Tital September 2017 Final 3-01

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

عالمی نشریاتی ادارے اوریورپی حکومتیں ، امریکی جھوٹ   کی تصدیق کرتے ہیں!!
سید المرسلین نبی مکرّمﷺ کا ارشاد ِ گرامی ہے:
«يُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا». فَقَالَ قَائِلٌ: وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «بَلْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ، وَلٰكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ! وَلَيَنْزَعَنَّ اللهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْـمَهَابَةَ مِنْكُمْ، وَلَيَقْذِفَنَّ اللهُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنَ»، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ! وَمَا الْوَهْنُ؟ قَالَ: «حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْـمَوْتِ»[1]
” ایسا وقت آنے والا ہے کہ دوسری اُمتیں تمہارے خلاف ایک دوسرے کو بلائیں گی جیسے کہ کھانے والے اپنے پیالے پر ایک دوسرے کو بلاتے ہیں ۔“ تو کہنے والے نے کہا : کیا یہ ہماری ان دنوں قلت اور کمی کی وجہ سے ہو گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا:” نہیں ،بلکہ تم ان دنوں بہت زیادہ ہو گے ، لیکن جھاگ کی طرح ہو گے جس طرح کہ سیلاب کا جھاگ ہوتا ہے ۔ اللّٰہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہاری ہیبت نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں وَهْن ڈال دے گا ۔ “ پوچھنے والے نے پوچھا : اے اللّٰہ کے رسول ! وَهَن سے کیا مراد ہے ؟ آپ ﷺنے فرمایا:” دنیا کی محبت اور موت كو ناپسند كرنا۔“ یعنی اپنے اپنے دنیوی مفادات کی فکر اور آخرت کو بھول جانا۔
انہی سالوں میں ملّتِ اسلامیہ پر کفر کی سب طاقتیں ٹوٹ پڑی ہیں، عراق وشام میں امریکہ اور فرانس کے بعد روس اور برطانیہ نے مسلمانوں کے خون سے بدترین ہولی کھیلنا شروع کر رکھی ہے۔ اسی سال 2017ء کے آغاز میں شام کے شہر حلب میں روسی افواج ، سال کے وسط میں رِقَہ میں امریکی وبرطانوی فوجوں اور عراق میں موصل کی جنگ میں امریکی اَفواج نے بدترین بمباری اور قتل وغارت کے بعد مسلمانوں کے جان ومال اور عزت وحرمت پامال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ان کے ساتھ عراق وشام کی کٹھ پتلی ظالم حکومتوں کی سرکاری افواج، کردی وقبائلی طاقتیں اور ایران کی شیعہ افواج اور ملیشائیں زمینی پیش قدمی کرتی ہیں، جبکہ عالمی افواج ان کی تربیت، منصوبہ بندی اور بمباری کے ذریعے ان کا راستہ صاف کرتیں اور جیت کے نتائج کو سمیٹنے اور پھر ان میں مزید پھوٹ ڈالنے کے لئے آ ن موجود ہوتی ہیں۔
اسلامی تہذیب کے ان نمایاں شہروں کو تباہ وبرباد،ان کی تاریخی مساجد اور تہذیبی مراکز کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ ان اسلامی شہروں میں عالمی قوتیں ایک طرف تباہی وہلاکت کے پروانے بانٹتی ہیں تو دوسری طرف اقوامِ متحدہ اور صہیونیت کے عالمی امدادی ادارے انسانی حقوق کے نام پر ان شہروں کے باہر اپنے کیمپ لگا کر مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کو جمع ہوجاتے ہیں۔ اپنے مفادات کی جنگ کو خانہ جنگی، دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ کانام دے کرہلاکت وتباہی کا جواز پیدا کرلیا جاتا ہے۔فرانس اور برطانیہ میں آئے روز بڑھنے والی دہشت گردی اور فسادات کی وجہ انہی فوجی طاقتوں کا یہی وہ ظلم ہے جس کا ادنیٰ ردّعمل وہ اپنے معاشروں میں دیکھ رہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہلاکت بانٹنے والے کبھی خود اپنے ضمیر اور ماحول میں پرامن نہیں رہ سکتے، یہ اللّٰہ کی طرف سے بہت چھوٹا مکافاتِ عمل ہے اور ظالموں کا اصل بدلہ روز ِمحشر ہوگا۔
اکیسویں صدی کے متمدن دور میں ہنستے بستے، جدید وسائل سے بھرپور شہروں کو تباہ وبرباد کرکے کھنڈرات بنا دیا جاتا ہے، ان بدقسمت شہروں کے باسی جدید سوشل میڈیا پر آخری صدائیں دیتے ہیں کہ اس کے بعدممکن ہے کہ یہاں سے کوئی اور فریاد بلند نہ ہوسکے۔ ا س کی المناک تفصیل جاننے کے لئے شام کے سب سے زیادہ آبادی والے شہر حلب اور عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل کی بربادی کا ایک نقشہ دیکھنا کافی ہوگا۔ ان شہروں کی بلند وبالا عمارتیں، متعدد منزلہ پلوں سے مزین شاہراہیں ، زمینی وسائل سے مالا مال اور تہذیب وتمدن کے عین وسط میں موجود ہونا ان کے کوئی کام نہ آسکا۔ دنیا بھر کے میڈیا پر بمباری سے پہلے اور کامیابی کے بعد شہر کی صورتحال کی تقابلی تصاویر جا بجا پیش کی جارہی ہیں جو اس ہلاکت کا ایک ادنیٰ منظر پیش کرتیں اور خون کے آنسو رلاتی ہیں کہ مسلمان بچوں، عورتوں اور مردوں کا خون کتنا اَرزاں ہے۔ان شہروں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور ہجرت یا متاثر ہوجانے والے تو شمار سے باہر ہیں۔ میڈیاپر 2003 سے تاحال جنگی نقصان کو شمار کرنے اور جائزے لینے والے دسیوں ادارے[2] موجود ہیں، 2011ء یعنی نام نہاد عرب سپرنگ سے پہلے تک کی 8 سالہ جنگ ہى میں عالمی ادارے عراق میں 8 لاکھ سے زیادہ ہلاکتوں کو رپورٹ کررہے تھے، اس کے بعد تو شام کی جنگ، اور پھر داعش کے غلبے کے بعد اتحادی افواج کی بمباری کے نتیجے میں مرنے والے مسلمان 25، 30 لاکھ سے کیا کم ہوں گے اور اس جنگ نے دو ملکوں کے عوام کی زندگی تباہ وبرباد کر دی، لاکھوں خاندان ہجرت کرگئے اور ہزاروں انسانی المیوں نے جنم لیا۔ مذکورہ عالمی ادارے اس تعداد کو بہت کم کرکے دکھاتے ہیں۔
یہ ظلم ایک دو اَقوام نے نہیں کیا بلکہ 50 سے زیادہ ممالک کی اتحادی افواج کا کیا دھرا ہے، اور ان انسانی مظالم پر کوئی کفِ افسوس بھی نہیں ملتا اور اللّٰہ کی گرفت سے بھی نہیں ڈرتا۔کبھی اقوام متحدہ دہائی دیتی ہے کہ اتحادی افواج کا فلاں حملہ جنگی قوانین سے تجاوز اور کھلم کھلا نہتے افراد پر فائرنگ کا سبب ہے اور امریکی اس بربریت کو قبول بھی کرلیتےہیں،[3] لیکن کون ہے جو اس ظلم کا ہاتھ روکے؟ کبھی شہریوں کو عمارت کے اندر رہنے کی تلقین کرکے، پوری عمارت اور جیتے جاگتے انسانوں پر بم گرا دیا جاتا ہے۔ صدام حکومت پر کیمیائی ہتھیاروں کا الزام لگانے والوں کو آج اقوام متحدہ دہائی دیتی ہے کہ وہ خود مَوصل میں کیمیائی اور ممنوع ہتھیار استعمال کررہےہیں [4]جس کے برے اثرات دہائیوں تک جائیں گے۔ جب تاریخی شہر ہی تباہ وبرباد ہوگئے، ان کے باسی انسانوں کی حرمت نہ رہی تو وہاں کے تاریخی آثار کی حفاظت کیسی؟ یہی وجہ ہے کہ ان معروف شہروں میں صدیوں پرانے تاریخی آثار بھی بمباری کا نشانہ بن گئے اور اتحادی افواج اس کا الزام مقابل مزاحمت کرنے والوں پر دھر دیتے ہیں۔مغرب سے مرعوب لوگ اہل مغرب کے جانوروں کے حقوق کا بہت ڈھنڈورا پیٹتے ہیں، لیکن مغربی افواج مسلمانوں کو اپنے جانوروں جتنی اہمیت دینے کو بھی تیار نہیں ہیں۔
عراق وشام میں پانچ بڑی عسکری طاقتیں:امریکہ، روس، اسرائیل، ایران اور ترکی اپنے اپنے سٹریٹجک مفادات اور جنگ کے بعد کے فوائد میں حصہ پانے کے لئے اس کی چیر پھاڑ میں مصروف ہیں ۔ روس کو بشار حکومت کی کمزوریوں کو ہاتھ میں کرکے مسلمانوں کے خون ومال کی بہتی گنگا سے ہاتھ دھونے ہیں تو امریکہ کو ایران سے فائدہ اُٹھاکراس کو قابومیں بھی رکھنا ہے، ترکی کو کردوں کو کنٹرول کرنا ہے کہ وہ اس سے ملحقہ علاقے میں کرد ریاست بنانے میں ہی کامیاب نہ ہوجائیں، اور اسرائیل مسلمانوں کو اس قد رکمزور کرنا چاہتا ہے کہ وہ اس کی طرف منہ اُٹھا کر بھی نہ دیکھ سکیں، آپس میں ہی الجھتے رہیں اور اس کو اپنے ساتھ ہی جاری جنگ سے کوئی گزند نہ پہنچے۔
کفر کی طاقتوں کی مدد کرنے والی کبھی بشار الاسد کی افواج ہوتی ہیں، اور کبھی عراقی فوج۔ شیعہ ملیشائیں، ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور مفاد پرست کرد قبائل امریکہ کے حاشیہ نشین بن کر ہلاکتیں بانٹتے ہیں ۔ایک طرف امریکہ 7اپریل 2017ء کو شام کے عسکری مراکز پر 59 کروز میزائل کے ذریعے باضابطہ جنگ اور تباہی وبربادی مسلط کرتا ہے تو دوسری طرف امریکہ کے اشاروں پر چلنے والے برطانیہ کی فوجیں رقہ میں بشار کی افواج کی قیادت کررہی ہوتی ہیں۔پھر یہی امریکہ بشار فوج کے ہمراہ ،اکتوبر 2017ء میں رقہ کو بدترین بمباری سے صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیتا ہے۔ روسی میجر جنرل ایگور کونسشی نوف کا کہنا تھا
’’رقہ کو ڈریزڈن شہر کی[جنگ عظیم دوم] 1945ء والی قسمت ملی ہے جس كا امریکی بمباری سے صفایا ہو گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ مغرب کو اب رقہ میں مالی امداد پہنچانے کی بہت جلدی ہے کیونکہ وہ وہاں ہونے والے جرائم کی شہادتوں کو چھپانا چاہتے ہیں۔‘‘[5]
ایک طرف امریکہ ایران کو دہشت گرد اور شیطانی طاقت کی دہائی دیتا ہے تو دوسری طرف موصل میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی سپاہ اور اس کی تائید یافتہ شیعہ تنظیمیں امریکی قیادت میں پیش قدمی کررہی ہوتی ہیں۔عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل میں کتنی ہلاکت ہوئی؟ بی بی سی کی زبانی:
’’موصل کی جنگ کو دوسری جنگِ عظیم کے بعد شہری علاقے میں ہونے والی سب سے بڑی لڑائی سمجھا جا رہا ہے۔لڑائی کے اختتامی ہفتوں میں پانچ ہزار سے زیادہ مقامات تباہ ہوئے۔ ان میں سے 98 فیصد رہائشی عمارتیں تھیں جو زیادہ تر شہر کے قدیمی علاقے میں واقع تھیں۔ لڑائی کے دوران 130 کلومیٹر طوالت کی سڑکیں بھی تباہ ہوئیں جن میں سے 100 کلومیٹر سڑکیں مغربی موصل کی تھیں۔ اتحادی افواج کے طیاروں کی بمباری سے دریائے دجلہ پر بنائے گئے وہ پانچوں پل بھی تباہ ہو گئے جو شہر کے مشرقی اور مغربی علاقوں کو ملاتے تھے۔ شہر کا ہوائی اڈہ، ریلوے سٹیشن اور ہسپتالوں کی عمارتیں بھی کھنڈرات کی شکل اختیار کر گئی تھیں۔عراقی حکومت کے اندازوں کے مطابق موصل میں صحتِ عامہ کی 80 فیصد سہولیات تباہ ہو چکی ہیں۔ موصل عراقی صوبے نینوا میں صحت کی سہولیات کا سب سے بڑا مرکز تھا۔‘‘[6]
اتحادی ظالم اپنے منافقانہ حملوں اور چالبازانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے دنیا کو دھوکہ دیتے ہیں، دراصل کفر سارےکا سارا ایک ہی ملت ہے، اور اس کے اعوان وانصار کا انجام بھی ان کے ساتھ ہی ہے۔افسوس کہ صہیونی میڈیا اوّل تو ہلاكتوں کی یہ خبریں نشر نہیں کرتا، اور اگر نشرکربھی دے تو اس میں حقائق اور خیر وشر کی قوتوں کا اس قدر مسخ شدہ اور خلافِ حقیقت تذکرہ ہوتا ہے کہ انتشار اور مغالطوں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
عراق کی جنگ کی حقیقت
آج عراق میں بغداد حکومت کی فتح وکامرانی کی بات ہوتی ہے، اورہمارا مغرب نواز میڈیا 14 سال بعد فتح کامل اور امن وسکون کی نوید سناتاہے۔ یہاں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ امریکہ وبرطانیہ کی قیادت میں اتحادی افواج، جس نے صدام حسین کے عراق پر تباہ کن یلغار کی، ان دونوں ممالک کے اپنے تحقیقی ادارے عراق پر اس جارحیت کو سراسر ظلم قرار دیتے ہیں۔ امریکہ نے جن کیمیائی ہتھیاروں کی بنا پر عراق کے خلاف فوجی اقدام کیا تھا، دنیا بھر میں یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا یہ بہانہ سراسر جھوٹ اور عالمی سازش تھی، اور صدر بش نے جھوٹ بول کر اپنے مادی مفادات اور مشرقِ وسطی کو جنگ میں جھونکنے کے لئے عراق پر عسکری جارحیت کرکے اس کو تباہ وبرباد کیا۔ آج یہ فتح اس ظلم ودرندگی کی تکمیل کی خوشی میں ہے جس کے ہر ہر قدم سے دہشت وبربریت ٹپک رہی ہے اور اس کا سارا انحصار جھوٹ اور منافقت پر ہے۔
عراق پر مارچ 2003ء میں ہونے والی اس امریکی یلغار کی اصل تائید برطانیہ نے کی، لیکن دونوں ممالک کی پارلیمنٹوں کے اندر اس کے خلاف شدید مزاحمت ہوئی۔ آخر کار برطانوی پارلیمنٹ کو اپنے وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے اس اقدام کی تفتیش کے لئے 2008ء میں ایک کمیشن قائم کرنے میں کامیابی ملی جس کی رپورٹ سات برس کی مسلسل تحقیق اور تاخیری حربوں سے نمٹنے کے بعد جولائی 2016ء کو اس نتیجے کے ساتھ سامنے آئی کہ ’’برطانیہ کی عراق پر یلغار میں امریکہ کا ساتھ دینا سراسر زیادتی اور ظلم‘‘ ہے:
1.  26 لاکھ الفاظ پر مشتمل، اور دس لاکھ پاؤنڈ کے اخراجات کے نتیجے میں تیار ہونے والی برطانیہ کی سرکاری انکوائری کمیشن کے چیئرمین سرجان چلکوٹChilkot نے یہ قراردیا کہ
’’عراق کے وسیع پیمانے پر تباہی والے ہتھیاروں سے درپیش خطرات کی سنجیدگی کے بارے میں رائے کو جس یقین کے ساتھ پیش کیا گیا تھا ،اسے ثابت نہیں کیا جاسکا۔ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جن حالات کی بنا پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ برطانوی فوجی کارروائی کے لیے قانونی جواز موجود ہے، وہ کہیں سے اطمینان بخش نہیں تھے۔جمع کی گئی خفیہ معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عراق کیمیائی اور بائیولوجیکل ہتھیار بنانے یا جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے تھا۔
جنگ کے قانونی جواز پر کوئی بحث نہیں کی گئی اوربرطانیہ نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اختیارات کی اہمیت کو کم کیا۔
ٹونی بلیئر نے صدر بش کو لکھا کہ ’’جو کچھ بھی ہو ہم آپ کے ساتھ ہیں۔‘‘[7]
یاد رہے کہ اس کمیشن کے سامنے دوبار برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور سو سے زیادہ گواہوں کو بیانات کے لئے طلب کیا گیا اور امریکی صدر جارج بش اور برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی گفتگو کی 130 ریکارڈنگز کو بھی سامنے رکھا گیا، جن کے اصل متن کو دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہونے کے خدشے کے پیش نظر 30 برس سے پہلے شائع نہیں کیا جائے گا۔
برطانیہ کے اس ناجائز اقدام کی مذمت ، اپریل 2003ء میں صدام حکومت پر جارحیت کے وقت برطانوی نائب وزیر اعظم جان پریسکوٹ نے بھی کی، بی بی سی کو انٹرویو میں آپ کہتے ہیں:
’’برطانیہ اور امریکہ کا عراق پر حملہ غیرقانونی تھا۔‘‘برطانوی اخبار ’سنڈے مرر‘ میں اُنھوں نے لکھا کہ ’’انھیں تاحیات اس تباہ کن فیصلے کے ساتھ زندگی بسر کرنی ہو گی۔‘‘
لارڈ پریسکوٹ نے کہا کہ وہ اب ’انتہائی غم و غصے‘ کی حالت میں اقوامِ متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان سے متفق ہیں کہ ’’یہ جنگ غیرقانونی تھی۔‘‘
انھوں نے لیبر پارٹی کے جیرمی کوربن کی اپنی پارٹی کی جانب سے معافی مانگنے پر تعریف کی ۔
لارڈ پریسکوٹ نے یہ بھی لکھا کہ مارچ میں حملے سے قبل امریکی صدر جارج ولیم بش کے نام برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کا پیغام کہ ’’چاہے کچھ بھی ہو، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔‘‘ تباہ کن تھا۔
’’کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب ہم جنگ میں جانے کے فیصلے کے بارے میں نہیں سوچتے۔ ان برطانوی فوجیوں کے بارے میں جنھوں نے اپنی زندگی دی اور اپنے ملک کے لیے زخم اُٹھائے۔ ان پونے دو لاکھ لوگوں کی موت کے بارے میں جو صدام حسین کو ہٹانے اور ہمارے پینڈورا باکس کھولنے کے نتیجے میں واقع ہوئیں۔‘‘[8]
2.  ہالینڈ کے اسی مسئلے پر قومی تحقیقاتی کمیشن کی رائے بھی اس سے مختلف نہیں، بلکہ یہ کمیشن تو ہالینڈ کے اپنی افواج بھیجنے کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں سے تجاوز بھی قرار دیتا ہے۔جنوری 2010ء میں ڈویچے ویلے نامی مستند جرمن نیوز ایجنسی میں چھپنے والی رپورٹ بتاتی ہے کہ
’’بین الاقوامی قانون کے تحت 2003ء میں عراق پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملے کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا۔ ڈَچ آزاد کمیشن کو امریکی سربراہی میں لڑی جانے والی عراق جنگ میں ہالینڈ کے کردار کی چھان بین کا کام سونپا گیا تھا۔ اس تحقیقاتی پینل کے مطابق ’دی ہیگ‘ نے عراق حملے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔
تحقیقاتی کمیشن کے چیئرمین ولی برورڈ ڈیوڈز نے دی ہیگ میں صحافیوں کو بتایا کہ بین الاقوامی قوانین عراق جنگ کے لئے کوئی بنیاد فراہم نہیں کرتے تھے تاہم ان کے مطابق ہالینڈ حکومت نے’’اس غیرمقبول جنگ کی عسکری نہیں بلکہ سیاسی حمایت کی۔‘‘ کمیشن کے مطابق ٹھوس بنیاد کی عدم موجودگی کے باوجود جارج بُش کے جنگ کے فیصلے کی حمایت کی گئی۔
کمیشن کے چیئرمین نے مزید بتایا کہ منطقی طور پر اقوام متحدہ کی قرار داد نمبر 1441 کے الفاظ کی تشریح اُس طرح سے نہیں ہو سکتی ہےجس طرح عراق میں امریکی فوجی مداخلت کے وقت ہالینڈ حکومت نے کی۔’’اقوام متحدہ کی قرارداد 1441 کی تشریح یہ نہیں ہے کہ سلامتی کونسل کے چند رکن ممالک کونسل کی قرار دادوں کے اطلاق کے لئے کسی دوسرے ملک کے خلاف فوجی کارروائی کریں۔‘‘
سلامتی کونسل نے 2002ء میں یہ قرار داد منظور کرتے ہوئے عراق کو ’تخفیفِ اسلحہ کے ضوابط پورے کرنے کا آخری موقع‘ فراہم کیا تھا۔‘‘[9]
3.  خود جارج بش نے جب اپریل 2003ء میں عراق پر فوج کشی کا آغاز کیا تو اس پر امریکی کانگرس میں شدید تنقید ہوئی اور جارج بش کو جھوٹ درجھوٹ کا مرتکب قرار دیا گیا...2003ء میں بی بی سی کی رپورٹ :
’’بی بی سی کو پتہ چلا ہے کہ سی آئی اے نے امریکی صدر جارج بُش کی طرف سے عراق کے ایٹمی عزائم کو جنگ کا جواز بنانے سے پہلے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ یہ دعوے غلط ہیں۔سی آئی اے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ عراق کی نائجر سے یورینیم خریدنے کی کوشش کی اطلاعات کے غلط ہونے کے بارے میں شک کا اظہار صدر جارج بُش کے کانگرس سے اہم خطاب سے کم از کم دس ماہ پہلے کردیا گیا تھا۔
منگل کے روز وائٹ ہاؤس نے پہلی بار با ضابطہ طور پر اعتراف کیا کہ عراق کی نائجر سے یورینیم خریدنے کے بارے میں اطلاع غلط ثابت ہوئی تھی اور صدر کے کانگرس سے خطاب میں اس کا ذکر نہیں ہونا چاہیے تھا۔تاہم سی آئی اے کی فراہم کردہ معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی انتظامیہ کو صدر بش کی تقریر سے بہت پہلے، نہ کہ صدر بُش کے خطاب کے بعد پتہ چلا تھا کہ عراق کے بارے میں یورینیم کی خرید کا دعویٰ غلط ہے۔سی آئی اے کا کہنا ہے کہ ایک سابق امریکی سفیر نے مارچ 2002ء میں عراق کے بارے میں اس خبر کو غلط قرار دیا تھا اور یہ بات صدر بُش کے خطاب سے بہت پہلے وائٹ ہاؤس سمیت مختلف سرکاری محکموں کو بتا دی گئی تھی۔ایک سابق امریکی سفیر جوزف ولسن بیان دے چکے ہیں کہ وہ عراق کے خلاف الزامات کی تحقیق کرنے افریقہ گئے تھے اور انہیں اس بابت کوئی ثبوت نہیں ملا۔برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور امریکی صدر جارج بش دونوں نے عراق کی طرف سے نائجر سے یورینیم خریدنے کا ذکر کیا تھا لیکن جن دستاویزات کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا گیا وہ جعلی ثابت ہوئیں۔
برطانوی وزیر اعظم کو برطانوی ارکان پارلیمان کی طرف سے عراق کے خلاف جنگ کے حق میں تیار کی جانے والی دستاویزات کےحقیقت پر مبنی ہونے کے بارے میں سوالات کا سامنا ہے۔ امریکہ میں بھی اس بارے میں بتدریج سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
جارج بُش نے جنگ سے پہلے کانگرس میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ
’’برطانوی حکومت کو پتہ چلا ہے کہ صدام حسین نے حال ہی مىں افریقہ سے بڑی مقدار میں یورینیم حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘[10]
مذکورہ بالا خبریں مستند برطانوی اور جرمنی نیوز ایجنسیوں: بی بی سی اور ڈویچے ویلے کی خبروں کے اصل اقتباسات پر مبنی ہیں جن سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ صدر بش نے عراق پر حملہ کرتے ہوئے جن جھوٹے الزامات کا سہارا لیا، اس پر امریکی سی آئی اے پہلے ہی اعتراضات عائد کرچکی تھی، جب صدر بش سے کچھ جواب بن نہ پڑا تو انہوں نے ٹونی بلیئر کی برطانوی حکومت کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا کہ ان کے پاس نائجر سے عراق کے کیمیائی ہتھیاروں کی خریداری کے ثبوت موجود ہیں۔ لیکن اس بات کو تسلیم نہ کرتے ہوئے نائجر حکومت نے برطانوی حکومت پر مقدمہ کردیا، اور یونان میں وکلا کی ایک تنظیم نے بھی اس سلسلے میں عالمی عدالت انصاف میں کیس دائر کیا:
’’ بی بی سی کی رپورٹ ...بلیئر پر امریکہ کی بے لاگ تقلید کا الزام لگایا جاتاہے۔یونان میں وکلاکا ایک گروپ سوموار کو ہیگ میں قائم جرائم کی عالمی عدالت میں برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور ان کی حکومت کے خلاف عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا مقدمہ دائر کر رہا ہے۔ان وکلا کا کہنا ہے کہ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر، ان کی حکومت اور دوسرے اعلیٰ حکام نے عراق پر حملے میں عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ وکلاکے مطابق عراق پر حملے کے لیے جن قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے ان میں اقوام متحدہ کا منشور، حقوق انسانی کا جنیوا کنونشن اور ہیگ کی عالمی عدالت کے قوانین شامل ہیں۔ دوسری طرف خود برطانیہ میں بھی یہی تنازعہ چل رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے عراق پر حملے کے لیے جو الزامات عائد کئے تھے ،ان میں مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا تھا۔
ادھر نائجر کے وزیراعظم نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اس بات کے ثبوت مہیا کریں کہ نائجر نے عراق کو یورینیم فروخت کرنے کی کوشش کی تھی۔امریکہ نے بھی یہ الزام لگایا تھا کہ عراق کے معزول صدر صدام نے ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے نائجر سے یورینیم خریدنے کی کوشش کی تھی تاہم بعد میں اس الزام کو جعلی دستاویزات پر مبنی قرار دے دیا تھا۔ جبکہ برطانیہ مصر تھا کہ اس کے پاس اس بات کے اپنے ثبوت ہیں۔‘‘[11]
4.  عراق پر ناجائز حملہ کا معاملہ اس قدر واضح ہے کہ اپنی افواج کے اس حملہ میں شرکت کرنے پر آسٹریلیا کے وزیر اعظم جان ہاورڈ نے باضابطہ معافی مانگی۔ 12؍ جولائی 2003ء کو بی بی سی کی رپورٹ کے الفاظ یہ ہیں:
’’آسٹریلیا کے وزیراعظم جان ہاورڈ نے عراق پر جنگ کے دوران غلط خفیہ رپورٹوں کی بنیاد پر امریکی سالاری میں آسٹریلوی دستوں کی شمولیت کو جائز قرار دینے پر معافی مانگی ہے۔
ہاورڈ نے پارلیمان سے خطاب کے دوران عراق کے لیے فوج روانہ کرنے کے لیے ان دعوؤں کا حوالہ دیا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ عراق نے ایک افریقی ملک نائجر سے یورینیم خریدنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم عراق پر عائد کردہ یہ تمام الزامات اب غلط ثابت ہو چکے ہیں۔
دراصل ہاورڈ کو خفیہ امور سے براہِ راست مطلع کرنے والا نیشنل اسیس منٹس کا دفتر پہلے ہی آگاہ تھا کہ عراق سے متعلق موصول شدہ اطلاعات شکوک پر مبنی ہیں لیکن یہ دفتر وزیراعظم ہاورڈ کو اس بات سے باخبر رکھنے میں ناکام رہا تھا۔نیشنل اسیس منٹس کے دفتر کے علاوہ دیگر جاسوس ایجنسیاں بھی حکام کو اس بات سے باخبر نہیں رکھ سکیں۔
جان ہاورڈ نے ملکی پارلیمان کو گمراہ کرنے پر معافی طلب کی اور کہا کہ انہوں نے دانستہ طور پر پارلیمان سے غلط بیانی نہیں کی تھی۔تاہم یہ بات انتہائی شرمناک ہے کہ کئی ماہ سے آسٹریلوی خفیہ ایجنسیوں کے علم میں ہونے کے باوجود وزیراعظم ہاورڈ کو اس بات سے آگاہ نہیں کیا گیا کہ عراق سے متعلق افریقی یورینیم حاصل کرنے کے دعوے مشکوک تھے۔‘‘
5.  عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا سکنے والے ہتھیاروں کا سراغ لگانے پر مامور اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کے سربراہ ہانس بلکس اور عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی کے سربراہ محمد البرادعی کا عراق کے بارے میں موقف ملاحظہ کریں۔ ہانس کے ساتھ امریکی حکومت نے کیسا بدترین سلوک روا رکھا، اس کی تفصیل بی بی سی کی اس رپورٹ میں ہے:
’’اقوام متحدہ کے اسلحہ کے معائنہ کاروں کے سربراہ ہانس بلکس نے امریکی وزارتِ دفاع کے کچھ عناصر پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ’حرامزادے‘ ان کی تین سالہ سربراہی کے پورے دور میں ان کی جڑیں کاٹتے رہے۔
نیویارک میں واقع اقوام متحدہ کی اکتیس منزلہ عمارت میں اپنے دفتر میں برطانوی اخبار دی گارڈین کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ہانس بلکس اتنے بپھرے ہوئے تھے کہ اپنے اعلیٰ عہدے کے لحاظ سے سفارتی آداب کى نفی کرتے ہوئے انہوں نے شدید غصّہ کی حالت میں واشنگٹن اور عراق دونوں جگہ موجود اپنے مخالفین کا تذکرہ گالم گلوچ سے کیا۔
ہانس بلکس نے الزام عائد کیا کہ ’واشنگٹن میں مجھ سے حسد کرنے والے موجود ہیں جنہوں نے ساری گڑبڑ پھیلائی۔ یقیناً اُنہوں نے ہی ذرائع ابلاغ میں گھٹیا خبریں چھپوائیں۔ہانس بلکس نے مزید الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ بش انتظامیہ ان کے معائنہ کاروں پر دباؤ ڈالتی رہی کہ وہ اپنی رپورٹوں میں مزید پھٹکارے جانے والی زبان استعمال کریں۔
گزشتہ نومبر میں جب وہ چار سال کے وقفے کے بعد ایک بار پھر نئے سرے سے حساس ہتھیاروں کے معائنے کے لئے عراق پہنچے تو بھی امریکی محکمۂ دفاع کے عناصر یہ کہہ کہہ کر اس کام کے لئے عمر گزاردینے والے ماہر کی چمڑی ادھیڑتے رہے کہ وہ اس کام کے لئے بدترین انتخاب ہیں۔
ممکن تھا کہ عراقی حکومت ہتھیاروں سے متعلق اقوام متحدہ کی کسی قرارداد پر عمل درآمد کرتی لیکن ایسا صرف اس لئے ہوا کہ علاقے میں دولاکھ امریکی فوج موجود تھی۔ لیکن جیسے جیسے عراق پر امریکی حملے کا وقت قریب آیا، ان کے معائنہ کاروں پر عراق کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے کے لئے دباؤ پڑنا شروع ہو گیا۔‘‘[12]
6.  عراق پر امریکی جارحیت عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے: ہانس بلکس
’’اقوام متحدہ کے سابق اسلحہ انسپکٹر ہانس بلکس نے زور دے کر کہا ہے کہ عراق پر امریکہ کا حملہ غیر قانونی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی تھی ۔ ہانس بلکس نے صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ دنیا کے اکثر ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ عراق پر امریکہ کا حملہ اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی تھی ۔ اقوام متحدہ کے منشور میں رکن ممالک کو اپنے خلاف ہونے والی جارحیت کے مقابلے کی اجازت دى گئی ہے لیکن برطانیہ اور امریکہ کو صدام کی جانب سے حملے کا خطرہ درپیش نہیں تھا ۔ ہانس بلکس نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے كہا کہ ’’اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بھی عراق پر امریکہ اور برطانیہ کے حملے کے خلاف تھی، اور کہا عراق پر حملے کا کوئی قانونی جواز نہیں تھا ۔‘‘ ہانس ،محمد البرادعی سے پہلے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے سولہ سال تک سربراہ رہ چکے ہیں، اس لئے وہ عراق کے فوجی ہتھیاروں کے معاملے سے آگاہ تھے۔ وہ صراحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ عراق میں عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی ایک ہتھکنڈہ تھا جس کو امریکہ اور برطانیہ نے عراق کے خلاف جارحیت کے سلسلے میں رائے عامہ کو دھوکہ دینے کے لئے استعمال کیا ۔ ہانس بلکس نے یہ بھی کہا ہے کہ عراق میں القاعدہ کے جنگجو نہیں تھے بلکہ عراق پر امریکی حملے کے بعد القاعدہ اور بعض دوسرے دہشت گرد گروہ عراق میں داخل ہوئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عراق پر امریکی حکومت کے حملے کے بعد دہشت گردی کو فروغ ملا ۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے عراق کی توانائی کے ذخائر اور تیل تک رسائی کے پیش نظر عراق پر حملہ کیا ۔ اب عراق پر امریکی حملے کے خفیہ مقاصد پہلے سے زیادہ کھل کر سامنے آچکے ہیں ۔ اور عالمی رائے عامہ امریکی صدر جارج بش پر جھوٹ بولنے اور دہشت گردی کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا الزام لگا رہی ہے ۔ عالمی رائے عامہ کا خیال یہ ہے کہ بش پر عراق میں جنگی جرائم انجام دینے کے الزام میں مقدمہ چلایا جانا چاہئے ۔‘‘[13]
7.  عراق پر جارحیت اور قبضے کی وجوہات میں اہم چیز دراصل عراق کے تیل کی دولت ہے۔ عراق میں 1970ء کے جائزے کے مطابق سعودی عرب اور ایران کے بعد سب سے زیادہ تیل کے ذخائر پائے جاتے ہیں، لیکن 2003ء سے پہلے کے 15 سالوں میں عراقی تیل کی اوسط یومیہ پیداوار ایک لاکھ بیرل سے نہیں بڑھ سکی جبکہ عراق پر امریکی قبضہ کے بعد چھ لاکھ بیرل یومیہ سے تجاوز کرچکی ہے ، اورسعودی عر ب کی 8 لاکھ بیرل اوسط یومیہ پیداوار ہے۔ جب عراق پر امریکی قبضہ ہے تو اس کے فیصلے اور تیل آمدن سے بھی اصل قابض کو ہی مالی فوائد حاصل ہوتے ہیں اور بعید نہیں کہ ’امریکی شیل‘ دراصل عرقی تیل ہی ہو۔اب بھی (نومبر 2017ء )کٹھ پتلی عراقی حکومت کے پیش نظر تباہ ہونے والے شہروں کی بحالی کا کوئی پلان اور منصوبہ نہیں ، نہ اس کے لئے کوئی رقم مختص کی گئی ہے ۔ امریکی اتحاد اور عراقی حکومت نے جنگ کے بعد تباہ ہونے والے شہروں کی بحالی کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس کا آج تک کوئی اجلاس نہیں ہوسکا۔ عراقی سابقہ وزیر خارجہ اور سابق وزیر خزانہ حسین زیباری اس حوالے سے عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی پر شدید تنقید کرتے ہیں کہ وہ فوجی آپریشن تک اس اہم انسانی مسئلے کو مسلسل نظرانداز کررہے ہیں۔ صاف پتہ چلتا ہے کہ عراقی حکومت کی ترجیحات کا فیصلہ امریکہ سے کیا جاتا ہے۔
مذکورہ بالا رپورٹس مغربی اداروں کی ویب سائٹس پر آج بھی موجود ہیں، جو امریکی ظلم کا کھلا ثبوت ہیں۔ ان سے علم ہوتا ہے کہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں موجود دو لاکھ فوجیوں کے ذریعے جنگ شروع کرنے کے لئے کیمیائی ہتھیاروں کا جوجواز تراشا تھا، اس پر سب سے پہلے امریکی سی آئی اے اور امریکی کانگرس میں آواز اُٹھی۔اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ کونڈالیزا رائس نے خود یہاں تک اعتراف کیا کہ جارج جونیئربش کی بات تو غلط ہے تاہم یہ عمداً جھوٹ نہیں بلکہ ان کو غلطی لگی ہے۔ امریکہ نے یہ عذرِ لنگ تراشا کہ امریکی سی آئی اے کو ان الزامات کے غلط ہونے کا علم تھا اور ان کے غلط ہونے کی تحقیق تو امریکی ادارے کرچکے تھے، لیکن یہ بات جارج بش کے علم میں نہ آسکی۔ یہی جواز آسٹریلیا کے وزیر اعظم نے بھی پیش کیا کہ آسڑیلین اداروں کو علم ہونے کے باوجود اُنہیں اس کی خبر نہ ہوسکی۔پھر اپنے جھوٹے موقف کو جواز دینے کے لئے امریکہ نے برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی ناجائز تائید کواستعمال کیا، جنہوں نے نائجر سے کیمیائی ہتھیاروں (یورینیم کی خرید ) کی آمد کا الزام لگایا، لیکن ایک طرف اس الزام کو نائجر حکومت نے چیلنج کردیا تو دوسری طرف عالمی ادارہ انصاف میں اس جرم کے خلاف شکایت بھی دائر کی گئی۔ اس دوران امریکہ اقوام متحدہ کے ہتھیاروں کے نگرانوں کو بھی دھمکاتا رہا،اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کا بھی اس نے استحصال کیا۔ مزید برآں امریکہ کے اس غلط اقدام کو ہالینڈ کے قومی کمیشن اور آسٹریلیا کے وزیر اعظم نے ناجائز قرار دیتے ہوئے اپنی قوموں سے معافی مانگی۔ اب جب سارا انحصار برطانوی وزیر اعظم بلیئرپر تھا تو 2009ء میں شدید اصرار کے بعد برطانوی پارلیمنٹ نے تحقیقاتی کمیشن بنوانے میں کامیابی حاصل کی تو اس کی رپورٹ پر تاخیر ی حربے استعمال کئے گئے ، آخر کار ایک سال قبل برطانیہ نے بھی ٹونی بلیئر کی زیادتی، غیرقانونی اقدام اور ناکافی ثبوتوں کا اعتراف کرلیا۔ اس ساری صورتحال میں کبھی ایسی خبریں بھی آئیں کہ امریکی فوجیوں کو کیمیائی ہتھیار تو ملے ہیں لیکن انہوں نے کسی کو دکھانے سے قبل خود ہی ضائع کردیے۔ تاہم اس طرح کے الزامات اور دعوؤں کوکسی نے قبول نہ کیا ، جس کی تصدیق مختلف ممالک کی باضابطہ رپورٹس آج بھی کرتی ہیں۔ میڈیا ،تہذیب وتمدن اور انسانی حقوق کے اس ’روشن دور‘ میں بھی عراقی مسلمانوں پر ہونے والا یہ ایسا سنگین ظلم ہے جس کی مثال چنگیز و ہلاکو کے دور سے بھی پیش نہیں کی جاسکتی ۔یہ ہے انصاف، امن اور انسانی حقوق کے مغربی نعروں کی حقیقت!!
مارچ سے مئی 2003ء کے دوران ساٹھ دنوں تک جاری رہنے والی جنگ میں آخر امریکہ نے عراق پر غاصبانہ تسلط جما لیا، اور اس کے بعد امریکی غاصب فوج وہاں دو سال تک خود قابض رہی، پھر اسی فوج نے دسمبر 2006ء میں صدام حسین کو عید الاضحیٰ کی صبح تختہ دار پر لٹکا دیا، اس کے بعد امریکیوں نے پہلے خود اور پھر شیعہ حکام کی کٹھ پتلی حکومتیں قائم کردیں جوآج تک مختلف صورتوں میں چلی آرہی ہىں۔ ان کے مقابلے میں جو قوتیں منظم ہوئیں، ( جن کی اصل حقیقت اللّٰہ ہی جانتا ہے )آج عالمی میڈیا ان کو دہشت گرد کہتے ہوئے نہیں تھکتا اور یہی غاصب امریکی حکومت جب اپنی کٹھ پتلیوں کے ذریعے عراقی شہروں پر اپنی حکومت کو مستحکم کرتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ باغی جو دراصل عراق کے مظلوم شہری اور مزاحمت کار ہیں، کو شکست دے دی گئی ہے۔
8.  جب عراق پر امریکہ کا سارا حملہ ہی سرے سے ناجائز ہے، اور امریکہ سمیت برطانیہ، ہالینڈ اور آسٹریلیا اس پر اپنی اپنی پارلیمنٹ سے معافی مانگتے رہے ہیں، تو اس کے نتیجے میں بننے والی امریکی حکومت... جس کی قیادت کی ذمہ داری ’دہشت گردی کے امریکی ماہر‘ جان پریمر کو سونپی گئی تھی... ہی ناجائز اور ظلم درظلم کی داستان ہے۔ لیکن افسوس کہ ’مہذب مغربی دنیا‘ میں انصاف کی نہیں، طاقت اور لاٹھی کی حکومت ہے، اور اسلام ومسلمانوں کا اس دنیا میں کوئی سہارا نہیں۔ بی بی سی کے سیکولر نامہ نگار وسعت اللّٰہ خاں نے مئی2003ء میں عراق کا دورہ کیا تھا، وہ اپنے دورہ کی یاد داشتوں میں لکھتے ہیں:
’’پال پریمر کے آرڈر نمبر2 سے القاعدہ او رداعش نے جنم لیا: آج ٹھیک تیرہ برس بعد جب میں اپنی عراقی یادیں کھنگال رہا ہوں تو یوں لگ رہا ہے کہ صدام حسین لاکھ برا سہی مگر اس کے بوٹوں نے عراقی فالٹ لائنز کو دبا کے رکھا ہوا تھا اور ملک میں ایک جبری امن قائم تھا۔ قابض طاقتوں نے صدام دور کے کلیدی ادارے یک لخت تحلیل کر کے گویا اس دیگ کا ڈھکن اُڑا دیا جس میں نسلی، علاقائی و مذہبی تضادات کا تیزاب اُبل رہا تھا۔گویا پال بریمر کا فرمان نمبر 2شاید عراق میں القاعدہ اور پھر القاعدہ کے بطن سے داعش کی پیدائش کا اعلان تھا۔‘‘[14]
یہاں یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ 2003ء میں امریکہ کی عراقی جارحیت کے وقت سعودی عرب امریکی اتحاد(جس میں برطانیہ، آسٹریلیا اور ہالینڈ وغیرہ شامل تھے) کا حصہ نہیں تھا، بلکہ سعودی عرب جو ماضی کی عراق ایران جنگ میں عراق کا قریبی حلیف اور بعد میں جنگ خلیج میں صدام کی جارحیت کا نشانہ بنا ، اس کا موقف یہی تھا کہ صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ عراق وشام کو ایک نہ ختم ہونے والی خانہ جنگی کا شکار کردے گا۔ اس لئے امریکہ کو یہ ظلم نہیں کرنا چاہیے۔
عراق میں امریکی جنگ کی حقیقت کے تناظر میں مسلم حکمرانوں کے لئے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ امریکہ اپنے دوست ؍ ایجنٹ حکمرانوں کے ساتھ کیا سلوک رکھتا ہے، یہ امریکی سفیر اپریل گلیپسی April Glapsie ہی تھی جس نے صدام حسین کو یقین دلایا تھا کہ اگر وہ کویت پر حملہ کردے تو امریکہ کو اس پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ اور یہ صدام حسین ہی تھا جس نے مشرق وسطیٰ میں پہلے ایران اور پھر کویت سے جنگ کا آغا ز کرکے، عالم عرب میں سب سے پہلی خانہ جنگی کا آغاز کیا۔ آج مشرق وسطیٰ میں ہونے والی ساری قتل وغارت صدام حسین کی ہٹ دھرمی اور مسلم امّہ سے کی جانے والی لڑائی کا شاخسانہ ہے۔ آج عراق کی یہ تباہی وبربادی ، اس کے آمر صدام حسین کی بے وقوفانہ غلطیوں کا خراج ہے۔ ایران؍عراق جنگ، پھر جنگ خلیج کے بعد امریکی پابندیوں میں 10 ،10 لاکھ کے قریب مسلمان ہلاک ہوگئے ۔ پھر2003ء میں امریکی قبضہ کے بعد ہلاک ہونے والی عراقی مسلمانوں کی تعداد 50 لاکھ سے بھی تجاوز کرگئی۔اور ایک بھرا پرا، زمینی وسائل سے مالا مال مسلم ملك تباہی وبربادی کی تصویر بنا بیٹھا ہے۔ اگر امریکہ اپنے دوستوں کے ساتھ اچھا رویہ رکھتا تو صدام حسین اس کا سب سے بڑا مستحق تھا، لیکن امریکی دوستی سراسر مفادات کی ہے جس کا مشاہدہ پاکستان کی فرنٹ لائن سٹیٹ بھی کرچکی ہے اور آئندہ بھی عراق ایسے امریکی ایجنٹ ایسے ہی انجام سے دوچار ہوتے رہیں گے۔
عراق کی جنگ اور اقوامِ متحدہ
امریکہ اور برطانیہ کی عراق پر مسلط کی جانے والی جنگ میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کا کیا حشر ہوا، اور سلامتی کونسل کا کس طرح استحصال ہوا، اس کا نقشہ بھی بڑا واضح ہے۔اس سرکشی میں عالم کفر کے بڑے بڑے ممالک کس طرح اس کا ساتھ دیتے رہے، حالانکہ انہیں اس کے بعد اپنے اپنے ایوانوں اور عوام سے معافی بھی مانگنا پڑی۔ اقوامِ متحدہ ہوں یا عالمی عدالتیں، یہ صہیونی ادارے مسلمانوں پر ظلم کرتے ہوئے یکجان ہوتے ہیں، اس سلسلے میں کوئی قانون او رضمیر کی خلش اُن کے آڑے نہیں آتی۔ ان میں بعض اگر کہیں ظلم کو برا کہہ بھی دیں لیکن آخر کار ان کا عمل ظلم کی تائید وتعاون کا ہی ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ ان کے مفادات کا تحفظ کرنے والی وہ لونڈی ہے، جو اس دست درازی پر اُف نہیں کرسکتی، نہ ہی ان کے ظالمانہ ہاتھ کو روک سکتی ہے۔ سیکرٹری جنرل کوفی عنان اس جارحیت کے ناجائز ہونے کا واویلا مچاتا رہا ، لیکن اس سے امریکہ کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ تاہم یہ عالمی ادارے اگر کمزور کوئی زیادتی کربیٹھیں تو ان کے خلاف جابر فرعون بن کر ، جبر کو قانونی جواز دینے کو آن موجود ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ پر یہی اعتراض ترکی کے صدر طیب اردگان نے اس کی جنر ل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کیا:
’’ دنیا پر سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبران کی اجارہ داری ہے اور پوری دنیا کی قسمت کا فیصلہ ان کی مٹھی میں ہے۔ ان کے اختیارات نہایت ہی غیر اخلاقی، غیر قانونی اور غیر جمہوری ہیں۔ ان کی بدولت انہوں نے پوری دنیا کو غلام بنا رکھا ہے اور اپنے اشاروں پر نچا رہے ہیں۔ یہ پانچ ممالک کبھی بھی کسی دوسرے ملک کو اپنے مفادات کے خلاف قدم اٹھانے کی اجازت نہیں دیتے اور ان تمام قراردادوں کو ویٹو کر دیتے ہیں جو ان کے یا ان کے حامی ملکوں کے خلاف ہوتی ہیں۔ ان پانچ ویٹو پاور رکھنے والے ملکوں نے اقوام متحدہ پر قبضہ کر رکھا ہے اور ان میں ایک بھی مسلم ملک نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے مسلم ملکوں کے مسائل حل کرنے کی ذرہ برابر بھی سنجیدہ کوشش نہیں ہوتی بلکہ حل کرنے کی بجائے اور اُلجھا دیا جاتا ہے جبکہ عیسائیت کے معاملہ میں ان کا رویہ دوسرا ہوتا ہے۔‘‘[15]
یہ بات بھی فکر انگیز ہے کہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل ہی وہ مجاز ادارہ ہے جو کسی ملک کی زیادتی پر اقدام کرسکتا ہے، لیکن اس کے بجائے امریکہ وبرطانیہ اپنے تئیں دوسرے ممالک پر چڑھ دوڑیں اور اقوام متحدہ خاموش بیٹھی رہی تو یہ اس کے عالمی کردار کی صریح نفی اور اس کی اہمیت کا انکار ہے۔ آج امریکہ کو طاقت حاصل ہےاور ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ کے ظلم پر اقوام متحدہ خاموش بیٹھی ہے تو کل اگر مسلم ممالک ایک طاقتور اتحاد بن کر امریکہ پر چڑ ھ دوڑیں اور اس کے صدر کو یوں ہی پھانسی کا فیصلہ سنا کر نافذ کردیں تو کیا ان کے اس اقدام کو بھی گوارا کیا جائے گا، ایسا رویہ ’عالمی برادری‘ کے تصور کے سراسر انکارپرمبنی ہے۔
عراق پر امریکی جنگ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں حقیقی دہشت گرد کون ہے؟ وہ کون سے ممالک ہیں جنہوں نے ملکوں کی برادری میں بدمعاشی کو وتیرہ بنا رکھا ہے، اور نام لینے کو پہلے عراق میں انہوں نے انسانی حقوق کی پامالی کا بہانہ استعمال کرکے پابندیاں قائم کرکے 10 لاکھ بچوں کو موت کے منہ میں سلادیا، اور اب فرضی کیمیائی ہتھیار کا بہانہ بنا ڈالا۔ انسانی حقوق کا نعرہ کس کا استحصالی ہتھکنڈہ ہے، اور کون دنیا میں حقیقی ظلم کا ارتکاب کررہا ہے؟ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اصل مجرم کون ہیں؟ اور اپنے سامنے جائز مزاحمت کرنے والے حریت پسندوں کو بھی وہ دہشت گرد قرار دیتے ہوئے نہیں تھکتے۔عراق پر امریکی ناجائز حملہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ تہذیب وتمدن کے نعرے لگانے والے ہی اصل دہشت گرد ہیں۔
اہل مغرب اپنے ہر اقدام کے ساتھ تکرار سے یہ کہتے ہیں کہ ہم دنیا کو بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ لیکن ان کا دنیا کو بہتر بنانا، تمام انسانوں کے بجائے صرف ان کے ہم وطنوں اور ہم نسلوں کے لئے ہوتا ہے ۔ وہ اپنے سوا دوسروں کو جانوروں جیسے حقوق دینے کو بھی آمادہ نہیں ہیں۔ اخلاقیات کے بڑے معیارات کا دعویٰ کرنے والے قوموں کے مجرم اور انسانیت کے قاتل ہیں۔ اقوا م متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان اپنی سوانح عمری Interventions: a life of war and peace میں لکھتے ہیں:
’’اقوامِ متحدہ صدام حسین سے پر امن مکالمہ کر رہی تھی لیکن امریکہ نے بے صبری کا مظاہرہ کیا اور عراق پر حملہ کر دیا۔ جب کوفی عنان صدام حسین سے ملنے گئے تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا: ’ہم جانتے ہیں کہ بعض طاقتیں نہیں چاہتیں کہ آپ ہم سے ملیں۔‘کوفی عنان کا موقف ہے کہ اگر امریکہ کچھ انتظار کرتا تو وہ جنگ روکی جا سکتی تھی۔
کوفی عنان اس حقیقت سے بھی پردہ اٹھاتے ہیں کہ برطانوی اور امریکی پالیسی عراق کے لیے کچھ اور تھی اور اسرائیل کے لیے کچھ اور۔ وہ اسرائیل کی غلطیوں سے درگزر کرتے رہے لیکن عراق کو اس کی غلطیوں کی سزا دیتے رہے۔ کوفی عنان اپنی کتاب میں برطانوی لیڈر ٹونی بلیئر اور امریکی لیڈر جارج بش کی جارحیت کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔ کوفی عنان کی زندگی میں ایک لمحہ ایسا بھی آیا جس میں اُنہوں نے سچ بولا اور وہ اقوامِ متحدہ کی ملازمت سے بر طرف کر دیے گئے۔ بی بی سی کے ایک انٹرویو کے دوران صحافی نے پوچھا: کوفی عنان! کیا امریکہ کا عراق پر حملہ غیر قانونی تھا؟
کوفی عنان نے جواب دیا: ’ ہاں۔‘
اس انٹرویو کے بعد کوفی عنان کے امریکی دوست Ted Sorenson نے، جو صدر کینیڈی کی تقریریں لکھا کرتے تھے،کوفی عنان کو ایک ای میل لکھا جس میں اس نے کوفی عنان کو پہلے سچ کہنے کی مبارکباد دی اور پھر یہ پیش گوئی کی کہ ایک سچے لفظ ’ہاں‘ کہنے کی وجہ سے وہ دوبارہ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری نہیں بنیں گے۔ سورنسن کی پیش گوئی صحیح ثابت ہوئی۔ کوفی عنان کو سچ بولنے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔
کوفی عنان اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ القاعدہ، صدام حسین اور حزب اللّٰہ عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں لیکن وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ القاعدہ،حزب اللّٰہ اور صدام حسین سے کہیں بڑا خطرہ اسرائیل،امریکہ اور برطانیہ ہیں کیونکہ وہ زیادہ طاقتور ہیں۔‘‘[16]
کفار کا طریقۂ واردات :     ’لڑاؤ اور حکومت کرو ‘
کفار کی ساری کوششیں منافقت ، جھوٹ، ہیرا پھیری اور بددیانتی پرمبنى ہىں۔ انہیں مسلم امہ سے براہ راست جنگ کرنے کی ہمت نہ پہلے تھی، نہ آج ہے۔ وہ ہمیشہ پیچھے سے چھپ کر حملہ کرتے اور فرعونی سازشیں کرتے ہیں۔ قرآن میں اللّٰہ تعالیٰ نے فرعون کی سرکشی اور چالبازی کا نقشہ یوں پیش کیا ہے:
﴿إِنَّ فِرعَونَ عَلا فِى الأَرضِ وَجَعَلَ أَهلَها شِيَعًا يَستَضعِفُ طائِفَةً مِنهُم يُذَبِّحُ أَبناءَهُم وَيَستَحيۦ نِساءَهُم إِنَّهُ كانَ مِنَ المُفسِدينَ ﴿٤﴾... سورة القصص
’’فرعون نے زمین میں فساد وسرکشی کا راستہ اختیار کیااور اس کے باشندوں کو فرقوں میں تقسیم کردیا،ایک جماعت کو وہ کمزور کرتا تھا، ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا تھا،وہ بڑاہی فسادی تھا۔‘‘
تقسیم اور پھوٹ ڈال کر کسی ایک گروہ کی تائید کے ذریعے حکومت پر قبضہ جمانا ، فرقوں میں بانٹنا اور مظلوموں کو دبانا فرعونی حکومت کا طریقہ ہے اور یہی مغربی طاقتوں کا وتیرہ ہے: Divide and Rule
عراق میں صدام حسین کی قیادت میں شیعہ سنّی عرصہ دراز سے اکٹھے رہ رہے تھے ۔ یہی اکٹھے رہنے کے جذبات عراق پر یلغار کے وقت وہاں کے شیعہ سنّی حضرات کے بھی تھے کہ ہمیں آپس میں ٹکڑانے سے بچنا ہوگا۔ سیکولر نامہ نگار وسعت اللّٰہ خاں نے اسی دور2003ء میں عراق کا دورہ کیا، اور 2016ء میں اپنی یاد داشتوں میں لکھا کہ
’’نجف میں محمد باقر الحکیم سے ملاقات ہوئی جو طویل جلا وطنی کاٹ کر تازہ تازہ ایران سے لوٹے تھے۔ اُنھوں نے دورانِ گفتگو ایسا فقرہ کہا جو آج بھی تازہ ہے ’اگر عراقی شیعوں اور سنیوں کو غیر عراقیوں نے ایک دوسرے سے بدظن نہ کیا تو ہم لبنانیوں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ رہنا سیکھ لیں گے۔ بصورتِ دیگر عراق اور اردگرد کا خطہ زہریلے سانپوں میں گھر جائے گا۔ ‘‘(تین ماہ بعد باقر الحکیم ایک دھماکے میں ہلاک ہوگئے)۔
آیت اللّٰہ علی سیستانی سے پانچ منٹ کی ملاقات کا شرف ضرور حاصل ہوا۔ میں صرف ایک سوال پوچھ پایا: اب عراق کا مستقبل کیا ہے؟‘ جواب آیا :’’امریکی جتنا جلد چلے جائیں، اتنی جلد زخم مندمل ہونے لگیں گے،ورنہ یکطرفہ پالیسیاں زخم کو ناسور بنا دیں گی۔‘‘ (امریکی اور اتحادی آٹھ برس بعد عراق سے لوٹے۔ تب تک زخم ناسور بن چکا تھا)‘‘[17]
اسی قومی اتحاد کی تلقین صدام حسین نے روپوشی کے دوران قوم کے نام اپنے خط میں کی، 14؍ اگست 2003ء کو الجزیرہ نیٹ ورک پر صدام حسین کے خط کے اقتباسات پڑھے گئے:
’’اگر عراق کے شیعہ حلقے لوگوں پر جہاد کے لئے زور دیں تو اس سے عراق کے عوام متحد ہو کر قابض افواج کے خلاف صف آراہو سکتے ہیں۔اس خط میں ایک اعلیٰ شیعہ رہنما آیت اللّٰہ علی سیستانی کے اس اعلان کا بھی خیر مقدم کیا گیا ہے کہ امریکی نگرانی میں بنایا جانے والا عراق کا آئین نا قابلِ قبول ہے۔‘‘[18]
عراق پر ہونے والی یلغار بھی کچھ عراقی ہم وطنوں کی سازشوں کا ہی نتیجہ تھی، ان میں ایک شخص صدام حسین کا قریبی دوست، عراق کا سابق عیسائی وزیر خارجہ طارق عزیز تھا جس کا نام میڈیا میں بکثرت آتا رہا۔ یہ غدار 2012ء میں عراقی سپریم کورٹ سے سزاے موت پانے کےبعد جون 2015ء میں جیل میں ہی مرگیا۔ ایک اور غدار شخص عراقی ریاضی دان، سیاستدان ، ’عراقی نیشنل کانگرس‘ کا سربراہ پروفیسر احمدالجلبی تھا، جو مارچ 2015ء میں اکہتر برس کی عمر میں طبعی موت مر گیا۔ اسی غدار نے عراق پر امریکی حملے کی لابنگ اور منصوبہ بندی کی تھی اور امریکہ کو ہتھیاروں کے متعلق غلط معلومات فراہم کی تھیں۔جرمن خبررساں ادارہ لکھتا ہے :
’’عراق پر حملے کے بعد وائٹ ہاؤس کی طرف سے الجلبی کی حمایت میں بھی کمی آ گئی تھی کیوں کہ وہ تمام معلومات غلط ثابت ہوئی تھیں جنہیں دنیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ عراق کے سابق حکمران صدام حسین کے نہ تو القاعدہ سے تعلقات ثابت ہو سکے تھے اور نہ ہی عراق سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار برآمد ہوئے تھے، جیسا کہ اس بارے میں عوامی سطح پر پروپیگنڈا کیا گیا تھا۔
احمد الجلبی نے نوّے کی دہائی میں عراق کے شمال میں کرد بغاوت کو بھی منظم کیا تھا لیکن اس بغاوت میں سینکڑوں افراد مارے گئے تھے جبکہ الجلبی خود فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ اس کے بعد وہ عراق میں امریکی حملے کے بعد واپس آئے تھے۔
الجلبی امریکی حملے کے بعد عراقی گورننگ کونسل کے غیر مستقل صدر بھی بنے اور نائب وزیراعظم کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ عارضی طور پر تیل کی پیداوار کے معاملات بھی ان کے ہاتھ میں آئے لیکن وہ کبھی بھی اس عہدے تک نہ پہنچ سکے۔‘‘[19]
عراق پر قبضے کے لئے امریکہ نے سراسر جھوٹ کا سہارا لیا، تہذیب وتمدن کے بلند بانگ دعوے کرنے والے اس کے ساتھی برطانیہ، آسٹریلیا اور نیٹو میں انصاف کا معمولی سا احساس بھی بیدار نہ ہوا۔ اس کے بعد امریکہ نے پرانی فرعونی چال چلی  کہ شیعہ سنی کے دیرینہ اختلاف کی آگ کو ہوا دکھائی اور ماضی میں بھی عراق کو اس بدترین صورتحال سے دوچار کرنے کیلئے اسی امریکہ نے صدام حسین کو استعمال کیا تھا، اس وقت صدام کو اس زیادتی اور پھوٹ ڈالنے کا احساس بھی نہ ہوا۔چنانچہ 1990ء میں امریکہ نے اپنی سفارتی کوششوں کے ذریعے سب سے پہلے عراق کو کویت پر حملہ کرنے کا مشورہ دیا۔ امریکی جریدے ’فارن پالیسی‘ نے جنوری 2011ء میں وکی لیکس کے حوالے سے 1990ء میں عراق میں متعین امریکی سفیر اپریل گیلیپسی کا اس بیان کا تجزیہ کیا:
In a now famous interview with the Iraqi leader, U.S. Ambassador April Glaspie told Saddam, "We have no opinion on the Arab-Arab conflicts, like your border disagreement with Kuwait.’ The U.S. State Department had earlier told Saddam that Washington had ‘no special defense or security commitments to Kuwait.’ The United States may not have intended to give Iraq a green light, but that is effectively what it did."[20]
’’ان دنوں مشہور انٹرویو میں عراقی رہنما صدام حسین کو امریکی سفیر اپریل گیلیپسی نے بتایا کہ
ہم عرب اقوام کی باہمی جنگوں کے بارے میں غیر جانبدار ہیں جیسا کہ کویت کے ساتھ آپ کا سرحدی تنازعہ ہے۔اس سے پہلےامریکی محکمہ خارجہ صدام حسین کو باور کراچکا ہے کہ ہمارا کویت کے ساتھ کوئی دفاعی یا حفاظتی معاہدہ بھی نہیں ہے۔ اس طرح امریکہ نے عراق کو گرین سگنل تو نہیں دیا تاہم مؤثر طور سے اپنا پیغام واضح کردیا۔‘‘
عراق کو کویت پر جارحیت کا مشورہ عالم عرب کی جدید تاریخ میں اس خانہ جنگی کا آغاز ہے جس کا وجود اس سے پہلے عرب میں مفقود تھا۔ عراقی جارحیت کے نتیجے میں سعودی عرب میں امریکی فوج کو بلایا گیا، جہاں اس فوج کی موجودگی نے پہلے القاعدہ کے اختلاف کو پیدا کیا، اس کا وجود متحرک ہوا، پھر 2002ء تک یہ فوج مشرقِ وسطی میں ہی براجمان ہوگئی۔ 2003ء میں سعودی عرب سے جانے کے بجائے امریکی فوج ہمسایہ ملک عراق میں صدام حسین کی حکومت پر جھوٹ بول کر حملہ آور ہوگئی۔ کئی برس یہاں گزارنے کے بعد، اب چند سالوں سے یہی فوج قطر میں ڈیرے جمائے ہوئے ہے۔سرزمین عرب میں اس فوج کی آمد کا سہرا صدام حسین کے سر جاتا ہے، جو اس کو بلانے کا سبب بنا، اور پھر اسی کا نشانہ بن گیا۔
مغرب کا پورا پیغامِ انسانیت ’باہمی ٹکڑاؤ‘ کرکے اپنے مفادات سمیٹنا ہے۔جو ممالک ان کی کالونیاں بنے، وہاں اُنہوں نے مسلکی بنیادوں پر فرقہ پرستی کو مضبوط کیا،پھر سیاسی بنیادوں پر بعض کو مفادات دے کر دوسروں کو کمزور کرکے قوموں کی تفریق کی۔پھر سیاسی نظاموں کے ذریعے اس قوم کو سیاسی پارٹیوں میں تقسیم کرکے ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار کردیا۔ کہیں مزدور کو آجر کے مقابل منظم کردیا، کہیں عورت کو مرد کے مقابل لاکھڑا کیا۔ایک ہی ملت کو دسیوں ملکوں میں بانٹ دیا۔ ان میں قیادت و ناموری اور مفادات کا ایسا صور پھونک دیا کہ اب ایسے معاشرتی ناسوروں سے جان چھڑانا بڑا مشکل ہوچکا ہے۔ معاشرے کے مختلف طبقات کو بانٹنے کے بعد ان کی ڈوریاں ہلانا اوران کو اسلحہ فروخت کرنا اور ان میں موت بانٹنا مغرب کا وہ انسانیت نوازپیغام ہے جس پر داد وتحسین کی توقع کی جاتی ہے۔جومسلمان بھی اس ٹکڑاؤ کا راستہ چنتا ہے، اسے جان لینا چاہیے کہ وہ شیطان اور کفر کی چالوں کا شکار ہوتا ہے۔
عراق پر ہونے والی بدترین ہلاکت سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ دنیا آج بھی مفادات کی اسیر ہے، اور ظلم کا ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں، کیا عراق پر جھوٹ کے نتیجے میں ہونے والے سنگین مظالم کے بعد ہالینڈ اور آسٹریلیا کا فرض صرف معافی مانگنا ہی ہے، یا حقیقی معافی ان سے اس ظلم کے خاتمے کے لئے کوششوں کا بھی مطالبہ کرتی ہے،جس کا کوئی تصور بھی موجود نہیں۔ دراصل خونِ مسلم کی ارزانی پر سارے کافر ہی دل میں خوشیاں مناتے ہیں۔ یہی وہ ظلم واستبدادہے جو اس دور میں انسانیت کا اصل مسئلہ ہے اور اسی سے شیطانی مقاصد پورے ہورہے ہیں۔کیا امریکہ وبرطانیہ کے اس صریح اقرار کے باوجود بھی اس مہذب دنیا میں ایسا کوئی امکان ہے کہ اس ظلم کا کوئی مداوا اور تاوان ادا کیا جائے۔ نہیں بالکل نہیں بلکہ ایسا کرنے والے مزید شکارتاکتے رہتے ہیں ، دنیا خاموش بیٹھی دیکھتی ہے اور ان کے ساتھی اپنا حصہ وصول کرنے کو آن موجو دہوتے ہیں۔ یہی دنیا کا اصل اور سنگین ترین المیہ ہے، اور اسلام کی نعمت کو ترک کرکے دنیا نے یہی خسارہ اٹھایا ہے۔کیا دنیا کوسائنسی سہولیات دینا اہل مغرب کا احسان ہے ، یا دنیا میں بدمعاشی کے ذریعے موت وہلاکت بانٹنا ان کا بدترین جرم ہے۔ ہمیشہ سے اہل استعمار ایسے ہی جرائم کرتے آئے ہیں۔
کفر کیلئے سب مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں اور وہ سب سے بدترین نفرت کرتے ہیں۔ اگر وہ کسی کو ایجنٹ بناتے ہیں تو عراق کے صدام حسین کی طرح وقت آنے پر اسی کو نشانِ عبرت بھى بنا دىتے ہىں۔ اگر کوئی ملک ان کی تائید سے مسلم امہ کو اختلاف سے دوچار کرتا ہے تو اسے اس آلہ کاری سے عقل مندی اور ملی بصیرت سے ابھی جھٹک دینا چاہیے۔ جس طرح ملت اسلامیہ کو نظریاتی اور فقہی بنیادوں پر فرقہ واریت کی مذمت کرنی چاہیے ، اسی طرح سیاسی فرقہ واریت (قومیت) کو بھی ٹھکرانا چاہیے اور ساری دنیا میں ایک ملت بن کر جینا چاہیے، جن کے مفادات ایک ہیں۔ اگر یہ نہیں تو دنیا کا کفر انہیں مشترکہ دشمن جانتا ہے او روہ خود قومیتوں کو بھلا کرکبھی نیٹو، کبھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، کبھی ریاستہائے متحدہ امریکہ اور کبھی یورپی یونین، کبھی جی 20 جیسے ناموں سے مشترکہ پیش قدمی کرتا ہے۔ان عالمی اداروں کے مسلمانوں کے خلاف جذبات اور اقدامات اب ڈھکے چھپے نہیں۔عراق پر بدترین ظلم کے اعتراف کے بعد بھی یہ نام نہاد عالمی انصاف کے ادارے کچھ کرنے کو آمادہ نہیں بلکہ ظالم کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔ اس کے بعد مسلمانوں کے باہمی اتحاد کے بغیر کیا كوئى چارہ باقی رہ جاتا ہے؟ ! کاش اللّٰہ تعالیٰ مسلمانوں کی سیاسی قیادت اور خواص وعوام کو اس کا شعور اور بصیرت عطا کردے۔

حوالہ جات:
[1]    سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْمَلَاحِمِ (بَابٌ فِي تَدَاعِي الْأُمَمِ عَلَى الْإِسْلَامِ)
[2]    برطانیہ کی سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹسSOHR... Casualties of the Iraq War... iraqbodycount
[7]    بی بی سی، اردو 6 جولائی 2016ء... اور 29 مئی 2014ء
[8]    بی بی سی ، اردو، 10 جولائی 2016ء ...
[11] بی بی سی ، اردو: 28 جولائی 2003ء...
[14] بی بی سی اردو... 6 جولائی 2016ء.... وہ ایک فرمان جس نے داعش كو جنم دیا!!
[15] سہ روزہ ’دعوت‘ دہلی، 4 ؍اکتوبر 2016ء 
[17] بی بی سی اردو: وسعت اللّٰہ خاں کی یاد داشتیں: 5 جولائی 2016ء