مختصر فیصلہ پر ایک نظر           اور            قادیانی ارتداد کی حقیقت
’انتخابی اصلاحات بل2017ء‘ کے ذریعے ختم نبوت ﷺ کے متعلق شق میں ترمیم کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں مولانا محمد یونس قریشی [1]،مولانا ڈاکٹر سید طیب الرحمٰن زیدی اور مولانا فضل الرحمٰن مدنی وغیرہ نے مؤرخہ 8؍ نومبر 2017ء کو آئینی رٹ پٹیشن نمبر 3847 دائر کی ۔ جس میں ختم نبوت کے متعلق حلف نامے کو فوری طور پر اصل حالت میں بحال کرنے،راجہ ظفرالحق کی سربراہی میں قائم کی گئی تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کو پبلک کرنے اور وفاقی وزیر قانون زاہد حامد، وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللّٰہ اور وفاقی وزیر آئی ٹی انوشہ رحمٰن کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کاروائی کرنے کی درخواست کرتے ہوئے اس ترمیم کے ذمہ داروں کے تعین ،ان کے خلاف کاروائی کے لئے ’آزاد جوڈیشل کمیشن‘ قائم کرنے اور سینیٹر راجہ ظفر الحق کی رپورٹ کو پبلک کرنے کی استدعا کی گئی ۔ مذکورہ پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا کہ
’’وفاقی حکومت نے ’انتخابی اصلاحات بل 2017ء‘ میں ترمیم کے ذریعے کاغذاتِ نامزدگی میں ختم نبوتﷺ پر یقین کے متعلق حلف نامہ کو اقرار نامہ میں تبدیل کیا۔ ختم نبوت کے متعلق شق میں ترمیم آئین پاکستان کی روح کے خلاف ہے۔وفاقی حکومت نے انتخابی اصلاحات بل کے ذریعے ختم نبوت کے متعلق شق میں ترمیم کرکے عوام اور حکومت و اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے تمام ارکانِ اسمبلی کو دھوکہ دیا۔انتخابی اصلاحات بل 2017ء چونکہ انگریزی میں تھا اور ارکانِ پارلیمنٹ کی اکثریت انگریزی سے نابلد ہے،اس لئے حکومت انتخابی اصلاحات بل کی آڑ میں ختم نبوت کے متعلق شق میں ترمیم کرنے میں کامیاب ہوئی۔ختم نبوت کے متعلق شق میں ترمیم غلطی سے نہیں بلکہ ایک سازش کے تحت باقاعده منصوبہ بندی کے تحت کی گئی۔ ختم نبوت کے متعلق شق میں ترمیم کی سازش اعلیٰ عوامی عہدوں پر فائز مضبوط قادیانی لابی نے کی۔وفاقی سیکرٹری قانون اور سینئر لیجسلیٹو ایڈوائزر آئین پاکستان کو جانتے ہوئے، جان بوجھ کر ختم نبوت کے متعلق شق میں ترمیم کی سازش کا حصہ بنے۔ختم نبوت کے متعلق شق میں ترمیم کوئی معمولی اقدام نہیں بلکہ سنگین ترین کریمنل جرم ہے۔ختم نبوت کے متعلق شق میں ترمیم کے جرم کا ارتکاب کرکے ارکانِ پارلیمنٹ کی اکثریت،کابینہ کے ارکان اور پوری قوم کو نہ صرف تکلیف پہنچائی گئی بلکہ اُنہیں دھوکہ بھی دیا گیا۔‘‘
پٹیشن میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ
’’ختم نبوت کے متعلق شق میں ترمیم کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد صدر مسلم لیگ نون میاں محمد نواز شریف نے بلاتاخیر ہدایت جاری کی کہ ختم نبوت کے متعلق شق کو اصل حالت میں بحال کرنے کے لئے ترمیمی بل پارلیمنٹ میں لایا جائے اور مذکوره شق کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔وزیر قانون پنجاب رانا ثناء الله نے بیان دیا کہ (نعوذبالله)قادیانی بھی مسلمان ہیں،وه تمام شعائر اسلام کا خیال کرتے ہیں،وه بھی مسلمانوں کی طرح پانچ وقت نماز پڑھتے ہیں،روزے رکھتے ہیں۔رانا ثناءالله سے قبل میاں نوازشریف بھی قادیانیوں کے حق میں بیان دے چکے ہیں۔رانا ثناءالله وزیر قانون ہیں مگر افسوس کہ اُنہیں آئین و قانون کا کوئی علم نہیں۔ 7؍اکتوبر کو صدر مسلم لیگ نواز میاں محمد نوازشریف نے سینٹ میں پارلیمانی لیڈر راجہ ظفرالحق کی سربراہی میں ختم نبوت کے متعلق شق میں ترمیم کے خلاف تحقیقات کے لئے تین رکنی کمیٹی قائم کی۔تحقیقاتی کمیٹی میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال اور وفاقی وزیر ماحولیات مشاہدالله خان بھی شامل تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق میاں محمد نوازشریف کو پیش کردہ رپورٹ میں راجہ ظفرالحق نے قرار دیا ہے کہ ختم نبوت کے متعلق شق میں ترمیم جان بوجھ کر کی گئی۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے بھی اپنے بھائی نوازشریف سے مطالبہ کیا ہے کہ ختم نبوت کے متعلق شق میں ترمیم کے ذمہ داروں کے خلاف نہ صرف کاروائی کریں بلکہ اُنہیں حکومت سے بھی نکال دیں۔ ‘‘
’’نوازشریف کی ہدایت پر قائم ہونی والی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ پبلک نہیں کی گئی۔نوازشریف کے حکم پر قائم کی گئی تحقیقاتی کمیٹی سے حقائق کی بنیاد پر شفاف و غیرجانبدار رپورٹ کی توقع نہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ عدالتِ عالیہ ختم نبوت کے متعلق شق میں ترمیم کے خلاف تحقیقات کے لئے آزاد و خودمختار جوڈیشل کمیشن قائم کرے۔جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات ہونی چاہیئے کہ ختم نبوت کے متعلق شق میں ترمیم کی سازش کے پیچھے کیا محرکات ہیں اور کون لوگ اس کے ذمہ دار ہیں؟ اس لئے کہ ختم نبوت کے متعلق شق میں ترمیم کے خلاف ملک بھر میں تحریک کا آغاز ہوچکا ہے۔ختم نبوت کے متعلق شق میں ترمیم سے پوری پاکستانی قوم کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔اگر اس معاملے کی تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو سزا نہ دی گئی تو ملک میں امن و امان کا شدید مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔‘‘
اس پٹیشن کے چند روزبعد مولانا اللّٰہ وسایا صاحب (مرکزی رہنما عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان)نے مؤرخہ 13؍نومبر 2017ء کو رِٹ پٹیشن 3862 دائر کردی، پھر ’تحریکِ لبیک یا رسول اللّٰہ‘(پٹیشن نمبر 3896مؤرخہ 14؍ نومبر 2017ء ) اور سول سوسائٹی کی آئینی درخواستیں بھی عدالت کو موصول ہوئیں۔ اس پٹیشن کی سماعت کی ذمہ داری جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے سپرد کی گئی جو اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج ہیں، اور حال ہی میں توہین رسالت بلاگرز کیس کی سماعت اور اس میں شاندار فیصلہ سنا چکے ہیں[2]۔آپ نے ہی گذشتہ سال 13؍فروری 2017ء کو اسلام آباد کے شہری عبد الوحید کی درخواست پر میڈیا کے ذریعے فحاشی کو فروغ دینے والے ویلنٹائن ڈے کو فروغ دینے پر پابندی لگائی تھی جو نظریۂ پاکستان کے تقاضوں کے مطابق پاکستانی معاشرے میں خیروبھلائی کے فروغ کا اہم سبب بنی اور فی الوقت پاکستان بھر میں نافذ العمل ہے۔
پٹیشن کی سماعت 14؍نومبر 2017ء سے شروع ہوئی، پہلی سماعتوں کے دوران ہی حکومت پر پڑنے والے دباؤ کے بعد، ایک طرف 16 ؍ نومبر کو پارلیمنٹ میں پہلے سے بہتر نیا بل لایا گیا[3] اور دوسری طرف وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے 27 نومبر کو استعفیٰ دے دیا[4]۔چونکہ عدالت میں دائر کی جانے والی درخواستوں میں اس ترمیم کے مضمرات اور اثرات کے ساتھ راجہ ظفر الحق رپورٹ کو عام کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا، اس لئے عدالتِ عالیہ نے اپنی سماعت جاری رکھی۔ آخر 20 ویں سماعت پر مؤرخہ 9؍مارچ 2018ء کو اس کا مختصر فیصلہ سامنے آیا جبکہ مفصل فیصلہ عنقریب متوقع[5] ہے۔ مختصر عدالتی فیصلہ کا ملک بھر میں بڑی خوشدلی سے خیرمقدم کیا گیا، اور اسلامیانِ پاکستان میں مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ 1974ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے بعد جن قانونی اقدامات کی فوری ضرورت تھی، ان کی جزوی تکمیل تو’امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ء ‘میں کی گئی ، لیکن 44 برس بعد حالیہ فیصلہ میں اس ترمیم کی جامع تشریح اور اس کے وسیع تر تقاضوں کو پورا کیا گیا ۔ تحریک ختم نبوت کے حوالے سے یہ فیصلہ چوتھا اہم سنگ میل ہے جس کے ذریعے قادیانیوں کے لئے دھوکہ دہی اور مسلمانوں میں گھس کر، اسلام اور پاکستان کی جڑیں کاٹنے کے مذموم عمل کا سدباب کیا گیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کا مختصر ، مگر تاریخی فیصلہ
پاکستان میں دفاع ختم نبوت کی تحریک کے اہم مرحلے درج ذیل ہیں:
ç قیام پاکستان کے بعد ہی 1953ء میں ملک گیر سطح پر ختم نبوت کی عوامی آگاہی کی تحریک چلائی گئی۔
ç دستور 1973ء کے سال بعدہی 7 ستمبر 1974ء کو قومی اسمبلی سے قادیانیوں کو کافر قرار دے دیا گیا۔
ç 1984ء میں قادیانیوں کے لئے اسلام کی تبلیغ، اور بعض اسلامی اصطلاحات کا استعمال جرم قرار پایا۔
ç 1994ء میں جسٹس عبد القدیر چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے تاریخ ساز فیصلہ دیا۔
اور اب حالیہ فیصلے کے ذریعے دوسری دستور ی ترمیم کے تقاضے پورے کرتے ہوئے قادیانیوں کے لئے دھوکہ دہی کے اہم امکانات کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔ چنانچہ مختصر عدالتی فیصلہ میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے عقیدۂ ختم نبوت کو دین اسلام کا محور قرار دیتے ہوئے یہ قرار دیا :                              (مختصر فیصلہ کے متن سے ماخوذ الفا ظ ،ملخصًا)
1.     شناختی کارڈ، پیدائش سرٹیفکیٹ، پاسپورٹ کے حصول اور ووٹر لسٹ میں اندراج کے لئے دستور کے آرٹیکل 260 پر مشتمل ختم نبوت کا حلف نامہ لازمی ہے۔
2.     تمام سرکاری و نیم سرکاری محکموں بشمول عدلیہ، مسلح افواج، آئینی عہدوں، اعلیٰ سول سروسز میں ملازمت کے حصول ؍ شمولیت کے لئے بھی ختم نبوت کا یہی حلف نامہ لازمی ہے۔
3.      ’نادرا ‘ کسی بھی شہری کی طرف سے اپنے درج شدہ کوائف، بالخصوص مذہب کے حوالے سے درستگی؍ ترمیم کی ڈیڈ لائن مقرر کرے۔
4.     مقننہ ؍ پارلیمنٹ آئین کے تقاضوں اور سپریم کورٹ وہائیکورٹ کے سابقہ فیصلوں کو رو بہ عمل لاتے ہوئے ضروری قانون سازی کرے۔ اور ایسا ترمیم واضافہ کیا جائے جس کے بعد کسی بھی اقلیت کی طرف سے اپنی شناخت چھپانے وغیرہ کی غرض سے ، مسلمانوں کی مخصوص اصطلاحات کے استعمال کی روک تھام ہوسکے۔
5.     ریاست اپنے تما م شہریوں کے درست کوائف کے اندراج کو یقینی بناتے ہوئے کسی بھی شہری کی اصل پہچان اور شناخت کو چھپانے سے روکے اور نادرا میں قادیانیوں اور مرزائیوں کی درج شدہ تعداد اور مردم شماری کے ذریعے اکٹھے کئے گئے اعداد و شمار میں نمایاں فرق کی فوری تحقیقات کی جائیں۔
6.     ریاست مسلمانوں کے حقوق ،جذبات، اور عقائد کی حفاظت کرے اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔                                   فیصلہ میں عدالت کے بعض اہم ریمارکس یوں ہیں:
7.     اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا یہ موقف کہ سول سروس کے افسران کی مذہبی شناخت موجو نہیں ہے ، ایک المیہ ہے جو آئین پاکستان کی روح اور تقاضوں کے منافی ہے۔
8.     دیگر اقلیتوں کے برعکس قادیانی اپنے تشخص اورنام مسلمانوں جیسے اختیار کرتے ہیں، اعلیٰ اور حساس مناصب تک رسائی کے ذریعے ریاست سے فوائد سمیٹتے ہیں۔ فوری طور پر اسلامیات کی تعلیم کے لئے اُستاد کا مسلمان ہونا لازمی شرط قرار دیا جائے ۔
9.     ’’جو شخص بھی خاتم المرسلین ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے، وہ جھوٹا، خائن، اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ ‘‘ اس امر کو آئین کے اعلامیہ میں [حاکمیتِ الٰہیہ کے ساتھ] پڑھا جانا چاہیے اور پارلیمان کو اس بارے میں باضابطہ اقدام کرنا چاہیے۔
10.     ریاست ہر شہری کا مذہبی تشخص واضح کرتی ہے ۔ سو مسلمان ہوکر اپنے آپ کو غیرمسلم یا غیر مسلم ہوکر مسلمان ظاہر کرنے والا ہر شہری ریاست سے دھوکہ دہی ، آئین کی پامالی اور ریاست کے استحصال کا مرتکب ہے۔
11.     جب اقلیت کا کوئی فرد اپنا اصل عقیدہ ومذہب چھپا کر فریب کاری کے ذریعے خود کو مسلمانوں کا جز ظاہر کرتا ہے تو دراصل اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے الفاظ اورروح کی صریح خلاف ورزی کرتا ہے ۔
چیئرمین سینٹ، آرمی چیف، سپیکرز اسمبلی، تمام اراکین اسمبلی وسینٹ، چیف سیکرٹریز، اہم سرکاری عہدوں اور ملازمتوں پر ختم نبوت کا حلف نامہ ضروری کردینے اور غلط بیانی کو ریاست سے غداری قرار دینے کے بعد قادیانیوں کا ان عہدوں پر متمکن ہونا انتہائی مشکل بلکہ ناممکن ہوگیا ہے۔اس طرح مؤمنانہ فراست سے جسٹس صاحب نے قادیانی دھوکہ دہی اور سازش کا ہر راستہ مسدود کر دیا۔ دراصل یہ فیصلہ 1974ء میں پڑنے والی دستوری بنیاد کا لازمی تقاضا تھا، کیونکہ قادیانی آج تک اپنے بارے میں علماے کرام کے متفقہ فتویٰ اور ریاست کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے اور اس کے خاتمے کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پانچ صفحات پر مشتمل اس مختصر فیصلہ کا ایک ایک لفظ ایمان افروز ہے جس کے کسی جملہ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
عدالتی معاونت
فاضل جسٹس صاحب نے اس پٹیشن کی سماعت میں حکومتی وفوجی عہدیداران، راجہ ظفر الحق کی رپورٹ، ڈائریکٹر جنرل نادرا کے علاوہ ، مسئلہ کی حساسیت کے پیش نظر چار درج ذیل علماے کرام اور تین ممتاز قانونی ماہرین کو عدالتی معاونت کے لئے طلب کیا اور ہر دن ایک ایک معاون کے لئے مخصوص کیا گیا:
پروفیسر ڈاکٹر حافظ حسن مدنی پروفیسرادارہ علوم اسلامیہ، پنجاب یونیورسٹی، لاہور                        (راقم الحروف)
پروفیسر ڈاکٹر ساجد الرحمٰن                    سابق نائب صدر، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد
پروفیسر ڈاکٹر محسن نقوی                                       سابق ممبر اسلامی نظریاتی کونسل، اسلام آباد
مفتی محمد حسین خلیل خیل                                       مفتی جامعۃ الرشید، کراچی
اور بطور آئینی ماہر جناب محمد اکرم شیخ ، ڈاکٹر محمد اسلم خاکی اور ڈاکٹر بابر اعوان ...جو تینوں سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ایڈووکیٹ ہیں... نے بھی عدالتی معاونت کی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے نویں سماعت کے موقع پر 21؍ فروری 2018ء کو عدالتی معاونت Emicus Curiae کا نوٹس جاری کرتے ہوئے درج ذیل چھ سوالات کو بھی متعین کردیا :
1.       کیا اسلامی ریاست کوئی ایسا قانون وضع کرسکتی ہے جس سے کسی غیر مسلم کو بالواسطہ یا بلا واسطہ بطورِ مسلم تصور اور شناخت کیا جائے؟
2.     کیا اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں کو اس امرکی اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بطورِ مسلم ظاہر؍ پیش کریں؟
3.     اگر غیر مسلم اپنے آپ کو مسلم کے لبادہ میں چھپائیں تو کیا یہ ریاست کے ساتھ دھوکہ دہی کی تعریف میں آئے گا؟
4.     اگر درج بالا سوالات کا جواب اثبات میں ہے تو ریاست کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟
5.     کیا اسلامی ریاست کے لئے یہ لازم نہیں کہ وہ اپنے تمام شہریوں کے مذہب اور مذہبی عقائد کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ ہو او راس حوالہ سے ایک مؤثر اور جامع طریقہ کار وضع کرے۔
6.     کیا کسی شہری کے مذہب یا مذہبی عقائد کے بارے معلوم کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے ضمن میں آتا ہے ۔
راقم الحروف کو 26 فروری2018ء کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں سب سے پہلے پیش نظر سوالات پر اپنے موقف اور دلائل کو پیش کرنا تھا، چنانچہ 80 صفحات پرمشتمل اپنے تفصیلی بیان کو دو نشستوں میں کم وبیش تین گھنٹے میں، فاضل عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔اس دوران عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی قیادت ، علماے کرام اور وکلا کی بڑی تعداد عدالت میں موجود رہی۔ مکمل بیان تو عنقریب مستقل کتابی صورت میں شائع کردیا جائے گا، جبکہ اس کا اختصار ذیل میں پیش کیا جارہا ہے:
سوالات کی باقاعدہ وضاحت سے قبل بطور تمہید درج ذیل تین اہم پہلو پیش نظر رکھنے ضروری ہیں جن سے مذکورہ سوالات کو سمجھنے میں کافی آسانی ہوسکتی ہے:
اسلامی حکومت کا فریضہ                                              پاکستانی دستور اور اسلام                                               منصبِ نبوت اور قادیانیوں کا موقف
1۔ اسلامی حکومت کا فریضہ
مذکورہ اکثر سوالات کا تعلق مسلم حکومت کے دینی فرائض واختیارات سے ہے،تو ’’جو سیاست (اصلاحِ اجتماعی) قوم وقبیلہ اور عمرانی معاہدوں کی بجائے اسلام کی بنیاد پریا نبی کریمﷺ کی رہنمائی میں لوگوں کی دین ودنیا کی فلاح کا شرعی فریضہ ‘‘ انجام دے، اسے ’سیاسہ شرعیہ‘ کہتے ہیں، جیسا کہ مسلم ماہرین سیاست کی تمام تر تعریفات کا خلاصہ یہی ہے۔ سو مسلم حکومت کا بنیادی فریضہ ہی نبوی ہدایات وطریقہ کار کی روشنی میں سیاسی جدوجہد کرنا ہے۔معاشرے میں اللّٰہ کے دین کو قائم کرنا اور امربالمعروف ونہی عن المنکر کا قیام حاکم کا بنیادی فرض ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے :
﴿الَّذينَ إِن مَكَّنّـهُم فِى الأَرضِ أَقامُوا الصَّلوةَ وَءاتَوُا الزَّكوةَ وَأَمَروا بِالمَعروفِ وَنَهَوا عَنِ المُنكَرِ وَلِلَّهِ عـقِبَةُ الأُمورِ ﴿٤١﴾... سورة الحج
’’اُنہیں اگر ہم زمین میں اختیار دیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے منع کریں گے اور تمام معاملات کا انجامِ کار اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘
اسلامی ریاست ، عام سیکولر ریاست سے اپنے اہداف ومقاصد میں مختلف ہے ۔ اور حاکم کے لئے ذاتی طور پر نماز پڑھنا ہی ضروری نہیں بلکہ مسلم حکام کا فرض ہے کہ وہ اقامتِ دین کریں ، یعنی نماز جو اسلام کا عمود ہے، اس کی اقامت کریں، اور زکاۃ جو معاشرے میں غربت کے خاتمے کا نظام ہے،اس کے ذریعے امیروں کا مال غربا تک پہنچے اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کو معاشرے میں جاری وساری کریں ۔
علامہ ابن تیمیہ امر بالمعروف كی تعریف اور حکام کے لئے اس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"وَإِذَا كَانَ جِمَاعُ الدِّينِ وَجَمِيعُ الْوِلَايَاتِ هُوَ أَمْرٌ وَنَهْيٌ؛ فَالْأَمْرُ الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ بِهِ رَسُولَهُ هُوَ الْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ الَّذِي بَعَثَهُ بِهِ هُوَ النَّهْيُ عَنْ الْمُنْكَرِ وَهَذَا نَعْتُ النَّبِيِّ وَالْمُؤْمِنِينَ "[6]
’’جب دین کا مرکز ومحور اور تمام اسلامی مناصب(حکام ) کا مرکزی مقصد امر ونہی ہے تو جان لو کہ امر بالمعروف سے مراد وہ احکام (شریعت) ہیں جس کے ساتھ اللّٰہ نے اپنے رسول کو مبعوث کیا اور شریعت نے جن باتوں سے روکا، وہ منکر ہیں۔ اور قرآن میں نبیﷺ اور اس پر ایمان لانے والوں کی یہی تعریف ذکر کی گئی ہے۔‘‘
معروف مفسرقرآن امام ابو بکر جصاص (م370ھ) معروف ومنکر کی وضاحت یوں کرتے ہیں:
المعروف هو أمر اﷲ ... والمنکر هو ما نهی اﷲ عنه[7]
’’معروف سے مراد اللّٰہ کا حکم ہے جبکہ منکر سے مراد ہر وہ شے کہ جس سے اللّٰہ نے منع کیا ہو۔‘‘
ثابت ہوا کہ اللّٰہ اور اس کے رسول کے جملہ احکام کا نفاذ کرنا مسلم حاکم کا بنیادی فریضہ ہے ۔ جہاں تک سوال نمبر5 اور 6 میں عقائد کا علم حاصل کرنے کے متعلق پوچھا گیا ہے تو شہریوں کے عقائد کی تعلیم و اصلاح ، برے عقائد واعمال سے ان کی حفاظت ،اور ان سے باخبر رہنا بھی حاکم کے فرائض میں شامل ہے، قرآن کریم میں ہے :
﴿ وَعَدَ اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا مِنكُم وَعَمِلُوا الصّـلِحـتِ لَيَستَخلِفَنَّهُم فِى الأَرضِ كَمَا استَخلَفَ الَّذينَ مِن قَبلِهِم وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُم دينَهُمُ الَّذِى ارتَضى لَهُم وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِن بَعدِ خَوفِهِم أَمنًا يَعبُدونَنى لا يُشرِكونَ بى شَيـًٔا وَمَن كَفَرَ بَعدَ ذلِكَ فَأُولـئِكَ هُمُ الفـسِقونَ ﴿٥٥﴾... سورة النور
’’ جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ، ان سے اللّٰہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو اُسی طرح زمین میں خلافت عطا کرے گاجس طرح اُن سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو عطا کی۔ اُن کے لیے اُن کے اُس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دے گا جسے اللّٰہ تعالیٰ نے اُن کے حق میں پسند کیا ہے، اور اُن کی حالتِ خوف کو امن سے بدل دے گا، تاکہ وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ فاسق ہیں۔‘‘
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی﷫ اس کی تفسیرمیں لکھتے ہیں:
’’ اگر انھیں زمین میں اختیار حاصل ہو تو وہ ایسا نظامِ حیات قائم کریں گے جو اللّٰہ کے ہاں پسندیدہ اور اس کی منشا کے مطابق ہو ...اور جب وہ ایسا دین یا نظام حیات قائم کرلیں گے تو اللّٰہ ان کے دین کو اور زیادہ مضبوط بنا دے گا اور انکی نمایاں خصوصیت یہ ہوگی کہ شرک کو کسی قیمت پر گوارا نہ کریں گے۔‘‘
اس فریضہ کا علم نبی کریم ﷺ کی سنت سے بھی ہوتا ہے کہ آپؐ اپنے حکام کو کیا فرض سونپا کرتے :
أَنَّ النَّبِيَّ بَعَثَ مُعَاذًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ ادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللهَ قَدْ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ.[8]
’’نبی ﷺ نے حضرت معاذ ﷜کو یمن روانہ کیا تو فرمایا:"سب سے پہلے اہل یمن کو اس بات کی دعوت دینا کہ اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللّٰہ کا رسول ہوں ۔اگر وہ یہ بات مان لیں تو ان سے کہنا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے شب و روز میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں ،اگر وہ اس بات کو بھی تسلیم کر لیں تو اُنھیں بتانا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان پر ان کے مال کا صدقہ بھی فرض کیا ہے جو ان کے اہل ثروت سے وصول کر کے ان کے محتاجوں پر صرف کیا جائے گا۔‘‘
الغرض حکمران کا تو اصل کام ہی یہ ہے کہ عقائد کو درست کرے اورمعروف کو فروغ دے۔ اگر وہ برائی کو متعارف کرائے تو گویا اپنے فرض سے انحراف ہے۔اورنامورمسلم علما بھی حاکم کا یہی فریضہ قرار دیتے ہیں:
امام الہند شاہ ولی اللّٰہ دہلوی ﷫ (م1762ء؍1176ھ) مسلم حکومت کی تعریف اور اسکا طریقہ کار لکھتے ہیں:
هي الرياسة العامة في التصدي لإقامة الدين بإحياء العلوم الدينية واقامة أركان الاسلام والقيام بالجهاد وما يتعلق به من ترتيب الجيوش والفروض للمقاتلة وإعطاءهم من الفيء والقيام بالقضاء وإقامة الحدود ورفع المظالم والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر نيابةً عن النبي ﷺ[9]
’’یہ ایسی وسیع ترحکومت ہے جو نبی مکرمﷺ کی نیابت میں نفاذِ ؍اقامتِ دین کے فرض کو پورا کرتی ہے کہ (1) وہ دینی علوم کا احیا کرے، (2) ارکانِ اسلام (توحید ورسالت، نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج) کو قائم کرے، (3) جہاد کو جاری کرے، متعلقہ لشکروں کی تنظیم کرے،وجوبِ جہاد کا اعلان اور مجاہدین میں مالِ فے وغنیمت تقسیم کرے، (4) شرعی نظامِ عدل کو قائم کرے، حدود کا نفاذ کرے،احتسابی نظام سے مظالم کی بیخ کنی کرےاور معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو جاری کرے۔‘‘
یہی بات اس سے سات صدیاں قبل سیاسہ شرعیہ کے عظیم ماہر، خلافتِ عباسیہ کے چیف جسٹس وفقیہ، امام ابوالحسن علی الماوردی (م1058ء؍ 450ھ) بھی حاکم کے 10 ؍فرائض گنواتے ہوئے سرفہرست لکھ چکے ہیں:
(1) حِفْظُ الدِّينِ وَالْحَثُّ عَلَى تَطْبِيقِهِ، وَنَشْرُ الْعِلْمِ الشَّرْعِيِّ وَتَعْظِيمُ أَهْلِهِ وَمُخَالَطَتُهُمْ وَمُشَاوَرَتُهُمْ.
(2) حِرَاسَةُ الْبِلاَدِ وَالدِّفَاعُ عَنْهَا، وَحِفْظُ الأْمْنِ الدَّاخِلِيِّ.
(3) النَّظَرُ فِي الْخُصُومَاتِ، وَتَنْفِيذِ الأْحْكَامِ.                         
(4) إقَامَةُ الْعَدْل فِي جَمِيعِ شُئُونِ الدَّوْلَةِ.
(5) تَطْبِيقُ الْحُدُودِ الشَّرْعِيَّةِ.                                                      (6) إقَامَةُ فَرْضِ الْجِهَادِ.
(7) عِمَارَةُ الْبِلاَدِ، وَتَسْهِيل سُبُل الْعَيْشِ، وَنَشْرُ الرَّخَاءِ.
(8) جِبَايَةُ الأْمْوَال عَلَى مَا أَوْجَبَهُ الشَّرْعُ مِنْ غَيْرِ عُنْفٍ، وَصَرْفُهَا فِي الْوُجُوهِ الْمَشْرُوعَةِ                 (9) أَنْ يُوَلِّيَ أَعْمَال الدَّوْلَةِ الأْمَنَاءَ النُّصَحَاءَ أَهْل الْخِبْرَةِ.
(10) أَنْ يَهْتَمَّ بِنَفْسِهِ بِسِيَاسَةِ الأْمَّةِ وَمَصَالِحِهَا وَأَنْ يُرَاقِبَ أُمُورَ الدَّوْلَةِ وَيَتَصَفَّحَ أَحْوَال الْقَائِمِينَ عَلَيْهَا[10]
’’حاکم کا پہلا فرض یہ ہے کہ دین کی حفاظت کرے او راس کو نافذ کرنے کی جستجو کرے۔ علوم شرعیہ کی تعلیم واشاعت کا انتظام کرے، اور علوم شرعیہ کے حامل علما کی عزت کرے، ان سے میل جول رکھے اور ان سے مشاورت کرتا رہے۔ (2) شہروں کی حفاظت اور ان کا دفاع کرے اور داخلی امن کو قائم کرے۔ (3) جھگڑوں میں عدل کرکے ان کے فیصلے نافذ کرے۔(5)ریاست کے تمام معاملات میں عدل کو قائم کرے۔ (5) شرعی حدود کو جاری کرے۔ (6) جہاد کے آغاز کا اعلان کرے۔(7) شہروں کی تعمیر وزندگی کے سہولتیں میسرکرے، آسانی کو پروان دے۔ (8) شریعت کی ہدایات کے تحت مال کو تشدد کے بغیر جمع کرکے جائز مصارف میں خرچ کرے۔ (9) سرکاری مناصب پر امین، خیرخواہ اور تجربہ کار افراد کو حاکم بنائے۔ (10) بذاتِ خود اُمت کی تدبیر ومصالح کی جستجو کرتا رہے، حکومتی معاملات کی کڑی نگرانی کرے اور ان کے ذمہ داران کی جانچ پڑتال کرتا رہے۔‘‘
2۔ پاکستانی دستور اور اسلام
پاکستان میں ’اسلامی جمہوریت‘ کا نظام ہے جس میں انہی اسلامی تقاضوں کو پیش نظر رکھا گیا ہے، چنانچہ
1.       قائد اعظم محمد علی جناح نے اسی بنا پر اسلامی ریاست کا مطالبہ کیا،اپنی متعدد تقریروں میں قرآن کو پاکستان کا دستور قر ار دیا۔ کلمہ طیبہ اور اسلام کی بنا پر پاکستان وجود میں آیا، جس کو قرار دادِ مقاصد نے تاریخی اور قانونی حقیقت کے طور پر محفوظ ومتعین کردیا اور اس کو آئین کا باضابطہ حصہ بنادیا گیا۔
2.       قرارداد ِمقاصد جو دستورِ پاکستان کا کلمہ ہے، کے تحت پہلا جملہ ’’اللّٰہ تعالیٰ ہی پوری کائنات کا بلاشرکت غیرے حاکم مطلق ہے۔‘‘ بتاتا ہے کہ یہ دستور اللّٰہ کی حاکمیت کے قیام اور اس کے دیے گئے فرائض واختیارات کی تکمیل کے لئے بنایا گیاہے۔ ہرسیاسی نظام کسی اقتدارِ اعلیٰSovereignty کے تصور پر مرکوز ہوتا ہے ، اور مذکورہ جملہ پاکستانی دستور کے مقتدرِ اعلیٰ کا تعین کرتا ہے ، یعنی پاکستان میں ریاست کے جملہ اختیارات اس مرکزی نظریۂ اقتدار اعلیٰ سے ماخوذ ومشروط ہوں گے۔
3.       تیسرا جملہ ’’جس میں جمہوریت، آزادی، مساوات، روا داری اور عدل عمرانی کے اصولوں پر جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے، پوری طرح عمل کیا جائے گا۔‘‘ بتاتا ہے کہ انسانی حقوق کے مسلّمہ اُصول بھی پاکستان میں اسلام کی تشریح کے تابع ہیں۔ اوراسلامی شریعت ہی ان اُصولوں پر بالاتر ہے اور ان کو اسلامی شریعت کی روشنی میں ہی سمجھا جائے گا۔
4.       ’’پاکستان عدل عمرانی کے اسلامی اصولوں پر مبنی ایک جمہوری مملکت ہوگی۔‘‘ سے بھی اسلامی اصولوں کی عمل داری اور اہمیت وترجیح کا علم ہوتا ہے ۔
5.       آرٹیکل نمبر1: ’’پاکستان کا نام ’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ہے۔‘‘ اور آرٹیکل نمبر2:’’اسلام پاکستان کا مملکتی مذہب ہوگا۔‘‘ سے بھی پاکستان کے دستور میں شریعتِ اسلام کی قانونی بنیادکا تعین ہوتاہے ۔
6.       آرٹیکل نمبر 31 تا 37میں حکمتِ عملی کے اُصول ذکر کرتے ہوئے قرار دیا گیا ہے ، کہ
’’31۔ پاکستان کے مسلمانوں کو انفرادی او راجتماعی طور پر ، اپنی زندگی اسلام کے بنیادی اُصولوں اور اساسی تصورات کے مطابق مرتب کرنے کے قابل بنانے کے لئے اور اُنہیں ایسی سہولتیں مہیا کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے جن کی مدد سے وہ قرآن پاک اور سنت کے مطابق زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں۔ ‘‘
7.       آرٹیکل نمبر 42: جدول سوم کے تحت : صدر، وزیر اعظم کے حلف ناموں کی عبارت سے بھی یہی ظاہر ہوتاہے کہ وہ
’’مسلمان ہونے، توحیدِ باری تعالیٰ، کتبِ الہیہ، قرآن پاک، رسالت نبوی اور آپﷺ کا خاتم النّبیین ہونا، روزِ قیامت اور قرآن وسنت کے جملہ تقاضوں اور تعلیمات پر ایمان رکھنے کا اقرار کرتے ہیں۔ ‘‘                          اور            ’’اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کے لئے کوشاں رہوں گا، جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے۔‘‘
حلف کے اس آخری حصہ کا قانونی طور پر وفاقی وزرا، چیئرمین سینٹ،سپیکر قومی اسمبلی، اور تمام ارکان قومی اسمبلی وسینٹ کو بھی پابند کیا گیا ہے۔واضح ہوا کہ پاکستان کی پوری حکومت ؍ ریاست (وفاقی ،صوبائی حکومتیں اور ممبران قومی وصوبائی اسمبلی) اسلامی نظریہ کیلئے جدوجہد اور اس کے تحفظ کی قانوناً پابند ہیں جس سے پوری حکومت کی فروغِ اسلام کی ذمہ داری کا حتمی تعین ہوتااور پاکستان کی نظریاتی اساس کا پتہ چلتا ہے کہ وہ اسلام ہی ہے۔
8.       آرٹیکل 62 سے بھی علم ہوتاہے کہ مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ )کے ممبران کے لئے شریعت کا خاطر خواہ علم اور امین وصادق ہونا ضروری ہے۔ اور امین ہونے کا تقاضا شرعی احکام پر عمل پیرا ہونا، اور مناصب واَموال کی خیانت سے بہر صورت پرہیز کرنا ہے۔
9.       قراردادِ مقاصد کے نکتہ نمبر2 کے تحت حاکمیتِ الٰہیہ کا قیام پاکستانی سیاست کا مرکز ومحور ہے اور حاکمیت ِ الہیہ سے مراد قرآن وسنت ہے جس کے لئے پاکستانی دستور میں اسلامی نظریاتی کونسل کے ذریعے قرآن وسنت کا نفاذ اور اس کے خلاف قانون سازی کا تحفظ اور وفاقی شرعی عدالت کے ذریعے غیراسلامی قانون سازی کا خاتمہ جیسے اہم آئینی ادارے ؍ تصور اس امر کو بالکل واضح کر دیتے ہیں کہ قرآن وسنت اس دستور کے نگران ہیں۔
10.       آرٹیکل 227 ’’تمام موجودہ قوانین کو قرآن پاک اور سنت میں منضبط اسلامی احکام کے مطابق بنایا جائے گا جن کا اس حصے میں بطورِ اسلامی احکام حوالہ دیا گیا ہے اور ایسا کوئی قانون وضع نہیں کیا جائے گا جو مذکورہ احکام کے منافی ہو۔‘‘ سے علم ہوتاہے کہ شریعتِ اسلامیہ پاکستان کے تما م قوانین کی بنیاد ہے، اور خلافِ اسلام قوانین وضع نہ کرنے سے تمام قوانین پر اسلامی شریعت کی برتری ثابت ہوتی [11]ہے۔
11.       آرٹیکل 230 (1۔الف) میں اسلامی نظریاتی کونسل کے اغراض ومقاصد اور فرائض میں یہ صراحت کی گئی ہے کہ ’’وہ قومی اورصوبائی اسمبلیوں کو اپنی تجاویز دے کہ جن کے ذریعے پاکستان کے مسلمانوں کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو تمام معاملات میں اسلام کے اصول ومقتضیات ... جو قرآن وسنت میں بیان ہوئے ہیں... کے مطابق زندگی گزارنے کے قابل بنائے اوراس کی حوصلہ افزائی کرے۔ ‘‘ یہ امر قابل ذکر ہے کہ دستور میں حوصلہ افزائی Encouraging کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ تاکہ واضح ہوسکے کہ ریاست کی ذمہ داری صرف قرآن وسنت کے مطابق زندگی گزارنے کے قابل بنانا ہی نہیں بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کرنا ہے۔ دستورِ پاکستان قرآن وسنت کے مطابق زندگی گزارنے کی ضمانت ہی نہیں دیتا بلکہ اس حوالے سے تمام ضروری اقدامات اور ان کی حوصلہ افزائی کی تلقین بھی کرتا ہے۔
12.  203د کے تحت وفاقی شرعی ’’عدالت کسی درخواست پر اس سوال کا جائزہ لے سکے گی اور فیصلہ کرسکے گی کہ آیا کوئی قانون یا قانون کا کوئی حکم ان اسلامی احکام کے منافی ہے یا نہیں۔‘‘
13. 203 زز کے تحت:وفاقی شرعی ’’عدالت کا کوئی فیصلہ کسی عدالتِ عالیہ پراور کسی عدالتِ عالیہ کی ماتحت تمام عدالتوں کے لئے واجب التعمیل ہوگا۔‘‘                         
14.     جب پاکستانی دستور حاکمیتِ الٰہیہ کی بنا پر جگہ جگہ قرآن وسنت اور اسلام کی بات کررہا ہے، اس کے مطابق قانون سازی کی تلقین کررہا ہے، اس پر نظریاتی بنیادیں قائم کررہا ہے، اس کے خلاف قانون سازی کو ختم کرنے کی ہدایت کرتا ہے ۔ لوگوں کو اس کے مطابق تعلیم وتربیت کی بات کررہا ہے تو ثابت ہوا کہ ’’قرآن وسنت ہی دستور پاکستان کا بالا تر قانون ہے۔‘‘ اور اس موقف کو سپریم کورٹ کے اس قریبی فیصلہ سے تقویت ملتی ہے، جسے جسٹس شیخ عظمت سعید نے اکثریتی فیصلہ کے طور پر یوں تحریر کیا ہے:
’’دستور کوئی متفرق دفعات کا جتھا نہیں ، جنہیں باہمی گانٹھ دیا گیا ہو۔ بلکہ دستور کی دفعات میں ایک یکسانیت اور مربوط سکیم ہے جو دستور کی بنیادی دفعات سے واضح ہے، جو کہ دستور کی نمایاں اور واضح خصوصیات ہیں۔ ‘‘[12]
جبکہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے اقلیتی نوٹ کے پیرا گراف نمبر13 میں بیان کیا کہ
’’آئین کے کسی بھی آرٹیکل کو باقی آئین سے علیحدہ کرکے انفرادی طور پر نہیں سمجھا جاسکتا... آئین کا مطالعہ ایک نامیاتی کل کے طور کیا جائے گا۔ اگر آئین کی جزوی شقوں اور احکام کو باقی آئین سے الگ کرکے دیکھا جائے تو یہ قاری کو گمراہ کرسکتا ہے۔لہذا آئین کا مفہوم ومدعا معلوم کرنے کے لئے اس کے اجزا کی میکانیکی اورعقلی توجیہ کرنے کی بجائے اسے ’ایک مربوط کل ‘کی طرح دیکھنا پڑے گا۔ ‘‘[13]
16. 7؍ ستمبر 1974ء کو دوسری آئینی ترمیم کے ذریعے دستور پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا :
’’آرٹیکل نمبر260(3)الف: ’مسلم‘ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو وحدت وتوحید قادر مطلق اللّٰہ تبارک وتعالیٰ، خاتم النّبیین حضرت محمدﷺ کی ختم نوبت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان رکھتا ہو اور پیغمبر یا مذہبی مصلح کے طور پر کسی ایسے شخص پر نہ ایمان رکھتا ہو، نہ اسے مانتا ہو جس نے حضرت محمدﷺ کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہو یا جو دعویٰ کرے۔‘‘     
ب:’ غیرمسلم‘ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو مسلم نہ ہو، اور اس میں عیسائی ،ہندو، سکھ ، بدھ یا پارسی فرقے سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص، قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا (جو خود کو احمدی یا کسی اور نام سے منسوب کرتے ہیں) کوئی شخص یا کوئی بہائی، او ر جدولی ذاتوں میں سے کسی سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص شامل ہے۔ ‘‘
17.      دستورپاکستان میں شامل آرٹیکل 260 کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے 1984ء میں یہ قانون پاس ہوا، اور مجموعہ تعزیراتِ پاکستان میں درج ذیل جرائم اور ان کی سزاؤں کا اضافہ کیا گیا:
298بی: بعض مقدس شخصیات یا مقامات کے لئے مخصوص القاب، اوصاف یا خطابات وغیرہ کا ناجائز استعمال :
(١) قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو ’احمدی‘ یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے
(الف) محمد ﷺکے خلیفہ یا صحابی کے علاوہ کسی شخص کو امیرالمومنین، خلیفۃ المومنین، خلیفۃ المسلمین، صحابی یا ﷜کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔
(ب) حضرت محمد ﷺکی کسی زوجہ مطہرہ کے علاوہ کسی ذات کو اُمّ المومنین کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔
(ج) حضرت محمد ﷺ کے خاندان (اہل بیت) کے کسی فرد کے علاوہ کسی شخص کو اہل بیت کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے یا۔
(د) اپنی عبادت گاہ کو ‘مسجد‘ کے طور پر منسوب کرے یا موسوم کرے یا پکارے۔
تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔
(٢) قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو ’احمدی‘ یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری، یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب میں عبادت کے لئے بلانے کے طریقے یا صورت کو اذان کے طور پر منسوب کرے یا اس طرح اذان دے جس طرح مسلمان دیتے ہیں تو اسے کسی قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا مستوجب بھی ہو گا۔
298سی:قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان کہے: قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو ’احمدی‘ یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو بلاوسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر موسوم کرے یا منسوب کرے یا الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کی مذہبی احساسات کو مجروح کرے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔‘‘[14]
18.     پاکستان میں غیر مسلم کا تعین اور اس کے لئے مخصوص قوانین کی مثال دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ملتی ہے، جیساکہ برطانیہ میں ملکہ ؍ بادشاہ کے عہدے کے لئے نہ صرف مسیحی ہونا بلکہ ایک مخصوص عیسائی فرقے سے ہونا بھی ضروری ہے۔ اس کے لئے محض شاہی خاندان سے تعلق کافی نہیں بلکہ اس کا اقرار اور بعض چیزوں کی پابندی بھی ضروری ہے۔ اسی طرح اسرائیل نے بھی ہر یہودی کا یہ حق تسلیم کررکھا ہے کہ وہ اسرائیل کی شہریت حاصل کرسکے۔اور The Law of Return نامی قانون میں یہودی کی تعریف بھی کردی گئی ہے۔
3۔ ’منصبِ نبوت‘ اور قادیانی مذہب کے تین حقائق
اسلام میں نبی کریمﷺ کا منصب سب سے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام کا مقصد توحیدِ ربّ العالمین ہے،لیکن ہمارے لئے اس کا راستہ محمدﷺ کی نبوت اور رسالت پر ایمان ہے۔ جب ہم نبی کریم ﷺکو نبی مانتے ہیں تو قرآن کی آیات کا علم ہوتا ہے۔ اللّٰہ جل جلالہ کی معرفت، اس کے مطالبے، اس کے حقوق اور اس کے نافذ کردہ احکام، آخرت اور جنت وجہنم کا پتہ چلتاہے۔ ماں باپ کے رشتے، نکاح وطلاق کے ضوابط ، بہن بھائی کے حقوق ، حرام وحلال کھانے، جائز وناجائز سودے، اَموال پر اپنا حق اور حاکم ومحکوم کے حقوق سب کا علم نبی کریم کی معرفت بلکہ آپ پر ایمان سے مشرو ط ہے۔ گویا نبی ہی اللّٰہ کی رہنمائی سے پورا دین تشکیل دیتا ہے اور نبی پر ایمان لانے پرسارا دین موقوف ہے۔ یہ عقیدہ ’اعتماد علیٰ الرسالہ‘ ہے جو پورے دین کی اساس ہے، اس میں معمولی سا شک بھی ایمان کی بنیادوں کوہی ڈھا دیتا اور اسلام کا خاتمہ کردیتا ہے۔
1۔ اسلامی اعزازات وشعائر پر قبضہ: قادیانی اسلام کی تمام عظمتوں پر قابض ہونا اور ان کو اپنا باور کرانا چاہتے ہیں۔ اسلام کانا م، کلمہ میں نبی مکرمﷺ کا نام ، ازواجِ مطہرات، صحابہ کرام﷢، شعائر اسلام، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، خلیفہ، کلمہ ، مسجد اور اذان سب اسلام کا لینا چاہتے ہیں، لیکن اس مرکزی ہستی محمد ﷺ کو چھوڑدینا چاہتے ہیں جس نے اللّٰہ کے حکم سے پورا دین تشکیل دیا اور پورے اسلام کی معرفت ان کے گرد گھومتی ہے۔ ان کے فریب کی حد یہ ہے کہ قایادنی اپنے کلمہ میں محمد ﷺ کا نام بھی نہیں چھوڑنا چاہتے ، وہ آپ کے نام سے منسوب تقدس وتوقیر، عزت وعظمت پر بھی ہاتھ صاف کرنا چاہتے ہیں لیکن محمد ﷺسے مراد ’مرزا قادیانی‘ لیتے ہیں۔ گویا نبی مکرم ﷺ کی نبوت پر ایمان جو پورے اسلام کی معرفت کا وسیلہ ہے، اور سارے اسلام پر ہاتھ صاف کرکے، اصل مرکزِ ایمان وعظمت کی جگہ ایک بدبخت کذاب کو بٹھانا چاہتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ خود یہ بھی مانتے ہیں کہ ہمارا پورا دین ہی اسلام سے مختلف ہے۔ ’ طلبہ کو نصائح‘ کے عنوان سے شائع شدہ تقریر میں ’خلیفہ ‘ صاحب طلبہ کو احمدیوں اورغیراحمدیوں کے درمیان اختلاف کی نشاندہی کرتے ہوئے کہتے ہیں :
’’ورنہ حضرت مسیح موعود نے تو فرمایا ہے کہ ان کا (یعنی مسلمانوں کا) اسلام اور ہے اور ہمارا اور، اان کا خدا اور ہے اور ہمار ا اور،ہمارا حج اور ہے ، ان کا حج اور، اسی لئے ان سے ہر بات میں اختلاف ہے ۔‘‘[15]
’خلیفہ‘ صاحب نے ایک اور تقریر میں اس اختلاف کا تذکرہ کیا کہ احمدیوں کو کیا اپنا مستقل مدرسہ دینیات قائم کرنا چاہیے یا نہیں؟ مرزا غلام احمد نے دونوں موقف سن کر اپنا فیصلہ سنادیا جس کو خلیفہ صاحب ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں:
’’ یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے ۔ آپ نے فرمایا: اللّٰہ تعالیٰ کی ذات ، رسول کریم ﷺ ، قرآن ، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، غرض آپ نے تفصیل سےبتایا کہ ایک ایک چیز میں ان سے ہمیں اختلاف ہے۔‘‘[16]
اور جہاں تک قادیانیوں کا کلمہ اسلام پڑھنے اور اس میں محمد رسول اللّٰہ ﷺ سے مرزا قادیانی مراد لینے کا تعلق ہے تو مرزا غلام احمد قادیانی ’ ایک غلطی کا ازالہ ‘ میں لکھتا ہے :
’’﴿مُحَمَّدٌ رَسولُ اللَّهِ وَالَّذينَ مَعَهُ أَشِدّاءُ عَلَى الكُفّارِ رُحَماءُ بَينَهُم... اس وحی میں میرا نام محمد رکھا گیا اوررسول بھی ۔‘‘ [17]
قادیانی مرزا قادیانی کو کلمہ کے مفہوم میں داخل کر کےاسے ’محمد رسول اللّٰہ ‘کا مصداق سمجھتے ہیں، چنانچہ اس سوال کے جواب میں کہ ’’اگر مرزا نبی ہے تو تم اسکا کلمہ کیوں نہیں پڑھتے؟‘‘مرزا بشیر احمد قادیانی لکھتا ہے :
’’محمد رسول اللّٰہ کا نام کلمہ میں تو اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ نبیوں کے سرتاج اور خاتم النّبیین ہیں اور آپ کا نام لینے سے باقی سب نبی خود اندر آجاتے ہیں اور ہر ایک کا علیحدہ نام لینے کی ضرورت نہیں۔ ہاں حضرت مسیح موعود کے آنے سے ایک فرق ضرور پیدا ہوگیا ہے اور وہ یہ کہ مسیح موعود کی بعثت سے پہلے تو محمد رسول اللّٰہ کے مفہوم میں صرف آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیا شامل تھے، مگر مسیح موعود کی بعثت کے بعد محمد رسو ل اللّٰہ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہوگئی۔ لہٰذا مسیح موعود کے آنے سے نعوذ باللّٰہ’ لاالہ الا اللّٰہ ، محمد رسول اللّٰہ‘ کا کلمہ باطل نہیں ہوتا ، بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگ جاتا ہے ۔ غرض اب بھی اسلام میں داخل ہونے کے لئے یہی کلمہ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مسیح موعود کی آمد نے محمد رسول اللّٰہ ﷺ کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کردی ہے اور بس۔
علاوہ اس کے اگر ہم بفرضِ محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریم کا اسم مبارک اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں، تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا اور ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیح موعود نبی کریمﷺ سے کوئی الگ چیز نہیں ہے ۔ جیساکہ وہ خود فرماتا ہے: صار وجودي وجوده نیز مَن فرق بيني وبين المصطفي فما عرفني وما رأى[18] اور یہ اس لئے ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا، جیسا کہ آیت وَّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ سے ظاہر ہے ۔ پس مسیح موعود خود محمد رسول اللّٰہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے ہیں۔ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں ۔ ہاں اگر محمد رسول اللّٰہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔‘‘[19]
مرزا قادیانی کذاب نے پہلے مصلح اور مجدّد، پھرمہدی موعود، پھر مسیح موعود او رآخر کار اپنے آپ کو محمد قرار دیتے ہوئے، محمد ِاکمل بھی باور کرایاہے، چنانچہ قادیانی پرچے ’البدر‘جو الفضل سے قبل قادیانی ترجمان تھا ، کے ٹائٹل پر یہ نظم شائع ہوئی، جو دراصل مرزا قادیانی کے سامنے پڑھی گئی اور مرزا نے اس کو پسند کیا تھا :
محمد پھر اُتر آئے ہیں ہم میں                   اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل                                غلام احمد کو دیکھے قادیان میں[20]
جس طرح قادیانی ’اسلام‘ کا نام اور خاتم المرسلین ’محمد ‘و’احمد‘ ﷺ کا نام نامی نہیں چھوڑنا چاہتے، اسی طرح وہ خلیفہ ، صحابہ، امہات المؤمنین، حج اور مکہ مکرمہ کے اعزازات بھی نہیں چھوڑنا چاہتے۔ یہی وجہ کہ امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ء میں اُن کو امہات المؤمنین، اہل بیت ، خلیفہ، امیر المؤمنین، مسجد، اذان کے استعمال سے روکتے ہوئے اسلام کی تبلیغ کرنے سے منع کردیاگیا ہے۔ لیکن قادیانی ابھی تک نبی کریمﷺ کا نام احمد، اپنی قبروں پر کلمہ طیبہ او ربسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم اور صلوٰۃ وصیام کو استعمال کرتے ہیں۔ عید الفطر وعید الاضحیٰ کو مناتے ہیں ،حتیٰ کہ اسلام کی پوری تاریخ اور سنہرے اَدوار کو اپنا کر، نبی مکرمﷺ کی نبوت کو منسوخ ، مرزا قادیانی کی نبوت کو حتمی اور سابقہ نبوتوں کی ناسخ قرار دیتے ہیں۔
2۔مسلمانوں کو کافر قرار دینا اور ان کو بدترین گالیاں دینا:
قادیانی اسی ظلم پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ محسن انسانیت،نبی مکرم ﷺکو ماننے والوں کو کافر کہتے، ان کو بدترین گالیاں دیتے، اور ان کے مقدسات کی توہین کرکے ان کے دل چھلنی کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے :
’’اللّٰہ کی طرف سے مجھ پر وحی آئی ہے کہ ’’جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا، اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا، اور تیرا مخالف رہے گا، وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔ ‘‘[21]
مرزا قادیانی نے اپنے عقیدت مندوں سے خطاب میں کہا:
’’پس یاد رکھو کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ تمہارے اوپر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر او ر مکذب یا متردّد کے پیچھے نماز پڑہو بلکہ چاہیے کہ تمہارا امام وہی اما م ہو جو تم میں سے ہو۔‘‘[22]
’’جو میرے مخالف تھے، ان کا نام عیسائی، یہودی اور مشرک رکھا گیا ۔‘‘[23]
مرزا بشیر احمد قادیانی لکھتا ہے :
’’ہر ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو تو مانتا ہے مگر محمد (ﷺ)کو نہیں مانتا ، یا محمد کو تو مانتاہے مگر مسیح موعود(مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر بلکہ پکاپکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ ‘‘[24]
نیز مرزا قادیانی نے اپنی جھوٹی نبوت کو نہ ماننے والوں کو ننگی گالیاں دیں، چنانچہ مولانا محمد حسین بٹالوی اس کو ’آئینہ وساوس‘ کہا کرتے تھے ۔ مرزا قادیانی اپنی چند کتب کا تذکرہ کرکے لکھتا ہے :
تلك كتب ينظر إليها كل مسلم بعين المودة والمحبة ويقبلني ويصدقني وينتفع من معارفها إلا ذرية البغايا فهم لا يقبلون[25]
’’یہ میری کتابیں ہیں جن کو ہر مسلمان دوستی اور محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے ، اور میری تصدیق کرتا ہے ، اور ان کتابوں میں ، میں نے جو معرفت کی باتیں لکھی ہیں، ان سے نفع اٹھاتا ہے، مگر کنجریوں کی اولاد ، کہ نہیں مانتے۔ ‘‘
ایک اور مقام پر مرزا قادیانی لکھتا ہے :
إن العدى صاروا خنازير الفلاء ونسائهم من دونهن الأكلب[26]
’’دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں۔ ‘‘
’’ ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا، تو صاف سمجھا جائے گا، کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے، اور حلال زادہ نہیں۔ ‘‘[27]
قادیانی لٹریچر مسلمانوں اور انبیاے کرام کے بارے میں ہفوات ودشنامات سے بھرا پڑا ہے جس کے لئے یہ کتب دیکھی جاسکتی ہیں: محمدیہ پاکٹ بک،قادیانیت اپنے آئینے میں اور تحفۂ قادیانیت (1؍639 تا 661)وغیرہ
قادیانی ڈھٹائی سے اپنے آپ کو مسلمان قرار دینے پر مصر ہیں: کیا اسلام ہے اور کیا نہیں؟ او رکون مسلمان ہے یا نہیں؟ اس بارے میں فیصلہ کی میزان قرآن وسنت اور اجماعِ اُمت ہے۔قادیانیوں کے کفر پر قرآن وسنت کے سیکڑوں دلائل کی بنا پر عالم اسلام کے تمام ادارے، مدارس، مراکز، مجالس، جید مفتیان وعلماے کرام ایک صدی سے زیادہ عرصہ سے متفق چلے آرہے ہیں۔ ہر حلقے کے ایک ہزار سے زائد علما ومفتیان،100 سے زائد مدارس ومراکز کے فتاوٰی منظر عام [28]پر آچکے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شائع کردہ ’فتاوٰی ختم نبوت‘ کی تین جلدوں میں بھی ان دلائل وبراہین کی ایمان افروز تفصیلات موجود ہیں۔
پھر اس اتفاق واجماع کو آئینی ،قانونی اور شرعی ماہرین نے باضابطہ مکالمے ، مباحثے اور لمبی قانونی کاروائی کے بعد ، واضح کرکے مستند طور پر دستورِ پاکستان میں درج کردیا گیا ہے ، جیسا کہ آرٹیکل 260 کا متن گزر چکا ہے ۔
اجماع کے ذریعے شرعی حقیقت کے تعین، اور دستور پاکستان کے ذریعے اس کے کامل نفاذ کے بعد قادیانیوں کے لئے اپنے دعواے اسلام پر جمے رہنے کی کوئی قانونی واخلاقی بنیاد باقی نہیں رہتی۔ لیکن ایک طرف وہ اپنے آپ کو غیر مسلم قبول کرنے کو بالکل تیار نہیں، اسلام اور محمد ﷺ کا ناجائز طور پر نام استعمال کرنے پر مصر ہیں،اور مسلمانوں میں ہی ہٹ دھرمی سے گھسے رہ کر اپنا جھوٹے دین کوفروغ دینا چاہتے ہیں تو دوسری طرف پاکستانی ریاست کے خلاف اپنے خبثِ باطن کے اظہار کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ دنیا بھر میں ان کے مشن پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرنے میں مصروف رہتے ہیں اور وہ خود پاکستان میں رہ کر، ریاست کے حساس مناصب پر قابض ہوکر، اس کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں مگن ہیں۔ قادیانی افسران کی اسلام دشمنی کی تفصیلات ہر محبِ دین وملت کے لئے چشم کشا ہیں۔
جب قادیانی مسلمانوں کو کافر کہتے، خود کو مسلمان باور کرتے، اور اس پر ڈھٹائی سے ڈٹے ہوئے ہیں ، پاکستان میں غیرمسلموں کے لئے جاری کردہ نظام کا حصہ بننے کو تیار نہیں ، تو شدید ضرورت اس امر کی ہے کہ آئین پاکستان کے فیصلے کے بعد، قانونی طور پر قادیانی دجل وفریب کا راستہ بند کرنے کے قانونی اقدامات کئے جائیں۔پاکستان میں الیکشن اصلاحات کا حالیہ بل ، اسی قادیانی دراندازی کی ناروا سازش تھی،اور حکومتی ایوانوں سے اسی قادیانی موقف کی بازگشت ہی سننے میں آتی رہی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ اسی دھوکہ دہی کا خاتمہ کرکے دستورِ پاکستان کے اہم تقاضے کے تحفظ کا نظا م پیش کرتا ہے ، جو واقعتاً بڑا قابل قدر اور ایمان افروز ایمانی بصیرت کا حامل فیصلہ ہے۔
جبکہ درحقیقت ہر قادیانی ، اسلام کا نام لینے اور محمدﷺ کے بعد مرزاقادیانی کو نبی ماننے کی بنا پر غیرمسلم ؍ کافر ہونے کے ساتھ مرتد بھی ہوتا ہے۔اور مرتد کے احکام کافر سے مختلف ہیں اور اسے شرعی سزا دینا (کافر کے برعکس) مسلم حکومت کا فریضہ ہے۔جبکہ قادیانی صرف مرتد ہی نہیں ، بلکہ زندیق بھی ہیں کیونکہ وہ ضروریاتِ دین میں طعنہ زنی کرکےاسلام کا حلیہ مسخ کرتے اور مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ الغرض قادیانی حضرات مرزا کو نبی ماننے کی بنا پر کھلے کافر ہیں، جس پر اُمت کے اجماعی فتوے اور دستوری فیصلہ بھی موجود ہے ۔پھر اسلام کا نام لینے کی بنا پر وہ نرے کافر نہیں بلکہ ’مرتد کافر ‘ہیں، اور اساسیاتِ اسلام میں طعنہ زنی اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی بنا پر وہ کافر، مرتد اور زندیق بھی ہیں۔ ان میں تینوں اوصافِ فاسدہ مکفرہ جمع ہیں۔ دین میں جبر نہ ہونے کی بنا پر نرے کافر کو اسلام پر مجبور نہیں کیا جاسکتا اور اسے کفر کی سزا بھی نہیں د ی جاتی لیکن زندیق اور مرتد کو شرعی سزا دینا اسلامی حکومت پر واجب ہوتا ہے ، جیسا کہ سیدنا معاذ بن جبل﷜ نے اس وقت تک بیٹھنا گوارا نہیں کیا جب تک یہودی ہوجانے والے مرتد کو سزائے قتل نہیں[29] دے دی۔ جبکہ زندیق کا استیصال[30] مسلم حاکم کا اوّلین شرعی فریضہ ہے، جیسا کہ سیدنا ابوبکر صدیق﷜ نے مسیلمہ کذاب کے پیروکار بعض مرتدزنادقہ کے خاتمے میں معمولی تاخیر بھی گوارا نہیں کی۔ یہ تواُصولی شرعی موقف ہے، تاہم حالات وواقعات کے تحت مرتد کی سزا کو مؤخرکیا جاسکتا ہے جیساکہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ لکھتے ہیں:
فحيث ما كان للمنافق ظهور وتخاف من إقامة الحد عليه فتنة أكبر من بقائه عملنا بآية ﴿وَدَع أَذىهُم[31]
’’جہاں منافقوں کا غلبہ ہو، اور ان پر سزا نافذ کرنے سے اس سے بڑے فتنہ کا اندیشہ ہو تو ہم وہاں اس آیت پر عمل کریں گے: اے نبی ! آپ ان کی اذیّت کو چھوڑ دیں۔‘‘
عالم اسلام کے معتمد فقہی ادارے رابطہ عالم اسلامی کی فقہ اسلامی اکیڈمی،جدہ کا اجماعی فتویٰ ہے کہ قادیانی نرے کافر کی بجائے مرتد ہیں:
وهذه الدعوی من میرزا غلام أحمد تجعله وسائر مَن يوافقونه عليها مرتدين خارجين عن الإسلام. وأما اللاهورية فإنهم كالقاديانية في الحكم عليهم بالردة بالرغم من وصفهم ميرزا غلام أحمد بأنه ظل وبروز لنبينا محمد ﷺ.
’’مرزا غلام احمد کا یہ دعویٰ اس کو او راس کے ماننے والوں کو مرتد اور اسلام سے خارج کردیتا ہے۔ اور لاہوری بھی ارتداد میں قادیانیوں کی طرح ہی ہیں۔ باوجود اس کے کہ وہ مرزا قادیانی کو ہمارے نبی ﷺ کا ظلی اور بروزی مانتے [32]ہیں۔ ‘‘
صدر قرار بالإجماع باعتبار العقيدة القاديانية المسماة أيضا بالأحمدية عقيدة خارجة عن الإسلام خروجا كاملا وأن معتنقيها كفار مرتدون عن الإسلام، وأن تظاهر أهلها بالإسلام إنما هو للتضليل والخداع. وأنه يجب علي المسلمين حكومات وعلماء وكُتّابا ومفكرين ودعاة وغيرهم مكافحة هذه النحلة الضالة وأهلها في كل مكان في العالم [33]
’’ اجماعی طور پر یہ قرار پایا کہ قادیانی عقیدہ جو احمدیت بھی کہلاتا ہے، اسلام سے کلیتاً خارج عقیدہ ہے۔ اور اس کے پیروکارکافرومرتد ہیں۔ اور ان کا اپنے آپ کو مسلمان کہناگمراہی اور دھوکہ دہی کے لئے ہے۔ اور مسلم حکمرانوں، علماے کرا م، اہل قلم، مفکرین، داعیوں وغیرہ کو اس گمراہ فرقے اور اس کے پیروکاروں کا پوری طرح ، دنیا بھر میں توڑکرنا چاہیے۔ ‘‘
ان سب مسلّمہ حقائق اور شرعی وقانونی اقدامات کے باوجود قادیانیوں کی ساری جدوجہد اور جھوٹے دین کا فروغ اسلام کے جھنڈے تلے ہورہا ہے، جیساکہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصلہ میں یہ قرار دیا کہ
’’قادیانی حکمتِ عملی اس سوداگر کے فراڈ سے گہری مماثلت رکھتی ہے جو اپنے گھٹیا سامان کو ایک شہرت یافتہ فرم کا اعلیٰ قسم کا معروف سامان ظاہر کرکے چلتا کرتا ہے۔ قادیانی یہ تسلیم کرلیں کہ ان کی تبلیغ اسلا م کے لئے نہیں بلکہ کسی اور مذہب کی طرف ہے تو بے خبر مسلمان بھی اپنے ایمان کو چھوڑ کر کفر قبول کرنے سے نفرت کریں گے، بلکہ الٹا قادیانیوں کے دلوں سے احمدیت کا طلسم ٹوٹ جائے گا۔ اگر قادیانی آئینی دفعات کی پابندی کرتے تو اس (امتناع قادیانیت) آرڈیننس کے نفاذ کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔‘‘[34]
اور اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ بھی اپنے فیصلے میں ایسے ہی ریمارکس دے چکا ہے۔ [35]
نوٹ: آئندہ شمارے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ سوالات کے جوابات ملاحظہ فرمائیں۔ان شاء اللہ
حوالہ جات:
[1]    خطیب جامع مسجد الفرقان اہل حدیث، اسلام آباد
[2] اس کیس کی پوری تفصیل اور فیصلہ کے مکمل اردو متن کے لئے دیکھئے : ناموس رسالت ؛ اعلی عدالتی فیصلہ از جسٹس شوکت عزیز صدیقی، ص 47 تا 222، مرتب: سلیم منصور خالد، ناشر: منشورات، لاہور، نومبر 2017ء
[3]    ان قانونی و عدالتی مراحل کی تفصیل کے لئے دیکھیں: ماہنامہ ’لولاک‘ ملتان، مئی 2018ء: ص 23 تا 46، خطاب: مولانا اللہ وسایا
[5]    4جولائی 2018ء کو 172 صفحات پر مشتمل مفصل فیصلہ سامنے آگیا جس کا اردو ترجمہ کرکے شائع کیا جائے گا۔
[6] مجموع فتاوىٰ ابن تیمیہ:28؍65
[7] أحکام القرآن؛ سورة آلِ عمران، باب فرض الأمر بالمعروف
[8] ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الزَّكَاةِ (بَابُ وُجُوبِ الزَّكَاةِ)، رقم 1395
[9] ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء از شاہ ولی اللّٰہ دہلوی :1؍5
[10]           الاحکام السلطانیہ از امام ابو الحسن ماوردی: 15 بحوالہ موسوعہ فقہیہ، کویت: 25؍304
[11]           جیساکہ محترم جسٹس افضل ظلہ نے سپریم کورٹ شریعت بنچ میں 55 قوانین کو معطل کرتے ہوئے حكومت كی طرف سے نئے قوانین نہ آنے کی صورت میں قصاص ودیت کے اسلامی قوانین کو ہی جاری کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔
[12] پی ایل ڈی2015ء، سپریم کورٹ 401
[13] مزيددیکھئے کتاب ’ناموسِ رسالت ؛ اعلیٰ عدالتی فیصلہ ‘از جسٹس شوکت عزیز صدیقی: ص 147، 149تا 167،طبع نومبر2017ء
[14]           26؍اپریل 1984ء کو صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے آرڈیننس نمبر 20’امتناع قادیانیت آرڈیننس‘ جاری کیا۔
[15]           الفضل، 21؍ اگست 1917ء ... ’خلیفہ‘ صاحب کی تقریر’طلبہ کو نصائح‘
[16]           الفضل، 30؍ جولائی 1930ء ... ’خلیفہ‘ صاحب کی تقریر بحوالہ ’قادیانی مسئلہ ‘ از سید ابو الاعلیٰ مودودی : ص 27، طبع 1992ء
[17]           مرزا غلام احمد قادیانی کی کتب، ملفوظات اور اشتہارات پر مشتمل مستند مجموعہ ’روحانی خزائن‘: 18؍ 207
[18]           ’’میرا وجود انہی کا وجود ہوگیا۔‘‘ نیز ’’جس نے مجھ اور محمد مصطفیٰ میں فرق کیا، تو اس نے نہ تو مجھے پہچانا اور (نہ اسکو )جواس نے دیکھا۔‘‘
[19]           کلمۃ الفصل: ص 158، مؤلفہ: مرزا بشیر احمد قادیانی، بحوالہ ریویو آف ریلی جنز، قادیان، مارچ واپریل 1915ء
[20]           قاضی محمد ظہور الدین اخبار بدر ،نمبر ٤٣، جدول ٢،قادیان ٢٥...؍اکتوبر ١٩٠٦ء
[21]           مجموعہ اشتہارات: 3؍ 275
[22]           روحانی خزائن: 17؍417
[23]           نزولِ مسیح: ص 4... مزید تفصیل کے لئے دیکھیں : ’قادیانیوں کے خلاف عدالتی فیصلے‘: ص 505
[24]           کلمۃ الفصل: ص 158، مؤلفہ: مرزا بشیر احمد قادیانی، بحوالہ ریویو آف ریلی جنز، قادیان، شماره مارچ واپریل 1915ء
[25]           روحانی خزائن: 5؍ 547
[26]           روحانی خزائن: 4؍ 53، نجم الہدی
[27]           روحانی خزائن: 9؍31
[28]           دیکھیں کتاب:’قادیانیوں کے مکمل بائیکاٹ پر متفقہ فتویٰ‘ ،ناشر مرکز سراجیہ، غالب مارکیٹ ، لاہور ، طبع نومبر 2011ء
[29]           قَالَ "لَا أَجْلِسُ حَتَّى أَقْتُلَهُ قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ﷺ "(صحیح بخاری: 7157)
[30]           مرتد کی سزا کے دو درجے ہیں: اگر وہ عامی شخص ہے تو اس کو خالص اسلام کی دعوت دینی چاہیے، ان کے شبہات كو رفع كرنا چاہیے ، جیساکہ نبی کریمﷺ نے مسیلمہ کے دو مرتد قاصدوں کو كلمہ اسلام کی دعوت   دی (مسند احمد: رقم 3709)اور اگر وہ مرتدوں کا قائد ؍ داعی یعنی زندیق ہے ، اور اپنی گمراہی کو ہی حق سمجھنے پر مصر ہے تو اس کو توبہ کی دعوت کی بھی ضرورت نہیں۔ اور نہ اس کی توبہ کا کوئی اعتبار ہے، الا یہ کہ گرفتار ہونے سے پہلے توبہ کرچکا ہو۔ (الصارم المسلول مترجم:ص 469، ناشر مکتبہ قدوسیہ، لاہور)
[31]           الصارم المسلول از شیخ ابن تیمیہ: ص 359
[32] بعض لاہوری قادیانی مرزا کو صرف مصلح قرار دیتے ہیں، لیکن ایسے شخص کو مصلح ماننا جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہو، بھی ناجائز ہے۔
[33]           عالمی فقہ اکیڈمی ، جدہ کی دوسری کانفرنس 22تا 28 دسمبر 1985ء کے موقع پر پہلے سیشن کی تیسری قرارداد کا متن
[34]           فیصلہ سپریم کورٹ 1994ء، جسٹس عبد القدیر چودھری مرحوم ... بحوالہ ’قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے‘:ص 201
[35]           فیصلہ لاہورہائیکورٹ ، پی ایل ڈی 1992، لاہور
~