تازہ ترین کتاب تيسير الوهّاب في علاج ظاهرة الإرهاب کی منتخب مباحث كا ترجمہ
’ اِرہاب‘ (دہشت گردی ) کی لغوی تعریف
اِرهاب ( دہشت گردی ) کا لفظ خوف کے معنی کے گرد گھومتا ہے ۔ ابن فارس [1]نے کہا :
" رهـ ب کی دو اصل ہیں ، ایک خوف کا معنی دیتی اور دوسری باریکی اور ہلکا پن کا اور یہاں پہلا معنی مراد ہے ۔ مثلاً یہ کہا جاتا ہے : رهبتُ الشيء رَهَبًا وَرُهْبًا وَرَهْبَةً یعنی میں کسی چیز سے ڈر گیا ، اور إِرهاب کہتے ہیں :’’اونٹ کو حوض میں آنے سے اور پانی پینے سے بھگانا ۔‘‘[2]
اور   أَرهَبَه واستَرهَبَه    یعنی ’’اسے ڈرایا اور دھمکایا ۔‘‘[3]
إِرهاب کا لفظ ثلاثی مزیدفیہ سے أرهبَ کا مصدر ہے ، جیسے کہا جاتا ہے کہ أرهب فلانًا إِرهابا یعنی ’’اسے ڈرایا اور خوف زدہ کیا ۔‘‘ باب تفعیل رهَّب کا بھی یہی مفہوم ہے۔ لیکن اسی مادہ سے فعل مجرد : رهِب يرهَب رَهْبة ورَهْبًا ورَهَبًا ‘‘ کے معنی ڈرنے کے ہیں ، کہا جاتا ہے : رهِبَ الشيءَ رَهَبًا ورَهبة یعنی کسی چیز سے ڈر گیا ، اور الرَهبَة کے معنی ’خوف اور گھبراہٹ ‘کے ہیں ۔[4]
قرآن مجیدکے اندر لفظ رهـ ب اور اس کے مشتقات بارہ جگہوں پر آئے ہیں [5] جن کی اکثریت اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرنے اور خوف کھانے کا معنی پر مشتمل ہے ، ان میں سے بعض درج ذیل ہیں :
1.  اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
﴿يـٰبَنى إِسر‌ٰءيلَ اذكُروا نِعمَتِىَ الَّتى أَنعَمتُ عَلَيكُم وَأَوفوا بِعَهدى أوفِ بِعَهدِكُم وَإِيّـٰىَ فَارهَبونِ ﴿٤٠﴾... سورة البقرة
’’ اے بنی اسرائیل ! یاد کرو میری اس نعمت کو جو میں نے تم کو عطا کی تھی۔ میرے ساتھ تمہارا جو عہد تھا، اسے تم پورا کرو تو میرا جو عہد تمہارے ساتھ تھا، اسے میں پورا کروں گا اور مجھ ہی سے تم ڈرو ۔‘‘
2.  فرعون کے جادوگروں کے سلسلے میں اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
﴿سَحَروا أَعيُنَ النّاسِ وَاستَرهَبوهُم ...﴿١١٦﴾... سورة الاعراف
’’ انہوں نے لوگوں کی نگاہوں کو مسحور اور انہیں خوف زدہ کر دیا ۔‘‘
3.  اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَيَدعونَنا رَغَبًا وَرَهَبًا ...﴿٩٠﴾... سورةالأنبياء
’’ اور ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے ۔‘‘
اور جہاں تک اللّٰہ تعالیٰ کے اس فرمان :
﴿وَأَعِدّوا لَهُم مَا استَطَعتُم مِن قُوَّةٍ وَمِن رِباطِ الخَيلِ تُرهِبونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُم...﴿٦٠﴾... سورة الانفال
’’ اور تم لوگ جہاں تک تمہارا بس چلے ، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلہ کے لیے مہیا رکھو جس کے ذریعہ سے تم اللّٰہ کے دشمن اور اپنے دشمن کو خوف زدہ کر سکو ۔‘‘
کا تعلق ہے تو یہ ’حملہ آور دشمنوں اور زیادتی کرنے والے ظالموں کو ڈرانے کے لیے ، شرعی ضوابط اور صحیح معتبر شرطوں کے ساتھ جنگی سازو سامان تیار کرنے ‘کے سلسلے میں ہے ۔
دہشت گردی کی اصطلاحی تعریف
سب سے زیادہ جامع و مانع تعریف جو دہشت گردی کے تمام گوشوں کو شامل ،شرعی احکام کے موافق اور اس کی اصطلاحات سے ہم آہنگ ہے ، وہ رابطہ عالم اسلامی کی ذیلی تنظیم ’فقہ اکیڈمی ‘ کی تعریف ہے کہ
"العُدوان الذی یمارسه أفراد أو جماعات أو دُوَل بغيًا على الإنسان، في دينه ودمه وعقله وماله وعِرضه"[6]
’’ دہشت گردی نام ہے اس زیادتی کا جو افراد یا تنظیموں یا ملکوں کی جانب سے انسان کے دین ، جان ، عقل ، مال اور عزت و آبرو کے خلاف کی جاتی ہے۔‘‘
اس میں خوف زدہ کرنے ، تکلیف پہنچانے ، دھمکانے ، ناحق قتل کرنے اور ڈاکہ زنی و رہزنی کی تمام صورتیں شامل ہیں ۔ اسی طرح تشدد اور دھمکی اور شدت پسندی کا ہر وہ کام جو انفرادی یا اجتماعی طور پر مجرمانہ مقاصد کو پورا کرنے کے لیے کیا جائے اور جس کا مقصد یہ ہو کہ لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا کیا جائے یا اُنہیں تکلیف پہنچا کر ہراساں کیا جائے یا ان کی زندگی ، آزادی ، امن اور حالات کو خطرے میں ڈالا جائے ۔
دہشت گردی کی مختلف صورتیں ہیں ، مثلاً : ماحولیات کو نقصان پہنچانا یا عوامی و ذاتی مفادات و املاک کو ضائع، برباد کرنا اور اُنہیں خطرے میں ڈالنا ۔یہ ساری منفی سرگرمیاں زمین پر فساد مچانے کی مختلف صورتوں میں سے ہیں ، جن سے اللّٰہ تعالیٰ نے منع فرمایا اور ایسا کرنے والوں کو ڈانٹ پلائی ہے ۔اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
﴿وَلا تَبغِ الفَسادَ فِى الأَرضِ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ المُفسِدينَ ﴿٧٧﴾... سورة القصص
’’ اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر ، اللّٰہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا ۔ ‘‘
اس قبیح فعل میں پائی جانے والی سنگین زیادتی اور اس کے بھیانک ظلم کی وجہ سے حکیم و خبیر اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ نے ایسی زیادتی کے مرتکبوں کے لیے نہایت سخت خوفناک ، الم ناک اور دردناک عذاب مقرر کیا ہے ۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے :             ﴿جَزاءً وِفاقًا ﴿٢٦﴾... سورة النبا
’’ ان کے ( کرتوتوں کا ) بھرپور بدلہ ۔ ‘‘
اور یہ بدلہ اسی بدترین عمل جیسا ہے ، اللّٰہ عزوجل کا ارشاد ہے :
﴿ اِإِنَّما جَز‌ٰؤُا۟ الَّذينَ يُحارِبونَ اللَّهَ وَرَسولَهُ وَيَسعَونَ فِى الأَرضِ فَسادًا أَن يُقَتَّلوا أَو يُصَلَّبوا أَو تُقَطَّعَ أَيديهِم وَأَرجُلُهُم مِن خِلـٰفٍ أَو يُنفَوا مِنَ الأَرضِ ذ‌ٰلِكَ لَهُم خِزىٌ فِى الدُّنيا وَلَهُم فِى الءاخِرَةِ عَذابٌ عَظيمٌ ﴿٣٣﴾... سورة المائدة
’’ جو لوگ اللّٰہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں سے فساد برپا کرتے ہیں ، ان کی سزا یہ ہے کہ وہ بری طرح قتل کیے جائیں ، یا سولی چڑھائے جائیں ، یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں ، یا وہ جلاوطن کر دیے جائیں ۔ یہ ذلت و رسوائی تو ان کے لیے دنیا میں ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے ۔‘‘
یہی عدل ہے اور یہی انصاف ہے : ﴿وَلا يَظلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا ﴿٤٩﴾... سورة الكهف
’’ اور تیرا ربّ کسی پر ظلم نہیں کرتا ۔ ‘‘
چونکہ دہشت گردی وحشت ناکی،درندگی اورخوف مسلط کرناہے ، اس لیے اس کی تعریف کرنے والوں میں اختلاف نظر آتا ہے ، لہٰذا اس کی تحدید اور تعریف میں ان کے رجحانات اور اقوال مختلف نظر آتے ہیں ، چنانچہ ’کانفرنس برائے عرب وزراے داخلہ و وُزراے عدل‘ کی تعریف یہ ہے :
’’ تشدد یا دھمکی کے وہ تمام اعمال جو لوگوں کے خوف اور گھبراہٹ کے باعث ہوں اور جن میں عوامی یا شخصی املاک کو نشانہ بنایا جائے یا ان پر قبضہ جمایا جائے ، خواہ ان کا سبب یا مقصد کچھ بھی ہو ۔‘‘[7]
اور اقوام متحدہ نے اس کی تعریف یہ کی ہے :
’’ ایسا مجرمانہ عمل جس کا فطری مقصد دہشت اور خوف پیدا کرنا ہو اور اس میں مخصوص لوگوں کو نشانہ بنایا جائے ۔‘‘[8]
اس کے علاوہ بھی بہت سے لوگوں نے اپنی اپنی ثقافت ، نقطہ نظر اور رجحان کے لحاظ سے دہشت گردی کی مختلف تعریفیں کی ہیں ۔ لیکن ’فقہ اکیڈمی ‘ کی سابقہ تعریف ہی معیاری ہے اور اس کی رو سے یہ ڈاکہ زنی ، زیادتی، زمین پر فساد مچانے، مسلمانوں کی جماعت سے خروج اور حاکم کے خلاف بغاوت کرنے کے تمام غلط اقدامات کو شامل ہے۔ واللّٰہ اعلم !
دہشت گردی كے خلافِ شریعت ہونے کی اساسات
ہم نےدہشت گردی کےجوانجام اورنقصانات بیان کیے ہیں ،مثلاً :دین کی شفافیت، اعتدال اورخوبصورتی کو بگاڑنا اوراس کی آسانی ورواداری والی خوبی مسخ کرنا ،معصوم جانوں کوناحق قتل کرنا،اموال ،جائداد واملاک برباد کرنااوراللّٰہ کےدین سےروکنا وغیرہ تویہ وہ چیزیں ہیں جو حتمی طورپر دہشت گردی کےشریعت مخالف ہونے کو واضح کرتی ہیں ۔چنانچہ یہاں میں چند ایسے نکات کاذکر کروں گا جن کےذریعہ یہ بات عیاں ہوجائے گی کہ دہشت گردی چونکہ قرآن وسنت کےنصوص اورسلف صالحین کےمنہج کےمخالف ہے،اس لیے اس کے بارے میں شریعت کاحکم ہے کہ وہ حرام ہے ، جس کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:
اول: دہشت گردی تکریم انسانیت کے منافی ہے!
اسلام نےانسانی کرامت کو اعلیٰ ترین شرف ومنزلت عطاکیاہے ،چنانچہ اس نے انسان کےخون ،مال اورعزت کومحفوظ قراردیا۔ ساتھ ہی ساتھ اس نےانسانیت اورنفس بشری کےاعزاز واکرام کےمدنظر عزت وحفاظت اورتعظیم وتحفظ کاافضل ترین معیار قائم کیا ۔اس کی اس بات سے حفاظت کی کہ بلا ثبوتِ جرم کےاسے ہلاک یا قابل سزا قرار دیاجائے۔ اللّٰہ تعالیٰ کاارشاد ہے: ﴿وَنَفسٍ وَما سَوّىٰها ﴿٧﴾... سورة الشمس
’’اورنفس انسانی کی اوراس ذات کی قسم !جس نے اسے ہموار کیا۔‘‘
دوسری جگہ اللّٰہ تعالیٰ کاارشاد ہے :
﴿وَلَقَد كَرَّمنا بَنى ءادَمَ وَحَمَلنـٰهُم فِى البَرِّ وَالبَحرِ ... ﴿٧٠﴾... سورة الإسراء
’’یہ تو ہماری عنایت ہے کہ بنی آدم کو بزرگی (عزت )دی اورانہیں خشکی وتری میں سواریاں عطاکیں۔ ‘‘
علامہ ابن عاشور ﷫ [9] فرماتےہیں:
’’جب ہم نے شریعتِ اسلامیہ کےان تمام دلائل کی جستجو کی جوتشریع کےمقاصد پر دلالت کرتے ہیں تو کلی وجزوی دلائل سےنتیجۃً ہم پر یہ بات واضح ہوئی کہ اسلام میں شریعت سازی کاعمومی مقصد یہ ہے کہ اُمت کےنظام کی حفاظت ہو اور اس کےنگران یعنی انسان کی قابلیت کےساتھ اس نظام کی قابلیت کو پائیدار رکھا جائے ۔‘‘[10]
لیکن یہ اندوہ ناک صورتِ حال دیکھ کرکلیجہ منہ کو آتا ہے کہ اللّٰہ وتعالیٰ کی شریعت پر بہتان باندھنے والے منحرف فکر کےحامل لوگوں کےنزدیک نفس انسانی کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے جس کی اللّٰہ رب العالمین نےاس کےبلند مقام کی وجہ سےقسم کھائی ہے ۔
دوم :دہشت گردی وسطیت کے مخالف اورغلو کے مترادف ہے!
شریعت مخالف دہشت گردی اورانتہا پسندی پھیلنے کےبدترین اسباب میں سے یہ بھی ہےکہ اسلام کی تابناک شریعت نےجس روشن، معتدل، میانہ رو منہج سےدنیا کو روشناس کرایا تھا، اس کو نظرانداز کیا گیا۔ اس لیے یہ ضروری ہےکہ وسطیّت کےمعنی اوراس کی حقیقت سےواقفیت حاصل کی جائے تاکہ اس دین کی رواداری کاروشن چہرہ دنیاکےسامنے آئے۔خصوصاً ایسےوقت میں، جبکہ اسلام پراس کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی طرف سے حملہ شدید ہوگیا ہے۔ اسلام کے بعض نام لیواؤں کی غلطیوں کوحجت بناکر اس کےروشن چہرے کو غلط فہمی پیدا کرنےوالی اصطلاحات اورمتعصّبانہ الفاظ کےذریعہ دھندلایا جارہا ہے ،تاکہ اسلام کی شبیہ کو مسخ کیا جائے۔ اس میں کچھ مسلمان اس روشن منہج سےبیزاری کاشکار ہوگئے ،چنانچہ وہ افراط وتفریط کی زندگی گزارنے لگے اورغلو و بیزاری کے راستے پر چل پڑے ،حالانکہ اللّٰہ کادین غلو کرنے اوربیزاری برتنے والے کےدرمیان کادین ہے۔
علمائے اسلام نےسورۃ البقرۃ میں وارد وسطیت کی حقیقت کو بیان کیاہے جس کےدو مشہور معانی ہیں اوردونوں کامفہوم ایک ہی ہے :
پہلا معنی: وَسطیعنی چنیدہ اورانصاف پسند لوگ اوراسی معنی میں اللّٰہ تعالیٰ کایہ قول ہے :﴿قَالَ اَوْسَطُهُمْ﴾ ’’ان میں جو بہتر آدمی تھا، اس نےکہا۔‘‘(القلم ،28)                اوراسی معنی میں شاعر کایہ شعر ہے :
هُمْ وُسْط يَرْضيَ الْأَنَامَ بِحُكْمِهِمْ                              إِذَا نَزَلَتْ إِحْدَي الْلَيَالِي بِمُعْظَمِ
’’وہ چنیدہ لوگ ہیں جن کےفیصلے سےلوگ راضی ہوتےہیں ،جب کبھی کوئی بڑاحادثہ وقوع پذیر ہوتاہے ۔‘‘
دوسرامعنی : وہ لوگ افراط وتفریط کےمابین وسط ہیں۔
مفسرین حافظ ابن جریر اورحافظ ابن کثیررحمہمااللّٰہ نے فرمایا کہ یہ اس امت محمدیہ پر احسان جتلائے جانے کےسیاق میں آیا [11]ہے ۔سورۃ البقرۃ میں اللّٰہ تعالیٰ نےاس امت کو امت وسط کاخطاب دیتےہوئے فرمایا:
﴿وَكَذ‌ٰلِكَ جَعَلنـٰكُم أُمَّةً وَسَطًا...﴿١٤٣﴾... سورة البقرة
’’اوراسی طرح توہم نے تم مسلمانوں کو ایک’امتِ وسط‘بنایاہے۔ ‘‘
وسطیت اس امت کےسلف صالحین کامنہاج ہے اوراسی کےبارےمیں امام ابن تیمیہ فرماتےہیں:
’’فرقہ ناجیہ اہل سنت والجماعت ہیں جوبغیر کسی تحریف وتعطیل اورتکییف وتمثیل کے ان چیزوں پر ایمان رکھتےہیں جن کی اللّٰہ تعالیٰ نےاپنی کتاب میں خبردی ہےبلکہ وہ امت کےفرقوں میں وسط ہیں جس طرح یہ امت دیگر امتوں کےدرمیان وسط ہے ۔‘‘[12]
امام شاطبی ﷫ فرماتےہیں :
’’شریعت اپنےتقاضوں کا پابند کرنےمیں وسطیت واعتدال پر قائم ہےجو دونوں کناروں کےبالکل بیچ وبیچ ہےاوراس میں کوئی کجی نہیں ۔چنانچہ جب آپ شریعت کے کسی کلی اصول پر غور کریں گے تو پائیں گے کہ وہ وسط وعتدال پر ابھارنے والا ہے اوراس میں توسط (میانہ روی )ظاہر ہے۔یہی وہ اصل ہےجس کی طرف رجوع کیاجاتاہے اوریہی وہ جائے عافیت ہے جہاں پناہ لی جاتی ہے ۔‘‘[13]
امام عز الدین بن عبدالسلام ﷫ [14]فرماتےہیں :
’’من جملہ بات یہ ہے کہ انسان کےلیے بہتر یہی ہے کہ وہ صرف ایسی بات کہے یاایساعمل بجالائے جس سےکوئی مصلحت حاصل ہو یاکوئی نقصان دورہو۔ ہردوصورتوں میں غلو وتقصیر کےدرمیان اعتدال وتوسط کی راہ اختیار کرے ۔‘‘[15]
امام ابن قیم ﷫ فرماتےہیں :
’’کوئی بھی معاملہ ایسانہیں جس میں شیطان غلو یاتقصیر (افراط وتفریط) پر نہ ورغلاتا ہو جبکہ حق ان دونوں کےدرمیان ہے۔‘‘[16]
اوپر ہم نےائمہ دین کے جن اقتباسات کاذکر کیا،ان سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ اسلام کی وسطیت دین و دنیا اورآخرت کےتمام امورکو شامل ہےبلکہ اس میں پائے جانے والے اعجاز اورہرزمان ومکان کےلیے اس کے مختلف پہلوؤں میں ایک اہم پہلو وسطیت ہے۔اوراسی وسطیت کی بناپر امتِ مسلمہ کی ذمہ داری دوچند ہو جاتی اوراس کاعالمی کردار بڑھ جاتاہے۔
یہ وسطیت اورشہادت والی امت ہے ،اللّٰہ تعالیٰ کاارشاد ہے:
﴿لِتَكونوا شُهَداءَ عَلَى النّاسِ ...﴿١٤٣﴾... سورة البقرة    ’’تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہوجاؤ ۔‘‘
ایسی گواہی ہمیں دینی ہے جس سےحقوق محفوظ ہوں گے ،عدل وانصاف قائم ہوگا ،شرف وکرامت کی حفاظت کی جائے گی اورموجودہ تہذیب کی تعمیر کی جائے گی۔ جبکہ دنیا طرح طرح کی کشمکش سےپریشان اورانسانیت مختلف قسم کےٹکراؤ سےتھک چکی ہے۔اس صورت حال سے اسلام کی تابناک وسطیت ہی نجات دے سکتی ہے۔
دہشت گردانہ سوچ ، غلواوروسطیت واعتدال میں حدسے تجاوز کرنے کی بنا پر پیدا ہوئی ہے اوریہی اس کی قرآن وسنت سےبنیادی مخالفت ہےجہاں غلو کی مذمت بیان کی گئی اوراس سےڈرایاگیا ہے ،کیونکہ دین ودنیا میں فردومعاشرہ پر اس کےبڑے مفاسد اوربرے اثرات ہیں۔
غُلُوّ اعتدال کی ضد ہے اوریہ اللّٰہ کےراستے سےروکنےکے لیے، لوگوں کودین سےمتنفر کرنے،شرعی احکام میں تحریف کرنےاوراسلام کی رواداری اوررحمت وشفقت جیسی صفات کو نظرانداز کرنےکادوسرانام ہے۔اس بیمارسوچ اورغلط راستے کی مذمت میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتاہے :
﴿قُل يـٰأَهلَ الكِتـٰبِ لا تَغلوا فى دينِكُم غَيرَ الحَقِّ وَلا تَتَّبِعوا أَهواءَ قَومٍ قَد ضَلّوا مِن قَبلُ وَأَضَلّوا كَثيرًا وَضَلّوا عَن سَواءِ السَّبيلِ ﴿٧٧﴾... سورةالمائدة
’’اے نبی آپ کہہ دیجیے !اے اہل کتاب اپنے دین میں ناحق غلونہ کرو اورنہ ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کروجوتم سےپہلے خود گمراہ ہوئے اوربہت سارے لوگوں کوگمراہ کیااورسیدھے راستے سےبھٹک گئے۔‘‘
اوراللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتاہے :﴿فَاستَقِم كَما أُمِرتَ وَمَن تابَ مَعَكَ وَلا تَطغَوا ...﴿١١٢﴾... سورة هود
’’پس اےنبی !تم اورتمہارے وہ ساتھی جو (کفروبغاوت سےایمان واطاعت کی طرف)پلٹ آئے ہیں ، ٹھیک راہِ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیاگیا ہے اوربندگی کی حد سےتجاوز نہ کرو۔‘‘
سرچشمہ نبوت سے:             حبیب ﷺ نےفرمایا:
«وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ»[17]       ’’تم دین میں غلو کرنےسےبچو۔‘‘
آپ ﷺ نےیہ بھی فرمایا :« هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ ، هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ» [18]
’’شدت برتنے والے ہلاک ہوگئے ، شدت والے ہلاک ہوگئے ، شدت والے ہلاک ہوگئے۔‘‘
کسی شاعر نے کیاہی خوب کہاہے:
وَلَاتَغْلُ فِى شَيْءٍمِنَ الْأَمْرِ وَاقْتَصِد                            كِلَا طَرَفَي قَصْدِ الْأُمُورِ ذَمِيْمٌ
’’کسی بھی چیز میں غلومت کرواوردرمیانہ راستہ اختیارکرو ،کیونکہ میانے اُمور کےدونوں کنارے مذموم ہیں۔‘‘
سوم: دہشت گردی زمین پر فساد برپا کرنا ہے!
یقیناً شریعتِ اسلامیہ آباد کرنےکانام ہے، برباد کرنےکانہیں ۔ تعمیر وترقی کانام ہے، تخریب وتباہی کانہیں۔ قائم کرنےکانام ہے، ہلاک کرنےکانہیں ۔جبکہ دہشت گردی اپنی تمام برائیوں ،آفتوں،مصیبتوں اورہولناکیوں کےساتھ بارونق، سرسبز وشاداب دنیا کوویران اورچٹیل میدان میں تبدیل کرنےکانام ہے۔ وہ فساد وافساد کےسواکچھ نہیں جو حق وحرمت ،اقدار اورعظمتوں کو خاردارصحرا میں پھینک دے اورقوموں کونادم ونوحہ خوانی پرمجبور کرے!!کیافسادوتخریب کاری کی اس ہولناکی کےبعد بھی کوئی عقل مند قرآن وسنت میں دہشت گردی کی حرمت پر مزید دلیل تلاش کرےگا؟
اِفساد کامطلب ہے ’’کسی چیز کو بغیر کسی صحیح مقصد کےاس کی معرو ف حالت سےنکال کر فاسد بنادینا۔‘‘[19]
چنانچہ ملکوں اورلوگوں کےدرمیان فساد پھیلانا بیماری اورہلاکت کی دلدل ہے ،فناومصائب کی بنیاد ہے، نعمتوں اورحمتوں سےمحرومی ہے اورتباہی وہلاکت کااعلان ہے ۔غلو اوروسطیت سےتجاوز کرنےکاحتمی نتیجہ زمین پر فتنہ وفساد اورظلم وزیادتی ہے۔قرآن وحدیث کےمتعدد مقامات میں اس پر شدید وعید آئی ہے جن میں سے بعض یہ ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ کاارشاد ہے :﴿وَلا تَبغِ الفَسادَ فِى الأَرضِ إِنَّ اللَّـهَ لا يُحِبُّ المُفسِدينَ ﴿٧٧﴾... سورة القصص
’’اورزمین میں فساد برباکرنےکی کوشش نہ کر،اللّٰہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘
اللّٰہ تعالیٰ کاارشاد ہے :
﴿وَمِنَ النّاسِ مَن يُعجِبُكَ قَولُهُ فِى الحَيو‌ٰةِ الدُّنيا وَيُشهِدُ اللَّهَ عَلىٰ ما فى قَلبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الخِصامِ ﴿٢٠٤﴾ وَإِذا تَوَلّىٰ سَعىٰ فِى الأَرضِ لِيُفسِدَ فيها وَيُهلِكَ الحَرثَ وَالنَّسلَ وَاللَّهُ لا يُحِبُّ الفَسادَ ﴿٢٠٥﴾... سورة البقرة
’’انسانوں میں کوئی ایسابھی ہے جس کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں اوراپنی نیک نیتی پروہ باربار اللّٰہ کو گواہ ٹھہراتا ہے مگر حقیقت میں وہ بدترین جھگڑا لوہوتاہے۔ جب اسے اقتدار مل جاتاہے توزمین میں اس کی ساری دوڑدھوپ اس لیے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے ،کھیتوں کو غارت کرےاورنسل انسانی کو تباہ کرے۔حالانکہ اللّٰہ (جسے وہ گواہ بنارہاتھا)فساد کو ہرگز پسندنہیں کرتا۔‘‘
امام قرطبی ﷫فرماتےہیں:
’’یہ فساد، رہزنی اورمسافروں کو خوف زدہ کرنےسے ہوتاہے۔ اورکہاگیاہے:قطع رحمی اورمسلمانوں کاخون بہانے سےہوتاہے اورتمام گناہوں کاارتکاب اس کےضمن میں آتاہے۔ ‘‘[20]
برکت ورحمت سےبھرپور ہماری شریعت تعمیر اورسعادت لےکرآئی ہے، جو معاشرے کو پھیلانے اورتہذیب وامان کی بنیادیں مضبوط کرنےکےلیے ترقی، قیادت اورافادۂ عام پر ابھارتی ہے۔اسی لیےاللّٰہ تعالیٰ نےروئے زمین پر ہرقسم کےفساد اورظلم وزیادتی کو حرام قرار دیاہے اورہرقسم کی تباہی وبربادی سےروکا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کاارشاد ہے :﴿إِنَّ اللَّهَ لا يُصلِحُ عَمَلَ المُفسِدينَ ﴿٨١﴾... سورة يونس
’’یقینا اللّٰہ تعالیٰ فساد پھیلانے والوں کےکام کو سدھرنےنہیں دیتا۔ ‘‘
دوسری جگہ بندوں کو اصلاح وتعمیر پر دوام کی تلقین کرتے اورروئے زمین پر فساد پھیلانے اوربندوں پرظلم ڈھانےسے روکتے ہوئے اللّٰہ ارشاد فرماتاہے :﴿وَلا تُفسِدوا فِى الأَرضِ بَعدَ إِصلـٰحِها...﴿٨٥﴾... سورة الاعراف
’’اورزمین میں فساد برپانہ کروجب کہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے۔‘‘
ظلم کی حرمت کےسلسلے میں اللّٰہ تعالیٰ کاارشاد ہے :
﴿قُل إِنَّما حَرَّمَ رَبِّىَ الفَو‌ٰحِشَ ما ظَهَرَ مِنها وَما بَطَنَ وَالإِثمَ وَالبَغىَ...﴿٣٣﴾... سورة الاعراف
’’اے نبی ان سےکہو کہ میرے ربّ نےظاہر وپوشیدہ ہرقسم کی بےشرمی کےکام ،گناہ اورحق کےخلاف وزیادتی کوحرام قرار دیاہے۔‘‘
دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
﴿وَيَنهىٰ عَنِ الفَحشاءِ وَالمُنكَرِ ...﴿٩٠﴾... سورةالنحل
’’اوراالله تعالیٰ بدی وبےحیائی اورظلم وزیادتی سےمنع کرتاہے۔‘‘
اللّٰہ تعالیٰ کاارشاد ہے:﴿وَتَعاوَنوا عَلَى البِرِّ وَالتَّقوىٰ وَلا تَعاوَنوا عَلَى الإِثمِ وَالعُدو‌ٰنِ... ﴿٢﴾... سورة المائدة
’’اورتم نیکی وتقوی کےکام میں ایک دوسرے کاتعاون کرواورگناہ وزیادتی کےکاموں میں کسی کاتعاون نہ کرو ۔‘‘
سيدنا ابوہریرہ ﷜ کی ایک روايت ہے کہ اللّٰہ کےرسول ﷺ نےفرمایا:
«وَلَيْسَ شَيْءٌ اَعْجَلَ عِقَابًا مِّنَ الْبَغِيِّ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ»[21]
’’ظلم اورقطع رحمی سےزیادہ کسی بھی چیز کی سزا میں جلدی نہیں ہوتی۔‘‘
محمد بن کعب القرظی ﷫ [22]فرماتےہیں :
’’تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں ہوں ، اس پروبال جانِ ہوں گی :ظلم ،عہد شکنی اورمکرو فریب ۔ ‘‘ [23]
دہشت گردی اورانتہا پسند فکر سوائے ظلم وزیادتی ،سرکشی ،تباہ کاری ،روئے زمین پرفساد پھیلانے اورتباہی مچانے کےہوااورکچھ نہیں ،جوغیر انسانی، وحشیانہ واقعات اورحیوانی وخونی اثرات کی شکل میں ظہور پذیر ہوتی ہے ۔ اللّٰہ تعالیٰ کافرمان ہے :
﴿وَإِذا قيلَ لَهُم لا تُفسِدوا فِى الأَرضِ قالوا إِنَّما نَحنُ مُصلِحونَ ﴿١١﴾ أَلا إِنَّهُم هُمُ المُفسِدونَ وَلـٰكِن لا يَشعُرونَ ﴿١٢﴾... سورة البقرة
’’جب کبھی ان سے کہاگیا کہ زمین میں فساد برپانہ کرو،توانہوں نےیہی کہا کہ ہم تواصلاح کرنےوالے ہیں ۔خبردار !حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے ۔‘‘
چہارم: شرعی ضوابط کےبغیرتکفیر کرنا
منحرف فکر کےحامل لوگ ملکوں اورقوموں کےخلاف اپنےجرائم اورحملوں کےلیے تکفیر کو سب سے آسان ہتھیار کےطور پر استعمال کرتےہیں۔چونکہ اللّٰہ اوراس کی شریعت کی نظر میں تکفیر کامسئلہ نہایت اہمیت کاحامل ہے،اس لیےاسے اچھی طرح سمجھنا، اس کےلغوی وشرعی مدلولات کی وضاحت کرنااوراس کےمعتبر اصول و ضوابط کو جاننابہت ضروری ہے ۔
الف)تکفیر کالغوی معنی: لغت میں تکفیر کےمتعدد معانی ہیں جن میں سے ایک معنی ڈھانپنا اورچھپانا ہے۔ یہاں یہی معنی مراد ہے،چنانچہ عرب ،کسان کو کافر کہتےہیں ،کیونکہ وہ بیج کو زمین کےاندر چھپا دیتاہے اوراسی مفہوم میں اللّٰہ تعالیٰ کایہ قول ہے :﴿كَمَثَلِ غَيثٍ أَعجَبَ الكُفّارَ نَباتُهُ ﴾(الحدید :20)’’اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہوگئی تواس سے پیدا ہونےوالی نباتات کودیکھ کر کاشت کارخو ش ہوگئے۔‘‘
اسی طرح جنگجو کےلیے بھی تکفیر کا لفظ بولا جاتا ہے: إذا تكفر في سلاحه یعنی جب وہ مکمل ہتھیاربند ہو جائے ،اسی طرح رات کو بھی کافِر کہاجاتاہے ،کیونکہ وہ لوگوں کو چھپالیتی ہے ۔
تکفیر اسےبھی کہتےہیں کہ انسان جھک جائے اوراپنا سرجھکالے،جیسے اپنے ساتھی کی تعظیم کرنے والا کرتا ہے ،یعنی کھڑے ہونےکی حالت میں بہت زیادہ جھکنا۔[24]
ب) تکفیر کاشرعی معنی :              ’’اہل قبلہ میں سےکسی شخص کی نسبت کفر کی طرف کرنا۔‘‘[25]
قارئین کرام !آپ سے یہ بات مخفی نہیں ہے کہ بلاسوچے سمجھے تکفیر کرنےمیں بڑی برائی،شر اوربڑا خطرہ ہےجس کی وجہ سےاُمت کو نہ جانے کتنے مصائب اوربھیانک نتائج وانجام سےدوچار ہوناپڑا !!جس شخص کےپاس تقوی ودینداری کی معمولی رمق اورذرہ بھر علم وسنجیدگی ہوگی، وہ کبھی بھی تکفیر میں جلد بازی نہیں کرے گا جس سےدل چورچور ہوجاتے اورنفس گھبراتے ہیں اورجس کےخطرہ سےبدن کانپ اٹھتےہیں۔
امام شوکانی ﷫ [26]فرماتےہیں:
’’دین میں تعصّبات نے مسلمانوں کی اکثریت کو ایک دوسرے پر کفر کی تہمت لگانےمیں مبتلا کردیا ہے۔ اسےدیکھ کر آنکھیں اشکبار ہیں اوردل اسلام اورمسلمانوں کی حالتِ زار پر ماتم کناں ہے۔ یہ تعصب نہ سنت کی خاطر ہےنہ قرآن کی خاطر اورنہ اللّٰہ کےکسی بیان یابرہان کےلیے ہے بلکہ جب دین میں تعصّب پرستی کی ہانڈیاں ابل پڑیں اورمردود شیطان مسلمانوں کےدرمیان تفریق پیدا کرنےمیں کامیاب ہوگیا تواس نےاُنہیں ایک دوسرے کو ایسی چیز سے متہم کرنےکی تلقین کی جس کی حیثیت ہوامیں اڑتےذرہ اورصحراکےسراب کی سی ہے۔اللّٰہ مسلمانوں کو اس تباہ کن آفت سے بچائے جو دین کو تباہ کرنےوالی آفتوں میں سب سےبڑی آفت ہےاوراس جیسی مصیبت سےمؤمنوں کاپالا نہیں پڑا۔وہ دلائل جومسلمان کی عزت وآبرو کی حفاظت اوراس کےاحترام پر دلالت کرتے ہیں وہ سیاقِ خطاب کےذریعہ اسی بات پر دلالت کرتے ہیں کہ مسلمان کواس کےدین میں کسی عیب سےمتہم کرنےسےبچا جائے،چہ جائیکہ اسے ملِت اسلامیہ سےنکال کرملت کفر میں داخل کیاجائے؟ یہ ایساجرم ہےکہ اس کےبرابر کوئی دوسر ا جرم نہیں اوردین میں ایسی جرات ہےکہ اس کےمماثل کوئی جسارت نہیں ۔کہاں ہےاپنے بھائی کی تکفیر کی جسارت کرنےوالا رسو ل اللّٰہ ﷺ کی اس حدیث کے سامنے :«الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لاَ يَظْلِمُهُ وَلاَ يُسْلِمُهُ»[27] ’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کابھائی ہوتاہے، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا اورنہ ہی کسی ظالم کے سپرد کرتا ہے۔‘‘ آپ ﷺ کےاس فرمان سے:«سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ»[28]’’ مسلمان کوگالی دینا فسق ہے اوراس سےقتال کرناکفر ہے۔‘‘اورآپ ﷺ کےاس فرمان سے:«إن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام»[29]’’یقیناً تمہاراخون،تمہارا مال اورتمہاری عزت ایک دوسرے حرام ہے ۔‘‘[30]
اس ناساز منہج،معیوب مسلک اور کج روی سےڈرانے والی نصوص بہت سی ہیں۔جیسا کہ اللّٰہ کاارشاد ہے:
﴿فَتَبَيَّنوا وَلا تَقولوا لِمَن أَلقىٰ إِلَيكُمُ السَّلـٰمَ لَستَ مُؤمِنًا تَبتَغونَ عَرَضَ الحَيو‌ٰةِ الدُّنيا ...﴿٩٤﴾... سورة النساء
’’تودوست ودشمن میں تمیز کرواورجوتمہاری طرف سلام سےتقدیم کرےاسے فورانہ کہہ دو کہ تومومن نہیں ہےدنیوی زندگی کی متاع چاہتے ہوئے ۔‘‘              (النساء :94)
صحیحین میں سیدنا عبد اللّٰہ ابن عمررضی اللّٰہ عنہماسےروایت ہے کہ نبی ﷺ نےفرمایا:
«إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لأَخِيهِ يَا كَافِرُ فَقَدْ بَاءَ بِهِ أَحَدُهُمَا فَاِنْ كَانَ كمَاَ قَالَ وَإِلَّا رَجَعْتَ عَلَيْهِ»[31]
’’جب کوئی شخص اپنےبھائی کو اےکافر !کہہ کر پکارتاہے ،تو وہ ان دونوں میں سےکسی ایک کی طرف ضرور لوٹتاہے ،اگر معاملہ حقیقت میں ویسا ہی ہے جیسا کہ اس نے کہا،تب ٹھیک ہے۔ورنہ کفر خود اسی پر لوٹ جاتاہے ۔‘‘
صحیحین ہی میں سیدنا ابوذر﷜ نےروایت کیاہے کہ اُنہوں نےرسول اللّٰہ ﷺ کو فرماتےہوئے سنا:
«مَنْ دَعَا رَجُلًا بِالْكُفْرِ اَوْ قَالَ: عَدُوَّ اللهِ وَلَيْسَ كَذٰلِكَ اِلاَّ حَارَ عَلَيهِ» [32]
’’جس نےکسی شخص کوکافر کہہ کر پکار ا،یاکہا:اےاللّٰہ کےدشمن! حالانکہ وہ حقیقت میں ایسانہیں تواس کی یہ بات خود اس پر لوٹ جاتی ہے ۔‘‘
آپ ﷺ نےیہ بھی فرمایا:
«وَمَنْ رَمَى مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ فَهْوَ كَقَتْلِهِ»[33]
’’جس نےکسی مؤمن پر کفرکاالزام لگایا توگویااس نےاسے قتل کیا۔‘‘
رسو ل اللّٰہﷺ کےصحابہ کرام کایہی روشن منہج تھا۔ امام احمد اورطبرانی اور دیگر ائمہ نےابوسفیان سےروایت کیاہے،انہوں نےکہا:میں نے حضرت جابر ﷜ سےپوچھا جبکہ
’’ وہ مکہ میں مجاورتھے کہ کیاآپ لوگ اہل قبلہ میں سے کسی کو مشرک سمجھتے تھے ؟تواُنہوں نے کہا :اللّٰہ کی پناہ !اوریہ سن کر وہ گھبرا گئے ،تو ایک آدمی نےان سے کہا: کیاآپ لوگ ان میں سےکسی کوکافر کہتےتھے ؟انہوں نے کہا: نہیں!‘‘[34]
سلف صالحین رحمہم اللّٰہ اسی روشن وتابناک راستے پر چلے اورانہوں نےتکفیر کاحکم لگانے کےلیے اصول اورشرائط وضوابط متعین کیے۔ساتھ ہی ساتھ اس کےلیے حالات وموانع کی تحدید کی جن کی پاسداری کرنااورجن کی تحقیق کرلیناضروری ہے۔یہ تکفیر کی اہمیت، نزاکت اورباریکی کی وجہ سےہے۔ان میں اہم ترین یہ ہےکہ تکفیر ایک شرعی حکم ہےجوخالص اللّٰہ اوراس کےرسولﷺ کاحق ہے ۔
امام ابن قیم ﷫ فرماتےہیں:
اَلْكُفــْرُ حَـقُّ اللهِ ثُمَّ رَسُوْلِهِ                                                بِالنَّصِّ يَثْبُتُ لَابِقَولِ فُلَان
مَنْ كَانَ رَبُّ الْعَالَمِيْنَ وَعَبْدُهُ                                              قَدْ كَفَرَاهُ فَذَاكَ ذُوْالكُفْرَانِ[35]
’’کفرکاحکم اللّٰہ اوراس کےرسولﷺ کاحق ہے جو نص سےثابت ہوتاہے نہ کہ فلاں کےقول سے۔ جسے اللّٰہ ربّ العالمین اوراس کے بندے (رسول ﷺ)نےکافر کہاہو،وہی کافرہوگا۔‘‘
امام طحاوی ﷫[36]فرماتےہیں :
’’ہم اہل قبلہ میں سےکسی کو بھی گناہ کی وجہ سے کافر نہیں قرار دیتے جب تک کہ وہ اسے حلال نہ سمجھے۔‘‘ [37]
قاضی علی بن علی بن محمد بن ابی العزحنفی ﷫( 731ھ تا 792ھ)فرماتےہیں:
’’تکفیر وعدم تکفیر کےباب میں عظیم فتنہ اوربڑی آزمائش رونما ہوئی۔ بہت اختلاف ہوا،رجحانات اورآرابٹ گئیں اوراس میں ان کی دلیلیں باہم متعارض ہوئیں۔اورکچھ لوگوں نےدرمیان کاراستہ اختیار کیا۔‘‘...پھرلکھتےہیں :’’سب سے بڑی زیادتی کی بات یہ ہے کہ کسی معین شخص کےبارے میں یہ گواہی دی جائے کہ اللّٰہ تعالیٰ اس کی مغفرت کرےگا اورنہ ہی اس پر رحم کرےگا بلکہ وہ جہنم میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘[38]
شارح مسلم امام نووی ﷫[39]فرماتےہیں:
’’جان لیں کہ اہل حق کسی گناہ کی وجہ سےاہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتے،نہ ہی اہل ہویٰ وبدعت کی تکفیر کرتےہیں۔‘‘[40]
امام قرافی ﷫[41]فرماتےہیں:
’’کسی بھی امرکاکفر ہونا،خواہ وہ کوئی بھی امرہو،عقلی امورمیں سے نہیں ،بلکہ یہ شرعی امورمیں سے ہے،چنانچہ جب شارع ﷤کسی بھی مسئلے کےبارےمیں کہہ دیں کہ یہ کفر ہےتووہی کفر ہے ۔‘‘[42]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫فرماتےہیں:
’’اسی لیے اہل علم اور اہل سنت اپنے مخالفین کی تکفیر نہیں کرتے،اگرچہ وہ مخالف ان کی تکفیر کرتے ہوں کیونکہ کفرایک حکم شرعی ہےاورانسان کےلیے یہ جائز نہیں ہےکہ وہ اسی کی مثل کےذریعے بدلہ لے،جیسے کوئی شخص آپ پر جھوٹ باندھے یاآپ کی اہلیہ کےساتھ زنا کرےتوآپ کےلیے یہ جائز نہیں آپ بھی اس پر جھوٹ باندھیں یااس کی اہلیہ کےساتھ زناکریں ،کیونکہ جھوٹ اورزنا اللّٰہ تعالیٰ کےحق کی وجہ سےحرام ہیں ۔اسی طرح تکفیر بھی اللّٰہ کاحق ہے ،اس لیے کسی کی تکفیر نہیں کی جائے گی سوائے اس شخص کےجس کی تکفیر اللّٰہ اوراس کےرسول نےکی ہے۔‘‘[43]
مجددِ اسلام شیخ محمد بن عبدالوہاب ﷫ فرماتےہیں:
’’منجملہ بات یہ ہے کہ ہروہ شخص جسےاپنے نفس سےخیرخواہی ہو،اس پر واجب ہےکہ وہ اس مسئلےتکفیر میں علم اوراللّٰہ کی طرف سےنازل کردہ برہان کےبغیر منہ نہ کھولے اورمحض اپنی سمجھ سے اوراپنی عقل کو اچھا لگنے کی وجہ سے کسی شخص کو اسلام سےنکالنے سےڈرے۔،کیونکہ کسی شخص کو اسلام سے نکالنا اوراس میں داخل کرنادین کےعظیم ترین امور میں سےہے اوراس مسئلے میں اکثر لوگوں کےقدم کو ڈگمگانے میں شیطان کامیاب رہاہے ۔‘‘[44]
اللّٰہ اکبر!اس باب میں سلف کے خوف وتقویٰ کایہ عالم تھا!ان تمام آثار کےبعد بھلا ایسےلوگوں کےلیے جوعلم وفضل میں ان علماے اسلاف کی خاکِ پاکو بھی نہیں پہنچ پاتے، کیاجواز بنتا ہے کہ وہ اجمالاً یاتفصیلاً اپنے مسلمان بھائیوں پر صریح کفرکافتوی لگانے میں جلد بازی کرنےکی جسارت کریں؟معاذ اللّٰہ!
کیایہ لوگ نہیں جاتےہیں کہ تکفیر میں جلد بازی سےکو ن کون سےخطرنا ک امور قائم ہوتےہیں :جیسے خون ومال کوحلال سمجھنا ،وراثت سےمحروم کرنا،نکاح کافسخ ہونا،اس کی نمازِ جنازہ حرام ہونا اوراسےمسلمانوں کےقبرستان میں نہ دفنانا۔ساتھ ساتھ تکفیر اس پردائمی جہنم کوواجب کرتی ہے،نعوذ باللّٰہ !ان کےعلاوہ وہ دیگر چیزیں بھی ہیں جو متعلقہ کتابوں میں تفصیل سے بیان کردی گئی ہیں۔
لہذا ان تمام ہولناکیوں کےبعد یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ اسلام نے اس سلسلے میں نہایت سخت موقف اپنایا جس سےان لوگو ں کاراستہ بند ہوجائے جواہل اسلام کی تکفیر کرتےہیں اوربت پرستوں کوچھوڑدیتےہیں بلکہ خلقت میں جہنم کےپروانے بانٹتے پھرتےہیں اوراس کاشعور نہیں رکھتے ،اللّٰہ ہی ہمارامدد گارہے۔
قارئین کرام! تکفیر کے اس نازک مسئلہ میں اہم ترین ضوابط یہ ہیں:
1.     کسی قول،فعل یااعتقاد کی وجہ سے کسی مسلمان کوکافر نہیں قرار دیاجائے گا ،سوائے اس صورت میں کہ اس کےاوپر حجت قائم کردی جائے اوراس کےشبہات دورکردیے جائیں۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫فرماتےہیں :
فلیس لأحد أن يكفّر أحدا من المسلمين وإن أخطأ وغلط حتي تقام عليه الحجة وتبيّن له المحجة، ومن ثبت إسلامه بيقين لم يزُل عنه ذلك بالشك، بل لا يزول إلا بعد إقامة الحجة وإزالة الشبهة. [45]
’’کسی بھی شخص کویہ حق حاصل نہیں کہ کسی مسلمان کی تکفیر کرے،اگرچہ وہ خطا وغلطی پر ہو، یہاں تک کہ اس پرحجت قائم کردی جائے اوراس کے سامنے دلائل واضح کردیے جائیں اورجس کااسلام یقین کےساتھ ثابت ہو،شک سےوہ زائل نہیں ہوسکتا،بلکہ حجت قائم کیے بغیر اورشبہات کودور کیےبغیر زائل ہو نہیں ہوسکتا۔‘‘
2.  فعل وفاعل کےدرمیان مطلق ومعین کےدرمیان فرق اورنصوص کو واقعات اوراشخاص پر محمول کرنے میں فرق کرناضروری ہے۔مجموع الفتاوی میں ہے کہ
’’قرآن وسنت میں وارد وعید کےنصوص یاکسی کوکافر یا فاسق قراردینے کےسلسلے میں ائمہ کے نصوص یااس قسم کےدیگر نصوص کسی متعین شخص کےحق میں لازمی نہیں ہیں۔تاہم جب کسی میں کفرکی تمام شرائط جمع اورموانع ختم ہوجائیں تواس سلسلے میں اصول وفروع میں کوئی فرق نہیں ہے۔‘‘[46]
3.  کفرکی دوقسمیں ہیں:کفراکبر وکفراصغریعنی کفراعتقادی وکفر عملی۔ یہی وہ ضابطہ ہےجو ان بہت سارےلوگوں پر خلط ملط ہوگیاہے جوبےگناہوں پر کفرکی تہمت لگاتےہیں اوراس مجرمانہ حرکت کی پاداش میں دہشت گردی کی پشت پر سوار ہوتےہیں ۔انہوں نےنصوص کےدرمیان تطبیق و موافقت دینےاورظاہری تعارض والے نصوص کی بابت صحیح منہج سےغفلت برتی ،یہی وجہ ہےکہ سلف وخلف میں جمہور علماء حاکمیت کےمسئلے میں تفصیل کی جانب گئے ہیں اوریہی حبرالامہ اورترجمان القرآن سیدنا عبداللّٰہ بن عباس ﷜ کامسلک ہے۔ چنانچہ فرماتےہیں :
’’یہ وہ کفر نہیں ہےجسےلوگ سمجھتےہیں ،بلکہ یہ کفر سےکمتر کفر ہے۔‘‘[47]
یہی قدیم وجدید ائمہ دعوت اورمحققین کاموقف و مسلک ہے ۔
نصوص کےمابین جمع وتطبیق کی معیاری تفصیل کےساتھ اہل علم نےاس مسئلہ میں چار حالتوں کاذکر کیاہےجس سے اس بات پر اجماع حتمی ہوجاتاہے کہ اہل سنت اُمت کےگناہ گاروں کو کافر گرداننے سےبری ہیں۔ نیز دومسلما ن اس بات پر اختلاف نہیں کرسکتے کہ اللّٰہ کی نازل کردہ شریعت کےمطابق فیصلہ کرناواجب ہےاورہرمسلمان شریعت کےبغیر فیصلہ کرنےکو غلط ٹھہراتاہے،لیکن مناسب نہیں کہ یہ واضح یقین مشکوک جوش اوراُمڈتےجذبے کی وجہ سےہمیں نظرواستدلال میں اہل علم وایمان کےقواعد اوراہل سنت اورقرآن کےاُصول سےنکال دے کیوں کہ حق کےبعد سوائےگمراہی کےاورکچھ نہیں۔
4.  نہ اقوال کےلوازم کی بنیاد پر تکفیر کی جائے اورنہ ان پر منتج ہونے والے افعال کااعتبار کیاجائے :
امام شاطبی فرماتے ہیں:
’’عقیدہ کے ماہر محقق علما کا موقف ہے کہ جس عمل کا نتیجہ کفر ہو، وہ لازماً کفر نہیں ہوتا۔‘‘[48]
حافظ ابن حجر ﷫فرماتےہیں:
’’اسی شخص پر کفر کاحکم لگایا جائے گا جس کےقول سے صراحتاًکفر ظاہرہو،یااسی شخص کی تکفیر کی جائے گی جس کےقول کالازمی نتیجہ کفرہو، پھر اس پر اس کے قول کا لازمہ بھی پیش کیاجائے اوروہ اسی کو اختیار کرے۔لیکن جوشخص اسےاختیار نہ کرے بلکہ اس کادفاع کرےتووہ کافرنہیں ہوگا،اگرچہ اس کےقول کالازمی نتیجہ کفرہو۔اورآخری بات یہ ہے کہ جس شخص کےکفر پر اہل اسلام کا اجماع ہواسی کی تکفیر کی جائے گی ،یاپھر یہ کہ اس کی تکفیر پر ایسی دلیل قائم ہوجائےجس کےمعارض کوئی دلیل نہ ہو ۔‘‘[49]
اس قول کو ابن عبدالبر [50]،ابن بطال [51]،شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اورامام مجدد محمد بن عبدالوہاب ﷭ نےنقل کیاہے ۔امام محمد بن عبدالوہاب فرماتےہیں :
’’ہم کسی کی تکفیر نہیں کرتے مگر اس شخص کی جس پر تمام علما کااجماع ہو،نیز اس قضیہ کےمسلمات میں سے یہ ہے کہ اسے معلوم ہوکہ یہ عمل کفر ہے کیونکہ کسی جاہل شخص کی تکفیر نہیں کی جائے گی یہاں تک اس کےاوپر حجت قائم ہوجائے ۔‘‘[52]
امام ابن تیمیہ ﷫جہمیہ کےبارےمیں فرماتےہیں:
’’میں تمہارا قول کہوں توکافر ہوجاؤں لیکن میں تمہیں کافرنہیں کہوں گا، کیونکہ تم لوگ میرے نزدیک جاہل ہو ۔‘‘[53]
انہوں نےیہ بھی فرمایا:
’’تاویل کرنےوالے شخص کےسلسلے میں مناسب یہ ہے کہ سب سےپہلے اس کےاوپر حجت قائم کی جائے ،اس کی غلطی کوواضح کیاجائے اوراسے حق سےآگا ہ کیاجائے ،اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ موانع کوجاناجائے جوتکفیر سےروکتےہیں جیسے جہالت ،خطااوراکراہ ومجبوری۔اللّٰہ تعالی کاارشاد ہے :
﴿مَن كَفَرَ بِاللَّهِ مِن بَعدِ إيمـٰنِهِ إِلّا مَن أُكرِهَ وَقَلبُهُ مُطمَئِنٌّ بِالإيمـٰنِ ...﴿١٠٦﴾... سورة النحل
’’جوشخص ایمان لانے کےبعد کفر کرے(وہ اگر)مجبور کیاگیا ہواوردل اس کاایمان پر مطمئن ہو،تب توخیرہے۔‘‘ [54]
انہیں میں سےایک ’جائز تاویل‘ بھی ہے ۔اسی لیےصحابہ کرام اس بات پر متفق تھے کہ ان لوگوں کی تکفیر نہیں کی جائے گی جنہوں نےکسی شبہ کی وجہ سےشراب کو حلال سمجھا تھا اوروہ شبہ اللّٰہ تعالیٰ کےاس قول کی تاویل تھا:﴿لَيسَ عَلَى الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّـٰلِحـٰتِ جُناحٌ فيما طَعِموا إِذا مَا اتَّقَوا وَءامَنوا وَعَمِلُوا الصّـٰلِحـٰتِ ثُمَّ اتَّقَوا وَءامَنوا ثُمَّ اتَّقَوا وَأَحسَنوا وَاللَّهُ يُحِبُّ المُحسِنينَ ﴿٩٣﴾... سورة المائدة
’’جولوگ ایمان لےآئے اورنیک عمل کرنےلگے، ا ن پر اس بارے میں ،جوانہوں نےکھایا ہےکوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ اللّٰہ کاتقوی اختیار کریں اورایمان پر ثابت قدم رہیں اوراچھے کام کریں،پھرتقوی پر ثابت قدم رہیں پھر ایمان پر ثابت قدم رہیں پھر اللّٰہ کاخوف کھائیں اوراحسان (نوافل کےذریعےاللّٰہ کاتقرب حاصل )کریں ۔اللّٰہ محسنین (نوافل کےذریعے اللّٰہ کاتقرب حاصل کرنے والوں) کوپسند کرتاہے۔‘‘
یہ ہیں قرآن وسنت اورامت کےسلف صالحین کےاقوال سےماخوذروشن دلائل جواس مشکل ترین مسئلہ میں حق اورروشن راستے کوواضح کرتےہیں جس کےساتھ غلو وتکفیر اورتباہی کاگروہ بالکل غیر عادلانہ رویہ اختیار کیے ہوئےہے۔کاش یہ لوگ سمجھتےاوراپنی جہالت وتکفیر کی بیماری سےپاک ہوتے؟!
پنجم: شرعی حاکم کے خلاف خروج کرنا اور جماعت سے نکل جانا
انتہا پسند اور منحرف فکر کے غلط ہونے کی ایک واضح دلیل یہ ہے کہ یہ لوگ شرعی نظام پر کاربند حکام وقت کی نافرمانی کرتے اور جماعت کے بندھن سے علیحدگی اختیار کرتے ہیں ۔ جب کہ ان اُمور کی حرمت پر صریح نصوص اور صحیح دلائل موجود ہیں ۔ اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَطيعُوا اللَّهَ وَأَطيعُوا الرَّسولَ وَأُولِى الأَمرِ مِنكُم فَإِن تَنـٰزَعتُم فى شَىءٍ فَرُدّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسولِ إِن كُنتُم تُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ ذ‌ٰلِكَ خَيرٌ وَأَحسَنُ تَأويلًا ﴿٥٩﴾... سورة النساء
’’ اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، اطاعت کرو اللّٰہ کی اور اطاعت کرو رسول ﷺ کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں ، پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہو جائے تو اسے اللّٰہ اور رسول ﷺ کی طرف پھیر دو اگر تم واقعی اللّٰہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو ۔ یہی ایک صحیح طریق کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے ۔‘‘       
اور آیت میں وارد أولوا الامر سے مراد علما اور اُمرا ہیں اور اسی کو قرطبی اور ابن کثیر رحمہما اللّٰہ نے راجح قرار دیا ہے ۔[55] نبی ﷺ نے امام کی اطاعت سے نکلنے سے ڈرایا ہے اور آپ ﷺ نے سمع و طاعت اور امیر کی پیروی کرنے کا حکم دیا ہے :
1.     سیدنا ابو ہریرہ ﷜سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :
«مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً، وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِعَصَبَةٍ أَوْ يَدْعُو إِلَى عَصَبَةٍ أَوْ يَنْصُرُ عَصَبَةً، فَقُتِلَ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا وَلاَ يَتَحَاشَ مِنْ مُؤْمِنِهَا، وَلاَ يَفِي لِذِي عَهْدٍ عَهْدَهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ»[56] 
’’ جس نے حاکم کی اطاعت سے خروج کیا اور جماعت سے الگ ہوا ، پھر اس کی موت ہو گئی تو وہ جاہلیت کی موت مرا اور جس نے کسی نامعلوم اندھے جھنڈے کے تحت جنگ لڑی ، اس حال میں کہ وہ کسی گروہ کے لیے ناراض ہوتا ہے ، یا کسی گروہ کی طرف دعوت دیتا ہے ، یا کسی گروہ کی مدد کرتا ہے اور اسی حالت میں قتل کر دیا جاتا ہے تو یہ جاہلیت کی موت ہے اور جو میری امت کے خلاف خروج کرے اور اس کے نیک و بد تمام افراد کو قتل کرے اور مومنوں کے قتل سے دریغ نہ کرے اور نہ ہی کسی عہد والے کے ساتھ اس کا عہد و پیمان پورا کرے تو وہ نہ مجھ سے ہے اور نہ میں اس سے ہوں ۔‘‘
2.  ولی امر کی اطاعت کی تلقین کرتے ہوئے نبی ﷺ نے فرمایا :
«السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلاَ سَمْعَ وَلاَ طَاعَةَ»[57]
’’ ایک مسلمان پر پسند و ناپسند ہر دو صورتوں میں سمع و طاعت ضروری ہے جب تک کہ اسے کسی نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے ، جب اسے نافرمانی کا حکم دیا جائے تو پھر ایسی صورت میں اس پر نہ سمع ہے اور نہ طاعت ۔‘‘
3.  عبد اللّٰہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا :
«عَلَيْكَ السَّمْعَ وَالطَّاعَةَ فِي عُسْرِكَ وَيُسْرِكَ وَمَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ»[58]
’’ تمہارے اوپر سختی و آسانی ، خوشحالی اور بدحالی میں اور اپنے اوپر ترجیح دیے جانے کی صورت میں سمع و طاعت ضروری ہے ۔‘‘
4.  ایک اور روایت میں آپﷺ نے فرمایا :
«اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ»[59]
’’ تم سمع و طاعت بجا لاؤ ، کیونکہ ان پر وہ چیز واجب ہے جس کا انہیں ذمہ دار بنایا گیا ہے اور تمہارے اوپر وہ چیز واجب ہے جس کا ذمہ دار تمہیں بنایا گیا ہے ۔‘‘
ان احادیث میں حاکم وقت کے لیے غایت درجہ خود سپردگی اور اطاعت کا حکم دیا گیا ہے ، جب تک کہ وہ کسی معصیت یا کھلم کھلا کفر کا حکم نہ دے ۔
5.  امام ابو قاسم لالکائی [60]نے امام احمد  سے نقل کیا ہے :
’’ جس نے بھی مسلمانوں کے امام کے خلاف خروج کیا، حالانکہ لوگ اس پر متفق ہو گئے تھے اور اس کی خلافت کو تسلیم کر چکے تھے جس طرح سے بھی ہو خواہ رضامندی کے ساتھ یا طاقت کے بل بوتے پر ، تو اس خروج کرنے والے شخص نے مسلمانوں کے اتحاد کو توڑا اور رسول اللّٰہ ﷺ سے ثابت فرامین کی مخالفت کی۔ لوگوں میں سے کسی کے لیے بھی حاکم سے قتال کرنا اور اس کے خلاف خروج کرنا جائز نہیں ہے ، اگر کسی نے ایسا کیا تو وہ بدعتی اورراہِ سنت کا مخالف ہو گا ۔‘‘[61]
6.  امام طحاوی  فرماتے ہیں :
’’ ہم اپنے اماموں اور حکام وقت کے خلاف خروج کو جائز نہیں سمجھتے اگرچہ وہ ظلم کریں ، نہ ہم ان کے لیے بددعا کریں گے اور نہ ہی اطاعت سے ہاتھ کھینچیں گے ، ہم ان کی اطاعت کو اللّٰہ کی اطاعت کے قبیل سے فرض سمجھتے ہیں جب تک کہ وہ کسی معصیت کا حکم نہ دیں اور ہم ان کی صلاح اور عافیت کی دعا کرتے ہیں ۔‘‘[62]
7.  شرعی حکومت کی اہمیت اور اس کی عظمت کے بارے میں ابن تیمیہ  فرماتے ہیں :
’’ ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ لوگوں کے اُمور کی ذمہ داری دین کے عظیم ترین واجبات میں سے ہے ، بلکہ دین و دنیا کا قیام اس کے بغیر ممکن نہیں ہے۔‘‘[63]
8.  امام عبد اللّٰہ بن مبارک ﷫نے اپنے اس شعر میں کیا ہی بہترین بات کہی ہے :
لَوْلَا الأَئِمَةُ لَمْ تَأمَنْ لَنَا سُبُلٌ                        وَكَانَ أَضْعَفُنَا نُهبًا لِأَقْوَانَا[64]
’’ اگر حکام وقت نہ ہوتے تو ہمارے راستے محفوظ نہ ہوتے اور ہم میں سے کمزور ترین آدمی طاقتور ترین آدمی کی لوٹ کا شکار ہو جاتا ۔‘‘
9.  شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ  فرماتے ہیں :
’’ شاید ہی کوئی گروہ ہو جس نے حاکم وقت کے خلاف خروج کیا ہو اور اس کے خروج سے پیدا ہونے والا فساد اس فساد سے بڑھ کر نہ ہوا ہو جسے اس نے زائل کیا ہے۔‘‘[65]
10.  فتاوی میں دوسری جگہ فرماتے ہیں :
’’ جہاں تک اہل علم و فضل اور دین کا مسئلہ ہے تو وہ کسی کو بھی حکام وقت کی نافرمانی کرنے انہیں دھوکہ دینے اور کسی بھی صورت میں ان کے خلاف خروج کرنے کی اجازت نہیں دیتے کیونکہ اس سے اللّٰہ تعالیٰ نے روکا ہے ۔‘‘[66]
11.  امام بربہاری [67]فرماتے ہیں :
’’ جب آپ کسی شخص کو حاکم وقت کے لیے بد دعا کرتے ہوئے دیکھیں تو سمجھ جائیں کہ وہ ہویٰ پرست ہے اور جب کسی آدمی کو حاکم وقت کے لیے صلاح کی دعا کرتے ہوئے سنیں تو سمجھ جائیں کہ وہ متبع سنت ہے ۔‘‘[68]
یہ وہ روشن اور واضح دلائل و براہین ہیں جو حکام وقت کے خلاف خروج کو باطل قرار دیتے ہیں اور خروج کرنے والے ہر قول و مسلک کی دھجیاں اڑاتے ہیں ۔یہ لوگ جن ناقص دلائل کا سہارا لیتے ہیں، وہ قرآن و سنت کی رہنمائی اور سلف صالحین کی فہم کی روشنی کے سامنے ڈھیر ہو جاتے ہیں ۔ آخر ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ مصیبتوں کو برپا کرنے کا منصوبہ بناتے ہیں اور اپنی جہالت و شدت پسندی کی بنیاد پر لوگوں کو تکلیف پہنچانے کی تدبیر کرتے ہیں ، یہ لوگ تو کوئی بات سمجھتے ہی نہیں ؟!
حوالہ جات:
[1]    ابو الحسین احمد بن فارس الرازی ، عربی لغت كےامام تھے، بہترین اشعار کہے،وفات 390 ھ (وفیات الاعیان : 1؍118)
[2]    معجم مقاییس اللغۃ ( 2؍447) ، مادہ رهـ ب
[3]    القاموس المحیط ، ( 76،77) ، مادہ رهـ ب       
[4]    الصحاح از جوہری :1؍140 ، لسان العرب : 1؍423 ، تاج العروس : 2؍537 ، مادہ رهـ ب
[5]    المعجم المفهرس لالفاظ القرآن الکریم : ص : 325
[6]    فقہ اکیڈمی نے دہشت گردی کی یہ تعریف اپنی سولہویں کانفرنس منعقده21 تا26 شوال1422ھ کے اختتامی بیان میں شائع کی ہے ۔ دیکھیں : مجلہ ’اسلامی فقہ اکیڈمی‘ ، ذیلی شاخ رابطہ عالم اسلامی ، شمارہ نمبر 15...( ص : 491) مزيد دیکھیں : موقف الاسلام من الإرهاب از محمد عمیری : ص 17تا30، موقف المملكة العربية من الإرهاب از ڈاکٹر سلیمان ابا الخیل : 1؍204 تا208
[7]    دراسات في القانون الدولي الجنائي از محمد محی الدین عوض :ص 48 تا52
[8]    ایضاً                     اقوام متحدہ کی طرف سے دہشت گردی کی باضابطہ تعریف ابھی تک ایک معمہ ہے۔ (اداره)
[9]    محمد الطاہر بن عاشور،تیونس میں مالکی مفتیوں کےرئیس،الزیتونہ یونیورسٹی كے چانسلر تھے۔( تیونس ،1296ھ تا 1393ھ ) تصانیف: مقاصد الشريعة الاسلامية، اُصول انتظام الاجتماعي في الإسلام، التحريروالتنوير في تفسير القرآن             
[10] مقاصد الشریعۃ از ابن عاشور: ص200
[11]  تفسیر طبری:3؍141اورتفسیر ابن کثیر: 1؍456
[12] مجموع الفتاوی :3؍168
[13] الموافقات از اما م شاطبی:2؍279
[14] عبدالعزیز بن عبدالسلام بن القاسم دمشقی(دمشق 577ھ تا 660ھ )۔آپ عزالدین اورسلطان العلماء کےلقب سےملقب ہوئے۔ درجہ اجتہاد پر فائز شافعی فقیہ تھے۔ تصنیفات:الفوائد ،القواعد الکبری والصغری اور مقاصد الرعاية
[15] القواعد الصغری از عز الدین : 1؍36
[16] الروح از ابن قیم:1؍257
[17] المجتبیٰ از نسائی: کتاب مناسک الحج ،باب التقاط الحصی ،رقم3057؛مسند احمد:رقم 1851 عن ابن عباس علامہ البانی نےالسلسلۃ الصحیحہ میں اسے صحیح کہا۔رقم 2153
[18] صحیح مسلم :کتاب العلم ،باب ہلک المتنطعون ،رقم2670
[19] الکلیات از كفوی:1؍220
[20] احکام القرآن لابن العربی :3؍17
[21] سنن ترمذی :رقم 2511،سنن ابوداؤد :باب فی النہی عن البغی ،رقم4902،مسند احمد رقم20396
[22] ابوحمز ہ محمد بن کعب القرظی فضلائے اہل مدینہ میں سےہیں ۔ انہیں سیدنا عبداللّٰہ بن عباس ،علی بن ابی طالب اورعبداللّٰہ بن مسعود   جیسے صحابہ کرام سےروایت کا شرف ملا۔ (وفات 108ھ یا 117ھ)
[23]           ذم البغی از ابن ابی الدنیا: 1؍53، حلیۃ الاولیاء از ابو نعیم: 5؍181
[24] معجم مقاییس اللغۃ :5؍191،لسان العرب :5؍144،اورتاج العروس :14؍50...مادہ :ک ف ر
[25] مدارج السالکین از ابن قیم :1؍353،الکلیات :4؍74،ابن عابدین :3؍284
[26] ابوعلی بدرالدین محمد بن علی شوکانی ...شوکان:ولادت 1173ھ ۔ (البدر الطالع از شوکانی :2؍214 اورالتاج المکلل از صدیق حسن خان:305 تا317)
[27] صحیح بخاری :کتاب المظالم والغصب، باب لایظلم المسلم المسلم ولایسلمه، رقم2319
[28] صحیح بخاری :کتاب الایمان، باب خوف المؤمن من ان یحبط عمله وهولایشعر، رقم48
[29] صحیح بخاری :کتاب العلم، باب قول النبی ﷺ :رب مبلغ أوعی من سامع :رقم105
[30] السیل الجرار المتدفق على حدائق الأزهار از شوكانی: 1؍981
[31] صحیح بخاری :باب من کفر أخاہ لغیرتاویل فهوکما قال، رقم5753
[32] صحيح مسلم :كتاب الايمان ،باب بيان حال إيمان من رغب عن أبيه وهو يعلم، رقم:226
[33] المعجم الكبير للطبراني 22؍177،رقم460           
[34] مسند أبي يعلى:4؍207،رقم :2317
[35] القصيدة النونية لابن القيم: 277
[36] امام الحافظ ابوجعفر احمد بن حمد سلامہ طحاوی، نامور حنفی فقیہ : م 321ھ مکہ..تصنيفات: أحكام القرآن، معاني الآثار، اختلاف الفقهاء، العقيدة وحكم أراضي مكة
[37] شرح العقيدة الطحاوية: 1؍204
[38] ایضاً
[39] ابو زکریا محی الدین یحییٰ بن شرف بن مری نووی شافعی... (م 676ھ)فقہ وحدیث کے اما م، حافظ ومتقن۔ تصانیف: المنهاج، شرح المهذب، الروضة، التحقيق، الأذكار وغيره
[40] شرح النووی علے مسلم: 1؍150
[41] احمد بن ادریس صنہاجی قرافی مالکی،م 684۔فقہ اور أصول فقہ کے اما م... تصانیف: أنوار البروق في أنواع الفروق، الإحكام في تمييز الفتاوى عن الأحكام، الذخيرة في فقه المالكية.
[42] الفروق از قرافي: 4؍298
[43] الرد علی البکری از ابن تیمیہ:2؍292
[44] الدرر السنية في الأجوبة النجدیة کتاب (حکم المرتد )10؍375
[45] مجموع الفتاوی :12؍466
[46] مجموع الفتاوی:10؍372
[47] السنن الكبرى للبیہقی ، باب تحریم القتل من السنۃ، رقم 16273؛ مستدرک حاکم: 2؍342 ،رقم 3219
[48] الاعتصام از شاطبی: 1؍476
[49] فتح الباری: 1؍83، 85 اور 2؍523
[50] ابوعمر یوسف بن عبداللّٰہ بن عبد البر نمری قرطبی مالکی۔ نامور حافظِ حدیث، مؤرخ، ادیب، حافظ المغرب کا لقب پانیوالے، م 463 ھ شاطبہ، تصانیف: الاستيعاب، جامع بيان العلم وفضله، التمهيد لما في الموطأ...، الدرر في المغازي والسير
[51] أبو الحسن علی بن خلف بن بطال قرطبی... علما اور شراح حدیث میں نامور نام ۔ م 449ھ
[52] الدرر السنية في الأجوبة النجدیة :7؍145
[53] الرد على البكری از ابن تیمیہ: 2؍492 ومجموع الفتاوی: 23؍426
[54] مجموع الفتاوی: 20؍92
[55] دیکھیں تفسیر ابن کثیر : 2؍245 اور تفسیرقرطبی : 5؍259
[56] صحیح مسلم ، کتاب الامارۃ ، باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین عند ظہور الفتن وفی کل حال و تحریم الخروج علی الطاعۃ و مفارقۃ الجماعۃ ، حدیث نمبر : 1848
[57] صحیح بخاری ، کتاب الجہاد والسیر ، باب السمع والطاعۃ للامام مالم تکن معصیۃ ، رقم: 6725 ، صحیح مسلم ، کتاب الامارۃ ، باب وجوب الطاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ و تحریمہا فی المعصیۃ ، رقم:1839
[58] صحیح مسلم ، کتاب الامارۃ ، باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ و تحریمہا فی المعصیۃ ، رقم: 1836
[59] صحیح مسلم ، کتاب الامارۃ ، باب وجوب طاعۃ الامراء وان منعوا الحقوق ، رقم : 1846
[60] أبو قاسم ہبتہ اللّٰہ بن الحسن رازی طبری لالکائی ۔ بہت بڑے امام ، حافظ اور شافعی فقیہ اور بغداد کے محدث تھے ۔ طبری الاصل ہیں ، انہوں نے سنت کی شرح میں دو جلدوں پر مشتمل ایک کتاب اور صحیحین کے رواۃ پر ایک کتاب تالیف کی ہے۔ وفات 418ھ
[61] شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ از لالکائی :1؍311
[62] شرح العقیدة الطحاویۃ : 1؍428
[63] مجموع الفتاوی : 2؍410
[64] الآداب الشرعیۃ : 1؍222
[65] منہاج السنۃ النبویۃ از ابن تیمیہ: 1؍319
[66] مجموع الفتاوی : 35؍12
[67] ابو محمد حسن بن علی بن خلف البربہاری اپنے دور میں حنابلہ کے شیخ تھے ، ابن ابی یعلی فرماتے ہیں : ’’ یہ ائمہ عارفین اور اصول کے حفاظ ، پختہ کار علماء اور ثقہ مؤمنوں میں سے تھے ۔’شرح السنۃ ‘ان کی مشہور تصنیفات میں سے ہے ۔ وفات 329ھ            
[68] شرح السنۃ از البربہاری: ص113