استفتا ء: تشہد میں انگشت شہادت اٹھانے اور نہ اٹھانے کا مسئلہ اہل حدیث اور حنفیہ کے درمیان مختلف فیہ رہا ہے۔ خلاصہ کیدانی کی رو سے بعض متعصّب حنفیہ تو انگلی اُٹھانے کے اتنے مخالف رہے ہیں کہ اس پر افغانستان میں نہ صرف مار کٹائی بلکہ انگلی توڑ دینے یا کاٹ دینے کی وارداتیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ چونکہ برصغیر میں سنّی اسلام افغانستان کے ذریعہ سے آیا، اس لئے برصغیر کے دین دار لو گ بھی اسی تشدد اور تعصّب کا شکار ہیں۔ برصغیر پاک وہند میں اہل حدیث کے سرخیل سید نذیر حسین دہلوی﷫ اور نواب صدیق حسن خان﷫ وغیرہ کو سمجھا جاتا ہے۔ ماضی قریب میں حافظ عبد اللّٰہ محدث روپڑی ﷫اور حافظ محمد گوندلوی﷫ اور ان کے راسخ علم کے وارث مولانا اسماعیل سلفی﷫ اور مولانا عطاء اللّٰہ حنیف﷫ وغیرہ رہے ہیں۔ اہل حدیث کے امتیازی مسائل میں تشہد میں انگشت شہادت کے اُٹھانے کا مسئلہ بھی ہے ۔ لیکن مشکل اس وقت پیدا ہوئی جب شیخ عبد العزیز بن باز﷫ اور شیخ محمد ناصر الدین البانی﷫ کی بعض جزوی مسائل میں تحقیق برصغیر پاک وہند کے علما کے موافق نہ ہوئی جبکہ سعودی عرب کے علماسے عقائد میں اتفاق کی بنا پر یہاں کے علما بھی سلفی کہلاتے ہیں ۔ عوام اہل حدیث میں شرعی منہاج میں اتفاق کی بجائے جزوی مسائل کے امتیازات کو بھی اہمیت دی جاتی ہے، اس لئے ایسے مسائل پر بھی معرکہ آرائی ہونے لگی۔ جہاں کہیں کسی عالم سے عقیدت ہوئی وہی جزوی مسائل کا بھی مرجع بن گیا۔ان دنوں رکوع کے بعد ارسال الیدین یا وضع الیدین کے علاوہ انگشت شہادت کے بارے میں تحقیقات کے نام پر کئی رواج فروغ پا رہے ہیں۔ شیخ محمد ناصر الدین البانی﷫ کے انگشتِ شہادت کے بارے میں دو موقف ہیں کہ آپ تشہد میں اُنگلی اٹھانے یا مسلسل حرکت دینے کے جواز کے قائل ہیں، لیکن عوام اہل حدیث نے مسلسل حرکت دینے کا معمول بنا لیا ہے۔مجلس التحقیق الاسلامی ایک تحقیقی ادارہ ہے جو کسی شخصیت کی عقیدت کی بجائے کتاب وسنت کی غیر جانبدارانہ تحقیق کے لئے معروف ہے۔میری درخواست ہے کہ اس مسئلے کی کتاب وسنت کی روشنی میں وضاحت فرما دیں۔بیّنوا تؤجروا
(قاری محمد زبیر ، موضع ماچھی وال، بوریوالہ)
جواب: سائل نے تشہد میں انگشتِ شہادت کے بارے میں جو سوال کیا ہے اس کا تعلق مختلف الحدیث کی قبیل سے ہے۔ فقہ الحدیث میں جمہور فقہاے اسلام پہلے جمع وتطبیق کی کوشش کرتے ہیں ، اگر جمع نہ ہو سکے تو تقدیم وتاخیر کی تلاش کرتے ہیں تاکہ انہیں ناسخ ومنسوخ قرار دیا جا سکےجبکہ آخری صورت ترجیح کی اختیار کی جاتی ہے۔عہدِ اسلاف میں امام شافعی﷫ ، امام احمد بن حنبل﷫ اور امام ابوحنیفہ﷫ لاالٰہ الا اللّٰہ پر انگشتِ شہادت کو بلند کرنے کا فتوٰی دیتے تھے۔مشرقِ وسطیٰ میں شیخ البانی ﷫ نے جب احادیث کی تصحیح وتضعیف کی اہمیت کو اُجاگر کیا تو فقہی مسائل میں بھی ان کے بعض جزوی مسائل یا شذوذنے شہرت اختیار کر لی۔ برصغیر پاک وہند میں اس مسئلہ میں جو مختلف شکلیں اختیار کی ہیں   ، وہ درج ذیل ہیں:
1.       تشہد میں انگشتِ شہادت سے اشارہ کا موقع ’لا الٰہ الا اللّٰہ‘ ہے۔جیسا کہ ائمہ ثلاثہ امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور امام ابوحنیفہ رحمہم اللّٰہ سے منسوب ہے جوبعض متعصّب حنفیہ کے تقلیدی موقف کے بالمقابل برصغیر پاک وہند کے اجلّ علما کے فتاوٰی میں موجود ہے اور اس پر ایک عرصہ سے عمل کیا جا رہا ہے۔
2.     شیخ محمد ناصر الدین البانی﷫ نے مذکورہ بالا موقف نمبر1 کے علاوہ تشہد کی ابتدا سے انتہا تک مسلسل حرکت دینے کی ایک مزید صورت بھی پیش کی ہے۔ جس پر شیخ البانی﷫ کی عقیدت میں کئی نوخیز مفتی حضرات صرف اسی کیفیت کو اختیار کرنے پر زور دیتے اور عمل پیرا ہیں۔
3.     کچھ ظاہر بین مفتی حضرات ایک ایسا موقف بھی اختیار کر رہے ہیں جس کا قائل ہمارے علم کی حد تک سلف میں عموماً اور خلف میں اہل حدیث علما میں سے کوئی بھی نہیں ہے۔ جو تشہد کے شروع سے لیکر آخر تک انگلی کو حرکت دئیے بغیر کھڑا رکھنے کا ہے۔
نماز کی کیفیت اور حالت کے باریک مسائل میں سے ایک مسئلہ " تشہد میں انگشت شہادت" کا بھی ہے۔ اس مسئلہ میں آج کل پاک وہند کے سلفی علماء محدث العصر شیخ محمد ناصر الدین البانی ﷫کی رائے کی وجہ سے   کوئی مضبوط موقف اختیار کرنے میں الجھاؤ کا شکارہیں، حالانکہ اہل حدیث؍سلفی کسی مخصوص عالم کی تقلید نہیں کرتے۔ بلکہ وہ ہر عالم کی رائے کو کتاب وسنت پر پیش کرتے ہیں۔ برصغیر کے نامور اساتذہ شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین دہلوی ﷫سے لیکر حافظ عبد اللّٰہ محدث روپڑی﷫اور حافظ محمد گوندلوی﷫ جیسے سلفی مفتی امام شافعی﷫، امام احمد بن حنبل﷫ اور امام ابو حنیفہ﷫ کے اجتہاد کی موافقت میں ’لاالٰہ الا اللّٰہ‘ پر انگشتِ شہادت کو بلند کرنے کا موقف اختیار[1] کرتے آئے ہیں۔ مذکورہ بالا مسئلہ میں شیخ البانی﷫ کا یہ ایک اجتہادی موقف ہی ہے جو متنوّع احادیث اور مختلف طرق روایت کی روشنی میں فقہ الحدیث کی ایک صورت ہے۔ اہل حدیث/سلفی علماء کا رویہ بھی اجتہاد کا ایک منہج ہی ہے، جو مختلف الحدیث کے ضمن اختیار کیا جاتا ہے۔ جمہور اہل سنت مختلف الحدیث کے الجھاؤ میں پہلےجمع وتطبیق کی کوشش کرتے ہیں، پھر تقدیم وتاخیر کا نکتہ واضح ہوجائے تو ناسخ ومنسوخ قرار دیتے ہیں۔ جبکہ آخری صورت ترجیح کی اختیار کی جاتی ہے۔اس کی نشاندہی ہم متعلقہ احادیث کی نوعیت پر گفتگو کرتے ہوئے کریں گے۔
اس مسئلہ کی تحقیق کی غرض سے ہم پہلے متعلقہ احادیث وطرق پیش کرتے ہیں پھر مختلف الحدیث میں مذکورہ بالا طریق کار کے مطابق تمام احادیث وطرق کو جمع کرنے کی کوشش کریں گے۔۔ ان شاء اللّٰہ
1۔انگشتِ شہادت اٹھانے یا اشارہ کرنے والی احادیث
1.       سیدنا عبد اللّٰہ بن عمر﷜ فرماتے ہیں:
أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الْيُمْنَى الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ[2]
” نبی کریمﷺ جب نماز (کے تشہد) میں بیٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ لیتے اور اپنی دائیں اُنگلی اٹھا لیتے جو انگوٹھے کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔‘‘
اس حدیثِ مبارکہ میں اُنگلی اٹھانے کا ذکر ہے۔
2.     سیدنا عبد اللّٰہ بن زبیر ﷜فرماتے ہیں:
كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِذَا قَعَدَ يَدْعُو، وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَيَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ، وَوَضَعَ إِبْهَامَهُ عَلَى إِصْبَعِهِ الْوُسْطَى[3]
” نبی کریمﷺ جب (نمازکے تشہد میں) بیٹھتے تو دعا کرتے، اپنے دائیں ہاتھ کو اپنی دائیں ران اور بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر رکھ لیتے اور اپنی سبابہ اُنگلی سے اشارہ کرتے۔ اور اپنے انگوٹھے کو اپنی درمیانی انگلی پر رکھ لیتے تھے ۔‘‘
اس حدیثِ مبارکہ میں انگلی سے اشارہ کرنے اور گرہ لگانے کا تذکرہ ہے۔
3.     سیدنا عبد اللّٰہ بن عمر﷜ فرماتے ہیں:
أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ كَانَ إِذَا قَعَدَ فِي التَّشَهُّدِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى، وَعَقَدَ ثَلَاثَةً وَخَمْسِينَ، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ[4]
” نبی کریمﷺ جب تشہد میں بیٹھتے تو اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے دائیں گھٹنے پر اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھ لیتے اور تریپن(53) کی گرہ بناتے اور اپنی سبابہ انگلی سے اشارہ کرتے۔ ‘‘
اس حدیث مبارکہ میں بھی انگلی سے اشارہ کرنے اورتریپن(53) کی گرہ[5] لگانے کا تذکرہ ہے۔
4.     نافع مولی عبد اللّٰہ بن عمر ﷜فرماتے ہیں:
كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ، وَأَتْبَعَهَا بَصَرَهُ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «لَهِيَ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنَ الْحَدِيدِ» يَعْنِي السَّبَّابَةَ.[6]
”سیدنا عبد اللّٰہ بن عمر﷜ جب نماز (کے تشہد) میں بیٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ لیتے اور اپنی اُنگلی سے اشارہ کرتےاور اپنی اس انگلی پر رکھتے، پھر فرماتےکہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: یہ (سبابہ) انگلی شیطان پر ہتھوڑے سے زیادہ بھاری ہے۔ ‘‘
اس حدیثِ مبارکہ میں انگلی سے اشارہ کرنے اوراس پر نگاہ رکھنے کا بیان ہے۔
5.     سیدنا عبد اللّٰہ بن عمر﷜ فرماتے ہیں:
«أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَهُ اليُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ، وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الَّتِي تَلِي الإِبْهَامَ يَدْعُو بِهَا، وَيَدُهُ اليُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ بَاسِطَهَا عَلَيْهِ»[7]
” نبی کریمﷺ جب تشہد میں بیٹھتے تو اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے گھٹنے پر رکھتے اور انگوٹھے کے ساتھ ملی ہوئی انگلی کو اُٹھا لیتے، وہ اس کے ساتھ دعا کرتے تھے۔ اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھ لیتے۔ اس حال میں اسے اس پر پھیلائے ہوئے ہوتے تھے۔ ‘‘
اس حدیثِ مبارکہ میں انگلی اٹھانے اور اس کے ساتھ دعا کرنے کا بیان ہے۔
6.     سیدنا عباس بن سہل سعدی﷜ فرماتے ہیں:
اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ، وَأَبُو أُسَيْدٍ، وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَذَكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: ... وَوَضَعَ كَفَّهُ اليُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ اليُمْنَى، وَكَفَّهُ اليُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ اليُسْرَى، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ - يَعْنِي السَّبَّابَةَ –[8]
” سیدنا ابو حمید، سیدنا ابو اُسید، سیدنا سہل بن سعد اور سیدنا محمد بن مسلمہ اکٹھے ہوئے اور نبی کریمﷺ کی نماز کا تذکرہ کیا۔سیدنا ابو حمید نے کہا:...نبی کریمﷺ جب تشہد میں بیٹھتے تو اپنی دائیں ہتھیلی اپنے دائیں گھٹنے پر اور بائیں ہتھیلی اپنے بائیں گھٹنے پر رکھ لیتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کرتےیعنی سبابہ سے۔ ‘‘
اس حدیثِ مبارکہ میں بھی سبابہ انگلی سے اشارہ کا بیان ہے۔
7.     سیدنا نمیر خزاعی ﷜فرماتے ہیں:
رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ وَاضِعًا يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى فِي الصَّلَاةِ، يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ[9]
” میں نے نبی کریمﷺ کو نماز میں دیکھا کہ آپ اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھے ہوئے تھے، اپنی انگلی سے اشارہ کرتے تھے۔ ‘‘
اس حدیثِ مبارکہ میں بھی سبابہ انگلی سے اشارہ کا بیان ہے۔
8.     علی بن عبد الرحمن معاوی﷜ بیان کرتے ہیں:
رَآنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَعْبَثُ بِالْحَصَى فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ نَهَانِي فَقَالَ: اصْنَعْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَصْنَعُ، فَقُلْتُ: وَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَصْنَعُ؟ قَالَ: «كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ كُلَّهَا وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ[10]
” مجھے سیدنا عبد اللّٰہ بن عمر ﷜نے دیکھا اور میں نماز میں کنکریوں سے کھیل رہا تھا۔ جب وہ پھرے تو مجھے منع کیا اور فرمایا:تم اس طرح کرو جس طرح نبی کریمﷺ کیاکرتے تھے۔ میں نے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ کس طرح کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: جب وہ نماز میں بیٹھتے تو تو اپنی دائیں ہتھیلی کو اپنی دائیں ران پر رکھ لیتے اور اپنی تمام انگلیوں کو بند کر لیتے اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی سے اشارہ کرتے تھے ۔ ‘‘
اس حدیثِ مبارکہ میں بھی سبابہ انگلی سے اشارہ کا بیان ہے۔
9.     سیدنا عبد اللّٰہ بن زبیر﷜ فرماتے ہیں:
كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِذَا قَعَدَ يَدْعُو، وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَيَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ...[11]
” نبی کریمﷺ جب نماز میں بیٹھتے تو دعا کرتے، اپنے دائیں ہاتھ کو اپنی دائیں ران پر اور بائیں ہاتھ کو اپنی بائیں ران پر رکھتے اور اپنی سبابہ انگلی سے اشارہ کرتے۔ ‘‘
اس حدیثِ مبارکہ میں بھی سبابہ انگلی سے اشارہ کا بیان ہے۔
10.     سیدنا وائل بن حجر﷜ فرماتے ہیں:
قُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، كَيْفَ يُصَلِّي؟ ... وَرَأَيْتُهُ يَقُولُ هَكَذَا، وَأَشَارَ بِشْرٌ بِالسَّبَّابَةِ مِنَ الْيُمْنَى وَحَلَّقَ الْإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى[12]
” میں نے کہا: میں ضرور نبی کریمﷺ کی نماز کی طرف دیکھوں کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں؟...میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اس طرح کرتے ہیں، بشر راوی نے دائیں ہاتھ کی سبابہ انگلی سے اشارہ کیا اور انگوٹھے اور درمیانی انگلی سے حلقہ بنایا ۔ ‘‘
اس حدیث مبارکہ میں بھی سبابہ انگلی سے اشارہ کا بیان ہے۔
11.     سیدنا عبد اللّٰہ بن زبیر ﷜فرماتے ہیں:
كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِذَا قَعَدَ فِي الصَّلَاةِ... وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ[13]
” نبی کریمﷺ جب نماز (کےتشہد) میں بیٹھتے --- تو اپنے بائیں ہاتھ کو اپنے بائیں گھٹنے پر اور اپنے دائیں ہاتھ کو اپنی دائیں ران پر رکھ لیتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کرتے۔ ‘‘
اس حدیث مبارکہ میں بھی انگلی سے اشارہ کا بیان ہے۔
12.     سیدنا عبد اللّٰہ بن زبیر﷜ فرماتے ہیں:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا جَلَسَ فِي الثِّنْتَيْنِ أَوْ فِي الْأَرْبَعِ يَضَعُ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ أَشَارَ بِأُصْبُعِهِ.[14]
” نبی کریمﷺ جب دو یا چار رکعتوں میں بیٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ لیتے ، پھراپنی انگلی سے اشارہ کرتے۔ ‘‘
اس حدیث مبارکہ میں بھی انگلی سے اشارہ کا بیان ہے۔
13.     سیدنا عبد اللّٰہ بن زبیر﷜ فرماتے ہیں:
كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِذَا جَلَسَ فِي التَّشَهُّدِ، وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَيَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ، وَلَمْ يُجَاوِزْ بَصَرُهُ إِشَارَتَهُ[15]
” نبی ﷺ جب تشہد میں بیٹھتے تواپنے دائیں ہاتھ کو اپنی دائیں ران پر اور بائیں ہاتھ کو اپنی بائیں ران پر رکھتے اور اپنی سبابہ انگلی سے اشارہ کرتے اور اپنی نظر انگلی کے اشارے سے آگے نہ گزارتے ۔‘‘
اس حدیثِ مبارکہ میں انگلی سے اشارہ کرنے اور اپنی نگاہ اشارے پر رکھنے کا بیان ہے۔
14.     سیدنا عبد اللّٰہ بن عمر﷜ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے:
... فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ فِي الْقِبْلَةِ، وَرَمَى بِبَصَرِهِ إِلَيْهَا أَوْ نَحْوِهَا، ثُمَّ قَالَ: «هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَصْنَعُ»[16]
” نبی کریمﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ کو اپنی دائیں ران پررکھا اور انگوٹھے کے ساتھ والی اپنی انگلی سے قبلہ کی جانب اشارہ کیا اور اپنی نظر اُنگلی کی طرف رکھی، پھر کہا: میں نے نبی کریمﷺ کو ایسے ہی کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ ‘‘
اس حدیث مبارکہ میں انگلی سے اشارہ کرنے اور اپنی نگاہ انگلی پر رکھنے کا بیان ہے۔
2۔اشارہ کے ساتھ دعا کرنے والی احادیث
15.     سیدنا عبد اللّٰہ بن عمر ﷜فرماتے ہیں:
أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَهُ اليُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ، وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الَّتِي تَلِي الإِبْهَامَ يَدْعُو بِهَا، وَيَدُهُ اليُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ بَاسِطَهَا عَلَيْهِ»[17]
” نبی ﷺ جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے گھٹنے پررکھ لیتے اور انگوٹھے کے ساتھ والی اپنی انگلی کو اوپر اٹھا لیتے، اس سے دعا کرتے تھے، اور بائیں ہاتھ کو اپنے گھٹنے پر رکھتے اور اس پر پھیلا دیتے ۔‘‘
اس حدیثِ مبارکہ میں انگلی اٹھانے کے ساتھ دعا کرنے کا بھی ذکر ہے۔
16.     سیدنا عبد اللّٰہ بن عمر﷜ فرماتے ہیں:
أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الْيُمْنَى الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ، فَدَعَا بِهَا وَيَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ بَاسِطَهَا عَلَيْهَا[18]
” نبی کریمﷺ جب نماز میں بیٹھتے تو اپنےدونو ں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پررکھ لیتے اور انگوٹھے کے ساتھ والی دائیں ہاتھکی انگلی کو اوپر اٹھا لیتے، اس سے دعا کرتے ، اور بائیں ہاتھ کو اپنے گھٹنے پر رکھتے اور اس پر پھیلا دیتے ۔ ‘‘
اس حدیث مبارکہ میں بھی انگلی اٹھانے کے ساتھ دعا کرنے کا بھی ذکر ہے۔
17.     سیدنا وائل بن حجر﷜ فرماتے ہیں:
رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ قَدْ حَلَّقَ بِالْإِبْهَامِ وَالْوُسْطَى، وَرَفَعَ الَّتِي تَلِيهِمَا، يَدْعُو بِهَا فِي التَّشَهُّدِ[19]
” میں نے نبی کریمﷺ کو دیکھا کہ اُنہوں نے انگوٹھے اور درمیانی انگلی سے حلقہ بنایا اور ان دونوں سے ملی ہوئی انگلی کو اٹھایا، وہ اس کے ساتھ تشہد میں دعا کرتے تھے۔ ‘‘
اس حدیث مبارکہ میں بھی اُنگلی اٹھانے کے ساتھ دعا کرنے کا بھی ذکر ہے۔
18.     سیدنا نمیر خزاعی﷜ فرماتے ہیں:
رَأَيْتُ رَسُولَ اللﷺ وَهُوَ قَاعِدٌ فِي الصَّلَاةِ قَدْ وَضَعَ ذِرَاعَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، رَافِعًا بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ، قَدْ حَنَاهَا شَيْئًا وَهُوَ يَدْعُو[20]
” میں نے نبی کریمﷺ کو دیکھا کہ وہ نماز میں بیٹھے تھے اور اُنہوں نے اپنی دائیں کلائی کو اپنی دائیں ران پر رکھا ہو تھا، اس حال میں اپنی سبابہ انگلی کو اٹھائے ہوئے تھے، اس تھوڑا سا جھکایا ہوا تھا اور وہ دعا کر رہے تھے ۔ ‘‘
اس حدیثِ مبارکہ میں بھی انگلی اٹھانے کے ساتھ دعا کرنے کا بھی ذکر ہے۔
19.     سیدنا وائل بن حجر﷜ فرماتے ہیں:
... ثُمَّ قَبَضَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَحَلَّقَ حَلْقَةً، ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ، فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا[21]
” --- پھر آپ نے اپنی انگلیاں بند کر لیں اور ایک حلقہ بنایا، پھر اپنی ایک انگلی کو اٹھایا، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اسے حرکت دیتے ہیں اور اس کے ساتھ دعا کرتے ہیں ۔ ‘‘
اس حدیثِ مبارکہ میں بھی انگلی اٹھانے کے ساتھ دعا کرنے کا بھی ذکر ہے۔ اس حدیثِ مبارکہ میں حرکت دینے سے متعلق الفاظ کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔
20.     سیدنا وائل بن حجر﷜ فرماتے ہیں:
أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ ﷺ جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ، فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ ذِرَاعَيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ يَدْعُو بِهَا[22]
” انہوں نے نبی کریمﷺ کو دیکھا کہ آپ نماز میں بیٹھے، اپنا بایاں پاؤں بچھایا اور اپنی دونوں کلائیوں کو اپنی دونوں رانوں پر رکھا اور سبابہ سے اشارہ کیا، آپ اس کے ساتھ دعا کرتے تھے ۔ ‘‘
اس حدیث مبارکہ میں بھی انگلی اٹھانے کے ساتھ دعا کرنے کا بھی ذکر ہے۔
21.     سیدنا وائل بن حجر﷜ فرماتے ہیں:
«...وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَنَصَبَ أُصْبُعَهُ لِلدُّعَاءِ، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى» ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُهُمْ مِنْ قَابِلٍ فَرَأَيْتُهُمْ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي الْبَرَانِسِ[23]
” نبی کریمﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھا اور اپنی انگلی کو دعا کے لئے کھڑا کر دیا اور بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا۔ راوی کہتے ہیں: پھر میں ان کے سامنے سے آیا ، میں نے دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھوں کو چادروں میں اُٹھاتے تھے۔ ‘‘
اس حدیثِ مبارکہ میں بھی انگلی اٹھانے کے ساتھ دعا کرنے کا بھی ذکر ہے۔
22.     سیدنا وائل بن حجر﷜ فرماتے ہیں:
"قُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ كَيْفَ يُصَلِّي، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ ... ثُمَّ قَبَضَ اثْنَتَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً، ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا"[24]
” میں نے کہا کہ میں ضرور نبی کریمﷺ کی نماز کو دیکھوں گا کہ وہ کیسے نماز پڑھتے ہیں ، میں نے آپ کی طرف دیکھا...پھر آپ نے اپنی دو انگلیوں کو قبضہ میں لیا اور ایک حلقہ بنایا، پھر آپ نے اپنی انگلی کو اُٹھایا ، میں نے دیکھا کہ و ہ اسے حرکت دیتے ہیں اور اس کے ساتھ دعا کرتے ہیں۔ ‘‘
اس حدیث مبارکہ میں بھی انگلی اٹھانے کے ساتھ دعا کرنے کا بھی ذکر ہے۔
23.     سیدنا عبد اللّٰہ بن زبیر ﷜فرماتے ہیں:
رَأَى النَّبِيَّ ﷺ يَدْعُو كَذَلِكَ[25]
” اُنہوں نے نبی کریمﷺ کو دیکھا کہ وہ اس طرح دعا کرتے ہیں۔ ‘‘
اس حدیث مبارکہ میں بھی دعا کرنے کا ذکر ہے۔
24.     سیدنا سعد بن ابی وقاص﷜ فرماتے ہیں:
مَرَّ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَأَنَا أَدْعُو بِأَصَابِعِي، فَقَالَ: «أَحِّدْ، أَحِّدْ»، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ[26]
” میرے پاس سےنبی کریمﷺ گزرے اور میں اپنی دو انگلیوں کے ساتھ دعا کر رہا تھا۔آپ ﷺ نے فرمایا:" ایک سے، ایک سے"اور سبابہ سے اشارہ فرمایا۔ ‘‘
اس حدیث مبارکہ میں بھی انگلی سے دعا کرنے کا ذکر ہے۔نیز اس امر کی وضاحت ہے کہ دعا دو انگلیوں سے نہیں بلکہ ایک اُنگلی سے ہو گی۔
3۔ انگشتِ شہادت سے محل اشارہ والی احادیث
25.     سیدنا ابو ہریرہ﷜ فرماتے ہیں:
أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَدْعُو بِإِصْبَعَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «أَحِّدْ أَحِّدْ» : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صحیح غَرِيبٌ وَمَعْنَى هَذَا الحَدِيثِ إِذَا أَشَارَ الرَّجُلُ بِإِصْبَعَيْهِ فِي الدُّعَاءِ عِنْدَ الشَّهَادَةِ لَا يُشِيرُ إِلَّا بِإِصْبَعٍ وَاحِدَةٍ[27]
” ایک آدمی دو انگلیوں سے دعا کرتا تھا،نبی کریمﷺ نے اس سے کہا:"ایک سے، ایک سے": یہ حدیث غریب ہے اور اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جب آدمی شہادت کے وقت دعا میں دو انگلیوں سے اشارہ کرے تو اسے صرف ایک انگلی سے اشارہ کرنا چاہئے ۔ ‘‘
اس حدیثِ مبارکہ میں انگلی کو حرکت دینے کے محل کا بیان ہے کہ شہادت کے وقت بھی انگلی اٹھا کر اشارہ کیا جائے۔
26.     سیدنا سعد بن ابی وقاص﷜ فرماتے ہیں:
إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ: إِنَّمَا يَصْنَعُ هَذَا مُحَمَّدٌ بِإِصْبَعِهِ يَسْحَرُ بِهَا، وَكَذَبُوا إِنَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَصْنَعُ ذَلِكَ يُوَحِّدُ بِهَا رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ[28]
” نبی کریمﷺ یہ کرتے تھے،اور مشرکین کہتے تھے کہ یہ محمدﷺ اپنی اس انگلی کے ساتھ جادو کرتے ہیں۔ اور اُنہوں نے جھوٹ کہا ہے، بے شک نبی کریم ﷺ یہ کرتے تھے، اور آپ اللّٰہ تعالیٰ کی توحید بیان کرتے تھے ۔ ‘‘
اس حدیثِ مبارکہ میں انگلی کو حرکت دینے کے محل کا بیان ہے کہ شہادت کے وقت بھی انگلی اٹھا کر اشارہ کیا جائے۔
27۔       سیدنا عبد اللّٰہ بن عباس﷜ فرماتے ہیں:
أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: "هَكَذَا الْإِخْلَاصُ" يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ"[29]
” بے شک نبی کریمﷺ نے کہا:’ایسے اخلاص ہوتا ہے۔‘ آپ انگوٹھے کے ساتھ ملی ہوئی انگلی سے اشارہ کرتے ۔ ‘‘
اس حدیث مبارکہ میں اخلاص وتوحید کے لئے انگلی کو اشارہ دینے کا بیان ہے۔
28۔       سیدنا عیزار فرماتے ہیں:
سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ الرَّجُلِ يَدْعُو يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:"هُوَ الْإِخْلَاصُ "[30]
” سیدنا ا بن عباس﷜ سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو دعا کرتا ہے، اپنی انگلی سے اشارہ کرتا ہے۔سیدنا ابن عباس نے فرمایا:’یہی اخلاص ہے‘ ۔ ‘‘
اس حدیث مبارکہ میں بھی اخلاص وتوحید کے لئے انگلی کو اشارہ دینے کا بیان ہے۔
4۔اشارہ کے وقت انگشت شہادت کی حرکت یا عدم حرکت والی احادیث
الف: اشارہ کے وقت انگشتِ شہادت کو حرکت دینے والی احادیث
29۔سیدنا وائل بن حجر﷜ فرماتے ہیں:
"قُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ كَيْفَ يُصَلِّي، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ ... وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الْأَيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ قَبَضَ اثْنَتَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً، ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا"[31]
” میں نے کہا کہ میں ضرور نبی کریمﷺ کی نماز کو دیکھوں گا کہ وہ کیسے نماز پڑھتے ہیں ، میں نے آپ کی طرف دیکھا... پھر آپ نے اپنی دو انگلیوں کو قبضہ میں لیا اور ایک حلقہ بنایا، پھر آپ نے اپنی انگلی کو اٹھایا ، میں نے دیکھا کہ و ہ اسے حرکت دیتے ہیں اور اس کے ساتھ دعا کرتے ہیں۔ ‘‘
اس حدیث مبارکہ میں انگلی اٹھانے کے ساتھ حرکت دینے اور دعا کرنے کاتذکرہ ہے۔
30۔       سیدنا وائل بن حجر﷜ فرماتے ہیں:
... ثُمَّ قَبَضَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَحَلَّقَ حَلْقَةً، ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ، فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا[32]
” پھر آپ نے اپنی انگلیوں کو قبضہ میں لیا اور ایک حلقہ بنایا، پھر آپ نے اپنی انگلی کو اٹھایا ، میں نے دیکھا کہ و ہ اسے حرکت دیتے ہیں اور اس کے ساتھ دعا کرتے ہیں۔‘‘
اس حدیث مبارکہ میں بھی انگلی اٹھانے کے ساتھ حرکت دینے اور دعا کرنے کاتذکرہ ہے۔
ب: اشارہ کے وقت انگشت شہادت کی عدم حرکت والی احادیث
31۔        سیدنا عبد اللّٰہ بن زبیر ﷜فرماتے ہیں:
أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ إِذَا دَعَا، وَلَا يُحَرِّكُهَا»[33]
” بیشک نبی ﷺ جب دعا کرتے تو اپنی انگلی سے اشارہ کرتے تھے اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے۔‘‘
اس حدیثِ مبارکہ میں   انگلی اٹھانے کے ساتھ ساتھ دعا کرنے اور حرکت نہ دینے کاتذکرہ ہے۔
32۔       سیدنا عبد اللّٰہ بن عمر﷜ فرماتے ہیں:
أَنَّهُ كَانَ يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى على رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى وَيَدَهُ الْيُسْرَى على رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَيُشِيرُ بِإِصْبُعِهِ وَلا يُحَرِّكُهَا[34]
” نبی کریمﷺ اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کرتے اور اسے حرکت نہ دیتے تھےجب دعا کرتے تو اپنی انگلی سے اشارہ کرتے تھے اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے۔ ‘‘
اس حدیثِ مبارکہ میں بھی انگلی اٹھانے کے ساتھ ساتھ دعا کرنے اور حرکت نہ دینے کاتذکرہ ہے۔
مذکورہ بالا روایات سے مستنبط نتائج
1.       مذکورہ بالا روایات میں سے پہلی 14 روایات میں مطلقاً اشارہ کا ذکر ہے اس کے بعد والی 10روایات میں اشارہ کے ساتھ دعا کا تذکرہ ہے،جبکہ روایت نمبر 25،26،27،28 میں اشارۂ توحیدو اخلاص اور شہادت کے وقت اشارہ کا بیان ہےاور حدیث نمبر 29،30میں میں اشارہ کے ساتھ حرکت کا بیان ہے جبکہ 31،32 میں عدم حرکت کا تذکرہ ہے۔
2.       احادیث میں انگشتِ شہادت کی حرکت اور عدم حرکت کا اختلاف جو سیدنا وائل بن حجر ﷜کی حدیث کے بالمقابل سیدنا عبد اللّٰہ بن عمر﷜اور سیدنا عبد اللّٰہ بن زبیر﷜دونوں کی احادیث سے سامنے آ رہا ہے،وہ اس صورت میں ہے جبکہ جمع ممکن نہ ہو۔ مذکورہ بالا احادیث میں جمع کی صورت میں یہ تعارض باقی ہی نہیں رہتا۔ بالخصوص شاذ اور محفوظ کی بحث کا تعلق دومختلف صحابہ کی احادیث کی بجائے ایک ہی صحابی سے مروی ذیلی طرق کے اختلاف کے وقت ہوتا ہے۔ اس موقع پر ایک اہم اختلاف جو تخریج الاحادیث کے دو ماہرین کے درمیان ذکر کیا جاتا ہے، اس کا ازالہ یوں ہو جاتا ہے کہ
علامہ شعیب الارناووط﷫کے حدیث نمبر 30پر تبصرے حديث صحيح دون قوله: "فرأيته يحركها يدعو بها" فهو شاذ انفرد به زائدة (یہ حدیث صحیح ہے سوائے اس قول کے’’میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اسے حرکت دیتے ہیں اور اس کے ساتھ دعا کرتے ہیں‘‘یہ الفاظ شاذ ہیں جنہیں منفرد زائدہ نے بیان کیا ہے۔) اور شیخ محمد ناصر الدین البانی﷫ کے حدیث نمبر 31 پر تبصرے: صحيح لكن زيادة ''ولا يحركها'' شاذة (صحیح ہے، لیکن’’وہ حرکت نہیں دیتے تھے‘‘ کے الفاظ شاذ ہیں) کا تعلق دو الگ الگ صحابہ کی احادیث سے ہے۔ ایک ہی حدیث کے ذیلی طرق میں نہیں ہے۔
چونکہ مذکورہ بالا تبصرے دو الگ الگ صحابہ کی احادیث پر ہیں جبکہ شاذ اور محفوظ کی بحث دو مختلف صحابہ کی احادیث کی بجائے ایک ہی صحابی کی خبر(حدیث) کے ذیلی طرق [35]میں ہوتی ہے۔ گویا یہ مسئلہ مختلف الاحادیث کا ہے جس کے حل کا طریق کار ہم جمہور کے حوالے سے اوپر ذکر کر چکے ہیں۔
3.     ان تمام روایات کو جمع کرنے کی صورت یہ ہے کہ تشہد میں اشارہ کرنا تو ثابت ہے لیکن مسلسل حرکت دینے کی کہیں تصریح نہیں ہے۔ گویا کہ تشہد میں اشارہ کا محل یہ ہے کہ حرکت صرف توحید کی شہادت کے وقت دی جائے گی۔ اس صورت میں اشارہ اور حرکت دونوں پر عمل ہو جائے گا اور يُحَرِّكُهَا اور وَلا يُحَرِّكُهَا دونوں قسم کے الفاظ میں جمع کی صورت بھی نکل آئے گی۔ وہ اس طرح کہ يُحَرِّكُهَاسے حرکت عند الشہادۃ مراد ہو گی جبکہ وَلا يُحَرِّكُهَا سے مراد عدم تحریک الیٰ آخر التشہد ہو گی۔ [36]
4.     اشارہ کا موقع توحید واخلاص ہے جولاالہ الا اللہ کامقصد ہے، مسلسل اشارہ بے مقصد ہے۔ چنانچہ جو لوگ (يَدْعُو بِهَا) کے الفاظ سے پورے تشہد میں انگشت شہادت کو مسلسل دیتے ہیں وہ مغالطہ فہمی کا شکار ہیں۔ کیونکہ شریعت میں کہیں بھی لاالہ الا اللہ کے علاوہ انگلی ہلا کر دعا کرنے کی مثال موجود نہیں ہے۔جبکہ   کسی شرعی حکم کی توجیہ کرتے ہوئے اس علت کی مناسبت پرفقہائے اسلام کا اجماع ہے۔
تعلیل الاحکام میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے بالخصوص حنفیہ اور شافعیہ کا بھی علت میں مناسب ہونے پر اتفاق بڑی اہمیت رکھتاہے۔اس کا تعلق اجتہاد واستنباط کے طرق سے ہےجس کی تفصیلات کی فی الحال احادیث میں جمع وتطبیق ہو جانے کی بناء پر ہم غیر ضروری سمجھتے ہیں کیونکہ فنی مباحث عوام کے لیے نہیں ہونی چاہییں۔
5.     حدیث نمبر 4،13،14 میں اُنگلی کو حرکت دیتے وقت اپنی نگاہ اس انگلی پر رکھنے کا بیان ہے، جبکہ تشہد کے حوالہ سے یہ بات واضح ہے کہ تشہد میں نگاہ سجدہ کے مقام پر ہونی چاہئے۔اور اگر پورے تشہد میں انگلی پر نگاہ رہے تو محل سجدہ پر نگاہ والی بات مشکل ہو جاتی ہے۔اگر حرکت صرف عند الشہادۃ رہے تو یہ مشکل خود بخود ختم ہو جاتی ہے کیونکہ اس طرح پورے تشہد میں نگاہ سجدے کی جگہ ہی رہے گی، صرف عند الشہادۃ معمولی وقت کے لئے سجدے کی جگہ سے ہٹ کر اُنگلی کی طرف جائے گی۔
6.     حافظ عبد اللّٰہ محدث روپڑی﷫ ایسے الفاظ جو مسلسل فعل کے لئے نص نہ ہوں ، یعنی ان میں تعدد فعل کی صراحت نہ ہو۔ وہ تعدد اور موقع کے تعین کی رو سے جملہ مہملہ کہلاتا ہے اور مہملہ کا حکم جزئیہ کا ہوتا ہے،چنانچہ یہ حرکت مسلسل پورے تشہد پر محیط نہیں ہے بلکہ تشہد کے کسی ایک جزوی مقام پر ہے اور وہ مقام أشهد أن لا إله ألا الله[37]ہے۔ جیسا کہ حدیث نمبر 25 میں وارد الفاظ (عِنْدَ الشَّهَادَةِ) اورحدیث نمبر 26،27،28میں وارد الفاظ (يَصْنَعُ ذَلِكَ يُوَحِّدُ بِهَا رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، هَكَذَا الْإِخْلَاصُ، هُوَ الْإِخْلَاصُ ) اس پر دلالت کرتے ہیں۔
خاتمہ
چونکہ اہل حدیث حضرات یہ دعوی رکھتے ہیں کہ سنت واحادیث میں وحی ہونے کی بناء پر حقیقی اختلاف ممکن نہیں لہذا بصیرت کے حامل علماء کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ تمام معتبر احادیث کو سامنے رکھ کر عبادات کے مسائل کی تشکیل کی جائے۔ بعض دفعہ دونوں صورتیں روا ہوتی ہیں جس طرح حکیم الامت شاہ ولی اللہ﷫ نے جنگ احزاب کے بعد بنو قریظہ میں عصر کی نماز پڑھنے کے مسئلے میں صحابہ کرام کا بظاہر اختلاف بھی دونوں موقف کی درستگی کے لئے پیش کیا ہے۔ شاہ ولی اللہ ﷫کی "الانصاف فی سبب الاختلاف "اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫کی "رفع الملام عن الآئمۃ الاعلام" میں ایسے جزوی مسائل میں فقہاء اسلام کا دفاع کیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
حوالہ جات:
[1]    جیساکہ مولانا حافظ عبد الله محدث روپڑی ﷫لکھتے ہیں: ’’اس تشہد کو پڑھتے ہوئے جب   أشهد ان لا إله إلا الله کے لفظ پر پہنچے تو سبّاحہ انگلی اُٹھائے ، اس سے توحید کی طرف اشارہ ہے۔ اشارہ کرتے وقت اُس کو ہلاتا رہے، اگر نہ ہلائے تو بھی جائز ہے۔ اور اپنی نظر انگلی کی طرف رکھے ۔ ‘‘ (تعلیم الصلاۃ: ص 34) طبع چہارم، 1995ء
[2]    صحيح مسلم:580
[3]    صحيح مسلم:579
[4]    صحيح مسلم:580
[5]    نبی کریم ﷺ کے دور میں اشارے سے گنتی پیش کرنے کا طریقہ یہ تھا کہ دائیں ہاتھ سے ننانوے(99) تک کی گنتی کی متعین علامتیں اختیار کی جاتیں جبکہ بائیں ہاتھ سے سیکڑہ اور ہزار کی علامتیں مخصوص تھیں۔ تریپن (53) کی گرہ کی صورت یہ تھی کہ دائیں ہاتھ کی (انگوٹھے سمیت) تین انگلیاں بند کر کے انگشتِ شہادت کو کھڑا کرتے۔ انگوٹھے کی کیفیت یوں ہوتی کہ انگشتِ شہادت کی جڑ میں انگوٹھے کا سرا رکھتے۔ یہ تریپن ہندسے کی گرہ ہے جو حدیث میں ذکر ہوئی ہے۔ احادیث میں تشہد کے لئے ہاتھ کی ایک کیفیت یہ بھی وارد ہوئی ہے کہ انگوٹھے اور درمیانی انگلی کا حلقہ بنا لیا جائےاور دو چھوٹی انگلیاں بند رکھی جائیں۔ اس طرح انگشتِ شہادت اشارہ کے لئے الگ ہو جاتی ہے۔
[6]    مسند احمد:6000
[7]    جامع ترمذی:294، قال الألبانی :صحیح
[8]    جامع ترمذی:293، قال الألبانی :صحیح
[9]    مسند أحمد:15867قال شعیب: صحیح لغیرہ
[10] صحيح مسلم:580
[11] صحيح مسلم:579
[12] سنن نسائی:1266قال الألبانی :صحيح
[13] صحيح مسلم:579
[14] سنن نسائی:1162،قال الالبانی :صحیح
[15] مسند أحمد:16100قال شعیب: حديث صحيح
[16] سنن نسائی:1161، قال الألبانی: حسن صحيح
[17] جامع ترمذی:294، قال الألبانی: صحیح
[18] صحيح مسلم:580
[19] سنن ابن ماجہ:912، قال الألبانی: صحیح
[20] مسند أحمد:15866قال شعیب :حديث صحيح لغيره، دون قوله: قد حناها شيئًا، وهذا إسناد ضعيف
[21] مسند أحمد:18870قال شعیب: حديث صحيح دون قوله: "فرأيته يحركها يدعو بها" فهو شاذ انفرد به زائدة
[22] سنن نسائی:1265وقال الألبانی: صحيح الإسناد
[23] سنن نسائی:1160وقال الألبانی: صحيح الإسناد
[24] سنن نسائی:890وقال الألباني صحيح
[25] سنن نسائی:1271وقال الألباني: صحيح
[26] سنن نسائی:1274، قال الألباني: صحيح
[27] سنن نسائی:1273، قال الألبانی: صحيح، جامع ترمذی: رقم 3557، حسن صحیح
[28] مسند احمد:16572، قال شعیب وغیرہ :اسنادہ ضعیف
[29] السنن الكبرى للبیہقی:جلد2؍ص191            نمبر2796، دارالکتب العلمیہ ، بیروت، 2003ء
[30] السنن الكبرى للبیہقی:جلد2؍ص191            نمبر2794
[31] سنن نسائی:889وقال الألبانی: صحيح
[32] مسند أحمد:18870قال شعیب :حديث صحيح دون قوله: "فرأيته يحركها يدعو بها" فهو شاذ انفرد به زائدة
[33] سنن نسائي:1271 قال الالبانی: صحيح لكن زيادة ولا يحركها شاذة
[34] الثقات لابن حبان : 7؍448...ح 10863وسندہ حسن، دائرۃ المعارف العثمانیہ، حیدرآباد دکن، 1973ء
[35] نیز عبد اللہ بن زبیر کی روایت میں بھی شيخ البانی کا ولايحركها کو شاذ قرار دینا محل نظر ہے، جبکہ درحقیقت یہ لفظ محفوظ ہے کیونکہ بلند پایہ ثقہ عمر و بن دینار ان کی متابعت کرتے ہیں اور اس کی دلیل حدیث میں ’زیادہ کیا‘ کا لفظ ہے۔ (سنن نسائی: 1270 صحیح)
[36] جامعہ اسلامیہ، فیض عام کے شيخ الحديث مولانا محفوظ الحسن فیضی لکھتے ہیں : ’’محدث البانی  نے یہ بھی کہا ہےکہ عبد اللہ بن زبیر کی حدیث میں لا یحركها اور وائل بن حجر کی حدیث میں یحركها ، یعنی دونوں پر عمل ممکن ہے۔ اور دونوں میں جمع وتطبیق کی صورت یہ ہے کہ کہا جائے نبی کریمﷺ تشہد میں انگشت شہادت کو کو کبھی حرکت دیتے تھے اور کبھی حرکت نہیں دیتے تھے، ساکن رکھتے تھے۔ (تمام المنہ: ص 217) یہی مبنی بر اعتدال موقف ہے۔ ‘‘ (کتابچہ ’تشہد میں انگشتِ شہادت سے اشارہ ‘:ص 50)
[37] اس کی تائید مولانا محفوظ الرحمن فیضی کی اس بات سے بھی ہوتی ہے ، لکھتے ہیں: ’’ہر اشارہ متضمن تحریک یا محتمل تحریک نہیں ہوتا، اس لئے مذکورہ تمام احادیث میں مطلق اشارہ جو بہر حال اشارہ توحید ہے، وحدانیت کے بیان واظہار کے لئے ہے۔ یہ اشارہ محتمل تحریک نہیں ہے۔ بلکہ ان سب حدیثوں میں اشارہ عدم تحریک کو متضمن ہے۔ ‘‘ اور اس کی دلیل کے طورپر لونڈی کا آسمان کی طرف انگشتِ شہادت کو اٹھانے کا واقعہ پیش کیا ہے جس میں اشارہ تو ہے، تحریک نہیں ہے۔
(کتابچہ ’تشہد میں انگشتِ شہادت سے اشارہ ‘از مولانا فیضی، ص49،ناشر مکتبہ الفہیم، یوپی)