Untitled-page-001

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

بھارتی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں کے تناظر میں
الله جل جلالہ کائنا ت ، زمین وآسمان اور ان پر موجود تمام مخلوقات ،جن و اِنس کا خالق ومالک ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اس کائنات اور انسان کو بلاوجہ پیدا نہیں فرمایا۔ یہ کوئی کھیل نہیں تھا کہ وہ یونہی آسمان وزمین کو تخلیق فرمادیتا، بلکہ اس ذاتِ متعال نے اس کائنات ومافیہا میں حق وباطل کی ایک کشمکش جاری فرمائی، اور جن وانس کو مکلف بناکر، ان کی طرف انبیا ورسل بھیجے، ان کے لئے نظامِ حُکم وعدل قائم کیا۔ ہر انسان کے سامنے آخرت کا نصبُ العین مقرر کیا، کہ جو اللّٰہ کی معرفت حاصل کرکے، اس کے بھیجے انبیا ے کرام کے احکام پر چلے گا، اس کےلئے دنیا میں اطمینان وسعادات اور آخرت میں دائمی جنتیں اور باغات ہیں۔ جبکہ دنیا کو کھیل تماشے، لہوولعب، عیش وعشرت ، نفس وشہوت پرستی، اور من مانیوں میں گزارنے والوں کے لئے ، چند روزہ عیش ومستی کا توامکان ہے، لیکن دنیا میں حقیقی، متوازن اور دائمی کامیابی اور آخرت میں نجات کے وہ کسی طور مستحق نہیں ہیں۔ کائنات،انسان، زندگی، اور الٰہ کے بارے میں یہ سارا تصور’توحید اور اسلام‘ (عبديت اور اطاعت ) کہلاتا ہے۔ یعنی ’’اللّٰہ کی معرفت حاصل کرکے، اس کے فرستادہ پیغمبروں کے بتائے طریقوں کو اختیار کرنا تاکہ دنیا وآخرت میں کامیابی وکامرانی اُن کے قدم چومے۔‘‘ رسولوں کے ذریعے ملنے والا دین اللّٰہ کے حقوق اور اس کے بندوں کے ’حقوقُ العباد ‘ پر مشتمل ہے، اور جو انسان ان دونوں کے حقوق کی پاسداری کرتا ہے، وہی فلاح یافتہ ہے۔
دوسری طرف وہ لوگ ہیں، جو عہدِالست، فطری تقاضوں، عقل ودانش میں اللّٰہ تعالیٰ کی معرفت کی پنہاں نشانیوں کو نظرانداز کرکے ، سرکش ومتکبر شیطان کے مکر وفریب کا شکار ہوئے، اور اُنہوں نے اپنے تئیں اللّٰہ تعالیٰ کی تمام نعمتوں: زندگی، صحت، جوانی، عقل ، طاقت اور فرصت کو عیش وعشرت اور سرور ومستی کے حصول کا ذریعہ سمجھا۔ اپنے مقصدِ تخلیق سے غافل ہوکر، ان کا مقصود ومنتہا زیادہ سے زیادہ اپنی خواہشات وشہوات کا فروغ ٹھہرا۔ اللّٰہ، رسول، آخرت کی جب جب کوئی بات ان کے کان میں پڑی تو اس کو اُنہوں نے دقیانوسیت، تنگ نظری، غلامی، شدت پسندی ، انتہاپسندی اور کٹھ ملائیت جیسے ’القابات‘ سے نوازا ۔
ان کی مثال ایسے ہی ہے، جیسے کسی کو چند دنوں کے لئے بے شمار کھلونے(نعمتیں) مل گئے تو وہ ان سے لطف اندوز ہونے اور اُنہیں مزید جمع کرنے میں مشغول ہوگیا، ان کھلونوں کے نت نئے راز دریافت کرنے لگ گیا تاکہ زیادہ سے زیاہ تلذذ پاسکے اور اسے اس بات کی کوئی پروا نہ رہی کہ یہ کھلونے کہاں سے آئے، کس نے بنائے اور کس نے دیے،کب تک اس کے پاس رہیں گے، اُنہیں دینے والا اس سے کیا توقع کرتا ہے، اس کا کیا فرض ہے؟ جب اس سے ایسے سنجیدہ سوال کیے جاتے ہیں تو وہ اسے پریشان فکری، سنجیدگی اور ذہنی غلامی قرار دے کر، صرف کھیل میں مگن رہنے کو ہی اپنی کامیابی ، ترقی ، اور خوشی کی معراج سمجھتا ہے۔ چنانچہ امریکہ کا تیسرا صدر ، مشہور مفکر اور ماہر قانون تھامس جیفرسن (Jefferson) (م 1826ء)کہتا ہے :
"We hold these truths to be self-evident, that all men are created equal; that they are endowed by their Creator with inherent and inalienable rights; that among these, are life, liberty, and the pursuit of happiness"[1]
’’ہم ان حقائق اور اُصولوں کو بدیہی (یعنی ہر دلیل سے ماورا) سمجھتے ہیں کہ تمام افراد پیدائشی طور پر مساوی ہیں ، نیز یہ کہ ان کے خالق نے اُنہیں چند ناقابل ردّ حقوق ودیعت کردیے ہیں جو یہ ہیں : زندگی، آزادی اور (اپنی خواہشات کے مطابق) حصولِ لذت کی جستجو۔ ‘‘
آخری چند صدیوں میں جب سے انسان نے مصدقہ الٰہی تعلیمات (توحید) سے ناطہ توڑا، اور اللّٰہ خالق کائنات کونظرانداز کرکے اس کی عطا کردہ نعمتوں کو جمع کرنے میں محوہوگیا، تو اپنی آزاد خواہشات وشہوات اور لہوولعب کو جو دراصل شیطان کے مکروفریب اور انسان کو ناکام و نامراد کرنے کے جال ہیں، انسان نے ’انسانیت اور اپنے حقوق‘ کا نیا نام دیا ہے۔ گویا ’اُلوہیت‘(توحید) کے بالمقابل ’انسانیت ‘ ایک متوازی نظریہ بن کر اُبھرا ہے۔ یہ انسانیت نوازی سے بڑھ کر ’انسان پرستی‘ کا روپ دھار گیا۔ اس دین انسانیت نے خالق کائنات کو چھوڑ کر، اپنی ذات میں خدا تلاش کرنے کی کوشش کی، اور اپنا خدا خود بن بیٹھا جس کو اس نے آزادی کے مقدس لفظ سے تعبیر کیا، لیکن اس آزادی کے پیچھے دراصل ’خالق سے آزادی‘ کا مکروہ تقاضا پنہاں تھا۔ اور قرآن کریم ایسی مادر پدر آزادی کو سرکشی (بَغيًا بَينَهُم) سے تعبیر کرتا ہے۔
مغرب کی ’تحریکِ احیاے علوم‘Renaissance کا مقصد ، الہامی تعلیمات سے بغاوت کرتے ہوئے، اپنی چند روزہ محدود ومخلوق عقل سے اپنے لئے زندگی سے لطف اندوز ہونے کے ذرائع تلاش کرنا تھا۔ گویا یہ الحادی نقطہ نظر سے علوم ونظریات اور تہذیب ومعاشرت کی تشکیل جدید ہے۔ اس کے پیش نظرہی انسانی استدلال کے تانے بانے جوڑے گئے، اور اس کو علم(علمانیہ یعنی سیکولرزم) قرار دیا گیا، اور خالق کو نظراندازکرنے، اس کی تخلیق سے بغاوت کرنے، اس کے احکا م کو پس پشت ڈالنے، اور یوم آخرت کو ایک مؤثر حقیقت کے طور پر تسلیم نہ کرنے کو ’سائنسی استدلال‘ کا نام دیا گیا۔ یہ پورا طرز فکر اہل مغرب میں ’انسان پرستی‘ Humanism) ہیومنزم ) کی طرف پیش قدمی کرتا گیا، کہ اللّٰہ تعالیٰ کی ہدایات کو نظرانداز کرکے انسان کو اپنے تمام مسائل اپنے تئیں حل کرنے کا حق ہونا چاہئے اور انسان سے خارج علم وہدایت کا کوئی ذریعہ نہیں ہونا چاہئے۔ اس مقصد کےلئے ماضی قریب سے انسانی حقوق، آزادی ، روشن خیالی، ترقی پسندی، رواداری کے الفاظ بھی بولے جاتے ہیں۔ بیسویں صدی کا مشہور فرانسیسی فلسفی مائیکل فوکالٹ (م 1986ء)درست کہتا ہے کہ
’’ ہیومن Human تو پیدا ہی سترہویں اور اٹھارویں صدی میں ہوا۔‘‘ [2]
اس سے قبل اس کا وجود نہ تھا کیونکہ تمام مذاہب میں انسان کا تصور ہمیشہ ’عبد‘ ہی رہا ہے گو کہ اس عبدیت کی معتبر شکل کی تفصیلات میں مذاہب کے درمیان اختلاف رہا ہے۔
’ہیومن‘ محض ایک لغوی لفظ نہیں کہ جس کا ترجمہ ’انسان ‘ کرکے اسے جن معنی میں چاہے استعمال کرلیا جائے بلکہ یہ ایک مخصوص تہذیبی اقدار کی عکاس اور مغرب کی علمی تاریخ سے برآمد ہونے والی ایک اصطلاح ہے۔Humanity درحقیقت تحریک ِتنویر (Enlightenment روشن خیالی) کا کلیدی تصور ہے اور اس کا ترجمہ ’انسانیت‘ کرنا غلط ہے۔ ’انسانیت‘ کا درست انگریزی ترجمہ Mankind ہے اور یہی لفظ انسانی اجتماعیت کے لیے انگریزی زبان میں 18 ویں صدی سے قبل رائج تھا۔ Humanity کا تصور ’حقیقی انسانیت‘ کے تصور کی تردید ہے، ان معنوں میں کہ Human being عبدیت اور تخلیقیت کا اُصولاً اور عملاً انکار ہے۔جرمن مفکر عمانویل کانٹ Kant (م 1804ء)کے مطابق’’ Human being کا بنیادی وصف اور اس کی اصل "Autonomy" یعنی ’خود ارادیت‘ اور’خود مختاریت‘ ہے۔‘‘
’’ چنانچہ ’ہیومن بینگ‘ وہ تصورِ انفرادیت ہے جس کے مطابق فرد ایک self-determined and self governed being (قائم بالذات اور خود مختار ہستی) ہے۔ اس انفرادیت کا بنیادی ایمان و احساس ’عبدیت‘ نہیں بلکہ ’آزادی‘ یعنی بغاوت ہے۔ انسان اپنے ربّ کی ہدایات اور رہنمائی کا مطیع ہوتا ہے جبکہ human being خود اپنا ربّ ہوتا ہے اور وہ جو چاہتا ہے، اسے کر گزرنے کا مکلف سمجھتا ہے۔ لہٰذا ہیومن کا درست ترجمہ ’انسان ‘ نہیں بلکہ ’شیطان‘ ہے (Human is actually Demon) ۔کیونکہ ہیومن بالکل اسی طرح اپنے ربّ کا باغی ہے جس طرح ابلیس شیطان ۔ معلوم ہوا کہ ہیومن رائٹس کا معنی ’انسانی حقوق‘ نہیں بلکہ ’شیطانی حقوق‘ ہے۔‘‘[3]
اہل مغرب جس طرح اپنی سیاست میں تفرق وتشتت، دھوکہ وفریب اور جنگ میں سفاکانہ قتل وغارت کے لئے مشہور ہیں، اسی طرح اپنے اسالیبِ علم میں بھی یہی ملمع سازی ان کی روایت رہی ہے۔ اگر وہ سیدھے تئیں اپنے نظریات کو مذہب مخالفت قرار دیتے، اور اسے اپنی انسانی خواہش پسندی بیان کرتے تو اعتراض نہ کیا جاتا ، لیکن اُنہوں نے اپنے مذہب سے بالاتر نظریات کو پہلے تو مادر پدر آزاد عقلی مباحثات پر قائم کیا، پھر ان کو ثابت کرنے کے لئے اسلامی تعلیمات سے دلائل جمع کئے، پھر ایسے الفاظ اختیار کئے جو بظاہر دیدہ زیب ہوں، اور توحید وعبدیت کے علمبرداروں اور شیطان وبغاوت کے پیروکاروں میں مشترک سمجھے جاتے ہوں۔ پھر ان کے تحت اپنے کفر کو ملفوف کرکے مسلمانوں میں پھیلایا۔ ان کی اس چالبازی کا نتیجہ یہ ہےکہ ان کے کفریہ نظریات آج مسلمانوں میں بڑے پیمانے پر ، اسلامی حوالوں کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ ایسی علمی اصطلاحات کے طور پر آزادی، مساوات، ترقی، جمہوریت، انسانی حقوق، برداشت، رواداری اور فرقہ واریت کا نام لیا جاسکتا ہے۔ جن میں ہر لفظ مشترک المعنیٰ ہے، ان کا ایک درست مفہوم ہے جو انبیاکی تعلیمات میں پایا جاتا ہے اور ایک مفہوم وہ ہے جس کے لئے کفر اُنہیں استعمال کرتا ہے۔ مسلمانوں میں بڑے نامور اہل دانش بھی ان الفاظ کے ظاہری حسن سے مغالطہ کھا کر ان کی تائید کرتے دکھائی دیتے ہیں، لیکن جب ان کے استعمال واثرات سے مغربی افکار میں ان کی حقیقت کا پتہ چلتا ہے تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ یہ اصطلاحات کفرکی گمراہی میں لتھڑی ہوئی اور شیطان کی چالوں کا بڑا استعارہ ہیں۔ اسلامی عقائد کی مشہور کتاب میں امام ابن عبد العز حنفی لکھتے ہیں:
وَالسَّلَفُ لَمْ يَكْرَهُوا التَّكَلُّمَ بِالْجَوْهَرِ وَالْجِسْمِ وَالْعَرَضِ وَنَحْوِ ذَلِكَ لِمُجَرَّدِ كَوْنِهِ اصْطِلَاحًا جديدًا على معان صحيحة، كالاصطلاح على ألفاظ العلوم الصحيحة، وَلَا كَرِهُوا أَيْضًا الدَّلَالَةَ عَلَى الْحَقِّ وَالْمُحَاجَّةِ لِأَهْلِ الْبَاطِلِ، بَلْ كَرِهُوهُ لِاشْتِمَالِهِ عَلَى أُمُورٍ كاذبة مخالفة للحق، ومن ذلك مخالفتها الكتاب وَالسُّنَّةِ، وَلِهَذَا لَا تَجِدُ عِنْدَ أَهْلِهَا مِنَ الْيَقِينِ وَالْمَعْرِفَةِ مَا عِنْدَ عَوَامِّ الْمُؤْمِنِينَ، فَضْلًا عَنْ عُلَمَائِهِمْ.[4]
’’ائمہ اسلاف (علم الکلام کی) اصطلاحا ت :مرکب، جوہر، جسم، عرض وغیرہ کو محض اس بنا پر استعمال کرنا ناپسند نہیں کرتے کہ یہ صحیح معانی پر دلالت کرنے کے لئے اُسی طرح کی نئی اصطلاحات ہیں جیسا کہ صحیح علوم کی عام اصطلاحات ہوتی ہیں، اور نہ ہی اس بنا پر کہ یہ اصطلاحات حق کی نشاندہی اور اہل باطل پر حجت قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں بلکہ ائمہ اسلاف کے ترک کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان اصطلاحات میں حق کے برخلاف جھوٹے مفاہیم پائے جاتے ہیں اور ان کے ذریعے کتاب وسنت کی مخالفت کی جاتی ہے۔ یہی وجہ کہ ایسی اصطلاحا ت بولنے والے لوگ اس علم ویقین کے حامل نہیں جو علمائے اسلام سے بڑھ کر، عام مسلمانوں کو بھی حاصل ہے۔
ان اصطلاحات میں کارفرما حق وباطل کے ملغوبے کی بنا پر لوگوں میں اختلافات اور جھگڑے پنپنا شروع ہوگئے، اور قیل وقال پھیل گیا، اور لوگوں میں ایسے اقوال جنم لینا شروع ہوگئے جو شرعِ صحیح اور عقل صریح کے مخالف تھے اور اس سے امکانات تنگ تر ہوتے گئے۔ ‘‘
پروفیسر مفتی محمد احمد لکھتے ہیں:
’’جب مغرب کسی نظریہ کو پیش کرتا ہے تو اس نظریہ کے اظہار کے لیے ایسا لفظ اختیار کیا جاتا ہے جو لوگوں میں اچھے معنوں میں استعمال ہو اور لوگوں میں مانوس ہوجائے یعنی لفظ کی ذاتی کشش اس نظریہ کو لا شعوری طور پر لوگوں کے دل میں نقش کرتی چلی جائے اور باطل کو حق کےساتھ ملا کر یوں پیش کرتا ہے کہ عام نظر رکھنے والا آدمی حق و باطل میں فرق کو واضح نہ کر سکے اور فرق نہ کرنے کی وجہ سے یا تو کلی طور پر انکار کردےگا جس میں حق کا بھی انکار کر بیٹھے گا اور اس کا موقف کمزور ہو جائے گا ۔یا پھر تصدیق کرے گا اور تصدیق و حمایت میں حق کے ساتھ باطل کو بھی صحیح تسلیم کرے گا۔یعنی مغربی فکر کی مکاری و چا لاکی سے نا واقف فرد دجل کا شکار ہو جائے گا۔ ان کی تقریباً ہر اصطلاح میں یہ ہوتا ہے ، و ضاحت کیے بغیر کلی طور پر رد کر دیں تو اعتراضات کے دروازے کھل جاتے ہیں ۔اور اگر حمایت کریں گے تو باطل کی حمایت کرنے والوں میں شامل ہو جائیں گے۔‘‘[5]
’انسانی حقوق‘ جمہوریت کا مقصود ومنتہا ہے۔ یعنی جمہوری معاشرے اور جدید الحادی ریاست جس منزل کے لئے جدوجہد کرتے ہیں، اسے ’انسانی حقوق‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ درحقیقت’اللّٰہ کی ہدایات کو پس پشت ڈال کرانسانی خواہشات کی تکمیل‘ کے لئے بھی ’انسانی حقوق‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے، جیسا کہ آگے مذکور عدالتی فیصلوں سے ثابت ہوگا۔ تاریخی طور پر انسانی حقوق مغربی اقوام کی تمام تر تعقل پسندی کا نچوڑ ہیں۔ یونانی فکر وفلسفہ سے شروع ہوکر، اہل روم ؍مغرب کے فکری امام برطانیہ کے ’عظیم منشور‘ میگناکارٹا1215ء، آزادی کے علم بردار امریکہ کے ’اعلانِ آزادی1776ء‘ اور ’نوشتۂ حقوق1779ء‘ اورفرانس کے ’اعلان حقوقِ انسانی وباشندگان 1789ء ‘جیسی اہم دستاویزات جو چار صدیوں پر محیط ہیں، نے اقوامِ متحدہ کے ’عالمی چارٹر برائے انسانی حقوق 1948ء‘ کو جنم دیا ہے۔ 1940ء میں برطانوی ادیب ایچ جی ویلز H.G. Wellsنے اپنی کتاب ’دنیا کا نیا نظام‘ New World Order میں اس عالمی منشور انسانی کی تجویز اور ماڈل پیش کیا۔ جرمن مصنف ڈگلس سٹیون سن اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ
The 1789 Declaration, together with the 1215 Magna Carta, the 1689 English Bill of Rights (1689), the 1776 United States Declaration of Independence, and the 1789 United States Bill of Rights, inspired in large part the 1948 United Nations Universal Declaration of Human Rights.[6]
’’فرانس کا ’اعلان انسانی حقوق‘ دراصل برطانیہ کے ’عظیم منشور‘، برطانیہ کے ہی ’نوشتہ حقوق‘، امریکہ کے ’اعلان آزادی‘، اور امریکہ کے ہی ’نوشتہ حقوق‘، یہ سب مل کر اقوامِ متحدہ کے ’عالمی منشور انسانیت‘ کا بڑا اور نمایاں حصہ ہیں۔ ‘‘
مغربی اقوام کے نظریات و مفادات کی محافظ اقوام متحدہ نے ’اتحادواتفاق‘ کے مبارک نام پر اس دستاویز کو دنیا بھر میں ایک تقدس عطا کیا ہے۔ اکیسویں صدی کی نام نہاد مہذب دنیا کا یہ وہ انسانیت پرور منشور ہےجس کو ’اسلام کے تصورِ توحید‘ کی طرح پوجا جاتا ہے۔ انسانی حقوق وہ ’مبارک وسیلہ اور منزل‘ ہے جس کو ہر ملک بہ شمول پاکستان کے دستور میں اساس کی حیثیت حاصل ہے، اورپورا دستور اس کے تحفظ کےگرد گھومتا ہے۔ عدالتیں اس کے تحت ہی عدل وانصاف مہیا کرنے کی پابند ہوتی ہیں۔ابلاغی ادارے انسانی حقوق کی پاسداری نہ کرنے پر بینBan کردیے جاتے ہیں۔ امریکہ کے انسانی حقوق کے ادارے اور اقوام متحدہ کی ایمنسٹی انٹرنیشنل انسانی حقوق کی مخالفت کے نام پر قوموں کو لگام ڈالتے اور ان کے خلاف ’جائز فوج کشی‘ کے سفاکانہ اقدام کرتے ہیں۔ الغرض مغرب کی پانچ صد سالہ الحادی فکر کا نچوڑ،اس کی سیاسی ومعاشرتی زندگی کی معراج اور اس کا سب سے بڑا جنگی ہتھیار یہی انسانی حقوق ہیں۔
اسلام اللّٰہ کا دین ہے ، نبی مکرمﷺ رحمۃ للعالمین اور محسن انسانیت ہیں۔ انسان اللّٰہ کی اشرف المخلوق ہے، اور اللّٰہ اپنی مخلوق کےلئے ماں سے زیادہ مہربان ہے اور اس کا تعارف ہی رحمٰن ورحیم ہے، اس کی رحمت کائنات کی ہر شے کو حاوی ہے۔ اسلام کے مقاصد میں جان، مال، عزت، عقل اور نسل کا تحفظ اصل الاصول کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اسلام تکریم انسانیت کا داعی اور غیرمسلم کے لئے بطورِ انسان احترام کا تقاضا کرتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اللّٰہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق پر رسولوں کے ذریعے ملنے والی پوری شریعت کا مدار رکھا ہے۔ بلکہ بعض اوقات اس شریعت میں شرک کے گناہ کو چھوڑ کر باقی حقوق العباد زیادہ اہم ہوجاتے ہیں۔ حقوق کا جتنا خوبصورت توازن اللّٰہ کا دین پیش کرتا ہے، انسانوں کی عقل اجتماعی اس کے عشر عشیر تک بھی نہیں پہنچ سکتی۔ کیونکہ اللّٰہ کو اپنی تمام مخلوقات سے بے انتہا محبت ہے اور وہ ان کی مصلحت کو لئے ہی شریعت کو نازل کرتا ہے۔ تاہم اسلام میں مقاصدِ شریعت اور حقوق العباد کا صرف لفظ نہیں دیا گیا بلکہ اس کا کامل نظام بھی پیش کیا گیا ہے ، جس میں مقاصد وحقوق کی حد بند ی بھی کی گئی ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کے دیے ہوئے حقوق کو رسول اللّٰہ ﷺنے ہی محدود ومتعین بھی کردیا ہے۔
اسلام میں حقوق العباد کی اہمیت کی بنا پر نامور مسلم علما نے انسانی حقوق اور شریعت اسلامیہ کے مابین موافقت ومطابقت پرمبنی بیش قیمت مباحث لکھے ہیں۔ ان کتب میں رابطہ عالم اسلامی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبد اللّٰہ عبد المحسن الترکی کی حقوق الإنسان في الإسلام، ڈاکٹر رفعت مُرسی كا 6 جلدوں میں موسوعة حقوق الإنسان (دار النودار، لبنان) اورڈاکٹر سلیمان الحقیل کی حقوق الإنسان في الإسلام والرد على الشبهات (اُردو ترجمہ مجلس التحقیق الاسلامی)، شیخ محمد بن صالح العثیمین کی ’بنیادی حقوق‘ (دارالسلام، لاہور)، مولانا عبد الرحمٰن کیلانی کا کتابچہ ’انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات‘ (محدث اکتوبر 2001ء)، مولانا زاہد الراشدی کی ’ اسلام اور انسانی حقوق ‘(الشریعہ اکادمی) کے نام لئے جاسکتے ہیں۔ان کی کتب کے مطالعے سے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے انسانی حقوق اور حقوق العباد کفر واسلام کے مابین نقطہ اشتراک بن سکتے ہیں، کیونکہ یہ اہل علم دونوں مقابل نظریات کے مابین مطابقت اور مفاہمت کے قائل ہیں۔ تاہم یہ اہل علم مغرب کی پیش کردہ انسانی حقوق کی اصطلاح سے قطع نظر خوبصورت الفاظ کے سحر میں گرفتار رہے ہیں، کاش کہ وہ ان کے ثمر اور استعمال پر بھی غور کرلیتے تو کبھی ایسے مشتبہ نعروں کو اسلام سے ثابت کرنے میں زیادہ توجہ نہ صرف کرتے ۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مغرب کے انسانی حقوق کے مقابل اسلامی انسانی حقوق کا نعرہ بلند کرنا چاہیے، اور اس کو اسلام سے مشروط کردیں تو تناؤ اور تصاد م کی فضا میں کمی کی جاسکتی ہے۔ اس مقصد کے لئے او آئی سی کے تحت 1992ء میں ’اسلامی انسانی حقوق‘ کا 25 دفعاتی چارٹر[7] بھی منظور کیا جاچکا ہے۔ سعودی اور پاکستانی دساتیر[8] میں بھی یہی تدبیر استعمال کی گئی ہے۔لیکن ذیل میں پیش کئے جانے والی مثالوں کے بعد آپ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ جس طرح مغربی جمہوریت اور اسلامی جمہوریت[9] کے نعرے سے مغالطوں کے سوا کچھ نہیں ملا، اور جمہوریت کے گرد تقدس کا ہالہ گہرا ہوتا گیا، اب آہستہ آہستہ عملی مثالوں سے جمہوریت کے حسین پردے سے دیوِ استبداد کی نقاب کشائی ہورہی ہے ، اسی طرح انسانی حقوق کے نام پر مغرب کی ملمع سازی ، مغالطہ آرائی کی کوششوں کا نقاب بھی کھل جانا چاہیے اور اسلام کے علم برداروں کوسرکشی کی اصطلاحات کا محتاج اور اسیر نہیں ہونا چاہیے۔
اقوام متحدہ   کے تحت ہر قوم (مثلاً پاک وہند ) کو اس وقت تک کامل آزادی اور قومی تعلقات   وتجارت کی سہولت نہیں دی   جاتی جب تک اقوام متحدہ کی ہدایات کے مطابق تیار کردہ ایسا دستور منظور نہ کرلیا جائے جس میں انسانی حقوق کی ’آئینی غلامی ‘ اختیار کرلی گئی ہو۔ پھر پوری ریاست کا نظام سیاست وعدل، معیشت ومعاشرت اور تعلیم وابلاغ اسی دستور کے ذریعے ’انسانی حقوق کے تحفظ‘ پر کاربند ہوجاتے ہیں، اور دستور وعدالتیں اس کی حاکمیت کو دوٹوک استحکام عطا کرتی ہیں۔ راقم نے اپنے ایک مستقل مضمون میں ’مختلف ممالک کے دساتیر میں انسانی حقوق کے تحفظ کے قوانین اور عدالتی کردار ‘کا ایک معروضی تجزیہ لے کر ان دعوؤں کو ثابت کیا ہے۔
اقوام متحدہ’مساوات کے نام پر‘ اپنی سلامتی کونسل کے ذریعے دنیا بھر میں صرف پانچ کفریہ طاقتوں کے مفادات کو تحفظ دیتی ہے۔’عالمی منشور انسانیت ‘ کے ذریعے سیاسی حقوق کے عنوان سے مسلم معاشروں کو سیاسی جماعتوں کی پارٹی بازی اور مسلم ممالک کو وطنیت کے تراشیدہ بت کا اسیر کرتی اور اسی طرح معاشرے میں ٹکڑاؤ اور ملت کے جسد ِواحد کی بجائے اپنے اپنے علاقائی مفادات کو رواج دیتی ہے۔مساوات کے نام پر خواتین کو مردوں کے مقابل لاکر، خاندانی فرائض سے متنفر کرتی اور اُنہیں نکاح وطلاق میں عین مردوں جیسے حقوق [10] دینے کی داعی ہے جن کی شریعت تائید نہیں کرتی۔ارتداد   کی اجازت اور کھلے عام سزا کی ممانعت کے ذریعے اسلام کے جرم وسزا کے احکام کو معطل کرنے پر دباؤ ڈالتی ہے۔ راقم نے ایک مستقل مضمون میں ’انسانی حقوق کے ایسے خلاف شرع آرٹیکلز‘ کا بھی جائزہ لیا ہے۔
ذیل میں مغرب کے انسانی حقوق کی چند مثالوں اور ثمرات سے حقیقت ملاحظہ کریں:
انسانی حقوق کے ثمرات
ہر نظریہ بظاہر اپنے فروغ کے لئے بڑے خوبصورت استدلال اور الفاظ چنتا ہے، اور انہی دیدہ زیب اصطلاحات سے ہر اہم مقام پر سندِ قبولیت حاصل کرتا ہے، لیکن جس طرح درخت کو پھل سے پہچانا جاتا ہے، اسی طرح انسانی حقوق کے خوش نما نعرے کا ثمرہ ملاحظہ کریں کہ یہ مغربی نظریہ حقوق کسی طرح مادر پدی آزادی کا محافظ ہے اور اعلیٰ عدالتوں کے ذریعے فروغ پاتا ہے:
1.     انسانی حقوق؛ ہم جنس پرستی اور لواطت کے محافظ: 6؍ستمبر 2018ء میں بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ
’’کسی فرد کا جنسی رجحان اس کا انفرادی اور فطری معاملہ ہے اور ’جنسی رجحان کی بنیاد پر کسی سے تفریق برتنا اس شخص کے اظہارِ آزادی کے حق کی خلاف ورزی‘ ہے۔ ‏عدالت نے مزید کہا کہ فرد کے انتخاب کا احترام آزادی کی روح ہے۔ ہم جنس پرست برادری کو ملک کے دیگر شہریوں کی طرح آئین کے تحت برابر کا حق حاصل ہے۔ دفعہ 377 کی شقوں کے تحت مرد اور مرد یا عورت اور عورت کے درمیان سیکس کو جرم قرار دیا گیا تھا جو کہ فرد کی آزادی اظہار کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ‘‘[11]
24 برس اور کئی اپیلوں کے بعد آنے والے اس فیصلے پر ہم جنس پرستوں اور حقوق انسانی کی تنظیموں نے زبردست خوشی کا اظہار کیا جبکہ ملک کے مذہبی رہنما ہم جنسیت کے خلاف ہیں۔ معاشرے میں بھی ایک بڑی تعداد ہم جنس پرستی کے رشتوں کو قبول نہیں کرتی اور اسے غیر فطری سمجھتی ہے۔
برصغیر میں 157 سال پرانے برطانوی دورِ حکومت کے قانون 1860ء میں 'کسی مرد، خاتون یا جانور کے ساتھ قدرتی اصولوں کے خلاف جنسی تعلق کا قیام' کو ’غیرقدرتی جرائم‘ قرار دیتے ہوئے اس کی سزا دس سال قید مقرر کی گئی تھی۔انسانی حقوق کے کارکنان کے مطابق’’ایسے کسی قانون کی موجودگی صنفی بنیادوں پر امتیازی سلوک کا ثبوت ہے۔‘‘
انسانی بنیادی حقوق، جدید ریاست میں اس قدر بنیادی مقام اور اصل منزل کی حیثیت رکھتے ہیں کہ 70 برس سے بھارتی پارلیمنٹ کی تائید سے بہرہ مند مروّجہ قوانین بھی اس کے خلاف ہوں تو اُن کو منسوخ کردیا جائے۔اگر اکثریتی عوامی راے بھی اس کی تائید نہ کرے تو اکثریت کو جھوڑ کر روشن خیالی، ترقی پسندی کو ترجیح دینا ہوگی۔ چنانچہ بھارتی عدالتِ عظمی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ’’کوئی بھی معاشرہ اکثریت کی اخلاقیات سے نہیں چلتا ۔ عدالت نے کہا کہ ’ایک آئینی معاشرہ تخلیق کرنے کا بنیادی مقصد اس معاشرے کو ایک روشن خیال معاشرے میں تبدیل کرنا ہے۔‘‘
ہمیشہ سے خالق کائنات نے انسان سمیت دیگر حیوانات میں مذکر ومؤنث کا جوڑا بنایا ہے، اور یہی فطری رجحان ہمیشہ سے بھارت میں چلا آرہا تھا۔ لیکن مادر پدر آزادی کا خوگر مغربی انسان ، دراصل وحی الٰہی کی رہنمائی کو فکری غلامی اور دقیانوسیت سے تعبیر کرتا ہے اور اپنی فرعونیت نواز آزادی کو روشن خیالی کا نام دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں فطرت، مذہب اورالہام کی ہر شکل دقیانوسیت ہے اور تعقل و تجربیت کی ہر صورت روشن خیالی ہے۔
ہم جنس پرستی، دراصل اللّٰہ تعالیٰ کی تخلیق اور نظامِ فطرت کا کھلا انکار ہے، جس میں اللّٰہ تعالیٰ نے ایک مردو عورت کو جوڑا بنایا اور ان کے ذریعے نسل انسانی کا سلسلہ آگے چلایا۔ دنیا کے 117 ؍ممالک میں اس وقت ہم جنس پرستی کو قانونی جواز عطا ہوچکا ہے، اور ان میں ترکی، بوسنیا ، مالدیپ اور بعض وسط ایشیائی سابقہ روسی ممالک بھی شامل ہیں۔ بھارتی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد بھارت بھی ان ممالک کی فہرست میں تازہ اضافہ ہے۔
ہم جنس پرستی دراصل انسانیت پرستی کا اظہار اور اُلوہیت وتوحید کی نفی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی یورپی کے جن ممالک میں خدابیزاری کی شرح دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے، وہ ہم جنس پرستی میں بھی سب سے آگے ہیں۔ ان کے بعد مشرقی یورپ کے (ایشیا کے قریب تر) ممالک میں ہم جنس پرستی کی شرح کمتر دکھائی دیتی ہے۔ امریکہ میں اس بدفعل کی مقبولیت اس سے بھی کمتر درجے میں ہے۔تاہم مسلم ممالک جو دنیا کے مرکز میں ایک مسلسل زنجیر کی طرح ملے ہوئے ہیں،میں اس سنگین جرم کے متعلق حساسیت کا یہ عالم ہے کہ وہاں ان کے بارے میں اعداد وشمار جمع کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔
انسان اپنے حقوق کو اپنے تئیں متعین کرنے کی کوشش میں اس حد تک آگے بڑھ چکا ہے کہ مردو وعورت کے نفسیاتی وطبعی وجود میں پائے جانے والے جنسی مظاہر کو بھی نظرانداز کرنے پر تلا ہوا ہے۔ اکیسویں صدی کے خواہشات کے ہاتھوں غلام کے سامنے صرف اور صرف اپنی مرضی، خواہش ہے، جسے وہ کبھی عقلیت، کبھی حقوق اور کبھی امتیاز کے خاتمے کے نام پر جواز دینے کی پیہم سعی میں مشغول ہے۔ اُلوہیت سے باغی ، انسانیت پرستی کے ان بڑھتے رجحانات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مستقبل قریب میں یہ انسان ماں سے بیٹے اور بیٹی سے باپ اوردیگر محارم کی باہمی شادیوں کو بھی باہمی جواز عطا کرے گا۔ کیونکہ طبعی طورپر ان رشتوں کی باہمی مناکحت میں سوائے الہامی تعلیمات کے کوئی رکاوٹ موجود نہیں ، جن سے انسانی سماج تاحال باہر نکل نہیں رہے۔ جوں جوں عقل اور خواہش پرست انسان سماجی روایات اور مذہبی تعلیمات سے آزاد ہوتا گیا، مغربی محاورہ میں جوں جوں روشن خیال اور ترقی پسند ہوتا گیا، وہ اپنی ماں سے بھی نکاح رچانا اپنا حق قرار دے گا۔
بظاہر دنیا بھر کی اقوام کے اتحاد کی نمائندہ لیکن درحقیقت مغربی اقوام کی سرکشی کو دنیا میں تحفظ اور فروغ دینے والی اقوام متحدہ نے بھی 2008ء میں اپنے رکن ممالک کو ہم جنس پرستی کے فروغ کی تلقین کررکھی ہے، اور اقوام متحدہ کی ایمنسی انٹرنیشنل اپنے جائزے مرتب کرتے ہوئے، اپنے مطالبوں کو پیش نظر رکھتی ہے۔ چنانچہ انڈونیشیا کے آچے نامی صوبہ ، جس میں شرعی قوانین نافذ ہیں، میں جب ہم جنس پرستوں کو سزا دی گئی تو’’انڈونیشیا میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکنان نے اس ملک کے صوبہ آچے کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان چار افراد کو جلد رہا کرے جن پر ہم جنس پرستی کا الزام ہے۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہم جنس پرستی کے الزام میں چار افراد کو جرائم پر نظر رکھنے والے افراد اور پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ ان افراد پر جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں ایک سو کوڑوں کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس ہم جنس پرست جوڑے کو سنائی جانے والی سزا کی مذمت کی ہے اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کیس کے حوالے سے ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے کہا تھا کہ اس جوڑے کو کوڑے مارے جانا تشدد تصور کیا جائے گا۔ انڈونیشیا میں ہیومن رائٹس واچ کے ایک محقق نے اے پی کو بتایا:’’ یہ سزا بہت سخت ہے۔‘‘[12]
بعض لوگ ہم جنس پرستی کو جنسی خلل کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، اور اسے مردوعورت سے بالارہ کر تیسری صنف کی طرف بڑھنے والوں کے مسائل کا حل بتاتے ہیں ، اپنے استدلال میں وزن پیدا کرنے کے لئے ایک فیصد سے بھی کہیں کم جنسی اختلال کے مریضوں کی تعداد کو دس گناتک بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اتنی کم تعداد کے مسئلہ کے سنجیدہ حل تلاش کرنے کی بجائے اسے انسانی حقوق کے نام پر فروغ دینا درحقیقت نری خواہش اور شیطان پرستی ہے۔ سیدنا لوط ﷤ کی قوم سدوم ماضی میں اس علت کا شکار رہی اور ان کا مسئلہ بھی صنفی خلل کی بجائے، دماغی خلل کاہی تھا، تبھی اللّٰہ تعالیٰ نے ان کی بستی کو ہی ان پر اُلٹادیا۔ اور قرآن کریم نے جابجا ان کا تذکرہ شرمناک اور عبرت آموز انداز میں کیا ہے۔ افسوس کہ آج کا ترقی یافتہ انسان قدامت کی شرمناک غلاظتوں اور جاہلیتِ قدیمہ کو انسانی حقوق کے نام پر حاصل کرنے میں کوشاں ہے۔
٭ بھارتی سپریم کورٹ نے جمہوریت کے تقدس کی ایک اورحقیقت بھی بے نقاب کی ہے، کہ عام طور پر اس کو عوام کی حکومت (ڈیمو کریسی) اورکبھی اکثریت کی منشا (جمہوریت) قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن دراصل جمہوریت کے اس ظاہری نقاب کے پیچھے ’روشن خیالی اور ترقی پسندی ‘کی معراج چھپی بیٹھی ہے۔جمہوری ریاستیں جس دستور کو رواج دیتی ہیں، اس کا عدالتی نظام اکثریت کے بنائے قوانین کوٹھوکر مارکر، انسانی حقوق کے نام پر روشن خیالی کی منزل تک پہنچنے کو بے چین ہے۔ اور روشن خیالی کا مطلب تو آغاز میں بیان ہوچکا ہے کہ مذہب (اور اس کی کامل ترین شکل اسلام) کو براہِ راست نشانہ بنانے کی بجائے، دقیانوسیت، تنگ نظری، روایت پسندی کے الفاظ بول کر لوگوں میں اس سے نفرت پیدا کرنا۔ گویا جب تک اکثریت کے نام پر روشن خیالی اور نفس پرستی کو رواج مل جائے تو اسے عوام کی اکثریت کےنام لگا دو اور جب عوام کی اکثریت ساتھ نہ دے تو پھر دقیانوسیت کے نام پر اس سے پیچھاچھڑا لو۔ یہ ہے نئے دور کی جاہلیت قدیمہ اور اس کے پرفریب ہتھکنڈے!
2.  انسانی حقوق ؛ ازدواجی بدکاری کا لائسنس: انسانی حقوق کی مزید کارفرمائی اور اس کے مذہب مخالف ثمرات دیکھنے کے لئے پھر بھارتی سپریم کورٹ کی طرف ہی رجو ع کریں ۔ سپریم کورٹ کے پانچ رُکنی بنچ نے اپنے متفقہ فیصلے میں لکھا کہ
’’مجموعہ تعزیراتِ ہند کی 158 سال قدیم دفعہ 497، جس کے تحت کسی شادی شدہ عورت کے ساتھ اس کے شوہر کی مرضی کے بغیر کسی مرد کے جنسی تعلقات کو جرم مانا جاتا تھا، آئین کے منافی ہے۔
دو بالغوں کے درمیان جنسی تعلق، بشرطیکہ اس میں دونوں کی مرضی شامل ہو، جرم نہیں مانا جائے گا، چاہے وہ دونوں شادی شدہ ہی کیوں نہ ہوں۔ ...عورت کو مرد کی ملکیت نہیں مانا جاسکتا اور آج کے دور میں اس طرح کے فرسودہ قانون کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
پانچ رکنی بنچ نے کہا کہ یہ قانون دستور کے آرٹیکل 14 اور 21کے منافی ہے جو زندگی، آزادی اور مساوات کے حق کی ضمانت دیتے ہیں۔سپریم کورٹ میں بحث اس سوال پر تھی کہ کیا شادی کے بعد بیوی شوہر کی املاک یا جاگیر بن جاتی ہے؟ اور اگر شادی شدہ عورت سے زنا جرم ہے، تو سزا صرف مرد کو ہی کیوں ملے، دونوں کو کیوں نہیں؟ لیکن عدالت نے کہا کہ’’ عورت اور مرد کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی جاسکتی اور دونوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔
بنچ میں شامل واحد خاتون جج جسٹس اندو ملہوترا نے کہا کہ زنا اخلاقی طور پر غلط ہے لیکن جسٹس چندرچور نے کہا کہ شادی کے بعد مرد اور عورت اپنی ’جنسی خود مختاری‘ ایک دوسرے کے پاس گروی نہیں رکھ دیتے۔‘‘[13]
یہی فیصلہ جرمنی کے اُردو خبر رساں ادارے ڈوئچے ویلے نے یوں رپورٹ کیا :
’’غیر ازدواجی تعلقات کو مجرمانہ نقطہ نظر سے دیکھنا رجعت پسندانہ قدم ہے۔‘‘
’’غیر ازدواجی تعلقات بالغ لوگوں کے درمیان ذاتی معاملہ ہے۔‘‘[14]
ڈیڑھ صدی پرانے قانون کے تحت اگر کوئی مرد کسی شادی شدہ عورت کے اس کے شوہر کی اجازت کے بغیر ہم بستری کرتا ہے تو وہ ’بدکاری‘ کا مرتکب ہوتا ہے جس کی سزا پانچ برس جیل مقرر تھی۔ عدالت نے کہا کہ’’یہ قانون خواتین کو وقار اور ذاتی انتخاب کے حق سے محروم کرتے ہوئے ’’صرف شوہر کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ خواتین کو بطور منقولہ مال کے طور پر استعمال کر سکے۔‘‘ سپریم کورٹ کے جسٹس ڈی وائی چندرا چڈ نے کہا، ’’یہ ہر خاتون کو حاصل جنسی خود مختاری کو نظر انداز کرتا ہے اور شادی کے بندھن میں عورت کو مختاری سے محروم کرتا ہے... وہ صرف اپنے شوہر کی مرضی کے تابع ہوتی ہے۔‘‘
٭ 2014ء میں ایک دلی کے سیشن جج وریندر بھٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ’’مرضی سے قائم کیے گئے غیر ازدواجی تعلقات کو ریپ (جبری زنا) قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ غیر ازدواجی جنسی تعلقات ’غیر اخلاقی‘ اور ’ہر مذہب‘ کی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ کسی شخص کے فعل کو صرف اس وجہ سے ریپ قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اس نے شادی کا وعدہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ایک بالغ، تعلیم یافتہ اور دفتر میں کام کرنے والی خاتون جنسی تعلق پر تیار ہو جاتی ہے تو اس نے اپنے آپ کو خود خطرے میں ڈالا ہے۔ جج کا کہنا تھا کہ ایک تعلیم یافتہ خاتون کو صرف شادی کے وعدے پر ہی جنسی تعلق قائم نہیں کر لینا چاہیے۔‘‘[15]
مذکورہ فیصلے اور ان میں پیش کئے جانے والے استدلال سے بخوبی واضح ہوجاتاہے کہ ترقی ، صنفی مساوات ، آزادی اور انسانی حقوق کے خوبصورت الفاظ کے حقیقی معانی کیا ہیں، اور ان سے سماج اور مذہب مخالف اقدامات کے سلسلے میں کس طرح کام لیا جاسکتا ہے۔
اسلا م نے نکاح کے بغیر ازدواجی تعلق کو نہ صرف اکبر الکبائر قرار دیاہے،بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کو کسی مردو عورت کے ناجائز تعلق پر روئے کائنات میں سب سے زیادہ غیرت وغصہ آتا ہے۔ اور اس جرم کی سزا اسلا م سمیت یہودویت ونصرانیت اور دیگر مذاہب میں بدترین مقرر کی گئی ہے۔ جیسے اب رجعت پسندی اور دقیانوسیت کی گالی دے کرترقی اور صنفی مساوات کے انسانی حق کے نام پر معاشرے میں پروان چڑھایا جاے گا۔
اب تک شادی کے بعد زوجین کے ایک دوسرے پر خصوصی استحقاق حاصل تھا، اور اسلام میں اس کے لئے لعان کا خصوصی قانون موجود ہے، لیکن انسانی حقوق کے علم برداروں نے ’کیا عورت مرد کی غلام ہے؟ ‘ جیسے بہانے لگا کر، اس کو بھی ختم کردیا اور اس طرح عملاً شادی، نسل ونسب اور عفت وعصمت کے تقاضوں کو معاشرے سے مٹانے کی کوشش کی ہے۔ یہ ہے انسانی حقوق، ترقی، روشن خیالی کی معراج اور ہمیں اس کے تناظر میں مسلم معاشروں میں انسانی حقوق کا چہرہ جان اور پہچان لینے کی کوشش کرنی چاہیے۔
3.  معابد ومساجد کا تقدس پامال کرنے میں انسانی حقوق کا کردار: انسانی حقوق کے نام پر پھیلائے جانے والی سرکشی کی ایک اور مثال بھی بھارت کے سپریم کورٹ کی ہی زبانی ملاحظہ فرمائیں۔ یا درہے کہ یہ سب فیصلے ان انسانی حقوق کی سند پر کئے گئے ہیں جو اقوام متحدہ کے زیر سایہ تمام جدید ریاستوں کے لازمی دستور کا اولین اور لازمی حصہ ہوتا ہے۔ فیصلہ کی طرف آئیے ، خواتین کے بعض ایام حیض کی حالت میں گزرتے ہیں، جس میں سماجی معمولات کو برقرار رکھتے ہوئے، خواتین کو عبادت گاہوں میں آنے سے منع کیا جاتا ہے، لیکن حال ہی میں بھارتی سپریم کورٹ نے انسانی حقوق کے نام پر اس مسلمہ اُصول کو بھی پامال کردیا۔
انڈیا میں خواتین کو ناپاکی کی حالت میں مذہبی رسومات میں حصہ لینے یا مندروں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی کیونکہ ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق انھیں اس حالت میں ’ناپاک‘ سمجھا جاتا ہے۔
درخواست دہندگان نے دلیل دی کہ یہ روایت انڈیا کے آئین میں دی گئی صنفی مساوات کی خلاف ورزی ہے۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا نے اپنے فیصلے میں کہا ’مذہب ایک وقار اور شناخت کے لیے ہے۔‘‘ اُنھوں نے مزید کہا :’’مذہب پر عمل کرنے کا حق مرد اور عورت دونوں کا ہے۔‘‘[16]
یاد رہے کہ انسانی حقوق کے نام پر صنفی مساوات کا بھارتی قانون پاکستان میں بھی ان الفاظ کے ساتھ دستور کی زینت ہے ، جس کا آئینی اطلاق ابھی مزید معاشرتی والحادی ترقی کا منتظر ہے:
’’آرٹیکل 25: (1) تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں، اور قانونی تحفظ کے مساوی طور پر حق دار ہیں۔
(2) جنس کی بنا پر کوئی امتیاز نہیں کیا جائے گا۔ ‘‘[17]
انسانی حقوق کے دعوے صنفی مساوات کو پیش نظر رکھتے ہوئے، انڈیا اور پاکستان کی مشترکہ قانونی بنیاد انسانی حقوق کے تحت، قرین قیاس ہے کہ پاکستان میں بھی خواتین حالتِ حیض میں مساجد میں جانے یا ان میں امامت اور خطابت کا موقع نہ دیے جانے کو چیلنج کردیں، اور انسانی حقوق کے دعویدار ، اقوام متحدہ کی ایمنسٹی انٹرنیشنل ان کی مدد کے لئے پیچھے موجود ہوں، امریکی امداد کو اس سے مشروط کردیا جائے ۔ اور عدالتیں انسانی حقوق کے نام پر اس کو سند ِجواز دیں، اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت اگر ایسے اقدام کو خلاف اسلام قرار بھی دیں تو اسمبلیاں اور گورنر قومی مصلحت کے دباؤ کے تحت ان کی سفارشات جاری ہی نہ کریں۔
4.  انسانی حقوق؛ قحبہ گری اور جسم فروشی کے دعویدار: شیطانی شہوات اور نفسانی خواہشات کے لئے الاپا جانے والا انسانی حقوق کا مغربی راگ ، ایک انسان کی عقل یوں مفلوج کردیتا ہے کہ وہ انسانی تاریخ کے ان مسلمہ جرائم کی ایسی حیاباختہ توجیہات کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے جس سے انسانیت شرمندہ ہوکررہ جاتی ہے۔ ان دنوں دہریت اور اسلام دشمنی کے مرکز ہالینڈ کے دار الحکومت ایمسٹرڈیم میں عورت کی جسم فروشی پر پارلیمنٹ میں گرما گرم بحث جاری ہے۔ یہ وہی شہر ہے جو اس فحاشی کا سب سے بڑا عالمی مرکز ہےاوریہاں کا ریڈ لائٹ ایریا بنتِ حوا کی ارزانیت کا مظہر ہے۔ عورت کو دیکھنے کو ’گھورنا‘، اس کی مرضی کے خلاف چھونے کو ’ہراساں کرنا‘، اس کے استحصال پر’می ٹو ‘Me Too کے نام سے مزاحمانہ جدوجہد کرنے والا حقوق پرست، اس عورت کی جسم فروشی کو اس کا انسانی حق قرار دیتا ہے۔
1970 سے رقم کے عوض بدکاری کو عورت کا حق قرار دینے والے ہالینڈ میں 46 ہزار دستخطوں کی مدد سے ایسا عوامی بل پیش کرکے قومی بحث کا آغاز کیا گیا ہے، جس میں یہ کہہ کر اس حرام کاری کو بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’’اگر یہ آپ کی بہن ہوتی!‘‘ اور یہ کہ ’’بدکاری عورت کا بدترین استحصال ہے، ا س سے جرائم اور بیماریوں کو فروغ ملتا ہے۔‘‘ اس کے مقابلے میں انسانی حقوق کے دعویدار کبھی اسے ’کام کے تحفظ کا حق ‘، ’میرا جسم ، میری زندگی‘ کے حقوق لے آتے ہیں اور کبھی ایسے بہانے پیش کرتے ہیں کہ اس طرح بدکار عورت کو پولیس اور نگران اداروں کو بھی فیس دینا پڑے گی، جس سے ان کے کمائی کے حق میں خلل آئے گا۔ یہ مباحثہ ایسے شرم ناک پہلوؤں سے مسلسل بحث کرتا ہےجس کی کسی مریض شخص سے ہی توقع کی جاسکتی ہے، عالمی خبررساں ادارہ بی بی سی، لندن لکھتا ہے کہ
’’ان دنوں ولندیزی پارلیمان، ہالینڈ میں جسم فروشی کی قانونی حیثیت پر بحث کی تیاری کر رہی ہے۔ اس صنعت کو دائیں بازوں کے مسیحیوں اور بائیں بازو کی فیمینسٹ خواتین کی طرف سے مخالفت کا سامنا ہے اور ریڈ لائٹ ڈسٹرکٹ میں جسم فروشی کا کام کرنے والی خواتین کو اپنے کام کے حق کے تحفظ کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔‘‘[18]
5.  سید المرسلین کی توہین پر مصر انسانی حقوقیے اور مغربی اقوام :مغرب کا حقوق پرست انسان ، انسانیت کے محسن اعظم محمد ﷺ کی توہین کا حق لینے کے لئے بھی مصر ہے۔ انسانی حقوق کے نام پر سید المرسلین ﷺ کی توہین، اس قدر تکرار، اصرار، ڈھٹائی اور تنوع کے ساتھ کی جارہی ہے کہ تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ مغرب کے چند بیمار لوگوں کی ذہنیت ہے، لیکن حالیہ سالوں میں مغرب کے تہذیبی مرکز پیرس میں چارلی ایبڈو نامی فرانسیسی اخبار میں توہین آمیز خاکوں کے حوالے سے ہونے والا کثیر القومی مظاہرہ اس مغالطہ کی حیثیت کھول دیتا ہے۔بی بی سی کے مطابق:
’’ فرانسیسی عوام نے پیرس کی تاریخ کے سب سے بڑے اجتماع میں شرکت کی جس میں اظہارِ یکجہتی کے لیے 40 ممالک کے سربراہان شریک ہوئے۔اتوار 11؍ جنوری 2015ء کو نکالی جانے والی اس ریلی میں ایک اندازے کے مطابق تیس لاکھ سے زیادہ افراد نے شرکت کی جن میں برطانوی وزیراعظم، جرمن چانسلر انجیلا میرکل، فلسطینی صدر محمود عباس، مالی کے صدر ابراہیم بابوچر کیتا، یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹسک، اُردن کے شاہ عبداللّٰہ اور ان کی اہلیہ رانیہ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہوسمیت کئی ممالک کے سربراہان شریک ہوئے۔اس موقعے پر فرانس کے صدر فرانسواں اولاند کا کہنا تھا کہ ’آج پیرس دنیا کے دارالحکومت کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔ آج ہمارا سارا ملک اٹھ کھڑا ہو گا۔‘
فرانس کے کئی دوسرے شہروں میں بھی اسی طرح کی ریلیاں نکالی گئیں جن میں وزارتِ داخلہ کے مطابق 37 لاکھ کے قریب افراد نے شرکی جن میں سے 16 لاکھ کے قریب افراد پیرس کی ریلی میں شریک ہوئے۔پیرس کی ریلی کے آغاز پر عالمی رہنماؤں نے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
چالیس ملکوں کے سربراہان کی سکیورٹی کے لیے پیرس میں دو ہزار پولیس اہلکار جبکہ 1350 فوجی تعینات کیے گئے جن میں چھتوں پر ماہر نشانہ باز بھی موجود تھے۔
پیرس میں نکالی جانے والی ریلیوں میں شریک افراد آزادی اور چارلی کے نعرے لگا رہے تھے اور بعض فرانسیسی پرچم لہرا رہے تھے اور قومی ترانے گا رہے تھے۔‘‘[19]
مغربی میڈیا کی ایک اور خبر کے مطابق’’پیرس کے میگزین پر حملے کے پس منظر میں جرمنی کے شہر ڈریزڈن میں یورپ کی اسلامائزیشن کے خلاف جلوس نکالا گیا جس میں ریکارڈ تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا۔اس احتجاجی مظاہرے کو پیگیڈا (مغرب کی اسلامائزیشن کے خلاف محبِ وطن یورپی) نامی تنظیم نے منعقد کیا تھا اور اس میں سیاسی جماعتوں کی تلقین کے باوجود ریکارڈ 25 ہزار لوگوں نے شرکت کی۔جلوس کے شرکانے ہاتھوں میں بینر اٹھا رکھے تھے جن پر فرانسیسی کارٹون نگاروں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا گیا تھا۔‘‘[20]
حال ہی میں یورپی یونین کی عدالت نے توہین رسالت کو آزادی کا حق قرار دینے کی مخالفت کی ہے، لیکن سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین اور دیگر بدطینت شاتمانِ رسول کی مدد، ڈنمارک و ہالینڈ کے صحافی اور وزرا کے ساتھ اظہار یک جہتی اور ان کی حکومتی تائید وتحفظ یہ بتاتا ہے کہ مغرب کے حقوق پرست انسان کو دوسروں کی عزت سیکھنے کے لئے ابھی بہت عرصہ درکار ہے۔ اور انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کا یہ آرٹیکل اس کی حوصلہ افزائی اور تحفظ کرنے کے لئے ان کی پشت پر موجود ہے:
Article 19: Everyone has the right to freedom of opinion and expression; this right includes freedom to hold opinions without interference and to seek, receive and impart information and ideas through any media and regardless of frontiers.
’’ہر شخص کو اپنی رائے رکھنے اور اظہار رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے۔ اس حق میں یہ امر بھی شامل ہے کہ وہ آزادی کے ساتھ اپنی رائے قائم کرے، اور جس ذریعے سے چاہے، بغیر ملکی سرحدوں کا خیال کئے، علم اور خیالات کی تلاش کرے۔ انہیں حاصل کرے اور ان کی تبلیغ کرے۔ ‘‘
6.  ربّ ذو الجلال اور والدین پر اعتراض کا حق :نفس پرست انسان اپنے انسانی حق کے بارے میں یہاں تک آگے بڑھ جاتا ہے کہ اپنے خالق پر اعتراض کرتا ، والدین کو نشانہ بناتا اور انسانیت کے خاتمے کی بات کرتا ہے ، چنانچہ بھارت میں ایک شخص نے اپنے والدین پر یہ کیس دائر کردیا :
’مجھے کیوں پیدا کیا؟‘ ... انڈیا کے 27 سالہ نوجوان نے اپنے والدین کے خلاف اسے بغیر اجازت پیدا کرنے پر ہرجانے کا دعویٰ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ممبئی سے تعلق رکھنے والے رافیل سیموئیل نے کہا کہ والدین کا بچے پیدا کرنے کا عمل بالکل غلط ہے کیونکہ پھر ان بچوں کو زندگی بھر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس نے کہا کہ وہ سمجھتا ہے کہ پیدا ہونے سے پہلے پیدا کرنے کی اجازت تو نہیں لی جا سکتی لیکن پھر بھی وہ مصر ہےکہ ’پیدا ہونے کا فیصلہ ہمارا نہیں تھا۔ ‘ اور کیونکہ ہم اپنی مرضی کے بغیر پیدا ہوئے ہیں تو ہمیں زندگی گزارنے کے لیے پیسے دیے جائیں۔وہ کہتا ہے کہ انسانی زندگی کا اگر خاتمہ ہو جائے تو یہ زمین کے لیے بہت سودمند ثابت ہوگا۔'انسانی زندگی کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اتنے لوگ تکلیف میں ہیں۔ اگر ہم یہاں نہ ہوں تو زمین کے حالات بہتر ہو جائیں گے۔ جانور خوش ہوں گے اور کیونکہ کوئی انسان ہی نہیں ہوگا تو کسی کو تکلیف بھی نہیں ہوگی۔
رافیل سیموئیل کی ماں کویتا کرناد کی جانب سے کہا گیا ہے کہ 'ہمیں اپنے بیٹے کی ہمت پر ناز ہے کہ اس نے ہمیں عدالت لے جانے کی دھمکی دی، یہ بات جانتے ہوئے کہ ہم دونوں وکیل ہیں۔ اگر وہ کوئی جائز اور ذہانت بھرا نکتے پیش کریں گے تو میں اپنی غلطی مان لوں گی۔مجھے خوشی ہے کہ میرا بیٹا بڑا ہو کر اتنا بہادر اور آزادانہ سوچ رکھنے والا شخص بنا ہے۔ ‘‘[21]
یہ ہے اس آزادی اور انسانی حق کی معراج ، جو انسان کو اس تباہ کن سوچ تک پہنچا دیتا ہے کہ وہ والدین پر اعتراض کرتا اور انسانیت کے خاتمے کی بات کہنا بھی اپنا حق سمجھتا ہے۔
9.  ماں کے اپنی اولاد سے تعلق او رمامتا کے جذبہ قربانی کی مثال دی جاتی ہے، لیکن جب مذہب کو چھوڑ کر اپنے بنیادی حقوق کی طرف توجہ زیادہ مرکوز ہوجائے تو بعض مائیں اپنی اولاد کو قتل تک کرڈالتی ہیں۔ مذہب کی نفی کرنے والے کمیونزم کے مرکز روسی شہر ماسکو میں ایسی ماؤں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے جو اپنی ہی اولاد کی جان لے لیتی ہیں:
’’فیلیسائڈ نامی جرم یعنی ماں کا اپنے بچے کو قتل کرنا کی دو اقسام ہیں جن میں سے ایک کو نیونیٹیسائڈ کہتے ہیں یعنی جب ماں ایک نوزائیدہ بچے کو قتل کرتی ہے اور دوسری کو انفینٹیسائڈ کہتے ہیں یعنی جب ماں دو سال سے کم عمر بچے کو مارتی ہے۔روس کی عدالتوں میں 2018ء میں ایسے 33 مقدمات کی سماعت کی گئی تھی۔ ماہرین یہ مانتے ہیں کہ اس سے آٹھ گنا زیادہ معاملات ایسے ہیں جو کبھی عدالت تک نہیں پہنچتے۔فورینزک ماہرِ نفسیات اور ماسکو میں طبِ نفسی کے ادارے سربسکی انسٹیٹیوٹ میں تحقیق کرنے والی مارگریٹا کچیوا کا کہنا ہے کہ ہمارے ہسپتال میں 20 میں سے تین یا چار ایسی خواتین ہوتی ہیں جنھوں نے اپنے بچوں کو قتل کیا ہوتا ہے۔
روس کے ماہرِین جرائم کہتے ہیں کہ 80 فیصد خواتین اپنے بچے کو مارنے سے پہلے ڈاکٹر کے پاس جاتی ہیں اور کم خوابی، سر درد اور حیض کی بےقاعدگی کے بارے میں شکایت کرتی ہیں۔
امریکہ کی طرح روس میں بھی عدالتیں یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ ایسی ماؤں کو کس قسم کی سزا دی جائے جو اپنے بچوں کو قتل کر دیتی ہیں۔اگر فورینزک ماہر نفسیات ان ماؤں کو پاگل قرار نہیں دیتے تو انھیں ایک لمبا عرصہ جیلوں میں گزارنا پڑتا ہے۔‘‘[22]
8.  قادیانیوں کا دھوکہ دہی کا حق : قادیانیوں نے لمبے عرصہ سے انسانی حقوق کو اپنے استدلال کا محور اور قانونی پیش قدمی کا ذریعہ بنارکھا ہے۔ جب قادیانی پاکستان میں اسلام کے نام کو اپنے بناوٹی اور جعلی مذہب کے لئے استعمال کرتے ہیں تو یہی بنیادی انسانی حقوق ایک طرف اُنہیں ارتداد کا حق دیتے ہیں ، اور دوسری طرف مذہبی اصطلاحات میں مغالطہ آرائی کا ۔ اور یہ دونوں حقوق ، آزادئ اظہار اور آزادئ رائے کے تحت آتے ہیں۔ چنانچہ جب پاکستان میں ان کو اسلامی شعائر استعمال کرنے پر سزا دی جاتی اور ان کو اپنے تشخص کا پابند کیا جاتا ہے تو مغرب اور اس کی ساری تنظیمیں ان کی پشت پر کھڑی نظر آتی ہیں ۔ ’توہین رسالت کے قانون: 295 سی ‘کی مذمت میں بھی یہی آزادئ مذہب اور آزادئ اظہار کا مغربی انسانی حق کارفرما ہے۔
اور جب حدود اللّٰہ کے نفاذ کے لئے مجرموں کو قرآنی حکم کےمطابق علانیہ اور جسمانی سزا دینے کی بات کی جاتی ہے تو مغرب اپنے فکری تحکم کے نام پر ان کو وحشیانہ اور سنگین سزائیں قرار دے دیتا ہے۔ اگر اسلام کی رو سے باکسنگ کے کھیل کو انسانی چہرے کو نشانہ بنانے کی بنا پر وحشیانہ قرار دے کر ناجائز بتایا جائے تو یہی اہل مغرب اس وحشت بھرے کھیل کو ختم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ کھیل میں وحشیانہ پن جائز اور کسی انسان پر زیادتی کی پاداش میں ہو تو ناجائز ٹھہرے۔ یہ سب انسانی حقوق اور مادر پدر آزادی کے ہی تو کرشمے ہیں جو عبدیت وبندگی کے مقابل سرکشی اور من مانی کے استعارے ہیں!!
اوپر مذکور انسانی حقوق کے نام پر مچائے جانے والے فساد ات میں کونسی ایسی انسانی ضرورت ہے، جس کے لئے انسانی حقوق کا معتبر لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ سب تو نری خواہشات اور بیمار ذہنیت کے تقاضے ہیں، جن میں نہ تو انسانیت ہے اور نہ ہی حقوقیت۔ دراصل ان خواہش پرستیوں اور شہوت رانیوں کے لئے درست لفظ جاہلیت جدیدہ ہے جو جاہلیتِ قدیمہ کی طرح نت نئے بہانے اور دعوے لے کر خاندان ومعاشرہ، تہذیب وملت اور دنیا وآخرت کو تباہ کرنے پر مصر ہے۔
مسلم ممالک میں مغربیت واباحیت، الحاد ودہریت اور فحاشی وعریانیت کے فروغ کی بیشتر جدوجہد فی زمانہ انسانی کے کارکنوں، اداروں اور نعروں کے تحت ہورہی ہے۔ جہاں انسانی حقوق کے قائدین کی دین بیزاری ان کی شخصی رجحانات اور اقدامات سے بخوبی ظاہر ہوجاتی ہے۔ ماضی میں عاصمہ جہانگیرکی قبیل کے انسانی حقوق کے نام لیواجس طرح اسلام اور علماے کرام کو نشانے پر رکھتے رہے ہیں، اس سے بھی انسانی حقوق کے مزاج اور رجحان کا بخوبی علم ہوتا ہے۔ میڈیا اور عدالتوں کے ذریعے ان کو پھیلایا جارہا ہے۔
جب کوئی اصطلاح خوبصورت لباس میں گناہ وحرام کے فروغ کا باعث بن رہی ہو تو اہل علم ودانش کو اسے ترک کرکے ایسے واضح الفاظ استعمال کرنے چاہئیں جس سے کفر وباطل کے راستے مسدود ہوجائیں اور حق وخیر کا بول بالا ہو۔ یہی سلامت روی اور انصاف کا تقاضا ہے!!                                   (ڈاکٹر حافظ حسن مدنی)
حوالہ جات:
[1]     Declaration of Independence, Papers 1:315, emphasis added
[2]    دیكھیں مائیکل فوکالٹ کا مضمون     What is Enlightenment?
[3]    ’جدید اعتزال کے فکری ابہامات کا جائزہ ‘از ڈاکٹر زاہد صدیق مغل: شائع شدہ ’محدث‘ نومبر 2009ء
[4]    شرح عقیدہ طحاویہ از امام ابن ابی العز الحنفی: ص 10، وزارت مذہبی أمور، سعودی عرب
[5]   ’ تعارف تہذیبِ مغرب اور فلسفہ جدید ‘ از پروفیسر محمد احمد، مکتبہ اسلامیہ ،لاہور،جنوری ۲۰۱۴، ص ۱۰۳۔۱۰۴
[6]    Douglas K. Stevenson (1987), American Life and Institutions, Stuttgart, p. 34
[7]    5؍ اگست 1990ء میں منعقدہ قاہرہ کانفرنس میں ’اسلامی انسانی حقوق‘ کے 25 نکاتی چارٹر Cairo Declaration on Human Rights in Islam (CDHRI)میں پیش کرکے،رکن ممالک سے دستخط لئے گئے جو اقوام متحدہ کے چارٹر کا متبادل ہے۔اس چارٹر کے آخری آرٹیکلز 24 اور 25 کا انگریزی متن یہ ہے :
24. All the rights and freedoms stipulated in this Declaration are subject to the Islamic Shari'ah.
25. The Islamic Shari'ah is the only source of reference for the explanation or clarification of any of the articles of this Declaration.
’’24۔ اس اعلامیہ ؍چارٹر میں مندرج تمام حقوق اور آزادیاں شریعتِ اسلامیہ سے مشروط ہیں۔ ‘‘
’’25۔اس اعلامیہ میں مندرج تمام آرٹیکلز کی تشریح اور وضاحت کا واحد مستند ماخذ شریعتِ اسلامیہ ہے۔ ‘‘
[8]    سعودی دستور1992ء : المادة السادسة والعشرون: تحمى الدولة حقوق الإنسان وفق الشريعة الإسلامية.
’’آرٹیکل 26:مملکت شریعت ِاسلامیہ کے مطابق حقوقِ انسانی کی حفاظت کرے گی۔‘‘
دستور پاکستان1973ء : قراردادِ مقاصد كے الفاظ : ’’پاکستان میں جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری اور عدلِ عمرانی کے اُصولوں پر جیسا کہ اسلام نے ان کی تشریح کی ہے، پوری طرح عمل کیا جائے گا۔ ‘‘ اور آرٹیکل 19: ’’اسلام کی عظمت، پاکستان کی سالمیت... اور قانون کی عائد کردہ مناسب پابندیوں کے تابع ہر شہری کو تقریر، اظہار خیال کی آزادی اور پریس کی آزادی ہوگی۔ ‘‘ وغیرہ
[9]    کسی تہذیبی اقدار کے حاملین اس بات پر سمجھوتہ نہیں كرتے کہ ان کے شعائر کی نمائندہ اصطلاحات کو کسی دوسری تہذیب کے لوگ اپنے خود ساختہ معنی میں استعمال کرکے مغالطہ دیں ۔ مثلاً ہمارے ہاں قادیانی خود کو ’مسلمان‘ اور اپنے مذہب کو ’اسلام‘ کہتے ہیں مگر ہم اصطلاحِ "اسلام" کے اس فکری اغوا پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے اور نہ ہی "قادیانی اسلام" کی کسی اصطلاح کو برداشت کرنے پر تیار ہوتے ہیں بلکہ ہم قادیانیوں کو ہمیشہ "خارج از اسلام" اور "کافر ومرتد" ہی کہتے ہیں کیونکہ ہمارے نزدیک اسلام صرف وہی ہے جو معتبر ذرائع کے ذریعے قرآن و سنت اور اجماعِ اُمت کی صورت میں ہمیں ملا ہوا، اس کے علاوہ اسلام کسی شے کا نام نہیں ۔ بالکل اسی طرح ہیومن رائٹس بھی ایک تہذیب کی نمائندہ اصطلاح ہے جسے اگر ہم اسلامیانا چاہیں تب بھی اہل مغرب اس کی کسی مسخ شدہ تشریح کو سند ماننے پر ہرگز تیار نہیں ہوں گے۔ آپ اپنی خوشی کے لئے جو اصطلاح وضع کرنا چاہیں کیجئے مگر یہ اُمید رکھنا کہ مغرب آپ سے اسی اصطلاحی معنی پر مکالمہ کرے گا، خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہیں ۔
مغربی اصطلاحات کو 'اسلامی' کا سابقہ لگاکر ترویج دینا در حقیقت اسلامی تعلیمات کو مغربی تناظر میں پہچاننے کا نتیجہ ہے اور یہ طرزِ فکر مرعوبیت کے سوا اور کچھ نہیں ۔ غور تو کیجئے کہ تحریک ِتنویر کے آدرشوں پر عمل پیرا ہوکر مغربی اہل علم نے جب عیسائی علمیت و تہذیبی اداروں کو شکست دی تو کسی تجدد زدہ مفکر نے کسی نمائندہ عیسائی اصطلاح کو اپنی علمیت میں کوئی جگہ نہ دی۔ اسی طرح استعمار نے مسلمان علاقوں میں خلافت کے ادارے کو ختم کیا تو مسلمان عوام میں اپنی جگہ بنانے کیلئے ’جمہوری خلافت‘یا ’مغربی خلافت‘ جیسی اصطلاحات استعمال نہیں کیں بلکہ ہر جگہ اپنی تہذیبی و علمی روایت سے برآمد شدہ اصطلاح ’جمہوریت‘ہی متعارف کروائی۔ اور اس طرح اپنے ’مشترک کلمہ‘ كی طرف اُنہوں نے مسلمانوں کو گھسیٹا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے اہل علم میں اتنی علمی جرات بھی نہیں کہ وہ مغرب کی نمائندہ اصطلاحات کو ردّ کرکے ان کی جگہ اسلامی اصطلاحات و تصورات کے فروغ پر ہی اِصرار کریں ؟
[10] مثلاً عورتوں کو نکاح میں والدین کو چھوڑ کر من پسند شادی کا حق ، طلاق میں مردوں کی طرح برابری کا حق، اور تعدد ازواج میں   مساوات کے نام پر ، مردوں کی طرح چار سے تعلقات کا حق وغیرہ
[16] https://www.bbc.com/urdu/regional-45679680  29ستمبر2018ء))
[17] دستورِ پاکستان2015ء مجریہ قومی اسمبلی پاکستان : ص14