(سیدنا ابو بکر، سیدناعمر اور سیدنا عثمان﷢)
سیدنا علی﷜کی نظر میں!
’’ سیدنا علیؓ اصحاب ِ ثلاثہ کو ظالم اورغاصب سمجھتے تھے، نعوذ باللّٰہ ! ‘‘... یہ جملہ بڑا جھوٹ، حقائق سے بغاوت اور سیدنا علی ؓپر بہتان ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دلائل ملاحظہ ہوں :
دلیل نمبر 1
سیدنا ابوجحیفہؓ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علیؓ کو فرماتے سنا :
أَلا أُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ هذه الأمَّةِ بَعْدَ نَبِیِّها؟ أَبُو بَکْرٍ. ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ هذِه الْأمَّةِ بَعْدَ أَبِي بَکْرٍ؟ عُمَرُ. [1]
’’ میں آپ کونبی ﷺکے بعد امت کے بہترین شخص کے بارے میں خبر نہ دوں؟ وہ ا بوبکر ہیں، پھر فرمایا: کیا میں سیدنا ابوبکر کے بعد اُمت کے بہترین شخص کے بارے میں نہ بتاوں؟ وہ سیدنا عمر ہیں۔‘‘
شیخ الاسلام ابن تیمیہ لکھتے ہیں :    وَقَدْ تَوَاتَرَ عَنْهُ.[2]              ’’ یہ بات سیدنا علیؓ سے متواتر منقول ہے۔‘‘
حافظ ذہبی ﷫لکھتے ہیں :
وَقَالَ عَلِي: خَیْرُ هٰذِهِ الْأمَّةِ بَعْدَ نَبِیِّهَا أَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ، هٰذَا والله الْعَظِیْمِ قَالَه عَلِي وَهُوَ مُتَوَاتِر عَنْه؛ لأِنَّه قَالَه عَلٰى مِنْبَرِ الْکُوْفَةِ فَلَعَنَ الله الرَّافِضَةَ مَا أَجْهَلَهُمْ؟[3]
’’سیدناعلی ؓنے فرمایا کہ نبی اکرم ﷺکے بعد اس امت کے بہترین شخص ابوبکر وعمر﷢ ہیں۔ اللّٰہ العظیم کی قسم! یہ بات علیؓ سے تواتر کے ساتھ منقول ہے، اُنہوں نے یہ بات کوفہ کے منبر پر کہی تھی۔ اللّٰہ تعالیٰ رافضیوں پر لعنت کرے!وہ کتنے جاہل ہیں۔‘‘
حافظ ابن کثیر﷫لکھتے ہیں :             وَقَدْ ثَبَتَ عَنْهُ بِالتَّوَاتُرِ.[4]
’’یہ روایت سیدنا علیؓ سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔‘‘
دلیل نمبر 2
محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ میں نے والدِ گرامی سیدنا علی بن ابی طالبؓ سے پوچھا :
أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ ﷺ؟ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ. قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ عُمَرُ وَخَشِيتُ أَنْ يَقُولَ عُثْمَانُ. قُلْتُ ثُمَّ أَنْتَ؟ قَالَ: مَا أَنَا إِلَّا رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ.[5]
’’رسول اللّٰہﷺکے بعد بہترین شخصیت کون ہے؟ فرمایا : ابوبکرؓ، : عرض کیا، پھر کون؟ فرمایا : عمرؓ، پھر میں اس بات سے ڈر گیا کہ مزید پوچھا، تو آپ عثمانؓ کا نام لیں گے، لہٰذا میں نے کہا : ابا جان! پھر تو آپ ہیں؟ فرمایا : میں ایک عام مسلمان ہوں۔‘‘
اہم فائدہ :             ابو مالک اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے ابن حنفیہ سے کہا :
أَبُو بَکْرٍ کَانَ أَوَّلَ الْقَوْمِ ِإسْلَامًا؟ قَالَ: لَا. قُلْتُ : فِیمَا عَلَا وَسَبَقَ، حَتّٰی لَا یُذْکَرَ أَحَد غَیْرُ أَبِي بَکْرٍ؟ قَالَ: کَانَ أَفْضَلُهُمْ ِإسْلَامًا حَتّٰی لَحِقَ بِالله عَزَّ وَجَلَّ.[6]
’’کیا سیدنا ابو بکرؓ سب سے پہلے مسلمان ہوئے تھے؟ کہا : نہیں، میں نے کہا : پھر کس بناپر اس درجہ فائق ہو ئے کہ ان کے بغیر کسی کا ذکر ہی نہیں ہوتا؟ فرمایا : آپ اسلام میں تا حیات افضل رہے۔‘‘
دلیل نمبر 3
عبد خیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی بن ابی طالبؓ    کو منبر پر فرماتے سنا :
قُبِضَ رَسُولُ الله ﷺ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَکْرٍ فَعَمِلَ بِعَمَلِه، وَسَارَ بِسِیرَتِه، حَتّٰی قَبَضَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰى ذٰلِك، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ فَعَمِلَ بِعَمَلِهِمَا، وَسَارَ بِسِیرَتِهِمَا، حَتّٰی قَبَضَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰى ذٰلِكَ.[7]
’’رسول اللّٰہﷺفوت ہوئے تو سیدنا ابوبکرؓ خلیفہ بنے، انہوں نے رسول اللّٰہﷺ والے کام کیے، آپﷺکی سیرت پر عمل کیا، حتی کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کواسی حالت میں فوت کردیا، ان کے بعد سیدنا عمرؓخلیفہ مقرر ہوئے، تو اُنہوں نے ان دونوں (رسول اللّٰہﷺ اور سیدنا ابوبکرؓ) کی طرح کام کیا اور ان کی سیرت پرعمل کیا حتی کہ اسی حالت میں فوت ہو گئے۔‘‘
دلیل نمبر 4
سیدنا علیؓ بن ابی طالب بیان کرتے ہیں :
قَالَ لِي النَّبِّيُ ﷺ وَلِأَبِي بَکْرٍ: مَعَ أَحَدِکُمَا جِبْرِیلُ، وَمَعَ الْآخَرِ مِیکَائِیلُ، وَإسْرَافِیلُ مَلَك عَظِیم یَشْهَدُ الْقِتَالَ وَیَکُونُ فِي الصَّفِّ. [8]
’’نبی اکرمﷺنے مجھے اور سیدنا ابوبکرؓکو فرمایا کہ آپ میں سے ایک کے ساتھ جبریل اوردوسرے کے ساتھ میکائیل ہیں، جبکہ اسرافیل ایک بہت بڑے فرشتے ہیں، جو لڑائی میں حاضر ہوتے ہیں اور صف میں موجود ہوتے ہیں۔‘‘
دلیل نمبر 5
ابن ابی ملیکہکہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللّٰہ بن عباس﷢ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا :
وُضِعَ عُمَرُ عَلَى سَرِيرِهِ فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ وَيُصَلُّونَ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ وَأَنَا فِيهِمْ فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَجُلٌ آخِذٌ مَنْكِبِي فَإِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ وَقَالَ مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى الله َبِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ وَأَيْمُ اللهِ إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ أَنْ يَجْعَلَكَ اللهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ وَحَسِبْتُ أَنِّي كُنْتُ كَثِيرًا أَسْمَعُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ ذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ.[9]
’’سیدنا عمرؓ(حملے کے بعد)اپنی چارپائی پر رکھ دئیے گئے، لوگوں نے انہیں چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا، وہ آپ کے لیے دعا واستغفار کررہے تھے۔میں بھی ان میں شامل تھا، اچانک سیدنا علیؓ نے میرے کندھے سے پکڑ کر مجھے اپنی طرف متوجہ کیا، انہوں نے سیدنا عمرؓ کے لیے دعائے رحمت کی اور فرمایا : آپ کے بعد بھلا کون ہے جس کی مثل عمل کرکے اللّٰہ کے در بار میں حاضری مجھے محبوب رہی ہو؟ مجھے یقین تھا کہ اللّٰہ تعالیٰ آپ کو آپ کے ساتھیوں (رسول اللّٰہﷺاورسیدنا ابوبکرؓ) کے ساتھ جگہ دے گا، میں اکثر نبی کریم ﷺسے سنا کرتا تھا کہ میں، ابوبکر اورعمر گئے، میں، ابوبکر اورعمر داخل ہوئے، میں، ابوبکر اورعمر نکلے۔‘‘
سیدنا عبداللّٰہ بن عباس بتا رہے ہیں کہ سیدنا علیؓ، سیدنا عمرؓسے راضی تھے، ان کے لیے دعائے رحمت کرتے اور سیدنا ابو بکر ؓو سیدنا عمرؓکو نبی اکرمﷺ کا ساتھی بتاتے تھے۔
دلیل نمبر 6
سیدناعلیؓ نے فرمایا :
اقْضُوا كَمَا كُنْتُمْ تَقْضُونَ فَإِنِّي أَكْرَهُ الِاخْتِلَافَ حَتَّى يَكُونَ لِلنَّاسِ جَمَاعَةٌ أَوْ أَمُوتَ كَمَا مَاتَ أَصْحَابِي فَكَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَرَى أَنَّ عَامَّةَ مَا يُرْوَى عَنْ عَلِيٍّ الْكَذِبُ[10]
’’(اہل عراق ! امہات الاولاد کی آزادی کے بارے میں )آپ جو فیصلہ کرنا چاہتے ہیں کیجئے، میں اس مسئلہ میں سیدنا ابوبکرؓ و عمرؓسے اختلاف نہیں کرسکتا۔چاہتا ہوں کہ وحدتِ اُمت قائم رہے اور میں خلفائے ثلاثہ کے طریقے پر فوت ہوجاؤں۔ ابن سیرین کہا کرتے تھے کہ عام لوگ ( روافض ) جو حضرت علی ﷜ سے روایات ( شیخین کی مخالفت میں ) بیان کرتے ہیں وہ قطعاً جھوٹی ہیں ۔ ‘‘
دلیل نمبر 7
سیدنا عقبہ بن حارث ؓبیان کرتے ہیں :
صَلَّى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْعَصْرَ ثُمَّ خَرَجَ يَمْشِي فَرَأَى الْحَسَنَ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَحَمَلَهُ عَلَى عَاتِقِهِ وَقَالَ بِأَبِي شَبِيهٌ بِالنَّبِيِّ لَا شَبِيهٌ بِعَلِيٍّ وَعَلِيٌّ يَضْحَكُ[11]
’’سیدنا ابوبکرصدیق ؓنماز عصر ادا کرنے کے بعد گلی میں نکلے تو سیدنا حسنؓ کو بچوں کے ساتھ کھیلتے دیکھا اور آگے بڑھ کر انہیں کندھے پہ اٹھا لیا ۔ فرمایا : میرے باپ قربان ، یہ نبی کے مشابہ ہیں، علیؓ کے مشابہ نہیں، سیدنا علیؓ ہنس دئیے۔‘‘
دلیل نمبر 8
سالم بن ابی حفصہکہتے ہیں :
سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِّي وَجَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ، فَقَالَا لِي : یَا سَالِمُ تَوَلَّاهُمَا وَابْرَأْ مِنْ عَدُوِّهِمَا فَإنَّهُمَا کَانَا ِإمَامَا هُدًی، قَالَ سَالِمٌ : وَقَالَ لِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ : یَا سَالِمُ أَیَسُبُّ الرَّجُلُ جَدَّه؟ أَبُوبَکْرٍ جَدِّي لَا نَالَتْنِي شَفَاعَةُ مُحَمَّدٍ ﷺ یَوْمَ الْقِیَامَةِ ِإنْ لَمْ أَکُنْ أَتَوَلَّاهمَا وَأَبْرأُ مِنْ عَدُوِّهِمَا. [12]
’’میں نے ابو جعفر محمد بن علی (امام باقر) اور جعفر بن محمد (امام صادق) سے سیدنا ابو بکرؓ وعمرؓ کے بارے میں سوال کیا، تو اُنہوں نے کہا : سالم! ان سے محبت رکھئے اور ان کے دشمنوں سے براء ت کا اظہار کیجئے، کیونکہ وہ دونوں ہدایت کے امام تھے۔ سالم کہتے ہیں : مجھے جعفر بن محمد صادقنے یہ بھی کہا : سالم! کیا آدمی اپنے دادا کو گالی دیتا ہے؟ ابوبکرؓ میرے دادا ہیں، مجھے قیامت کے دن محمدﷺ کی شفاعت حاصل نہیں ہو گی، اگر میں ان (سیدناابوبکرؓوعمرؓ)سے محبت نہ رکھوں اور ان کے دشمنوں سے اظہار براءت نہ کروں۔‘‘
دلیل نمبر9
محمد بن حنفیہ بیان کرتے ہیں :
کُنْتُ مَعَ عَلِیٍّ، وَعُثْمَانُ مَحْصُور، قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُل فَقَالَ: ِإنَّ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ مَقْتُول، ثُمَّ جَاء َ آخَرُ فَقَالَ: ِإنَّ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ مَقْتُول السَّاعَةَ، قَالَ: فَقَامَ عَلِيّ، قَالَ مُحَمَّد: فَأَخَذْتُ بِوَسَطِهِ تَخَوُّفًا عَلَیْهِ، فَقَالَ: خَلِّ لَا أُمَّ لَكَ، قَالَ: فَأَتَى عَلِيّ الدَّارَ، وَقَدْ قُتِلَ الرَّجُلُ، فَأَتَی دَارَهُ فَدَخَلَهَا، وَأَغْلَقَ عَلَیْهِ بَابَهُ، فَأَتَاهُ النَّاسُ فَضَرَبُوا عَلَیْه الْبَابَ، فَدَخَلُوا عَلَیْه فَقَالُوا: إنَّ هٰذَا الرَّجُلَ قَدْ قُتِلَ وَلَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ خَلِیفَةٍ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَحَقَّ بِهَا مِنْكَ، فَقَالَ لَهُمْ عَلِيّ: "لَا تُرِیدُونِي، فَإنِّي لَکُمْ وَزِیر خَیْر مِنِّی لَکُمْ أَمِیر، فَقَالُوا: لَا وَالله مَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَحَقَّ بِهَا مِنْكَ، قَالَ: فَإنْ أَبَیْتُمْ عَلَيَّ فَإنَّ بَیْعَتِی لَا تَکُونُ سِرًّا، وَلَکِنْ أَخْرُجُ إلىٰ الْمَسْجِدِ فَمَنْ شَاء َ أَنْ یُبَایِعَنِی بَایَعَنِی." قَالَ: فَخَرَجَ إلىٰ الْمَسْجِدِ فَبَایَعَهُ النَّاسُ. [13]
’’ان دنوں جب سیدنا عثمانؓ محصور تھے، میں سیدنا علیؓ کے پاس موجود تھا کہ ایک شخص حاضر ہوا، کہنے لگا: امیرالمؤمنین سیدنا عثمان ؓکو شہید کردیا گیا ہے، پھر ایک اور شخص نے خبر دی کہ ابھی ابھی سیدنا عثمانؓ شہیدکردئیے گئے ہیں۔سیدنا علیؓ اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے، میں نے کسی اندیشہ کے پیش نظر ان کا ہاتھ تھام لیا، فرمایا : نہ ہوئی آپ کی ماں، چھوڑئیے میرا ہاتھ! آپ سیدنا عثمانؓ کے گھر پہنچے، دیکھا کہ آپؓ شہید ہوچکے ہیں، واپس گھر آگئے، دروازہ بند کر لیا۔ لوگ آپ کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹانے لگے، دروازہ کھولا تو آپ کے پاس آکر کہنے لگے : عثمانؓ شہید ہوگئے، اب ضروری ہے کہ کوئی خلیفہ ہو!اور ہم سمجھتے نہیں کہ اس منصب کا اہل آپ سے بڑھ کر کوئی نہیں۔سیدنا علیؓ فرمانے لگے، میرے بارے ایسا کچھ نہ سوچئے، میں بجائے اس کے کہ امیر بنوں، وزیر ہی بہتر ہوں۔لوگ کہنے لگے، اللّٰہ کی قسم ! آپ سے زیادہ اس منصب کا اہل کوئی نہیں ہے۔فرمایا : اگر مجھے ہی بنانا چاہتے ہو تومیری بیعت چھپ کر نہیں ہوگی، میں مسجد چلا جاتا ہوں، جسے بیعت کرنی ہو وہاں آ کر بیعت کر لے۔آپ مسجد کی طرف نکل گئے، وہاں لوگوں نے آپ ؓکی بیعت کی۔‘‘
یہاں واضح طور پر معلوم ہوجاتا کہ سیدنا علیؓ کے بارے میں یہ خیال بالکل بے بنیا د ہے کہ آپؓ خلافتِ بلا فصل کے دعویدار تھے، آپ ؓتو چوتھے خلیفہ ہونے پر راضی نہیں، بلکہ وزیر رہنا چاہتے ہیں، چہ جائیکہ خلافت بلا فصل کا دعوی کریں۔
دلیل نمبر10
نافع بیان کرتے ہیں :
أنَّ ابْنَ عُمَرَ صَلّٰى عَلٰى تِسْعِ جَنَائِزَ جَمِیعًا، فَجَعَلَ الرِّجَالَ یَلُونَ الْإمَامَ، وَالنِّسَاءَ یَلِینَ الْقِبْلَةَ، فَصَفَّهُنَّ صَفًّا وَّاحِدًا، وَوُضِعَتْ جَنَازَةُ أُمِّ کُلْثُومٍ بِنْتِ عَلِّي امْرَأَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَابْنٍ لَّهَا یُقَالُ لَه زَیْد، وُضِعَا جَمِیعًا. وَالْإمَامُ یَوْمَئِذٍ سَعِیدُ بْنُ الْعَاصِ، وَفِي النَّاسِ ابْنُ عُمَرَوَأَبُو هُرَیْرَةَوَأَبُوسَعِیدٍ وَأَبُوقَتَادَةَ. فَوُضِعَ الْغُلَامُ مِمَّا یَلِي الْإمَامَ.[14]
’’سیدنا عبداللّٰہ بن عمرؓنے نو میّتوں پر اکٹھی نماز جنازہ ادا کی۔ مردوں کو امام کی جانب اور عورتوں کو قبلہ کی جانب رکھا اور سب کی ایک صف بنا دی، جبکہ سیدنا عمر فاروق ؓکی زوجہ محترمہ ام کلثوم بنت علی ؓ اور ان کے بیٹے زید کو اکٹھا رکھا۔ان دنوں یہاں کے امیر سعید بن عاصؓ تھے، جبکہ جنازہ پڑھنے والوں میں عبداللّٰہ بن عمر، ابوہریرہ، ابو سعید خدری اورابو قتادہ﷢شامل تھے۔ بچے کو امام کی جانب رکھا گیا۔‘‘
معلوم ہوا کہ سیدنا عمرؓکوسیدنا علیؓ کا شرفِ دامادی حاصل ہے جو باہمی محبت کا غماز ہے۔تلك عشرة کاملۃ
حوالہ جات:
[1]    زوائد مسند الامام احمد :1؍ 106، 110، وسندہ حسن... والحدیث صحیح متواتر
[2]    منهاج السنة النبویة في نقض کلام الشیعة والقدریة :1؍ 308
[3]    سیر اعلام النبلاء :15؍ 28
[4]    البدایة والنهایة :7؍ 370
[5]    صحیح البخاری :2؍ 815، رقم : 3671، سنن ابو داود : رقم 4629، مصنف ابن ابی شیبۃ :7؍ 473، السنۃ لابن ابی عاصم : 1204، 1206، الشریعۃ للآجری : 1866، 1869، الاعتقاد للبیہقی : 517، واللفظ لہ، وسندہ صحیح
[6]    السنۃ لابن ابی عاصم : 1255، مصنف ابن ابی شیبۃ :7؍ 12، وسندہ صحیح
[7]    زوائد مسند الامام احمد :1؍ 127، وسندہ صحیح
[8]    المستدرک علی الصحیحین للحاکم :3؍ 68، السنۃ لابن ابی عاصم : 1252، مصنف ابن ابی شیبۃ :12؍ 16، وسندہ حسن، والحدیث صحیح... صححہ الحاكم ووافقہ الذہبی
[9]    صحیح البخار ی:1؍ 520،رقم 3685، صحیح مسلم :2؍ 274، رقم : 2389
[10] صحیح البخاری :رقم 3707، وسندہ صحیح
[11] صحیح البخاری : 3542
[12] الاعتقاد للبیہقی : 506، وسندہ حسن
[13] فضائل الصحابۃ للامام احمد بن حنبل : 969، وسندہ صحیح
[14] سنن نسائی : 1980، سنن دارقطنی :2؍ 79، 80، السنن الکبرٰی للبیہقی :4؍ 33، وسندہ صحیح كما صرح ابن الجارود : رقم 545... اس کی سند کو امام نووینے حسن(المجموع: ٥؍٢٢٤)، جبکہ حافظ ابن ملقناور حافظ ابن حجرنے صحیح قرار دیا ہے۔(البدر المنیر : ٥؍٣٨٥، التلخیص الحبیر : ٢؍١٤٦)