الموطأ:2/269 (رقم 654)
[54]   الموطأ:3/462 (رقم 1145)
[55]   الموطأ:5/1327 (3350)
[56]   وصل بلاغات مؤطا لابن الصلاح:ص7
[57]   سير أعلام النبلاء: 8 / 111
[58]   عارضة الأحوذى لابن العربي:1/5
[59]   شرح النووي على مسلم :1/ 14
[60]   سير أعلام النبلاء:18/202
[61]   المسوى لولي الله الدهلوي: 17
[62]   الرسالة المستطرفة لمحمد بن جعفر الكتاني: 13
[63]   سير أعلام النبلاء:7/150–152
[64]   الموطآت لنذير حمدان: 204–208
[65]   الانتقاء لابن عبد البر:15، ط. العلمية
[66]   ترتیب المدارك: 2/88،89
[67]   ترتیب المدارك :1/60
[68]   ترتیب المدارك :2/80
[69]   تفسیر غریب المؤطا لابن حبیب الأندلسي، مقدمة التحقیق: ص 63تا 150