میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

معاشرے میں بڑھتی بے اطمینانی اور لادینیت کی روک تھام کے لئے علماء کرام سرگرم تو ہیں لیکن مقابل میں اس قدر زیادہ منظم طور پر اور غیر معمولی وسائل کے ساتھ عریانی، اِباحت پسندی اور دین بیزاری کو فروغ دیا جا رہا ہے کہ علما کی کوششیں کامیاب نہیں ہو پا رہیں۔ عالمی سطح پر اسلام کی دعوت کو درپیش مسائل اس پر مستزاد ہیں۔ چنانچہ معاشرے میں دینی کام کی رفتار بڑھانے، باہمی رابطے کو فروغ دینے اور اسلام کے پھیلاؤ کے لئے اپنے اثر و رسوخ کو پھیلانے کی غرض سے علما کو باہمی مشاورت کا اہتمام کرنا اور کبار علما سے رہنمائی لینا چاہیے اسی غرض سے حافظ عبدالرحمٰن مدنی صاحب نے گذشتہ سال سے ملک بھر میں علما کے متعدد کنونشن منعقد کرنے کا اہتمام کیا۔ اس سلسلہ کا پہلا کنونشن فیصل آباد میں مولانا حافظ محمد شریف صاحب کی دعوت پر مرکز التربیۃ الاسلامیہ فیصل آباد میں ہوا، یہ کنونشن مولانا عبداللہ امجد چھتوی کے زیر صدارت 2 اگست 2003ء کو منعقد ہوا جس میں فیصل آباد اور گردونواح کے ممتاز علما نے شرکت کر کے اپنے قیمتی خیالات کا اظہار کیا۔ اسی سلسلے کا پنجاب کی سطح پر دوسرا اجتماع لاہور میں مجلس التحقیق الاسلامی کے مرکزی دفتر میں 10 اگست 2003ء کو منعقد ہوا جس میں بھی انہی موضوعات پر طویل مشاورت کی گئی اور علماء کے اثر و رسوخ کو بڑھانے اور دین حقہ کی دعوت پھیلانے کے لئے تجاویز و آرا پیش کی گئیں۔ اس اجلاس میں بڑے جامعات کے شیوخ الحدیث اور اساتذہ سمیت لاہور اور گوجرانوالہ کے ممتاز علما نے شرکت کی۔ تقریبا ڈیڑھ سو علما کا یہ اجلاس صبح سے تقریبا مغرب تک جاری رہا۔ اس سلسلے کا تیسر اجتماع 14 ستمبر 2003ء کو مرکز دعوۃ التوحید، اسلام آباد کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا، جس میں 60 سے زائد علماء کرام نے شرکت کی۔ اجتماع میں دعوتِ اہلحدیث کو مؤثر بنانے اور موجودہ حالات میں علما کی ذمہ داریوں پر گفتگو کی گئی۔ پہلی نشست کی صدارت ڈاکٹر حافظ عبدالرشید اظہر اور دوسری نشست کی صدارت حافظ عبدالرحمٰن مدنی صاحب نے کی۔ اس اجتماع کی غرض و غایت یہ تھی کہ بین الاقوامی اور ملکی حالات کے تناظر میں کتاب و سنت کی خالص دعوت پیش کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے، ان حالات میں اہلحدیث کو کیا حکمتِ عملی اپنانی چاہیے؟ اس اجتماع کی رپورٹ محدث، اکتوبر 2003ء میں شائع ہوئی۔ اس سلسلے میں حافظ عبدالرحمٰن مدنی نے علما کا چوتھا اجلاس 'حالاتِ حاضرہ اور علما کی ذمہ داریوں' کے نام سے کراچی میں 25 اپریل 2004ء کو طلب کیا۔ جس کی رپورٹ ذیل میں پیش کی جا رہی ہے۔ ادارہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولانا عبدالرحمٰن مدنی ایڈیٹر ماہنامہ 'محدث' اور مدیر جامعہ لاہور الاسلامیہ نے مولانا محمد سلفی مدیر جامعہ ستاریہ اسلامیہ، کراچی کے تعاون سے 25 اپریل 2004ء کو بعد نمازِ ظہر جامعہ ستاریہ کے وسیع ہال میں علما کنونشن کا اہتمام کیا۔ یہ کنونشن کراچی کے جن ممتاز علما اور دانشوروں کی دعوت پر منعقد کیا گیا، وہ یہ ہیں:
مولانا یوسف قصوری، ڈاکٹر نصیر اختر، مولانا خلیل الرحمٰن لکھوی، مولانا یونس صدیقی، قاری خلیل الرحمٰن، جناب ڈاکٹر خورشید احمد، جناب انجینئر جاوید احمد، جناب عارف قاسمانی، جناب عبدالرحمٰن عابد، مولانا محمد سلفی۔ اس کنونشن کا پروگرام تمام داعی حضرات نے 21 مارچ 2004ء کو جناب پروفیسر ڈاکٹر نصیر اختر کے گھر میں طے کیا تھا، جہاں مولانا حافظ عبدالرحمٰن مدنی مہمانِ خصوصی تھے۔
حسبِ پروگرام پورے کراچی سے پچاس کے قریب ان نمائندہ اہل علم حضرات نے شرکت کی جو تدریس، تحقیق اور تبلیغ و دعوت کے میدان میں سرگرمِ عمل ہیں۔ کنونشن کی صدارت اسلامی شریعت کونسل برطانیہ کے معتمد معروف سکالر جناب ڈاکٹر صہیب حسن نے کی۔ ظہرانہ کے فورا بعد قرآن کریم کی تلاوت سے علما کنونشن شروع ہوا جس میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد سلفی نے انجام دیے۔ انہوں نے سب سے پہلے تمام شرکا مجلس کو خوش آمدید کہتے ہوئے کراچی بھر سے تشریف لانے والے علما کرام کا شکریہ ادا کیا کہ اُنہوں نے اس قدر مختصر وقت میں ہماری دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اپنے قیمتی اوقات میں سے فرصت کی چند گھڑیاں نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ دینی کاز کو اپنی ذاتی مصروفیات پر ترجیح دے کر ہی اسلام کو درپیش چیلنجز سے عہدہ برآ ہوا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں انہوں نے کنونشن کی غرض و غایت بیان کرنے کے لیے حافظ عبدالرحمٰن مدنی کو دعوتِ خطاب دی۔ چنانچہ مولانا مدنی نے عالمی صورتِ حال کے تناظر میں علما کو درپیش چیلنجز پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جن کا خلاصہ یہ ہے:
امریکہ نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مسلمانوں کے جذبہ جہاد سے کام لیتے ہوئے روس کی سپر قوت کو افغانستان میں شکست و ہزیمت سے دوچار کیا تھا، جس کے بعد نہ صرف روس افغانستان سے نکلنے پر مجبور ہوا بلکہ اس کے مرکز میں بھی ایسا انتشار واقع ہوا کہ سوویت یونین کے نام سے ایک سپر قوت کا خاتمہ ہو کر اس سے کئی خودمختار حکومتوں نے جنم لیا۔ اس طرح وسطی ایشیا کی متعدد ریاستوں میں صبح آزادی طلوع ہوئی۔
امریکہ نے مسلمانوں کا شکر گزار ہونے کی بجائے واحد سپر قوت بننے کے بعد اُلٹا مسلمانوں کے خلاف ایسی سازش تیار کی کہ پہلے عراق کویت جنگ کرا کے سعودی عرب وغیرہ میں اپنے اڈے جمائے۔ اس طرح پہلے خلیج کچنگ کے بہانے وقفے وقفے سے بارہ سال کے عرصے میں عراق کو خطرناک تباہی سے دوچار کیا جن میں بعد ازاں 11 ستمبر 2001ء کے حادثہ کے بہانے اسلام دشمن سرگرمیوں میں مزید تیزی آ گئی، نتیجتا امریکہ کی سربراہی میں نام نہاد عالمی اتحاد نے اسلام دوستی اور دہشت گردی کو مترادف قرار دے لیا۔ جس کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ انتقام کے جنون میں اس کا غصہ کسی غیر اسلامی مثلا شمالی کوریا، جاپان یا چین وغیرہ پر نکلنے کے بجائے یکے بعد دیگرے افغانستان اور عراق پر نکلا اور اس نے ان اسلامی ریاستوں کو ایسی تباہی و بربادی سے دوچار کیا کہ انہیں نشانِ عبرت بنا دیا۔ اب صورتِ حال یوں ہے کہ کوئی مسلم ملک امریکہ کے خلاف معمولی مزاحمت تو کجا اختلاف سے بھی گھبرانے لگا ہے۔
مولانا مدنی نے اس پس منظر میں واضح فرمایا کہ یہ گذشتہ 25 برس کا وہ خون آشام کھیل ہے جس کا جواز مسلمانوں نے روس کو ہرا کر امریکہ کے لئے پیدا کیا۔ طاقت کے اس توازن کی خرابی کا تمام تر نقصان مسلمانوں کو برداشت کرنا پڑا اور آج اسلامی مملکتوں میں امریکی بربریت اور بہیمیت کے مختلف نشان سرعام موجود ہیں۔ اکثر مسلم ممالک میں امریکی افواج اور خفیہ ایجنسیاں دندناتی پھرتی ہیں اور جس کو جی چاہے حراست میں لے کر امریکی تفتیش اور عقوبت خانوں کی نذر کر دیا جاتا ہے۔
امریکہ نے اپنی غیر معمولی حربی قوت کے بل بوتے پر سیاسی ہٹ دھرمی پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اسی غرض سے وہ عرصہ سے مسلم ممالک پر اقتصادی شکنجے کس رہا تھا۔ اب بھی اقتصادی ناکہ بندی میں IMF اور ورلڈ بنک کے علاوہ اقوامِ متحدہ کی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن امریکی مقاصد کے لئے سرگرمی سے مصروفِ عمل ہیں۔ اسی طرح مسلم ممالک میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کا ایک جال ہے جو ہر ملک کی معیشت کو نہ صرف کنٹرول کرتی، مسلمانوں کے قابل جوہر کو بڑی تنخواہیں دے کر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتیں ہیں بلکہ اس طرح اپنے سیاسی و اقتصادی ایجنڈے کو فروغ دے کر اسلامی معاشروں میں اپنے استعماری مقاصد کا تحفظ کرتی ہیں۔
اپنے سیاسی اور اقتصادی تسلط کو دوام عطا کرنے کے لئے امریکہ نے مسلم معاشروں پر گذشتہ چند سالوں میں تہذیبی سرگرمیوں میں بھی غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے اور اس تہذیبی یلغار میں اس کا تعاون اس کی گماشتہ اسلام دشمن NGO's کے علاوہ ایسے نام نہاد علمی حلقے بھی کر رہے ہیں جو اسلام کے بارے میں معذرت خواہانہ رویے کی صورت مغرب سے مرعوبیت کا شکار ہیں۔ ایسے نام نہاد دانشوروں کی کارکردگی، عوام میں ان کی اثر پذیری کی غرض سے انتشار انگیزی کے طریق کار کے طور طریقوں پر علماءِ حق کے لیے نظر رکھنا اور ان کا مناسب توڑ کرنا ایک اہم چیلنج ہے۔ کیونکہ سیاسی اور اقتصادی استعمار سے پیچھا چھڑانا تو شاید ممکن ہو لیکن ثقافتی اور فکری یلغار سے اگر قوم کے ذہن مسموم ہو جائیں تو ایسی فکری محکومی غیر ملکی قبضہ کو تحفظ اور لامحدود طوالت عطا کرتی ہے۔
مولانا مدنی نے علما کو ایسے ثقافتی تخریبی عناصر کے بارے میں احساس دلاتے ہوئے کہا کہ ماضی میں برصغیر میں یہی کام غلام احمد قادیانی نے کیا، درمیانے ادوار میں یہ مکروہ فریضہ غلام احمد پرویز اور ان کے حواری انجام دیتے رہے اور دورِ حاضر میں اس ناروا فرض کی تکمیل کا بیڑا جناب جاوید احمد غامدی اور ان کے تشکیک زدہ نوخیز تحقیق کاروں نے اُٹھایا ہے۔ اس گروہ نے نہ صرف امریکی جارحیت کو مبنی برحق ثابت کرنے کے لئے قلم و قرطاس کا سہارا لیا ہے بلکہ زبان و بیان سے بھی مسلمانوں کے مسلمہ موقف کو غلط اور ناروا قرار دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ غامدی گروہ نے افغانستان و عراق پر امریکی قبضے کی حمایت کرتے ہوئے اسامہ بن لادن اور ملا عمر کو حالیہ جنگی جارحیت کا مجرم قرار دیا ہے۔ ان کی رائے میں نہ صرف کشمیر و فلسطین کا جہاد دہشت گردی ہے بلکہ ان کے خیال میں سارا بیت المقدس بھی اسی طرح یہودیوں کو دے دینا چاہیے جیسے مسلمانوں کو بیت اللہ پر کنٹرول حاصل ہے۔
مولانا مدنی صاحب نے زور دے کر کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح یہ گروہ بھی نہ صرف موجودہ دور میں جہاد کا مخالف ہے بلکہ قادیانی عقائد کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات اور نزولِ ثانی کے خلاف عقیدہ بھی رکھتا ہے۔ ثقافتی میدان میں بھی ان کے نظریات نہایت مسموم ہیں جن کی رو سے نہ صرف (معاذ اللہ) ناچ گانا انبیاء اور کبار صحابہ کرام کا پسندیدہ عمل رہا ہے بلکہ تصویر و مجسمہ سازی بھی اسلامی نقطہ نظر سے مرغوب شے ہے۔ ان کے نزدیک بسنت اور ویلنٹائن منانے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ غلام احمد پرویز کی طرح ان کے نزدیک ایسے تمام فنونِ لطیفہ اور رسوم و رواج کی مخالفت کی وجہ ثقہ علما کی تنگ نظری اور کم ظرفی ہے جب کہ ان کے ترقی پسند اسلام میں یہ پابندیاں نہیں پائی جاتیں۔
کراچی کے علما کو خبردار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں ان کا مرکز دانش سرا عوام میں اسلام کے بارے شکوک و شبہات کو ہوا دے رہا اور امریکہ و مغرب پرستی کے جراثیم پھیلا رہا ہے۔ مولانا نے علما کو اس اہم فتنے کا نوٹس لینے اور علمی و تحقیقی بنیادوں پر اس کی تشکیکات کا ازالہ کرنے کی دعوت دے کر ضروری قرار دیا کہ ثقافتی میدان میں ان جیسے اباحت زدہ خیالات رکھنے والے منحرف خیال لوگوں کے نظریات سے علمی حلقوں کو آگاہ کر کے خالص اسلام کا دفاع کرنا چاہیے۔
تاریخ شاہد ہے کہ اہل حدیث علماء کرام ہمیشہ سے دین کے خلاف ہونے والی سرگرمیوں کے توڑ میں بنیادی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ غلام احمد قادیانی ہو یا غلام احمد پرویز، ہر دو کے بارے میں اہل حدیث علما نے جو غیر معمولی کردار ادا کیا، وہ برصغیر کی تاریخ کا درخشاں باب ہے۔ مسٹر جاوید احمد غامدی کے متجددانہ خیالات اور حدیث و سنت پر ان کے ملحدانہ افکار کا توڑ اہل حدیث پر سب سے پہلے عائد ہوتا ہے۔ اُمید ہے کہ آپ اپنی ذمہ داری کو پہچانیں گے اور اسلام و سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دفاع کا فرض ادا کر کے اللہ کے حضور سرخروئی حاصل کریں گے۔
ڈاکٹر صہیب حسن، لندن
مولانا صہیب حسن صدر القرآن سوسائٹی اور خطیب مسجد توحید، لندن جو ان دنوں پاکستان کے دورہ پر تھے۔ وہ خصوصی طور پر اس اجلاس میں مدعو کئے گئے۔ انہوں نے اس اجتماع کو انتہائی خوش آئند قرار دیتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا:
سورۃ النساء میں اطاعت اللہ اور اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اولی الامر کی تبعا اطاعت کا حکم دیا گیا جس سے حکام کے ساتھ ساتھ علما بھی مراد ہیں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں انبیا کے علم کا وارث قرار دیا ہے۔ نہ صرف عام حالات میں بلکہ جب بھی اُمت مسائل و مشکلات کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہو، علما کی ذمہ داری ہے کہ وہ اُمت کی رہنمائی کا فرض سرانجام دیں۔ اس وقت پاکستان جن مسائل سے دوچار ہے، ان سے تغافل نہیں برتا جا سکتا ہے۔ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ ایک مثال کے مطابق ہم سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں اور اگر ان لوگوں کا ہاتھ نہ پکڑا گیا جو اپنی غلط پالیسیوں اور منکرات و فحاشی کی سرپرستی کی شکل میں اس کشتی کو ڈبونا چاہتے ہیں تو کشتی کے سارے سوار خمیازہ بھگت کر رہیں گے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ اس وقت رحمانی قوتیں اور شیطانی قوتیں برسر تصادم ہیں۔ میڈیا کی شکل میں شیطان ننگا ناچ رہا ہے اور رقص و سرود کی محفلوں، بے حیائی اور اختلاط جنسین سے بھرپور ڈراموں اور فحش پروگراموں کی مدد سے خاندانی اقدار، شرم و حیا کے اسلامی تصور اور دین و ایمان کی بیخ کنی کی جا رہی ہے اور اب وہ علماء سوء بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں جو رقص و سرود، بے حجابی اور بے حیائی کو قرآن و حدیث سے سندِ جواز مہیا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ عالمی سطح پر صحیح اسلامی فکر کی جڑیں کھوکھلی کرنے اور اسلام کو ایک لبرل اور سیکولر تعبیر سے روشناس کرانے کے کے لئے یورپ اور امریکا کی فکری طاقتیں (تھن ٹینک) شب و روز ایک کئے ہوئے ہیں۔ میں بطورِ مثال امریکہ کے مشہور تھنک ٹینک رینڈ (RAND) کا تذکرہ کروں گا جس نے 'ڈیمو کریٹک اسلام' کے نام سے مسلمانوں میں اثر و نفوذ پیدا کرنے کے لئے کافی سوچ و بچار اور تحقیق کے بعد بہتر (72) صفحے کی ایک رپورٹ تیار کی ہے جس میں عالم اسلام کے ذہن طبقات کو سات طبقوں میں تقسیم کیا ہے اور کئی کلیدی مسائل جیسے جمہوریت، حجاب، تعددِ ازدواج جیسے موضوعات پر ہر مجموعہ افراد کی رائے دی ہے تاکہ اس امر کا پتہ چل سکے کہ امریکہ کی صلیبی طاقتیں کس گروپ کو آشیرباد دیں، کس سے جزوی تعاون کریں، کسے قیادت عطا کریں اور کسے طاقِ نسیان کی نذر کریں اور کسے اپنا دشمن تصور کرتے ہوئے حریف کا سا معاملہ کریں؟ مسلمان کے ان سات رجحانات کو یہ نام دئیے گئے ہیں:
1۔ انتہا پسند بنیاد پرست 1. Radical Fundamentalist.
2۔ بنیاد پرست 2. Fundamentalist.
3۔ روایت پسند 3. Traditionalist.
4۔ مائل بہ اصلاح روایت پسند 4. Reformist traditionalist.
5۔ تجدد کے قائل 5. Modernist.
6۔ لادین عناصر 6. Secularist.
7۔ انتہا پسند لادین 7. Redical Traditionalist.
اس رپورٹ کے محررین کے نزدیک آخری تین گروہ انہی کا کام کر رہے ہیں، تیسرے اور چوتھے گروپ میں نفوذ کرنا مقصود ہے یا ان سے جزوی تعاون کیا جائے۔ لیکن پہلے دو گروہ جس میں سلفی اور وہابی فکر شامل ہے، قابل گردن زدنی ہے۔ اس رپورٹ میں متصوفانہ اسلام کو قابل ستائش قرار دیا گیا ہے اور فقہ ائمہ اربعہ میں حنفی فقہ کو اپنے مقاصد بروئے کار لانے کے لئے زیادہ مناسب قرار دیا گیا ہے۔ (میں نے اس رپورٹ کو محدث کے حوالے کیا ہے تاکہ وہ اس پر کام کریں)
ہمارے لئے مقامِ غور ہے کہ اعداءِ اسلام تو مسلمانوں کے ایک ایک فرقے کے بارے میں ریسرچ کرنے کے بعد آئندہ کے لئے پلاننگ کر رہے ہیں اور ہم عالمی سطح پر تو کیا سوچیں گے، ملکی سطح پر بھی صحیح اسلامی فکر کو عام کرنے کے لئے کوئی قابل ذکر پلاننگ نہیں کر پا رہے۔ اس سلسلہ میں میری طرف سے چند تجاویز پیش کی جاتی ہیں اور شرکاءِ مجلس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کریں گے:
(1) صحیح فکر رکھنے والے تمام افراد اور جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اور ایک دوسرے کے خلاف چاند ماری سے باز آئیں۔
(2) اُمت کے مشترکہ مسائل میں تمام دینی جماعتوں کی طرف دستِ تعاون بڑھایا جائے وہ اس لئے کہ ہم ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔ ہم نے مل جل کر اس کشی کو غرقِ آب ہونے سے بچانا ہے۔
(3) پورے پاکستان کی سطح پر مدارسِ سلفیہ اور جامعاتِ سلفیہ کا باقاعدہ اجتماع ہونا چاہیے۔ جس میں نصاب اور تعلیمی سطح پر یکسانیت پیدا کرنے کی کوشش کا آغاز کیا جائے۔
(4) ایک ویب سائٹ کا اجرا کیا جائے جس میں تمام سلفی اداروں، جرائد اور کتب کا احاطہ مقصود ہو۔
(5) ملکی سطح پر ایک ڈائریکٹری تیار کی جائے جس میں تمام اہل حدیث مساجد، مدارس اور تحقیقی اداروں کا مختصر تعارف ہو۔ ہر ادارہ کا امتیازی کام بھی ذکر کیا جائے۔ مثال کے طور پر جامعہ لاہور الاسلامیہ اور مجلس التحقیق الاسلامی کے تعاون سے دورِ نبوت اور دورِ خلافت راشدہ سمیت چودہ صدیوں پر مشتمل انسائیکلو پیڈیا آف اسلامک جج منٹس تیار کیا جا رہا ہے جس کا علم عام لوگوں کو نہیں ہے۔ اسی طرح ادارہ محدث کی طرف سے برصغیر پاک و ہند کے پچھلے سو سال کے اہم علمی و دینی جرائد کے مضامین کا موضوعاتی اشاریہ بھی مرتب کیا جا رہا ہے جس میں اب تک تقریبا اہل حدیث کے تمام ماہانہ رسائل پر کام مکمل ہو چکا ہے اور ہفت روزہ رسائل پر کام جاری ہے۔ یہ کام بعد از تکمیل انتہائی مفید ہو گا۔
(6) مدارسِ عربیہ کے فارغ طلبہ کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ کم از کم ایم اے کی سطح تک ایک نہ ایک عمرانی یا سائنسی علم میں ادراک ضرور حاصل کریں اور اس کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان کی اتنی شُدبُد ضرور حاصل کریں کہ جس سے وہ کمپیوٹر سے بقدرِ ضرورت استفادہ کر سکیں۔ ایسے ہی بعض طلبہ مقارنہ ادیان و مذاہب کے ضمن میں عیسائیت، صیہونیت، قادیانیت، اسماعیلیت اور سلاسل تصوف میں سے کسی ایک موضوع پر سیر حاصل معرفت پیدا کرنے کی کوشش کریں۔
(7) ان مضامین اور کتب کا علمی محاکمہ کیا جائے جس میں سلفی فکر کو نشانہ تنقید بنایا گیا ہے۔
(8) چونکہ جرائد اور کتب کا حلقہ قارئین روز بروز کم ہوتا جا رہا ہے، اس لئے میڈیا کے جدید وسائل کے استعمال کو زیر غور لایا جائے۔
(9) ملک میں فرقہ وارانہ تعصب کو کم کرنے کے لئے ایسی سیمینار منعقد کئے جائیں جس میں مختلف جماعتوں سے وابستہ علماء و مفکرین کو اظہار خیال کی دعوت دی جائے۔
(10) سیاست جو رخ اختیار کر چکی ہے، اس میں ہلڑ بازی، سنجیدگی کا فقدان اور اصل دعوتِ اسلام سے اعراض کا پہلو نمایاں ہے، اس لئے علماء میدانِ سیاست سے اجتناب کریں۔
(؟؟؟)
مولانا محمد سلفی صاحب نے ایک ایسی مجلس القضاء کے قائم کرنے کی تجویز پیش کی جس میں اہل حدیث فکر سے وابستہ حضرات اپنے تنازعات فیصلے کے لئے پیش کر سکیں۔ بعض حاضرین مجلس کی طرف سے کہا گیا کہ ایک مسلم ملک میں عدالت یا قاضی کا تقرر حکومتِ وقت ہی کر سکتی ہے۔ اس لئے اس مجلس کا دائرہ کار فریقین میں مصالحت کی حد تک برقرار رہنا چاہیے۔
مولانا محمود الحسن نے ارشاد فرمایا کہ جہاں زندگی کے ہر میدان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اُسوہ حسنہ چھوڑ گئے ہیں، وہاں انہوں نے قوت کی فراہمی اور جہاد میں عملی شمولیت کا نمونہ بھی پیش کیا ہے، اس لئے علماء میدانِ جہاد سے غفلت نہ برتیں۔
مولانا محمد یونس قصوری نے کہا کہ موجودہ دورِ حکومت میں نصابِِ تعلیم کو بدلا جا رہا ہے اور نوخیز اذہان سے اسلامی اقدار کو محو کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ کی صورت میں عوام الناس سے رابطہ کے لئے ایک عظیم پلیٹ فارم عطا کیا ہے جس کا برمحل استعمال مطلوب ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانی بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت رہی ہے، اس لئے حکمرانی تک پہنچنے کے لئے تمام وسائل اختیار کئے جانے چاہئیں۔
(؟؟؟؟)
ڈاکٹر نصیر اختر صاحب نے کہا کہ فرد معاشرہ کی پہلی اکائی ہے اور اگر معاشرہ کی اصلاح مطلوب ہے تو اس کا آغاز فرد کی اصلاح سے ہونا چاہیے۔ ہمارے نصابِ تعلیم میں بھی معاشرے کی اصلاح کا جذبہ کار فرما ہونا چاہیے۔
ضیاء اللہ بھٹی صاحب نے کہا ہم سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے طالب ہیں۔ انہوں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ اہل حدیث مدارس میں چند مخصوص مسائل پر تو خوب بحث و تمحیص کی جاتی ہے لیکن عصر حاضر کے کئی مسائل پر ہم سرسری نگاہ ڈال کر گزر جاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس دور کے نئے مسائل کو زیر بحث لایا جائے۔ اور یہ کہ ہمیں ہمیشہ اللہ کی رضا کو مقدم رکھنا چاہیے نہ کہ اس تنظیم یا ہئیت کی رضا کو جس سے ہم وابستہ ہیں۔
مولانا نور محمد نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اسلام کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنا چاہیے چند خاص پہلوؤں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔
جناب عارف قاسمانی نے وزیرستان میں ہونے والے آپریشن اور وہاں کے علماء کے موقف کا تذکرہ کیا اور پھر امریکہ سے آئے ہوئے ایک صاحب کا تذکرہ کیا جو اپنے غلط فکر کی ترویج کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔
مولانا محمد احمد نجیب صاحب نے کہا کہ ہمارے کام کی نوعیت دعوتی و تبلیغی حد تک رہنی چاہیے اور ان اجتماعات میں جو رابطہ اور مشترکہ تعاون کی بنیاد پر ہوں، ہر شخص کو اپنی نجی حیثیت سے شریک ہونا چاہیے۔
ڈاکٹر عامر نے بتایا کہ 'الرحمٰن الرحیم' کے نام سے محمد شیخ صاحب کی ویب سائٹ ان کے گمراہ افکار کو پیش کر رہی ہے۔ بالمقابل انہوں نے چند سلفی ویب سائٹس کا بھی تذکرہ کیا جن سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اہلحدیث جماعتوں میں رابطہ قائم رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کی طرف سے یہ تجاویز سامنے آئیں:
(1) صرف کراچی میں اہلحدیث کی ایک سو پینسٹھ (165) مساجد ہیں جہاں ائمہ اور خطبا حضرات ایک فعال دور ادا کر سکتے ہیں۔ اس لئے خطبا حضرات اور ائمہ کرام کے لئے علیحدہ علیحدہ تربیتی کورس منعقد کئے جائیں جس میں عصر حاضر کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لئے بہتر وسائل کی معرفت کا اہتمام کیا جائے۔
(2) اہلحدیث مساجد اور اداروں کو پیش آمدہ قانونی مسائل کو حل کرنے کے لئے وکلا میں قانونی گروپ تیار کیا جائے جو ان مسائل میں رہنمائی دے سکے۔
مولانا صہیب شاہد نے ارشاد فرمایا کہ ہر جماعت اپنے فکر کو عام کرنے کے لئے پرائمری اور سیکنڈری سطح پر اسکولوں کا جال بچھا رہی ہے، کیا ہماری ذمہ داری نہیں ہے کہ ہم بھی نئی نسل کی صحیح فکر کے تحت تعلیم و تربیت کی غرض سے جا بجا اسکول اور مدارس قائم کریں۔ انہوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ جہاں ہر جماعتِ اہلحدیث کی اپنی سالانہ کانفرنس ہوتی ہے، وہاں تمام اہلحدیث حلقوں کے نمائندہ افراد پر مشتمل مشترک کانفرنس بھی ہونی چاہیے تاکہ آپس کے روابط بڑھیں اور غلط فہمیوں کا ازالہ ہو سکے۔
جامعۃ الدراسات الاسلامیہ کے مولانا رضوان کوثر نے کہا کہ لاہور کے مقابلہ میں کراچی میں پھیلے ہوئے فتنوں کی نوعیت کچھ اور قسم کی ہے، اس لئے کراچی کی سطح پر ایک مقامی کمیٹی کی تشکیل بھی دی جانی چاہیے۔
جماعت الدعوۃ کے مولانا نوید قمر نے کہا کہ مجوزہ کام کو بحیثیتِ تحریک برپا کرنے کی کوشش کریں۔ اصل تحریک اس بات کی ہو کہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام کیسے نافذ ہو۔
جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے مولانا محمد حسین رشید بلتستانی نے ارشاد فرمایا کہ تجاویز اچھی آ چکی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں عملی جامہ پہنایا جائے، دوسرے یہ کہ مدارس کے ساتھ ساتھ تحقیقی اور علمی مراکز قائم کئے جائیں اور اہلحدیث اپنی ثالثی عدالت بھی قائم کریں۔
جامعہ ستاریہ کے حافظ محمد ادریس سلفی نے تمام پیش کردہ تجاویز کو سراہا اور خاص طور پر اس تجویز کو کہ مدارسِ عربیہ میں ایک نہ ایک عمرانی علوم کی تدریس ضرور کی جائے۔
انہوں نے فیصل آباد کے دار العلوم الاثریہ اور مدرسہ دراسات اسلامیہ کا تذکرہ کیا جنہوں نے تحقیقی میدان میں ایک نام پیدا کیا ہے۔ مزید ایسے ہی اداروں کے قیام کی شدید ضرورت ہے۔
جامعہ ستاریہ کے مولانا محمد اسحق شاہد نے پہلے دونوں مہمان علما کی تجاویز کو سراہا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کے لئے لائحہ عمل بھی تجویز کریں۔ انہوں نے کہا کہ تصویر و مجسمہ سازی اور رقص و سرود کے جواز پر لکھی گئی تحریروں کا جواب جلد از جلد آنا چاہیے۔
صحیفہ اہل حدیث کے معروف مضمون نگار جناب الیاس ستار نے اپنی ان کاوشوں کا تذکرہ کیا جو وہ قادیانیت اور عیسائیت کے محاذ پر تن تنہا انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کے مقابلہ کے لئے یا تو انسان خود مضبوط بنے یا دشمن کو کمزور کرنے کی کوشش کرے، اگر ہم خود میزائل نہیں بنا سکتے تو کم از کم یہی کریں کہ جس کے ہاتھ میں میزائل ہے اسے اپنا ہم نوا بنا لیں۔ انہوں نے مسلمانوں کی عملی منافقت کے ضمن میں برنارڈشا کا یہ قول پیش کیا کہ اسلام سب سے بہترین مذہب ہے لیکن مسلمان بدترین لوگ ہیں۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب پر مرنے سے متعلق بائبل کے مختلف نسخوں کے تضاد کی طرف بھی اشارہ کیا۔
جماعت غرباء اہلحدیث سے وابستہ جناب عبدالواحد نے کہا کہ مقام افسوس ہے کہ اہلحدیث مساجد میں ہم آہنگی نہیں پائی جاتی۔ (؟؟؟؟) ملکی قانون کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ حدود آرڈی نینس ایک عرصہ سے قانون کا حصہ بن چکا ہے لیکن آج تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح قبائلی علاقہ میں جرگہ کے ذریعے فیصلے ہوتے ہیں۔ اسی طرح جماعت اہلحدیث کا بھی اپنا عدالتی فورم ہونا چاہیے۔
آخر میں مولانا محمد سلفی نے موضوع کو سمیٹتے ہوئے یہ تجویز پیش کی کہ چاروں صوبوں میں علما کنونشنوں کے بعد ملک گیر سطح پر ایک علما کی کنونشن منعقد ہونا چاہیے۔ اس وقت جہاں کنونشن منعقد کیے جا رہے ہیں وہاں علما کے علاقائی پینل بھی قائم ہونا چاہئیں اور آخر میں قومی سطح پر ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو ان اُمور پر غور کرے جو پچھلے تمام اجتماعات میں زیر بحث آ سکے ہیں۔ ایسے فورم کے قیام کے اخراجات برداشت کرنے کے لئے فنڈز کی فراہمی پر غور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ ستاریہ کے درودیوار اس نیک کام کے لئے حاضر ہیں۔
مولانا عبدالرحمٰن مدنی نے آج کے کامیاب اجتماع پر شرکاءِ مجلس کو مبارکباد دی اور کہا کہ مقامی اور ملکی مسائل کو حل کرنے کے لئے علما کا باہمی رابطہ وقت کی شدید ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان پندرہ کروڑ کی آبادی والا ملک ہے، اس لئے اگر یہاں صوبائی سطح پر بھی تھنک ٹینک (علمی فورم) قائم کر دئیے جائیں تو کوئی حرج نہیں ہو گا۔ اسی طرح کراچی جب ایک کروڑ آبادی والا شہر ہی ایک ملک ہے اور اس کا اپنا علمی فورم ہونا چاہیے۔
مولانا صہیب حسن نے آخر میں اس بات پر زور دیا کہ سلفی ڈائریکٹری کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کسی ادارے کو بسم اللہ کرنی چاہیے۔ انہوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ مجوزہ پینل میں ایسے علما، مفکرین، اساتذہ اور قانون دان افراد کو لیا جائے جو تدریس، افتا، تالیف و تصنیف یا بحث و تحقیق میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
جامعہ ستاریہ اسلامیہ کے شیخ الحدیث مولانا محمود الحسن کی دعائے خیر پر کنونشن کا اختتام ہوا۔