میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

1979ء میں پاکستان کی سرزمین پر پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر حدود قوانین کا نفاذ کیا گیا۔ ان قوانین کی وجہ نفاذ کی وضاحت کرتے ہوئے مسودہ قانون کے آغاز ہی میں بیان کیا گیا ہے کہ ان کے نفاذ کا واحد مقصد رائج الوقت قوانین کو ان سانچوں میں ڈھالنا ہے جو قرآن و سنت نے مقرر کئے ہیں۔ ان قوانین کے تحت قرآن و سنت کی روشنی میں قذف (بہتان)، چوری، ڈاکہ، شراب نوشی، زنا اور زنا بالجبر جیسے جرائم کی تعریف کا تعین کیا گیا اور اسلامی سزائیں لاگو کی گئیں۔ ان قوانین کی تفصیل حسب ذیل ہے:
1) Prohibition/Enforcement of Hadd Order IV of 1979.
حکم امتناع (نفاذِ حد) آرڈیننس۔ یہ قانون شراب نوشی اور منشیات کے انسداد اور سزا سے متعلق ہے
2) The Offences agaist property/enforcement of Hudood Ordinance No. VI of 1979. جائیداد سے متعلق (نفاذِ حدود) آرڈیننس
3) The Offence of Zina (enforcement of Hudood) Ordinance No. VII of 1979. جرم زنا (نفاذِ حدود) آرڈیننس
4) The Offence of Qazf (enforcement of Hudood) Ordinance No. VIII of 1979. جرم قذف (نفاذ حد) آرڈیننس
5) Executive of whipping Ordinance (10 of 1979)
اجرائے سزائے تازیانہ آرڈیننس
اس کے ساتھ ہی 1979ء میں نفاذِ حدود کے ضوابط اور طریقہ کار کا اعلان کیا گیا۔ اس سلسلے میں چاروں صوبوں کے لئے الگ الگ ضوابط نافذ کئے گئے۔
اس کے علاوہ محمد اسمٰعیل قریشی بنام پاکستان کے زیر عنوان ایک رٹ درخواست پر سپریم کورٹ کی ہدایت پر ایک کمیشن قائم کیا گیا تھا۔ جن میں ممتاز ماہرین قانون اور جید علما کرام شامل تھے۔ اس کمیشن کے چند ایک ارکان کے نام جو راقم الحروف کے ذہن میں محفوظ ہیں، وہ یہ ہیں: جناب اے کے بروہی، جناب خالد ایم اسحق، جسٹس محمد تقی عثمانی، مفتی سیاح الدین کاکا خیل، جناب جسٹس محمد افضل چیمہ، ڈاکٹر معروف دوالیبی اور حافظ صلاح الدین یوسف۔
اسی طرح اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی 2002ء میں حدود آرڈیننس کے مسودے پر نظرثانی کے لئے ایک اجلاس بلایا تھا۔ جس میں اعلیٰ پائے کے قانون دانوں اور علما نے شرکت کی اور اس قانون کی ایک ایک شق اور لفظ پر غور و خوض ہوا اور تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس نمائندہ اجلاس نے پوری ذمہ داری سے قرار دیا کہ ان قوانین میں ایسی کسی شق کی نشاندہی نہیں ہو سکی جسے تبدیل کرنے کی سفارش کی جا سکے۔
ایک طرف تو حدود قوانین کے نفاذ کا مذکورہ بالا پس منظر ہے۔ جبکہ دوسری طرف 'ترقی پسند اور روشن خیال' حلقوں کی جانب سے ان قوانین کے نفاذ کے ساتھ ہی اعتراضات کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری و ساری ہے۔ حدود قوانین پر تنقید و اعتراضات کی مہم کو نائن الیون کے واقعہ کے بعد سے ایک نیا جوش اور ولولہ حاصل ہوا ہے۔ اور تو اور خود پاکستان کے حکمران جناب جنرل پرویز مشرف صاحب متعدد بار اس خیال کا اظہار کر چکے ہیں کہ حدود قوانین کیونکہ فردِ واحد کے نافذ کردہ ہیں، اس لئے ان پر نظرثانی وغیرہ کرنے میں کوئی پابندی یا مضائقہ نہیں ہے۔ اپنے اس موقف کو تقویت دینے کے لئے جنرل صاحب نے 'نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن' کو حدود قوانین کا ازسرنو جائزہ لینے کا فریضہ سونپا۔
کمیشن کی چئیرمین ریٹائرڈ جسٹس واجدہ رضوی نے 2003ء کی آخری سہ ماہی میں اپنی جائزہ رپورٹ جنرل پرویز مشرف کو پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ حدود قوانین میں تبدیلیوں یا ترمیمات سے عورتوں کے حقوق پر پڑنے والے منفی اثرات کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے ان قوانین کو سرے سے ختم کر دینا ہی مناسب ہے۔ کمیشن کے دو ارکان نے البتہ اس رپورٹ سے اختلاف کیا اور ان قوانین کی منسوخی کے بجائے ان میں مناسب ترامیم کو ممکن قرار دیا۔ ان سفارشات کے آتے ہی حکومتی حلقوں نے سرگرمی سے حدود قوانین میں تبدیلی کے امکانات اور اثرات پر کام شروع کر دیا۔ اس صورت حال پر بعد ازاں ہیومن رائٹس کمیشن آف امریکہ کی ایک رپورٹ نے مہمیز کا کام کیا۔ یہ رپورٹ سال 2003ء میں دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے تیار کی گئی تھی جو مئی 2004ء میں پاکستان کے اخبارات کی زینت بنی۔ اس رپورٹ میں حدود قوانین کے ساتھ ساتھ قانونِ توہین رسالت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ قوانین انسانی حقوق کے عالمی چارٹر سے متصادم ہیں۔ مزید یہ کہ ان قوانین کی موجودگی میں پاکستان کی اقلیتیں اپنے آپ کو سخت غیر محفوظ اور ہراساں محسوس کر رہی ہیں۔ اس رپورٹ کی اشاعت کے چند ہی روز بعد جنرل پرویز مشرف صاحب نے ایک بیان کے ذریعے اپنے سابقہ موقف کا پرزور وعادہ کیا اور حدود قوانین کو ایک فرد واحد کے بنائے ہوئے قوانین قرار دیتے ہوئے ان پر نظرثانی اور ترامیم پر زور دیا۔ 5 جون 2004ء کو پاکستان کی وزارتِ قانون کی جانب سے قومی اسمبلی میں انکشاف کیا گیا کہ حکومت کے قانون سازی سے متعلق ادارے حدود قوانین میں ترامیم کی تجاویز پر تیزی سے کام کر رہے ہیں جن پر بہت جلد عمل درآمد کے لئے پیش رفت متوقع ہے۔
محدث (جنوری 2004ء) کے انہی صفحات میں حدود قوانین کے حوالے سے گذشتہ چند ماہ کی پیش رفت کی تفصیلی رپورٹ بھی شائع ہو چکی ہے، جس سے قارئین کو اس بحث کو اس کے حقیقی تناظر میں سمجھنے میں مدد ملے گی۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف امریکہ کی رپورٹ اور حکومتی رد عمل کے بعد ملک بھر میں حدود قوانین ایک مرتبہ پھر زیر بحث آ گئے ہیں۔ اسلامی حلقے ان قوانین کی منسوخی یا ترامیم کے خلاف سخت اقدامات کے اعلانات کر رہے ہیں۔ جبکہ مغربی سوچ سے متفق افراد اور این جی اوز ذرائع ابلاغ کے ذریعے حدود قوانین کے خلاف زور و شور سے مہم چلا رہی ہیں۔ ملک بھر کے انگریزی اخبارات اور ذرائع ابلاغ کی اکثریت مؤخر الذکر حلقوں کی ہم نوا بن چکی ہے اور عوام کے ذہنوں پر شکوک و شبہات کے گہرے سائے منڈلا رہے ہیں۔ لوگ ان قوانین کے بارے میں تفصیل جاننا چاہتے ہیں تاکہ وہ خود بھی ان کے بارے میں کوئی رائے قائم کر سکیں اور یہ جان سکیں کہ حدود قوانین سابقہ فوجداری تعزیری قوانین سے باہر ہیں یا ان کے نفاذ سے انسانی حقوق پر ناقابل تلافی زر پڑ رہی ہے اور ان کی منسوخی ہی اس نقصان کا واحد علاج ہے۔
سابقہ قوانین اور حدود آرڈیننس: ایک تقابل
اس مرحلے پر حد زنا آرڈیننس میں بیان کردہ جرائم کی تعریف اور سابقہ فوجداری قانون کا ایک تقابلی جائزہ دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔ موجودہ قوانین کے نفاذ سے قبل رائج الوقف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 497 میں لفظ 'زنا' کی تعریف بیان کی گئی تھی، وہ کچھ اس طرح سے ہے:
"جو کوئی کسی عورت کے ساتھ مباشرت کرتا ہے اور اس کے بارے میں اسے علم یا یقین ہے کہ وہ کسی اور کی بیوی ہے اور وہ اس شخص کی اجازت یا اس سے مشاورت کے بغیر اس فعل کا ارتکاب کرتا ہے، نیز اس کا یہ فعل زنا بالجبر کے زمرے میں بھی نہیں آتا تو تصور کیا جائے گا کہ اس نے زنا کے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ اس جرم پر اسے پانچ سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔ اس مقدمہ میں بیوی کو بطورِ 'ترغیب دینے والی' کے کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔"
اس کے مقابلے میں حد زنا آرڈیننس کی دفعہ 4 میں اس جرم کی تعریف بیان کی گئی ہے جسے مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے:
"ایک مرد اور ایک عورت جو جائز طور پر آپس میں شادی شدہ نہیں ہیں، زنا کے مرتکب قرار پائیں گے، اگر وہ ایک دوسرے کے ساتھ بغیر کسی جبر کے، رضامندی سے مباشرت کرتے ہیں۔"
سابقہ اور موجودہ قوانین کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو دونوں کے مندرجہ ذیل امتیازی نکات نکھر کر سامنے آتے ہیں۔
(1) سابقہ قانون کے مطابق خاوند اور بیوی کی رضا مندی سےاگر کوئی شخص بیوی سے جنسی فعل کا مرتکب ہو تو اسے جرم زنا کا مرتکب نہیں گردانا جا سکتا تھا لیکن موجودہ حدود قوانین نے یہ استثنا ختم کر دیا ہے۔ خاوند کی رضا مندی ہو نہ ہو، زنا اب ہر حال میں جرم قرار پاتا ہے۔
(2) سابقہ قانون میں زنا کی مرتکب عورت کا شوہر ہی اس کے خلاف مقدمہ درج کروا سکتا ہے کسی اور کو یہ حق حاصل نہیں تھا لیکن حدود قوانین کے مطابق کوئی بھی شہری مدعی بن سکتا ہے۔
(3) سابقہ قانون میں صرف کسی شادی شدہ عورت سے مباشرت کرنا جرم قرار پاتا تھا۔ زنا بجائے خود کوئی جرم نہیں تھا۔ بلکہ یہ فعل خاوند کے حق میں مداخلت کی وجہ سے جرم بنتا تھا۔ حدود قوانین نے یہ تخصیص ختم کر دی۔
(4) سابقہ قانون میں کسی غیر شادی شدہ عورت، کنواری لڑکی، بیوہ یا مطلقہ سے کیا گیا جنسی فعل زنا تصور نہیں ہوتا تھا۔ موجودہ قانون کے مطابق اپنی بیوی کے سوا کسی بھی شادی شدہ یا غیر شادی شدہ عورت سے مباشرت کو زنا قرار دے دیا گیا ہے۔
(5) سابقہ قانون میں صرف مرد ہی کو زنا کا ملزم قرار دیا جا سکتا تھا۔ زنا کے جرم میں شریک خاتون کے لئے کوئی سزا مقرر نہ تھی۔ اور اسے جنسی افعال کا مرتکب ہونے کی کھلی چھٹی حاصل تھی۔ حدود قوانین نے یہ استثنا ختم کر دیا ہے۔ اب باہمی رضا مندی سے زنا کے مرتکب ہونے والے عورت اور مرد دونوں ملازم قرار پاتے ہیں۔
(6) سابقہ قانون کی رو سے زنا کا جرم قابل راضی نامہ تھا۔ اگر مدعی ملزم کو معاف کر دیتا تو مقدمہ خارج کر دیا جاتا تھا۔ موجودہ قوانین نے اس جرم کو ناقابل معافی جرم کا درجہ دے دیا ہے۔
(7) سابقہ قانون میں جرمِ زنا قابل ضمانت تصور ہوتا تھا۔ ملزم گرفتاری کے فورا ہی بعد ضمانت کا حق رکھتا تھا۔ حدود قوانین نے اس جرم کو ناقابل ضمانت قرار دیا ہے۔ اب صرف مخصوص حالات اور موجبات ہی کی بنا پر ضمانت ہو سکتی ہے۔
(8) سابقہ قانون کی رو سے زنا کے جرم پر پانچ سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی تھیں، جبکہ موجودہ قانون مجرم کو حد کی صورت میں سنگسار کے ذریعے سزائے موت یا سو کوڑے اور تعزیر کی صورت میں دس سال قید بامشتق، 30 کوڑوں اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔
زنا بالجبر کے قوانین: تقابلی مطالعہ
اب آئیے زنا بالجبر کے حوالے سے قوانین میں ترمیم و اضافے پر ایک سرسری نگاہ ڈالتے ہیں، سابقہ قانون یعنی تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 375 میں زنا بالجبر کی تعریف کچھ اس طرح بیان کی گئی ہے:
مندرجہ ذیل صورتوں میں اگر ایک مرد کسی عورت سے مباشرت کرتا ہے تو یہ جرم ہو گا اور زنا بالجبر متصور ہو گا:
(1) عورت کی رضا مندی کے خلاف
(2) عورت کی رضا مندی کے بغیر
(3) عورت کی رضا مندی سے، مگر جب یہ رضا مندی اسے جان سے مارنے یا مضروب کر دینے کا خوف دلا کر حاصل کی گئی ہو۔
(4) عورت کی رضا مندی سے، جب مرد کو تو یہ معلوم ہو کہ وہ اس کا خاوند نہیں ہے، لیکن عورت یہ یقین رکھتی ہو کہ اس شخص کے ساتھ اس کا قانونی نکاح منعقد ہو چکا ہے۔
(5) عورت کی رضا مندی سے یا اس کے بغیر جب عورت کی عمر 15 سال سے کم ہو۔ (ایک مرد کا اپنی بیوی سے جب اس کی عمر 13 سال ہو چکی ہو، مباشرت کرنا زنا بالجبر کے زمرے میں نہیں آتا۔)
تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 376 میں زنا بالجبر کی سزا بیان کی گئی ہے جو مندرجہ ذیل ہے:
"زنا بالجبر کا ارتکاب کرنے والے کو عمر قید یا دس سال کی قید اور جرمانہ کی سزا دی جائے گی۔ اگر زیادتی کا شکار اس کی اپنی بیوی ہے اور اس کی عمر 12 سال سے اوپر ہے تو اسے دو سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں سنائی جا سکیں گی۔"
سابقہ مذکورہ بالا قانون کے مقابلے میں موجودہ حدود قوانین کی دفعہ 6 میں زنا بالجبر کی تعریف کی گئی ہے۔ جس کا مفہوم حسب ذیل ہے:
"جائز نکاح کے بغیر کسی مرد یا عورت سے مباشرت کرنا زنا بالجبر کہلائے گا۔ بشرطیکہ یہ مباشرت مندرجہ ذیل حالات میں کی گئی ہو:
(1) زیادتی کا شکار کی رضا مندی کے خلاف
(2) زیادتی کے شکار کی رضا مندی کے بغیر
(3) زیادتی کے شکار کی رضا مندی سے، جبکہ یہ رضا مندی اسے موت یا زخمی کرنے کے خوف میں مبتلا کر کے حاصل کی گئی ہو۔
(4) زیادتی کے شکار کی رضا مندی سے، جب مجرم تو یہ جانتا ہو کہ اس کا جائز نکاح منعقد نہیں ہوا ہے، لیکن زیادتی کا شکار سمجھ رہا ہے کہ اس شخص سے اس کا جائز نکاح ہو چکا ہے۔
حدود قوانین میں زنا بالجبر کا ارتکاب کرنے والے کے لئے حسب ذیل سزا تجویز کی گئی ہے:
(1) اگر ملزم مرد یا عورت شادی شدہ (محصن) ہے تو اسے سرعام سنگسار کر کے سزائے موت دی جائے گی۔
(2) اگر ملزم مرد یا عورت شادی شدہ (محصن) نہیں ہے تو اسے سرعام 100 کوڑے لگائے جائیں گے اور مقدمہ کے حالات کے پیش نظر کوئی دیگر سزا بھی دی جائے گی۔ یہ سزا سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔
حدود زنا آرڈیننس کی دفعہ 10 میں مذکورہ بالا سزا میں تخفیف کے موجبات بیان کئے گئے ہیں، جن کا مختصر جائزہ حسب ذیل ہے:
(1) اگر زنا بالجبر کے جرم میں حد کے لئے دفعہ 7 کے مطابق مطلوبہ ثبوت اور شہادت میسر نہ آ سکے۔ اور قذف کی سزا جس میں حد جاری ہوتی ہے، مستغیث کو نہ دی گئی ہو تو حد جاری نہ ہو سکنے کی صورت میں مجرم کو تعزیری سزا دی جائے گی۔
(2) تعزیری سزا کے طور پر دس سال تک قید بامشقت، 30 تک کوڑے اور جرمانہ کی سزا بھی ہو گی۔
(3) اوپر بیان کردہ ذیلی دفعہ 4 کے تحت جرم کا ارتکاب کرنے والے کو چار سے پچیس سال تک قید بامشقت کی سزا کے ساتھ 30 تک کوڑے لگانے کا حکم بھی دیا جائے گا۔
(4) اگر دو یا دو سے زیادہ افراد باہم مشورہ سے زنا بالجبر کا ارتکاب کریں تو ان میں سے ہر ایک کو سزائے موت دی جائے گی۔
زنا بالجبر سے متعلق سابقہ اور موجودہ قوانین کا موازنہ کیا جائے تو جو تقابلی تصویر سامنے آتی ہے۔ اس کی تفصیل حسب ذیل ہے:
(1) تعزیراتِ پاکستان کے تحت صرف مرد ہی زنا بالجبر کا مرتکب قرار پا سکتا تھا۔ لیکن حدود قوانین کے تحت اب مرد یا عورت میں سے کوئی بھی ملزم ہو سکتا ہے۔
(2) سابقہ قانون کے مطابق 15 سال سے کم عمر عورت کے ساتھ اس کی رضا مندی سے کی جانے والی مباشرت بھی زنا بالجبر کہلاتی ہیں۔ جبکہ حدود قوانین میں سالوں کے بجائے بلوغ کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ اب کسی بھی نابالغ لڑکی سے زنا ہو، چاہے اس کی عمر 15 سال سے زائد ہی کیوں نہ ہو جائے، زنا بالجبر کہلائے گا۔
(3) حدود قوانین میں شادی شدہ عورت یا مرد کے لئے زنا بالجبر کی سزا سنگسار کے ذریعے سزائے موت اور غیر شادی شدہ کے لئے 100 کوڑے مقرر کی گئی ہے۔ جبکہ سابقہ قانون میں اس جرم کی سزا دس سال تک قید اور جرمانہ تھی۔
(4) حدود قوانین میں یہ اہتمام بھی رکھا گیا ہے کہ اگر تزکیہ الشہود (چار مردوں کی گواہی) کے معیار پر زنا بالجبر کا جرم ثابت نہ ہو سکے تو مقدمہ کے دیگر حالات و واقعات کی روشنی میں 4 سے 25 سال تک سزائے قید بھی دی جا سکے گی اور 30 کوڑے بھی مارے جائیں گے۔ اسی طرح اگر اس جرم کا ارتکاب دو یا دو سے زیادہ افراد ہم مشورہ ہو کر کریں تو ایسے تمام افراد کو سزائے موت بھی دی جا سکے گی۔
اغوا اور دھوکہ دہی: قوانین کا تقابل
زنا اور زنا بالجبر کے بعد اغوا، غیر فطری فعل کے لئے اغوا، عصمت فروشی۔ دھوکہ سے مباشرت اور عورت کو بھلا پھسلا کر لے جانے جیسے جرائم میں سابقہ اور موجودہ قوانین میں ایک طائرانہ نگاہ دلچسپی سے خالی نہ ہو گی۔ سابقہ قانون یعنی تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 366 میں 'اغوا' کی تعریف جن الفاظ میں بیان کی گئی ہے، ان کا ترجمہ اور مفہوم یہ ہے:
"اگر کوئی شخص کسی عورت کو اس نیت کے ساتھ اغوا کرتا ہے کہ وہ خود اسے مجبور کرے گا کہ وہ اپنی رضا مندی کے خلاف اس سے شادی یا مباشرت کرے یا پھر یہ امر معلوم ہونے کے باوجود کہ اسے اپنی مرضی کے خلاف کسی سے شادی یا مباشرت کرنے پر مجبور کیا جائے گا یا ورغلایا جائے گا۔ وہ ایسا کرتا ہے تو اسے دس سال تک قید اور جرمانہ کی سزا دی جائے گی۔ اسی طرح اگر کوئی شخص مجرمانہ دھمکی دے کر یا اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے یا کسی دوسرے طریقے سے کسی عورت کو مجبور کرتا یا ورغلاتا ہے کہ وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جائے یا یہ جانتے ہوئے کہ اس امر کا امکان موجود ہے کہ اسے مجبور کیا جائے گا یا ورغلایا جائے گا کہ کسی کے ساتھ مباشرت کرے، وہ ایسا کرتا ہے تو اسے بھی دس سال تک قید اور جرمانہ کی سزا دی جائے گی۔"
حدود قوانین میں اغوا کی تعریف دفعہ 6 میں بیان کی گئی ہے جو بالکل وہی ہے دفعہ 366 تعزیراتِ پاکستان میں وضع کی گئی تھی۔ البتہ حدود قوانین کے تحت اغوا کے جرم کی سزا میں اضافہ کیا گیا ہے۔ سابقہ قانون میں اغوا کا جرم ثابت ہو جانے پر دس سال تک قید اور جرمانہ کی سزائیں دی جا سکتی ہیں جبکہ حدود قوانین کے تحت اب یہ سزا بڑھا کر عمر قید کر دی گئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عدالت کو یہ اختیار بھی تفویض کر دیا گیا ہے کہ وہ مجرم کو 30 کوڑے بھی لگوائے اور نقد جرمانہ بھی عائد کرے۔
غیر فطری فعل
حدود قوانین میں غیر فطری فعل (لواطت) سے متعلق بھی قانون سازی کی گئی ہے۔ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 367 ان قوانین سے قبل اس جرم کا احاطہ کرتی تھی۔ دفعہ 367 میں غیر فطری فعل کی تعریف مندرجہ ذیل مفہوم میں کی گئی تھی:
"اگر کوئی شخص کسی کو اس نیت کے ساتھ اغوا کرتا ہے کہ وہ اسے مجروح کرے گا، یا غلام بنائے گا، یا اس کے ساتھ غیر فطری فعل کا مرتکب ہو گا، یا یہ علم رکھتے ہوئے کہ اس کے ساتھ ایسا عمل ہونے کا امکان ہے، اسے ایسے کسی خطرے میں مبتلا کرتا ہے تو اسے دس سال تک قید اور جرمانہ کی سزا دی جائے گی۔"
تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 367 کو ختم کر کے اس کی جگہ حدود آرڈیننس میں دفعہ 12 کو شامل کیا گیا ہے۔ جو کہ لگ بھگ مذکورہ بالا مفہوم ہی کی حامل ہے۔ ماسوائے اس کے کہ سابقہ قانون میں اس جرم کی سزا دس سال تک قید اور جرمانہ تھی۔ جبکہ موجودہ قانون میں اس سزا کی مدت میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 25 سال قید بامشقت اور جرمانہ تک بڑھ دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عدالت کو یہ اختیار بھی دے دیا گیا کہ وہ مجرم کو 30 تک کوڑے لگانے کا حکم بھی جاری کرے۔
عصمت فروشی
عصمت فروشی کا خاتمہ کرنے کے لئے بھی سابقہ قانون میں چند ایک تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 372 میں عصمت فروشی کی تعریف جن الفاظ میں بیان کی گئی تھی۔ ان کا مفہوم کچھ اس طرح سے تھا:
"اگر کوئی 18 سال سے کم عمر کے کسی فرد کو اس نیت سے فروخت کرتا ہے، کرایہ پر دیتا ہے یا کسی کے حوالے کرتا ہے، کہ اسے کسی بھی وقت عصمت فروشی یا مباشرت کے لئے یا کسی بھی غیر قانونی یا غیر اخلاقی مقصد کے لئے استعمال کیا جائے گا یا یہ علم رکھنے کے باوجود کہ ایسے فرد کو کسی بھی وقت ایسے کسی مقصد کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے تو ایسا کرنے والے شخص کو دس سال قید اور جرمانے کی سزا دی جائے گی۔"
تعزیراتِ پاکستان کی مذکورہ دفعہ 372 میں حدود قوانین کے ذریعے دو وضاحتیں بھی شامل کی گئی تھیں جو حسب ذیل ہیں:
(1) اگر کسی خاتون کو کسی عصمت فروش کے ہاتھ یا کسی ایسے شخص کے ہاتھ جو قحبہ خانہ چلاتا ہے، فروخت کر دیا جاتا ہے یا کرائے پر دیا جاتا ہے یا اس کے حوالے کر دیا جاتا ہے تو یہی قیاس کیا جائے گا کہ اس خاتون کو عصمت فروشی کے لئے استعمال کرنے کی غرض سے اس کے حوالے کیا گیا ہے ماسوائے اس کے کہ اس کے برعکس ثابت کر دیا جائے۔
(2) ناجائز مباشرت سے مراد دو ایسے افراد کے درمیان مباشرت ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ جائز نکاح کے ذریعے شادی شدہ نہیں ہیں۔ یا ایسا تعلق رکھتے ہیں جو شادی تو نہیں کہلا سکتا لیکن کسی کے شخصی قانون یا کسی خاص طبقہ کی روایات یا جہاں دونوں مختلف طبقات سے تعلق رکھتے ہوں تو مختلف طبقات اسے شادی جیسا تعلق تسلیم کرتے ہوں۔
حدود آرڈیننس میں تعزیراتِ پاکستان کی مذکورہ بالا دونوں دفعات یعنی 372 اور 373 کو ختم کر کے ان کی جگہ متبادل دفعات 13 اور 14 شامل کی گئی ہیں۔ نئی دفعات میں تعزیراتِ پاکستان کی سابقہ دفعات 372 اور 373 کو عمومی طور پر برقرار رکھا گیا ہے۔ ماسوائے مندرجہ ذیل اُمور کے جنہیں مختصرا یوں بیان کیا جا سکتا ہے:
(1) سابقہ قانون میں صرف 18 سال سے کم عمر کی عورت کی خرید و فروخت اور عصمت فروشی کے لئے استعمال کو جرم قرار دیا گیا تھا۔ جبکہ حدود قوانین کے ذریعے کسی بھی عمر کی عورت کو کرایہ پر دینا یا عصمت فروشی کے لئے خرید و فروخت کرنا ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔
(2) تعزیراتِ پاکستان کے مطابق عصمت فروشی اور متعلقہ جرائم کے لئے 10 سال قید اور جرمانہ کی سزائیں مقرر تھیں۔ ان سزاؤں میں اضافہ کر کے عمر قید اور 30 کوڑوں تک سزا اور جرمانہ بھی عائد کرنے کا اختیار عدالتوں کو دے دیا گیا ہے۔
(3) تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 372 کی وضاحت نمبر 2 میں یہ الفاظ بھی استعمال ہوئے تھے:
"یا ایسا تعلق شادی تو نہیں کہلا سکتا لیکن کسی کے شخصی قانون یا کسی طبقہ کی روایات یا جہاں دونوں مختلف طبقات سے تعلق رکھتے ہوں تو مختلف طبقات اسے شادی جیسا تعلق تسلیم کرتے ہوں۔"
حدود قوانین میں یہ الفاظ حذف کر دئیے گئے ہیں۔
تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 493 میں 'دھوکہ سے مباشرت' کو بھی جرم قرار دیا گیا تھا۔ اس دفعہ میں کہا گیا تھا:
"اگر کوئی مرد دھوکہ سے ایک عورت کو یقین دلائے کہ وہ اس کی بیوی ہے، جبکہ وہ اس کی بیوی نہ ہو اور پھر اس سے مباشرت کرے تو اسے دس سال تک قید اور جرمانے کی سزا دی جائے گی۔"
مذکورہ بالا دفعہ 493 کی جگہ حد زنا آرڈیننس کی دفعہ 15 نافذ کی گئی ہے۔ حدود کے قانون میں اس دفعہ کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ صرف دس سال سزا میں اضافہ کر کے اسے 25 سال قید بامشقت، 30 کوڑوں تک سزا اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار بھی عدالت کو تفویض کر دیا گیا ہے۔
تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 498 میں کسی عورت کو بہلا پھسلا کر لے جانے کو جرم قرار دیا گیا تھا۔ اس دفعہ کی قانونی تعریف کچھ اس طرح سے تھی:
"اگر کوئی شخص کسی عورت کو اس نیت سے بہلا پھسلا کر لے جاتا ہے کہ وہ کسی شخص سے مباشرت میں ملوث ہو گی یا اس نیت سے کسی شادی شدہ یا کسی اور کے زیر ولایت عورت کو چھپا کر رکھتا ہے تو اسے دو سال قید اور جرمانہ کی سزا دی جائے گی۔"
حدِ زنا آرڈیننس میں مذکورہ دفعہ کے متبادل دفعہ نمبر 16 کا نفاذ کیا گیا ہے۔ دفعہ 16 کے الفاظ حسبِ ذیل ہیں:
"اگر کوئی شخص کسی عورت کو اس نیت سے بہلا پھسلا کر لے جاتا ہے کہ وہ کسی شخص سے مباشرت میں ملوث ہو گی یا اس نیت سے کسی عورت کو چھپا کر رکھتا ہے یا قید کرتا ہے تو اسے سات سال تک قید، 30 کوڑوں تک اور جرمانے کی سزا دی جائے گی۔"
یہ تو تھا ان تبدیلیوں کا اجمالی جائزہ جو حدود قوانین کے ذریعے تعزیراتِ پاکستان میں لائی گئی ہیں۔ اب قوانین کے اطلاق کا طریقہ کار سے متعلق بھی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔ حدود قوانین کے اطلاق کے لئے وہی طریقہ کار برقرار رکھا گیا ہے جو ضابطہ فوجداری میں پہلے سے موجود ہے۔ موجودہ قانون کی دفعہ 20 میں اس امر کی حسبِ ذیل الفاظ میں صراحت کی گئی ہے کہ اس ضمن میں بھی ضابطہ فوجداری کا اطلاق کچھ ضروری تبدیلیوں کے ساتھ ہو گا۔ تاہم موجودہ قانون کے تحت تمام مقدمات سیشن کورٹ میں چلائے جائیں گے اور سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل وفاقی شرعی عدالت میں کی جا سکے گی۔ دفعہ 21 میں یہ وضاحت بھی کر دی گئی ہے کہ حدود قوانین کے تحت جس عدالت میں مقدمہ چلے گا یا اپیل کی سماعت ہو گی اس کا جج مسلمان ہو گا۔ تاہم غیر مسلم کی صورت میں جج بھی غیر مسلم ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ سابقہ قانون میں یہ تخصیص موجود نہیں تھی۔
حدود آرڈیننس پر اعتراضات
اب آئیے ایک نظر ان اعتراضات پر ڈالتے ہیں جو حدود قوانین پر وارد کئے جاتے ہیں اور درست صورت حال کا تجزیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پہلا اعتراض: یہ قوانین فرد واحد نے جاری کئے اور ان کا نفاذ غیر جمہوری انداز میں ہوا۔
یہ اعتراض وہ ہے جو خود جنرل پرویز مشرف صاحب بھی متعدد بار اٹھا چکے ہیں۔ جنرل صاحب نے یہ اعتراض غالبا اس رپورٹ سے اخذ کیا ہے جو ان ہی کے تشکیل کردہ نیشنل کمیشن آف دی سٹیٹس آف ویمن کی سربراہ جسٹس (ر) واجدہ رضوی نے مرتب کر کے ان کی خدمات میں پیش کی تھی۔ اس رپورٹ میں حدود قوانین کو فردِ واحد کے نافذ کردہ قوانین قرار دے کر مکمل طور پر قابل تنسیخ ہونے کی سفارش کی گئی تھی۔ لیکن افسوس کہ صورتِ حال اس کے برعکس ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق جج، سابق وزیر اور اسلامی سکالر ڈاکٹر محمود احمد غازی نے اپنی کتاب 'پاکستان میں قوانین کو اسلامیانے کا عمل' میں تحریر کیا ہے کہ جناب شرف الدین پیرزادہ، جناب اے کے بروہی، جناب خالد ایم اسحق، جسٹس (ر) اے کے صمدانی، جسٹس (ر) محمد افضل چیمہ، جسٹس (ر) صلاح الدین، مولانا ظفر احمد انصاری، جسٹس (ر) مولانا تقی عثمانی، جسٹس (ر) پیر کرم شاہ الازہری بشمول ڈاکٹر محمد احمد غازی نے اسلامی نظریاتی کونسل میں مسلسل چودہ ماہ تک بحث و مباحثہ کے بعد سفارشات کو حتمی شکل دی اور ان سفارشات کی بنیاد پر ہی 1979ء میں حدود کے قوانین کا نفاذ کیا گیا۔ اس کے علاوہ شام کے سابق سپیکر ڈاکٹر معروف دوالیبی، شام کے معروف سکالر ڈاکٹر مصطفی زرقا اور سوڈان کے سابق اٹارنی جنرل سے بھی رائے لی گئی تھی۔ یاد رہے کہ اس آرڈیننس کے مسودہ کو عوامی رائے حاصل کرنے کے لئے قانون کے مطابق مشتہر بھی کیا گیا تھا۔
یہ درست ہے کہ حدود آرڈیننس منتخب اداروں کی عدم موجودگی میں نافذ کئے گئے تھے۔ لیکن یہ بھی ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ 1985ء میں جمہوری طور پر منتخب ایوان نے آئین میں آٹھویں ترمیم کے ذریعے ان قوانین کو منظور کر لیا تھا۔ اور اس کے بعد آنے والی تمام حکومتوں نے ان قوانین کو برقرار رکھا۔ خود جنرل پرویز مشرف نے میاں نواز شریف کی جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹنے کے برف جتنے قانون بنائے وہ خالصتا فردِ واحد کے بنائے ہوئے قوانین تھے۔ لیکن قومی انتخابات کے نتیجے میں جب اسمبلیاں عالم وجود میں آئیں تو 2003ء میں سترہویں ترمیم کے ذریعے جنرل صاحب نے ریفرنڈم سمیت نافذ کردہ قوانین اور احکامات کی اسمبلی سے توثیق کروا لی۔ اب اگر جسٹس (ر) واجدہ رضوی یہ سفارش مرتکب کریں کہ جنرل پرویز مشرف کے نافذ کردہ قوانین فرد واحد کے وضع کردہ ہیں، لہذا انہیں بہ یک جنبش قلم منسوخ کر دینا چاہیے تو اس اعتراض کا جواب حکومت کے پاس کیا ہو گا؟ اس مختصر بحث سے یہ امر روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتا ہے کہ نہ تو حدود آرڈیننس فردِ واحد کی ذہنی اختراع ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ کی سندِ توثیق سے محروم ہے۔ لہذا اگر یہ کہا جائے کہ یہ آرڈیننس ایک باضابطہ اور مستقل قانون کی حیثیت سے نافذ العمل ہے اور اس حوالے سے پر وارد کئے جانے والے اعتراضات وزن اور عقل سے خالی ہیں تو بے جان نہ ہو گا۔ مذکورہ بالا حقائق کی تصدیق حال ہی میں اسلامی نظریاتی کونسل کے ایک سابق چئیرمین ڈاکٹر ایس ایم زمان نے بھی کی۔ انہوں نے روزنامہ 'انصاف' لاہور (مؤرخہ 28 مئی 2004ء کو) انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ طویل غور و خوض کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل نے اس قانون کا اولین مسودہ تیار کیا تھا اور پھر قاعدے کے عین مطابق وزارتِ قانون پاکستان نے اس کا حتمی مسودہ مرتب کیا تھا۔
دوسرا اعتراض: خود اسلامی نظریاتی کونسل حدود قوانین میں ترامیم کی ضرورت کو تسلیم کر چکی ہے اور واجدہ رضوی کمیشن کے کچھ ارکان بھی ترامیم کے حق میں رائے دے چکے ہیں۔ لہذا ان قوانین میں تبدیلی اور ترمیم کی مخالفت کا کوئی جواز نہیں ہے۔
یہ اعتراض بادی النظر میں درست دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اگر اسلامی نظریاتی کونسل اور واجدہ رضوی کمیشن کے ارکان کی آرا کا بغور تجزیہ کیا جائے تو اصل صورت حال سامنے آ جاتی ہے۔ یہ درست ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے ایک پورا اجلاس اس موضوع کے لئے وقف کیا تھا۔ اور اس اجلاس سے قبل ایک کمیٹی بھی قائم کی تھی۔ اس کمیٹی میں ممتاز علما، نامور ماہرین قانون کے علاوہ بیرونِ ملک سے بھی سکالر حضرات شامل کئے گئے تھے۔ اس کمیٹی نے ایک ورکنگ پیپر تیار کیا۔ اس ورکنگ پیپر کی روشنی میں اسلامی نظریاتی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا۔ اور حدود قوانین کی ایک ایک شق پر بحث کے بعد سفارشات مرتب کر کے حکومت کو ارسال کی گئیں۔ روزنامہ انصاف لاہور (25 مئی 2004ء) اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چئیرمین ڈاکٹر ایس ایم زمان نے اس مسئلے پر بھی اظہارِ خیال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات پر اتفاقِ رائے ہے کہ حدود کے احکام ازلی، ابدی اور ناقابل تبدیل ہیں۔ حدود آرڈیننس میں چونکہ قرآن و سنت کے احکامات کو قانونی زبان میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور یہ ایک انسانی کوشش ہے اس لئے اس میں غلطی یا فروگذاشت کے امکان کو سرے سے رد نہیں کیا جا سکتا۔ اس حوالے سے قرآنی اور اسلامی نقطہ نگاہ کو سامنے رکھتے ہوئے مذکورہ قوانین پر نظرثانی سے کسی ایمان رکھنے والے مسلمان کو اعتراض نہیں ہو سکتا ۔۔۔
یعنی نظرثانی سے ہرگز یہ مراد نہیں ہے کہ قرآن و سنت میں موجود حدود کے احکامات پر بھی نظرثانی کی جا سکتی ہے۔ نظرثانی آرڈیننس میں دئیے گئے الفاظ کی ہونی چاہیے قرآنی احکامات کی نہیں۔ اور نظرثانی کرتے ہوئے یہ خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ یہ نظرثانی قرآن و سنت کے احکام کے اندر رہ کر ہو۔ ڈاکٹر زمان چونکہ واجدہ رضوی کمیشن میں بھی کسی نہ کسی حیثیت سے شامل تھے۔ اس لئے ان کے اس بیان کو مسترد کرنا مشکل ہے کہ واجدہ رضوی کی رپورٹ سرے سے غیر قانونی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ واجدہ رضوی نے طے شدہ اُصولوں اور طریقہ کار کو ترک کر کے ایک سازشی انداز اپنایا اور کراچی میں کمیشن کا ایک اجلاس منعقد کر کے ارکان سے صرف یہ پوچھا گیا کہ آپ ہمیں یہ بتائیں کہ آپ کس بات کے حق میں ہیں؟ اس قانون کو منسوخ کیا جائے یا اس میں ترمیم کی جائے۔ اس کے بیس روز بعد انہوں نے یہ عندیہ دیا کہ ارکان کی اکثریت نے یہ قانون منسوخ کرنے کے حق میں رائے دے دی ہے۔ اس طرح انہوں نے ایک نئی رپورٹ تیار کی جس کا اس مسئلے پر پہلے سے تیار کردہ ڈرافٹ سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اس نئی رپورٹ میں حدود قوانین کی منسوخی کی سفارش کی گئی تھی اور ترامیم کی مخالفت کی گئی تھی۔ اس رپورٹ کو کمیشن کی رپورٹ قرار دے کر وزیراعظم اور صدر کو بھجوایا گیا۔
دراصل اسپیشل کمیٹی کا اجلاس اور اس کے بعد نیشنل کمیشن برائے خواتین کا اجلاس دونوں غیر آئینی تھے۔ کیونکہ اس دوران کمیشن کے ارکان کی اکثریت کی میعادِ تقرری تین سال گزرنے پر پوری ہو چکی تھی اور وہ لوگ کمیشن کے ممبر ہی نہیں رہے تھے۔ صرف واجدہ رضوی اور دو ایک خواتین ایسی تھیں جو خالی نشستوں پر نامزد ہوئی تھیں اور ان کی مدتِ تقرری ابھی پوری نہیں ہوئی تھی۔ ڈاکٹر ایس ایم زمان جیسے معتبر گھر کے بھیدی کے انکشافات کے بعد یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے حدود آرڈیننس میں ترامیم کی حمایت کا حدود اربعہ کیا ہے اور واجدہ رضوی کمیشن کی طرف سے کی جانے والی سفارشات کی قانونی حیثیت کیا ہے؟
تیسرا اعتراض: حدود زنا آرڈیننس میں عورت کو گواہی سے محروم کر دیا گیا ہے۔ حد زنا آرڈیننس پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اس قانون کے ذریعے عورت کو گواہی دینے سے محروم کر دیا گیا۔ اگر کسی عورت کے ساتھ کسی ایسی جگہ زیادتی کی جاتی ہے جہاں کوئی مرد گواہی موجود نہ ہو اور صرف عورتیں ہی عورتیں ہوں تو موجودہ قانون کے تحت مجرم سزا سے صاف بچ جائے گا کیونکہ چشم دید گواہ خواتین کی گواہی قابل قبول نہ ہو گی۔
زنا آرڈیننس پر یہ اعتراض کمیشن آف انکوائری فار ومن (پاکستان) نے اپنی ایک رپورٹ (اگست 1997ء) میں اُٹھایا تھا۔ یہ اعتراض حد زنا آرڈیننس کی دفعہ 8 سے متعلق ہے جس میں کہا گیا ہے کہ زنا یا زنا بالجبر کا ثبوت جس میں حد جاری ہو گی، مندرجہ ذیل صورتوں میں کسی ایک صورت میں ہو سکتا ہے:
ا) ملزم کسی با اختیار عدالت کے سامنے اس جرم کے ارتکاب کا اعتراف کرتا ہے۔ یا
ب) کم از کم چار مسلمان گواہ جن کے بارے میں عدالت کو اطمینان ہو کہ وہ تزکیہ الشہود کی شرائط پورا کرتے ہیں، صادق ہیں اور کبائر سے اجتناب کرتے ہیں، گواہی دیں کہ وہ زنا کے ارتکاب کے عینی شاہد ہیں۔ اگر ملازم غیر مسلم ہو تو چشم دید گواہ بھی غیر مسلم ہو سکتے ہیں۔
ثبوتِ جرم زنا کے لئے چار گواہوں کی شرط قرآن حکیم کی سورۃ النساء آیت نمبر 15 اور سورۃ نور کی آیت نمبر 4 کی بنیاد پر قانون میں شامل کی گئی ہے۔ بادی النظر میں دفعہ 8 کے مطالعہ سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ عورتوں کو گواہی کے حق سے محروم کرنے کی حد تک یہ امتیازی قانون ہے لیکن اس قانون کے پردے میں چھپی ہوئی مصلحت پر غور کیا جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ خواتین کی عزت و تکریم کے پیش نظر ہے۔ اور عصر جدید میں جب جرح کے دوران چشم دین خواتین سے جرم زنا سے متعلق لوازمات اور جرم کے عمل سے متعلق مخصوص سوالات عزت دار مسلمان خواتین کے لئے ذہنی کوفت کا سبب بن سکتے ہیں اور بھری عدالت میں درست واقعات کے واضح بیان میں ہچکچاہٹ کا موجب بن سکتے ہیں۔ اس طرح خواتین کی فطری شرم و حیا کی وجہ سے مجرم سزا سے بچ سکتا ہے۔ نیز یہ کہ زنا بالرضا کی صورت میں چار مرد گواہوں کا میسر نہ آنا عورتوں کو سزا سے بچانے میں بھی ممد و معاون ثابت ہوتا ہے اور ان کے لئے سہولت کا باعث بنتا ہے۔
زنا بالجبر کا معاملہ البتہ زنا بالرضا سے مختلف ہے۔ اس جرم میں عورت صریحا زیادتی کا نشانہ بنتی ہے جن حالات میں یہ جرم سرزد ہوتا ہے ان میں عام طور پر چار غیر جانبدار مرد گواہوں کا موجود ہونا بھی ممکن نہیں ہوتا۔
ان تمام معاملات اور عورتوں کی گواہی کے حوالے اعلیٰ عدالتوں کے بہت سے فیصلے منظر عام پر آ چکے ہیں۔ قانونِ شہادت مجریہ 1984ء اور عدالتی فیصلہ جات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ این جی اوز کا یہ پروپیگنڈا کہ حد زنا آرڈیننس کے ذریعے عورتوں کو گواہی کے حق سے محروم کر دیا ہے، درست نہیں ہے۔
(1) قانونِ شہادت 1984 کے آرٹیکل 17 کی ذیلی دفعہ '2 بی' میں صراحت کی گئی ہے کہ
"حد زنا کے نفاذ سے قطع نظر، زنا کے مقدمے میں عدالت ایک مرد یا ایک عورت کی گواہی پر تعزیر کی سزا دے سکتی ہے۔ (یاد رہے کہ یہ سزا 10 سے 25 سال قید بامشقت اور جرمانہ ہے)"
(2) عدالت کو یہ بھی اختیارات حاصل ہیں کہ وہ اگر مناسب سمجھے تو جرمِ زنا کے اثبات کے لئے گواہوں کی تعداد اور اہلیت کے متعلق بھی فیصلہ کرے۔ عدالت عالیہ نے ایک مقدمہ میں اس اُصول کی حسبِ ذیل الفاظ میں صراحت کی ہے:
"قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ مقدمہ کے حالات و واقعات کے پیش نظر گواہوں کی تعداد اور اہلیت کے تعین کا اختیار عدالت کو حاصل ہے۔" (1992ء پاکستان کریمنل لاء جرنل صفحہ 1520)
(3) سپریم کورٹ، آزاد کشمیر نے قصاص اور زنا کے مقدمات میں عورت کی گواہی کے حوالے سے مندرجہ ذیل اُصول بیان کیا:
"قصاص اور نفاذِ حدود کے مقدمات میں بھی چار مرد گواہوں کی شہادت کے بعد مزید شہادت کے لئے عورتوں کی گواہی میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔"
(پی ایل ڈی 1979ء سپریم کورٹ (آزاد جموں کشمیر) صفحہ 56)
اس فیصلے سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ اگر خواتین یہ محسوس کریں کہ حد زنا کے کسی مقدمہ میں چار مرد گواہ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں یا درست گواہی نہیں دے رہے ہیں تو واقعہ کی چشم دید گواہ عورتیں بھی عدالت کے روبرو گواہی دے سکتی ہیں۔ اور اصل حقائق کو عدالت کے علم میں لانے کا حق رکھتی ہیں۔
(4) 1979ء میں ایک زنا بالجبر کے ایک مقدمے کا فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کراچی ہائی کورٹ نے صرف ایک مظلومہ عورت کے بیان کو کافی گردانا اور قرار دیا کہ
"زنا بالجبر کے کیس میں مقدمہ کے حالات و واقعات کے پیش نظر زیادتی کا شکار ہونے والی عورت کے بیان پر ملزم کو سزا دی جا سکتی ہے۔" (پی ایل ڈی 1979ء کراچی، صفحہ 147)
(5) وفاقی شرعی عدالت نے خود بھی بہت سے مقدمات میں عورتوں کی گواہی پر زنا بالجبر کے ملزمان کو سزائیں سنائی ہیں۔ اور عورتوں کو گواہی کے حق کو تسلیم کیا ہے اور اس سلسلے میں اسلامی فقہ کے اصولوں پر انحصار کیا ہے۔ جس کا ثبوت وفاقی شرعی عدالت کی مندرجہ ذیل نظیر سے ملتا ہے۔ متعلقہ مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے وفاقی شرعی عدالت نے قرار دیا ہے کہ
"حدود قصاص کی متعین سزاؤں میں اگرچہ بالعموم فقہا مردوں کی عینی شہادت کو لازم سمجھتے ہیں لیکن حدود سے فروتر تعزیری سزاؤں میں مردوں کی چشم دید شہادت اور شہادت بالقرائن کو بھی ائمہ سلف نے قابل قبول قرار دیا ہے۔" (پی ایل ڈی 1982 وفاقی شرعی عدالت ص 113)
جرم زنا سے متعلق قانون کے تحت عورتوں کی گواہی کا حق تسلیم اور مستند ہونے سے متعلق اور بھی بہت سے فیصلہ جات کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ لیکن مذکورہ بالا مختصر بحث سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ یہ کہنا غیر درست ہے کہ زنا سے متعلق جرائم کے مقدمات میں عورت کو گواہی کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ اگر تزکیہ الشہود کے معیار پر پورا اترنے والے چار مرد گواہی موجود نہ ہوں تو ملزم کو سنگسار کے ذریعے سزائے موت اور کوڑوں کی سزا نہیں دی جا سکتی۔ البتہ عورتوں سمیت دیگر گواہوں کی شہادت پر اسے دس سے پچیس سال تک قید سخت اور جرمانے کی سزا سنائی جا سکتی ہے اور یہ سزا اس سزا سے دوگنا ہے جو سابقہ قانون میں تجویز کی گئی تھی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ حدود قوانین میں عورت کو گواہی کے حق سے محروم نہیں کیا گیا ہے بلکہ ان قوانین کے توسط سے ایک عورت کی گواہی پر مجرم کو سابقہ قانون کی نسبت دوگنا زیادہ سزا کے مواقع میسر آ گئے ہیں۔
چوتھا اعتراض: حد زنا اور قذف کے قوانین عیسائیوں کے ازدواجی قانون سے متصادم ہیں جو عیسائی مذہب میں دخل اندازی کے مترادف ہے۔
اس اعتراض کا لبِ لباب یہ ہے کہ عیسائیوں کے قانونِ طلاق کی دفعہ 10 عیسائی میاں بیوی میں طلاق کو ممنوع قرار دیتی ہے۔ البتہ زوجین کے درمیان طلاق صرف اس صورت میں ہو سکتی ہے جب بیوی اپنے خاوند پر نہ صرف یہ کہ زنا کاری کا الزام لگائے بلکہ اسے ثابت بھی کرے۔ حدود قوانین کے ناقدین کا کہنا ہے کہ عیسائی قانون کے تحت اگر بیوی کا موقف درست ثابت ہو جائے تو خاوند کو لامحالہ حدود آدڈیننس کے تحت زنا کی سزا کا سامنا کرنے پڑے گا اور اگر بیوی یہ الزام ثابت نہ کر سکے تو اس کے خلاف قذف کا مقدمہ قائم ہو جائے گا۔ اس طرح حدود قوانین عیسائی عورتوں کے طلاق کے قانون میں مداخلت اور رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔ کمیشن آف انکوائری فار وومن پاکستان کی رپورٹ 1997ء کے صفحہ 74 پر بھی اس اعتراض کو پرزور طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔
جہاں تک اس اعتراض کا تعلق ہے، بظاہر تو اس میں وزن دکھائی دیتا ہے لیکن ذرا گہری نظر سے معاملات کا تجزیہ کیا جائے تو متعلقہ حدود قوانین کا پلڑا عیسائی زوجین کے حق میں سراسر جھکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ عیسائیوں کے قانونِ طلاق میں یہ وضاحت موجود ہے کہ طلاق صرف اس صورت میں منعقد ہو گی جب بیوی شوہر کے خلاف زنا کا نہ صرف الزام لگائے بلکہ اسے ثابت بھی کر کے دکھائے۔ باالفاظ دیگر طلاق صرف اسی وقت مؤثر ہو گی جب شوہر پر زنا کا الزام ثابت ہو جائے۔ یہ بات تو عیسائی بیوی کے حق میں جاتی ہے کہ اگر وہ خاوند پر زناکاری کا الزام ثابت کر دے تو طلاق کے ساتھ ساتھ اسے مجرم کو جرمِ زنا کی مروجہ سزا دلوانے کا استحقاق بھی حاصل ہو جائے۔ اسی طرح حدود قوانین کے ذریعے ایک عیسائی خاوند کو بھی یہ قانون حق حاصل ہو گیا ہے کہ اگر اس کی بیوی اس پر زنا کاری کا جھوٹا اور بے بنیاد الزام لگاتی ہے تو وہ اسے اس گھناؤنے طرزِ عمل پر عدالت کے کٹہرے میں لا سکے۔
حقیقتِ حال یہ ہے کہ حدود قوانین عیسائیوں کے قانونِ طلاق میں مداخلت یا مشکلات پیدا کرنے کے بعد طلاق کے مقدمے کا فیصلہ ہو جانے کے بعد مبنی برحق موقف رکھنے والے فریق کو مزید دادرسی کے مواقع مہیا کرتا ہے۔ مذکورہ بالا اعتراض ایک اور بنیاد پر بھی اپنی 'ہمہ گیری' سے محروم ہو جاتا ہے۔ اور وہ یہ کہ بہت سے عیسائی ممالک میں بھی 'روشن خیال' عیسائی فرقوں نے طلاق کے قانون میں اوپر بیان کردہ واحد وجہ میں وسعت پیدا کر لی ہے اور اب خاوند پر زناکاری کا جھوٹا یا سچا الزام لگائے بغیر متعدد دیگر موجبات کی بنا پر بھی عدالتوں کے ذریعے خاوند سے قانونی علیحدگی کا حکم نامہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
پانچواں اعتراض: اسلامی قوانین کا اطلاق مسلمانوں پر ہونا چاہیے، غیر مسلموں پر ان کا اطلاق درست نہیں ہے۔
یہ اعتراض خود بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں قابل استرداد ہے۔ کسی بھی ملک میں رائج قوانین کی دو اقسام ہوتی ہیں۔ ایک شخصی قانون جو مختلف طبقات کے دینی اور مذہبی عقائد کی روشنی میں ان پر لاگو ہوتا ہے مثلا شادی، طلاق، وصیت، ولایت اور وراثت وغیرہ سے متعلق قوانین اور دوسرے عمومی قوانین جو فوجداری اور دیگر دیوانی معاملات کو نپٹانے کا طریقہ کار اور ضوابط کا احاطہ کرتے ہیں۔ پوری دنیا میں یہ ایک مسلمہ قانونی اُصول ہے کہ ہر ملک میں آباد مختلف مذاہب کے لوگوں کے شخصی معاملات کا فیصلہ تو ان کے شخصی قانون کے مطابق کیا جاتا ہے لیکن دوسرے تمام ملکی قوانین جو امن و امان برقرار رکھنے یا جرائم کی سزاؤں سے متعلق ہیں، ان پر اُن ممالک میں اکثریتی آبادی کے رائج کردہ قوانین کے مطابق فیصلے کئے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر قتل کے کسی مقدمے میں کوئی مسلمان کسی مغربی غیر مسلم ملک میں یہ اصرار نہیں کر سکتا کہ عدالت قصاص اور دیت کے اسلامی قانون کے مطابق اس کے کیس کا فیصلہ کرے، نہ کبھی کسی اسلامی ملک نے مغربی دنیا سے ایسا کوئی مطالبہ کیا ہے۔ بالکل اسی طرح مغربی دنیا کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ایک اسلام ملک میں قرآن و سنت کی روشنی میں وضع کردہ، وہاں کے لوگوں کے دین عقائد سے ہم آہنگ قانون کی منسوخی کا مطالبہ کرے یا اسے ظالمانہ قرار دے۔
چنانچہ وفاقی شرعی عدالت نے زعفران بی بی کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ
"حدود قوانین ایک اسلامی ریاست کے شہریوں کو بلا تفریق جنس، دولت، مذہب، ذات، رنگ و زبان وغیرہ پرامن گزارنے کی ضمانت مہیا کرتے ہیں اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور دیگر تجاوزات کے مقابلے میں تحفظ فراہم کرتے ہیں۔"
مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں زیر بحث اعتراض، محض اعتراض برائے اعتراض کی حیثیت رکھتا ہے۔
چھٹا اعتراض: حد زنا آرڈیننس پر عمل درآمد کے دوران زنا یا زنا بالجبر کے مقدمات میں عورت تو ہر حال میں قانونی شکنجہ میں پھنس جاتی ہے لیکن مرد اکثر اوقات بچ نکلتا ہے۔
جہاں تک اس اعتراض کا تعلق ہے تو اس میں درحقیقت قانون پر نہیں بلکہ قانون پر عمل درآمد کے طریقے کو ہدفِ تنقید بنایا جاتا ہے۔ زنا بالرضا میں مرد اور عورت دونوں ہی قابل گرفت قرار دئیے جاتے ہیں۔ لیکن زنا بالجبر میں زیادتی کا شکار ہونے والی عورت کو گرفتار کرنا، حوالات یا جیل میں ڈالنا یا پھر سزا کا مستوجب قرار دینا بالکل غیر قانونی عمل ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے ایسے ہی ایک مشہور مقدمے میں حسبِ ذیل صراحت کی ہے:
"اگر کسی عورت کو زنا پر مجبور کیا جائے تو اس جرم کے سرزد ہونے کے بعد زیادتی کا شکار عورت کو کسی طرح کی سزا نہیں دی جا سکتی، چاہے وہ حد ہو یا تعزیر، البتہ دوسرا فریق جو زیادتی کا مرتکب ہوا ہے وہ نفاذِ حد یا تعزیری سزا کا مستحق ہے۔"
(پی ایل ڈی 2000ء وفاقی شرعی عدالت، صفحہ نمبر 1)
پولیس والے عام طور پر ایک غیر شادی شدہ عورت کے حاملہ ہو جانے پر اس کے خلاف حدود زنا آرڈیننس کے تحت پرچہ کاٹ کر اسے گرفتار کر لیتے ہیں اور اس کا جواز یہ بیان کرتے ہیں کہ اس کا غیر قانونی حمل ہی اس کے گناہ اور زنا کا مرتکب ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ایسی صورت حال میں کیونکہ فوری طور پر اس جرم میں شریک مرد کی شناخت یا علم نہیں ہوتا اس لئے صرف عورت ہی قانون کی گرفت میں آتی ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے اس صورت حال پر زعفران بی بی کیس (PLD 2000 FSC-1) میں واضح اور دو ٹوک فیصلہ دیا ہے۔ جس کا مفہوم حسب ذیل الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے:
"اگر کوئی غیر شادی شدہ عورت یا شادی شدہ خاتون جس کی رسائی اس دوران اپنے شوہر تک نہیں تھی، حاملہ پائی جاتی ہے اور یہ موقف اختیار کرتی ہے کہ یہ حمل زنا بالجبر کی وجہ سے قرار پایا ہے تو اس پر نفاذِ حد کی سزا لاگو نہیں کی جا سکتی۔ جب تک کہ اسے وہ تمام حالات بیان کرنے اور سچائی ثابت کرنے کا موقع نہ دیا جائے۔ اور یہ بات نکھر کر سامنے نہ آ جائے کہ اس جرم میں اس کی بلا جبر و اکراہ رضا مندی شامل تھی۔"
وفاقی شرعی عدالت کی اس صراحت کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس ضمن میں قانون میں کوئی سقم نہیں ہے۔ بلکہ ہوسِ زر میں مبتلا پولیس اہلکاروں کا 'دستِ کرشمہ سازی' اس لاقانونیت کا ذمہ دار ہے۔ حدود قوانین کے بجائے پولیس ضوابط میں مؤثر ترمیم کر کے اس لاقانونیت کے آگے بہتر بند باندھا جا سکتا ہے۔
ساتواں اعتراض: خواتین کی مغرب زدہ این جی اوز کی جانب سے حدود قوانین پر تنقید کے دوران یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دھوکہ دہی کا شکار ہو کر اغوا ہونے والی بے قصور خواتین کو بھی ان قوانین کی وجہ سے جرائم میں ملوث کر لیا جاتا ہے جو عورتوں کے ساتھ سراسر زیادتی کے مترادف ہے۔
اس اعتراض کا تعلق دراصل حد زنا آرڈیننس کا دفعہ 16 سے جڑا ہوا ہے۔ دفعہ 16 کا متن حسبِ ذیل ہے:
"جو کوئی کسی عورت کو اس نیت کے ساتھ بہلا پھسلا کر لے جاتا ہے کہ وہ اس شخص سے مباشرت کرے گی یا اس (مباشرت کی) نیت سے اسے چھپا کر رکھتا ہے یا قید کرتا ہے تو اسے سات سال تک قید، 30 تک کوڑوں اور جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔"
قانون میں وضع کی گئی مذکورہ بالا عبارت ہی سے عیاں ہے کہ دھوکہ کا شکار ہو کر اغوا ہونے والی عورت کو معصوم تصور کیا گیا ہے اور اس کے لئے نہ تو کسی قید، نہ کوڑوں اور نہ ہی جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ بلکہ یہ تمام سزائیں بیک وقت اس شخص کا مقدر بنائی گئی ہیں جو مباشرت کی نیت سے کسی عورت کو بہلا پھسلا کر اور دھوکے میں رکھ کر اغوا کرتا ہے یا اس غرض سے اسے اسیر بناتا ہے۔ یہاں بھی صورت حال وہی ہے جس کا تذکرہ پہلے ہو چکا ہے۔ یعنی اگر کسی ایسی مظلوم عورت کو گرفتار کیا جاتا یا حوالات میں بند کیا جاتا ہے یا اس پر مقدمہ قائم کیا جاتا ہے تو یہ قانون کی نہیں بلکہ اسے نافذ کرنے والوں کی بددیانتی ہے۔ ایک جائزے کے مطابق دفعہ 16 کے تحت عورتوں کو غلط طور پر ملوث کرنے کے راولپنڈی میں 37 فیصد اور اسلام آباد میں 43 فیصد واقعات ہوتے ہیں۔ باقی شہروں کے اعداد و شمار اگرچہ میسر نہیں ہیں لیکن اندازہ ہے کہ ان میں بھی عورتوں کو غلط طور پر ملوث کئے جانے کا تناسب اور شرح اِسی کے لگ بھگ ہو گی۔ اس صورتِ حال کے پیش نظر ایک بات تو طے ہے کہ اصل مسودہ قانون میں کوئی نقص نہیں ہے اور یہ قانون دھوکہ سے اغوا ہونے والی خواتین کے یکسر بے گناہ اور بے قصور قرار دیتا ہے۔ اس کے باوجود اگر دوسرے عام ملکی قوانین کی پولیس اہلکار اس قانون کو بھی حرام کمائی کا ذریعہ بنانے کے لئے غلط طور پر استعمال کر رہے ہیں تو ان کا محاسبہ ہونا چاہیے، نہ کہ قانون کو ختم کرنے یا تبدیل کرنے کے مطالبہ پر اصرار!!
حدود قوانین اور انسانی حقوق
آٹھواں اعتراض: حدود قوانین بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہیں، اس لئے انہیں منسوخ کر دینا چاہیے۔
یہ اعتراض بھی مغرب سے متاثر 'روشن خیال' حلقوں اور تنظیموں کی طرف سے گذشتہ کئی سالوں سے اُٹھایا جا رہا ہے۔ اس سال مئی میں حکومتِ امریکہ کے قائم کردہ انسانی حقوق کمیشن نے عالمی صورت حال سے متعلق جو رپورٹ حکومت امریکہ کو پیش کی ہے۔ اس میں بھی اس بات کا ذکر موجود ہے کہ پاکستان میں نافذ شدہ حدود قوانین کی وجہ سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ حکومتِ امریکہ اپنے سفارتی ذرائع استعمال کرے اور ان قوانین کو ختم یا تبدیل کروانے کے لئے اثرورسوخ بروئے کار لائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کے حوالے سے اس قانون کے معترض ان شقوں کی نشاندہی کرنے سے گریز کرتے ہیں جن کے بارے میں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہیں۔ بنیادی انسانی حقوق کی مجروح کرنی شقوں کی واضح نشاندہی نہ ہونے کے باعث اس اعتراض پر تفصیلی گفتگو ممکن نہیں ہے۔ لیکن ہم یہاں بنیادی انسانی حقوق اور معاشرتی امن و امان کے حوالے سے حدود آرڈیننس کے حسن و قبح کا خود ایک جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے 1948ء میں ایک عالمی ہیومن رائٹس ڈکلریشن جاری کیا تھا۔ اس اعلانِ حقوق انسانی میں واضح طور پر اس امر کی ضمانت موجود ہے کہ دنیا میں ہر شخص اور ملک کو اپنے دینی اور مذہبی عقائد کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی ہو گی۔ اسی طرح پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے بہت سے مقدمات میں بنیادی انسانی حقوق اور اسلام کے حوالے تعرضات پر مباحث کے بعد فیصلے صادر کئے ہیں۔ جن کا عطر یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے عالمی چارٹر اور اسلامی اُصولوں کی روشنی میں قرآن اور سنت اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سپریم قانون ہے۔ قرآن و سنت سے متصادم کوئی قانون سازی اس ملک میں نہیں کی جا سکتی۔ مزید یہ کہ مغرب اور دنیا میں مروجہ انسانی حقوق کی کوئی شکل اگر قرآن و سنت میں بیان کردہ اُصولوں سے متصادم ہو تو ایسی صورت میں وہ کالعدم قرار پائے گی اور قرآن و سنت کا اُصول اس پر مقدم سمجھا جائے گا۔ لہذا حدود آرڈیننس کی کسی شق کو وفاقی شرعی عدالت سے قرآن و سنت کے منافی قرار دلوائے بغیر انسانی حقوق سے متعلق کسی اُصول کو اس قانون سے فائق جان کو قانون کو تبدیل یا منسوخ کرنا غیر آئینی اور غیر قانون ہو گا۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ خود امریکہ کی سپریم کورٹ نے سوکس کیس (اے ایل آر: 871) میں فیصلہ کرتے ہوئے انسانی حقوق کے حوالے سے ایک اہم رائے کا اظہار کیا جس کا مفہوم حسبِ ذیل ہے:
"ایسا عمل جو شہریوں کی اکثریت کے مذہبی عقائد کو مجروح کرنے والا ہو، جرم کے زمرے میں آتا ہے۔"
پاکستان کے حدود قوانین بھی یہاں کے شہریوں کے مذہبی عقائد کی اکثریت کے ترجمان ہیں۔ لہذا اگر ان پر مغربی مفکرین کی آرا کو فوقیت دی گئی تو یہ بجائے خود ایک جرم کے مترادف ہو گا۔ آئیے اب دیکھتے ہیں کہ پاکستانی معاشرہ انسانی حقوق کے حوالے سے مندرجہ ذیل باتوں کو کس نظر سے دیکھتا ہے:
(1) کیا کسی غیر شادی شدی عورت کو اسلامی معاشرے میں یہ حق دیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے ساتھ جس مرد کے ساتھ چاہے زنا کرے اور اس پر کوئی قدغن نہ ہو؟
(2) کیا کسی شادی شدہ عورت یا اس کے شوہر کو یہ حق تفویض کیا جا سکتا ہے کہ وہ دونوں ہم رائے ہو کر کسی دوسرے شخص کو اس شادی شدہ خاتون سے زنا کرنے کی اجازت دے دیں۔
(3) یہ کہ ایک عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ زنا کے جرم میں تو برابر کی شریک ہو۔ لیکن زنا کا مقدمہ صرف مرد پر قائم کیا جائے اور عورت کو شریکِ جرم ہونے کے باوجود سزا سے مستثنیٰ سمجھا جائے۔
(4) کیا زنا کی مرتکب خاتون کا صرف شوہر ہی اس کے خلاف مقدمہ درج کروانے کا حق رکھتا ہے۔ اور شوہر سے چوری چوری اس جرم کی مرتکب عورت سے متعلق حقائق جاننے والے شخص یا اشخاص کو اس جرم پر معاشرہ کی بھلائی کے لئے مقدمہ درج کروانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔
(5) کیا زنا کے مرتکب عورت اور مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ زبردستی زنا کے بعد ایک دوسرے کو معاف کر دیں اور معاشرے میں برائی پھیلانے والے اس عمل پر ہر قانون کو غیر مؤثر بنا دیں۔
(6) کیا زنا بالجبر کا مجرم صرف مرد ہی ہو سکتا ہے۔ عورت اگر اس جرم کی مرتکب ہو تو کیا اسے حق حاصل ہے کہ اسے اس کام کی کھلی چھٹی دے دی جائے!!
یہ ہیں وہ بنیادی انسانی حقوق جو سابقہ قانون میں مہیا کئے گئے تھے اور حدود آرڈیننس نے جنہیں غیر قانونی قرار دے کر انہیں سزا کا مستوجب قرار دیا ہے۔ مغربی تہذیب میں واقعی یہ تمام اعمال بنیادی انسانی حقوق میں شامل تصور کئے جاتے ہیں اور رضامندی سے شادی شدہ عورتوں کا ارتکابِ زنا اور کنواری لڑکیوں کا بوائے فرینڈز سے جنسی اختلاط ان کا حق سمجھا جاتا ہے لیکن ایک اسلامی معاشرہ اپنے شہریوں کو مذکورہ بالا حقوق عطا کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اصل میں یہی تفاوت ہے جس نے اہل مغرب اور ان کی پروردہ این جی اوز کو پریشان کر رکھا ہے اور دنیا بھر میں حدود قوانین کے خلاف واویلا کیا جا رہا ہے۔ اس واویلے کا اصل مقصد بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ نہیں ہے بلکہ اسلامی معاشرے اور اسلامی اقدار کے استحکام کو روبہ تنزل کرنا ہے۔ حالانکہ پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت نے انسانی حقوق کے تحفظ کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے ایک فیصلے میں حسبِ ذیل رائے دی تھی:
"اسلام نے زنا کے جرم کو جتنا سنگین قرار دیا ہے اور اس کے لئے بطورِ حد جس قدر سنگین سزا مقرر کی ہے، اتنی ہی کڑی شرائط اس کے ثبوت کے لئے بھی رکھی ہیں۔ چنانچہ حد کے سلسلے میں اس کی گواہی کا معیار عام گواہیوں سے دوگنا ہے اور اگر اس کے الزام کو ثابت نہ کیا جا سکے تو الزام لگانے والے کو قذف کا مستوجب قرار دیا گیا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ شہادت کا یہ غیر معمولی معیار حد سے متعلق ہے لیکن تعزیر میں بھی اسلامی احکام کی اس روح کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ کسی شخص پر زنا کو اس وقت تک ثابت نہ مانا جائے جب تک عدالت مضبوط دلائل کی روشنی میں اس کے ارتکاب پر پوری طرح مطمئن نہ ہو جائے۔"
(پی ایل ڈی 1982ء ایف ایس سی صفحہ 87)
یہاں اس امر کی طرف اشارہ کرنا بھی مفید ہو گا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا یہ واویلا دراصل پاکستان کی ان این جی اوز کی رپورٹوں کی بازگشت ہے جسے وہ بڑے تواتر سے عالمی اداروں کو بھیجتے رہتے ہیں اور ان میں پاکستان کے فرضی اعداد و شمار پیش کر کے واقعاتی صورتحال کو بلاوجہ سنگین بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ان لادین این جی اوز میں قادیانی اور عیسائی بکثرت مصروفِ کار ہیں جو وسیع سہولیات اور بڑی تنخواہیں حاصل کر کے ملک کے خلاف یہ پروپیگنڈہ بڑے شدومد سے کر رہے ہیں۔ محدث کے ان صفحات میں اس سے قبل پاکستان کے خودساختہ انسانی حقوق کمیشن جو عاصمہ جہانگیر کے تحت مصروفِ کار ہے، کی رپورٹوں اور اقوام متحدہ و امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹوں میں حیران کن مماثلت کی باقاعدہ تقابل کے بعد نشاندہی کی جا چکی ہے۔ باخبر حضرات اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔ (اگست 1999ء)
علاوہ ازیں حدود آرڈیننس کے خلاف حکومت کی زیر نگرانی اس تحریک کا اہم مقصد اس لادین ثقافت کے لئے راستہ ہموار کرنا ہے جس کی طرف یورپی ممالک عرصہ دراز سے مسلم ممالک کو لانے کا منظم منصوبہ بنائے ہوئے ہیں۔ اس لادین ثقافت کو مسلم ممالک پر لاگو کرنے کے لئے پہلے قاہرہ کانفرنس، بعد ازاں بیجنگ پلس فائیو کانفرنس میں دنیا بھر کو انتہائی شرمناک ایجنڈا دیا گیا ہے، اس کے اباحیت پسند نکات کی نشاندہی اس سے قبل محدث کے صفحات (جولائی 2000) میں بارہا کی جا چکی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اس ایجنڈے کو ملک میں لاگو کرنے پر دستخط کر رکھے ہیں، اور یہ حدود قوانین دراصل اس ایجنڈے کی راہ میں رکاوٹ ہیں، جس کے لئے یہ تمام بھاگ دوڑ اور کشمکش جاری ہے۔
آج کل امریکہ کے زیر اثر اعلیٰ حکومتی حلقے اس امر کا تاثر دے رہے ہیں کہ وزارتِ قانون میں حدود آرڈیننس میں ترمیم کے لئے تیزی سے کام ہو رہا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کی طرف سے بھی عورتوں کے حقوق کا ایک بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کی منتخب اسمبلی بھی کسی ایسے قانون میں ترمیم یا اس کی تنسیخ کا اختیار رکھتی ہے جسے قرآن و سنت کے واضح احکامات کی روشنی میں تشکیل دیا گیا ہو۔ اور کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین کسی فردِ واحد، آمر یا جماعت کو اس بات کا اختیار تفویض کرتا ہے کہ وہ کسی رائج قانون کے کسی ایسے حصے کو جو صریحا قرآن و سنت کے تقاضوں اور تصریحات کے عین مطابق بنایا گیا ہو، اسے کالعدم یا غیر مؤثر قرار دے دے۔ یہ وہ سوالات ہیں جو براہِ راست ملتِ اسلامیہ پر قرض ہیں۔ عصر حاضر ملتِ اسلامیہ سے ان سوالات کے مؤثر اور واضح جواب کا متقاضی ہے!! (ڈاکٹر ظفر علی راجا، ایڈووکیٹ)