میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

استادِ محترم جناب پروفیسر ریاض الحسن صاحب (مشیر وفاقی شرعی عدالت و ریسرچ سکالر رابطہ عالم اسلامی) کے بارے میں تعریفی کلمات کہنا چھوٹا منہ اور بڑی بات کے مترادف ہے۔ کیونکہ کسی شخصیت کے اعترافِ عظمت کے لئے خود باعظمت ہونا ضروری ہے۔ بہرحال میں سطورِ ذیل میں اپنی شاگردی کا معمولی حق ادا کرنے کے لئے ان کی عظیم شخصیت کا تعارف اپنی علمی بساط کی حد تک کروانے پر فخر محسوس کرتا ہوں، امید ہے کہ ان کی زندگی کا مختصر خاکہ علم دوست حضرات کے لئے فائدہ بخش ثابت ہو گا۔ اُن کی مجسمہ تڑپ شخصیت، علمی و فنی کام کی شکل میں اپنا تعارف آپ ہے تاہم قارئین کو ان کے حالات سے باخبر کرنا میرا فرض ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جناب پروفیسر ریاض الحسن نوری صاحب بنیادی طور پر ایک ماہر فارمسٹ تھے لیکن اس شعبے میں قلیل عرصہ کام کرنے کے بعد انہوں نے اسلام کے فکری موضوعات پر تحقیقی کام کا آغاز کر دیا۔ وقت گزرنے اور ذوق نکھرنے کے ساتھ ساتھ اُن کی تحقیق کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا تاآنکہ انہوں نے اپنی خداداد بصیرت کی بدولت قرآنِ حکیم اور سائنس کو اپنی تحقیق کا موضوعِ خاص بنایا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس میدان میں اُن کا مقام و مرتبہ منفرد اور ممتاز ہے۔ وہ ممتاز عالم دین ہیں جو آیات قرآنی سے سائنسی حقائق مستنبط کرتے ہیں اور بڑے وثوق و ایقان سے دنیا بھر کے دانشور طبقے کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ ہم ان کی 80 سالہ حیات و خدمات کا احاطہ تو ہم ہرگز نہیں کر سکتے بہرحال کچھ ادنیٰ سی کوشش بروئے کار لا کر قارئین کو ان کی محنتوں اور بلند عزائم سے آگاہ کئے دیتے ہیں۔
ابتدائی حالات
آپ 1928ء میں ہندوستان کے شہر ضلع سہارن پور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم یہیں سے حاصل کی بعد ازاں آپ اپنے والد (ضیاء الحسن بن نور الحسن قریشی جو کہ سنٹرل گورنمنٹ آف انڈیا کے محکمہ ٹیلیفون میں انجینئر تھے) کے ساتھ ساتھ ملک کے دور دراز علاقوں زیادہ تر صوبہ سرحد کے علاقے میران شاہ اور بنوں میں رہے۔ اس کے علاوہ لاہور، کراچی، شملہ اور ڈیرہ دُون میں بھی سکونت پذیر رہے، تعلیم کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ جاری رہا، پنجاب بورڈ سے میٹرک اعلیٰ نمبروں سے پاس کیا۔ بعد میں گرونمنٹ کالج لاہور سے ایف ایس سی اور بعد میں اسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے پی ایس سی انجینئرنگ کا امتحان پاس کیا۔ پھر ایم ایس سی فارمیسی کرنے علی گڑھ چلے گئے۔ مگر بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر یونیورسٹی کی تعلیم مکمل نہ کر سکے۔
آپ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ بچپن میں چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ رویہ کیسا تھا؟ یہ جاننے کے لئے ہم نے اُن کے چھوٹے بھائی جناب عین الحسن قریشی صاحب (جو ورلڈ بینک کے پروجیکٹ ایڈوائزر ہیں) سے دریافت کیا تو اُنہوں نے بتایا:
"بھائی جان کا ہمارے ساتھ رویہ بہت شگفتہ اور پیار بھرا ہوتا تھا، شاید اس کی وجہ ہماری والدہ محترمہ کا کم عمری میں ہم سے بچھڑنا تھا، چنانچہ بھائی صاحب نے ہمیں والدہ کے پیار اور شفقت کا سایہ فراہم کیا اور اُنہوں نے ہمیں والدہ کا بچھڑنا زیادہ محسوس ہونے نہیں دیا، ہماری صحت، لباس، خوراک، تعلیم پرورش اور ضروریات کا خیال بالکل ماں کی طرح رکھا۔ شروع سے گھر کا ماحول خاصا مذہبی، تعلیمی اور اخلاقی تھا جس کو بھائی جان نے باحسن انداز آگے بڑھایا۔ یہی وجہ تھی کہ ہم سب ان کا بہت احترام اور دل میں مقام رکھتے تھے۔"
آپ اپنے دادا نور الحسن مرحوم کی نسبت سے نوری کہلاتے تھے۔ 1965ء میں ان کی شادی 'مدرسۃ البنات' لیک روڈ میں عربی کی پروفیسر محترمہ خورشید النساء سے انجام پائی اور یہ رشتہ مولانا عبیدالحق ندوی صاحب کی کوششوں سے طے پایا۔
تحریکِ پاکستان میں کردار
وہ خود فرمایا کرتے تھے کہ میرے اِردگرد خصوصا لاہور میں قائداعظم کا کوئی جلسہ، جلوس، پروگرام یا ریلی ایسی نہیں ہوتی تھی جس میں، میں بھرپور طریقے سے شریک نہ ہوتا تھا۔ میں باقاعدہ طور پر 1940ء میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن MSF میں شامل ہوا، اس وقت گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتا تھا، جس اجلاس میں قراردادِ پاکستان منظور ہوئی تھی، میں بھی اس میں شریک تھا۔ جب وہ تحریکِ آزادی کے موضوع پر بات کرتے تو آج بھی اُن کا جذبہ جواں نظر آتا تھا اور ان کی 'مجاہدانہ' سوچ کھل کر سامنے آ جاتی تھی کہ وہ کس قدر اُمتِ مسلمہ خصوصا پاکستان کے لئے تڑپ رکھتے تھے۔ تحریکِ پاکستان کے علاوہ ایسی اور بھی تحریکوں میں حصہ لیا جو مسلمانوں کی آزادی کے لئے کام کر رہی تھی جیسے سرحد کی 'فریڈم موومنٹ' وغیرہ۔
قیام پاکستان کے بعد لاہور میں لکشمی چوک کی گیتا بھون بلڈنگ میں رہائش ملی بعد ازاں باقی بہن بھائی تو گلبرگ اور ڈیفنس میں منتقل ہو گئے مگر اُن کو پرانی رہائش گاہ چھوڑنے کی ہمت نہ ہوئی اور آخر وقت تک اسی جگہ کو عزیزِ جان بنائے رکھا۔
ملازمت
اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد فارماسیوٹیکل کی مختلف کمپنیوں میں ملازمت کے مواقع ملے۔ سب سے پہلے لاہور کی پاپولر کیمیکل ورکس میں، پھر وائتھ (Wyth) میں فارماسسٹ انچارج بنے اور بعد میں کراچی کی Chas Mendoza Company میں بطور سینئر فارماسسٹ رہے مگر 'جرمِ ایمانداری' کی وجہ سے ملازمت برقرار نہ رہ سکی اور اچھی خاصی تنخواہ کو خدا حافظ کہا اور گھر لوٹ آئے۔ کمپنیوں کی معاون و مشاورت بعد میں بھی جاری رہی، جب بھی کوئی کمپنی یا شخص اُن سے کوئی کلیہ یا فارمولا پوچھتا تو بلامعاوضہ اُسکی رہنمائی فرماتے۔
فارمیسی کی دُنیا سے قرآن اور سائنس تک!
اللہ تعالیٰ نے اُمتِ مسلمہ کو ایک سے ایک بڑھ کر عالم سے نوازا ہے اور ویسے بھی وہ جس سے اپنے دین کے لئے کام لینا چاہے، اسے منتخب کر لیتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوری صاحب سے بھی کچھ ایسا ہی کام لینا چاہا تو ان کا سینہ اس بات کے لئے کھول دیا کہ اس وقت عالم اسلام کو ایسے سکالر کی ضرورت ہے جو دُنیا کے سامنے یہ بات مدلل انداز میں بیان کرے کہ وہ باتیں جو آج سائنس نہایت عرق ریزی سے لیکن اُدھورے مفروضات کی شکل میں سامنے لا رہی ہے، یہ باتیں اللہ تعالیٰ نے آج سے چودہ سو سال پہلے وحی کے ذریعے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دی تھیں۔ چنانچہ یہی مشن، یہی جذبہ اور ماٹو لے کر انہوں نے اپنے کام کا آغاز کیا اور مرتے دم تک قرآن و حدیث کی صداقت ثابت کرنے کے لئے اپنی بھرپور کوشش کرتے رہے۔ ان کی خدمات اور قابلیت کے پیچھے یہی ایک جذبہ کارفرما تھا کہ سائنس نہیں بلکہ پہلے قرآن ہے۔ اور صحیح سائنس کو آخرکار وحی الٰہی کی تصدیق کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ چنانچہ وفات سے چند ماہ قبل ماہنامہ محدث میں بھی ان کا مضمون اسی موضوع پر شائع ہوا۔
(دیکھیں ماہنامہ محدث لاہور، ستمبر 2003ء)
کتابیں جمع کرنے کا شوق
سرحد میں قیام کے دوران ہی کتابیں جمع کرنا اور لوگوں کو اپنی لائبریری میں بلانا اور اُنہیں تعلیم دینا ایک محبوب مشغلہ تھا جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا رہا۔ بالآخر زندگی ختم ہونے کو آئی مگر اختتامِ شوق کا دور دور تک نام و نشان نہ تھا، جن دنوں میں اُن کی خدمت میں حاضر ہونے لگا، اُن کے پاس ایک سوزوکی پک اَپ بطورِ ذاتی سواری موجود تھی جو بعد ازاں انہوں نے فروخت کر دی۔ میں نے عرض کیا کہ "سر! آپ اس رقم سے عمرہ ادا کر آئیں۔" تو کہا کہ "عمرہ بھی ان شاءاللہ کرنے کا ارادہ ہے مگر المكتبة العلمية والوں کے پاس کچھ نئی کتابیں آئی ہیں اگر وہ کسی اور نے لے لیں تو ہم رہ جائیں گے۔ بس گئے اور 'الماوردی' کی 'الاحکام' سمیت بہت سی قیمتی کتابیں اُٹھا لائے۔ اُن کے کتابیں جمع کرنے کے شوق کے متعلق چوہدری عبدالرحمٰن ایڈووکیٹ ہمیں بتاتے ہیں:
"کتابیں جمع کرنا تو اُن کا مشغلہ اور مقصدِ حیات تھا، اُن کی جائیداد علم اور کتابیں تھیں۔ وہ فٹ پاتھ سے بھی قیمتی ہیرے تلاش کر لیتے تھے۔ رقم پاس نہ ہونے کے باوجود وہ یہاں تک کتاب کو اپنے قبضہ میں کر لینا چاہتے تھے کہ مثلا پانچ روپے کی کتاب لینے کے لئے ہزار روپے کی گھڑی اُتار کر گروی رکھوا دیتے کہ میں پانچ روپے لے آؤں گا تو گھڑی لے جاؤں گا۔ بس، کتاب مجھے دے دو یعنی وہ کتاب کو ہر قیمت پر حاصل کرنا چاہتے تھے۔ وہ ایک مخلص کتاب دوست تھے جو قرآنی معجزات کو سائنس پر ہر لحاظ سے برتر ثابت کرنے کی لگن رکھتے تھے۔ موضوع کی مناسبت سے دلائل اکٹھے کرنے اور حوالہ جات کے انبار لگا دینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے ۔۔۔ اب ہم اُن کی جدائی پر بہت غمزدہ اور فکر مند ہیں۔"
عربی زبان و علوم سے وابستگی
جب یہ نکتہ سمجھ آیا کہ رزق کا مالک اللہ ہے اور اس وقت اسلام کی جو بھی خدمت کی جا سکے کی جائے، تو اچھی خاصی تنخواہ اور پرسہولت زندگی کو لات ماری اور حصولِ علم دین کی طرف راغب ہوئے۔ دراصل یہ بچپن کی تربیت تھی جس کا اظہار انہوں نے عملی زندگی میں آ کر اپنے قوی عزم و ارادہ سے کیا۔ چنانچہ علومِ دینیہ کے حصول کے لئے رختِ سفر باندھا۔ 1960ء کے لگ بھگ وہ بنیادی قواعد و گرامر سیکھنے کے لئے پہلے مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مزید استفادہ کے لئے مولانا عبیدالحق ندوی صاحب کے پاس بھی حاضر ہوتے۔ ان کی ابتدائی تعلیم دین کے حصول کے لئے ہم نے مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی کے صاجزادے اور 'مکتبہ سلفیہ' و 'الاعتصام' کے مدیر جناب حافظ احمد شاکر صاحب سے رابطہ کیا تو اُنہوں نے ہماری رہنمائی فرمائی:
"جب سے ہم نے ہوش سنبھالا، ہم نے نوری صاحب کو علم اور علم کی باتوں میں مشغول پایا وہ شروع سے ہی مولانا کے پاس آتے تھے اور عربی زبان سیکھتے۔ حدیث معلوم کرنے کا طریقہ، اسماء الرجال کی بحث، تحقیق و تنقید کا طریقہ معلوم کرنے میں لگے رہتے تھے۔ والد گرامی کے ساتھ شاید مولوی محمد شفیع اور مولوی شمس الدین ناشرانِ کتب کے توسط سے ان کا رابطہ ہوا۔ وہ ہر وقت اچھی سے اچھی کتب کی کھوج میں رہتے اور اُسے خرید کر ہی دم لیتے۔ وہ بہت جلد عربی زبان، تفہیم عبارت اور اسماء الرجال کی بحث و جرح میں پختہ ہو گئے، حدیث نبوی (شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ) کے مطابق وہ مولانا سے ہر مسئلے میں کھل کر بات چیت کرتے اور اپنی تسلی کرتے۔ ان کی تحریر نصوصِ صریحہ پر مشتمل ہوتی تھی۔"
وفاقی شرعی عدالت کی مشاورت اور تقرری
ایک بار وفاقی شرعی عدالت میں گھڑ دوڑ کے خلاف ایک رٹ دائر کی گئی جس کی پیروی حکومت کر رہی تھی۔ ہارس ریس کے حق میں ایک بہت معروف وکیل اے کے بروہی دلائل پیش کر رہے تھے جس کی مخالفت کرنا آسان کام نہ تھا۔ چنانچہ پینل نے ریاض الحسن نوری صاحب کو پیش ہونے کو کہا۔ نوری صاحب تیار ہوئے اور کورٹ میں اپنے دلائل اور حوالہ جات یوں پیش کئے کہ اے کے بروہی بوکھلا اٹھے اور لاجواب نظر آنے لگے۔ اس وقت کے شریعت کورٹ کے چیف جسٹس گل محمد صاحب نوری مرحوم کے علمی، عقلی اور سائنسی دلائل سے بہت متاثر ہوئے۔ فیصلہ پینل کے حق میں ہوا اور ریاض الحسن نوری صاحب کو لائف ٹائم Jurist Consultant مقرر کر لیا گیا اور انہیں باقاعدہ تعریفی خط لکھا گیا۔
٭ پھر سپریم کورٹ میں سود کے خلاف ایک رٹ دائر کی گئی جس کی پیروی جماعتِ اسلامی کا مقرر کیا ہوا ایک پینل کر رہا تھا جس کے سربراہ جناب محمد اسماعیل قریشی صاحب تھے اس میں ریاض الحسن نوری صاحب بطور ماہر شریعت و فقہ موجود تھے۔ اس کی تفصیلات جناب محمد اسمٰعیل قریشی کی زبانی سنیے:
"جب ہم نے سپریم کورٹ میں پیش ہونا تھا، ریاض الحسن نوری صاحب کی طبیعت بہت ناساز تھی مگر اس کے باوجود وہ ہم سے پیچھے نہ رہے اور اپنی قیمتی کتابوں کے ساتھ وہ سپریم کورٹ میں حاضر ہوئے اور اپنے علمی و فنی دلائل سے ہمارے بلکہ اسلامی موقف کو استحکام بخشا جس سے فیصلہ ہمارے حق میں ہوا مگر حکومت کے بعض تاخیری اور لایعنی بہانوں کی بنا پر لاگو نہیں ہو سکا۔ اس کے علاوہ نوری صاحب قانونِ تحفظِ ناموسِ رسالت، عورت کی دیت، بھٹے والوں کا کیس اور حدود آرڈیننس کے علاوہ بھی بہت سارے مقدمات میں عدالت کی معاونت کرتے رہے۔
وہ ایک بہت اچھے انسان اور ملنسار مزاج رکھتے تھے۔ ان کے پاس تفسیر، حدیث، فقہ، فلسفہ، عقائد، الٰہیات اور قرآن و سائنس پر کتب کا نایاب ذخیرہ موجود تھا، اُنہیں کتابوں سے بہت محبت تھی۔ وہ عام طور پر کسی کو کتاب نہیں دیتے تھے مگر جب بھی ہمیں ضرورت پڑی تو ان کی لائبریری ہمارے لئے حاضر ہوتی تھی۔ وہ ہماری شریعت کونسل کے بھی ممبر تھے اور رابطہ عالم اسلامی سے بھی وابستہ رہے۔ ادارہ محدث کی سرپرست 'اسلامک ریسرچ کونسل' میں آپ بطورِ رکن رکین باقاعدگی سے شرکت کرتے، اور اپنی علمی تحقیق سے نوازتے۔ اسی طرح نیپا NIPA میں بھی انہیں لیکچرز کے لئے بلایا جاتا تھا۔ جب بھی کوئی ایشو کھڑا کیا گیا، وہ اُس پر چونکے اور ان کا قلم حرکت میں آیا۔ ان کی نظر ماشاءاللہ قدیم و جدید ہر مسئلہ پر ہوتی تھی۔ انہیں کتابیں جمع کرنے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ جنرل محمد ضیاء الحق کے زمانے میں جب وفاقی شرعی عدالت کا قیام عمل میں آیا تو ہم نے ان کا نام بطورِ جج پیش کیا مگر حکومت کی Good Book میں نہ ہونے کی بنا پر اُنہیں نہ لیا گیا۔"
لاہور ہائی کورٹ کا ایک مسجد کے انہدام پر تاریخی فیصلہ
یہ واقعہ ہم اُس مقدمہ کے فیصل جناب جسٹس (ر) میاں نذیر اختر صاحب کی زبانی پیش کرتے ہیں:
"علامہ ریاض الحسن نوری صاحب ملک کے ایک قابل قدر اور عظیم سکالر تھے، ان کی وفات اُمتِ مسلمہ کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے، اُنہوں نے اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے تبلیغ دین کا فریضہ بطریق احسن انجام دیا۔ علاوہ ازیں انہوں نے بہت سے اہم مقدمات میں فیڈرل شریعت کورٹ اور عدالتِ عالیہ کی رہنمائی فرمائی۔ خصوصا جب میں بطورِ جج لاہور ہائیکورٹ فرائض انجام دے رہا تھا، اس دوران ضلع کچہری لاہور کی مسجد کے انہدام کے خلاف رٹ پٹیشن نمبر 1992/9487 سماعت کے لئے پیش ہوئی۔ اس مقدمہ میں بعض انتہائی اہم اور پیچیدہ نکات درپیش تھے۔ فریقین اور عدالتی وکلا کی عمدہ بحث کے باوجود بعض نکات پر گہری تحقیق اور مزید وضاحت کی ضرورت تھی جس پر میں نے علامہ ریاض الحسن نوری صاحب کو بطور (Amicus Curioa) ۔۔ عدالتی معاون تشریف لانے کی دعوت دی، وہ تشریف لائے اور انہوں نے اپنی علمی استعداد اور فقہی مہارت پر ہمیں حیران کر دیا۔ دن رات سخت محنت کر کے حوالے پیش کرتے۔ مزید وضاحت کے لئے میرے چیمبر میں بھی تشریف لاتے اور نہایت ٹھوس اور مستند دلائل مہیا کرتے۔ جن سے مجھے رفتہ رفتہ ان تمام فقہی اور قانونی نکات میں شرحِ صدر نصیب ہو گیا تو اللہ کے فضل و کرم سے اور علامہ نوری صاحب کی محنت شاقہ سے میں ایک صحیح اور راجح فیصلہ کرنے کے قابل ہوا اور میں نے اپنے فیصلے میں بھی اُن کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا کہ
"میری جانب سے علامہ ریاض الحسن نوری صاحب خصوصی شکریہ کے مستحق ہیں جنہوں نے اپنی ذاتی لائبریری سے عدالت کو بڑی تعداد میں نادر کتب مہیا کیں اور جن کی عالمانہ معاونت کا مقدمہ کو حل کرنے میں بہت بڑا حصہ ہے۔"
وہ اس فیصلہ سے بہت خوش ہوئے اور کہا کہ "اس فیصلے سے پوری دنیا میں مساجد گرانے کی مذموم سازش دم توڑ جائے گی اور اللہ کے گھروں کو تحفظ ملے گا۔"
وہ ایک وسیع المشرب فقیہ تھے اور کسی مخصوص مسلک کے تنگ ناکے میں بند نہ تھے، ان کی کوشش ہوتی تھی کہ ان کا ہر عمل قرآن و حدیث نبوی کے مطابق ہو۔"
یہ تاریخی فیصلہ واقعتا نوری صاحب کے علم و فضل کا مرہونِ منت ہے۔
مجلس التحقیق الاسلامی کے ساتھ ان کا ساتھ
مجلس التحقیق الاسلامی کے ساتھ ان کا رشتہ بہت پرانا اور مضبوط تھا۔ خاص طور پر ناظم اعلیٰ مجلس التحقیق الاسلامی حضرۃ الاستاذ حافظ عبدالرحمٰن مدنی صاحب تو ان کے رفقاءِ خاص میں شامل تھے۔ وہ گاہے بگاہے 'محدث' کے لئے اہم اور ضروری موضوعات پر مضمون لکھتے اور مجلس التحقیق الاسلامی کے اہم اجلاسوں میں برابر شرکت بھی فرماتے۔ کچھ عرصہ وہ مجلس کے سیکرٹری کے طور بھی کام کرتے رہے۔
جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے ابتدا جب چاروں صوبوں کے ہائی کورٹس میں شریعت بنچ قائم کیے تو لاہور ہائی کورٹ میں سپریم کورٹ کے جسٹس (ر) بدیع الزمان کیکاؤس مرحوم نے 'اسلام کے سیاسی نظام' کے بعض اہل پہلو نافذ کرانے کے لئے ایک مقدمہ دائر کر دیا جس میں پاکستان بھر کے 53 ممتاز سکالرز ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔ اس وقت حافظ عبدالرحمٰن مدنی شریعت بنچ کے خصوصی معاون تھے۔ اس کیس کی سماعت کے موقع پر ثانوی مراجع اور ترجمہ شدہ کتابوں نے جو ابتری مچائی، اس نے 'انسائیکلوپیڈیا آف اسلامک جج منٹس' تیار کرنے کا ابتدائی خیال مجلس التحقیق الاسلامی کے ذمہ داران کے ذہنوں میں اُجاگر کیا۔ چنانچہ مدنی صاحب کی تجویز پر سب سے پہلے جن دو حضرات نے مشترکہ طور پر اس کام کو شروع کیا وہ جناب ایس ایم ظفر اور جناب ریاض الحسن نوری تھے۔ اگرچہ کچھ عرصہ کے بعد تسلسل قائم نہ رہ سکا تاہم دوبارہ 1995ء میں مجلس التحقیق الاسلامی نے چودہ سو سالہ اسلامی ورثہ پر مشتمل عدالتی فیصلہ جات کا انسائیکلوپیڈیا مرتب کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا اور مواد اکٹھا کرنے والی کمیٹی کی سربراہی اور ضروری مواد اکٹھا کرنے کے لیے جس موزوں اور قابل شخصیت کا حسن انتخاب کیا گیا وہ جناب ریاض الحسن نوری صاحب تھے۔ ان کے ساتھ دیگر حضرات کے علاوہ راقم الحروف اور مولانا محمد اصغر صاحب (لائبریرین مجلس التحقیق الاسلامی) کو بطورِ معاون خاص مقرر کیا گیا۔ شروع شروع میں وہ لکشمی چوک سے روزانہ ماڈل ٹاؤن (دفتر مجلس و محدث) تشریف لاتے اور اپنی ذاتی لائبریری سے کتابیں بھی ساتھ لاتے۔ پھر کمزور طبیعت کی بنا پر روزانہ کا آنا جانا دشوار ہوا تو ناظم اعلیٰ صاحب کی فرمائش پر اُنہوں نے عارضی طور پر مجلس کی تیسری منزل کے فلیٹ میں رہائش اختیار کر لی۔ ماہ قیام کے بعد پھر اپنی قدیم رہائش گاہ کی یاد انہیں ستانے لگی۔ چنانچہ وہ واپس اپنے گھر ہی تشریف لے گئے جب کہ ایک عرصہ معاونِ خاص کی حیثیت سے ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوتے اور وہاں کام کرتے رہے۔
ان کی خصوصی مہارت مواد جمع کرنے کی تھی لہذا وہ اس منصوبہ میں اسی حیثیت سے شریک رہے جب کہ ترتیب و تدوین کے میدان میں وہ زیادہ شرکت نہ کرتے تھے تاہم شعبہ ترتیب و تدوین میں بھی مواد پر نظرثانی کی ضرورت پیش آتی تھی۔ لہذا کونسل کے ریسرچ سکالر شیخ محمد آصف اریب کو کئی سال ان کے پاس باقاعدہ بھیجا جاتا رہا جو ان کی رہنمائی میں نہ صرف نظرثانی کا کام کرتے بلکہ نوری صاحب کی لائبریری کی ترتیب میں بھی ان کا ہاتھ بٹاتے۔
محترم نوری صاحب کا تعلق حافظ عبدالرحمٰن مدنی سے بہت پرانا تھا۔ مختلف دینی و ملکی موضوعات پر آئے روز صبح سویرے فون پر مدنی صاحب سے طویل تبادلہ خیال ان کا معمول تھا۔ ٹیلی فون پر اتنی لمبی گفتگو کرتے ہوئے وہ کسی خرچ کی پرواہ نہ کرتے تھے۔ ان کی عادت اہم ملکی و قانونی مسائل پر ان کی دلچسپی مظہر تھا۔
دسمبر 1970ء میں محدث کی پہلی اشاعت کے ساتھ ہی آپ کا قلمی تعاون جاری و ساری ہو گیا جو تادمِ آخریں قائم رہا۔ محدث کے 35 سالہ عرصہ میں آپ کے بیسیوں قیمتی مضامین و مقالات اس کی زینت بنتے رہے۔ محدث کی ہر ماہ اشاعت کے موقع پر بطورِ خاص مدیر محدث سے رابطہ کر کے تازہ شمارہ پر تبصرہ اور مفید مشوروں کا اظہار کرنا بھی ضروری سمجھتے۔
سائنس سے خصوصی دلچسپی کی بنا پر ادارہ محدث میں قائم 'اسلامک سافٹ وئیرز لائبریری' سے آپ کو بطورِ خاص دلچسپی تھی۔ چنانچہ گاہے بگاہے اس سے استفادہ کرنے اور اس کے ذریعے تحقیق کے مختلف امکانات کا جائزہ لینے کے لئے آپ تشریف لاتے رہتے۔ اسلامک کمپیوٹنگ کے حوالے سے آپ اس قدر مشتاق تھے کہ اس موضوع پر لاہور میں کوئی بھی پروگرام ہوتا، آپ اس میں شرکت کرتے۔ مدیر محدث (حافظ حسن مدنی) سے آپ کا اس بارے میں اکثر رابطہ رہتا۔ اس دلچسپی کی بنیادی وجہ غالبا یہی تھی کہ کمپیوٹر سی ڈیز میں مراجع بڑی آسانی سے مل جاتے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ نوری صاحب مراجع و مصادر کے ہی آدمی تھے۔
ذوقِ تدریس و طریقہ تدریس
جب میں جامعہ لاہور الاسلامیہ کے فائنل اور پری فائنل ائیر کا طالب علم تھا تو جامعہ کے ادارہ تعلیم نے 'قرآن اور سائنس' کے موضوع پر جمرات کو بخاری و مسلم کے پیریڈز کی جگہ ریاض الحسن نوری صاحب کے ہفتہ وار لیکچرز کا اہتمام کیا۔ یقینا یہ اقدام باقی تمام مدارس اور جامعات کے لئے عمدہ نمونہ بھی تھا کہ دینی مدرسہ سے فارغ ہونے والا عالم دین صرف علومِ شرعیہ اور عربیہ کا ماہر نہ ہو بلکہ دورِ حاضر کے جدید مسائل خصوصا سائنسی نظریات اور قرآنی کمالات کو بخوبی سمجھتا ہو۔ چنانچہ اس بات کا ہم نے مشاہدہ کیا کہ انہیں بھی ہر اچھے استاد کی طرح یہ تڑپ ہوتی تھی کہ میرا تمام علم میرے طلبہ میں منتقل ہو جائے۔ ہم دیکھتے تھے کہ وہ اپنے لیکچرز کی بھرپور تیاری کر کے آتے اور باقاعدہ انگریزی رسائل 'نیوز ویک'، ہفت روزہ 'ٹائم' اور خصوصا برٹنڈرسل و دیگر مغربی مفکرین کے حوالے ڈھونڈ کر لاتے اور ہماری دلچسپی بڑھانے کے لئے اور تدریس کا حق ادا کرنے کے لئے سلائیڈ پروجیکٹر اور اوور ہیڈ پروجیکٹر کا استعمال بھی کرتے، جس سے طلبہ بہت غور اور انہماک سے ان سے فائدہ اٹھاتے۔
ان کے طریقہ تدریس کی تعریف کچھ ایسے لوگوں نے بھی کی تھی جو غالبا 1995ء میں سوویت یونین کی آزاد کردہ اسلامی ریاستوں سے ٹریننگ کے لئے پاکستان آئے تھے۔ ان ریاستوں میں عدلیہ سے وابستہ ان افراد نے جامعہ لاہور الاسلامیہ اور مجلس التحقیق الاسلامی کے کئی پروگراموں میں شرکت کی۔ یہ وفد 'سنٹرل جیل ٹریننگ سٹاف انسٹیٹیوٹ' کے دورے پر تھا کہ پرنسپل جناب ڈاکٹر عبدالمجید اولکھ صاحب نے ریاض الحسن نوری کو 'اسلامی سزاؤں کے نظام' پر خصوصی لیکچر دینے کے لئے دعوت دی۔ نوری صاحب نے بھرپور انداز میں اسلامی سزاؤں کا فلسفہ اور طریقہ کار پر روشنی ڈالی جس سے وہ لوگ بہت مستفید اور محظوظ ہوئے۔
تصنیف و تالیف
کون سا ایسا مسئلہ ہوتا تھا جو سامنے آیا نہیں اور اس کے متعلق نوری صاحب کا قلم حرکت میں نہ آگیا ہو، آپ نے مختلف اہم اور نازک موضوعات پر قلم اُٹھایا اور اپنی مستند اور مدلل تحریر سے بہت جلد اہل علم میں نمایاں مقام بنانے میں کامیاب ہو گئے۔
شروع شروع میں تو انہوں نے دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری کے سہ ماہی 'منہاج' کے لئے لکھا مگر یہ دائرہ محدود نہ رہا بلکہ ملک کے دیگر اہم اور تحقیقی جرائد و رسائل تک پھیلتا چلا گیا۔ آپ 'منہاج' کی مجلس ادارت کے بھی کئی سال رکن رہے۔ ساتھ ساتھ روزانہ اخبارات کے لئے بھی مفید مضامین لکھتے اور ان کے مذاکروں میں بھی شریک ہوتے۔
اس امر کا تذکرہ مناسب ہو گا کہ جناب نوری صاحب اپنی غیر معمولی دینی تڑپ کے باعث ہر موضوع کے بارے میں غور و فکر کرتے رہتے اور جب ان کی آرا کی اشاعت کا کوئی بہانہ ملتا تو اس سے ضرور فائدہ اٹھاتے۔ ایسا کم ہی ہوا کہ انہیں کسی نے لکھنے کو کہا اور انہوں نے اس کو بیسیوں بلکہ سینکڑوں صفحات پر مشتمل تحریر نہ دی ہو۔ نوری صاحب بنیادی طور پر مراجع و مصادر کے آدمی تھے اگرچہ نکتہ رسی بھی خوب کرتے لیکن جہاں تک مواد کو بہتر ترتیب دینے یا استدلال کی کڑیاں ملانے کی بات ہے تو یہ کام زیادہ تر اشاعتی اداروں کو کرنا پڑتا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے بیسیوں مقالات زیورِ طبع سے آراستہ نہیں ہو سکے اور آج تک مختلف اداروں میں اشاعت کے انتظار میں ہیں۔
جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ حوالہ جات کو جمع کرنے اور دلائل کی نکتہ رسی میں آپ کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ اسی بنا پر اکثر بڑے محققین آپ کے پاس آتے رہتے اور آپ سے ایسا مواد لے کر ان کو خود ترتیب دیا کرتے۔ روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والے آپ کے مضامین کی زیادہ تر نوعیت ایسی ہے جو درحقیقت سینکڑوں صفحات کا اقتباسات پر مشتمل ہوتے۔
حافظ صلاح الدین یوسف صاحب ان کی وفات پر اپنے تاثرات میں لکھتے ہیں:
"نوری صاحب نے دینی محبت میں عربی زبان سیکھی، دین کا انہیں بہت شوق تھا۔ عربی کتب کا مطالعہ کر کے مفہوم سمجھ جاتے، اہل مغرب کے دین پر اعتراضات پر انہیں بہت غصہ آتا۔ مجتہد (محنتی) قسم کے آدمی تھے۔ تصنیفی سلیقے کی کمی تھی، مواد کو محنت کے مطابق مرتب نہیں کر سکتے تھے۔ انگریزی لٹریچر پر ان کی خاصی گہری نظر تھی۔ عربی کی اُمہات الکتب تو ساری ان کے پاس موجود تھیں جو انہوں نے بڑے شوق اور محنت سے جمع کیں۔ آپ بڑی مستحکم قوتِ ایمانی کے مالک تھے۔" (مجلہ الدعوۃ: اپریل 2004ء ص 37)
ان کے اہم مقالات میں سے ایک وہ مقالہ Miracles of Quran (قرآنی معجزات) ہے جو 'رابطہ عالم اسلامی' کے منظور کردہ مقالات میں سے واحد مقالہ تھا جو پاکستان سے منتخب ہوا تھا، اس کے علاوہ یحییٰ بن آدم القرشی کی مشہور تصنیف 'کتاب الخراج' پر عربی زبان میں مفید حاشیہ لکھا۔ 'کتاب الخراج' کے یہ حواشی مجلس التحقیق الاسلامی کے ریسرچ سکالر کی حیثیت سے لکھے گئے اور حرمین شریفین کے نگران ادارہ کی طرف سے علمی حلقوں میں اس کتاب کو تقسیم کیا گیا۔
عقیقہ کے موضوع پر ایک کتابچہ انگریزی زبان میں چھپ چکا ہے۔ 1995ء میں مکتبہ دارالسلام، لاہور، ریاض نے تفسیر ابن کثیر کا انگریزی ترجمہ کروانے کا سوچا تو سب سے پہلے نوری صاحب سے رابطہ کیا گیا۔ جس پر معاہدہ طے پا کر تقریبا تین پارے ہوئے تھے کہ دارالسلام نے یہ معاہدہ ختم کر دیا مگر نوری صاحب نے اسی کام کو اپنے طور پر سائنسی تحقیقات کے اضافہ کے ساتھ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اگرچہ خرابی صحت کی بنا پر وہ بھی پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔ زندگی کے آخری دنوں میں سخت بیماری کے باوجود پوری دنیا کے دینی رہنماؤں کے نام ایک کھلا خط بعنوان: "Open Letter to all the members of the great religion & scientists of the world" لکھا جو ان کے ایک دوست کی خصوصی کاوش سے چھپوایا گیا اور تقسیم بھی ہوا۔
علاوہ ازیں ان کے ان گنت علمی مقالات و مضامین کی ایک لمبی فہرست ہے جو مختلف اوقات میں معروف جرائد و رسائل اور اخبارات میں شائع ہو کر چودہویں، پندرہویں صدی میں قرآن و سنت کی حقانیت پر مہر تصدیق ثبت کرتے رہے۔ ان مقالات کی فہرست ادارہ محدث کے شعبہ رسائل و جرائد کے تحت تیار کر کے اسی شمارے میں شائع کی جا رہی ہے۔
آپ کے وسعتِ مطالعہ کے حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ کا تذکرہ بھی یہاں مناسب ہو گا۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد جاوید احمد غامدی صاحب نے 29 جے ماڈل ٹاؤن، لاہور میں 'دائرۃ الفکر' کے نام سے اپنے کام کا آغاز کیا تو نوری صاحب کو بھی اپنی 'تحریکِ اسلامی' میں شمولیت کی دعوت دی۔ ان دنوں غامدی صاحب کی یہ عادت تھی کہ وہ اپنے وسعتِ مطالعہ کا غیر ضروری تذکرہ کیا کرتے اور اپنے علمی کارناموں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے۔ نوری صاحب ان کی باتیں سنتے تو احساس ہوتا کہ وہ مبالغہ آمیز ہیں۔
چنانچہ حقیقت شناسی کے لیے نوری صاحب گاہے بگاہے بسا اوقات بعض فرضی کتب کے حوالہ سے بھی نئی نئی معلومات کا غامدی صاحب سے تذکرہ کرتے تو غامدی صاحب داد دیتے ہوئے کہتے کہ میں نے بھی ان کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔ نوری صاحب تو جانتے تھے کہ یہ کتب فرضی ہیں، اس کے باوجود ان کے مطالعہ کا اقرار ان کے لئے غامدی صاحب کے مطالعہ کی حقیقت کھولنے کے لئے کافی تھا۔ غامدی صاحب کی شخصیت کا یہ پہلو کھلنے پر نوری صاحب ان سے پیچھے ہٹ گئے اور تحریکِ اسلامی سے اُنہوں نے اپنی راہیں جدا کر لیں۔ اس واقعے کا ذکر وہ اپنی مجلسوں میں کیا کرتے اور راقم الحروف نے خود یہ واقعہ ان سے سنا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی سچی خدمت کی توفیق عطا فرمائے اور ریاکاری سے محفوظ رکھے۔
قانون سازی کے متعلق اُن کا نقطہ نظر
آپ قرآن و حدیث کو اسلامی دستور قرار دیتے اور مروجہ ملکی دستور کو ذیلی حیثیت دیا کرتے تھے بلکہ وہ بنیادی طور پر وہ تفصیلی قانونی دفعات کے انداز کو پسند نہ کرتے کہ اصل قانون تو وہ ہے جو کتاب و سنت کی الہامی تعبیر کی صورت موجود ہے۔ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت کے لئے ہر قسم کا قانون مرتب کر رکھا ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ قرآن و حدیث سے بہتر کامل و اکمل شریعت کی تعبیر ممکن نہیں۔ ہمارے قانونی الفاظ ہمیشہ انسانی حقوق و فرائض کے بارے میں کوتاہی کا شکار رہتے ہیں بھلا کوئی پارلیمنٹ ہو یا حکومت اللہ تعالیٰ کی کلام سے بہتر لا سکتی ہے۔ ہمارا کام تو صرف شریعت کو سمجھنا ہی ہے!!
قائداعظم محمد علی جناح کے حوالہ سے وہ وضاحت پیش کیا کرتے کہ انہوں نے قیام پاکستان کے وقت ہی اس بات کا اعلان کر دیا تھا کہ ہمارے پاس اللہ کا مقرر کیا ہوا آئین موجود ہے لہذا کسی پارلیمنٹ یا اسمبلی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کوئی قانون بنانے کی جراءت کرے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ اس قانون کو لاگو کیا جائے یعنی اس پر عمل کیا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو اس قانون شرعی کے تحت ہی سزائیں دی جائیں۔
جراءتِ اظہار
استاذ محترم جناب ریاض الحسن نوری کھلی کتاب تھے وہ قرآن و سنت کے مطابق اپنا راجح موقف ہر جگہ خوب ڈٹ کر بیان کرتے تھے، خواہ تقریر کا میدان ہو یا تحریری۔ ایک مرتبہ جنگ فورم میں پردے کے موضوع پر ان کا آمنا سامنا عاصمہ جہانگیر سے ہوا تو انہوں نے بھرپور انداز میں بے حجابی کی خرابیاں اور پردے کے فوائد، ثمرات اور فلسفے پر علمی اور سائنسی انداز میں روشنی ڈالی جب کہ عاصمہ جہانگیر جیسی بے باک عورت کا دباؤ اور کسی قسم کی جھجھک محسوس نہ کی۔
اسی طرح وہ 'مجلس تحریک کارکنانِ پاکستان' کے زیر اہتمام 'الحمرا ہال' کی ایک کانفرنس میں شریک تھے جس میں مختلف زعما اور سیاستدان اظہارِ خیال کر رہے تھے جن میں سے سندھ کی ایک پارٹی کا ایک نمائندہ رسول بخش پلیجو جب تقریر کرنے مائیک پر پہنچا تو اس نے قائداعظم کے حوالے سے کہا کہ وہ اس ملک کو 'سیکولر سٹیٹ' بنانا چاہتے تھے، جس پر نوری صاحب نے رہا نہ گیا، اُٹھ کھڑے ہوئے اور ببانگِ دُہل اس کی تردید کی اور کہا:
"تم جھوٹ بول رہے ہو۔ میرے پاس قائداعظم کا حلف نامہ موجود ہے جس میں قرآن کی آیات پر حلف لیا گیا ہے اور ان کے ایسے فرامین بھی موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس ملک کو سیکولر نہیں بلکہ ایک اسلامی فلاحی مملکت بنانا چاہتے تھے وگرنہ 'دو قومی نظریہ' کا کوئی جواز نہیں رہتا۔"
عاجزی و اِنکساری
میں اپنے مشاہدے کی روشنی میں کہتا ہوں کہ اتنا بڑا عالم اور اتنا منکسر مزاج میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ بہت سادہ طبیعت، سادہ لباس، وضع داری، مہمان نوازی، خوش اخلاقی، خلوص اور اعلیٰ ظرفی اس انسان کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ ان کے بارے میں جناب حافظ سعد اللہ سینئر ریسرچ آفیسر دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری و ایڈیٹر سہ ماہی منہاج، لاہور کی زبانی سنیے:
"ان کو نام و نمود کا بالکل اشتیاق نہ تھا، ان کے اخلاص کا قطعا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لالچ ان کے قریب بھی نہ پھٹکتا تھا۔ 'منہاج' کمیٹی کے ممبر ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی اعزازیہ وغیرہ طلب نہیں کیا تھا۔ وہ ہر مضمون بہت محنت اور لگن سے لکھتے تھے اور اس مضمون کا چاروں طرف سے احاطہ کرنے کی جستجو میں لگے رہتے تھے۔"
نہایت سادہ خوراک، سادہ لباس اور عام سا طرزِ زندگی اپنا رکھا تھا۔ اس جدت پسندی کے دور میں بھی کپڑے بغیر استری کے پہن لیتے، کسی پر خواہ مخواہ بوجھ نہیں بنتے تھے۔ فارغ وقت میں قرآن کی تلاوت سنتے۔
قوتِ یادداشت
جہاں اللہ تعالیٰ نے نوری صاحب کو دیگر بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا وہاں قوتِ یادداشت بھی بلا کی عطا کر رکھی تھی اور اس حقیقت کا انکشاف مجھے اس وقت ہوا جب عربی فاضل کے امتحان میں مجھے 'عثمان ابن جنی' کے عنوان پر مقالہ لکھنا پڑا اور میں نے اس سلسلے میں نوری صاحب سے دریافت کیا تو انہوں نے فورا چند کتب کے نام بمعہ مصنفین اور ان کے متعلق بنیادی معلومات زبانی فراہم کر دیں حالانکہ عثمان ابن جنی کے نام سے بھی اکثر علما واقف نہیں اسی طرح ان کی قوتِ یادداشت کی تعریف معروف وکیل ظفر علی راجا صاحب ان الفاظ میں کرتے ہیں:
"کسی مسئلے کے متعلق علما کا موقف تلاش کرنا اور حوالے یاد رکھنا دورِ حاضر میں نوری صاحب پر ختم تھا جب بھی ہمیں کوئی مسئلہ درپیش ہوا اور ہم نے اس کے متعلق ائمہ کرام کا موقف دیکھنا چاہا تو نوری صاحب سے رابطہ کیا تو وہ بہت سی کتابوں کے نام، مصنفوں کے نام، صفحات نمبر اور مختلف ائمہ و فقہا کے موقف (کہ کون جواز دیتا ہے، کون مکروہ سمجھتا ہے اور کون تحریم کا قائل ہے) زبانی فراہم کر دیتے اور جب ہم وہ حوالے کتب سے دیکھتے تو بالکل یہی کچھ ہوتا جس پر ہم ان کی قوتِ یادداشت پر بہت حیران ہوتے۔"
ایک خواہش: جس کی ہمیشہ تڑپ رہی!
نوری صاحب کی ہمیشہ سے یہ خواہش اور دعا رہی جو انہوں نے اپنی وفات سے چند دن پہلے اپنے ایک تحقیقی مضمون کے ذریعے ہفت روزہ 'الاعتصام' کو بھیجی۔ ہم اُنہی کے الفاظ میں آپ تک پہنچانے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں:
"افسوس اس بات کا ہے کہ جو تحقیقات موجودہ زمانے میں ہو رہی ہیں، ان میں مسلمانوں کا کوئی قابل ذکر حصہ نہیں ہے۔ اور تو چھوڑئیے، حال ہی میں بحیرہ مردار سے برآمد شدہ طوماروں اور پندوں Dead Sea Scrolls تک سے مسلمانوں نے کوئی دلچسپی نہیں لی، حالانجہ تاریخی و مذہبی ریکارڈ کے اس دفینہ کی برآمدگی ان کے گھر کا معاملہ تھا۔ تحقیقاتی سرگرمیوں سے مسلمانوں کی یہ بے تعلقی غیر مسلم محققین کو موقع دیتی ہے کہ وہ اپنے لادینی یا مذہبی نقطہ نظر یا سیاسی اور سامراجی مفاد کے مطابق جس طرح چاہیں کسی دریافت شدہ چیز کی توجیہ کریں اور جن نامطلوب اجزا کو چاہیں، بالکل نظرانداز کر جائیں۔ ذرا سوچئے کہ اب جب کہ غیر مسلم بلکہ بسا اوقات اسلام دشمن اور مذہب دشمن محققین کے اخذ کردہ نتائج بھی قرآن کی صداقت کو واضح کرنے میں معاون ہوتے ہیں، اگر خود مسلمان آگے بڑھ کر سائنسی اور تاریخی تحقیق کے میدانوں میں اُتریں تو وہ زیادہ صحیح علمی نقطہ نظر اور جذبہ ایمانی سے کام لے کر مطالعات و مشاہدات کو 'قرآنی حقائق' کے تابع ثابت کر سکتے ہیں۔ وہ اگر خود براہِ راست ابھی کسی وسیع تحقیقی مہم کا آغاز نہیں کر سکتے تو کم از کم دوسروں کے فراہم کردہ مواد اور معلومات کا جائزہ تو لیں، دوسروں سے مل کر کام کرتے ہوئے اپنا نقطہ نظر استعمال کریں اور ان کی غلطیوں پر فرگت کریں۔
لیکن مشکل یہ بھی تو ہے کہ جہاں موجودہ زمانے کے عام مسلمان، سائنس کو دوسروں کی جاگیر سمجھے ہوئے ہیں، وہاں مسلمان سائنس دانوں کو ذہنی غلامی کا روگ لگا ہوا ہے۔ اور وہ ہر مفروضے، نظریے اور قانون پر بے چون و چرا ایمان لے آتے ہیں جو غیر مسلم دماغوں نے مرتب کر کے ان کے سامنے رکھ دیا ہو۔ بلکہ بسا اوقات وہ ان باطل فلسفوں کے بھی پرجوش وکیل بن جاتے ہیں جو مغرب کی ملحدانہ ذہنیت نے قیام سے کام لے کر سائنس کی تحقیقات کی اساس پر کھڑے کئے ہیں، اور پھر ان کے حق میں اونچی علمی سطح پر نہایت زبردست پروپیگنڈا کیا ہے۔
یہ کیفیت قرونِ اولیٰ اور قرونِ وسطیٰ کے سائنس دانوں میں بہت ہی کم دیکھی جاتی ہے۔ اس کے لئے ایک سادہ سی مثال سامنے آتی ہے جو ان کی ذہنی آزادی کی دلیل ہے۔ جب عربوں نے جالینوس کے یونانی طریق علاج کو اپنایا تو انہوں نے دواؤں کے یونانی سسٹم سے ٹنکچروں کو بالکل خارج کر دیا۔ جڑی بوٹیوں سے ٹنکچروں کی بجائے انہوں نے معجونیں، چٹنیاں، مربے اور شربت وغیرہ تیار کر کے نئی راہیں نکالیں۔ ان میں سے بعض چیزیں زمانہ حال کے جدید ایلوپیتھک فارما کو پیا اور کوڈیکٹس میں موجود ہیں۔ لیکن بیسویں صدی کے مسلمانوں نے مغربی طب کو اپنایا تو ان میں کوئی ادنیٰ ترمیم کرنے کی جراءت موجود نہ تھی۔ انہوں نے عیسائیوں کی طرح متروک ٹنکچروں کو چپ چاپ قبول کر لیا۔ ہمارے ڈاکٹر اور دوا ساز ابھی تک الکوحل تک ترک کرنے کا اقدام نہیں کر سکے، حالانکہ الکوحل کے مقاصد پورے کرنے کے لئے مسلمان اطبا قرنوں پہلے دوسری مؤثر تدبیریں پیش کر چکے ہیں۔" (الاعتصام: جنوری، فروری 2004ء)
وفات
آخری سالوں میں آپ مختلف عوارض کا شکار رہے۔ بعض دن تو ان پر بہت کڑے گزرے۔ ایک سال سے ان کی صحت قدرے سنبھل چکی تھی، لیکن کمزوری ہنوز باقی تھی۔ انہی دنوں جماعۃ الدعوۃ نے علامہ اقبال ٹاؤن لاہور کی ایک کوٹھی میں منتقل ہونے کی پیش کش کی۔ جسے انہوں نے قبول کر لیا اور اپنی لائبریری سمیت وہاں چلے آئے۔ آخری سال ان کی لائبریری سے زیادہ تر استفادہ مجلہ الدعوۃ سے متعلقہ حضرات کرتے رہے۔ ان کی وفات کے بعد یہی لائبریری جو ان کی متاعِ حیات تھی، مسجد قادسیہ، چوبرجی لاہور میں منتقل کر دی گئی۔
جن دِنوں نوری صاحب علامہ اقبال ٹاؤن میں رہائش پذیر تھے تو اکثر اوقات میں اُن کی خدمت میں حاضر ہوتا رہتا اور اُن کے کچھ ضروری کام بھی سرانجام دیتا، مگر ایک بار جب نظر اُن کے کمرے کے دروازے پر پڑی تو اچانک دل جیسے پھٹ سا گیا، قدم وہیں منجمد سے ہو گئے اور کچھ پوچھ پانے کی بھی سکت نہ رہی گویا زبان نے لبوں کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ کیا دیکھتا ہوں، دروازے پر بڑے مارکر سے اپنی لکھائی میں جلی حروف میں کچھ قرآنی دعائیں: (إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّـهِ ۔۔۔۔) وغیرہ لکھ کر لگا رکھی ہیں!
آخر کیوں ۔۔۔ اتنا بڑا سکالر، اتنی اہم ہستی، کئی مقتدر شخصیتوں اور گھرانوں کا اُستاد، جس کے قیمتی حوالے سینکڑوں پی ایچ ڈی کرنے والوں کو سند دلوا چکے، جس کے قیمتی مواد سے بھرے ہوئے مضامین بے شمار رسائل و جرائد اور اخبارات کی زینت بن چکے اور جس نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ یہ بات ثابت کرنے میں کھپا دیا کہ "سائنس جو کچھ آج بتا رہی ہے اور جو کچھ ابھی وہ بتائے گی، قرآن نے وہ سب کچھ آج سے چودہ سو سال پہلے بتا دیا تھا۔"
مگر آج وہ جس کسمپرسی کی حالت میں پڑا کراہ رہا ہے اور درودیوار کو گواہ بنا رہا ہے وہ صرف قابل رحم ہی نہیں بلکہ ہر علم دوست کے لئے باعثِ ندامت بھی ہے کہ آج وہ بےبسی کے عالم میں زندگی کی آخری گھڑی کا انتظار کر رہا ہے، کیونکہ کچھ مفاد پرست لوگ (صرف اس انتظار میں تھے کہ کب فوت ہوں اور ان کی دس ہزار کتابوں پر قبضہ کر لیا جائے؟) ۔۔ خیر وہ وقت بھی آ گیا ۔۔ وفات سے تقریبا ایک ہفتہ قبل انہوں نے اپنے بھائی (عین الحسن صاحب) کو اپنی ناسازی طبع (پیٹ کی تکلیف) کی خبر دی تو وہ اُنہیں شیخ زید ہسپتال لے گئے مگر وہاں بھی ڈاکٹروں اور متعلقہ عملے نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا، وہ ناقابل بیان ہے۔ آخر وہاں سے اُنہیں واپس گھر لے جایا گیا کہ اس ہسپتال سے تو گھر اچھا تھا مگر صحت بدستور بگڑتی گئی اور آخرکار انہیں فوجی فاؤنڈیشن ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے آپریشن جیسا انتہائی مرحلہ تجویز کیا۔ بہرحال آپریشن ہوا، خون کی کمی بڑھ گئی، آکسیجن بھی لگانا پڑی اور کمزوری تو پہلے ہی بہت تھی، ڈاکٹر سمیت بھائیوں کی آخری کوشش تک سب کچھ بے سود رہا۔ آخر کار وہ 20 جنوری 2004ء بروز منگل اپنی تمام ذہنی کوفتوں اور جسمانی تکلیفوں اور آزمائشوں سے نجات پاتے ہوئے اللہ رب العالمین کے حضور پیش ہو گئے۔ إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
وائی بلاک ڈیفنس، لاہور کی جامع مسجد میں اُن کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور ڈیفنس کے قبرستان میں ہی اُنہیں سپردِ خاک کیا گیا، یوں قرآن اور سائنسی تحقیقات کا ایک درخشندہ ستارہ ہمیشہ کے لئے ڈوب گیا۔ اللہ تعالیٰ اُن پر اپنی کروڑوں رحمتیں اور نازل فرمائے۔ آمین!
ان کے جنازہ کا ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان کے تعلق داروں اور رابطوں پر مشتمل ڈائری ان دنوں گم تھی، چنانچہ ان کے جنازہ کی ان کے احباب کو اطلاع نہ دی جا سکی۔ ان کے قریبی دوست حافظ عبدالرحمٰن مدنی بھی ان دنوں حج کے سفر پر تھے۔ اگرچہ وفات سے اگلے روز اخبارات میں چھوٹی سی خبر شائع ہونے کے بعد مختلف دینی حلقوں نے ان کی رہائش گاہ پر رابطہ کیا تو ان کی وفات کی تصدیق ہوئی۔ چنانچہ اکثر لوگ وفات کے اگلے روز تعزیت کے لئے پہنچے۔ خدامِ علم و دین حضرات کی یہ کسمپرسی کہ ان کے دینی ورثہ کو سنبھالنے والا تو کجا ان کی وفات پر ان کی مغفرت کی دعا کرنے والا کوئی شخص بھی موجود نہ ہو، کتنا بڑا المیہ ہے۔ جس کی ملک و ملت کو احساس دلانے کی ضرورت ہے۔
ایک عظیم سکالر کی وفات اور میڈیا کی ستم ظریفی
اسلامی میڈیا جو کسی مسلم ملک کی عمارت کا بنیادی ستون ہوتا ہے، جہاں اُس کا مقصد حکومت کی درست پالیسیوں سے عوام کو آگاہ کرنا منفی پروپیگنڈہ کا توڑ کرنے کے علاوہ عوام کے جذبات کو حکومتی ایوانوں تک پہنچانا بھی ہوتا ہے، وہاں اسلام اور مسلمانوں کی غیرت و حمیت کا خیال رکھنا بھی اسی کی ذمہ داری ہے، مگر نوری صاحب کی وفات پر اس اسلامی میڈیا کا کردار 'ناقابل معافی' ہے۔ آئیے نوری صاحب کے داماد اعجاز صاحب سے سنتے ہیں:
"ہمارے ملک میں اگر کوئی کنجر (ٹی وی و فلمی اداکار) مر جائے اور اس کے تن غلیظ سے یہ مقدس مٹی پاک ہو جائے تو ٹی وی ہو یا اخبار، رسالہ ہو یا کوئی میگزین فحاشی و عریانی کو فروغ دینے والے تمام عناصر حرکت میں آ جاتے ہیں۔ کئی کئی ہفتوں تک نہ صرف خبریں چھپتی ہیں بلکہ ان کے کارناموں پر مشتمل رسائل و جرائد مخصوص نمبر روزناموں کے خاص ایڈیشن تک چھپتے جو ان کی شان میں قصیدے پڑھتے اکتاتے نہیں، ان کے فحش اور بے ہودہ کارنامے جب تک زبان زد عام ہو نہیں جاتے الیکٹرک میڈیا خاموش نہیں ہوتا تب بھی وہ سمجھتے ہیں کہ ابھی "حق تو یہ تھا کہ حق ادا نہ ہوا۔" مگر اتنے عظیم سکالر کی وفات پر ہمارا ملکی میڈیا بالکل خاموش رہا۔ ٹی وی والے تو خیر! اس قسم کی خبر کو معیاری ہی نہیں سمجھتے البتہ ایک دو اخبارات نے 'فرضِ کفایہ' ادا کرتے ہوئے 'یک کالمی سرخی' وہ بھی کسی کونے میں لگا رکھی تھی۔
اب چونکہ یہ 'خبر غم' مؤثر طریقے سے پھیل نہ سکی، شاید یہی وجہ تھی کہ بہت کم احباب کے تعزیتی پیغامات اہل خانہ تک پہنچ سکے۔ خصوصا بیرونِ لاہور تو شاید ہی کسی کو پتہ چلا ہو گا، حالانکہ نوری صاحب مرحوم اپنا ایک وسیع حلقہ احباب رکھتے تھے مگر بہت کم لوگوں نے ان کی رحلت پر تعزیتی پیغامات بھیجے تاہم ان کے اہل خانہ ان تمام حضرات کے شکرگزار ہیں جو ان کے اس عظیم سانحہ میں دُکھ درد میں شریک ہوئے، اللہ سب کو صبر جمیل عطا فرمائے اور نوری صاحب کے درجات بلند فرمائے۔"
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے مشفق استاذ جناب ریاض الحسن نوری صاحب رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین!