اہل ... کی اصطلاح میں '' غزوہ '' اس فوجی مہم کو کہتے ہیں جن میں خود آنحضرت ﷺ نے شرکت ف مائی تھی ۔ اور ''سریہ'' ان مہمات کو کہا جاتا ہے ، جن میں خود آپ نے شرکت نہیں فرمائی ۔ بلکہ آپ نے کسی صحابی کی سر کردگی میں فوجی مہم روانہ کی ہو ۔ اس طرح عید ِ نبوت کی ساری دفاعی فوجی مہمات کو دوقسموں پر منقسم کر دیا گیا ہے اور انہیں اصطلاحی نام '' غزوات مو سرایا'' دئیے گئے ہیں تا کہ ان دونوں قسموں کی مہمات میں امتیاز قائم رہے ۔ آنحضرت ﷺ کو اعلان ِ نبوت کے بعد اپنی 23 سالہ حیاتِ طیتہ میں 86 غزوات و سرایا کے معرکے پیش آئے ۔ مولانا مفتی عزیز الرحمان بجنوری نے اپنی کتاب تاریخ میں غزاوات و سرایا کی جو فہرست دی ہے اس کی تفصیل اس طرح ہے : غزاوات : 28 ، سرایا: 55 ، عمرۃ القضاء: 1، حج ابوبکر : 1، حجۃالوداع : 1، میزان : 86 ، قرآن مجید میں 12 غزوات کا ذکر آیا ہے ، ان کی مختصر تفصیل قرآن مجید اور کتبِ سیروتاریخ کی روشنی میں درج ذیل ہے ۔ ( عراقی )
(1) غزوۂ بدر:
اس کا ذکر سورۃ الانفال ( آیت : 5، 41) اور سورۃ آل عمران ( آیت : 123 ) میں آیا ہے سورۃ الانفال ( آیت :5) '' جب کہ تیرا رب تجھے حق کے ساتھ ، تیرے گھر سے نکال لایا تھا اور مومنوں میں سے ایک گروہ یہ سحت نا گوار تھا '' ( تفہیم القرآن )
( آیت : 41 ) '' اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر اور اس چیز پر جو فیصلے کے روز یعنی دونوں فوجوں کے مڈ بھیڑ کے دن ہم نے اپنے بندے پر نازل کی تھی ، ( تو یہ حصہ با خوشی ادا کرو) اللہ ہر چیزپر قادر ہے ( تفہیم القرآن )
سورۃ آل عمران ( آیت : 123) '' آخر اس سے پہلے جنگ بدر میں اللہ تمہاری مدد کر چکا تھا حالانکہ تم اس وقت بہت کمزور ۔ لہذا تم کو چاہیے کہ اللہ کی نا شکری سے بچو ۔ امید ہے کہ اب تم شکر گزا ر بنو گے ۔''
غزوہ ٔ بدر رمضان 2 ہجری میں پیش آیا ، اس میں مسلمانوں کی تعداد 313 تھی ، جنگ ِ بدر کو اللہ تعالی نے یو م ُالفرقان ( فیصلہ کُن دن ) قرار دیا ہے ، اس جنگ میں امت ِ اسلامیہ کی تقدیر اور دعوت حق کے مستقل کا فیصلہ ہو جس پر پوری نسلِ انسانی کی قسمت کا انحصار تھا ۔ یہ جنگ، مسلمانوں کی فتح ِ مبین اور مشرکین و کفار کی ذلت آمیز شکست پر ختم ہوئی ، تو آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا :
'' اللہ تعالی کا شکر ہے جس نے اپنا وعدہ پورا کیا ، اپنے بندے کی مدد فرمائی اور تنہا ساری پارٹیوں اور گروہوں کو شکست دی '' قرآن مجید نے اس کیفیت کی ترجمانی اس آیت میں کی ہے :
'' او رخدا نے جنگ بدر میں بھی تمہار ی مدد کی تھی اور اس وقت بھی تم بے سروسامان تھے ۔ پس خدا سے ڈرو ( اور ان احسانوں کو یاد کرو ) تا کہ شکر کرو'' ( آل عمران : 123)
اس جنگ میں کفار کے 70 نامی گرامی سردار قتل ہوئے اور 70 قیدی بنائے گئے اور مسلمانوں میں قریش کے 6 اور انصار کے 8 آدمی شہید ہوئے ۔ ( نبی ِ رحمت : ج 1 ، ص 223 )
(2) غزوۂ اُحد :
غزوۂ اُحد کا ذکر ، سورۂ آل عمران ( آیت : 139) سے شروع ہو تا ہے اور تقریبا آیت نمبر 180 پر ختم ہوتا ہے ۔
(آیت : 139) '' دل شکنہ نہ کرو ، غم نہ کرو ، تم ہی غا لب رہو گے ، اگر تم مومن ہو'' ( تفہیم القرآن ) یہ غزوہ شوال 3ھ میں پیش آیا ۔ جنگ بدر میں قریش کے 70 سردار مارے گئے اور یہ واقعہ ان کے ئے ایک عظیم سانحہ سے کم نہ تھا ۔ کفار ایک کثیر لشکر کے ساتہ مکہ سے روانہ ہوئے آ نحضرت ﷺ ایک ہزار صحابہ کرام کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے ، راستہ میں تھے کہ ریئسُ المنافقین عبداللہ بن ابی اپنے 300 آدمیوں کے ساتھ علیحدہ ہو کر واپس چلا گیا ، جب کفار اور مسلمانوں کا مقابلہ ہوا تو حضرت حمزہ بن عبدالمطلب نے خوب داد شجاعت دی ، آخر جبیر بن مطعم کے غلام ، و حشی کے ہاتھوں شہید ہوئے ، اور اس جنگ میں مبلغ ِ اسلام حضرت مصعب بن عمیر نے بھی جامِ شہادت نوش کیا ۔ مسلمانوں نے اس غزوہ میں سرفروشی و جانبازی کا حق ادا کر دیا ، اور راہِ حق کی ہر آزمائش میں پورے اترے ، اللہ تعالی نےمسلمانوں کے لئے مدد نازل فرمائی او راپنا وعدہ پورا فرمایا ، مشرکین و کفار کو سخت ہزیمت اٹھانی پڑی ، اور ان عورتوں نے ، جو مردوں کو غیرت دلانے آئی تھیں ، راہِ فرار اختیار کی ۔
آنحضرت ﷺ نے احد پر ایک دستہ مقرر فرمایا تھا جس سے ہٹنے کی اجازت نہ تھی ، لیکن جب مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور یہ مال غنیمت سمیٹنے لگے ، تو اس دستہ نے درّہ خالی کر دیا حالانکہ ان کے امیر نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا ، لیکن اس دستہ کے آدمیوں نے اپنے امیر کا حکم نہ مانا ۔
حضرت خالد بن ولید نے ، جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے ، اس طر ف سے حملہ کر دیا ۔یہ حملہ ایسا شدید تھا ، کہ مسلمان سنبھل نہ سکے اور مسلمانوں کو کافی ہزیمت اٹھانی پڑی ، آنحضرت ﷺ بھی زخمی ہوگئے ، اور اس وقت ٖآنحضرت ﷺ نے فرمایا :
'' وہ قوم کیسے کامیاب ہو سکتی ہے جس نے اپنے نبی کے چہرے کو خون سے تر کر دیا ۔ جو ان کو اپنے رب کی طرف بلاتا تھا '' ( سیرت ابن ہشام : ج 2 ص 78 )
مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رقمطراز ہیں کہ
'' یہ در اصل فرار نہ تھا بلکہ جنگی حکمت عملی تھی ، جو ہر فوج کو بوقتِ ضرورت اختیار کرنی پڑتی ہے پھر سنبھل کر دوبارہ حملہ آور ہوتی ہے ) مسلمانوں کو اس موقع پر ہزیمت و آزمائش کی جس تلخی کا مزہ چکھنا پڑا اور ان کو جو جانی نقصان ہوا اور کثیر صحابہ جو اسلام اور مسلمانوں کے لئے سر چشمہ ٔ قوت او ر رسول اللہ ﷺ کے حامی و پاسبان تھے ، شہید ہوئے ۔ وہ سب دراصل ان تیر اندازوں کی لغزش اور چوُک کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کے اس صریح حکم اور ہدایت کی آخر ی لمحہ تک تعمیل نہ کی ، اور اپنی اس پوزیش کو چھوڑ دیا ) جہاں ان کو رسول اللہ ﷺ نے تعینات فرمایا تھا ''
اللہ تعالی فرماتا ہے ۔
'' اور خدا نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا ، یعنی اس وقت جب کہ نم کافروں کو اس کے حکم سے قتل کر رہے تھے ، یہاں تک کہ جو تم چاہتے تھے ، خدا نے تم کو دکھایا ، اس کے بعد تم نے ہمت ہار دی ، اور حکم پغمبر میں جھگڑا کرنے لگے اور اس کی نافرمانی کی ، بعض تو تم میں سے دنیا کے خواستگار تھے ، بعض آخرت کے طالب ، اس وقت خدا نے تم کو ان کے مقابلہ میں پھیر ( کر بھگا) دیا تا کہ تمہاری آزمائش کرے ، اور اس نے تمہارا قصور معاف کردیا ، اور خدا مؤمنوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے ۔'' ( آل عمران : 152 ) نبی ِ رحمت : ج 1 ، ص 233)
(3) غزوۂ حمراءُ الاسد
اس غزوہ کا ذکر سورۂ آل عمران ( آیت 172 تا 275 ) میں یوں آیا ہے :
'' جن لوگوں نے زخم کھانےکے بعد بھی اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہا ، ان میں جو شخص نیکو کار اور پرہیز گار ہیں ، ان کے لئے بڑا اجر ہے ، اور وہ جن لوگوں نے کہا کہ تمہار ے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں ان سے ڈرو ، تویہ سن کر ان کا ایمان اور بڑ ھ گیا ۔ او رانہوں نے جواب دیا کہ ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کار ساز ہے ۔ آخر کار وہ اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ پلٹ آئے ، ان کو کسی قسم کا ضرر بھی نہ پہنچا ، اور اللہ کی رضا پر چلنے کا شرف بھی انہیں حاصل ہو گیا ، اللہ بڑا فضل فرمانے والاہے ۔ اب تمہیں معلوم ہو گیا کہ وہ در اصل شیطان تھا ، اپنے دوستوں سے خواہ مخواہ ڈرارہا تھا ، لہذا آئندہ تم انسانوں سے نہ ڈرنا ، مجھ سے ڈرنا اگر تم حقیقت میں صاحبِ ایمان ہو ۔'' ( تفہیم القرآن )
دُشمنان دین ( کفارمکہ) ایک دوسرے پر لعنت ملامت کی ، کہ تم نے مسلمانوں کی قوت و شوکت کو مجروح کیا ہے ، ان کا زور بھی توڑا ہے لیکن ان کی پوری سر کوبی کئے بغیر چھوڑ دیا ہے آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ دشمنوں کا تعاقب کیا جائے ، حالانکہ مسلمان اس وقت زخموں سے چور تھے ۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ نے مدینہ میں حضرت عبداللہ بن اُم مکتوم کو اپنا قائم مقام امیر بنایا ، اور 8 میل تک حمراءُالاسد تک مشرکین کا تعاقب کیا ، اور آنحضرت ﷺ نے پیر ، منگل اور بدھ تین دن وہاں قیام کیا ، اس کے بعد مدینہ منورہ واپس آئے ، یہ غزوہ بھی شوال 3 ہجر ی ، میں پیش آیا ۔ ( سیرت ہشام : ج 2 ، 388)
(4) غزوۂ بدر الاخریٰ
اس کا تذکرہ سورۂ آل عمران ( آیت 173 ) میں آیا ہے :
'' اور وہ جن لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں ان سے ڈرو، تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا ، اور انہوں نے جواب دیا ، کہ ہمارے لئے اللہ ہی کافی ہے ، اور وہی بہترین کار ساز ہے ، آخر کار وہ اللہ تعالی کی نعمت اور فضل کے ساتھ پلٹ آئے ، ان کو کسی قسم کا ضرر بھی نہ پہنچا اور اللہ کی رَ ضا پر انہیں چلنے کا شرف بھی حاصل ہو گیا ، اللہ بڑا فضل فرنانے والا ہے ''
سیرت ابن ہشام میں ہے کہ :
آنحضرت مدینہ میں عبداللہ بن ابی بن سلول انصاری کو حاکم مقرر کر کے بدر میں پہنچے اور 8 روز تک ابوسفیان کا انتظار کیا، لیکن ابوسفیان ، مقام ِظہر ان سے واپس مکہ چلا گیا ، اور آنحضرت ﷺ مدینہ واپس تشریف لے گئے (سیرت ابن ہشام : ج 4 ، ص 410 ) یہ غزوہ ذی قعدہ ، ہجری میں پیش آیا ( تاریخ الاحکام ، ص : 284 )
(غزوۂ بنو نضیر )
اس غزوہ کا ذکر سورۃُالحشر ( آیت : 2) میں یوں آیا ہے :
'' وہی ہے جس نے اہل کتاب کافروں کو پہلے ہی حملے میں ان کے گھروں سے نکال باہر کیا ، تمہیں ہر گز یہ گمان نہ تھا ، اور وہ بھی یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ان کی گڑھیاں انہیں اللہ سے بچا لیں گی ، مگر اللہ ایسے رُخ سے اُن پر آیا ، حدھر اُن کا خیال بھی نہ گیا تھا ۔ اس نے ان کے دلوں میں رُعب ڈال دیا ، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے بھی اپنے گھروں کو برباد کر رہے تھے اور مؤمنوں کے ہاتھوں بھی برباد کروا رہے تھے پس عبرت حاصل کرو ، اے دیدۂ بینا رکھنے والو ۔ ''
( تفہیم القرآن)
یہود کے ساتھ یہ غزوۃ ربیع الاول 4 ہجری میں و قوع پذیر ہوا ۔
اس غزوہ کے بارے میں سیرۃ ابن ہشام میں ہے کہ :
مدینہ میں یہود کا ایک قبیلہ تھا ، جو بنو نضیر کے نام سے مشہور تھا ان سے آنحضرت ﷺ نے بنی عامر کے دو مقتولین کی دیت میں مدد چاہی ان کے اور بنی عامر کے درمیان عہدو معاہدہ تھا بنی نضیر کے یہود نے آپ سے میٹھی باتیں کیں اور در پردہ آپ کے خلاف سازش کی ، کہ آپ نقصان پہنچایا جائے آپ کے ساتھ کئی صحابہ کرام بھی موجود تھے ، جن میں حضرت صدیق اکبر ، حضرت عمر فاروق اور حضرت علی بن ابی طالب بھی شامل تھے ۔ اللہ تعالی نے آپ کو یہود کی شازش سے آگاہ کر دیا ، اور آپ مدینہ واپس آگئے اور ان کے خلاف جنگ کی تیاری شروع کر دی ، آپ نے ان کا ، 7 دن تک محاصرہ کیا اللہ تعالی نے ان کے دلو ں میں اتنا رُعب ڈالا ، کہ انہوں نے آنحضرت سے خود درخواست کی کہ ہمیں آپ جلا وطن کر دیں ، لیکن ان کے ساتھ جان کی امان بھی دیں ، آپ نے ان کی درخواست قبول فرمائی ، اور وہ جو سازوسامان اپنے ساتھ لے جا سکتے تھے ، لے گئے ، لیکن اسلحہ وغیرہ کی ان کو اجازت نہ تھی ۔ یہود نے خود ا پنے گھر اپنے ہاتھوں سے گرائے ، اور جو سامان لے جانا چاہتے تھے ، اونٹوں پر لاد کر روانہ ہو گئے ۔ ( سیرۃ ابن ہشام : ج 1 ، ص 191)
یہود میں سے کچھ لوگ خیبر میں جاکر آباد ہو گئے ، اور کچھ لوگ شام چلے گئے اور مسلمانوں کو ان کے مکرو فریب ، سازش اور منافقت کے ایک بہت بڑے اڈے سے نجات ملی ۔اور جنگ کی نوبت بھی نہ آئی ۔ ان کی جلا وطنی کے بعد آنحضرت ﷺ نے ان کا سب مال و دولت مہاجرین ِ اولین میں تقسیم فر ما دیا ۔
(غزوۂ خندق یا غزوۂ احزاب )
'' اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، یاد کرو اللہ کے حسان کو جو( ابھی ابھی ) اس مے تم پر کیا ہے ، جب لشکر تم پر چڑھ آئے ، تو ہم نے ان ایک سخت آندھی بھیج دی ۔ اور ایسی فوجیں روانہ کیں جو تم کو نظر نہ آتی تھیں ۔ اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا ، جو تم لوگ اس وقت کر رہے تھے جب ۃوہ اوپر سے او رنیچے سے تم پر چڑھ آئے ، جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں ، کلیجے منہ کو آگئے اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے اس وقت ایمان لانے والے خوب آزمائے گئے اور بُری طرح ہلا مارے گئے ۔ '' ( تفیہم القرآن )
آیت 25 : '' اللہ نےکفار کامنہ پھیر دیا ، وہ کوئی فائدہ حاصل کئے بغیر اپنے دل کی جلن لئے یونہی پلٹ گئے ، اور مؤ منین کی طرف سے اللہ ہی لڑنے کے لئے کافی ہوگیا ، اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے ''
غزوۂ خندق اور غزوۂ احزاب ، ماہ شوال 5 ہجری میں پیش آیا یہ دن ان اہم واقعات غزوۂ خندق اور غزوۂ احزاب ) ماہ شوال 5 ہجری میں پیش آیا ۔ یہ دن اُن اہم واقعات اور غزوات میں سے ہے جن کے اثرات او راسلام اور مسلمانوں کی تاریخ ِ دعوت اسلامی کے مستقل ، دینِ حق کے فروغ اور اسلام کی پیش قدمی میں بہت دور رس ثابت ہوئے ۔ یہ ایک فیصلہ کن جنگ تھی ، اور ایسی سخت آزمائش ، جس کا تجربہ مسلمانوں کو اس سے پہلے نہیں تھا ۔
اس غزوہ کا اصل سبب یہود تھے ) جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف آمادۂ جنگ کیا قریش یہود اور بنی غطفان کے لوگ ، جن کی تعداد 10 ہزار تھی ، مسلمانوں سے مقابلہ کے لئے مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے نکلے ، قریش کی طرف س سپہ سالار ، ابوسفیان کو مقرر کیا گیا۔
آنحضرت ﷺ کو جب ا س کی اطلاع ہوئی تو آپ نے بہت سنحیدگی سے اس کا نوٹس لیا اور جنگ کے لئے تیار ہو گئے اور مناسب یہی سمجھا کہ مدینہ میں قلعہ بند ہو کر ان کا مقابلہ کیا جائے ۔ اس وقت لشکر اسلام کی تعداد 3 ہزار تھی ۔
اس موقع پر حضرت سلیمان فارسی نے مدینہ کے سامنے خندقیں کھودنے کا مشورہ دیا ، آنحضرت ﷺ نے ان کے مشورہ کو پسند فرمایا ، اور ندینہ کے شمال مغرب واقع میدان میں خندقیں کھودی گئیں ۔ چنانچہ صحابہ کرام نے خندقیں کھودیں اور آنحضرت بھی بنفسِ نفیس مسلمانوں کے ساتھ خندقیں کھودنے میں شریک ہوئے اس غزوہ میں ایک طرف آنحضرت ﷺنے اسلامی فتوحات کی پیش گوئی بھی فرمائی اور دوسری آپ سے کئی معجزات بھی ظاہر ہوئے جن کی تفصیل کتب ِ سیرت وتاریخ اور حدیث میں ملتی ہے ۔
قریش نے بڑھ کر مدینہ کے مقابل پڑاؤ ڈالا جن کی تعداد 10 ہزار تھی ، اور مسلمانوں کی تعداد 3 ہزار تھی ، خندق دونوں لشکروں کے درمیان حائل تھی دشمن نے مسلمان کا محاصرہ کیا ، لیکن جنگ کی نوبت نہ آئی ۔ البتہ کفار کے چند شہسوار وں نے، ایک جگہ ( جہاں خندق کی چوڑائی کم تھی ) سے گھوڑوں کو ایڑی لگائی اور خندق پار کر گئے اس میں عرب کا مشہور شہسوار ، عمرو بن عبدِ وُدّ بھی تھا ۔ اس نے آواز لگائی کہ ہے کوئی میرا مقابلہ کرنے والا حضرت علی بن ابی طالب اس کے سامنے آئے ۔ اوراس سے کہا کہ اے عمرو تم نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ قریش کا اگر کوئی شخص تمہیں دو باتوں کی دعوت دے گا ، تو اس میں سے ایک بات کو ضرور قبول کرو گئے عمرو بن عبدودّ نے جواب دیا : ہاں یہ صحیح ہے ۔ حضرت علی مے فرمایا : پہلی بات یہ ہے کہ میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں ، اس نے جواب میں کہا مجھے اس کی ضرورت نہیں ، حضرت علی نے فرمایا دوسری بات یہ ہے کہ تم میرے مقابلہ میں آؤ کہنے لگا کیوں میرے بھتیجے ؟ بخدا میں تمہیں قتل نہیں کرنا چاہتا ۔ حضرت علی نے فرمایا : لیکن خداکی قسم میں تمہیں ضرور قتل کرنا چاہتا ہوں چنانچہ دونوں میں مقابلہ ہوا اور حضرت علی نے اس کا کام تمام کر دیا ۔
مشرکین کی طرف سے محاصرہ ، ایک ماہ جاری رہا اور مسلمانوں کو بہت سی تکلیف برداشت کرنا پڑیں اور منافقین کا نفاق بھی ظاہر ہو گیا ۔ اللہ تعالی کا کرنا یہ ہوا کہ کفار کے لشکر پر سرد ویخ بستہ راتوں کو ایسی ہوا چلی ، کہ ان کے خیمے اکھڑ گئے ، اور کھانےپینے کا سامان درہم برہم ہو گیا ۔ یہ منظر دیکھ کر ابوسفیان نے اعلان کیا کہ اب ہمیں واپس چلے جانا چاہیے چنانچہ قریش نے کوچ کیا اور مکہ کی طرف روانہ ہو گئے جب صبح ہوئی آنحضرت ﷺ نے بھی مدینہ کا رخ کیا (نبی رحمت : ج1 ص 249 تا 260)
قرآن مجید نے اس واقع کی تفصیل اس طرح بیان کی ہے : '' مؤمنو! خدا کی اس مہربانی کو یاد کرو، جو اس نے تم پر اس وقت کی ، جب فوجیں تم پر حملہ کرنے کو آئیں ، تو ہم نے ان پر ہوا بھیجی ، اور ایسے لشکر نازل کئے ، جن کو تم دیکھ نہیں سکتے تھے ، اور جو کام تم کرتے ہو ، خدا ان کو دیکھ رہا ہے ۔ (احزاب : 9)
اور جو کافر تھے ، ان کو خدا نے پھیردیا اور وہ اپنے غصہ میں بھرے ہوئے تھے ۔ کچھ بھلائی حاصل نہ کر سکے اور خدا مؤمنوں کو لڑائی کے بارے میں کافی ہوا ، اور خدا طاقت ور اور زبردست ہے ۔ ( احزاب : 25)
آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس سال کے بعد سے اب قریش پر چڑھ کر نہ آئیں گے ، بلکہ تم ہی ان پر حملہ آور ہو گئے ۔ ( سیرت ابنِ کثیر : ج 3 ، 221) غزوۂ خندق میں مسلمانوں کے 7 آدمی شہید ہوئے اور مشرکین کے 4 آدمی قتل ہوئے ۔ ( نبی رحمت : ج 1 ، ص 261 )
(7) غزوۂ بنو قریظۃ
اس غزہ کا ذکر سورۂ احزاب کی آیت 26 اور 27 میں آیا ہے :
'' پھر اہل کتاب میں جن لوگوں نے ان حملہ آوروں کا ساتھ دیا تھا اللہ ان کی گھڑیوں انہیں تار لایا ، اور ان کے دلوں میں اس نے ایسا رُعب ڈالا کہ آج ان میں سے ایک گروہ کو تم قتل کر رہے ہو اور دوسرے کو قید کر رہے ہو ۔ اس نے تم کو ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے اموال کا وارث بنا دیا ، اور وہ علاقہ تمہیں دے دیا جسے تم نے پامال نہ کیا تھا ، اللہ ہر اموال کا وارث بنا دیا ، اور وہ علاقہ تمہیں دے دیا جسےتم نے کبھی پامال نہ کیا تھا ، اللہ ہر چیز پر قادر ہے ''
یہ غزوہ ذی قعدہ 5 ہجری میں پیش آیا ۔ اس غزوہ کا تار ریخی پس منظر یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے ، تو آپ ﷺ نے یہود کے ساتھ ایک تحریر ی معاہدہ کیا تھا ،
جومیثاق مدینہ کے نام سے مشہور و معروف ہے اور سیرۃ ابن ہشام میں یہ مکمل معاہدہ درج ہے ۔ اس معاہدے میں یہ دفعات بھی شامل تھیں :
یہود میں ، جو ہمارا ساتھ دےگا اس کے ساتھ تعاون اور مساوات کا معاملہ کیا جائے گا ، نہ ان پر ظلم کیا جائے گا اور نہ ان کے خلاف مدد دی جائے گی ۔ مدینہ کا کوئی مشرک ، قریش کے جان ومال کو امان اور پناہ دے گا اور نہ کسی مؤمن کے مقابلہ میں اس کے لئے سینہ سپر ہوگا ۔ یہود لڑائی میں جب تک شریک رہیں گئے اورمسلمانوں کی طرح اس کے اِخرجات بھی برداشت کریں گے یہود کے قیائل مسلمانوں کے ساتھ ایک قوم کی طرح رہیں گئے ، یہودیوں کو اپنے مذہب کی آزادی رہے گی ، مسلمانوں کو اپنے مذہب کی ، اور وہ اپنے ما تحتوں غلاموں اور اپنے معاملہ میں پوری طرح با اختیار ہوں گے ۔ جنگ میں ایک دوسرے کی مدد کرنا ان پر لازم ہو گا جائز امور اور اطاعت الہی کی حدود کے اندر خیر خواہی ، حلوص اور اصلاح کا رویہ رکھنا ہو گا یثرب ( مدینہ ) پر حملہ ہوا تو وہ مشترکہ طور پر اس کا مقابلہ کریں گے ( نبی رحمت : ج1 ، ص 262 ، 263 )
لیکن بنو نظیر کے سردار حُیی بن اخطب یہودی نے بنو قریظۃ کو مسلمانوں سے عہد شکنی اور قریش سے اتحاد و دوستی پر آمادہ کر لیا ۔ جب آنحضرت ﷺ طز بنو قریظۃ کی عہد شکنی کی اطلاع ملی ، تو آپ نے حضرت سعد بن معاذ ، جو اوس کے سردار تھے ( اوس ، بنو قریظۃ کے حلیف تھے )اور خرج کے سردار حضرت سعد بن عبادۃ کو تحقیق کے لئے بھیجا ان لوگوں نے آنحضرت ﷺ کو اطلاع دی کہ آپ نے جو سنا ، وہ بالکل صحیح ہے ، اور وہ کہتے ہیں ہمارے اور محمد ﷺ کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے۔
آنحضرت ﷺ اور مسلمان جب غزوہ خندق سے واپس ہوئے اور مدینہ پہنچ کر سب مسلمانوں نے انے ہتھیار رکھ دیئے ، تو حضرت جبرائیل تشریف لائے اور آنحضرت ﷺ سے عرض کیا ، کہ یا رسول اللہ کیا آپ نے ہتھیار رکھ دیے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ۔ اس پر حضرت جبرائیل نے کہا کہ فرشتوں نے ابھی ہتھیار نہیں رکھے ۔ اللہ تعالی نے بنو قریظۃ کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا ہے ۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ نے اعلان فرمایا کہ نماز عصر بنوقریظۃ میں پڑھی جائے ۔ سو آنحضرت ﷺ معہ اپنے لشکر کے بنو قریظۃ کی طرف روانہ ہوئے اور ان کا محاصرہ کر لیا یہ محاصرہ 25 یوم جاریر رہا یہاں تک کہ بنوقریظۃ اس محاصرہ سے تنگ آ گئے ۔ اللہ تعالی نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا ۔
محاصرہ کے دوران بنوقریظۃ نے آنحضرت ﷺ کو پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس بنی عمرو بن عوف کو بھیجیں ، تاکہ ہم سے اصلاح مشورہ کر سکیں آنحضرت ﷺ نےان کی دخواست قبول کرتے ہوئے حضرت ابو لبابۃ کو بھیجا ، جب حضرت لبابۃ ان کے پاس پہنچے ، تو ان کے مرد ، عورتوں اور بچوں نے رونا شروع کر دیا حضرت لبابۃ کا دل پیسج گیا ۔ اس کے بعد بنوقریظۃ کے لوگ کہنے لگے کہ کیا محمدﷺ کے فیصلہ پر سرِ تسلیم خم کر دیا جائے ؟ حضرت ابو لبابۃ نے کہا : ہاں اور اس کے ساتھ گلے پر ہاتھ پھیر کر اس کی طرف اشارہ کیا حضرت ابولبابۃ کہتے ہیں میں ابھی وہاں ہی تھا کہ مجھے محسوس ہواکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خیانت کی ہے ، چنانچہ فورا واپس آئے اور آنحضرت ﷺ سے ملے بغیر مسجد نبوی میں ستون سے اپنے آپ کو باندھ اور اعلان کیا کہ جب تک اللہ میرا قصور معاف نہ فرمائے گا اس وقت اس جگہ سے نہیں ہٹوں گا ) چنانچہ اللہ تعالی نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور یہ آیت نازل ہوئی :
'' اور کچھ لوگ ہیں کہ اپنے گناہوں کا صاف اقرار کرتے ہیں ۔ انہوں نے اچھے اور برُ ے عملوں کو ملا دیا ہے کہ خدا ان پر مہربانی سے توجہ فرمائے ، بے شک خدا بخشنے والا مہربان ہے ۔ ( توبہ : 102)
حضرت لبابہ بیس روز ستون سے بندھے رہے ، صرف نماز کے لئے ان کی بیوی ان کو کھولتی چنانچہ آنحضرت ﷺ نے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ان کو ستون سے کھولا اس کے بعد بنو قریظۃ نے اوس کے سردار حضرت سعد بن معاذ کو اپنا '' حکَمَ'' تسلیم کیا ،حضرت سعد بن معاذ نے فیصلہ کیا کہ :
میں یہ فیصلہ کرتا ہو ں کہ ان کے مرد قتل کر دیے جائیں ، ان کا مال تقسیم کر لیا جائے ، بچے او رعورتیں غلام بنا لئے جائیں ۔
آنحضرت ﷺ نے بنو قریظۃ سے جو معاملہ فرمایا ، وہ جنگی سیاست اور عر ب کے یہودی قبائل کی سرشت اور اُفتادِ طبع کے مطابق تھا ، ان کے لئے اسی قسم کی سخت کی اور عبرت ناک سزا کی ضرورت تھی ، جس سے عہد شکنی کرنے والوں اور دھوکہ بازوں کو ہمیشہ کے لئے سبق مل جائے ، اور آئندہ نسلیں اس سے عبرت پکڑیں ۔
(8) غزوۂ حُدیبیہ:
اس غزوہ کا ذکر سورۂ فتح کی آیت 10 ، میں اس طر ح آیا ہے :
'' اے نبی ! جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے تھے ، وہ در اصل اللہ سے بیعت کر رہے تھے ، ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا ۔ اب جو اس عہد کو توٗے گا ، اس کی عہد شکنی کا وبال ا س کی اپنی ذات پر ہی ہوگا او رجو اس عہد کی وفا کرے گا ، جو اس نے اللہ سے کیا ہے ، اللہ عنقریب اس کو بڑا اجر عطا فرمائے گا ۔ ( تفہیم القرآن )
یہ غزوہ ذی قعدہ 6 ہجری میں ہوا ۔ جنگ کی نوبت نہیں آئی تھی کہ ایک معاہدہ ہو گیا ، قرآن مجید نے اس کو فتح مبین قرار دیا ہے اس غزوہ کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ آنحضرت نے خواب دیکھا کہ آپ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کا طواف کیا ۔ یہ رؤیائے صادقہ سے تھا ۔ لیکن اس میں زمانہ ،مہینہ اور سال کا تعین نہ تھا صحابہ کرام کو مدت سے اشتیاق تھا کہ وہ بیتُ اللہ کا طواف کریں چنانچہ آنحضرت ﷺ نے عمرہ کا احرام باندھا ، تا کہ لوگوں کو علم ہو جائے کہ آپ صرف زیارت ِ بیت اللہ کے لئے تشریف لے جا رہے ہیں ( زادُالمعاد : ص 380 ، ج1)
مقام عسفان پر آپ کو صخر نے اطلاع دی کہ قریش مکہ آپ سے جنگ کے لئے آمادہ ہیں اور انہوں نے ایک خاصی فوج جمع کر لی ہے اور وہ آپ کو بیت اللہ میں داخل نہیں ہونے دیں گئے ۔ چنانچہ آپ ﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر قیام کیا اور حضرت عثمان بن عفان کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا کہ آپ قریش سے جا کر کہیں کہ :
ہم جنگ کرنے کے لئے نہیں آئے بلکہ عمرہ کے ارادہ سے آئے ہیں ، ان کو اسلام کے دعوت بھی دینا ۔ نیز آپ ﷺ نے حضرت عثمان سے یہ بھی فرمایا کہ مکہ مکرمہ میں جو مسلمان مرد اور عورتیں ہیں ، ان کو فتح کی بشارت دیں اور ان کو یہ خوشخبر ی بھی سنائیں کہ اللہ تعالی مکہ میں اپنے دین کو غالب کرنے والا ہے یہاں تک کہ ایمان کو پوشیدہ رکھنے کی ضرورت باقی نہ رہے ( زادالمعاد : ص 381 ، ج 1 )
جب حضر عثمان مکہ پہنچے اور ابو سفیان اور دوسرے سربر آوردہ اشخاص سے ملے اور انہیں آنحضرت ﷺ کا پیغام تو انہوں نے انکار کیا اور حضرت عثمان سے کہا کہ آپ کو طواف کرنے کی اجازت ہے لیکن حضرت عثمان نے فرمایا ، جب تک آنحضرت ﷺ طواف نہ کر لیں گے ، میں اس وقت طواف نہیں کرسکتا ( سیرت ہشام : ج2 ، ص 315 ) ادھر یہ افواہ پھیل گئی کہ حضرت عثمان کو شہید کر دیا گیا ہے ، آپ ﷺ نے تمام لوگوں سے ایک درخت کے نیچے بیعت لی اور حضرت عثمان کی طر ف سے اپنے دستِ مبارک سے بیعت لی ، اللہ تعالی نے اس کو بیعتِ رضوان کا نام دیا اور اس کا ذکر اس آیت میں ہے :
'' اے پغمبر ! جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو خدا ان سے خوش ہوا جو صدق و خلوص ان کے دل میں تھا ، وہ اس نے معلوم کر لیا تو ان پر تسلّی نازل فرمائی او رانہیں جلد فتح عنایت کی ''( فتح: 18)
جب قریش اس بات پر اڑ گئے کہ ہم آنحضرت ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو اس سال مکہ مکرمہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے توایک معاہدہ پ بات ختم ہوئی ، قریش کی طرف سے سہیل بن عمرو معاہدہ کرنے کے لئے ، آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچا اور ایک معاہدہ طے ہوا جس کی شرائط یہ تھیں :
1۔ مسلمان ایک سال واپس چلے جائیں ۔
2۔ اگلے سال آئیں او رصرف تین دن قیام کر کے چلے جائیں ۔
3۔ ہتھیار لگا کر نہ آئیں ، صر ف تلوار ساتھ لائیں ، وہ بھی نیام میں ہو اور نیام بھی چلبان ( تھیلا وغیرہ) میں
4۔ مکہ میں جو مسلمان مقیم ہیں ان میں سے کسی کو اپنے ساتھ نہ لے جائیں اور مسلمانوں میں سے مکہ میں کوئی رہ جانا چاہیے تو اس کو نہ روکیں ۔
5۔ کافروں یا مسلمانوں میں سے کوئی شخص اگر مدینہ جائے تو واپس کر دیا جائے لیکن اگر کوئی مسلمان مکہ میں رہ جائے تو واپس نہیں کیا جائے گا ۔
6۔ قبائل عر ب کو اختیار ہو گا کہ فریقین میں سے جس کے ساتھ چاہیں معاہدہ میں شریک ہو جائیں ۔ ( سیرۃ النبی ﷺ : ج 1 ، 455۔456)
یہ شرطیں بظاہر مسلمانوں کے سخت خلاف تھیں ، اس کے بعد آنحضرت ﷺ صلح نامہ سے فارغ ہوئے تو آپ نے قربانی کے جانور ذبح کئے اس کے بعد حجامت بنوائی اور جب لوگوں کویقین ہو گیا کہ اس فیصلہ میں بتدیلی نہیں ہو سکتی تو سب نے قربانیاں کیں او راحرام اتارا اس کے بعدٖآپ نے تین دن حدیبیہ میں قیام کیا اور اس کے بعد مدینہ روانہ ہوئے ، تو راستہ میں یہ آیت نازل ہوئیں :
'' اے محمدﷺ ہم نے آپ کو فتح دی ، صریح و صاف تاکہ خدا آپ کے اگلے و پچھلے گناہ بخش دے اور آپ پر اپنی نعمت پوری کر دے اور آپ کو سیدھے راستے پر چلائے اور خدا آپ کی زبردست مدد کرے '' الفتح ، 1 تا 3)
تمام مسلمان جس چیز کو شکست سمجھتے تھے خدا نے اس کو فتخ کہا آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر کو بلاکر فرمایا کہ یہ آیت نازل ہوئی ہے ، انہوں نے تعجب سے پوچھا کیا یہ فتح ہے ؟ آپ نے فرمایا ۔ ہاں سو حضرت عمر کو تسکین ہو گئی اور آپ مطمن ہو گئے ۔ نتائج ما بعد نے اس رازِ سر بستہ کی عقدہ کشائی کی ۔
یہ صلح ، فتح و ظفر میں کیسے تبدیل ہوئی ۔ آخر میں پیش آنے والے واقعات نے اس کو صحیح ثابت کیا ، صلح کی وجہ سے مکہ مدینہ میں آمد رفت شروع ہوئی اور اس کے ساتھ ہی اسلام کے اقبال و ظفر کا ایک نیا دروازہ کھل گیا اور اسلام اس قدر تیزی سے جزیرۃُ العرب میں پھیلا کہ اس کی مثال نہیں ملتی اس صلح نے ہی فتح مکہ کی راہ ہموار کی علامہ شبلی نعمانی لکھتے ہیں کہ :
'' اب تک مسلمان اور کفار ملتے جُلتے نہ تھے اب صلح کی وجہ سے آمد ورفت شروع ہوئی ، خاندان اور تجارتی تعلقات کی وجہ سے کفار مدینہ میں آتے ۔ اور مہنوں قیام کرتے اور مسلمانوں سے ملتے جلتے تھے باتوں باتوں میں اسلامی مسائل کا تذکرہ آتا رہتا تھا اس کے ساتھ ہر مسلمان اِخلاص ، حسن عمل نیکو کاری ، پاکیزہ اخلاقی کی ایک زندہ تصویر تھا جو مسلمان مکہ جاتے تھے ، ان کی صورتیں یہی مناظر پیش کرتی تھیں اس سے بخود کفار کے دل اسلام کی طرف کھنچے آتے تھے ۔ مؤ رخین کا بیان ہے اس معاہدہ صلح سے لے کر فتح مکہ تک اس قدر کثرت سے لوگ اسلام لائے کہ کبھی نہیں لائے تھے حضرت خالد بن ولید ( فاتح شام ) اور حضرت عمر و بن العاص ( فاتح مصر) کا اسلام لانا بھی اسی زمانہ کی یاد گار ہے ۔ ( سیرۃ النبی : ج 1 ، ص 459 )
امام ابنِ شہاب زہری  فرماتے ہیں کہ :
اسلام کو اس سے پہلے اتنی بڑی کوئی فتح نہیں ہوئی ، جب فریقین ( قریش اور مسلمان ) میں صلح ہوئی جنگ بندی کا اعلان ہوا اور لوگ بلا خوف وخطر ایک دوسرے سے ملنے لگے ، اور ان کے ساتھ رہنے اور بات چیت کرنے کا موقع ملا ۔ جس سمجھ دار آدمی سے اسلام کےبارے میں گفتگو کی گئی ۔ وہ دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا تنہا ان دو برسوں میں اتنے لوگ اسلام میں داخل ہوئے ، جتنے اب تک ہوئے تھے بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ ( سیرۃ ابن ہشام : ص 322، ج 2)
(6) غزوۂ خیبر :
اس غزوہ کا ذکر قرآن مجید کی سورۃ الفتح ، آیت 17 ۔19 میں آیا ہے :
'' اللہ مؤمنوں سے خوش ہو گیا ، جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے ۔ ان کے دلوں کا حال اس کو معلوم تھا ، اس لئے اس پر سکینت نازل فرمائی ۔ ان کو انعام میں قریبی فتح بخشی اور بہت سا مال غنیمت ان کو عطا کر دیا جو عنقریب حاصل کریں گے ) اللہ زبر دست اور حکیم ہے ۔ '' ( تفہیم القرآن ) غزوۂ خیبر ، 7 ہجری میں ہوا اس میں جنگ ہوئی جس کے نتیجے میں خیبر فتح ہوا اور یہود کو وہاں سے نکال دیا گیا خیبر ایک یہودی آبادی تھی اور عرب میں یہودی قوت کا سب سے بڑا مرکز تھا یہود کا جنگی مستقر اور جزیرۃُ العرب میں ان کا آخری قلعہ تھا بنو نضیر ، مدینہ سے جلاوطن ہو کر خیبر میں آباد ہوگئے تھے اور یہ لوگ آئے دن شازشوں میں مصروف رہتے تھے جنگ احزاب میں بھی یہودی سازش کی وجہ سے و قوع پذیر ہوئی اور اب یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف تیاریوں میں مصروف تھے ۔
یہ یہودی مسلمانوں کے خلاف برابر ریشہ دوانیوں میں مصروف رہتے تھے اور اس بات کو کسی بھی وقت نہ بھولتے کہ ان کے دوسرے بھائییوں کے ساتھ جو بھی ہوا ہے ، وہی سب ان کے ساتھ بھی پیش آسکتا ہے وہ قبیلہ غطفان کے ساتھ مل کر مدینہ طیبہ پر حملہ کی سازش کر رہے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے بھی ارادہ فرما لیا کہ اب ان سے اور ان کی سازشوں سے نجات حاصل کر لی جائے اور اس محاذ کی طرف سے اطمینان اور یکسوئی حاصل ہو یہ علاقہ مدینہ کے شمال مشرق میں 70 میل کی مسافت پر واقع تھا ۔( نبی رحمت : ج 2 ، ص 36)
آنحضرت ﷺ نے حدیبیہ سے نکل کر مدینہ میں ذی الحجہ کا پورا مہینہ اور محرم کا کا کچھ حصہ قیام فرمایا ، اور ا س کے یعد خیبر کا رخ کیا ، حضرت سباح بن عر فظۃ غفاری کو مدینہ کا امیر مقرر کیا ۔ازواج مطہرات میں حضرت سلمہ رضی اللہ عنھا ساتھ تھیں فوج کی تعداد 12 سو تھی جن میں 2 صد سوار اور باقی پیدل تھے ۔
2۔ آنحضرت ﷺ نے سب سے پہلے خیبر کے قلعوں کی طرف توجہ کی اور ایک ایک کر کے تمام قلعوں کو فتح کیا ، ان قلعوں میں ایک قلعہ ایسا تھا جو نامور یہودی شہسوار ، مرحب کا پایہ تخت تھا اس قلعہ کو حضرت علی بن ابی طالب نے سر کیا یہودی شہسوار مرحب یہ رجز پڑھتا ہو سامنے آیا :
خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں
دلیر ہوں ، تجر بہ کا ر ہوں ، صلاح پوش ہوں
مرحب کے جواب میں حضرت علی نے یہ رجز پڑھا :
میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میر ا نام شیر رکھا ہے
میں شیر کی طرح مہیب و بد منظر ہوں
مرحب بڑے طمطراق سے آیا لیکن حضرت علی نے اس زور سے تلوار ماری کہ سر کو کاٹتی ہوئی دانتوں تک اتر آئی اس ضرب کی آواز فوج نے سنی اور مرحب وہیں ڈھیر ہو گیا اور اللہ تعالی نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی ۔
(10)فتحِ مکہ:
فتح مکہ کا ذکر سورۂ حدید کی آیت 10 ، اور سورۂ نصر میں آیا ہے :
'' آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ، حالانکہ زمین اور آسمان کی میراث ، اللہ کے لئے مہے ۔ تم میں سے جو لوگ ، فتح کے بعد خرچ اور جہاد کریں گے وہ کبھی ان لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ کیا اور جہاد کیا ہے ۔ ان کا درجہ بعد میں خرچ اور جہاد کرنے والوں سے بڑھ کر ہے۔
اللہ نے دونوں ہی سے اچھے وعدے کیے ہیں ۔ جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ اس سے با خبر ہے ۔ ( تفہیم القرآن )
'' جب اللہ کی مدد آ جائے اور فتح نصیب ہو جائے اور ( اے نبی ) تم دیکھ لو کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو ، اور اس سے مغفرب کی دعا مانگو، بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے ۔ '' ( تفہیم القرآن)
رمضان 8 ہجری میں مکہ فتح ہوا۔
آنحضرت ﷺ کا سب سے مقد م فرض ، توحید کا احیاء اور بیت اللہ کو بتوں کی آلائش ، جھوٹ اور فحش کلامی کی گندگی و ناپاکی سے پاک کرنا تھا اور اس کے ساتھ مکہ مکرمہ کو اس کی پرانی حیثیت اور مرتبہ واپس دلانا تھا ، اور بیت اللہ کو پوری انسانیت کے لئے سر چشمئہ ہدایت و برکت بنانا تھا ، اور اس کے فیضان رحمت کو دنیا تمام انسانوں کےلئے عام کرنا تھا اللہ تعالی نے فتح مکہ کرنے کے تمام خاص اسباب پیدا فرمائے اور خود قریش کو نا دانستہ طور پر اس کا باعث اور محرک بنایا اور ایک ایسا واقعہ ظہور پذیر ہوا جس نے مکہ فتح کرنے کے اسباب پیدا کر یئے ۔ عرب کے دو قبائل ، بنو بکر اور بنو خزاعہ تھے بنو بکر نے قریش کی پشت پناہی قبول کی اور بنو خزاعہ نے آنحضرت ﷺ کی حمایت اور پشت پناہی پسند کی ( سیرت ابن ہشام : ج 2 ص 390) بنو بکر اور بنو خزاعہ میں پرانی دشمنی تھی ایک دن بنو بکر کے لوگوں نے بنو خزاعہ کے لوگوں پر حملہ کر دیا جس میں بنو خزاعہ کے کافی آدمی مارے گئے اور قریش نے بنو بکر کی مدد کی ، جو معاہدہ حدیبیہ کی ایک شر ط کی خلاف ورزی تھی ۔ بنو خزاعہ کے آدمی مدینہ میں آنحضرت ﷺ کے پاس پہنچے اور بنو بکر قریش کی زیادیتوں سے آپ ﷺ کو آگاہ کیا آ نحضرت ﷺ کو اس کا بہت رنج ہوا آپﷺ نے قریش کےپاس قاصد بھیجا اور تین شرطیں پیش کیں :
(1) مقتولین کا خون بہا دیا جائے ۔
(2) قریش بنوبکر کی حمایت سے الگ ہو جائیں ۔
(3) اعلان کر دیا جائے کہ معاہدہ حدیبیہ ختم ہوگیا ہے ۔
قریش نے قاصد کو یہ پیغام دیا کہ صرف تیسری شرط مظور ہے ۔( زرقانی : ج2، ص 336)
اس کے بعد ابوسفیان مکہ سے مدینہ پہنچا ، آنحضرت ﷺ سے ملا ، آپ سے گفتگو کی، لیکن آپ نے کوئی جواب نہ دیا حضرت ابو بکر صدیق ، حضرت عمر فاروق ، حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا سے ملا ، کہ آپ کو شش کریں کہ معاملہ کسی طرح رفع ہو جائے ، لیکن کسی نے بھی حامی نہ بھری ، اور ابوسفیان ، مدینہ سے مکہ واپس آگیا ۔
10 رمضان ، 8 ہجری کو آنحضرت ﷺ مدینہ منورہ سے 10 ہزار فوج کے ساتھ مکہ کے لئے ورانہ ہوئے ۔ راستہ میں قبائل عرب بھی آپ کے ساتھ شامل ہو گے ، مرّ الظھران پہنچ کر لشکر نے پڑاؤ کیا اور آنحضرت ﷺ نے تمام فوج کو آگ روشن کرنے کا حکم دیا ، جس سے تمام صحرا '' وادی ایمن'' بن گیا قریش کو آپ کے آمد کی بھنک پڑچکی تھی ابوسفیان جاسوسی کی غرض سے اور حالات کا اندازہ کرنے کے لئے ادھر سے گزر ا ، تواس کے منہ سے یہ الفاظ نکلے کہ میں نے ایسا لشکر اور اس طرح کی روشنی ، اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی ابوسفیان ایک طرح سے اسلامی فوج کے گھیرے میں تھے ، حضرت عمر فاروق نے ان کے قتل کی اجازت مانگی لیکن حضرت عباس نے معافی دلوادی اور اس وقت ابوسفیان نے اسلام قبول کر لیا ، اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے حضرت عباس کو ہدایت کی کہ ایوسفیان کو ایسی جگہ لے جائیں جہا ں سے اسلامی دستوں کی پیش قدمی کا نظارہ ہو سکے ۔ ابوسفیا ن نے جب منظر دیکھا تو حیران رہ گیا ۔
حافظ ابن القیم  کہتے ہیں کہ :
ابوسفیان نے یہ منظر دیکھ کر کہا کہ خداکی شان ، عباس یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : یہ رسول اللہ ﷺ ہیں جو مہاجرین و انصار کے جلوے میں تشریف لے جا رہے ہیں انہوں نے کہا : ان میں سے کسی کو اس سے پہلے یہ طاقت اور شان و شوکت حاصل نہ تھی ۔ خدا کی قسم اے ابوالفضل ! تمہارے بھتیجےکا اقتدار آج کی صبح کتنا عظیم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ابوسفیان ، یہ نبوت کا معجزہ ہے ۔ اس کے بعد ابوسفیان نے بلند آواز سے اعلان کیا کہ اے قریش کے لوگو ! یہ محمد ﷺ اتنی طاقت کے ساتھ تمہارے پاس آئے ہیں ، جس کا تم کو کبھی تجربہ نہ ہوا ہو گا اب جو ابوسفیان کے گھر میں آجائے گا ، اس کی امان دی جائے گی ۔ یہ لوگ سن کر کہنے لگے : اللہ تم سے سمجھے تمہارے گھر کی حقیقت ہی کیا ہے ۔ کہ ہم کو اس میں پناہ مل سکے ، پھر انہوں نے کہا جو اپنے گھر کا دروازہ بند کرے گا اس کو امان ملے گی اور مسحد حرام میں چلا جائے گا ، اس کو بھی امان ملے گی ، چنانچہ لوگ منتشر ہو گئے ، اپنے اپنے گھروں اور مسجد حرام میں پناہ گیر ہوئے ۔ ( زادالمعاد : ج 1 ، ص 423)
آنحضرت ﷺ مکہ مکرمہ میں اس شان میں داخل ہوئے کہ سر مبارک ، عبدیت و توضع کے غلبہ سے جھک گیا تھا ، او رآپ اس کے ساتھ سورۂ فتح کی تلاوت فرما رہے تھے ، اور یہ واقعہ 21 رمضان ( بروز جمعہ ) 8 ہجری کا ہے ۔ آنحضرت ﷺ نے بیت اللہ کا طواف کیا اور اللہ کی شان ، حرم محترم ، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد گار تھا ، اس کے اندر 360 بُت تھے آپ کے ہاتھ میں ایک کمان تھی ، آپ اس کمان سے بتوں کو ٹھوکر دئیے جاتے اور فرماتے تھے -
﴿وَقُل جاءَ الحَقُّ وَزَهَقَ البـٰطِلُ إِنَّ البـٰطِلَ كانَ زَهوقًا ﴿٨١﴾... سورة الإسراء
'' حق آگیا اور باطل مٹ گیا اور باطل مٹنے ہی کی چیز تھی ''
اس کے ساتھ یہ تمام ایک ایک کر کے منہ کے بل گرتے گئے ( زادالمعاد : ج 1 ص 424 ) اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے کعبہ سے نکلنے کے لئے دروازہ کھولا تو قریش پورے حر م میں صف بستہ کھڑے تھے اور منتظر تھے کہ آپ ﷺ کیا کرنے والے ہیں ، آپ ﷺ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس کے بارے میں علامہ شبلی نعمانی کہتے ہیں کہ :
'' شہنشاہ اسلام کا پہلا دربار عام تھا خطبئہ سلطنت یعنی بار گاہِ واحدیت کی تقریر خلافت ِ الہی کے منصب سے رسول اللہ ﷺ نے ادا کی جس کا خطاب صرف اہل مکہ سے نہیں بلکہ تمام عالم سے تھا ۔''
آپ نے ارشاد فرمایا :
'' ایک خدا کے سوا کوئی خد ا نہیں ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ اس نے اپنا وعدہ سچا کیا ۔ اس نے اپنے بندے کی مدد کی اور تمام جتھوں کو تنہا توڑ دیا ۔ ہاں اس نے تمام مفاخر ، تمام انتقامات ، خون بہائے قدیم اور تمام خون بہا ، سب مِرے قدموں کے نیچے ہیں . صرف حرم کعبہ کی تولیت او رحجاب کی آب رسانی اس سے مستثنی ہیں اے قوم قریش ! اب جاہلیت کا غرور اور نسب کا افتخار خدا نے مٹا دیا ہے ۔ تمام لوگ آدم کی نسل سے ہیں او رآدم مٹی سے بنے تھے ۔''
اس کے بعد ٖ آپ نے یہ آیت پڑھی :
'' لوگو ہم نےتم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہاری قوم اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کی شناخت کر و ، اور خدا کے نزدیک تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے ، جو زیادہ پرہیز گار ہے بے شک خدا سب کچھ جاننے والا اور سب سے خبر دار ہے '' ( سورۂ حجرات : 13 ) ... ( زادالمعاد : ج1، ص 424)
اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے قریش کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : کہ تمہیں معلوم ہے کہ میں آج تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں گا ؟ انہوں نے جواب میں کہا ہم ایسی امید رکھتے ہیں کہ آپ کریم النفس شریف بھائی ہیں اور شریف بھائی کے بیٹے ہین ۔ آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا :
میں تم سے وہی کہتا ہوں جو یوسف ﷩ نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا :
لا تثريب عليكم اليوم، اذهبوا فأنتم الطلقاء
'' آج تم پر کوئی الزام نہیں ، جاؤ تم سب آزاد ہو ''
اس کے بعد مکہ سے مدینہ روانہ ہوئے حضرت عتاب بن اسید کو مکہ کا گورنر مقرر کیا ، اس وقت ان کی عمر 20 سال تھی حالانکہ اس وقت سن رسیدہ اور اربابِ فضل و کمال موجود تھے یہ اس بات کی علامت ہے کہ عہدے اور منصب ، اہلیت و صلاحیت کی بنیاد پر ملتے ہیں ( نبی ِ رحمت : ج 2 ، ص 79 ، 80)
(11) غزوۂ حنین :
اس غزوہ کا ذکر سورۂ توبہ کی آیت 25 ، 26 میں آیا ہے :
'' اللہ اس سے پہلے بہت سے مواقع پر تمہار ی مدد کر چکا ہے ابھی غزوۂ حنین کے روز اس کی دستگیری کی شان تم دیکھ چکے ہو اس روز تمہیں اپنی کثرت کا غرور تھا مگر وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی ، اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی اور تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے ۔ پھر اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول او رمؤمنین پر نازل فرمائی اور وہ لشکر اتارے جو تم کو نظر نہ آتے تھے اور منکرینِ حق کو سزا دی ۔ کہ یہی بدلہ ہے ، ان لوگوں کے لئے جو حق کا انکار کریں '' – تفہیم القرآن )
یہ غزوۂ شوال 8 ہجری میں وقوع پذیر ہوا ۔ '' حًنین '' مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی کا نام ہے ۔ اسلام کی فتوحات کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہو رہا تھا اور بہت سے قبائل نے اسلام قبول کر لیا تھا ، لیکن قبیلہ ہوازن کے لوگوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا اور یہ قبیلہ بہت جنگجو ارو خونِ جنگ سے واقف تھا اسلام جس قدر غلبہ حاصل کر رہا تھا اس قدر اس قبیلہ کو سخت ناگواری محسوس ہوتی تھی ۔
مولانا سید ابوالحسن علی ندوی و قمطراز ہیں کہ :
قبیلہ ہوازن ، قریش کے بعد دوسرے درجہ کی طاقت سمجھی جاتی تھی ان کے اور قریش کے درمیان رقابت اور مقابلہ کا جذبہ پہلے سے موجود تھا چنانچہ قریش نےاسلام کی ابھرتی ہوئی طاقت کے سامنے ہتھیار رکھ دیئے اور اپنی شکست تسلیم کر لی لیکن ہوازن نے اپنا سر تسلیم خم کرنے سے انکار کر دیا ، بلکہ اس کے اندر یہ جذبہ اور شوق پیدا ہوگیا کہ اسلام کی بیخ کنی کا عظیم کا ر نامہ اس کے نامئہ اعمال میں لکھا جائے ، اور یہ فضیلت و شہرت اس کے نصیب میں آئے ، اور لوگ کہیں کہ جو کام قریش نہ کرسکے اس کو سردار مالک بن عوف النصری نے اعلان جنگ کر دیا اور اس کے ساتھ قبیلہ ثقیف وغیرہ بھی مل گیا ۔ دوسری طرف آنحضرت ﷺ شوال 8 ہجری میں 12 ہزار فوج لے کر حُنین کی طرف بڑھے اور اسلامی فوج کے بغض آدمیوں کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے کہ :
آج ہم پر کون غالب آسکتا !!
لیکن اللہ تعالی کو یہ نازش پسند نہ آئی اور اللہ نے آیات نازل فرمائیں :
'' اور حنین کا دن یاد کرو کہ جب تم اپنی کثر ت پر نازاں تھے ، لیکن وہ کچھ کام نہ آئی اور زمین باجود وسعت کے تم پر تنگی کرنے لگی ، پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے ، پھر اللہ نے اپنے رسول پر او رمسلمانوں پ تسلی نازل کی اور ایسی فوجیں بھجیں جو تم نے نہیں دیکھیں اور کافروں کو عذاب دیا اور کافروں کی یہی سزا ہے ۔ (سورۂ توبہ : 25،26)
یہ بڑے معرکے کی جنگ تھی مسلمانوں پر اچانک حملہ ہوا ، جس سے مسلمان گبھرا گئے آنحضرت ﷺ خچر پر سوار تھے اور حضرت عباس بن عبد المطلب نے خچر کی لگام تھا م رکھی تھی اور آپ فرماتے جاتے تھے :
انا النبى لا كذب انا ابن عبدالمطلب
'' میں پغمبر صادق ہوں میں فرزند عبدالمطلب ہوں ''
اس حالت میں مشرکین کی ایک جماعت آپ کے سامنے سے گزری ، آپ نے مٹی کی ایک مٹھی ان پر پھینکی تو ان کی آنکھوں میں بھر گئی ۔ اس کے بعد حضرت عباس کو حکم دیا کہ مہاجرین و انصار کو آواز دو ، انہوں نے نعرہ بلند کیا :
يا معشر الانصار اے گروہ انصار !
يا اصحاب الشجرة اے اصحاب شجرہ ( بیعت رضوان ) والو!
اس نعرہ کے سنتے ہی تمام فوج و فعتا پلٹ پڑی ، بڑی گھمسان کی جنگ ہوئی اور لڑائی کا نقشہ بدل گیا ۔ قبیلئہ ثقیف کے 70 آدمی مارے گئے جن میں ان کا علم بردار بھی شامل تھا ، اور قبیلہ ہوازن کے آدمیوں بھاگ کر طائف میں پناہ لی جن میں ان کا سپہ سلار مالک بن عوف بھی شامل تھا اسیران جنگ کی تعداد ہزاروں سے زیادہ تھی ان میں حضرت شیمہ بھی داخل تھیں آنحضرت ﷺ کی رضاعی بہن تھیں ۔
مولانا شبلی نعمانی ، طبقاتِ ابن سعد کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ :
اسیران جنگ کی تعداد ہزاروں سے زیادہ تھی ان میں سے حضرت شیمہ بھی تھیں جو رسول اللہ ﷺ کی رضاعی بہن تھیں لوگوں نے جب ان کو گرفتار کیا ، تو انہوں نے کہا میں تمہارے پغمبر کی بہن ہوں لوگ تصدیق کے لئے آنحضرت ﷺ کے پاس لائے ، انہوں نے پیٹھ کھول کر دکھائی کہ ایک دفعہ بچپن میں آپ نے دانت سے کاٹا تھا ، یہ اس کا نشان ہے ۔ فرط محبت سے آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ان کے بیٹھنے کے لئے خود ، ردائے مبارک بچھائی ، محبت کی باتیں کیں ، چند شتر اور بکریاں عنائت فرمائیں اور ارشاد فرمایا کہ جی چاہے تو میرے گھر چل کر رہو اورگھر جانا چاہو تو وہاں پہنچا دیا جائے انہوں نے خاندان کی محبت سے وطن جانا چاہا چنانچہ عزت و احترام کے ساتھ پہنچا دی گئیں ۔ (سیرۃ النبی : ج 1، ص 540 ، 541)
غزوہ حنین کے بعد عربوں کے سینے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو آگ سلگ رہی تھی ، وہ ٹھنڈی پڑ گئی ، اور اس لڑائی نے ان کے تمام ارمانوں پر پانی پھیر دیا ، ان کی طاقت ختم ہوگئی جمعیت ذلیل ہو گئی اور ان کے دل اسلام کے لئے کھل گئے ، غزوہ حنین اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کفار کی آخری جنگ تھی
(12) غزوۂ تبوک :
اس غزوہ کا ذکر سورۂ توبہ کی آیت 38 سےشروع ہوتا ہے اور سورۂ توبہ میں اس غزوہ کے بہت سے واقعات کی تفصیل ہے اور تقریبا آخر سورت تک ، اسی غزوہ کا تذکرہ ہے ' اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لئے کہا گیا تو تم زمین سے چمٹ کر رہ گئے کیا تم نے آخرت کی زندگی کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا کیا تمہیں معلوم ہے کہ دنیوی زندگی کا یہ سب سروسامان آخرت میں بہت تھوڑا نکلے گا '' ( تفہیم القرآن )
غزوہ تبوک رجب 9 ہجری میں ہوا جنگ کی نوبت نہیں آئی ۔ یہ آخری غزوہ تھا جس میں آنحضرت ﷺ نے شرکت فرمائی ۔ تبوک ایک مشہور مقام ہے جو مدینہ منورہ سے سات سو کلو میٹر دور ہے ۔ یہ غزوہ اس طرح پیش آیا کہ آنحضرت ﷺ کو اطلاع دی کہ رومیوں نے ایک لشکر جرار جمع کیا ہے اور فوج کو سال بھر کی تنخواہیں تقسیم کر دی ہیں او رفوج میں لخم ، جذام اور غسان کے قبائل عرب بھی شامل ہو گئے یہ غزوہ رجب 9 ہجری میں پیش آیا سخت گرمی کا موسم تھا آپ ﷺ 30 ہزار فوج کے ساتھ مدینہ سے نکلے ، حضرت علی بن ابی طالب کو مدینہ میں اپنے حرم کی حفاظت کے لئے چھوڑ گئے اتنی بڑی فوج اس سے پہلے کسی غزوہ میں شریک نہیں ہوئی تبوک پہنچ کر آنحضرت ﷺ کو معلوم ہوا کہ خبر صحیح نہ تھی لیکن اصلیت سے بالکل خالی بھی نہ تھی آپ ﷺ نے تبوک میں 20 دن تک قیام کیا ابلہ کا سردار حاضر خدمت ہوا اور جزیہ دینا منظور کیا ، اس کے بعد آنحضرت ﷺ واپس تشریف لائے ( سیرۃ ابن ہشام : ج2، 527 )
غزوہ تبوک کے دوران کئی اہم واقعات پیش آئے جس کی محتصر تفصیل یہ ہے :
سب سے پہلا واقعہ یہ پیش آیا کہ تبوک روانگی کے وقت منافقین نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں درخواست کی کہ ہم نے بیماریوں اور معذورں کے لئے ایک مسجد بنائی جائے آپ اس میں ایک نماز ادا کریں تو مقبول ہو جائے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں تو اس وقت تبوک جا رہا ہوں ۔ جب آپ واپس آئے تو آپ نے حکم دیا کہ اس مسجد کو آگ لگا دیں ، یہ مسجد ضرار ہے اس مسجد کے بارہ میں یہ آیات نازل ہوئیں:
'' کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے یہ مسجد بنائی اس غرض کے لئے کہ – دعوت ِ حق کو) نقصان پہنچائیں اور ( خدا کی بندگی کرنے کے بجائے ) کفر کریں ، او راہل ایمان میں پھوٹ ڈالیں اور ( اس بظاہر عبادت گاہ کو ) اس شخص کے لئے کمین گاہ بنائیں جو اس سے پہلے خدا اور اس کے رسول کے خلاف بر سریبیکار ہو چکا ہے ، وہ ضرور قسمیں کھا کھا کر کہیں گئے کہ ہمارا اور ارادہ بھلائی کے علاوہ کسی دوسری چیز کا نہ تھا ، مگر اللہ گواہ ہے کہ وہ قطعی جھوٹے ہیں تم ہر گز اس عمارت پر کھڑا نہ ہونا ، جو مسجد اول روز سے تقویٰ پر قائم کی گی تھی وہی اس کے لئے زیادہ موزوں ہے کہ تم اس میں عبادت کے لئے کھڑے ہو ، اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند ہیں '' ( سورۂ التوبہ : 107، 108)
غزوہ تبوک میں ایک واقعہ یہ بھی پیش آیا کہ ایک صحابی عبد اللہ ذوالیادین کا انتقال ہوا ۔ انہوں نے جب اسلام قبول کیا تو ایک چادر لے کر آئے تھے اور چادر کے دو ٹکڑے ، انہوں نے بنائے ایک سے تہبند کا کام لیا اور دوسرے کو اپنے کاوپر اوڑھ لیا ، جب تبوک میں ان کا انتقال ہوا تو آنحضرت ﷺ نے حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر کے ساتھ تاریکی میں جنازہ کی متابعت کی ، قبر تیار ہوئی ۔ تو آنحضرت ﷺ خود قبر میں پہلے اترے حضرت صدیق اکبر اور حضرت عمر فاروق نے قبر میں اُتارا آپﷺ نے فرمایا اپنے بھائی کو میرے قریب کرو ، ٖآپ نے حضرت عبداللہ کو لحد میں لٹا دیا اور فرمایا ، اے اللہ میں اس سے راضی ہوں ، تو بھی اس سے راضی ہو جا ''
حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ میں تمنا کی کہ کاش میں اس قبر میں ہوتا ( سرۃ ابن ہشام : ج2 ، ص 528)
غزوہ تبوک میں ایک واقعہ یہ بھی پیش آیا کہ تین صحابہ کرام غزوہ تبوک میں شریک نہ ہو سکے ۔ وہ کعب بن مالک ، مرارہ بن الربیع اور ہلال بن امیئہ تھے ، یہ لوگ سابقین اولین میں سے تھے ، اسلام کے لئےان کی بہت قربانیاں تھیں ، اور راہ حق میں مصائب و آلام سے دو چار ہوئے تھے مرارۃ بن ربیع اور ہلال بن امیۃ تو جنگ بدر میں بھی شریک تھے غزوات سے فرار یا دور رہنا ان کی فطرت اور عادت سے دور تھا ان تینوں حضرات نے آنحضرت ﷺ سے صحیح حقیقت بیان کی اور جھوٹ نہیں بولا ، سچ بیان کیا ، جب کہ دوسر ی طرف لوگ باتیں بنا رکر معافی حاصل کر رہے تھے۔
مولانا سید ابوالحسن علی ندوی لکھتے ہیں کہ :
اللہ تعالی نے ان تینوں کے امتحان ، رسول اللہ ﷺ سے ان کی مجبت ، اسلام سے ان کی وفاداری اور مصیبت و راحت ، ہر حالت میں اس پر ثابت قدمی اور لوگوں کی عزت و تعظیم اور جفا وبے نیازی ، رسول اللہ ﷺ کی توجہ و اظہار تعلق اور آپ ﷺ کے اعراض و بے توجہی ، غرض دونوں حالت میں وفاداری کا ایسا سخت امتحان لیا جس کی نظیر ہمیں مذہبی معاشروں او رجماعتوں میں ( جو ایمان و عقیدہ اور محبت و جذبات پر قائم ہوتی ہیں ) کہیں نہیں ملتی ، اور اس میں کو ئی شبہ نہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے اس وقت سچ بولے اور جو کچھ حقیقت تھی ، بے کم و کاست بیان کردی ، جب لوگ باتیں بنا کر معافی حاصل کر رہے تھے انہوں نے خود اس وقت اپنے خلاف گواہی دی ، جب منافقین اپنے آپ کو اس سے ہر طرح بری قرار دے رہے تھے ۔( بنی رحمت : ج2، ص 110، 111) حضرت کعب بن مالک نے اپنا قصہ خود بیان کیا ہے ، جس کو امام بخار ینے اپنی کتاب الجامع الصحیح میں تفصیل سے نقل کیا ہے ان کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا ۔ بیوب بھی علیحدہ کر دی گئی اللہ تعالی نے مان تینوں اصحاب کا امتحان لیا ، امتحان میں یہ اصحاب کامیاب ہوئے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ان کا تذکرہ کر کے ان کو بقاءِ دوام عطاء کی ، اور ان کے واقعہ نے مسلمانوں کے لئے اَ بدُالاباد تک ایک سبق اور سامان ِ عبرت و نصیحت فراہم کر دیا ، اور ان کی قوت ایمانی اور حسن ِ اسلام کا پورا ثبوت مل گیا زمین کشادہ ہونے کے باوجو د ان پر تنگ ہو چکی تھی بلکہ خود ان کے نفس ان کے لئے تنگ تھے مگر وہ جاوۂ حق سے ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں ہٹے اس وقت اللہ تعالی نے آسمان کے اوپر سے ان کی قبولیت کا اعلان فرمایا:
'' بے شک خدا نے پغمبر پر مہربانی کی اور مہاجرین و انصار پر ، جو باوجود اس کے کہ ان میں سے بعضوں کے دل پھر جانے کو تھے ، مشکل کی گھڑی میں پغمبر کے ساتھ رہے پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی بے شک وہ ان پر نہایت شفقت کرنے والا اور مہربان ہے اور ان تینوں پر بھی جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا تھا یہاں تک کہ زمین باوجود فراخی کے ان پر تنگ ہوگی او ران کی جانیں بھی ان پر دو بھر ہو گئیں ، او ر انہوں نے جان لیا کہ خدا کے ہاتھ سے خود اس کے سوا کوئی پناہ نہیں پھر خدا نے ان پر مہربانی کی تاکہ توبہ کریں ، بے شک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے ۔'' ( سورۃ التوبہ : 117،118)
غزوات پر ایک نظر:
غزواتِ نبوی ، جن کی تعداد 86 ہے ۔ ان میں غزاوت 26 ، اور سرایا 60 ہیں ان تمام غزوات و سرایا میں جو آنحضرت ﷺ کے حکم سے بھیجے گئے ، جتنا خون بہایا گیا ، جنگوں کو پوری تاریخ میں ہمیں اس سے کم کوئی مقدار نظر نہیں ٖتی ۔ مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوری نے ان تمام غزوات میں مقتولین کی تعداد ( 1018 ) بتائی ہے۔ یہ تمام غزوات قرآن مجید کے اصول یعنی مدافعت ِ ظلم ، حفاظت دعوت اسلام اور مصالحت کرنے والوں کے ساتھ میلان اور مصالحت کے مطابق واقع ہوئے اور آپ ﷺ کی زندگی کے آخری زمانہ تک تمام جزیرۂ عرب آپ کے زیرِ اقتدار آگیا ۔