آج سے ایک سو سال قبل اُمتِ مسلمہ نو آبادیاتی نظام میں جکڑی، بےبسی اور بیچارگی کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ آج 57 آزاد ممالک کی شکل میں قوت، عددی اکثریت اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ذلت، عاجزی اور درماندگی میں اسی مقام پر کھڑی ہوئی ہے، جہاں سو سال قبل تھی۔ سقوطِ بیت المقدس (1967ء) سے شروع ہو کر کابل اور بغداد پر دشمنانِ اسلام کی یلغار مسلمانوں کے لئے ایک تازیانہ ہے۔ آئیے ان اسباب کا جائزہ لیا جائے جو اس ناگفتہ بہ حالت تک پہنچنے کا باعث بنے اور پھر اس رستے کی نشاندہی کی جائے جو اندھیروں کی ان تاریک گلیوں سے روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔ ہماری بات قرآنِ مجید، سیرتِ مطہرہ اور اقوالِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک محدود رہے گی کہ بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق و کردار دیکھنا ہو تو قرآن کا مطالعہ کر لو۔(1) خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی الٰہی سے رہنمائی حاصل کی اور پھر قیامت تک کے لئے اُمت کے لئے اُسوہ حسنہ قرار دئیے گئے:
(لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّـهَ كَثِيرًا ﴿٢١﴾ ۔۔۔سورۃ الاحزاب: 21)
"یقینا تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے۔"
زوال اُمت کے اسباب
اُمت کے اسبابِ زوال پر نظر ڈالئے تو ان چند حقائق سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی:
(1) سنتِ الٰہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی مخالفت، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین سے روگردانی اور گناہوں کی کثرت مصائب کے نزول کا باعث بنتی ہے۔
جنگِ اُحد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود جیتی ہوئی جنگ شکست میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ وہ اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حکم کی مخالفت ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑ کے عقب میں ایک گھاٹی پر تیس کے قریب تیر انداز مقرر کئے تھے اور ہدایت کی تھی کہ میدانِ جنگ کا نقشہ کچھ بھی ہو، ہمارے اُوپر جیسے بھی حالات آئیں، تم نے کسی حالت میں اِس گھاٹی سے ہٹنا نہیں ہے۔ جنگ کے آغاز میں جب مسلمانوں کا پلہ بھاری دکھائی دیا تو انہی تیر اندازوں میں سے چند حضرات نے اپنے امیر عبداللہ بن حبیر سے مطالبہ کیا کہ انہیں بھی میدانِ جنگ میں جانے کی اجازت دی جائے تاکہ بھگوڑے کفار کا مال غنیمت ہاتھ میں آئے۔ امیر نے حکم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم یاد دلایا، لیکن ان جنگجوؤں کی اکثریت پر 'حبِ عاجلہ' غالب رہی۔ جونہی انہوں نے گھاٹی کو چھوڑا، کفار کی طرف سے خالد بن ولید نے اچانک حملہ کر دیا۔ بچے کھچے تیر اندازوں کو بآسانی مغلوب کر لیا اور اس طرح آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر عقب سے حملہ کر کے مسلمانوں کی جیتی ہوئی بازی کو شکست میں تبدیل کر دیا۔
(وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّـهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُم بِإِذْنِهِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ وَعَصَيْتُم مِّن بَعْدِ مَا أَرَاكُم مَّا تُحِبُّونَ ۚ مِنكُم مَّن يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ الْآخِرَةَ ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ ۖ وَلَقَدْ عَفَا عَنكُمْ ۗ وَاللَّـهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ ﴿١٥٢﴾ (سورۃ آل عمران: 152))
"اور اللہ تعالیٰ نے تم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا، جبکہ تم اس کے حکم سے انہیں کاٹ رہے تھے، یہاں تک کہ جب تم نے پست ہمتی اختیار کی اور کام میں جھگڑنے لگے اور نافرمانی کی، اس کے بعد کہ اس نے تمہاری چاہت کی چیز تمہیں دکھا دی۔ تم میں سے بعض دنیا چاہتے تھے اور بعض کا ارادہ آخرت کا تھا اور پھر اس نے تمہیں ان سے پھیر دیا تاکہ تم کو آزمائے اور یقینا اس نے تمہاری لغزش سے درگزر فرمایا اور ایمان والوں پر اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے۔"
اور پھر فرمایا: (أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُم مُّصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُم مِّثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّىٰ هَـٰذَا ۖ قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنفُسِكُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿١٦٥﴾ (سورۃ آل عمران: 165))
"(کیا بات ہے) کہ جب تمہیں ایک ایسی تکلیف پہنچی کہ تم اس جیسی دوچند پہنچا چکے تو یہ کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آ گئی؟ آپ کہہ دیجئے کہ یہ خود تمہاری طرف سے ہے۔ بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔"
اسی سنتِ الٰہی کو سورہ شوریٰ میں ان الفاظ میں بتایا:
(وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ﴿٣٠﴾ (سورۃ الشوریٰ: 30))
"اور تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے اور وہ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے۔"
(2) اس بات کا خیال رہے کہ اللہ تعالیٰ اور بندوں کے درمیان ایسا کوئی تعلق نہیں ہے کہ جس کی پاسداری کرنا اس کے لئے ضروری ہو اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے بندوں سے ایسا کوئی غیر مشروط وعدہ کیا ہے جس کی بنا پر ہر حالت میں اللہ پر اُن کی مدد لازم ہو۔ جو بھی وعدہ ہے وہ مشروط ہے: (إِن تَنصُرُوا اللَّـهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ ﴿٧﴾ (سورۃ محمد: 7))
"اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔"
(وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿١٣٩﴾ (سورۃ آل عمران: 139))
"اور تم نہ سستی کرو اور نہ غمگین ہو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم ایماندار ہو۔"
اور جس آیت سے ایسی مدد کا لازمی آنا سمجھا جا سکتا ہے، وہ بھی ایمان سے مشروط ہے۔
(وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ ﴿٤٧﴾ (سورۃ الروم: 47))
"اور ہم پر مؤمنوں کی مدد کرنا لازم ہے۔"
بلکہ اس بات کو واضح کر دیا کہ ظلم و سرکشی کی بنا پر جو عتاب و عقاب نازل ہوتا ہے تو پھر وہ بلاے عام بن جاتا ہے: (وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَّا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنكُمْ خَاصَّةً (سورۃ الانفال: 25))
"اور تم ایسے وبال سے بچو کہ جو خاص کر انہی لوگوں پر واقع نہ ہو گا جو تم میں سے ظلم کے مرتکب ہوئے ہیں۔" (الانفال: 25)
حوادثِ زمانہ کے وقت یہ سنتِ الٰہی بھی پیش نظر رہے جو اکثر لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل رہتی ہے۔
(أَوَلَا يَرَوْنَ أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ فِي كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوبُونَ وَلَا هُمْ يَذَّكَّرُونَ ﴿١٢٦﴾ (سورۃ التوبہ: 126)) "اور کیا ان کو نہیں دکھلائی دیتا کہ یہ لوگ ہر سال ایک بار یا دو بار کسی نہ کسی آفت میں پھنستے رہتے ہیں۔ پھر بھی نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ نصیحت قبول کرتے ہیں۔"
گویا اللہ تعالیٰ آزمائشوں کے ذریعہ توبہ اور نصیحت و عبرت حاصل کرنے کا موقع عطا کرتے رہتے ہیں، لیکن پھر بھی اگر اصلاحِ احوال کی کوشش نہ کی جائے، بگاڑ کو سدھارا نہ جائے، غلط کار لوگوں کے ہاتھوں کو پکڑا نہ جائے تو پھر بدبختی کا شکوہ کرتے رہنا بجا نہ ہو گا۔
احادیثِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں اسباب زوالِ اُمت: اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم کرنے اور بدکاروں کا ہاتھ پکڑنے کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ تمثیل بیان کرتے ہیں۔ نعمان بن بشیر روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والوں اور اس میں لاپرواہی برتنے والوں کی مثال ایسی ہے جیسے کچھ لوگوں نے سمندری جہاز میں جگہ حاصل کرنے پر قرعہ اندازی کی، کچھ لوگوں کو اُوپر کی منزل (یعنی عرشہ پر) اور کچھ لوگوں کو نچلے حصہ میں جگہ ملی۔ نچلی منزل والے لوگ جب پانی بھرنے کے خواہشمند ہوتے تو اوپر والوں پر سے گزرتے۔ اس پر عرشے والے کہتے ہیں: ہم تمہیں اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ تم ہمیں برابر تکلیف پہنچاتے رہو، اس پر نچلی منزل والوں نے کہا: کیوں نہ ہم اپنے حصہ میں سوراخ کر لیں اور اوپر والوں کو تکلیف نہ دیں۔ اگر (کشتی کے مسافرین) انہیں اپنے ارادے پر عمل کرنے دیں تو سب کے سب ہلاک ہو جائیں گے، لیکن اگر سب ان کا ہاتھ پکڑ لیں تو سب کے سب نجات پائیں گے۔" (2)
(3) اُمتِ مسلمہ کی زبوں حالی کا ایک نقشہ اس حدیث میں کھینچا گیا ہے جس کے راوی ثوبان ہیں اور جس کے آخر میں وہ سبب سبھی بتلا دیا گیا ہے جو اس ذلت و رسوائی کا باعث بنا ہے، آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"عنقریب ایک وقت آئے گا جب دوسری قومیں اکٹھی ہو کر تم پر ٹوٹ پڑیں گی جس طرح کھانے والے دسترخوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ کسی نے پوچھا: کیا ہم اس وقت قلیل تعداد میں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں تمہاری تعداد تو بہت زیادہ ہو گی لیکن تم سیلاب کے اوپر بہنے والے خس و خاشاک کی مانند ہو گے، اللہ تمہارے دشمن کے سینے سے تمہارا رُعب چھین لے گا اور تمہارے دلوں میں 'وہن' ڈال دے گا۔ پوچھا گیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ 'وہن' کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دنیا کی محبت اور موت (یعنی شہادت) سے نفرت" (3)
(4) اگر ایک طرف حدیث ثوبان رضی اللہ عنہ میں اس اُمت کی حالت ضعف کی تصویر کھینچی گئی ہے تو یہی ثوبان رضی اللہ عنہ اس حدیث کے بھی راوی ہیں جس میں اس اُمت کے عز و افتخار کو بیان کیا گیا ہے، لیکن آخر میں ایک ایسی حقیقت بھی بیان کر دی گئی ہے جو اب ایک امر واقعہ بن چکی ہے۔ اس حدیث کے معانی کو ذہن نشین کرنے کے لئے ہم اسے سولہ جملوں کی تقطیع کے ساتھ بیان کرتے ہیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(1) اللہ نے میرے لئے زمین کو سمیٹ دیا، یہاں تک کہ میں نے اس کے مشرق و مغرب کو دیکھ لیا۔
(2) میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک علاقہ مجھے سمٹ سمٹا کر دکھایا گیا ہے۔
(3) اور مجھے دو خزانے دئیے گئے ہیں سرخ و سپید۔
(4) اور میں نے اپنی امت کی خیرخواہی کے لئے اپنے رب سے مانگا کہ اس امت کو کسی عمومی قحط سے تباہ نہ کیا جائے۔
(5) اور ان پر انہی کے سوا باہر سے ایسا دشمن مسلط نہ کیا جائے جو انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔
(6) اور میرے رب نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! میں جب کسی بات کا فیصلہ کر لیتا ہوں تو اسے پلٹا نہیں جا سکتا۔
(7) میں نے تمہاری یہ بات مان لی کہ میں تیری امت کو ایک عمومی قحط سے ہلاک نہ کروں گا۔
(8) اور یہ کہ میں ان کے سوا (باہر سے) ایسا دشمن ان پر مسلط نہیں کروں گا جو انہیں جڑ سے اُکھاڑ پھینکے، چاہے دنیا کے تمام لوگ ہی ان کے خلاف نہ اُٹھ کھڑے ہوں!!
(9) البتہ یہ ہو گا کہ یہ آپس میں ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور ایک دوسرے کو قیدی بنائیں گے۔ (4)
(10) اور میں اپنی اُمت پر گمراہ قسم کے اماموں سے خائف ہوں۔
(11) اور ایک دفعہ اگر ان پر تلوار چل پڑی تو قیامت تک رفع نہ ہو گی۔
(12) اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ میری اُمت کا ایک گروہ مشرکین سے نہ مل جائے گا۔
(13) اور یہاں تک کہ میری امت کے کچھ گروہ بتوں کی پوجا شروع کر دیں گے۔
(14) اور یہ کہ میری اُمت میں تیس جھوٹے ہوں گے جن میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ میں نبی ہوں۔
(15) اور میں آخری نبی ہوں، میرے بعد اور کوئی نبی نہیں۔
(16) اور میری اُمت میں ایک گروہ ہمیشہ رہے گا جو حق پر قائم رہے گا، نصرت اس کے شامل حال ہو گی، انہیں چھوڑ کے بھاگ جانے والے یا ان کی مخالفت کرنے والے، انہیں نقصان نہ پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ اللہ کا آخری فیصلہ آ جائے گا۔ (5)
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک صرف جزیرہ عرب حلقہ بگوشِ اسلام ہوا تھا اور پھر چودہ صدیوں میں اسلام دنیا کے کونے کونے تک پہنچ گیا اور چونکہ اسلام کا عروج جاری ہے، اس لئے وہ وہاں تک پہنچے گا، جہاں ابھی نہیں پہنچا ہے۔
سرخ و سپید خزانے، رومی اور فارسی حکومتوں کا مسلمانوں کی قلمرو میں داخل ہونے کا اشارہ تھا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں پورا ہو گیا اور پھر یہ امت صدہا حوادث کے بعد بھی اسی طرح قائم و دائم ہے، قومِ نوح یا عاد و ثمود کی طرح صفحہ ہستی سے ناپید نہیں ہوئی اور نہ ہی ماضی کے تاتار، منگول اور صلیبی اپنی تمام تر کوششوں کے بعد اسے ملیامیٹ کر سکے اور نہ ہی حال کے چنگیز اور ہلاکو کو ان شاءاللہ اس اُمت کا کچھ بگاڑ سکیں گے۔
البتہ ہسپانیہ میں مسلم حکومت کا خاتمہ، دولتِ عثمانیہ کا زوال، عصر حاضر میں صورت حال فلسطین، ایران عراق جنگ اور پھر عراق کی کویت پر یلغار آپس کی خانہ جنگیوں، ناتدبیریوں اور ناعاقبت اندیشیوں کا شاخسانہ ہے جو اہل بصیرت سے پوشیدہ نہیں۔
اس حدیث میں بیان کردہ اکثر پیشگوئیاں پوری ہو چکی ہیں اور باقی پوری ہو کر رہیں گی۔
(5) حدیث ثوبان رضی اللہ عنہ سے ایک دم اورآگے چلیں تو سورہ نور میں اس اُمت کے لئے استخلاف فی الارض، تمکین دین اور حالتِ امن کی جو بشارت دی گئی ہے، وہ اسی آیت کے آخر میں دی گئی شرط کے متحقق ہونے پر ماضی میں بھی پوری ہوتی رہی ہے اور مستقبل کے لئے بھی نوید جانفزا کی حیثیت رکھتی ہے:
(وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ۚ وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴿٥٥﴾ (سورۃ النور: 55))
"تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کئے ہیں، اللہ تعالیٰ وعدہ فرما چکا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا، جیسا کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یقینا ان کے لئے ان کے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کر کے جما دے گا جسے ان کے لئے وہ پسند فرما چکا ہے اور ان کے اس خوف و خطر کو وہ امن و امان سے بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں گے، اس کے بعد بھی جو لوگ ناشکری اور کفر کریں یقینا فاسق ہیں۔"
اس آیت میں عظیم معانی پنہاں ہیں جو عصر حاضر کی تحریکات کے لئے نقشِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور جن سے صرفِ نظر کرنا گویا اللہ تعالیٰ کی مدد کو اپنے سے دور کرنا ہے۔
زمین میں خلافت ۔۔۔ اللہ کا انعام ہے نہ کہ اصل غایت!
(1) استخلاف فى الأرض اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو آیت میں دی گئی شروط کے متحقق ہونے پر لازما واقع ہو گا، لیکن یہ غایت یا مقصد نہیں ہے۔ انسانیت کی غایت وہی ہے جو اس آیت کے آخر میں بتائی گئی ہے اور جسے واضح طور پر اس آیت کریمہ میں بتایا گیا ہے:
(وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ﴿٥٦﴾ مَا أُرِيدُ مِنْهُم مِّن رِّزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَن يُطْعِمُونِ ﴿٥٧﴾ إِنَّ اللَّـهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ ﴿٥٨﴾ (سورۃ الذاریات: 56-58))
"اور میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں، نہ میں ان سے روزی چاہتا ہوں، نہ میری چاہت ہے کہ یہ مجھے کھلائیں۔ اللہ تعالیٰ تو خود ہی سب کا روزی رساں، توانائی والا، زور آور ہے۔"
اس وعدہ الٰہی کے سب سے پہلے مصداق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے، کہاں مکہ کی سرزمین پر تن تنہا توحید الٰہی کا نعرہ لگانے والے آمنہ کے لال صلی اللہ علیہ وسلم، جس کے خون کے درپے تمام کفارِ مکہ تھے اور کہاں وہ عظمت و سطوت کہ جب اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں تو سارے جزیرہ عرب پر ان کا جھنڈا سربلند تھا۔ دین اسلام گھر گھر داخل ہو چکا تھا اور سرزمین عرب امن کا گہوارہ بن چکی تھی۔
اس کے دوسرے مصداق صحابہ رضی اللہ عنہم کی وہ صادق جماعت تھی جنہوں نے خلفاء راشدین کی سرپرستی میں دعوتِ حق کو مشرق و مغرب تک پھیلا دیا اور اپنے وقت کی دو عظیم سلطنتوں یعنی روم و فارس کو شکست سے دوچار کیا اور تثلیث مجوسیت کے ویرانوں کو توحید کے خزانے سے مالا مال کر دیا۔
یہ اس لئے ممکن ہو سکا کہ یہ جماعتِ حقہ اللہ تعالیٰ کی توحید کو پھیلانے کے لئے اور شرک کے قلعوں کو مسمار کرنے کے لئے اٹھی تھی۔ ان کے عزمِ صادق، جذبہ وحدانیت اور بندگی رب کے سامنے شرک کے آہنی قلعے ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ اور پھر چشم فلک نے بار بار یہ نظارہ دیکھا کہ جب بھی مسلمان خالص اللہ کے بھروسہ پر اعداءِ اسلام کے سامنے کھڑے ہوئے فتح و نصرت ان کی قدم بوسی کرتی رہی۔ اور اس کے شاہد ہیں صلاح الدین ایوبی بمقابلہ صلیبی (معرکہ حطین 1187ء)، محمد الفاتح بمقابلہ بازنطینی سلطنت (فتح قسطنطنیہ 1451ء)، احمد شاہ ابدالی بمقابلہ مرہٹے (معرکہ پانی پت 1761ء) اور بےشمار دوسرے معرکے جو کفر پر حق کی بالادستی قائم کرتے رہے۔
(2) خلافتِ الٰہی کا نفاذ اسلام کے مجموعی نظام کا ایک حصہ تھا نہ کہ غایت، لیکن عصر حاضر کی جن جن تحریکوں نے اسے غایت کے طور پر اپنایا، انہیں کہیں نہ کہیں شرکیات سے صرفِ نظر کرنے یا اس کے ساتھ سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ نتیجتا ع نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم!
ہمارا مدعا واضح ہے کہ غایت کو غایت رکھا جائے اور وعدے کو وعدہ!!
ایک طالبِ علم کا کام ہے کہ وہ خوب محنت سے پڑھائی کرے، کتابوں کو حرزِ جان بنائے تاکہ امتحان میں پاس ہو، استاد نے اول آنے والے کے لئے انعام کا وعدہ کیا ہے، وہ اسے مل کر رہے گا۔ اگر اس نے اس کا استحقاق پیدا کر لیا، لیکن یہ کہ طالب علم نہ پڑھائی کرتا ہے اور نہ ہی امتحان میں پاس ہونے کی تگ و دو، بلکہ اس فکر میں رہتا ہے کہ انعام کو کسی طرح استاد کے ہاتھ سے اُچک لوں، تو شائد دنیا کی حد تک کوئی طالب علم ایسا کر بھی گزر سکتا ہے، گو نیک کام نہیں کہلائے گا، لیکن رب العزت کے ہاتھ سے اس انعام کو اچکنے کی طاقت کسی کے ہاتھ میں نہ تھی اور نہ ہو گی۔
غرض وحدانیتِ باری تعالیٰ اور عبودیتِ حقہ کے ساتھ جب بھی اللہ کی راہ میں جہاد کیا جائے گا تو موانع کی عدم موجودگی میں یقینا وعدہ الٰہی پورا ہو گا۔ ان موانع کا تذکرہ بعد میں آ رہا ہے۔ اس سلسلہ کی ایک روشن مثال دو سو سال قبل شروع ہونے والی شیخ محمد بن عبدالوہاب (ف 1792ء/1206ھ) کی اصلاحی اور تجدیدی تحریک ہے جو خالص توحیدِ الٰہی کا بولا بالا کرنے اور شرکیات کی بیخ کنی کے لئے شروع کی گئی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس تحریک کو وہ نصرت اور کامیابی عطا کی کہ دو سو سال گزرنے کے باوجود اس تحریک کے بابرکت اثرات سعودی عرب میں دیکھے جا سکتے ہیں جن میں امن و امان کا قیام اور تمکین دین (یعنی شریعت کا نفاذ) سرفہرست ہیں اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ انعام اس وقت تک جاری رہے گا جب تک توحیدِ باری تعالیٰ اور دینِ خالص کی پاسداری جاری رہے گی۔ آیت اِستخلاف کے ساتھ ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بشارت بروایتِ اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی ملاحظہ رہے:
(بَشِّرْ هذهِ الأُمَّةَ بِالسَّنَاءِ والدِّينِ والرِّفْعَةِ والنَّصْرِ والتَّمْكِينِ فِي الأَرضِ، فمَن عملَ منهُم عَمَلَ الآخرةِ للدُّنيا لم يَكُن لَهُ فِي الآخرةِ مِن نَصيبٍ)
"اس اُمت کو رفعت و عالی مراتب کی، دین اور فتح و نصرت کی اور زمین میں متمکن ہونے کی بشارت دے دو، لیکن ان میں سے جو شخص آخرت کا عمل دنیا کی خاطر کرے گا تو آخرت میں کوئی حصہ نہ پا سکے گا۔" (6)
خلافت فی الارض کا جواز اور سیرتِ طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم
ان تمہیدی گزارشات کے بعد آئیے ان عوامل کا جائزہ لیا جائے جو عہدِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی مسلمانوں کے لئے باعثِ فتح و کامرانی اور تمكين في الأرض ہوئے تھے اور بعد کے ادوار میں بھی ان کے لئے سرمایہ افتخار رہے اور جن کی پابندی آج بھی اُمتِ مسلمہ کے لئے باعث نجات ہو سکتی ہے۔ اختصار کے ساتھ یہ چار عوامل ہیں:
٭ ایمان بحیثیتِ بنیاد ٭فراہمی قوت ٭صفوں کی شیرازہ بندی ٭ اور جہاد
٭ ایمان: عقیدہ، عبادت، صالح معاشرہ کے قیام اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو شامل ہے۔
٭ قوت میں سائنس، ٹیکنالوجی اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق آلاتِ حرب کا حصول شامل ہے۔
٭ صفوں کی شیرازہ بندی میں داخلی اتحاد، تفرقہ بازی اور انتشار فکری کا قلع قمع اور خارجی وحدت شامل ہے۔
٭ جہاد میں جہاد دعوت الیٰ اللہ اور جہاد بمعنی قتال شامل ہیں۔
گویا تفصیلی طور پر یہ دس عوامل ہوئے جن پر اب مفصل کلام کیا جاتا ہے:
(1) عقیدہ کی درستگی اور پختگی
کسی بھی تحریک کی اصل بنیاد وہ عقیدہ ہے جس پر اس تحریک کی عمارت کھڑی کی گئی ہے۔ مشرکین عرب کا یہ عقیدہ کہ (مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ ۚ) "ہماری زندگی تو صرف دنیا ہی کی زندگی ہے، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں صرف زمانہ ہی مار ڈالتا ہے۔" (سورۃ الجاثیہ: 24) ان کے سارے تصرفات، جنگ و جدال اور معاملات پر حاوی تھا۔ گویا کہ ع بابر بعیش کوش کے عالم دوبارہ نیست!
ان کے نزدیک زندگی ایک درخت کی مانند ہے جو کہ کونپل کی شکل میں زمین سے پھوٹتا ہے، پودے کی شکل اختیار کرتا ہے پھر تنا آور درخت بن جاتا ہے، برگ و بار پیدا کرتا ہے، پھلدار ہو تو عالم کو فیض یاب کرتا ہے، گھنا ہو تو سایہ دار رہتا ہے، بہار میں جانفزا اور خوشنما، خزاں اس کی ناتواں اور بے مزا، تنا اس کا مضبوط ہو تو آندھیوں اور طوفانوں کے تھپیڑوں میں بھی ٹکا رہتا ہے، لیکن کب تلک! مرورِ ایام سے ایک وقت آتا ہے کہ اس کے پتے سوکھ جاتے ہیں، زندگی کے سوتے خشک ہو جاتے ہیں، اور پھر ہلکا سا ایک جھٹکا اسے زمین بوس کر دینا ہے، اس کی حیات و موت گردشِ زمانہ کے تابع ہے، نہ اس میں ثواب کا دخل، نہ عقاب کا عمل، نہ ہی رضائے الٰہی کا ظہور اور نہ ہی عذابِ سماوی کا کوئی دستور۔ انہیں انسانی زندگی اور نباتاتی دنیا میں طبعی اصولوں کا اشتراک تو نظر آیا، لیکن وہ ان اخلاقی اُصولوں سے صرفِ نظر کر گئے جس کی وجہ سے ایک مسلم اور دہریے میں امتیاز قائم ہوتا ہے۔
کفار کے تصورِ زندگی کے برعکس قرآن نے واشگاف اعلان کیا کہ دنیا کے اس اسٹیج پر کتنی ہی قومیں آئیں، زمانہ ان کے لئے صرف ایک جام کی مانند تھا۔ بطورِ ساقی یہ ان کا کام تھا کہ اسے پانی سے بھر دیتے اور عالم کی پیاس کا مداوا کرتے، دودھ سے بھر دیتے اور نیک نام کہلاتے یا پھر یہ جام نبتِ عنب کی نذر کر دیتے اور عالم مخمور ہو جاتا یا زہر سے بھر دیتے کہ ہر طرف ہلاکت کا دور دورہ ہوتا۔
(وَالْعَصْرِ ﴿١﴾ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ﴿٢﴾ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ﴿٣﴾) (سورۃ العصر)
"زمانے کی قسم، بےشک انسان سرتاسر نقصان میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور جنہوں نے آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔"
اس اُصول کے تحت قومِ نوح کی غرقابی، عاد و ثمود اور قومِ لوط کی ہلاکت اور قومِ فرعون کا دریا برد ہونا مرورِ زمانہ کی وجہ سے نہیں، بلکہ خالق ارض و سماء کے احکامات کی خلاف ورزی کی بنا پر تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بزبانِ قرآن واضح کر دیا کہ امن و امان کا قیام عقیدہ توحید سے وابستہ ہے، شرک یا مظاہر شرک سے نہیں ۔۔!
(الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ أُولَـٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ ﴿٨٢﴾ (سورۃ الانعام: 82))
"جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلود نہیں کرتے، ایسوں ہی کے لئے امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔" (الانعام: 82)
'ظلم' ذو معنی لفظ ہے، اس لئے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کئے جانے پر واضح کر دیا کہ ظلم سے مراد شرک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطورِ استشہاد یہ آیت پڑھی:
(إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ ﴿١٣﴾ (سورۃ لقمان: 13)) "بےشک شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔" (لقمان: 13)
ایک اللہ کو پکارنا انسانی فطرت کی پکار ہے تو غیراللہ کو پکارنا فطرت سے بغاوت ہے۔ عکرمہ رضی اللہ عنہ بن ابی جہل کا اسلام لانا انسانی فطرت کے اسی پہلو کا آشکارا ہونا تھا۔ فتح مکہ کے وقت عکرمہ کا نام ان آٹھ اشخاص میں شامل تھا جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا تھا کہ اگر وہ کعبہ کے پردوں سے لٹکے ہوئے بھی پائیں جائیں تو ان کی جان بخشی نہ کی جائے، عکرمہ ساحلِ سمندر کی طرف بھاگا اور پھر اس پہلی کشتی میں سوار ہو گیا جو عازمِ حبشہ تھی۔ اس کشتی میں بہت سے مشرکین عرب بھی سوار تھے، کشتی سمندر کے سینہ پر خراماں خراماں اٹھکیلیاں کرتی رواں دواں تھی کہ سمندر کی موجیں طوفان بن کر کشتی سے ٹکرا گئیں۔ عکرمہ نے دیکھا کہ یہی عرب جو لات، ہبل، مناف کو پکارتے نہ تھکتے تھے، اب اللہ کے نام کی دہائی دے رہے تھے، وہ ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے:
" أَخْلِصُوا ، فَإِنَّ آلِهَتَكُمْ لَا تُغْنِي عَنْكُمْ شَيْئًا هَاهُنَا "
"خلوصِ دل سے دعا کرو کہ تمہارے خدا اس مقام پر تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتے۔"
اس وقت عکرمہ نے کہا: "اللہ کی قسم! اگر سمندر میں صرف اخلاص ہی بچا سکتا ہے تو پھر خشکی میں بھی وہی بچا سکتا ہے۔ اے اللہ! میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ اگر تو نے مجھے اس مصیبت سے چھٹکارا دے دیا تو میں سیدھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا اور ان کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دوں گا اور وہ یقینا مجھے معاف کر دیں گے۔"
اوت پھر ایسا ہی ہوا اور وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور مسلمان ہو گئے۔" (7)
عکرمہ پر گزرنے والے تجربہ کو قرآن ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:
(هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا كُنتُمْ فِي الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِم بِرِيحٍ طَيِّبَةٍ وَفَرِحُوا بِهَا جَاءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌ وَجَاءَهُمُ الْمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٍ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ ۙ دَعَوُا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ لَئِنْ أَنجَيْتَنَا مِنْ هَـٰذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ ﴿٢٢﴾ (سورۃ یونس: 22))
"وہ اللہ ایسا ہے کہ تم کو خشکی اور دریا میں چلاتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہوتے ہو اور وہ کشتیاں لوگوں کو موافق ہوا کہ ذریعہ سے لے کر چلتی ہیں اور وہ لوگ ان سے خوش ہوتے ہیں۔ ان پر ایک جھونکا سخت ہوا کا آتا ہے اور ہر طرف سے ان پر موجیں اٹھتی چلی آتی ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ (بُرے) آ گھرے، اس وقت سب خالص اعتقاد کر کے اللہ ہی کو پکارتے ہیں کہ اگر تو ہم کو اس سے بچا لے تو ہم ضرور شکر گزار بن جائیں گے۔"
(فَلَمَّا أَنجَاهُمْ إِذَا هُمْ يَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۗ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلَىٰ أَنفُسِكُم ۖ مَّتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿٢٣﴾ (سورۃ یونس: 23))
"پس جب اللہ ان کو بچا لیتا ہے تو فورا ہی وہ زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ اے لوگو! یہ تمہاری سرکشی تمہارے لئے وبال ہونے والی ہے۔ دنیاوی زندگی کے (چند) فائدے ہیں، پھر ہمارے پاس تم کو آنا ہے، پھر ہم سب تمہارا کیا ہوا تم کو بتلا دیں گے۔" (یونس: 23)
(2) عبادتِ الٰہی بجا لانا
ایک مسلمان معاشرہ جو اللہ تعالیٰ کی نصرت و اعانت کا مستحق ہے، وہ معاشرہ ہے جو عبادت کو صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص کرتا ہے۔ عبادت کا مفہوم صرف پنج وقتہ نماز، روزے، زکوٰۃ اور حج کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ اس میں نماز کی تمام ہئیات جیسے ہاتھ باندھ کر قیام، رکوع اور سجود، دعا، ماورا الاسباب استعانت اور استغاثہ، قسم، نذر اور قربانی بھی شامل ہیں۔ اعمالِ قلبیہ میں سے خشیت، رہبت، خوف، تقویٰ، اُمید و رجا کا تعلق بھی عبادت سے ہے۔ اسلام کے ارکانِ خمسہ کو تو ہر مسلمان بخوبی سمجھتا ہے اور اللہ ہی کے لئے ادا کرتا ہے، لیکن عبادت کے باقی مظاہر میں ڈنڈی مارنے والوں کی عظیم اکثریت ہے۔
٭ ایسا قیام جو ایک مقتدا یا پیشوا کے احترام کے لئے ہو، ناجائز قرار دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (لا تقوموا إلى كما يقومِ الأعاجم لملوكهم) (8)
"میرے لئے اس طرح کھڑے نہ رہو جیسے عجمی اپنے بادشاہوں کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔"
سلام کرتے وقت رکوع کی حد تک جھک جانا، پارلیمنٹ کے ایوان میں ایک ممبر کا اسپیکر کے سامنے جھکنا، رکوع سے مشابہت کی بنا پر ممنوع قرار پایا۔ کسی مخلوق کے لئے پیشانی زمین پر رکھنا اللہ تعالیٰ کے حق سجود کی حق تلفی ہے۔
(استعينوا على إنجاح الحوائج بالكتمان فإن كل ذي نعمة محسود) (9)
"اپنی حاجات پوری کرنے کے لئے راز داری کے ساتھ ایک دوسرے سے مدد چاہو، کیونکہ جس پر نعمت ہو، اس سے حسد کیا جاتا ہے۔"( )
کہہ کر اسباب کی حد تک ایک دوسرے سے مدد طلب کرنے کی اجازت دے دی۔ اور (إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ﴿٥﴾) کے واضح اعلان کے ساتھ ماورا الاسباب استعانت بغیراللہ کی نفی کر دی۔
٭ (فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِي مِن شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّهِ) "اس کی قوم والے نے اس کے خلاف جو اس کے دشمنوں میں سے تھا (موسیٰ علیہ السلام) سے فریاد کی۔" (القصص: 15) کا بیان موجود و حاضر شخص سے مدد کی درخواست کو شرفِ قبولیت عطا کر گیا اور بدر کی رات آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تعالیٰ سے استغاثہ بفحواے آیت قرآنی (إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُم بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ ﴿٩﴾) "اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا جو لگاتار چلے آئیں گے۔" (الانفال: 9) یہ بتاتا چلا گیا کہ ماوراء الاسباب استغاثہ صرف اللہ کی ذات سے کیا جا سکتا ہے۔ لاریب کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے معرکہ بدر کے لئے مادی اسباب مہیا کرنے، اپنے جانثاروں کو مدینہ سے بدر تک لے آنے کے بعد اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلا کر اس کی مدد کو چاہا تھا جس پر صرف اللہ تعالیٰ کی ذات قادر ہے۔
٭ قسم اُٹھانے کو بھی اللہ کے ساتھ خاص کر دیا۔ فرمایا: (من كان حالفاً فليحلف بالله أو ليصمت) (10) "جس نے قسم کھانی ہو تو اللہ کے نام کی قسم کھائے، وگرنہ خاموش رہے۔"
٭ نذر کو بھی اللہ کے لئے خاص کر دیا۔ فرمایا:
(من نذر أن يطيع الله فليطعه ومن نذر أن يعصى الله فلا يعصه) (11)
"جس نے اللہ کی اطاعت کی نذر مانی تو پھر وہ اللہ کی اطاعت کرے (یعنی نذر پوری کرے) اور جس نے اللہ کی نافرمانی کی نذر مانی تو پھر وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔"
٭ قربانی کا تذکرہ نماز کے ساتھ کر کے کوئی ابہام نہیں رہنے دیا گیا:
(فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ﴿٢﴾) "اپنے رب کے لئے نماز پڑھ اور قربانی کر" (سورۃ الکوثر) اور اعمالِ قلبیہ میں دے در بارے خشیت: (لَا يَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا اللَّـهَ) "سوائے اللہ کے اور کسی سے نہیں ڈرتے" اور دربارے خوف: (فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿١٧٥﴾) "ان سے خوف مت کھاؤ، مجھ سے ڈرو اگر تم مؤمن ہو" اور بابت رہبت و تقویٰ: (وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ ۔۔۔ وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ) اور بابتِ امید و رجا: (يَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ) "اس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔" کہہ کر اللہ تعالیٰ سے صحیح تعلق کی کیفیت کو ظاہر کر دیا۔
٭ دین کے اصولوں میں مداہنت (کچھ لو، کچھ دو) کا دروازہ بالکل بند کر دیا۔
(وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ ﴿٩﴾ (القلم: 9))
"وہ تو چاہتے ہیں کہ تو ذرا ڈھیلا ہو تو یہ بھی ڈھیلے پڑ جائیں۔"
عبدیالیل کی قیادت میں جب وفد ثقیف مدینہ پہنچا تو انہیں مسجد میں ٹھہرایا گیا تاکہ وہ اسلام کو قریب سے دیکھ سکیں۔ اب جبکہ سارا عرب جوق در جوق اسلام میں داخل ہو رہا تھا، ثقیف کے عمائدین بھی اسلام کی حقانیت کے قائل ہوتے جا رہے تھے لیکن ثقیف کا سردار عبدیالیل دین کی پابندیوں کو گراں سمجھتے ہوئے چند رخصتوں کا متلاشی تھا۔ اس نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:
"طائف کی سب سے بڑی پیداوار انگور ہے جس کا سب سے بارآور مصرف شراب کی کشید ہے، اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابا اللہ کا فرمان سنایا:
(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿٩٠﴾ (المائدہ: 90))
"اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب، جوا، تھان اور فال نکالنے کے پانسے کے تیر یہ سب گندی باتیں، شیطانی کام ہیں۔ ان سے بالکل الگ رہو تاکہ فلاح یاب ہو۔"
پھر پوچھتا ہے: ہم سودی لین دین کرتے ہیں جو کہ ہماری تجارت کا حصہ ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمان الٰہی پڑھا: (وَأَحَلَّ اللَّـهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا) "اور اللہ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام کر دیا ہے۔" (البقرہ: 275) پھر سوال کرتا ہے: ہم مہینوں جنگی مہمات میں گھروں سے باہر رہتے ہیں، کیا غیر عورتوں کے ساتھ تعلق کی اجازت ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیتِ کریمہ کی تلاوت فرمائی:
(وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا ﴿٣٢﴾)
"اور زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا، کیونکہ وہ بڑی بے حیائی اور بہت ہی بُری راہ ہے۔"
آخری بات پوچھتا ہے: یہ پنج وقتہ نماز تو کوہِ گراں ہے، اسی میں تخفیف کر دیں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (لاَ خَيْرَ فِى دِينٍ لَيْسَ فِيهِ رُكُوعٌ) "اس دین میں بھلا کیا بھلائی ہے جس میں جھکنا نہ ہو۔" دین کے اصولوں میں مصالحت کی نفی فرما دی۔ اہل ثقیف مسلمان ہو گئے لیکن اپنے پُرانے معبود 'لات' کا ڈر اب بھی دلوں میں جاگزیں تھا، کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اس بت کو چند ماہ اور نہ ڈھائیں!! لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ درخواست بھی نامنظور کی، اس مقصد کے لئے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو طائف بھیجا۔ جب لات پر وار کرنے کے لئے وہ بڑھ رہے تھے تو اہل طائف انبوہ در انبوہ جمع ہو چکے تھے۔ انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ ان کے معبود کا بال بھی بیکا ہو سکتا ہے۔ مغیرہ دوڑتے آئے تو پھسل کر گر پڑے، اہل طائف تو حیرت سے چیخ اٹھے، مغیرہ نے دوبارہ کلہاڑا اُٹھایا اور پھر بت کو اس کی بنیادوں سے اکھاڑ پھینکا کہ شرک ببول کی مانند ہے، اس کانٹے دار درخت کو اکھاڑنا ہے تو پھر جڑ سے اکھاڑنا ہی دانشمندی ہے۔ (12)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ایک دعوتی مشن پر بھیجا تو حکم دے دیا کہ "کوئی بھی مجسمہ نظر آئے تو اسے مٹا دو اور کوئی بھی اونچی قبر نظر آئے تو اسے برابر کر دو۔" (13) گویا شرک کے چور دروازوں کو بند کرنے کا راستہ دکھا دیا۔
(3) صالح معاشرہ کا قیام
گو اس دنیا میں خیر و شر آپس میں ملے ہوئے ہیں، حق و باطل کا ٹکراؤ رہتا ہے، لیکن جماعتِ حقہ کا فرض ہے کہ وہ خیر کو غالب رکھے اور شرک کی بیخ کنی کرے۔ مسلمان جہاں کہیں بھی رہائش پذیر ہوں، مسجد ان کا مرکز و محور ٹھہرے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قیام سے مدینہ کی زندگی کا آغاز کیا اور مسلمان جہاں کہیں گئے، اس سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پاسداری کرتے رہے۔
مسجد کا قائم کرنا اقامتِ صلوٰۃ کی راہ ہموار کرتا ہے، مسلمانوں کے اجتماعی نظم کی بنیاد رکھتا ہے، اطاعتِ امیر کا جذبہ پیدا کرتا ہے، مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کا موجب بنتا ہے، مسلمان گھرانوں میں اُلفت و محبت، ہمدردی اور غم خواری کے خوابیدہ سوتوں کو بیدار کرتا ہے۔
مکہ میں قائم عبادت کے پہلے گھر کو بیت اللہ کہا گیا اور اس نسبت سے ہر مسجد اللہ کی طرف منسوب ہوئی: (فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّـهُ أَن تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ) "ان گھروں میں جن کے بلند کرنے اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔"
ان گھروں کو آباد کرنے والوں کی اللہ تعالیٰ نے خود تحسین فرمائی:
(يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ﴿٣٦﴾رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللَّـهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ۙ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ ﴿٣٧﴾)
"وہاں صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں ایسے لوگ جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کے ذکر سے اور نماز کے قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی، اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن بہت سے دل اور بہت سی آنکھیں اُلٹ پلٹ ہو جائیں گی۔"
اور پھر ان کے لئے اجر جزیل کا مژدہ سنایا:
(لِيَجْزِيَهُمُ اللَّـهُ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَيَزِيدَهُم مِّن فَضْلِهِ ۗ وَاللَّـهُ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ﴿٣٨﴾ (سورۃ النور: 36/38)) (النور: 36 تا 38) "تاکہ اللہ ان کے اعمال کا بہترین بدلہ دے بلکہ اپنے فضل سے اور کچھ زیادہ عطا فرمائے اور اللہ جسے چاہے بےشمار رزق عطا کرتا ہے۔"
ایک صالح معاشرہ کی علامت مسجدوں کا آباد ہونا اور حکامِ مملکت سے لے کر ادنیٰ چپڑاسی تک کا مسجد سے تعلق رکھنا ہے۔ اس تعلق میں جہاں کمی آئے گی وہاں اللہ کی رحمت دور ہوتی چلی جائے گی۔
اُمتِ مسلمہ کے لئے نماز کی پابندی اور مسجدوں کی حاضری وہ پیمانہ ہے جس سے رضائے الٰہی اور قربتِ خداوندی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ افسوس ہے اس پیمانہ سے نظریں چرائی جاتی ہیں۔ ناکامی کے اسباب گنوائے جاتے ہیں لیکن اس سببِ اعظم کا ادراک نہیں کیا جاتا۔
(4) نیکی کا حکم دینا اور بُرائی سے روکنا
مسلم معاشرہ کے لئے خیر کا غلبہ لازمی ہے، فساق و فجار لوگ ہر دور میں پائے جاتے رہے ہیں اور ان کی موجودگی کے باوجود بھی مسلمانوں نے بڑی بڑی فتوحات حاصل کی ہیں۔ گویا فسق و فجور کے باوجود اللہ کی رحمت و نصرت نازل ہوتی رہی ہے اور اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ مسلمانوں میں أمر بالمعروف اور نهى عن المنكر کا احساس باقی رہا ہے:
(وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّـهُ ۗ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ﴿٧١﴾ (التوبہ: 71))
"اور مؤمن مرد و عورت آپس میں ایک دوسرے کے (مددگار و معاون اور) دوست ہیں۔ وہ بھلائیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں۔ نمازوں کو پابندی سے بجا لاتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اللہ اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ بہت جلد رحم فرمائے گا، بےشک اللہ غلبے والا حکمت والا ہے۔"
اس اُمت کو خیر امت کا لقب ان تین اوصافوں کی بنا پر دیا گیا: أمر بالمعروف- نهى عن المنكر اور ايمان بالله، فرمایا:
(كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ (سورۃ آل عمران: 110)) (آل عمران: 110) :تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم دیتے ہو اور بُری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو۔"
"اہل کتاب ایک دوسرے کو بُرائی سے نہیں روکتے تھے۔" (المائدہ: 79) اس لئے ان کی اکثریت فاسق کہلائی:
(وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُم ۚ مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ ﴿١١٠﴾)
"اور اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لئے بہتر تھا۔ ان میں ایمان لانے والے بھی ہیں لیکن اکثر تو فاسق ہیں۔" (آل عمران: 110)
سورۃ الحدید کی آیت نمبر 16، 26 اور 27 میں بھی ان کی اکثریت کو فاسق بتایا گیا۔
اگر اہل کتاب کا فسق و فجور انہیں اللہ کے آخری پیغام کا حامل بننے کی راہ میں حائل ہو گیا تو خیر اُمت کو بھی اپنی خیر منانی چاہیے، کہیں فسق و فجور کی کثرت تو انہیں نہیں لے ڈوبی ہے!!
مُنكر ان تمام چیزوں کا نام ہے جن سے ایک نیک فطرت اِبا کرتی ہے، چاہے وہ ناانصافی ہو، رشوت کا چال چلن ہو، آرٹ اور فن کے نام پر بے حیائی اور فحاشی کی ترویج ہو، مے خانہ ہو یا قحبہ خانہ، مرکزِ قمار ہو یا ریس کورس، مرد و زن کے لئے بے محابا اختلاط کے کلب ہوں یا رقص گاہیں، فطرتِ اسلام ان سب سے اِبا کرتی ہے اور اگر ان منکرات کو حکومت کی سرپرستی حاصل ہو اور عوام الناس کی آشیرباد تو پھر ایسی سلطنت اپنے فسق کی بنا پر ہلاک کر دی جاتی ہے:
(وَإِذَا أَرَدْنَا أَن نُّهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِيرًا ﴿١٦﴾ (سورۃ بنی اسرائیل: 16)) (بنی اسرائیل: 16)
"اور جب ہم کسی بستی کی ہلاکت کا ارادہ کر لیتے ہیں تو وہاں کے خوشحال لوگوں کو (کچھ) حکم دیتے ہیں اور وہ اس بستی میں کھلی نافرمانی کرنے لگتے ہیں تو ان پر (عذاب کی) بات ثابت ہو جاتی ہے اور پھر ہم اسے تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔"
اور بعض دفعہ ظالموں کو دوسرے ظالموں کے ہاتھ ہی تباہ کر دیا جاتا ہے:
(وَكَذَٰلِكَ نُوَلِّي بَعْضَ الظَّالِمِينَ بَعْضًا بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ﴿١٢٩﴾ (سورۃ الانعام: 129)) (الانعام: 129)
"اور اس طرح ہم بعض ظالموں کو دوسرے ظالموں کے پیچھے لگا دیتے ہیں، ان کے اپنے اعمال کے سبب۔"
اور اسی سنتِ الٰہی کے تحت ظالم واشنگٹن کو ظالم عراق سے ٹکرا دیا گیا۔ حقیقی ایمان سے دونوں محروم تھے، اس لئے ایک زور آور طاقت کمزور طاقت پر غلبہ پا گئی جبکہ اہل ایمان کو باوجود قلتِ تعداد کے اللہ تعالیٰ غلبہ عطا کرتا ہے:
(كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّـهِ (سورۃ البقرۃ: 249)) (البقرہ: 249)
"بسا اوقات تھوڑی سی جماعتیں بہت سی جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غلبہ پا لیتی ہیں۔"
(5) قوت اور طاقت کی فراہمی
اہل ایمان کو دشمنانِ اسلام سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور قوت فراہم کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں سورۃ الحدید اور سورۃ الانفال کی دو آیات اہل اسلام کے لئے مشعل راہ ہیں:
(لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّـهُ مَن يَنصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ ﴿٢٥﴾ (الحدید: 25)) (الحدید: 25)
"یقینا ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (ترازو) نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں اور ہم نے لوہے کو اتارا جس میں سخت ہیبت اور قوت ہے اور لوگوں کے لئے اور بھی (بہت سے) فائدے ہیں اور اس لئے بھی کہ اللہ جان لے کہ اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد بن دیکھے کون کرتا ہے۔ بےشک اللہ قوت والا اور زبردست ہے۔"
شیخ عبدالرحمٰن بن ناصر سعدی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
"اللہ تعالیٰ کی قوت اور اعتزاز کا ایک مظہر یہ ہے کہ اس نے لوہے کو اتارا کہ جس سے مضبوط آلات بنائے جاتے ہیں۔ اس کی قوت اور اعتزاز کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ وہ اپنے دشمنوں سے انتقام لینے پر قادر ہے، لیکن وہ اپنے اولیا کو اپنے دشمنوں کے ساتھ بھڑا دیتا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ عالم غیب (یعنی اس دنیا میں) کون اس کی نصرت کرتا ہے۔
اس جگہ اللہ تعالیٰ نے کتاب اور لوہے کا ساتھ ساتھ ذکر کیا کیونکہ ان دونوں چیزوں کے ساتھ اللہ اپنے دین کی مدد کرتا ہے اور اپنے کلمہ کو بلند کرتا ہے، کتاب کے ساتھ کہ جو حجت اور برہان پر مشتمل ہے اور تلوار کے ساتھ جو اللہ کے اذن کے ساتھ نصرت لے کر آتی ہے۔
ان دونوں کا قیام عدل و انصاف کے ساتھ ہی ممکن ہے کہ جو باری تعالیٰ کی حکمت، کاملیت اور اس کے رسولوں کے ذریعہ بھیجی گئی شریعت کے کمال پر ایک دلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔" (14)
اس سلسلہ کی دوسری آیت میں ارشاد فرمایا:
(وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّـهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّـهُ يَعْلَمُهُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ ﴿٦٠﴾) (الانفال: 60)
"اور تم ان کے مقابلے کے لئے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو اور گھوڑوں کی تیار رکھنے کی، کہ اس سے تم اللہ کے دشمنوں کو خوف زدہ رکھ سکو اور ان کے سوا اوروں کو بھی، جنہیں تم نہیں جانتے، اللہ انہیں خوب جان رہا ہے۔ جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں صرف کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا۔"
(1) یہ نہیں کہا گیا کہ اتنی قوت فراہم کرو جتنی اعداءِ اسلام کے پاس ہے، بلکہ اتنی جتنی کہ تم استطاعت رکھتے ہو۔ اس میں افرادی قوت بھی آ جاتی ہے اور آلاتِ حرب بھی۔
(2) 'قوت' کا بیان کرتے ہوئے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: أَلا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ "تیر اندازی ہی قوت ہے، سنو! تیر اندازی ہی قوت ہے۔" (15)
یعنی زمانہ نبوت میں جو قدرت رائج تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا تذکرہ فرمایا۔ بعد کے ادوار میں مسلمانوں نے منجنیق، گولہ بارود اور دیگر آلاتِ حرب سے ایک قوم کو تقویت بہم پہنچاتی ہے، وہی قوت ہے۔ چاہے وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی شکل میں ہو، ایٹمی طاقت کے حصول میں ہو، لڑاکا طیاروں، جنگی بیڑوں اور آبدوزوں کا روپ رکھتی ہو، ٹینکوں، آرمرڈ گاڑیوں، میزائلوں کی صورت رکھتی ہو، ان سب کا حصول ضروری ہے!!
(3) رِّبَاطِ الْخَيْلِ (گھوڑوں کے دستوں) کے تیار کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اگر گھوڑے عسکری نقل و حرکت کے لئے استعمال ہوتے تھے تو آج ہر وہ گاڑی (جس کے انجن کی طاقت کو اب بھی ہارس پاور کی اصطلاح میں بیان کیا جاتا ہے) جو اس مقصد کے لئے استعمال ہو اور جس کی پیٹھ پر جنگ میں حصہ لیا جا سکے، رباط الخیل کے حکم میں ہے یعنی قوت کی فراہمی کے ساتھ اس قوت کے استعمال میں مددگار آلات دونوں مطلوب ہیں۔
(4) قوت کی فراہمی دورِ امن میں بھی مطلوب ہے تاکہ دشمن پر دھاک بٹھائی جا سکے، دشمن کی تیاریوں سے غافل رہنا اور پھر اچانک حملے کی صورت میں سراسیمگی کا شکار ہو جانا ایک مسلمان کے شایانِ شان نہیں ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رومیوں کے متوقع حملہ کی پیش بندی کے لئے خود بنفس نفیس لشکر اِسلام کے ساتھ تبوک جانا اسی مقصد کی خاطر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مملکتِ اسلام کی سرحدوں تک جانا دشمن کے لئے ہمت شکن ثابت ہوا اور انہیں حملہ کرنے کی جراءت نہیں ہوئی۔
(5) قوت کی فراہمی میں جو کچھ خرچ کیا جائے گا، فی سبیل اللہ کے حکم میں ہے جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔
ان متذکرہ باتوں کے علاوہ دشمن کے مقابلہ میں عددی قوت اور قوتِ حربیہ کے ضمن میں سورۃ الانفال کی چند مزید آیات پیش نظر رہیں:
(يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ ۚ إِن يَكُن مِّنكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُم مِّائَةٌ يَغْلِبُوا أَلْفًا مِّنَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُونَ ﴿٦٥﴾ (الانفال: 65)) (الانفال: 65)
"اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! ایمان والوں کو جہاد کا شوق دلاؤ۔ اگر تم میں بیس بھی صبر کرنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب رہیں گے اور اگر تم میں سے ایک سو ہوں گے تو ایک ہزار کافروں پر غالب رہیں گے۔ اس واسطے کہ وہ بے سمجھ لوگ ہیں۔"
چونکہ قتال سے بھاگنا ان سات کبیرہ گناہوں میں سے ہے جن کے بارے میں سخت وعید آئی ہے۔ (16) اس لئے بتا دیا گیا کہ دشمن کے مقابلے میں ثابت قدمی کی حد کیا ہے۔ یہ آیات شروع اسلام کی ہیں جب ایمانی طاقت اپنے عروج پر تھی اور مسلمان تعداد کے اعتبار سے قلیل تھے، اس لئے دس گنا دشمن کے مقابلے میں ہٹنے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ مردانہ وار مقابلہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ بعد میں جب مسلمانوں کی تعداد بڑھ گئی تو اس حکم میں تخفیف کر دی گئی:
(الْآنَ خَفَّفَ اللَّـهُ عَنكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا ۚ فَإِن يَكُن مِّنكُم مِّائَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُمْ أَلْفٌ يَغْلِبُوا أَلْفَيْنِ بِإِذْنِ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ مَعَ الصَّابِرِينَ ﴿٦٦﴾) (الانفال: 66)
"اچھا اب اللہ تمہارا بوجھ ہلکا کرتا ہے، وہ خوب جانتا ہے کہ تم میں ناتوانی ہے، پس اگر تم میں سے ایک سو صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب رہیں گے اور اگر تم میں سے ایک ہزار ہوں گے تو وہ اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غالب رہیں گے۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔"
یعنی اگر دشمن دگنی تعداد میں ہو تو اس کا مقابلہ فرض ہے۔ راہِ فرار اختیار کرنا جائز نہیں۔ ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی متذکرہ بالا تعداد صبر (ثابت قدمی) کے ساتھ مربوط ہے۔ تھڑدِلے، بزدل اور پست ہمت نوجوانوں کی تعداد مراد نہیں، اور دوسرے یہ کہ یہاں جس دشمن کے سامنے کھڑے رہنے کا حکم دیا گیا ہے وہ کم و بیش ویسے ہی آلاتِ حرب استعمال کر رہا تھا جو مسلمانوں کے پاس تھے، بدر و اُحد میں دشمن کے پاس تلوار، تیر، نیزے بطور ہتھیار اور گھوڑے، اونٹ برائے بار برداری تھے اور تعداد کے تفاوت سے یہی چیزیں مسلمانوں کے پاس بھی تھیں۔ اس لئے یہ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کو بھی انہی آلاتِ حرب سے لیس ہونا چاہیے جو دشمنانِ اسلام کے استعمال میں ہیں، البتہ تعداد کی کمی ایمان اور صبر کے ہتھیاروں سے پوری کی جا سکتی ہے کہ جس کا حکم بھی اللہ ہی نے دیا ہے فرمایا:
(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ مَعَ الصَّابِرِينَ ﴿١٥٣﴾ (البقرۃ: 153)) (البقرہ: 153)
"اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعہ مدد چاہو۔ اللہ تعالیٰ صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے۔"
غزوہ موتہ (8 ھ) میں مسلمانوں کی تعداد تین ہزار تھی جب کے مقابلے میں قیصر روم کے باج گذار رئیس بلقان کی فوج کی تعداد ایک لاکھ تھی، گویا تفاوت کی نسبت ایک بمقابلہ دس نہیں بلکہ ایک مقابلہ تینتیس (33) تھی۔ پھر بھی مجاہدینِ اسلام نے سرفروشی کی مثالیں قائم کر دیں۔ زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم یکے بعد دیگر شہید ہوئے اور پھر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کمال دانشمندی سے باقی ماندہ فوج کو واپس لانے میں کامیاب ہو گئے۔ (17)
صرف قوت کی فراہمی پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ ایمان اور صبر کے ہتھیاروں کو حزرِ جان بنایا جائے:
(وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿١٣٩﴾)
"اور تم نہ سستی کرو اور نہ غمگین ہو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم ایماندار ہو" (آل عمران: 139)
اور کیا یہ حقیقت نہیں کہ ایک انسان تلوار ہاتھ میں رکھتا ہے، لیکن ذہنی طور پر اتنا بزدل ہے کہ اس کے بازو دشمن کے مقابلہ میں تلوار اُٹھا نہیں پاتے تو ایسی تلوار کس کام کی؟ ایسے ہی مسلمانوں کے پاس جدید سے جدید ٹیکنالوجی موجود ہو لیکن دشمن کی ایک بڑھک ان کے اوسان خطا کر دے تو پھر ایسی ٹیکنالوجی کا کیا حاصل؟ بقولِ شاعر:
اسدعكى وفى الحروب نعامة
هيفاء تصفر من صفير الصافر
"(بیوی اپنے شوہر سے مخاطب ہے:) میرے اوپر تو شیر بنا پھرتا ہے لیکن جنگ میں شتر مرغ، کہ ذرا سی آہٹ سے کلیجہ منہ کو آجاتا ہے۔"
ٹیکنالوجی علم سے وابستہ ہے۔ عالم اسلام میں جدید علوم کے حصول کے لئے زیادہ سے زیادہ جامعات قائم ہونی چاہئیں لیکن ان جامعات میں سیرت اور اعجازِ علمی سلیبس کا لازمی جزو ہونا چاہیے تاکہ مادی علوم کے ساتھ ایمان کو بھی جلا ملتی رہے۔
اعجازِ علمی سے ہماری مراد ہے کہ قرآن و حدیث میں ایسے بہت سے اشارات ملتے ہیں جو سائنسی حقائق کا پتہ دے رہے ہیں۔ رابطہ عالم اسلامی کے صدر دفتر مکہ مکرمہ میں اعجازِ علمی کا مستقل شعبہ قائم ہے جس میں اس موضوع پر سیر حاصل کام ہو چکا ہے۔ ان کے اس کام سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ مزید برآں ایسے اساتذہ کا انتخاب ہونا چاہیے جو سائنس کی تعلیم کے ساتھ طلبہ کے سینوں میں ایمان کی مشعلیں بھی فروزاں رکھیں۔
آج ہمارے کتنے عالی دماغ جوہر مغرب میں سائنس کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور کتنے ہی علم کے اعلیٰ مدارج حاصل کر چکے ہیں لیکن دیارِ مغرب کے ملحد ذہنوں سے تربیت پانے کی بنا پر حبِ عاجلہ کا شکار ہیں اور بجائے اوطانِ اسلام کو مضبوط کرنے کے اغیار کی خدمت کر رہے ہیں۔ ہمارے کتنے جرنیل مغرب کی عسکری تربیت گاہوں میں ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد معرکہ کفر و ایمان میں اپنی بے اعتقادی، ضعف ایمانی اور کم ہمتی کی بنا پر دشمنوں کے سامنے سپر ڈال چکے ہیں۔ سقوطِ بیت المقدس، سقوطِ ڈھاکہ اور اب سقوطِ بغداد انہی جرنیلوں کی سیہ کاریوں کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہوئے۔
(6) صفوں کی شیرازہ بندی اور داخلی اتحاد کی کوشش
اس وقت اُمتِ مسلمہ ستاون ممالک میں سیاسی برتری اور دنیا کے بیشتر ممالک میں اپنا ایک مستقل وجود رکھتی ہے، ہر مسلم ملک ایک اکائی کی حیثیت رکھتا ہے جو دوسری اکائیوں کے ساتھ مل کر ایک عظیم اتحاد کی شکل اختیار کر سکتا ہے، لیکن سب سے پہلے ہر اکائی کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
ان تمام عوامل کی بیخ کنی لازمی ہے جو ایک وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش میں لگے ہوں، ان میں سرفہرست برادری ازم، قبائلی عصبیت، علاقائیت، قومیت اور فرقہ واریت ہیں۔ کسی بھی اسلامی ملک کو دیکھ لیجئے، علاقائیت کا عفریت بھائی بھائی کے درمیان نفرت اور عداوت کے بیج بوتا نظر آئے گا۔ صومالیہ میں شمال و جنوب کی کشمکش، پاکستان میں شیعہ و سنی اور صوبائیت پر مبنی تعصبات کی آویزش، بنگلہ دیش میں سلہٹ اور غیر سلہٹی افراد کے درمیان تفاخر کی کیفیت، عراق میں تمام تر مصائب کے باوجود اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان اور پھر عربوں اور کردوں کے درمیان محاذ آرائی، افغانستان میں پختون، ازبک اور تاجک قوموں کے مابین تنافس جو امریکہ کے حملہ کے وقت کھل کر ظاہر ہو چکا، اس امر کی چند نمایاں مثالیں ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں جو معاشرہ قائم کیا تھا، اس کی بنیاد مہاجرین و انصار کے درمیان اُخوت، محبت اور یگانگت پر رکھی گئی تھی۔ مہاجر اور انصار کے دونوں معزز لقب اپنے اپنے اوصافِ حمیدہ کی بنا پر وحی الٰہی میں جگہ پا گئے:
(وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴿١٠٠﴾ (سورۃ التوبۃ: 100)) (التوبہ: 100) "اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور متقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں، اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔"
لیکن جب انہی دونوں جماعتوں کے دو افراد ایک کنویں سے پانی نکالنے پر جھگڑ پڑے اور مہاجر نے مہاجرین کی دہائی دی اور انصاری نے انصار کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب کام چھوڑ چھاڑ کر موقع نزاع پر پہنچے اور ببانگِ دُہل ارشاد فرمایا: (أبِدَعْوَى الجاهلية، وأنا بين أَظْهُرِكُم) "جاہلیت کا نعرہ لگاتے ہو، حالانکہ میں ابھی تمہارے درمیان ہوں۔" (18)
یعنی وہ معزز لقب جو ہجرت اور نصرت کے اعتبار سے انتہائی معزز اور قابل صد افتخار تھا، جب دو جماعتوں کو لڑانے کے لئے استعمال کیا گیا تو جاہلیت کا نعرہ کہلایا گیا، وہ جاہلیت جسے قبل از اسلام کفریہ دور سے تعبیر کیا جاتا تھا۔
کیا پاکستانی مسلمانوں کے لئے لمحہ فکریہ نہیں کہ یہاں بھی صوبائیت اور مہاجرت کے نام پر بھائی بھائی کی گردن کاٹی گئی ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے اور پھر بھی اللہ کی نصرت کی اُمید کی جاتی ہے!!
عرب ممالک میں قومیت کا نعرہ بڑی شان سے بلند کیا گیا، لیکن یہ نعرہ یہودیوں کی چھوٹی سی ریاست کا مقابلہ کرنے یا اہل فلسطین کو ان کی سرزمین واپس لوٹانے میں عربوں کی کوئی مدد نہیں کر سکا، عرب لیگ آج ایک بے جان لاشہ ہے جو تجہیز و تکفین کا منتظر ہے۔ صدام اور حافظ الاسد کی بعث پارٹی کے نام سے ایک بےخدا تحریک آپس میں جنگ و جدال، قتل و غارت اور سفاکی و درندگی کا ننگا ناچ ناچنے کے بعد خود بھی ڈوبی اور اپنی قوم کو بھی لے ڈوبی۔ کیا اب بھی اس کی باقیاتِ سئیہ سے خیر کی توقع کی جا سکتی ہے؟
(7) دین میں تفرقہ بازی سے اجتناب
فرقہ بازی کی تباہ کاریاں ہر کس و ناکس کے سامنے عیاں ہیں۔ کسی بھی خارجی یلغار کے وقت وقتی طور پر مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد دکھائی دیتا ہے، لیکن جونہی سیاہ بادل چھٹتے ہیں، دینی علم سے وابستہ افراد پھر ایک دوسرے کے خلاف چاند ماری شروع کر دیتے ہیں، گویا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کسی اور کے لئے نازل ہوا ہے:
(وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا) (آل عمران: 103)
"اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور پھوٹ نہ ڈالو۔"
(وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ۖ وَاصْبِرُوا ۚ إِنَّ اللَّـهَ مَعَ الصَّابِرِينَ ﴿٤٦﴾) (الانفال: 46)
"اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری کرتے رہو، آپس میں اختلاف نہ کرو، ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی اور صبر کرتے رہو۔ یقینا اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔"
کیا علماء، مشائخ اور طلبہ علم کا یہ فرض نہیں ہے کہ موجودہ پُرآشوب حالات میں اُمت مسلمہ کی صفوں میں مزید افتراق پیدا کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو قریب کرنے کی کوشش کریں، اس آیت میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ کیا قرآن و حدیث اُن اصولوں کی طرف رہنمائی نہیں کرتے جن سے آپس میں اتحاد پیدا کیا جا سکتا ہے!!
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا گیا کہ اہل کتاب کو چیلنج کیا جائے کہ جس 'کلمہ سواء' کا اقرار تمہیں بھی ہے اور مسلمانوں کو بھی، اس پر جمع ہو جاؤ تاکہ حق قبول کرنے کے لئے تمہارا سینہ کشادہ ہو سکے، کیا مسلمانوں کے پاس قرآن، احادیثِ صحیحہ اور اُسوہ حسنہ کی شکل میں اتحاد کی واضح اساسات موجود نہیں کہ صرف اُمت کی بھلائی کی خاطر اپنے مسلکی اختلافات کو اپنے گروہ کی حد تک محدود رکھیں اور ملکی سطح پر اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کریں۔
یقینا موجودہ مجلس عمل ایک انتہائی خوش آئند کوشش ہے لیکن یہ اتحاد صرف بغضِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے، اس کا مقصد صرف اسلام آباد کے ایوانوں تک پہنچنا نہ ہو، بلکہ اسے اپنی مساجد، اپنے مدارس اور اپنی خانقاہوں تک وسعت دی جائے تاکہ عوام الناس تک اسلام کی اعلیٰ تعلیمات کے عملی مظاہرہ سامنے آ سکیں۔
قرآن و سنت، اُسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور تعاملِ صحابہ اُمت کا مشترکہ سرمایہ ہیں۔ یہ ہمارے اتحاد اور طاقت کا باعث ہیں۔ اگر مسلمانوں کے تمام فرقے ان اساسات پر جمع نہیں ہو سکتے تو پھر انہیں محکومیت، اغیار کی غلامی، عمومی ذلت اور نکبت سے کوئی طاقت نہیں بچا سکتی۔ یہودیت اور عیسائیت کی تاریخ کے برعکس اللہ تعالیٰ نے اس امت کو دین حق پر قائم و دائم رکھنے کے لئے حفظِ قرآن (جس میں سنت بحیثیتِ شرح قرآن بھی شامل ہے) اور وجود طائفہ منصورہ کی شکل میں دو ایسے عوامل رکھے ہیں جو حق کو مٹنے یا دین میں تحریف پیدا ہونے سے مانع ہیں۔ طائفہ منصورہ سے ہماری مراد ہر وہ فرد، گروہ یا جماعت ہے جو اس حدیث کا مصداق ہے:
(لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَذَلِكَ) (19)
"میری اُمت میں برابر ایک گروہ ایسا رہے گا جو غالب رہے گا، حق پر ہو گا، انہیں چھوڑ کر جانے والے انہیں نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے گا۔"
اس حدیث کا ابہام دوسری روایت سے دور ہو جاتا ہے:
(لا تزال طائفة من أمتي يقاتلون على الحق ، ظاهرين على من ناوأهم ، حتى يقاتل آخـرهم المسيح الدجال) (20)
"میری اُمت میں سے ایک گروہ حق پر لڑتا رہے گا، اپنے مخالفین پر غالب رہے گا یہاں تک کہ ان کا آخری فرد (یا مجموعہ) مسیح دجال سے قتال کرے گا۔"
یعنی ایسے لوگ جن کی زبان، قلم اور ہاتھ سے حق کا ظہور ہوتا رہے گا اور وہ کسی بھی ملامت گر کی ملامت کی پرواہ کئے بغیر حق کا پیغام پہنچاتے رہیں گے، یہاں تک کہ اللہ کے حکم سے یہ دنیا اپنی آخری اجل کو پہنچ جائے گی۔
ایسی جماعت ہر وہ جماعت ہے جو عقیدہ توحید پر مضبوطی سے قائم ہو، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کو من و عن بیان کرنے کی پابند ہو، جس کی صفوں میں تقویٰ اور للہیت کا دور دورہ ہو، جس کی امارت برادری ازم، قبائلیت یا لسانی و صوبائی عصبیت یا خاندانی توارث کے لزوم سے مبرا ہو۔ صرف تقویٰ، صلاحیت اور حسن تدبیر (سیاستِ شرعیہ) کے بل بوتے پر منتخب کی گئی ہو۔ یہ سب نہ ہو تو صرف ادعاء پارسائی، منافقت اور مکاری کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔
(8) وسیع پیمانے پر مسلمانوں کا اتحاد
یہ ذمہ داری ان سیاستدانوں، حکمرانوں، قوموں کی قسمتوں سے کھیلنے والے جرنیلوں، بادشاہوں اور آمروں سے متعلق ہے جو یا تو آئینی طور پر، یا کسی کائناتی حادثہ کے طور پر، یا کسی داخلی یا خارجی طاقت کے اشارہ پر یا ایک تاریخی تسلسل کے طور پر حکومت کا بار اپنے ناتواں کندھوں پر اُٹھائے ہوئے ہیں۔ ان کی مجموعی تعداد مسلم ممالک کے اعتبار سے 57 بنتی ہے۔
خیال رہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ جس نے انگریزوں کے تسلط سے ایک طویل جنگ آزادی کے بعد 4 جولائی 1776ء کو جنم لیا تھا اور جو ابتدائی تیرہ ریاستوں سے بڑھ کر آج پچاس ریاستوں پر مبنی ایک عظیم الشان ملک ہے، اپنی طاقت کا راز کس چیز میں سمجھتا ہے؟
جوابا عرض ہے کہ پچھلے سال 'مجمع علماء الشریعہ، امریکہ' کے ایک اجلاس میں شرکت کے لئے واشنگٹن جانا ہوا، ہلٹن ہوٹل کی لفٹ میں چند لمحوں کے وقوف کے دوران لفٹ کی مختصر اسکرین پر ایک سطر بار بار فلیش ہو رہی تھی:
"ریاستہائے متحدہ امریکہ کی طاقت کا راز کیا ہے ۔۔ اتحاد"
یہ بھی واضح رہے کہ امریکہ میں ایک قوم نہیں بستی ہے، بلکہ قدیم ریڈ انڈین امریکنوں کی قلیل تعداد (جن کی اکثریت کی نسل کشی کی جا چکی ہے) کے علاوہ یورپ کے ہر خطے کے، بلکہ دنیا کے ہر علاقے کے لوگ موجود ہیں۔ انگریزی کے علاوہ جنوب کی ریاستوں میں اسپینش زبان کو بحیثیتِ ثانوی زبان کے لکھا اور بولا جاتا ہے۔ فرانسیسی اور جرمن کا بھی بعض علاقوں میں دور دورہ ہے۔ ایک صدی قبل شمال اور جنوب کی ریاستوں میں غلامی کے مسئلہ پر سخت محاذ آرائی بھی ہو چکی ہے، لیکن ان تمام منفی عوامل کے باوجود بین الریاستی اتحاد نے آج امریکہ کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں وہ کوس لمن الملک الیوم بجاتا نظر آتا ہے۔
بیشتر مسلم ممالک کی آزادی کی تاریخ چونکہ پچھلے پچاس ساٹھ سالوں سے متجاوز نہیں، اس لئے ان کا مقابلہ امریکہ جیسی وحدت سے کرنا صحیح نہ ہو گا۔ ہمارے اوپر ماضی کی اس نسل کو ہدیہ تبریک دینا فرض ہے جس نے انتہائی نامساعد حالات میں آزادی کی تحریکات برپا کیں اور پھر یورپ کی استعماری طاقتوں سے قربانی، سرفروشی اور بہادری کی لازوال داستانیں رقم کرنے کے بعد آزادی حاصل کی۔ یہ جدوجہد عوام، علما اور سیاستدانوں کی ملی جلی کوششوں کا نتیجہ تھی لیکن جس طرح بنی اسرائیل کا سیفنہ سیناء کی چالیس سالہ صحرا نوردی کے بعد جہاد و قتال کے مرحلوں سے گذرتا ہوا جب برامان تک پہنچا تو کچھ عرصہ کے بعد ہی بگاڑ کا شکار ہونا شروع ہو گیا۔ ایسے ہی مسلم ممالک کو یہ آزادی راس نہ آئی اور طالع آزما سیاست کے نتیجہ میں کشتیاں پھر گرداب میں پھنس چکی ہیں اور ساحل کا دور دور تک پتہ نہیں!!
اُمید کی چند کرنیں یقینا جگمگائیں، لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ ۔۔!!
٭ ستمبر 1969ء میں شاہ فیصل کی مہمیز اور چند دوسرے درد مند حکمرانوں کے تعاون سے مراکش میں اسلامی ممالک کی تنظیم OIC کا قیام عمل میں لایا گیا۔ مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور رشتہ یگانگت قائم کرنے کی یہ اچھی ابتدا تھی لیکن تنتیس سال گذرنے کے بعد بھی یہ تنظیم اپنی افادیت ثابت نہیں کر سکی ہے۔ سیاسی میدان میں چاہے فلسطین کا مسئلہ ہو یا کشمیر کے سلسلہ میں پاکستان کے موقف کی عملی حمایت، ایران و عراق کی آٹھ سالہ خونی جنگ ہو یا کویت پر عراق کا غاصبانہ قبضہ، کیا یہ تنظیم ان میں سے کسی بھی مسئلہ کو حل کر سکی ہے؟
٭ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں IFSTAD (انٹرنیشنل فاؤنڈیشن فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی) اور COMSTECH (سٹینڈنگ کمیشن فار سائنٹفک فار ٹیکنالوجیکل کو آپریشن) کا قیام نہایت خوش آئند اقدامات تھے، لیکن پہلا ادارہ تو سرے سے سر ہی نہ اُٹھا سکا اور دوسرا ادارہ بھی ایک کاغذی شیر سے بڑھ کر کچھ نہیں۔
٭ اقتصادی میدان میں IDB (اسلامک ڈویلپمنٹ بنک) اس لئے قائم کیا گیا تھا کہ بلا سود بنکاری کو فروغ دیا جا سکے۔ اس میدان میں یقینا کچھ پیش رفت ہوئی ہے لیکن 'او آئی سی' کو اپنی بقا کے جواز کے لئے کسی انقلابی اقدام کی ضرورت ہے۔
تنظیم کے پہلے سیکرٹری جنرل ملائیشیا کے تنکو عبدالرحمٰن نے اس تنظیم کو کھڑا کرنے، اس کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے اور اس کے ذیلی اداروں کو قائم کرنے میں بہت فعال کردار ادا کیا لیکن مقامِ افسوس ہے کہ ان کے اَخلاف ان کی اعلیٰ روایات کو باقی نہیں رکھ سکے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مہاتیر محمد (سابق وزیراعظم ملائیشیا) نے 'او آئی سی' کے آخری اجلاس میں اُمتِ مسلمہ کو درپیش جن مسائل کی طرف اشارہ کیا ہے، ان کے حل تلاش کرنے پر سنجیدہ گفتگو کی جاتی لیکن مقامِ افسوس ہے کہ مہاتیر محمد بھی نشست و گفتند و برخاستند سے آگے نہ بڑھ سکے۔ (21)
کیا مسلمانوں کے لئے یہ مقامِ عبرت نہیں کہ 1897ء میں بازل (سوئٹرزلینڈ) کے مقام پر پہلی صیہونی کانفرنس نے اپنے خفیہ اجلاسوں میں یہودیوں کی عزت و سربلندی کے لئے جو نقشہ پیش کیا تھا، اس پر خاموشی سے عمل ہوتا رہا یہاں تک کہ پچاس سالوں میں کاغذ کا یہ نقشہ زمین کا نقش بن گیا اور پھر اس کا پھیلاؤ ایک حقیقت بنتا جا رہا ہے۔ کیا مسلم ممالک کے زیرک اور 'عالی النسب حکمران' مسلمانوں کی عزت و افتخار کے لئے کوئی عملی نقشہ ترتیب دینے سے قاصر ہیں؟ أليس منهم رجل رشيد!!
(9) جہاد بمعنی عمومی جدوجہد
قرآن مجید میں جہاد کا لفظ اُنتیس (29) مرتبہ آیا ہے اور مجاہدین کا چار مرتبہ۔
'جہاد' مقابلے کی جدوجہد کا نام ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ سے ہر وہ کوشش مراد ہے جو اللہ کے دین کو پھیلانے کے لئے، اللہ کے کلمہ توحید کو سربلند کرنے کے لئے، اللہ کے احکامات کو نافذ کرنے کے لئے، اور فتنوں سے اسلام اور مسلمانوں کے تحفظ کے لئے کی جائے۔
٭ اس لفظ کا پہلا اطلاق قرآن کریم کے ذریعے امر بالمعروف اور نهى عن المنكر پر ہوتا ہے خواہ اس میں قتال موجود نہ ہو۔ سورۃ الفرقان مکی سورت ہے اور اس میں یہ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے:
(فَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَجَاهِدْهُم بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا ﴿٥٢﴾) (الفرقان: 52)
"پس آپ کافروں کا کہنا نہ مانیں اور قرآن کے ذریعہ ان سے پوری طاقت سے بڑا جہاد کریں۔"
چونکہ مکہ میں جہاد بمعنی قتال کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اس لئے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مکی جہاد کتاب اللہ کی تبلیغ و تنفیذ سے عبارت تھا جسے یہاں جہادِ کبیر کہا گیا ہے۔
٭ بنفس نفیس جہاد (بمعنی قتال) میں شریک ہونے کا جہاں بھی ذکر ہے، وہاں سوائے ایک جگہ کے، مالی جہاد کا ذکر جہاد بالنفس پر مقدم ہے۔ متعلقہ آیات ملاحظہ ہوں:
(لَّا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۚ فَضَّلَ اللَّـهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّـهُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَفَضَّلَ اللَّـهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا ﴿٩٥﴾)
"اپنے مال اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مؤمن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مؤمن برابر نہیں۔ اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے ایک درجہ فضیلت دے رکھی ہے اور یوں تو اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو خوبی اور اچھائی کا وعدہ دیا ہے لیکن مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر بہت بڑے اجر کی فضیلت دے رکھی ہے۔" (النساء: 95)
(إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ) (الانفال: 72)
"بےشک جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا"
(انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ) (التوبہ: 41)
"نکل کھڑے ہو جاؤ ہلکے پھلکے ہو تو بھی اور بھاری بھر کم ہو تو بھی اور راہِ رب میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔"
(لَا يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَن يُجَاهِدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۗ) (التوبہ: 44)
"اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان و یقین رکھنے والے تو مالی اور جانی جہاد سے رک رہنے کی کبھی تجھ سے اجازت نہیں طلب کریں گے ۔۔"
(لَـٰكِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ جَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ) (التوبہ: 88)
"لیکن خود رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ان کے ساتھ ایمان والے اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں"
(إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ ﴿١٥﴾) (الحجرات: 15)
"سوائے اس کے نہیں کہ مؤمن تو وہ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر (پکا) ایمان لائیں۔ پھر شک و شبہ نہ کریں اور اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہیں (اپنے دعوائے ایمان میں) یہی سچے اور راست گو ہیں۔"
(تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ) (الصف: 11)
"اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔"
اس تقدیم میں یہ حکمتیں پوشیدہ ہیں:
(1) ہر معرکہ سے قبل اس کے لئے مناسب تیاری کی ضرورت ہے جس میں مال ایک بڑا کردار کرتا ہے۔ اس لئے مالی ایثار کا مطالبہ سرفہرست رہتا ہے۔ غزوہ تبوک کے موقع پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سرمایہ فراہم کرنے کی ہی اپیل کی تھی۔ (22)
(2) مال کی قربانی، اپنی جان قربان کر دینے کے مقابلہ میں ثانوی حیثیت رکھتی ہے اور قاعدہ ہے کہ سب سے اونچی گھاٹی تک پہنچنے کے لئے نچلی گھاٹیوں کو عبور کرنا پڑتا ہے۔ جو شخص مال کی قربانی کے امتحان میں کامیاب نہ ہو سکا، وہ اس سے برتر امتحان میں کیسے کامیاب ہو گا۔
(3) جان کی قربانی کا مرحلہ صرف جہاد (یعنی قتال) کے موقع پر ہی آتا ہے جو ہر زمانہ میں میسر نہیں۔ اس کے برعکس مالی قربانی کا موقع ہر وقت موجود رہتا ہے۔ اس لئے مسلمانوں کے لئے جہاد کا ایک دائمی راستہ کھلا رکھا گیا ہے۔
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بہت سی حسنات کا ذکر کیا ہے وہاں یہ بھی ارشاد فرمایا: (وما نفعني مال أحد قط ما نفعني مال أبي بكر) (23)
"مجھے کسی کے مال نے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا ابوبکر کے مال نے۔"
٭ اسلام کے دفاع کے لئے زبان کا جہاد نص رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ بروایتِ انس بن مالک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَأَلْسِنَتِكُمْ) (24)
"مشرکین سے جہاد کرو اپنے مال سے، اپنی جان سے اور اپنی زبانوں سے۔"
زبانی جہاد میں بلاشبہ قلم بھی شامل ہے۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں کھڑے ہو کر مشرکین کی ہجو کرنا اسی جہاد کا حصہ تھا جس کی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تحسین فرمائی۔
ملعون سلمان رشدی اور اس سے قبل رنگیلا رسول جیسی ہفوات کے رد میں علماء اسلام کے خطابات، مقالات اور کتب یقینا اسی جہاد کی کڑیاں ہیں۔
قرآن کی وہ آیت جس میں نفس کا تذکرہ پہلے اور مال کا بعد میں، سورہ توبہ کی یہ آیت ہے:
(إِنَّ اللَّـهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ۚ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ وَالْقُرْآنِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّـهِ ۚ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴿١١١﴾)
"بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی۔ وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں جس میں قتل کرتے ہیں اور قتل کئے جاتے ہیں۔ اس پر سچا وعدہ کیا گیا ہے تورات میں اور انجیل میں اور قرآن میں اور اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو کون پورا کرنے والا ہے، تم لوگ اپنی اس بیع پر جس کا تم نے معاملہ ٹھہرایا ہے خوشی مناؤ اور یہ بڑی کامیابی ہے۔" (التوبہ: 111)
اس آیت میں نفس کے ذکر کو پہلے رکھنے میں یہ حکمت ہے کہ یہاں اللہ اور بندے کے درمیان ایک سودے کا ذکر ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو قتال فی سبیل اللہ کے عوض جنت کی پیشکش کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے سودا دو اَطراف کے درمیان ہوتا ہے۔ مال خود تو ایک پارٹی کی حیثیت نہیں رکھتا کہ اس سے سودا کیا جائے۔ یہاں ایک طرف اللہ تعالیٰ ہیں اور دوسری طرف اہل اسلام بنفس نفیس ہیں، اس لئے نفیس کا ذکر پہلے کرنا ضروری ہوا۔
(10) جہاد بمعنی قتال
دعوت اِلی اللہ کے نتیجہ میں جس جماعتِ حقہ کا ظہور ہوتا ہے اور پھر جب اسے حکومت کی شکل میں خلافت نصیب ہوتی ہے، اس خلافت کی حدود کی حفاظت کرنا اور دشمن کی یلغار کے وقت اس کا دفاع کرنا مسلمان پر فرض ہو جاتا ہے۔ یہ چاہے فرضِ عین ہو جبکہ ہر بالغ اور مستطیع شخص کو امیر وقت کی طرف سے قتال کے لئے بلایا جائے یا فرضِ کفایہ ہو کہ اُمت کے جنگجو افراد کی ایک معقول تعداد دشمن کے مقابلہ کے لئے کافی ہو، دونوں صورتوں میں یہ جہاد قیامت تک قائم و دائم رہنے والا ہے:
(الْجِهَادُ مَاضٍ مُنْذُ بَعَثَنِي اللهُ إِلَى أَنْ يُقَاتِلَ آخِرُ أُمَّتِي الدَّجَّالَ، لَا يُبْطِلُهُ جَوْرُ جَائِرٍ، وَلَا عَدْلُ عَادِلٍ) (25)
"جب سے اللہ نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے، جہاد جاری رہے گا یہاں تک کہ میری اُمت کا آخری حصہ دجال سے لڑائی کرے گا، اس جہاد کو نہ کسی ظالم حکمران کا ظلم منسوخ کر سکتا ہے اور نہ کسی عادل حکمران کا انصاف ہی اسے منسوخ کر سکے گا۔"
بعض دفعہ کسی عظیم منکر (جیسے ایک طاغوتی اور ظالمانہ حکومت) کو ختم کرنے کے لئے بھی جہاد اپنی سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کا دائرہ وسیع ہوتا چلا جاتا ہے۔ دعوتِ اسلام کے پھیلنے میں حائل رکاوٹوں کا مٹانا جسے قرآن کی زبان میں فتنہ کہا جاتا ہے، بھی اسی جہاد کا ایک حصہ ہے:
(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوا فِيكُمْ غِلْظَةً)
"اے ایمان والو! ان کفار سے لڑو جو تمہارے آس پاس ہیں اور ان کو تمہارے اندر سختی پانا چاہیے۔" (التوبہ: 123)
بےکس اور مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لئے نکلنا واجب ہے:
(وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَـٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا ﴿٧٥﴾) (النساء: 75)
"بھلا کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان ناتواں مردوں، عورتوں اور ننھے ننھے بچوں کے چھٹکارے کے لئے جہاد نہ کرو؟ جو یوں دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ان ظالموں کی بستی سے ہمیں نجات دے اور ہمارے لئے خود اپنے پاس سے حمایتی مقرر کر دے اور ہمارے لئے خاص اپنے پاس سے مددگار بنا۔"
(وَإِنِ اسْتَنصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ إِلَّا عَلَىٰ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ)
"اور اگر وہ تم سے دین کے بارے میں مدد طلب کریں تو تم پر مدد کرنا ضروری ہے، سوائے ان لوگوں کے کہ تم میں اور ان میں عہد و پیمان ہے۔" (الانفال: 72)
فتحِ مکہ کا سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ مسلمانوں کے حلیف بنی خزاعہ نے، قریش کے حلیف بنو بکر کی چیرہ دستیوں اور معاہدہ صلح حدیبیہ کی خلاف ورزیوں کے باعث آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے داد رسی چاہی تھی۔
واضح رہے کہ ملک کا دفاع کرنا تو مسلم و غیر مسلم سب جانتے ہیں۔ اس لئے دفاعی جہاد کے بارے میں تو سرے سے کوئی غلط فہمی ہونی ہی نہیں چاہیے، البتہ ایک مسلم حکومت اتنی طاقتور ہونی چاہیے کہ مظلوم مسلمانوں پر ظلم، تعدی، جبر و استبداد ہوتا دیکھئے ہوئے ان کی مدد کو آ کے۔ اس زمانہ میں فلسطین، کشمیر، بوسنیا اور چیچنیا کی مثالیں آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔
کیا یہ مقامِ افسوس نہیں کہ آج کل ایک سپر پاور صرف اقتصادی فوائد، سیاسی و عسکری برتری حاصل کرنے اور صیہونی ریاست کو تحفظ دینے کے لئے ہزاروں میل دور سے مسلم ممالک پر یکے بعد دیگرے شبخون مار رہی ہے اور عالم اسلام ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم کی تصویر بنا ہوا ہے۔ ہمارے حکمران اور بہت سے اہل علم معذرت خواہانہ انداز اپناتے ہوئے صرف یہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ اسلام صرف صلح و آشتی کا مذہب ہے، اسے لڑائی بھڑائی سے کیا سروکار!!
یقینا اسلام اصلا امن، صلح اور امان لے کر آیا ہے، لیکن اگر عصر حاضر کے جابر حکمران انصاف کی جگہ ظلم کا ساتھ دیں، نہتے لوگوں پر بم برسائیں اور ان کی بستیاں جلا کر خاک کر دیں، ایک جگہ کے باشندوں سے اس کا وطن چھین کر دوسرے لوگوں کو بخش دیں۔ شریعت کے نفاذ میں تعطل پیدا کرنے کے لئے طاقت اور دباؤ سے کام لیں، بے گناہ اشخاص کو بغیر کسی عدالتی فیصلہ/محاکمہ کے اذیت گاہوں میں قید کر دیں تو اسلام کے نام لیواؤں کا فرض ہے کہ وہ اسلام کے تصورِ جہاد و قتال کو بھی نظریاتی اور عملی، دونوں طرح لوگوں پر واضح کر دیں۔ اس ضمن میں سیرتِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں یہ ہدایات ملتی ہیں:
(1) جہاد کے لئے ہمیشہ اپنے آپ کو تیار رکھا جائے جس کا تذکرہ سورۃ الانفال کے ضمن میں آ چکا ہے۔
(2) جہاد کے لئے اپنے امیر کا ساتھ دیا جائے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بروایتِ ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ ارشاد فرمایا: (الْجِهَادُ وَاجِبٌ عَلَيْكُمْ مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ، بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا) (26)
"جہاد تمہارے اوپر واجب ہے، ہر امیر کے ساتھ، چاہے وہ نیک ہو یا گناہگار"
اور اس سے یہ اُصولی بات بھی طے ہو گئی کہ ایسے امیر کا انتخاب کیا جائے جو جہاد کا قائل ہو، اور اگر وہ سرے سے جہاد کا قائل ہی نہ ہو تو وہ جہاد کی طرف کیسے بلائے گا اور کیوں بلائے گا؟
(3) دشمن کے مقابلہ کے وقت دعا مؤمن کا ہتھیار ہے، لیکن یہ دعا اس وقت پُر تاثیر ہو گی جب مجاہدین واقعی جہاد کے لئے اٹھ کھڑے ہوں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے میدان میں اپنے تین سو تیرہ (313) جاں نثاروں کو لے آنے کے بعد ساری رات اللہ تعالیٰ سے فتح و نصرت کی دعائیں کرتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک کہہ دیا کہ
(اللهم أنجز لي ما وعدتني ، اللهم آتنى ما وعدتني ، اللهم إن تهلك هذه العصابة من أهل الإسلام لا تعبد في الأرض) (27)
"اے اللہ! جو وعدہ کیا ہے پورا کر، اے اللہ! مجھے وہ دے جس کا تو نے وعدہ کیا ہے، اے اللہ! اگر اہل اسلام کی یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو زمین میں پھر تیری عبادت نہ ہو گی۔"
البتہ اگر کہیں جہاد جاری ہو تو اس میں مال کے ساتھ بدرجہ اولیٰ اور دعا کے ساتھ بدرجہ اتم شامل رہنا چاہیے۔ نوازل کے وقت قنوتِ نازلہ کی پابندی اسی ذیل میں آتی ہے۔
ایک مشہور محدث یحییٰ بن معاذ الرازی نے ایک دن جہاد، أمر بالمعروف ونهى عن المنكر کے بارے میں وعظ کیا تو ایک عورت نے ان سے کہا: "یہ ایسا فرض ہے جو ہم عورتوں سے ساقط کر دیا گیا ہے۔" انہوں نے کہا: "مان لیا کہ تم سے ہاتھ اور زبان کا ہتھیار ساقط کر دیا گیا، لیکن دل کا ہتھیار تو ساقط نہیں کیا گیا۔" تو اس عورت نے کہا:
"تم نے صحیح کہا: اللہ تمہیں جزائے خیر دے۔" (28)
اور آخر میں اللہ تعالیٰ کی اس سنتِ ثابتہ کا تذکرہ مناسب ہو گا جس سے مسلمان کی عارضی ہزیمت کی حکمت عیاں ہوتی ہے۔
پہلے اس بات کا ذکر آ چکا ہے کہ مصائب کا نزول چاہے وہ آسمانی حوادث ہوں یا جنگ و جدال کی صورت میں جانی و مالی نقصان، مسلمانوں کے اپنے گناہوں کی پاداش میں نازل ہوتے ہیں، لیکن اس نقصان و ہزیمت کے وقت اہل ایمان اور اہل کفر و نفاق کے درمیان تمیز بھی ہو جاتی ہے۔ شکست کے اسباب میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اوامر کی نافرمانی، اپنوں کی بے وفائی اور غداری، جنگی چالوں میں بے بصیرتی اور تھڑدِلی، آلاتِ حرب کی کمی وغیرہ کئی عوامل کا دخل ہو سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ صابرین اور منافقین میں بھی امتیاز قائم ہو جاتا ہے، تاکہ آئندہ کا تدارک کیا جا سکے اور صفوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔
غزوہ اُحد کے موقع ہر عارضی ہزیمت کے ضمن میں اس سنت کا بیان ہوا:
(إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ ۚ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَتَّخِذَ مِنكُمْ شُهَدَاءَ ۗ وَاللَّـهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ ﴿١٤٠﴾)
"اگر تم زخمی ہوئے ہو تو تمہارے مخالف لوگ بھی تو ایسے ہی زخمی ہو چکے ہیں۔ ہم ان دنوں کو لوگوں کے درمیان ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔ (شکست اُحد) اس لئے تھی کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ظاہر کر دے اور تم میں سے بعض کو شہادت کا درجہ عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔" (آل عمران: 140)
(وَلِيُمَحِّصَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ ﴿١٤١﴾) (آل عمران: 141)
"اور (یہ وجہ بھی تھی) کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو بالکل الگ کر دے اور کافروں کو مٹا دے۔"
(أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّـهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ ﴿١٤٢﴾) (آل عمران: 142)
"کیا تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے، حالانکہ اب تک اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ تم میں جہاد کرنے والے کون ہیں، اور صبر کرنے والے کون ہیں۔"
غزوہ اُحد کی اس عارضی ہزیمت سے لے کر اگر ایک لمبی جست لگائی جائے اور پچھلی دو صدیوں کے ان معرکوں کا جائزہ لیا جائے جس میں ایک اچھی بھلی مسلمان قیادت کے ہوتے ہوئے بھی ہزیمت کے چرکے اُٹھانا پڑے، جیسے ٹیپو سلطان اور معرکہ سرنگاپٹم (1799ء) سراج الدولہ اور جنگِ پلاسی (1757ء)، شہیدین کا معرکہ بالا کوٹ (1836ء)، متحدہ پاکستان کے دور میں سقوطِ ڈھاکہ (1971ء)، سقوطِ بیت المقدس (1967ء) تو ان میں مذکورہ بالا عوامل میں سے کسی ایک کا یا ایک سے زائد کا دخل دکھائی دے گا۔
عقل مندی کا تقاضا ہے کہ اُمتِ مسلمہ منفی عوامل کا سدِباب کرے اور ان مثبت عوامل کو اپنائے جو اس کے لئے عزت و افتخار کا باعث ہو سکتے ہیں۔
اور آخر میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعاگو ہوں کہ اگر اس تحریر کا راقم کہیں بھی لغزش کا شکار ہوا ہے تو اسے اپنے عفو و درگزر سے ڈھانپ لے اور اگر حق و سچائی کی بات کی ہے تو اسے قبولیت سے نوازے۔ وصلى الله تعالىٰ على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) بروایت عائشہ رضی اللہ عنہا: احمد، مسلم، ابوداؤد
(2) بروایت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ: احمد، بخاری، ترمذی
(3) بروایت ثوبان رضی اللہ عنہ: ابوداؤد
(4) بروایت ثوبان رضی اللہ عنہ: مسلم، ترمذی، ابوداؤد
(5) اضافات بروایت ثوبان رضی اللہ عنہ: احمد، ابن ماجہ، حاکم
(6) بروایت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ: احمد، ابن حبان، حاکم، بیہقی
(7) ابن کثیر: البدایۃ والنہایۃ 345:4
(8) بروایت ابو امامہ: احمد، ابوداؤد
(9) بروایت معاذ رضی اللہ عنہ بن جبل: عقیلی، ابن عدی، طبرانی، ابو نعیم، بیہقی
(10) بروایت عمر رضی اللہ عنہ بن الخطاب: مالک، احمد، بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی
(11) بروایت عائشہ رضی اللہ عنہا: احمد، بخاری، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ
(12) ابن کثیر: البدایہ والنہایہ 41:5
(13) بروایت علی رضی اللہ عنہ: مسلم، نسائی
(14) عبدالرحمٰن ناصر سعدی: تفسیر بعنوان تیسیر الکریم الرحمٰن۔ ص 1431
(15) مسلم، ترمذی، ابوداؤد
(16) بروایت ابوہریرۃ: بخاری، ابوداؤد، نسائی
(17) ابن کثیر: البدایۃ والنہایۃ 281:4
(18) ابن کثیر: التفسیر 74:2
(19) بروایت ثوبان رضی اللہ عنہ: مسلم، ترمذی، ابن ماجہ
(20) بروایت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ: احمد، ابوداؤد، حاکم
(21) انگریزی جریدہ Impact عدد 11، 12 جلد 33، نومبر دسمبر 2003ء
(22) بروایت ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ: بخاری، مسلم
(23) بروایت ابوہریرۃ: ترمذی
(24) ابوداؤد، نسائی
(25) بروایت انس رضی اللہ عنہ: ابوداؤد
(26) بروایت ابوہریرۃ: ابوداؤد۔ یہ روایت ضعیف ہے، لیکن پچھلی حدیث (بروایت انس) اس کی شاہد ہے۔
(27) مسلم، ترمذی
(28) مجلہ البیان (لندن)۔ سال 2003ء کے اعداد