(1)امام مالک  اور مؤطا کا تعارف
(2) مؤطأ امام مالک اور مؤطأ امام محمد  موازنہ
(3) امام مالک اور تعامل اہل مدینہ
خاندانی تعارف:
علامہ کو ثری نے امام مالک کو بھی ''موالی '' میں شمار کیا ہے اور لکھا ہے کہ زہری اور محمد بن اسحاق صاحب المغازی دونوں کے نزدیک ، امام مالک موالی سے ہیں اور اس سلسلہ میں صحیح بخاری کے حوالہ سے ابن شہاب زہری سے ذکر کیا ہے۔
'' حدثنى ابن ابى مولى تيميّين''(1)
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ابن ابی انس ''ابو سہل نافع بن ابی انس مالک بن ابی عامر'' ہیں جو امام مالک کے چچا ہیں امام عبدالبر ''الانتقاء'' میں لکھتے ہیں واقدی نے امام مالک کا نسب یوں بیان کیا ہے ۔(2)
مالك بن انس بن مالك بن ابى عامر من ذى اصح من حمر له اعداد فى بنى تيم بن مرة الى عثمان بن عبدالله اخى طلحة بن عبيدالله
جبکہ مالک اور اس کے آباء بنی مرۃ (من قریش) کے حلیف تھے اور محمد بن اسحاق ( صاحب مغازی ) کے سوا کسی نے اس کا انکار نہیں کیا اور ابن اسحاق بھی معاصرت و منافرت کی وجہ سے کہا کرتے ۔
'' امام مالک اس کا باپ داد اور اعمام بنی تیم بن مرۃ کے موالی سے تھے ''
کیا امام مالک کا تعلق تیمیّین کے موالی سے تھا ؟
جہاں تک ابن شہاب  زہر ی کی ، ابو سہیل بن مالک سے روایت کا تعلق ہے :
''حدثنی نافع بن مالک مولی التیمین''
کہ انہوں نے مولی التمیین کہا ہے تو ابن عبداللہ نے اس سے انکار کیا ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ انکار صحیح نہیں ہے کیونکہ صحیح بخاری کتاب الصیام کے شروع میں یہ روایت موجود ہے جیسا کہ صحیح بخاری'' باب ھل یقال رمضان '' الخ دوسری حدیث کی اسناد میں ہے !
" عن ابن شهاب حدثنى ابن ابى انس''
بقول حافظ حجر یہ '' ابن ابی انس '' ابو سہیل نافع بن مالک ابو الحسن بن ابی عامر ہی ہیں ، جو اسماعیل بن جعفر کے شیخ ہیں امام نسائی نے بھی تصریح کی ہے کہ اس ابن ابی انس سے زہر ی کی مراد ''نافع'' ہی ہیں چنانچہ امام نسائی نے دوسرے طریق سے عقیل عن الزہری ابوسہیل عن ابیہ بیان کیا ہے اور صالح عن ابن شہاب سے واضح تر روایت بھی نے جس میں اخبرنی نافع بن ابی انس کی صراحت ہے ۔
امام نسائی کے ان مختلف طرق سے ابن ابی انس کا ابہام واضح ہو جاتا اور ان کی گنجائش باقی نہیں رہتی .
حافظ ابن حجر مزید لکھتے ہیں :
''مولی التیمیین سے مراد آلِ طلحہ بن عبیداللہ ہے ، جو عشرہ مبشرہ تھے حقیقت یہ ہے کہ امام مالک کے والد ابو عامر نے مکہ میں سکونت اختیار کی تو انہوں نے عثمان بن عبید اللہ سے عقد محالفت کر لیا جو حضرت طلحہ کے بھائی تھے تو اسی کی طرف نسبت مخالفت سے'' مولی بنی تیم '' مشہور ہوگے ورنہ وہ اصل میں موالی بنی تیم سے نہیں تھے اس بناء پر امام مالک فرمایا کرتے :
''لنا موالى آل تيم انما نحن عرب من اصبح ولكن جدى حالفهم''
یعنی یہ مولی کا لفظ تخالف اور عناصر کے معنی میں ہے .(3)
اور یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ امام ابو حنیفہ کے متعلق مشہور ہے کہ وہ بنی تیم کے موالی سے تھے چنانچہ علامہ کوثری اس کی تاویل کرتے ہیں :
بل كان ولاء ابى حنيفة تيم الله بن ثعلبه ولا ء المرالاة
یعنی تیم اللہ سے امام صاحب کی نسبت ولاء عتق نہیں تھی بلکہ ولاء الموالاۃ تھی ،
پس موالی التیمیین والے الفاظ گو صحیح بخاری میں مذکور ہیں لیکن اس کی تاویل بھی وہی ہے جو ابن فرحون مالکی نے الدیباج میں ذکر کی ہے اور امام بخاری التاریخ الکبر اسی نافع بن مالک کے متعلق لکھتے ہیں۔(4)
'' الاصبحى حليف بنى تيم من قريش''
''الاصبحى حليف عثمان بن عبيدالله التيمى'' حاصل کلام یہ ہے بلا شبہ کتاب الصیام میں ، ابن شہاب زہری کی روایت میں '' عن ابن ابی انس مو لی التیمیین '' کے الفاظ معروف ہیں ،
اور قاضی عیاض نے بھی اس کی تصریح کی ہے ۔
صاحب تطیقات کا بڑی شوخی اور طمطراق کے ساتھ ابن عبدالبر پر نقد کرتے ہوئے :
قلت . وقول ابن شهاب هذا فى صحيح البخاري
کہنا بے معنی سا ہو کر رہ جاتا ہے کیونکہ یہ کوئی اہم انکشاف نہیں ہے جس پر قلت سے زور دینے کی ضرورت اور پھر اس پر اکتفا نہیں کی ، بلکہ پوری حدیث بمع اسناد نقل کر ڈالی ہے اور پھر ابن فرحون مالکی کے حوالے سے لکھا ہے
'' وروى عن مالك انه لما بلغه قول ابن شهاب هذا قال :لينه لم يرو عنه شيا''
حالانکہ امام مالک کے الفاظ یہ ہیں (5) '' ليته لم يروعنا شيأ''
صاحب تطیقات کتاب العلم کو چاہئے تھا کہ امام مالک کے نسب پر قدح کی بجائے اللمحات کے مختوبات کو سامنے رکھ کر امام ابو حنیفہ ﷫ کے نسب میں جو الجھنیں پائی جاتی ہیں ان کو صاف کرنے کی کوشش کرتے اس مختصر اشارہ کے بعد ہم امام مالک کے خاندان علمی تعارف پیش کرتے ہیں قاضی عیاض نے ابن بکار وغیرہ کے حوالے سے حسب ذیل نسب نامہ بیان کیا ہے ۔
مالك بن انس بن مالك بن ابى عامر بن عمرو بن الحارث بن غيمان ين خثيل بن عمرو الحارث وهو ذوالاصبح
ذوالاصبح تك تویہ نسب نامہ شفاف ہے اور اس میں کسی کو اختلاف نہیں ہے مگر اس کے بعد یعرب بن قحطان تک جو سلسلہ ہے اس میں بعض ناموں میں اختلاف پایا جاتا ہے مگر اس میں شک نہیں ہے کہ امام مالک بنی قحطان سے ہیں امام ابو عبداللہ الحاکم ( ابن البیئع) نے امام مالک کا نسب بیان کرنے میں تخلیط سے کام لیا ہے اور تیم بن مرۃ سے ملا دیا ہے اور لکھا ہے کہ امام صاحب نسب مرۃ بن کعب تک آںﷺ کے ساتھ جمع ہو جاتا ہے ۔
اور تیم بن مرۃ سے الحاق کی وجہ سے ہی بعض نے انہیں مولی تیم سے سمجھ لیا ہے حالانکہ یہ وہم امام حاکم کی تخلیط کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ورنہ تو امام صاحب کا نسب '' ذی اصبح'' سے متصل ہوتا ہے اور جمہور علماء انساب میں سے کسی نے بھی محمد بن اسحاق کی متابعت نہیں کی ، بلکہ سب نے اس وہم کارد ہی کیا ہے ، چنانچہ ابو سہیل نافع بن مالک سے '' وراوردی '' نے نقل کیا ہے انہوں نے کہا :
نحن قوم من ذى اصبح ليس لا حد علينا ولاء عهد
اس كى بعد ہم خاندان کے افراد کا تعارف کرواتےہیں :
(1) ابو عامر بن عمرو بن الحارث
یہ امام مالک کے والد جدّ امجد ہیں ان کا شمار صحابہ کرام میں ہے قاضی عیاض ، قاضی بکر بن العلاء التفشیری کے حوالے سے لکھتے ہیں :
ابوعامر بن عمرو جدّ ابى مالك رحمةالله من اصحاب رسول الله ﷺ قال وشهد المغازى كلها مع النبىﷺ
اور مالك کے خاندان کے یہ پہلے بزرگ ہیں جو یمن سے مدینہ میں آکر آباد ہوئے ۔
(2) امام مالک کے جد امجد مالک جن کی کنیت ابواانس ہے اور کبار تابعین سے ہیں حضرت عمر، طلحہ، عائشہ ، ابوھریرۃ اور حسان بن ابی ثابت الشاعر سے روایت کرتے ہیں ۔
قاضی عیاض '' االمدارک'' میں لکھتے ہیں ،
كان من افاضل الناس و علماء هم وهو احد الا ربعة الذين حملوا عثاان اليلا الى قبره و غلوه-
یہ مالک بن ابی عامر وہ ہیں جو حضرت عثمان کی طرف سے افریقہ کے غزوات میں شریک رہے ، اور حضرت عثمان نے جب مصاحف لکھوائے تو یہ بھی کاتبین میں شریک تھے اور پھر عمر بن عبد العزیز کی شوری کے رکن بھی رہے اما مالک نے مؤ طا میں ان کی بہت سی مرویات ذکر کی ہیں قاضی عیاض لکھتے ہیں :
وقد ذكر ه مالك فى جامع مؤطا (8)
اس ابوانس مالک بن ابی عامر کے چار بیٹے تھے
(1) انس مالک کے والد ان سے امام مالک ابن شہاب زہری روایت کی ہے .
(2) نافع بن مالک ابو سہل روی عنہ مالک وغیرہ
(3) اویس وھو جدّ اویس
(4) الربیع قال اسماعیل بن ابی اویس قد جالسنہ
بہ اخوان اربعہ اپنے والد مالک بن ابی عامر سے روایت کرتے ہیں اور امام بخاری ، مسلم اور اصحاب سنن نے مالک بن ابی عامر اور اس کے بیٹے ابو سہیل نافع بن مالک سے روایت لی ہے
(3) امام مالک کے دو بیٹے اور اکی بیٹی تھی یعنی یحیی ، محمد اور بیٹی فاطمہ تھی جو اسماعیل بن ابی اویس کی زوجیت میں تھیں
اور زبير نى الانساب میں لکھا ہے :
''وکان لمالك ابنة تحفظ علمه یعنی المؤ طأ''
امام مالک اور لحُن الکلام :
امام مالک کے نسب پر تنقید کے بعد ، علامہ کوثری نے امام مالک کی غربت کو موضوع سخن بنایا ہے اور اہل علم جانتے ہیں کہ یہ قصہ کیوں بنایا گیا ہے علامہ کوثری نے '' کتاب اللخہ'' میں امام مبرد کے حوالہ سے امام اسمعی سے ایک حکایت ذکر کی ہے کہ میں مدینہ النبی ﷺ میں داخل ہوا تو میں امام مالک سے بہت مرعوب تھا لیکن جب انہوں نے تکلم میں لحن کیا تو مجھ سے سارا تکلم رُ عب کافور ہو گیا ، اور امام مالک مجھے خفیف سے نظر آنے لگے اور پھر ربیعہ کا لحن ذکر کیا ،
علامہ معلمی نے یہ حکایت نقل کرنے کے بعد لکھا ہے :
'' اولا تو یہ حکایت بے اصل ہے کیونکہ حکایت کندہ مجہول ہے ''
اور متعدد وجوہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکایت باطل ہے امام اسمعی آئمہ سنت کی توقیر و عزت بجا لاتے اور امام مالک کا حترام کرتے ماور ان کو فخر تھا کہ امام مالک نے اس سے روایت کی ہے ارو علامہ کوثری نے امام مالک کے شیخ ربیعہ الرائ پر بھی طعن کیا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ علماء مدینہ پر طعن کے درپے ہیں اور پھر اس حکایت کے راوی شاید محمد بن القاسم الیماری ابوالغیاء ہیں جو وضاعین میں شمار ہوتے ہیں اس قسم کی دوسری حکایات ہیں ، جو امام سنت کے متعلق بیان کی گی ہیں ۔ مثلا امام مالک نے ستراحادیث مؤ طا میں درج کی ہیں مگر ان پر خود عمل نہیں کیا ، اور مسعود بن شیبہ نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے (9)مگر یہ حکایت بھی السراج سے بلا ذکر کی گئی ہے ۔
علامہ معلمی ان حکایت کے جواب میں لکھتے ہیں :
امام مالک نے کبھی کوئی حدیث محض رائے سے رد نہیں کی ، امام مالک  تو فرمایا کرتے تھے کہ ہر ایک کا قول رد ہو سکتا ہے ، سوائے اس قبر والے یعنی رسول اللہ ﷺ اور فرمایا کرتے : میں انسان ہوں مجھ سے غلطی ہو سکتی ہے ، پس میر ی جو رائے سنت کے مطابق ہو اس پر عمل کر لو اور جو سنت مکے خلاف ہو اسے چھوڑ دو'' اور کوثری نے ستر ہزار مسائل کی بناء پر امام مالک کو اصحاب الرائے سے قرار دیا ہے ، مگر اسے معلوم نہیں کہ علماء ظاہر یہ اور اہل حدیث تو ہر مسئلہ کا جواب قرآن حدیث سے دیتے ہیں خواہ وہ ستر ہزار در ستر ہزار ہوں اور سنن صحیحہ کو محض رائے سے رد نہیں کرتے ، اور امام مالک ان تمام باتوں سے بری تھے جو ان کی طرف نسبت کی گئی ہیں م۔
امام مالک کا مرتبہ:
امام شافعی فرمایا کرتے تھے کہ تابعین کے بعد امام مالک حجۃاللہ ہیں امام شافعی اور امام محمد اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ امام مالک کا علم ، امام ابو حنیفہ سے زیادہ ہے اور بہت سے اہل علم اور سلف امام مالک کو کتاب و سنت کے علم میں امام تسلیم کیا ہے اور عبدالرحمن بن مہدی فرمایا کرتے :
الثورى امام فى الحديث وليس بامام فى السنة والا وزاعى امام فى السنة وليس بامام فى الحديث ومالك امام فيها
مؤطأ امام مالک:
مؤ طأ امام مالک مصدقہ اور مسلّمہ دستاویز ہے ۔ حجاز و عراق ،شام ، مصر اور علماء مغرب نے اس پر اعتماد کیا ہے اور الجامع الصحیح کی تدوین سے پہلے مؤ طا کو '' اصح الکتب '' قرار دیا شافعی نے فرمایا :
ما فى الارض كتاب من العلم اكثر صوابا من كتاب مالك
ایک روایت میں اصح اور افضل بھی ہے اور فرمایا قرآن کے بعد ، مؤ طا سے زیادہ کوئی کتاب نافع نہیں ہے ۔
امام مالک نےاحادیث صحیحہ اور آثار صحابہ و تابعین کو جمع کیا ، علاوہ ازیں اپنے آراء اور اہل مدینہ کے عمل کو بھی مدوّن کر دیا مہے ، امام مالک حدیث و اقوال صحابہ ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں
الامر المجتمع عليه عندنا ببلدنا و ادركت عليه وغيره
سنت پر تعامل چلا آیا ہے ، احمد بن عبداللہ الکوفی اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں م:
امام مالک '' الامر المجتمع عندنا '' کہتے ہیں تو اس سے وہ قضایا مراد ہیں جو مسلمان بن بلال کے دور میں حل ہو چکے تھے ۔
الغرض مؤ طا ایک محرر اور جامع کتاب ہے جس کی تسوید و تبیض میں امام مالک نے چالیس سال صر ف کئے ہیں اور حلقات علمیہ میں اس قدر مقبول ہوئی کہ اس کے بالمقابل دوسر ی کتابیں ہیچ نظر آتی ہیں شاہ والی اللہ نے '' مصطفی '' (شرح مؤطا ) کے تقدمہ میں مؤطا کی حیثیت پر مفصل بحث کی ہے اور لکھا ہے '' مؤ طا بایں جہت ، کتب فقہ میں قوی ترین کتاب ہے کیونکہ اس کے مصنف اپنے دور میں سب پر بھار ی تھے اور وہ علم کے آسمان میں در خشندہ ستارہ اور حدیث کے شہنشاہ تھے صحابہ و تابعین کے علوم کے وارث تھے تمام طوائف علم مؤ طا کی طرف رجوع کرتے ہیں مذہب شافعی درحقیقت مؤطا کی تفصیل ہے اور امام محمد کا مبسوط فقہی سرمایہ بھی اسی سے ماخوذ ہے اصحابِ سنہ کے ہاں مؤطا کو تلقی بالقبول کی حثیت حاصل ہے ، اور علماء نے جس قدر اس کتاب کا اعتناء کیا ہے کسی دوسری کتاب کو حاصل نہیں ہے اور تبع تابعین میں سے صرف امام مالک ہی ہیں جن کی مؤطا ہمارے پاس موجود ہے ''
اس دور میں مؤطا کے اس قدم کے مقابلہ میں امام محمد کی کتب کو پیش کیا جاتا ہے شاہ ولی اللہ ،
امام محمد کی کتاب الاثار اور مؤطا کے مابین تقابل کرتے ہوئے اولا مؤطا کےمتعلق لکھتے ہیں –
لم يأت زمان إلا وهو أكثر له شهرة وأقوى به عناية وعليه بنى فقهاء الأمصار مذاهبهم حتى أهل العراق في بعض أمرهم، ولم يزل العلماء يخرجون أحاديثهم ويذكرون متابعاته وشواهده، ويشرحون غريبه، ويضبطون مشكله، ويبحثون عن فقهه، ويفتشون عن رجاله إلى غاية ليس بعدها غاية
اس کے بعد کتاب الاآثار و کتاب الامالی کے متعلق لکھتے ہیں :
وإن شئت الحق الصراح: فقس كتاب الموطأ بكتاب الآثار لمحمد، والأمالي لأبي يوسف تجد بينه وبينهما بعد المشرقين، فهل سمعت أحداً من المحديثين والفقهاء، تعرض لهما واعتنى بهما
لیکن حافظ ابن حجر نے اس پر تنقید کی ہے اور لکھا ہے اگر الصحیح سے مراد الصحیح من حیث ہے تو یہ صحیح ہے ، لیکن اگر الصحیح سے مراد صحت معتبرہ عند اہل الحدیث ہے تو محل نظر ہے کیونہ مؤطا صحب معتبرہ اور معہودۃ عند اہل الحدیث کے لحاظ سے الصحیح نہیں ہے پس حافظ ابن حجر کی اس توجیہ سے امام سیوطی اور مغلطائی غیر ھما کا جواب ہو جاتا ہے اور ابن الصلاح کا یہ کہنا بجا ہے اول من صنف الصحيح البخارى !
اب رہا د امی پر صحت کا اطلاق تو کسی معتمد محدث کی کلام میں مذکور نہیں ہے ، اور پھر امام دارمی ، امام بخاری کے معاصر ضرور تھے مگر اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ دارمی نے اپنی صحیح بخاری سے پہلے تصنیف کی ۔
ومن ادعى فعليهالبيان .. والله اعلم
قاضی ابو بکر ابنُ العربی ، شرح ترمذی میں لکھتے ہیں : (10)
المؤ طا هو الاصل الاول واللباب والبخارى الاصل الثانى فى هذا الباب و عليهما بنى الجمع كمسلم والترمذى
بعض نے مؤطا پر '' الصحیح '' کا لفظ بھی استعمال کیا ہے ، گویا سب سے پہلی الصحیح کتاب ہے جو حدیث میں جمع کی گئی اور ابن الصلاح نے جو اول من صنف الصحیح البخاری کہا تو یہ الصحیح المجرد کے ساتھ مقید ہے تا کہ احتراز ہو جائے ، کیونکہ موطا میں مرسل و منقطع اور بلا غات بھی ہیں بخاری میں بھی معلقات اور موقوفات ہیں مگر وہ ترجم ابواب میں ہیں اور موضوع کتاب سے خارج ہیں تا ہم امام سیوطی لکھتے ہیں :
وما فى المؤ طا من مرسل الاوله عاضد او اضدفالصواب اطلاق ان المؤطا صحيح لا يستثنى منه شيئ
یعنی مؤطامیں جو بھی مرسل روایت ہے اس کے عواضد مل جاتے ہیں لہذا مؤطا کو بلا استثناء صحیح کہنا بجا ہے ، اور حافظ ابن عبد البر مالکی نے اس سلسلہ میں ایک مستقل کتاب لکھی ہے ، جس میں انہوں نے مؤطا میں مرسل و منقطع اور روایات کو موصولا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ مؤطا میں بلاغات اور ہن الثقہ کی تعداد ، جن کو کسی نے مسند نہیں کیا ، کل اکسٹھ احادیث ہیں اور یہ تمام امام مالک کے طریق سے موصول مروی ہیں مگر صرف چار بلاغات غیر معروف ہیں –
1 - «إِنِّي لاَ أَنْسَى وَلَكِنْ أُنَسَّىَ».
2 - «إِنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلََّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُرِيَ أَعْمَارَ النَّاسِ قَبْلَهُ أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ فَكَأَنَّهُ تَقَاصَرَ أَعْمَارَ أُمَّتِهِ أَنْ لاَ يَبْلُغُوا مِنْ العَمَلِ مِثْلَ الَّذِي بَلَغَ غَيْرُهُمْ فِي طُولِ الْعُمْرِ فَأَعْطَاهُ اللَّهُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ».
3 - قول معاذ: «آخِرُ مَا أَوْصَانِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلََّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[حِينَ جَعَلتُ رِجْلِي فِي الْغَرْزِ (1)]؛ أَنْ قَالَ: " حَسِّنْ خُلُقَكَ لِلنَّاسِ "».
4 - «إِذَا أَنْشَأَتْ بَحْرِيَّةً (أَيْ سَحَابَةٌ) ثُمَّ تَشَاءَمَتْ فَتِلْكَ عَيْنٌ غُدَيْقَة» أَيْ: (كَثِيرَةَ المَاءِ)
ليكن علامہ کتانی لکھتے ہیں :
وقد وصل ابن الصلاح الاربعه بتاليف مستقل وهو عندى وعليه خطه
عدد احادیث و آثار مؤ طأ :
امام مالک نے ایک لاکھ احادیث میں سے انتخاب کر کے ، دس ہزار احادیث مؤ طا میں جمع کیں ۔ پھران کو کتاب و سنت پر پیش کرتے رہے اور آثار و اخبار سے جانچتے رہے حتی کہ پانچ سو احادیث باقی رہ گئیں ۔ قاضی عیاض '' المدارک '' میں لکھتے ہیں
'' مؤطا چار ہزار کے قریب احادیث پر مشتمل تھا امام مالک ہر سال ان کو چھا ٹتے رہے ، حتی کہ ایک ہزار کے قریب رہ گئیں ۔''
قاضی ابوبکر الابہر ی لکھتے ہیں :
'' مؤطا میں کل مرفوع اور صحابہ کرام و تابعین پر موقوف آثار کی تعداد ایک ہزار سات سو بیس ہے ان میں سے چھ صد کے قریب مسند ہیں اور دو سو بائیس مرسل اور چھ سو تیرہ موقوف اور باقی 285 تابعین کے اقوال ہیں ۔''
الغرض مؤطا میں احادیث و آثار کی تعداد میں اختلاف ہے اور اس پر سب متفق ہیں کہ ابتدا میں احادیث کی تعداد ہزار تھی مگر انتقاء کے بعد بالآخر پانچ صد سے کچھ زیادہ رہ گئی ، جیسا کہ علامہ محمد فواد عبدالبانی مصری نے جزم کیا ہے ۔
وجہ تسمیہ :
''وَطّأ'' کے معنی روندنے کے ہیں اور ''وطّأ الطّریقَ ' ' راستہ کو ہموار کرنے کے معنی میں آتا ہے ۔ امام مالک نے اپنی کتاب کا نام مؤ طا اس بنا پر رکھا ہے کیونکہ یہ نہایت ہی سہل ہے ، جیسا کہ ہموار کیا ہوا راستہ ہوتا ہے ، اور حدیث کی کتاب کا نام مؤطا ، پہلا نام ہے ۔
مؤطا کے رواۃ:
امام مالک سے مؤطا کو بکثرت رُواۃ نے روایت کیا ہے علامہ خطیب نے رواۃ ِ مؤطا پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے جس میں 993 رجال کا ذکر ہے اور قاضی عیاض نے ایک ہزار تین صد سے اوپر رجال ذکر کئے ہیں ، اور ترتیب المدارک میں ہزار سے اوپر تلامذہ کا ذکر کیا ہے اور پھر لکھا ہے :
انما ذكر نا المشاهير و تركنا كثيرا.........
امام مالک کے شیوخ میں سے ، تابعین سے ، ابن شہاب زہری نے امام سے روایت کی ہے ، نیز ابوالاسود یتیم عروۃ ، ایوب المختیانی ، ربیعہ ، یحیی بن سعید انصاری ، ہشام بن عروۃ ، نافع القاری ، محمد بن مجلان ، ابوالنضر سالم وغیرھم نے روایت کی ہے ۔ اقران میں سفیانان ، حمادان ، لیث اور اوزاعی ، رواۃ میں شمار ہوتے ہیں ، اور شریک بن عبداللہ القاضی بھی امام سے رواۃ میں شامل ہیں .
امام دارقطنی لکھتے ہیں :
'' متقدمین اور متاخرین میں کوئی ایسا محدث نہیں گذرا جس کے تلامذہ میں سے دو محدث ایک ہی حدیث کو روایت کریں اور دونوں میں ایک سو تیس سال کا فاصلہ ہو لیکن یہ خصوصیت امام مالک کو حاصل ہے مثلا زہری 125 میں فوت ہوئے اور ابو حذافۃ سہمی 250 ھ کے بعد اور یہ دونوں امام مالک سے '' سُکنٰی معتدۃ'' کے بارے میں فریعۃبنت مالک کی حدیث روایت کرتے ہیں ۔''
نسخوں میں اختلاف :
مختلف شہروں سے مؤطا کے مشہور رواۃ کی تعداد 83 ہے اور مشہور نسخے تیس ہیں جن میں مستند نسخوں کی تعداد اور تابعین میں اختلاف ہے .
حافظ ابن عبدالبر اندلسی نے مؤطا پر دو کتابیں لکھی ہیں : الاسّذکار اور التمھید' جس میں انہوں نے سولہ معتمد نسخوں پر اپنی تحقیق کا دائرہ رکھا ہے ۔
امام احمد نے امام شافعی کی روایت کو ترجیح دی ہے لیکن بن معین کے نزدیک عبداللہ بن مسلم القعنبی کا نسخہ راجح ہے اور قعنبی کے بعد عبداللہ بن یوسف التنیسی کے نسخہ کو رکھا جاسکتا ہے ۔ ابن المدینی اور نسائی نے بھی قعنبی کے نسخہ پر اعتماد کیا ہے ، امام بخار ی نے بھی التنیسی کے نسخہ سے اپنی الصحیح میں احادیث درج کی ہیں جبکہ امام مسلم نے یحیی بن یحیی نیشاپوری کے نسخہ سے روایات درج کی ہیں ۔
بلا شبہ یہ سب قابل اعتماد ہیں ، لیکن جمہور علماء نے یحیی بن یحیی مصمودی کے نسخہ پر اعتماد کیا ہے اور یہ ، نیشاپوری نہیں ہیں ، جوامام مسلم کے معتمد ہیں اس یحیی مصمودی کے نسخہ کے متعلق مرقوم ہے :
أشهرها وأحسنها: رواية يحيى بن كثير الليثي الأندلسي وإذا أطلق في هذه الأعصار موطأ
مؤ طأ محمد:
من جملہ روایات کے ، ایک روایت محمد بن الحسن الشیبانی کی بھی ہے جس میں کچھ احادیث زائد بھی ہیں جنہیں امام محمد نے دوسرں سے روایت کیا ہے اور کچھ روایاتِ مشہورہ سے زوائد ہیں ،
تاہم مؤ طا میں کچھ احادیث سابقہ سے خالی ہے ، جو روایت مشہورہ میں پائی جاتی ہیں ، اور ہم تتبع اور دلائل کی بناء پر کہہ سکتے ہیں کہ مؤطا محمد ، دراصل مؤطا مالک نہیں ہے ، بلکہ مؤطا مالک کی تردید اور معاوضہ کی کو کوشش ہے ۔ امام مالک ، اہل مدینہ کی احادیث کی روایت میں سب سے زیادہ ثقہ تھے ۔ وہ حضرت عمر کے قضایا ، عبد اللہ بن عمر اور فقہاءِ سبعۃ کے اقوال و آثار کو خوب جانتے تھے اگر آپ امام مالک کے مذہب کو جانچنا چاہتے ہیں تو ان کی کتاب مؤطا پر نظر ڈال لیں ، پھر امام مالک کے اصحاب و تلامذہ کو دیکھیں جو بلادِ اسلامیہ میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ بصرہ ، مصر، شام اور بلادِ مغرب نیں امام کے تلامذہ بکثرت نظر آتے ہیں ۔ چنانچہ شاہ ولی اللہ لکھتے ہیں ۔
فَجمع أَصْحَابه رواياته ومختاراته ولخصوها وحرروها وشرحوها وَخَرجُوا عَلَيْهَا وَتَكَلَّمُوا فِي أُصُولهَا ودلائلها وَتَفَرَّقُوا إِلَى الْمغرب ونواحي الأَرْض
'' یعنی ان کے تلامذہ نے امام کی روایات و مختارات کو جمع کیا م، پھر ان کو ملخص اور محرر کیا ، ان کی تشریحات کیں اور ان پر تخریجات قائم کیں ، اصول و دلائل پر کام کیا اور پھر مغرب ( افریقہ و ا ندلس ) ارض میں پھیل گئے ۔''
2۔ موطا ، امام مالک  اور موطا اما محمد  کے مابین موازنہ :
لیکن مولانا عبدالحی لکھنوی نے '' التعليق الممجد''میں مؤطا یحیی پر ترجیح دینے کی کو شش کی ہے اس کا آئندہ سطور میں ہم جائزہ پیش کرتے ہیں ۔ مولانا لکھنؤی لکھتے ہیں : موطا محمد کو روایت یحیی پر پانچ وجوہ سے ترجیح حاصل ہے :
(1)یحییٰ اندلسی نے تمام مؤطا امام مالک کے بعض تلامذہ سے سنا ہے امام مالک سے پورے مؤطا کا بھر پور سماع نہیں کیا اس کے بر عکس امام محمد نے اس کا سماع کیا ہے :
(1) ولا شك ان سماع الكل من مثل هذا الشيخ بلا واسطة ارجح من سماعه بواسطة...... (ص 34 :الفائدۃ الحادیہ عشر)
(2) یحیی اندلسی ، امام مالک کے پاس وفات کے قریب حاضر ہوئے ہیں جبکہ امام محمد نے تین سال مسلسل ، امام مالک کی مصاحبت میں صرف کئے ہیں ، اور یہ امر ثابت شدہ ہے کہ محدثین کے ہاں طویل صحبت کی روایت قلیل صحبت سے اقوی ہوتی ہے ۔
(3)مؤطا یحیی ، بہت سی فقہی اور اجتہادی مسائل پر مشتمل ہے اور اکثر تراجم میں اجتہاد و استنباط کے سوا کوئی اثر یا خبر نہیں ہے اس کے بر عکس مؤطا محمد میں کوئی ترجمہ بھی روایت مرفوعہ یا موقوفہ سے خالی نہیں ہے لہذا مؤطا محمد راجح ہے ۔
(4)مؤطا یحیی صرف ان احادیث پر مشتمل ہے ، جو امام مالک سے مروی ہیں لیکن مؤطا محمد بہت سے دوسرے شیوخ کی روایات پر بھی مشتمل ہے
(5)مؤطا یحیی صرف امام مالک کے ان اجتہادات اور آراء پر مشتمل ہے ، جو امام ابو حنیفہ کی آراء کے خلاف ہیں ، اور مؤ طا یحیی میں وہ احادیث ہیں جو ہمارے نزدیک معمول نہا نہیں ہیں ، خلاف مؤطا امام محمد کے کہ وہ دونوں قسم کی احادیث پر مشتمل ہے ، جیسا کہ مطالعہ کرنے والا خوب جانتا ہے ۔
اب ان وجوہ کا جائزہ لیتے ہیں ۔
(1) یحیی بن یحیی کے سماع میں اگر فوات ہیں جو کہ کتابُ الاعتکاف کے دو باب اور کچھ تیسرے باب میں ہیں ، تو ان میں امام محمد کو بھی بلا واسطہ یا بالواسطہ سماع حاصل نہیں ہے کیونکہ مؤطا محمد میں ان ابواب کا سرے سے وجود ہی نہیں ہے ، پھر یہ ترجیح کیسے بن سکتی ہے ؟ پھر جو حصہ مسموع نہیں ہے ان میں کوئی حدیث ِ مرفوع یا اثر نہیں ہے ، ماسوائے عمرۃ بنت عبدالرحمن کی اس حدیث کے :
عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ فَلَمَّا انْصَرَفَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ فِيهِ وَجَدَ أَخْبِيَةً
اور ایک بلاغ ہے جو ایسے ہے قال مالك وقد بلغنى ان رسول الله ارادالعكوف... الخ
اب عقل و دیانت سے بتائیے کہ اس قدر فوات ، مؤطا کے مرتبہ کو کیسے گرا سکتا ہے جبکہ مسموع مؤطا میں احادیث ِ مرفوع اور آثار صحابہ و تابعین ایک ہزار سات سو بیس کے قریب ہیں اور بقول ابوبکر ابہری ، مؤطا محمد میں 1005 ہیں ، جس کا حود علامہ لکھنوی نے اقرار کیا ہے ۔ اس اعتبار سے امام محمد سے ، سات سو پندرہ احادیث و آثار فوت ہو گئیے ہیں ، اور منتہی الامال کے درج ذیل کلام سے اس کی تائید ہوتی ہے :
'' مؤطا محمد میں کچھ روایات وہ ہیں ، جو روایات شہیرہ میں نہیں ہیں اور وہ ان احادیث سے خالی ہے جو روایات شہیرہ میں ثابت ہیں ''( منتہی الامال)
اس تفصیل سے ثابت ہوتا ہے کہ مؤطا محمد بہت سی احادیث سے خالی ہے اور یہ روایاتِ مشہورہ سے بھی نہیں ہے ۔ سات سو پندرہ آثار وہ ہیں جو امام محمد کے مسموع نہیں ہیں ، یا سماع کیا ہے لیکن ذھول ہو گیا ہے بہر حال اس سے مؤطا محمد کی'' روایتِ یحیی '' پر ترجیح ثابت نہیں ہوتی بلکہ معاملہ اس کے بر عکس ہے ۔
(2) مؤطا کی تالیف کے بعد امام مالک نے اس میں محوو اثبات کیا ہے ، ابن الحباب کا بیان ہے کہ امام مالک نے ایک لاکھ احادیث روایت کیں اور ان میں سے دس ہزار کے قریب احادیث مؤطا میں جمع کیں حتی کہ غور فکر کے بعد پانچ صد احادیث باقی رہ گئیں زرقانی کے مقدمہ اور المدارک میں اس کی تفصیل موجود ہے ، پھر جب امام مالک اس میں محوو نقصان سے کام لیتے رہے ہیں ، تو آخری روایت جو سنۂ وفات کی ہے وہ راجح ہو گی بنسبت روایاتِ سابقہ کے اور وہ روایت یحیی مصمودی کی ہے یہی وجہ ہے کہ علماء نے اس روایت پر ہی زیادہ اعتماد کیا اور اسی روایت کو اہل علم نے پڑھا پڑھایا ہے ، حتی کہ مؤطا مالک سے یہی روایت مراد سمجھی جاتی ہے اور مولانا عبد الحیٔ نے خود بھی اس کا اعتراف کیا ہے
(3) اس لحاظ سے دیکھا جائے تو مؤطا محمد بھی ، بہت سی اہل الرائے کی آراء پر مشتمل ہے ، بلکہ ہر باپ میں قول ابی حنیفہ کو ٹھونس دیا گیا ہے اور اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص '' تجرید البخاری '' کو یہ کہہ کر '' صحیح بخاری '' پر ترجیح دے کہ صحیح بخاری میں اجتہاد مسائل ہیں ( جو تراجم ابواب میں بکثرت موجود ہیں ) مگر تجرید میں صرف احادیث صحیحہ ہیں ۔
(4) یہ بھی وجہ ترجیح نہیں بن سکتی کیونکہ مؤطا یحیی کا مقصد یہ ہے کہ ہر حدیث کو راوی ، کمی پیشی کے بغیر روات کر دے ، اور مؤطا یحیی میں یہی خوبی ہے کہ انہوں نے امام مالک کی ترتیب کے مطابق مؤطا کو روايت كر ديا ہے جبکہ مؤطا میں یہ بات نظر نہیں آتی ، کیونکہ امام محمد نے اپنی روایت میں اور بھی بہت سی احادیث و آثار کا اپنی جانب سے اضافہ کر دیا ہے ، جس کی وجہ سے اسے مؤطا کہنا صحیح نہیں ہے ۔ ورنہ تو مؤطا کا لفظ صحیحن پر بھی بولا جا سکتا ہے بلکہ تمام کتب حدیث کو مؤطا کہہ سکتے ہیں اور اس کا بُطلان ظاہر ہے پھر امام محمد کی اکثر زیادات ضعیفہ ہیں اور ایسی روایات خوبی کی بجائے قدح کا باعث ہیں نیز یہ روایات امام مالک کی روایات کی مؤید بھی نہیں ہیں بلکہ امام مالک کی مرویات کا جواب ہیں لہذا اس کو مؤطا کہنے کی بجائے جوابِ مؤطا کہنا بجا ہے ، بلکہ امام محمد کی مستقل تصنیف کہنا زیادہ صحیح ہے ۔
(5) پانچویں وجہ ترجیح کا تعلق خاص طور پر احناف کے ساتھ ہے امام محمد نے ، امام مالک کے اجتہادات اور آثار احادیث کے مقابلہ میں ، احناف کی طرف سے بطورِ جواب احادیث و آثار پیش کر کے اپنے مسلک کا دفاع کیا ہے تو یہ بھی وجہ ترجیح نہیں بن سکتی اور اس کے رد کی ضرورت بھی نہ تھی ۔ بہر طور ہم یہاں پر کچھ عرض کرنا ضرور ی خیال کرتے ہیں
'' عامی تو یہ خیال کر کے ، کہ مذکورہ احادیث ، امام مالک کی ذکر کردہ صحیح احادیث کے معارض ہیں ، حہل مرکب میں مبتلا ہو جائے گا خصوصا طرفین کی احادیث پر تنقید کرنا اور حتمی فیصلہ بھی دینا لازمی ٹھر گا ، جو بہر حال ایک مشکل کام ہے بخلاف مؤطا یحیی کے ، کہ وہ خالص احادیث صحیحہ پر مشتمل ہے ، جس میں صحیحن کی طر ح کوئی ضعیف حدیث نہیں ہے لہذا ان پر عمل کرنا نہایت سہل ہے اور کسی قسم کی تنقید کی ضرورت بھی نہیں ہے اسی لئے علماء نے مؤطا کو طبقہ اورلی میں رکھا ہے اور اس وجہ ترجیح کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک رافضی ، صحیح بخاری پر بہت سی موضوع اور ضعیف احادیث کا اضافہ کر دے اور کہہ دے کہ رافضیوں کے لحاظ سے یہ بخاری سے راجح ہے ، تو کیا اہل علم میں سے کوئی اس کی بات کو قبول کر ے گا ، نہیں ہر گز نہیں ۔
مولانا عبد الحی کے جوابات کے بعد اب ہم مؤطا یحیی مصمودی کی ار جحیت مؤ طا امام محمد پر بیان کرتے ہیں ۔ اہل علم کو چاہیے کہ ہماری گذارشات پر غور کریں اور بتائیں کہ کیا مؤطا محمد اس لائق ہے کہ اس مؤطا کو'' مؤطا مالک بردایت ِ محمد '' کہا جائے ۔
(الف) مؤطا محمد بہت سی احادیث ِ واھیہ ، شاذ اور آثار منکر ۃ معلولہ پر مشتمل ہے ، جو بے اصل ہیں اور یہ بات اتنی معروف ہے کہ ادنیٰ درجہ کا طالب علم بھی جانتا ہے مگر مخالفین چونکہ شدت سے اس کا انکار کرتے ہیں اس لئے ہم چند ایک مثالیں ذکر کرتے ہیں :
1) باب الاغتسال يوم الجمعة
قال محمد اخبرنا محمد بن ابان بن صالح عن حماد ابراهيم النخعى قال مالت عن الغسل الحديث..... ص 73
اس کی سند میں محمد بن ابان بن صالح ہے اور وہ نا فدین کی ایک جماعت کے نزدیک ضعیف ہے ۔
2) باب القراء ة في الصلاة خلف الامام (ص 73)
عن جابر بن عبد الله قال: قال النبي صلّى الله عليه وسلّم: «من صلّى خلف امام فإنّ قراءة الإمام له قراءة
اس کی سند میں سہل بن عبداللہ الترمذی متروک ہے اور اس سے راوی محمود بن محمد المروزی اور اس سے روایت کرنے والے شیخ ابوعلی کی توثیق کا پتہ نہیں ۔
عن جابر بن عبد الله قال: قال النبي صلّى الله عليه وسلّم: «من صلّى خلف امام فإنّ قراءة الإمام له قراءة
ابن عبدالبر ''الاستذكار'' (ص : 98 ) پر لکھتے ہیں کہ یہ صحیح نہیں بلکہ منقطع ہے اسی طرح '' جزءالقراءۃ خلف الامام'' میں امام بخاری لکھتے ہیں '' هذا كله ليس من كلام اهل العلم''کیونکہ یہ حدیث لا تلاعنو ا بلعنة الله الخ کے خلاف ہے اور صحابہ کرام کے مونہوں کو انگارہ سے کون بھر سکتا ہے اس مقام پر مولانا عبد الحی کی تاویل واھی اور بے معنی ہے۔
4 ) لا ىؤ من الناس جالسا ( ص 113)
اس کی سند میں جابر جعفی ہے ) جو جمہور محدثین کے نزدیک متروک ہے امام ابو حنیفہ نے اس کو کذاب کہا ہے ۔
5) باب قيام شهر رمضان .... ما ر أى المؤ منون حسنا( ص 138)
اس کی سند میں سلیمان بن عمرو نخعی کذّاب اور وضاع ہے ،
قاله ابن الجوزى فى الواهية إذا رجعنا إلى (المقاصد الحسنة) للسخاوي والحق انه قول ابن مسعود ةالله اعلم
6) باب صلاة المغمى عليه (ص 151) اغمى على عمار بن ياسر.. الخ
اس کی سند میں ابو معشر سندی ضعیف ہے اور '' بعض اصحاب عمار'' سے مراد یزید مولى عمار ہے اور وہ مجہول ہے ، جیسا کہ بیہقی کا قول ہے
7) باب طلاق السنة (250)
اس كى سند میں ابراہیم بن یزید المکی ہے وھو متروک!
8) باب انقضاء الحيض : ( 268) عن الشعبى .. الخ
اس کی سند میں عیسیٰ بن ابی عیسیٰ الخیاط ہے : وهو متروك من السادسة كذا فى التقريب
باب اكل الضب (281) عن على بن ابى طالب كرم الله وجهه فان فى سنده الحارث وهو ضعيف
10) مارواه عن عائشة انه اهدى لها ضبّ ( ص 281)
یہ روایت منقطع ہے کیونکہ نخعی کا سماع حضرت عائشہ سے ثابت نہیں ہے
11) قَالَ مُحَمَّدٌ: أَمَّا الْعَقِيقَةُ فَبَلَغَنَا أَنَّهَا كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَقَدْ فُعِلَتْ فِي أَوَّلِ الإِسْلامِ ثُمَّ نَسَخَ الأَضْحَى كُلَّ ذَبْحٍ كَانَ قَبْلَهُ، وَنَسَخَ صَوْمُ شَهْرِ رَمَضَانَ كُلَّ صَوْمٍ كَانَ قَبْلَهُ، وَنَسَخَ غُسْلُ الْجَنَابَةِ كُلَّ غُسْلٍ كَانَ قَبْلَهُ، وَنَسَخَتِ الزَّكَاةُ كُلَّ صَدَقَةٍ كَانَتْ قَبْلَهَا، كَذَلِكَ بَلَغَنَا
الغرض معدد ابواب میں احادیث و آثار ضعیف اور منکر ہیں ، جن پر علماء نے نقد کیا ہے ، مولانا لکھنوی '' مقدمہ التعلیق '' کے آخر میں لکھتے ہیں :
اس کتاب میں کوئی موضوع حدیث نہیں ہے ہاں اکثر ضعیف ہیں بعض میں ضعف تھوڑا پایا جاتا ہے اور بعض میں زیادہ .. واللہ اعلم
(ب) مؤ طا امام محمد میں اوہام بھی پائے جاتے ہیں ، جو مؤطا یحیی میں نہیں ہیں ، الاقلیلۃ ... اور زیادہ اہام والی روایت مرجوع ہوتی ہے ، اس سے جس میں بہت کم اوہام پائے جاتے ہیں یہاں پر ہم کچھ اوہام کی طر ف اشارہ رکرتے ہیں :
* باب المسح اعلى الخفين ( ص 67) عن عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ مِنْ وَلَدِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ)
اس روایت میں دو وہم ہیں ، اول جو امام مالک کی طرف منسوب ہے :
قال الدارقطني: فوهم مالكٌ في إسناده في موضعين، أحدهما قوله عباد من وُلد المغيرة، والثاني إسقاطه عروة وحمزة، كذا في "تنوير الحوالك".
یہاں پر ایک دوسرا وہم بھی ہے ، جو امام محمد سے ہوا ہے ، یا نسخ سے ، کہ مغیرۃ بن شعبۃ سرے سے ساقط ہیں ، حالانکہ یہ حدیث مغیرۃ سے معروف ہے ، جو اس کتاب کے جمیع نسخوں میں موجود ہے ، اور ملا علی القاری کی شرح والے نسخہ میں بھی مغیرۃ بن شعبۃ نہیں ہے ۔
• باب الرجل ينام ( ص 78)
پہلی سند میں عمر ساقط ہے جو کہ یحیی کی روایت میں موجود ہے اور پھر وبقول ابن عمر نأخذفى الوجهين،
حلانکہ پہلی وجہ میں ابن عمر کا قول مذکور نہیں ہے ۔
• باب الرجل يصلى وقد أخذالموذن فى الاقامة
اس میں شریک بن عبداللہ بن ابی نمیر مصغّر ہے ، لیکن صحیح ابی نمر ہے ، یعنی بفتح النّون وكسر الميم كذا فى نسخة يحي كذا فى التقريب ... والله اعلم
• باب الصلاة على الدابة اخبرنا الفضل بن غز وان الحديث والذى فى التهذيب و التقريب والكاشف : "الفضیل بن غزاوان:
• بَابُ الحَلَمة (6) والقُراد يَنْزَعُهُ الْمُحْرِمُ)
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ: أَنَّ عَبْدَ الله بن عمر
• ومن باب المحرم يتزوج
قال أبو داود: حدثنا القعنبي عن مالك عن نافع عن نبيه بن وهب أخي بني عبد الدار أن عمر بن عبيد الله أرسل إلى إبان بن عثمان يسأله وإبان يومئذ أمير الحاج وهما محرمان إني أردت أن أنكح طلحة بن عمر بنت شيبة بن جبير وأردت أن تحضر ذلك فأنكر ذلك عليه إبان وقال سمعت أبي عثمان بن عفان يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا ينكح المحرم ولا ينكح
• بَابُ: الْمَرْأَةِ تَنْتَقِلُ مِنْ مَنْزِلِهَا قَبْلَ انْقِضَاءِ عِدَّتِهَا مِنْ مَوْتٍ أَوْ طَلاقٍ ....
• بَابُ الْإِقْرَارِ بِالزِّنَا اخبر نا مالك اخبرنا يحي بن سعيد انه بلغه والصحيح ما فى مؤطا يحي
• بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ وَمَا يُكره مِنَ الأَشْرِبَةِ
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بن أسلم، عن أبي وَعْلة
• بَابُ الرَّجُلِ يَقُولُ: مَالُه فيِ رِتَاج الْكَعْبَةِ
أخبرني مالك عن أيوب بن موسى) بن عمرو بن سعيد بن العاصي المكي الأموي ثقة، عن منصور بن عبد الرحمن.
• بَابُ الرَّجُلِ يَبِيعُ الْمَتَاعَ أَوْ غَيْرَهُ نَسِيئَةً (2) ثُمَّ يَقُولُ: انْقُدْني (3) وأضعُ عَنْكَ
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزِّناد ، عَنْ بُسْر بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي صَالِحِ بْنِ عبيدٍ مَوْلَى السَّفَّاح أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ بَاعَ
• بَابُ بَيْعِ الْبَرَاءَةِ
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ حدَّثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ بَاعَ ماله
.........
اس پر مولانا عبدالحی نے تین وجوہ سے اعتراض کیا ہے کہ انّہ کی ضمیر کا مرجح عبداللہ بن عتبہ ہے :
هكذا فى نسخ عديدة وعلى شرح القارى وفيه اختلاج من وجوه
(1) ابوالنضر مولی ہیں ، عمر بن عبید بن معمر التیمی کے ، نہ کہ عمر بن عبداللہ بن عبید اللہ
(2) سالم ابوالنضر نے یہ حدیث عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت نہیں کی بلکہ اس کے بیٹے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت کی ہے ، جو کہ فقہاءِ سبعہ میں سے ایک ہیں ۔
(3) صاحب روایت اور ابو طلحہ پر داخل ہونے والے عبداللہ بن عتبہ نہیں ہیں بلکہ اس کے بیٹے ہیں جیسا کہ ابن عبدالبر نے تحقیق کی ہے اور صاحب تعلیق خود ہی لکھتے ہیں میں : والصواب مافى مؤ طا يحي
اور شاید مؤطا میں یہ تبدیلی نساخ کی غلطی ہے ، کیونکہ بعض نسخوں میں مؤطا یحیی کے مطابق بھی ہے ۔
(ج) مؤطا محمد بن الحسن ، دراصل مؤطا مالک نہیں ہے ، کیونکہ موطا مالک تو وہ ہے جس کو امام مالک نے مہذب اور منقح کیا ہے ، اور بلا کم و کا ست ان کے تلامذہ نے اسے روایت کیا ہے ژ امام محمد نے اپنی طرف سے اس میں خذف و زیادات سے کام لیا ہے بلکہ کہ مؤطا پر ردود بھی لکھے ہیں اور جو احادیث و آثار اپنی طرف سے جمع کیے ہیں ان کا
*باب مع .... ( 385)اخبر نا مالك اخبرنا يحي بن سعيد عن محمد بن حبان عن يحي عن محمد بن يحي بن حبان عن عبدالرحمن الاعرج والصحيح : اخبرنا يحي بن سعيد عن محمد بن حبان عن الاعرج
* باب فضل المعروف: (ص 388) ... اخبر نا مالك اخبرنا باب صفة النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أخبرنا أَبُو رَجَاءٍ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ-
مؤطا مالک سے کچھ بھی تعلق نہیں ہے پس صحیح یہ ہے کہ یہ مؤطا ، امام محمد کی مستقل تصنیف ہے نہ کہ مؤطا مالک ہے ۔
(د) مؤطا محمد کی سند : امام محمد پر امام نسائی وغیرہ نے جرح کی ہے اس کے بر عکس یحی پر جرح نہیں ہے بلا شبہ یحیی بن یحیی ، زیادہ ثقہ ہیں ۔
(ھ) مؤطا یحیی جس طریق سے ہم تک پہنچا ہے ، اس کے جمیع رجال ثقہ اور حفظ حدیث میں مشہور ہیں اس کے بر عکس مؤطا محمد ، جس طریق سے ہم تک پہنچا ہے ، اس کے اکثر رُواۃ فقہاء ہیں جو خدمت حدیث میں معروف نہیں ہیں . وفيها مجاهيل واهل البدعه وقد وقع الجها لة والنكارة فى القدماء من رجاله ...
القرشی نے الجواہر المضیئہ میں اس کو ذکر کیا ہے اور اس کے ترجمہ میں صرف یہی لکھا ہے اور توثیق و تعدیل ذکر نہیں ہے ۔ اس کے بالمقابل مؤطا یحیی کی روایت حدّ تواتر تک پہنچ جاتی ہے اور مؤطا محمد کی روایت صحت کے ساتھ نہیں پہنچتی ۔
علاوہ ازیں مؤطا یحیی اس قدر مشہور و معروف ہے ، کہ عندالاطلاق یہی نسخہ سمجھا جاتا ہے ، اور اطراف عالم میں اسی کی تدریس ہو رہی ہے ، بلکہ اس کو تلقی بالقبول کا مرتبہ حاصل ہے ، اس کے شارحین ، اصحاب حواشی اور ملخصین بکثرت ہیں اس کے جامعین ، رجال اور شواہد و متابعت جمع کرنے والے شرحِ غربت ، ضبط مشکل کرنے والے اور اس کی فقہ پر بحث کرنے والے علماء اور پھر اس کے بلاغات ، منقطعات و مراسیل کو موصول کرنے والے علماء حفاظ ہیں ۔
اب ہم مدینہ کی مرکزی حثیت اور تعامل اہل مدینہ پر بحث کرتے ہیں جو زیادہ تر المدارک للقاضی عیاض الاحکام لابن حزم اور '' اعلام'' لابن قیم سے ماخوذ ہے ، اور بعض دیگر مراجع حسب مقام بیان کردئیے گئے ہیں ۔
مدینہ کے فضائل:
'' مدینہ طیبہ'' کے فضائل میں ، معدد احادیث مروی ہیں ، جن کی صحت پر علماءِ حدیث متفق ہیں ابو سعید المقبری نے حضرت ابو ہریرۃ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
الْمَدِينَةُ قُبَّةُ الْإِسْلَامِ، وَدَارُ الْإِيمَانِ، وَأَرْضُ الْهِجْرَةِ، وَمُبَوَّأُ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ
'' کہ مدینہ اسلام کا قبہ ، و دارالایمان دارالھجرۃ اور حلال و حرام کا مبدأ ہے ''
اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
فُتِحَتِ الْمَدَائِنُ بِالسَّيْفِ وَفُتِحَتِ الْمَدِينَةُ بِالْقُرْآنِ
'' کہ دوسرے شہر تو تلوار سے فتح ہوئے مگر مدینہ قرآن سے فتح ہوا ''
الغرض مدینہ کو '' دارالھجرۃ و دارالسنہ '' ہونے کا شرف حاصل ہے اور مہاجرین و انصار کا مرکز رہا ہے ۔ جن کے فضائل کتاب و سنت میں منصوص ہیں ۔ چنانچہ قاضی عیاض لکھتے ہیں :
'' دوسرے شہر تو متفرق طور پر ایک دو صحابہ کے مدفن ہیں لیکن مدینہ طیبہ میں دس ہزار صحابہ مدفون ہیں ''
نیز لکھتے ہیں :
واختارها الله بعد وفاته فجعل بها قبره وبها روضة من رياض الجنة ومنبر رسول الله ﷺ وليس ذالك فى البلاد غيرها
مدینہ کی فقہی حثیت:
آنحضرت ﷺ کی وفات کے وقت بیس ہزار صحابہ مدینہ میں موجود تھے اور آپ ﷺ کی وفات كى بعد خلفاء راشدين ، ازواج ِ مطہرات و اہل بیت ، نیز خیار صحابہ ، مہاجرین و انصار کی اکثریت مدینہ ہی میں مقیم رہی خلافت علی منہاج النبوۃ ( خلافت ِ راشدہ ) کا مرکز حاصل ہونے کا شرف بھی مدینہ کو حاصل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اہل علم اور سلف صالح اہل مدینہ پر بھروسہ کرتے رہے امام مالک فرماتے ہیں :
حضرت عمر بن عبد العزیز ( خلیفہ راشد جن کو مجّدد مائہ ثانیہ ہونےکا شرف حاصل ہے ) کی حالت یہ تھی کہ وہ دوسرے مراکز علمی اور بلادِ اسلامیہ کی طرف تو سنن وفقہ کی تعلیم کے لئے خطوط لکھتے لیکن اہل مدینہ سے خود استفسار کرتے اور انہوں نے ابو بکر بن حزم کو بتا کید لکھ بھیجا کہ اہل مدینہ کے علم اور سنن کو جمع کر کے میرے پاس بھیجو ۔
اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کا یہ خط ، تاریخ میں مفصل مذکور ہے جسے رسمی طور پر تدوینِ حدیث کر طرف پہلا قدم قرار دیا گیا ہے ۔
حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ ابن الزبیر اور عبدالملک بن مروان دونوں ہی نے مجھے مشورہ کے لئے دعوت دی ، تو میں نے ان دونوں کو لکھ بھیجا ۔
ان كنتما تريد ان المشوره فعليكم بدارالهجرة والسنة
'' اگر تم مشورہ چاہتے ہو تو تمہیں اہل مدینہ سے مشورہ کرنا چاہیے جو کہ دارالھجرۃ اور دارالسنہ ہے ''
اور اہل علم و فقہا ء ، اہل ندینہ کے اجماع کو حجیت قرار دیتے اور ان کے تعامل پر عمل پیرا ہوتے اور اصحاب فتوی ٰ صحابہ کرام جو دوسرے بلادِ اسلامیہ ، عراق وغیرہ میں اقامت پذیر تھے ، جب مدینہ آتے تو اپنے فتاویٰ کو اتصواب کے لئے اہل مدینہ کے سا منے پیش کرتے اور بصورت خلاف اپنے فتاویٰ سے رجوع فرما لیتے ، چنانچہ امام مالک فرماتے ہیں : (12)
حضرت عبداللہ بن مسعود سے عراق میں جو فتویٰ پوچھا جاتا ، اس کا جواب دیتے پھر جب مدینہ آتے اور دیکھتے کہ انہوں نے غلط فتویٰ دیا ہے، تو اس سے رجوع کر لیتے ، اور واپس کوفہ جاتے تو پہلے اس مسائل کو ملتے اور حقیقت حال سے آگاہ کرتے کہ صحیح مسئلہ یوں ہے اور پھر اپنے گھر میں جاتے ۔
اور امام شافعی بھی اہل مدینہ کی اس حيثیت کو سمجھتے اور ان کے اصول کی صحت کا اقرار کرتے تھے، چنانچہ امام شافعی سے منقول ہے :
واما اصول اهل المدينة فليس فيها حيلة من صحتها (13)
'' کہ اہل مدینہ کے اصول کی صحت میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے ''
او رہم دیکھتے ہیں کہ امام شافعی کا مذہب ، مؤطا کی تفصیل ہے یہ وجہ کہ اہل مدینہ کی احادیث کو عراقی روایات پر تقدم حاصل رہا چنانچہ حافظ ابنِ قیم لکھتے ہیں :
احاديث المدينة هى امّ الا حاديث النبوية وهى أشرف احاديث الامصار
'' اہل مدینہ کی احادیث ، تمام احادیث کی اصل ہیں اور تمام امصار سے اصحّ اور اشرف ہیں ''
اور امام بخاری کے طریقہ انتخاب اور تراجم ابواب کے تحت اصول پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری بھی جمیع امصار پر مدینہ کی احادیث کے تقدم کے قائل ہیں ، چنانچہ حافظ ابن قیم لکھتے ہیں ۔ (14)
ومن تأمل ابواب البخارى وجده اول ما يبدأ فى الباب بها ماوجد هاثم يتعها باحاديث اهل الامصار
'' کہ جو شخص امام بخار ی کے ابواب پر غور کرے گا ' اسے محسوس ہوگا کہ امام بخاری کے سامنے اگر مدنی اسناد کے ساتھ حدیث ہو تو اولا اسے لاتے ہیں پھر اس کے بعد دوسرے امصار کی احادیث لاتے ہیں ''
كل حديث ليس له اصل بالمدينة وان منقطعا ففيه ضعف
(ترتیب المدارک )
'' ہر وہ حدیث جس کی اصل اہل مدینہ کے پاس نہ ہو تو اس میں ضُعف ہے ''
امام مالک کا فضل و مرتبہ :
امام مالک حدیث و فقہ میں مسلّم امام ہیں اور غیر معمولی ذھانت کی وجہ سے سترہ سال کی عمر میں ہی مجلس افتاء پر متمکن ہو گئے تھے ، جبکہ حضرت نافع اور زید بن اسلم زندہ تھے ، اور امام مالک کے علم کے متعلق حمید بن الا سود کا قول ہے :
كان إمام الناس عندنا بعد عمر زيد بن ثابت وبعده عبد الله بن عمر قال علي بن المديني وأخذ من زيد ممن كان يتبع رأيه واحد وعشرون رجلاً.
ثم صار علم هؤلاء إلى ثلاث ابن شهاب وبكير بن عبد الله وأبي الزناد، وصار علم هؤلاء كلهم إلى مالك بن أنس (15)
نیز شاہ والی اللہ لکھتے ہیں :
'' فقہ و فتاویٰ کا اصل منبہ تو حضرت ﷺ تھے اور پھر فقہاء صحابہ ابن عمر ، عائشہ ، ابن عباس ، ابوھریرۃ ، انس ابن مالک اور جابر بن عبداللہ کا دور آتا ہے ، جن کے متعلق شاہ صاحب فرماتے ہیں :
وايستاں مركز دالره آمدندوبعد ايستاں این کاروبار برفقهاء سبعة افتاد.
( سعید المسیب ، عروۃ، سالم ، قاسم بن محمد بن ابی بکر ، خارجۃ بن زید بن ثابت ، عبید اللہ بن عبداللہ بن مسعود ، سلیمان بن یسار ) اور پھر ان کے وارث ، امام مالک بن گے اور ان کی احادیث اور آثار مرتب کئے''
اس لئے ہم کہتے ہیں کہ امام مالک کی حثیت مدینہ میں ، صرف امام الحدیث و الفقہ کی نہ تھی ، بلکہ وہ فقہاؤ مدینہ کے علوم کے حامل تھے اور فقہُ الحدیث کے بانی تھے ۔ علاوہ ازیں مملکت اسلامی آپ کے فتاویٰ کو قدرو منزلت سے دیکھتی اور تسلیم کے بغیر چارہ کار نہ پاتی ۔
امام مالک نے جب مدینہ منورہ میں مسندِ علم و افتاء کو رونق بخشی ، تو بہت جلد عالم اسلام میں آپ کی شہرت پھیل گئی ، مغرب مشرق کے بلاد اسلامیہ کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ، اور '' يضربون اليه اكباد الابل '' کا سماں نظر آنے لگا ، اور طالباںِ کتاب و سنت کے اس صافی سر چشمہ سے سیرابی کے لئے جوق در جوق مدینہ میں وارد ہونے لگے ۔ امام مالک سنت کے پابند اور بدعات سے متنفر تھے اور اکثر یہ شعر پڑھا کرتے ۔
وخير امورالدين ما كان سنة
وشرالامور المحدثات البدائع
یعنی '' بہتر دینی کام ، وہ ہیں جو سنت سے ثابت ہوں اور بدترین کام امورِ محدثہ ہیں ''
امام مالک کے اس اسوہ کو دیکھ کر اہل علم اتباعِ سنت کے جوش میں ان کے اکل و شرب اور لباس تک کو نمونہ سمجھتے اور امام مالک کی مخالفت کرنے والوں کو عراقی ہونے کا طعنہ دیا جاتا ۔
امام مالک اور حکومت ِ وقت :
امام مالک ، حکام وقت سے کنارہ کش رہتے ، خلفائے وقت یکے بعد دیگرے طمع و لالچ دے کر اپنی طرف مائل کرنے ی کوشش کرتے رہے ، مگر امام مالک ان کے کردار پر صاد کرنے پر انکار کر یتے چنانچہ طلاق المکرہ ے مسئلہ میں امام مالک ، حکومت وقت کے خلاف فتویٰ سے باز نہ آئے اس طرح طلاق قبل ازنکاح کا مسئلہ کہ حنفی مذہب میں یہ طلاق معلّق ہے اور بعد از نکاح طلاق نافذ ہو جاتی ہے ، مگر امام مالک حدیث کے مطابق اس کے خلاف فتویٰ دیتے ۔
بہر حال امام مالک کے فتاویٰ کی عوام کے دلوں میں عظمت تھی اور افتاء و قضاء کے عہدے گواحناف کے قبضے میں تھے مگر عوام ان کو درباری علماء کا درجہ دیتے دکتور احمد بکیر اپنے مقدمہ ترتیب و المدارک میں لکھتے :
وكان الولاة من عرب المشرق يعمدون على فقهاء الحنفية فى ادارتهم و احكامهم والمالكيه يرون فى اصحاب ابى حنفية انهم صنائع سلطان اكثر منهم فقهاء دين
اور علماء مالکیہ ، مسئلہ خلق القرآن میں حکومت کے سخت مخالف تھے ، حتی کہ علماءِ مالکیۃ مرتے وقت وصیت کردیتے کہ میر ی قبر پر یہ عبارت کندہ کر دی جائے :
هذا قبر فلان بن فلان يشهد ان لا اله الله وان محمد رسول الله وان القرآن كلام الله غير مخلوق
گویامرنےکے بعد بھی معتزلہ کے لئے یہ چیلنج تھے ۔
پھر قیروان ، اندلس میں مالکیۃ ہی تھے جنہوں نے بنو عبید ( باطنیہ ) کا مقابلہ کیا ، حتی کہ وہ قیروان چھوڑ کر نیا شہر ( مہدیہ) آباد کرنے پر مجبور ہو گئے اور بالآخر افریقہ کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے صاحب مقدمہ لکھتے ہیں :
ولم يسجل التاريخ مقاومة للبدع مثل ما سجل للمذهب المالكى مع الخوارج والشيعة الباطنية و المعتزلة اللهم الا ما قام يه بعض الحنابلة فى محنة القول بخلق القرآن وما كابده شيخ الاسلام ابن تيمية فى مقاومته لبدع الطرفية فى عصره
الغرض کتاب و سنت کی نشرو اشاعت اور فرقِ مبتدعہ کے مقابلہ میں کردار امام مالک اور ان کے اتباع نے ادا کیا ، تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی یا حنابلہ خصوصا ابن تیمیہ نے اپنے دور میں اہلِ بدعت کا مقابلہ کر کے تاریخ ساز کردار ادا کیا ، جو تحریک اہل حدیث کا ایک باب ہے اب یہاں پر ہم مدرسہ مدینہ اور مدرسہ عراق ے تقابل کے لئے امام مالک کے فقہی اصولوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔
تعامل اہل مدینہ :
امام امالک کے دور میں مدینہ طیبہ کی مر کز یت ، علم و فضل کے اعتبار سے بھار ی تھی اور امام شافعی ان کے بعد امام احمد بن حنبل اسی نظریہ کے حامی تھے ۔ بلکہ امام محمد بھی ابتدا امام امالک سے متاثر تھے اور مدینہ کی مذکورہ بالا حیثیت کے ساتھ امام مالک ، تعامل اہل مدینہ کو حجت قرار دیتے اور اختلاف کی صورت میں اسے ترجیح دیتے اور تعامل اہل مدینہ کے حجت کی وضاحت ، امام مالک کے اس رسالہ سے بھی ملتی ہے جو انہوں نے اپنے معاصر لیث بن سعد مصری ( م 175 ھ ) کو لکھا اور لیث نے جوابا مدینہ کی حثیت کو تسلیم کیا ہے ۔ (16)
امام مالک نے '' عمل اہل مدینہ '' کو اہمیت دی اور مؤطامیں چالیس سے اوپر مسائل میں عمل اہل مدینہ کو بطور دلیل پیش کیا اور خلفاءِ راشدین اور صحابہ و تابعین کے عہدمیں بھی اہل مدینہ کے خلاف حدیث و روایت کو کوئی زیادہ اہمیت نہ دی جاتی ، حضرت عمر تو منبر پر کھڑے ہو کر اعلان کرتے
احرج بالله على رجل روى حديثا العمل على حلافه (17)
'' یعنی کہ ہر آدمی کو ایسی حدیث کی روایت سے پرہیز کرنا چاہیے کہ عمل اہل مدینہ اس کے خلاف ہو ''
اور امام مالک فرماتے ہیں بہت سے اہل علم تابعین کو جب ایسی احادیث پہنچی جو عمل اہل مدینہ کے خلاف ہوتیں تو کہتے :
ما نجهل هذا ولكن مضى العمل على غيره-
'' ہم ان احادیث سے بے خبر نہیں ہیں مگر عمل اہل مدینہ اس کے خلاف ہے ''
اور محمد بن ابی بکر بن عمرو بن حزم اپنے عہد ۂ قضا کے زمانہ میں عمل اہل مدینہ کے مطابق فیصلے کرتے ، تو ان کے بھائی عبد اللہ اعتراض کرتے او رکہتے کہ یہ فلاں حدیث کے خلاف ہے تو ابن ابی بکر بن حزم انہیں جواب دیتے کہ یہ حدیث تو مجھے بھی پہنچی ہے لیکن عمل اہل مدینہ اس کے خلاف ہے ان کا مطلب یہ تھا کہ اجماعی عملِ اہل مدینہ ، اس حدیث سے اقویٰ ہیں اسی طرح عبدالرحمن بن مہدی فرمایا کرتے :
السنة المتقدمة من سنة اهل المديمة خير من الحديث
''کہ اہل مدینہ کی سنت قدیمہ ، حدیث سے بہتر ہے ''
الغرض اس قسم کے متعدد اقوال ، صحابہ و تابعین سے منقول ہیں جن سے اہل مدینہ کے تعامل کا تقدم ثابت ہوتا ہے اور دوسرے بلاد کے مقابلہ میں اس کا اقویٰ ہونا ظاہر ہوتا ہے ۔ امام مالک فرماتے ہیں :
آنحضرت ﷺ کے کئی ہزار صحابہ تھے ان میں سے دس ہزار تو مدینہ میں سوئے ہوئے ہیں اور دیگر متفرق شہروں میں ، اور آنحضرت ﷺ کی وفات کے وقت بیس ہزار صحابہ موجود تھے ۔ تو اب ان دس ہزار کی بات مانی جائے جو مدینہ سے باہر نہیں گئے یا ان چند صحابہ کی ، جو دوسرے شہروں میں چلے گئے ۔(18)
حافظ ابن قیم نے باہر جانے والے صحابہ کی کچھ تفصیل دی ہے (19)اب ہم تعامل اہل مدینہ کی شرعی حیثیت پر اصولی بحث کرتے ہیں جس سے '' تعامل اہل مدینہ '' کے حجت ہونے کی حیثیت واضح ہوگی اور امام مالک کا مسلک سمجھنے میں مدد ملے گی لیکن قبل اس کے کہ ہم اس موضوع پر قلم اٹھائیں ضروری ہے کہ قارئین کے سامنے اس کا پس منظر آجائے تاکہ اس معرکۃالاراء مبحث کو سمجھنے میں آسانی ہو ۔
تعامل مدینہ کی حیثیت :
سب سے پہلے اس بحث پر امام لیث بن سعد نے قلم اٹھایا ، جو امام مالک کے زمیل و صدیق اور معاصر تھے انہوں نے عراق و حجاز میں رہ کر اہل مدینہ اور عراق و کوفہ کی آراء کو جمع کیا ، اور مصر پہنچ کر مسند تدریس و افتاء پر بیٹھ کر عمل اہل مدینہ کی تردید شروع کر دی امام مالک کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے امام لیث کے سامنے مدینہ کی حیثیت واضح کی اور بتایا کہ اکثر صحابہ مدینہ میں رہے ہیں اور اسی شہر میں فوت ہوئے ہیں ، لہذا تعامل مدینہ میں ہی رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کا تعامل ہے اور کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ مہاجرین ِ اولین اور انصار کی مخالفت کر ے او ر اس کے خلاف جو قول بھی ہو گا خواہ وہ ایک یا دو صحابہ کے قول پر مبنی ہو ، قابلِ اعتماد نہیں ہو سکتا ۔
امام لیث نے گو تمام بحث کو نہایت سنجیدگی سے لیا ، مگر انہوں نے عمل اہل مدینہ کی مخالفت کرکے اس موضوع پر جَدَل کا ایک نیا باپ قائم کر دیا ۔
اس وجہ سے امام مالک کے آنکھ بند کرنے کے ساتھ ہی اُن کی آراء پر تلوار یں چلنے لگیں اس معرکہ میں پہل امام محمد بن الحسن شیبانی نے کی ، جو امام ابوحنیفہ سے تعلیم کے بعد امام مالک کے حلقہ تلمذ میں آگئے مؤ طا مالک کا سماع اور مؤطا کا نسخہ مرتب کیا تھا جو '' مؤطا امام محمد '' کے نام سے معروف ہے وہ حجاز سے بغداد جانے تک تو امام مالک سے متاثر تھے مگر رشید عباسی سے عہدہ قضا حاصل کرنے کے بعد مالکیہ کی جڑیں کاٹنا شروع کر دیں ، اور مالکی مذہب پر تنقید کے دروازے چو پٹ کھول دیئے ۔
لیکن امام محمد کی یہ مخالفانہ مساعی ، مؤطا مام مالک کی عظمت و قدر کو کم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں ، شاہ ولی اللہ دہلوی نے '' المصفّٰی '' شرح مؤطا کے مقدمہ میں مؤطا مالک کی حیثیت کے متعلق تفصیل سے بحث کی ہے ، اور حجۃ اللہ البالغہ میں بھی '' باب طبقات ِ کتب الحدیث '' کے ضمن میں مؤطا کی شہرت او رقبولیت عامہ بیان کرے ہوے لکھتے ہیں :
ثم لم يأت زمان إلا وهو أكثر له شهرة وأقوى به عناية وعليه بنى فقهاء الأمصار مذاهبهم حتى أهل العراق في بعض أمرهم، ولم يزل العلماء يخرجون أحاديثهم ويذكرون متابعاته وشواهده، ويشرحون غريبه، ويضبطون مشكله، ويبحثون عن فقهه، ويفتشون عن رجاله إلى غاية ليس بعدها غاية.
اس كى بعد كتاب الاآثار و كتاب الامالى کے متعلق لکھتے ہیں :
وإن شئت الحق الصراح: فقس كتاب الموطأ بكتاب الآثار لمحمد، والأمالي لأبي يوسف تجد بينه وبينهما بعد المشرقين، فهل سمعت أحداً من المحديثين والفقهاء، تعرض لهما واعتنى بهما؟
اس كى بعد امام شافعی کا دور آیا جو امام مالک کے تلمیذ تھے اور انہوں نے یہ اصول و فروع امام مالک سے حاصل کئے تھے ، لیکن ذہانت و فطانت انسان کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتی اور تلامذہ اپنا راستہ بنانے کے لئے شیوخ پر تنقید کر دیتے ہیں ۔ امام شافعی اسلامی مراکز کے چکر لگاتے رہے تا کہ کسی جگہ مرکزقائم کرنےکے لئے مناسب ماحول مل جائے بالآخر مصر پہنچ کر ماحول راس آگیا ، اور اپنے فکر جدید کی نشرو اشاعت سے لوگوں کو متاثر کرنا شروع کر دیا ، اور امام لیث کے انصار ان کے ساتھ ہوگئے۔
امام شافعی اولاً مصر وارد ہوئے تو مالکیہ میں شمار ہوتے اور مصر میں مالکیہ نے ہی ان کا استقبال کیا اور بنی عبد الحکم کا مہمان بن کر رہے مگر جلد ہی ان کے خیالات میں تبدیلی آگئی اور انہوں نے '' رسالہ '' تصنیف کیا تو اس میں امام لیث کی طرح اجماع اہلِ مدینہ کو موضوع بحث بنایا اور امام لیث اور امام محمد با الحسن شیبانی کے طریق پر عمل اہل مدینہ کی تردید کی ، جو تلمیذِ مالک سے متوقع نہ تھی اس طرح اصحابِ مالک اور شافعی میں ردود کا سلسلہ شروع ہوگیا ابوبکر مالکی ( 290ھ) نے امام شافعی کے رد میں کتاب لکھی پھر جواب میں شوافع نے بھی مالکیوں کا رد شروع کردیا امام شافعی کے بعد ان کے تلمیذ امام ربیع بن سلیمان المرادی نے اس بحث میں شدت پیدا کر دی۔
پھر اس ضمن میں ابن حزم ظاہر ی نے تو '' کتاب الاحکام فی اصول الاحکام '' میں اپنی شدت ِ قلم کو خوب جوانی دی اور '' عمل اہل مدینہ '' کے رد میں خوب جی بھر کر لکھا (20)اور بحث میں اس قدر تلخی پیدا ہوگئی کہ دونوں مذہب کے علماءِ مشرق مغرب ایک دوسرے کے دشمن نظر آنے لگے ۔
پانچویں صدی کےآخر میں قاضی عیاض بن موسیٰ ابوالفضل یحصبی ( 544ھ) مالکی مذہب کی حمایت کے لئے کھڑے ہوئے اور اس موضوع میں امام مالک کے نقطۂ نظر کی وضاحت کی اور بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا ۔
قاضی عیاض کے سامنے سابق علماء کی تنقیدات تھیں ۔ امام لیث اور امام شافعی کے خیالات ان کے پیشِ نظر تھے ، امام ابن حزم کے تلخ خویش جو امام شافعی کی حمایت میں لکھا تھا وہ بھی حاضر ذہن تھا امام غزالی اور دیگر شوافع نے بزعم خویش جو امام شافعی کی حمایت میں لکھا تھا وہ بھی حاضر ذہن تھا الغرض اس بحث کے تمام موافق و مخالف پہلو قاضی عیاض کے زیر نظر تھے چنانچہ وہ لکھتے ہیں : (21)
اس مبحث میں ہماری مخالفت کرنے والے تین گروہ ہیں ۔
(الف) ایک گروہ تو وہ ہے جو اس مسئلہ کی اصل حیثیت سے ہی واقف نہیں ہ او رہمارے موقف سے بھی جاہل ہے انہوں نے محض ظن و تخمین سے کام لیا ہے ۔
(ب) اور دوسرا گروہ وہ گروہ ہے جو بلا تحقیق مواد اخذ کر کے ہماری تردید اور مخالفت کے درپے نظر آتا ہے ۔
(ج) تیسرا گروہ وہ ہے جنہوں نے ہم پر قلم درازیاں کی ہیں او رنا حق باتیں ہماری طرف منسوب کر کے ہم پر زیادتی کی ہے ، جیسے غزالی مخاملی وغیرھم کہ وہ اس مسئلہ میں وہ باتیں زیر غور لائے ہیں ، جن کے ہم سرے سے قائل ہی نہیں ہیں اور وہی دلائل ہمارے خلاف جمع کر دیے ہیں جو نفسِ اجماع کے مخالفین اجماع کے رد میں لاتے ہیں ۔
اس بنا پر میں چاہتا ہوں کہ اس مبحث پر مشتمل کلام پیش کیا جائے اور اس کی اصولی حیثیت واضح کر دی جائے تاکہ کوئی انصاف پسند آدمی اس کا انکار نہ کر سکے اور اپنے نظریہ پر نظر ثانی کے لئے مجبور ہو جائے اور ہمارے مؤقف کو تسلیم کر لینے کے بغیر کوئی چارہ کار نہ رہے نیز اس کے مخالف اور موافق پہلوؤں پر بھی غور ہو جائے ۔
اس کے بعد اب ہم قاضی عیاض کے مباحث کا خلاصہ پیش کرتے ہیں اور حافظ ابنِ قیم کی تنقیحات کی روشنی میں ان کا جائزہ لیتے ہیں :
(الف) ایک وہ جو بذریعہ نقل و روایت ہم تک پہنچا ہے یعنی جمہور نے جمہور سے نقل کیا ہے اور اس پر تواتر سے عمل چلا آیا ہے حتی کہ کسی سے بھی مخفی نہیں رہا اس قسم کی نقل چار قسم پر مشتمل ہے یعنی آنحضرت ﷺ کے اقوال و افعال اور تقریرات اور جس کا م کا آنحضرت ﷺ نے ارادہ کیا مگر کسی مصلحت کے سبب اس پر اقدام نہیں کیا اور وہ نقل ، شرعی حیثیت سے آنحضرت کے قول و فعل سے ثابت ہے جیسے مقدار ِ صاع اور مُدّ وغیرہ ، جس کے مطابق رسول اللہ ﷺ زکاۃ وصدقات ِ فطر وغیرہ وصول کرتے تھے ارو اذان و اقامت وغیرہ ، تو ایسی نقل قطعی ہے اور ا س کی قطعیت اس نوعیت کی ہے جیسے آنحضرت ﷺ کا روضئہ مبارک ، مسجد نبوی ، منبر اور خود مسجد نبوی کا تعیّن شک و شبہ سے بالا تر ہے اور اس قسم کے اقوال و افعال اور تقریراتِ نبویہ میں شبہ کی گنجائش نہیں ہو سکتی اور اس نقل کا تعلق خواہ آ پ کے احوال سے ہو یا نماز کی رکعات و سجدات کی تعداد سے ہو یا کسی چیز کےمشاہدہ کے بعد آپ کی تقریرات سے ہو بہر حال یہ حجت قطعی ہے اور اس کے خلاف قیاس یا خبر واحد کی کچھ حیثیت نہیں یہی وجہ ہے کہ جب امام ابو یوسف نے صاع و مد وغیرہ کی مقدار کے بارہ میں امام مالک سے مناظرہ کیا اور امام مالک نے عمل اہل مدینہ کی نقل پیش کی تو قاضی صاحب نے ان مسائل میں عراقی مسلک کو چھوڑ کر مدنی مسلک اختیار کر لیا ارو اعتراف کیا کہ اگر میر ے صاحب ( یعنی امام ابو حنیفہ ) ان چیزوں کو دیکھ لیتے تو وہ بھی طرح رجوع کر لیتے ۔
قاضی عیاض مزید لکھتے ہیں :
ایسا اجماع بلا شبہ حجت ہے اور کوئی منصف مزاج اس سے انکار نہیں کر سکتا اور اہل مدینہ کے علاوہ جو علماء بھی اس کا انکار کرتے ہیں ، ان کو یہ نقل و روایت نہیں پہنچی ۔
قاضی عبدالوھاب بن نصر بغدادی لکھتے ہیں کہ شوافع میں سے صیرفی نے بھی اس سے اتفاق کیا ہے اور اگر بعض انکار کرتے ہیں تو محض عناد کی وجہ سے انکار کرتے ہیں کیونکہ اہل مدینہ سے تو یہ نقل تواتر کےساتھ منقول ہے ، اور دوسر ے بلاد میں نقل و روایت ، تواتر کی شروط پر پوری نہیں اترتی ، کیونکہ اوپر جا کر ایک دو صحابہ اس کے راوی رہ جاتےہیں اور نقل ِ تواتر میں طرفین اور وسط میں تساوی شرط ہے ۔
(ب) اہل مدینہ کسی ایسے مسئلہ پر متفق ہوں جس کا تعلق ، نقل و روایت سے نہ ہو ، بلکہ اس کا تعلق اجتہاد و استدلال سے ہو تو اس قسم کے اجماع کے حجت ہونے پر امام مالک سے تصریح منقول نہیں ہے اور ہمارے اکثر اصحاب اسکی حجیت کے منکر ہیں ، کیونکہ یہ اجماع نہیں ہے ، بلکہ یہ ایک گروہ کا خیال ہے ، اور بعض مخالفین نے اسے امام مالک کی طر ف نسبت کر کے تحریف کی ہے جبکہ ابو بکر صیرفی اور امام غزالی نے لکھا ہے کہ امام مالک کے نزدیک اس قسم کا اجماع بھی حجت ہے ، حالانکہ امام مالک اور اس کے اصحاب میں سے کوئی بھی اس اجماع کو حجت نہیں کہتا اسی طرح بعض علمائے اصول یہ کہہ دیتے ہیں کہ امام مالک فقہاءِ سبعہ مدینہ کے اجماع کو حدحجت مانتے ہیں ۔ حالانکہ امام مالک سے یہ ثابت نہیں ہے ۔
علی ہذا القیاس بغض علماء نے ہماری طرف یہ نسبت کردی ہے کہ ہم صرف انہی اخبار کو مانتے ہیں جن کی اہل مدینہ کے عمل سے تائید ہوتی ہو یہ کذب بیانی یا جہالت ہے اور رد اخبار کے سلسلہ میں ہمارے مسلک کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے اور بعض اخبار صحیحہ کے ردّ کر دینے کی جو امام مالک کی طرف نسبت کی گئی ہے صحیح نہیں ہے اصول فقہ میں اس قسم کے مسائل کی تفصیل دیکھی جا سکتی ہے امام ابن تیمیہ نے '' رفع الملام '' میں لکھا ہے کہ اس دوسری قسم کے اجماع کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے
(1) عمل قدیم یعنی حضرت عثمان کی شہادت سے قبل کا زمانہ ، یہ اجماع تو امام مالک کے نزدیک حجت ہے اور امام شافعی بھی بعض روایات کی رو سے اس مین موافقت کرتے ہیں ، چنانچہ یونس بن عبد الاعلیٰ سے روایت ہے کہ امام شافعی نے فرمایا :
'' جب قُدماء اہل مدینہ کسی امر پر متفق ہو جائیں تو اس کے حق ہونے پر کسی قسم کا توقف و تر دد نہیں چاہیے ''
اور امام احمد بن حنبل نے بھی متعدد مواضع پر اس کی تائید کی ہے ، وہ فرماتے ہیں :
'' خلفاءِ راشدین کی سنّت حجت اور واجب ُالاتباع ہے ''(22)
دوسرا دور اس اجماع کا یہ ہے جو شہادت عثمان یا ظہورِ فتنہ کے بعد کا ہے ۔ امام ابن تیمیہ اسے عملِ متأخر سے تعبیرکرتے ہیں ، ایسا اجماع نہ تو آئمہ ثلاثہ کے نزدیک حجت ہے اور نہ ہی امام مالک اسے حجت مانتے ہیں چنانچہ قاضی عبد الوھاب اپنے '' اصولِ فقہ '' میں لکھتے ہیں :
ایسا عمل نہ تو اجماع ہے اور نہ ہی محققین اصحابِ مالک کے نزدیک حجت ہے ۔
اور موطا میں جس عمل و اجماع کا ذکرپایا جاتا ہے اس سے اجماع قدیم مراد ہے چنانچہ امام مالک سے کبھی تو ، '' لم يزل عليه اهل العلم ببلدنا هذ ا '' سے تعبیر کرتے ہیں اور کبھی یہ لفظ استعمال نہیں کرتے ، بلکہ اہل مدینہ کے نزدیک اسے مجمع علیہ قرار دیتے ہیں اور امام مالک سنت اور اجماع قدیم کی اتباع کو لازم قرار دیتے ہیں ، نہ ہو اجماع متاخر کو ۔ جس کی حجت آئمہ کے نزدیک مختلف فیہ ہے ۔
حافظ ابن قیم، اعلام میں لکھتے ہیں ،
امام مالک نے مؤطا میں چالیس سے اوپر مسائل میں اہل مدینہ کے اجماع کا دعویٰ کیا ہے لیکن رحمہ اللہ نے کسی مقام پر یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اس ک سوا پر عمل جائز نہیں ہے بلکہ اہل مدینہ کے عمل کا ذکر کیا ہے اس لئے زیادہ اس عمل کو امام مالک کے نزدیک ممتاز کہہ سکتے ہیں ، واجب العمل نہیں ، خود امام مالک نے ہارون الرشید کے سامنے اس کی وضاحت کی ہے ، جس سے واضح ہوتا ہے کہ امام مالک کے نزدیک جمیع امت کو اس پر عمل کرنا لازم نہیں ہے(23)
اس تفصیل کے بعد اب ہم علم و عمل اہل مدینہ کی حیثیت اور اس کے سرچشمہ پر بحث کرتے ہیں جو فتاویٰ ابن تیمیہ سے ماخوذ ہے ۔
اہل مدینہ کے علم کا سرچشمہ :
اہل مدینہ کے علم کا سر چشمہ دو چیزیں ہیں: سنتِ ثابتہ اور حضرت عمر کا فتاوی، جسے شاہ ولی اللہ نے '' فقہ عمر'' کے نام سے '' ازالۃالخفاء '' میں اپنی تتبع کے مطابق جمع کر دیا ہے ارو امام مالک کو وہ فقہ و فتاوی ربیعہ الرائی عن سعید بن المسیب عن عمر پہنچی ہیں اور حضرت عمر کا جو مرتبہ و مقام امت میں ہے ، ہ کسی پر مخفی نہیں خود رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر کو محدّ ث فرمایا ہے (24) اور پھر حضرت عمر کے قضا یا و فتاوی کو ان کی مجلس شوریٰ کا تائید بھی حاصل ہے ، جن میں حضرت علی برابر کے شریک رہے اس بناء پر امام شعبی فرماتے ہیں ۔
انظر واما قضي به عمر فانه كا يشاور
اور ظاہر ہے کہ جب حضرت عمر کے قضایا و فتاویٰ شوریٰ کے طے شدہ ہیں ، تو حضرت عبداللہ بن مسعود اور دیگر صحابہ کے فتاویٰ کو وہ حیثیت کیسے حاصل ہو سکتی ہے ، جو انفرادی اور شخصی حیثیت کے ہیں کیونکہ اولا تو یہ حضرت عمر نہ تھے اور پھر ان کے فتاویٰ کو شورائی حیثیت حاصل نہ تھی لہذا دوسرے شہروں والے مقتدیٰ صحابہ پر جتنا فخر کریں بجا ہے ، تا ہم ان کے فتاوی کو علم و عمل ِ اہل مدینہ کی حیثیت حاصل نہیں ہو سکتی علاوہ ازیں اختلاف ، شیخین کے بعد ہوا رونہ خلیفتین کی اجماعیات ، اب بھی مذاہب اربعہ کی اصل ہیں اور شاہ ولی اللہ نے معتدد کتابوں میں شکوہ کیا ہے کہ ہوش سے کام لو ، کنز و قدوری پڑھنے سے اسرارِ فقہ پر واقفیت حاصل نہیں ہو سکتی فقہ اسلامی کو سمجھنے کے لئے تو خلیفتین کے دور کی طرف رجوع کرنا پڑھے گا ۔
یہی وجہ ہے کہ امام مالک ، اہل مدینہ کی مخالفت کو جماعت کی مخالفت قرار دیتے ہیں ، ورنہ ان کا یہ مطلب ہر گز نہ تھا کہ آیت (وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ)كا مصداق تا قيامت اہل مدینہ ہیں جیسا کہ ابن حزم نے الزام دیا ہے ۔ (25 ) اس بناء پر ہم دیکھتے ہیں کہ علمائے شام و مصر بلکہ کوفہ کے سوا تمام امصارالمسلمین علمِ اہل مدینہ کے سامنے سرنگوں رہے ہیں اور علماء کوفہ بھی فتنہ سے قبل امام مالک کے اس مذہب کے حامی رہے ہیں ۔
لیکن فتنہ و فرت کے بعد علماء کو فہ ، علماءِ مدینہ کی ہمسری اور رقابت کا دعویٰ کرنے لگے ۔ ورنہ تو اہل مدینہ کی حدیث کو دوسرے بلاد کی احادیث پر فوقیت حاصل تھی جیسا کہ ہم بیان کر آئے ہیں اور ان کی فقہ و اجتہاد بھی ۔
حوالہ جات :
 بخاری کتاب الصیام باب ھل یقال رمضان ... الخ . (2) ص: .. (3) فتح الباری ، ج5 ، ص 15 ....(4) التاریخ الکبیر (5) المدارک : ج 1 ، ص 106 ... (6) تہذیب التہذیب(7) ج1، 107 (8) ترتیب المدارک :ج 1 ،ص108) ...(9) ج2 ، ص 269..(10) مقدمہ عارضہ الاحوذی: ص5 ...(11) المدارک: ج1، ص67... (12) ترتیب المدارک ج1 ، ص 62 واعلام لابن قیم...(13) ۔ایضاحوالہ سابق (14)اعلام الموقتین:ج3،ص367 (15)ترتیب المدارک:ج1، ص87(16)ترتیب المدارک:ج1، ص64۔65وتاریخ بغداد:ج13، ص3وعلام الموقتین 2، 361 (17)ترتیب المدارک: ج1،ص66(18)ترتیب المدارک: ج1،ص66۔67(19)اعلام2،362(20)الاحکام لابن حزم: ج3،ص203،205،217 ج7،ص170۔171(21)المدارک: ج1،ص67۔75(22)رفع الملام وفتاوی ج20ص308(23)اعلام2/والفتاوی: 20،311(24)صحیحین وترمذی(25)احکام لابن حزم