ہندومت اور بسنت کے تناظر میں
بسنت کو ایک مذہبی یا ثقافتی تہوار کہا جا سکتا ہے ۔۔؟ ہمارے ہاں اسے مسلمانوں کا مذہبی تہوار تو کوئی نہیں کہتا، البتہ بسنت کے حامی دانشور اسے ثقافتی تہوار بلا جھجھک قرار دیتے ہیں۔ وہ ایسا اس لئے سمجھتے ہیں کیونکہ ان کے ذہنوں میں مذہب اور ثقافت دو دو الگ خانے ہیں۔ ان کے برعکس اگر یہی سوال آپ ایک ہندو دانشور سے کریں، وہ اسے ترجیحا مذہبی تہوار کہے گا، مگر اسے ثقافتی تہوار کہنے میں بھی کوئی جھجک محسوس نہیں ہو گی۔ بسنت اگر برصغیر کا قدیم ثقافتی تہوار ہے اور ہمارے بعض دانشوروں کے بقول، یہاں کے لوگ اسے کسی مذہبی امتیاز کے بغیر مناتے رہے ہیں، تو پھر ایک ہی سوال کا ایک مسلمان اور ہندو دانشور ایک جواب کیوں نہیں دیتے۔ ہمارا خیال ہے کہ اس کنفیوژن کے ازالے کے لئے ضروری ہے کہ ہم پہلے مذہب اور ثقافت کے درمیان باہمی تعلق کا تعین کریں، اس کے بعد یہ علمی اُلجھن خود بخود دور ہو جائے گی۔
یورپ میں کلچر کو مذہب پر برتری حاصل ہے: مذہب اور کلچر کا باہمی تعلق کیا ہے؟ اس کا جواب مختلف تہذیبی پس منظر رکھنے والے افراد مختلف دیں گے، ایک یورپ کا جدید ذہن رکھنے والا شخص مذہب کو کلچر کا ایک عنصر یا جز سمجھتا ہے، اس کے نزدیک کلچر ایک برتر شے ہے۔ اگر کسی موقع پر کلچر اور مذہب کے درمیان اختلاف یا تصادم رونما ہو جائے، تو اہل مغرب مذہب کو نظر انداز کر دیں گے اور کلچر کو اس پر ترجیح دیں گے۔ یورپ کے لوگوں کی اکثریت اب بھی عیسائیت کو اپنا مذہب قرار دیتی ہے مگر یورپی معاشرے میں بہت سے قوانین، اقدار اور سماجی ادارے ایسے ہیں جن کا وجود عیسائیت کی تعلیمات سے لگا نہیں کھاتا مگر چونکہ عرصہ قدیم سے یہ اس معاشرے میں موجود ہیں لہذا وہ انہیں اپنے کلچر کا حصہ سمجھتے ہوئے خیرباد کہنے کو تیار نہیں۔
٭ جسم فروشی عیسائیت میں بھی ویسا ہی گناہ ہے جیسا کہ اسلام میں، مگر یورپ و امریکہ میں Prostitution کو ایک مستقل سماجی ادارہ کی حیثیت حاصل ہے۔ وہاں کے دانشور اسے تمام تر قانونی تحفظ دینے کی وکالت کرتے ہیں۔ ایک طوائف ان کے نزدیک سوشل ورکر ہے۔ ان کے خیال میں جسم فروشی کا قدیم ہونا بذاتِ خود اس کے جواز کے لئے کافی ہے۔
٭ شراب نوشی اور بے نکاحی جنسی تعلق ان کے مذہب میں جائز نہیں ہے، مگر اب ان کے کلچر کا حصہ بن چکا ہے، اسی لئے ایک یورپی ذہن ان سے بغیر کسی احساسِ گناہ کے شغف رکھتا ہے۔ یورپی تہذیب و تمدن، بود و باش اور رہن سہن، خوشی اور تفریح منانے کے بہت سے طور طریقے عیسائیت کی بنیادی تعلیمات کے منافی ہیں، مگر وہ ان پر جان چھڑکتے ہیں اور بےحد پرجوش طریقے سے ان کا دفاع کرتے ہیں۔ ان کی حکومتیں اگر چاہیں، ان پر قدغن عائد کر دیں تو وہ ان کے ردِ عمل کا سامنا نہیں کر سکیں گی۔
٭ ویلنٹائن ڈے کی ہر سال چرچ کی طرف سے مخالفت کی جاتی ہے اور اسے جنسی آوارگی اور بے حیائی کا فعل قرار دے کر مذمت کی جاتی ہے، مگر اس کو منانے والے ثقافت سمجھ کر مناتے ہیں۔ اس سارے استدلال کا لبِ لباب یہ ہے کہ جدید مغرب کلچر کے مقابلے میں مذہب کو ایک تابع ادارے (Subservient) کے طور پر دیکھتا ہے۔ ان کے ہاں کلچر کل کا درجہ رکھتی ہے اور مذہب محض اس کا ادنیٰ سا جز ہے۔ ان کے سیکولر دانشور تو مذہب کو اوہام کے مجموعہ سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں ہیں۔
ہندومت اور کلچر آپس میں مدغم ہیں!
ہندو تہذیب میں مذہب اور کلچر آپس میں اس طرح مدغم (sub-merge) دکھائی دیتے ہیں کہ شاید وہاں مذہب اور ثقافت کے باہمی تعلق کا سوال ہی زیادہ اہم نہ ہو۔ ہمارے ہاں جن باتوں کو خالصتا کلچر سمجھا جاتا ہے، ہندو انہیں بےحد مذہبی جوش و خروش کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ رقص کو دیکھئے، ایک مسلمان اسے گناہ سمجھتا ہے، مگر ہندو تہذیب نے اسے ایک عبادت کا درجہ دے رکھا ہے، یہی معاملہ موسیقی اور گانے بجانے کا بھی ہے۔ ہمارے ہاں ایک مذہبی ذہن رکھنے والا شخص رقص اور گانے بجانے سے تعلق رکھنے والے کو 'کنجر' قرار دے گا، مگر ہندو معاشرے میں ایسے افراد کو بےحد عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ہم آج بھی شادی بیاہ کی بہت سی رسومات کو محض کلچر سمجھ کر کرتے ہیں، مگر ہندو معاشرے میں شادی کی کوئی رسم نہیں ہے جو مذہب کا درجہ نہ رکھتی ہو۔ ان کے ہاں شاید ہی کوئی فعل ایسا ہو جو کلچر کا حصہ تو ہو مگر ہندو مذہب میں اس کی اجازت نہ ہو۔ ہندوستان کا مذہبی طبقہ صرف ان ثقافتی اقدار یا اعمال کو مذہب سے متصادم سمجھتا ہے جو دوسرے معاشروں سے برآمد کی گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رقص، موسیقی، ناچ گانے کو تقدس عطا کرنے والے ہندو معاشرے میں وہاں کا مذہبی طبقہ ویلنٹائن ڈے منانے کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ یہ خالصتا یورپی تہوار ہے۔
اسلام میں کلچر مذہب کے تابع ہے!
اسلام کا معاملہ یورپی اور ہندو، دونوں تہذیبوں سے مختلف ہے۔ اسلام انسانی معاشرے اور انسانی زندگی کو اس انداز میں منضبط کرنا چاہتا ہے جو اس کے مرکزی نظامِ حیات اور نظامِ اقدار سے مکمل طور پر مربوط ہو۔ انسانی معاشرے کا کوئی فعل جس قدر اس مرکزی دائرے کے قریب ہو گا، اس قدر اسے قدر و منزلت یا ثواب کا درجہ ملے گا۔ یہی وہ تصور ہے جس کی وجہ سے اسلام کو مکمل نظامِ حیات قرار دیا جاتا ہے۔ اسلام انسانی افعال کو واجب، مستحب، مباح، مکروہ اور حرام میں تقسیم کرتا ہے۔ ایسے افعال جن کے کرنے کا حکم دیا گیا ہو، اور نہ کئے جائیں، وہ اسلامی تصور کے مطابق گناہ کا درجہ رکھتے ہیں۔ مثلا نماز، روزہ، زکوٰۃ، سچ بولنا، انصاف کرنا، رزقِ حلال وغیرہ۔ ممنوعہ افعال بعض اوقات قابلِ تعزیر بھی ہوتے ہیں، مثلا چوری، زنا وغیرہ۔ اسلام ایک ایسی ثقافت کو پروان چڑھتے دیکھنا چاہتا ہے جو اس کے اپنے افکار و تعلیمات کے مطابق ہو۔ اسلام کا خوشی اور غمی منانے کا بھی اپنا تصور ہے۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو اس قدر باحمیت دیکھنا چاہتا ہے کہ وہ سماجی اعمال کے معمولی دائروں میں بھی دوسری قوموں کی مشابہت نہ کریں۔ کوئی ایسا کام جو بظاہر گناہ نہ ہو مگر اس کے کرنے سے دوسری قوموں سے مشابہت کا پہلو نکلتا ہو، اسلام ایسے افعال سے مسلمانوں کو بچنے کی تلقین کرتا ہے۔ اسلام کا حرام و حلال، گناہ و ثواب، جائز و ناجائز، مباح و مستحب کا ایک جامع تصور ہے جو اسے دیگر ادیان سے امتیاز عطا کرتا ہے۔ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو ثقافت کو اپنے اندر ضم کرنا چاہتا ہے۔ اسلام میں مذہب اور ثقافت کا تعلق بےحد واضح ہے، یہاں مذہب کو ایک برتر خدائی حکم کی حیثیت سے ہر اس ثقافتی عمل کو مسترد کرنے کا اختیار ہے جو اس کے بنیادی تصور سے متصادم ہو۔ اسلامی تصور کے مطابق مذہب کلچر کا محض ایک جزو نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا برتر نظام ہے جو ثقافت کو اپنے تقاضوں کے مطابق ڈھالتا اور تشکیل دیتا ہے!!
اسلام اور تہوار
اسلام کا آغاز عرب معاشرے سے ہوا۔ عرب معاشرے کی بہت سی اقدار اور رسومات ایسی تھیں جسے اسلام نے یکسر مسترد کر دیا، چند ایک سماجی اقدار ایسی تھیں جنہیں انسانی معاشرے کے لئے بےضرر یا فائدہ مند رکھتے ہوئے انہیں برقرار رکھا۔ یہاں واضح کر دیا جائے کہ تہواروں کا معاملہ ان برقرار رکھی جانے والی فہرست میں شامل نہیں تھا۔ تہواروں کو منانے کا معاملہ کسی بھی مذہب یا تہذیب کے لئے بنیادی فکری معاملہ ہے، یہ کسی بھی قوم کے فکری تشخص کو اُبھارتا ہے، اس لئے اسلام نے واضح طور پر اعلان کر دیا کہ مسلمانوں کے تہوار عیدین ہیں۔ حدیثِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے کہ "ہر قوم کی اپنی عیدیں ہیں، اور ہماری عید، عید الفطر اور عیدالاضحیٰ ہیں۔" یہی دو عیدیں مسلمانوں کے تہذیبی تہوار بھی ہیں۔ اسلام سے پہلے عرب معاشرے میں بہت سے تہوار اور میلے پائے جاتے تھے، ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں جسے اسلامی ثقافت نے 'بے ضرر' سمجھ کر گود لے لیا ہو۔
اسلام سے قبل اہل عرب عکاظ کے میلے میں بہت جوش و خروش سے شریک ہوتے تھے۔ اہل مکہ کے لئے تو یہ تجارت کا بھی ایک عظیم الشان موقع عطا کرتا تھا۔ یہی وہ میلہ تھا جس پر شاعروں کے کلام کے مقابلے ہوتے تھے اور سات منتخب شعرا کا کلام اس میلے میں آویزاں کیا جاتا تھا، مگر فتح مکہ کے بعد عکاظ میلے نے حج کے موسم کی تجارت کی شکل اختیار کر لی چنانچہ اس میں بےمقصد لہو و لعب اور بے حیائی کی رسومات خودبخود ختم ہو گئیں۔ اس طرح کے میلوں کو ترک کرنے کی دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ یہ خدا کی یاد سے غافل کرتے ہیں۔
مسلمانوں نے ایران کو فتح کیا، جو اس زمانے میں تہذیبی اور ثقافتی طور پر عربوں کے مقابلے میں بہت ترقی یافتہ تھا، مگر مسلمان ان کی تہذیب سے مرعوب نہ ہوئے بلکہ ایران کو اسلامی تہذیب کے سانچے میں ڈھالا۔ جشن نو روز ہزاروں سال سے ایرانی تہذیب کا اہم تہوار سمجھا جاتا تھا، مگر مسلمانوں نے اس کو ترک کر دیا۔ سپین پر مسلمانوں نے آٹھ سو برس تک حکومت کی، وہاں کی آبادی کی اکثریت عیسائی تھی، مگر کسی مسلمان حکمران نے کرسمس کا تہوار نہیں منایا۔
ہمارے ہاں جو لوگ بسنت کو ایک ثقافتی تہوار کی حیثیت سے منانے میں کوئی عیب نہیں دیکھتے، انہیں چاہیے کہ وہ ثقافت اور مذہب کے درمیان تعلق کو اس انداز میں دیکھیں جس طرح کہ اسلام چاہتا ہے۔ وہ تہواروں کو منانے کے متعلق اسلام کے تصور کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
نذیر احمد چوہدری صاحب اپنی کتاب 'بسنت، لاہور کا ثقافتی تہوار' میں لکھتے ہیں:
"بعض لوگ معترض ہیں کہ بسنت کا تہوار مذہبی طور پر 'حرام' ہے حالانکہ کسی بھی علاقہ کی ثقافت کا مذہب سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں سب سے بڑی مشکل اور ہماری سوچ کا اندوہناک پہلو یہ ہے کہ ہم نے آج تک مذہب اور ثقافت میں پائے جانے والے بنیادی فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ ثقافت کا تعلق کسی علاقے یا خطے پر رہنے والے لوگوں کے رہن سہن، رسوم و رواج اور طرزِ معاشرت سے ہوتا ہے اور ایک خاص خطہ کے رہنے والے لوگ صدیوں سے ایک خاص طرزِ زندگی اختیار کئے ہوئے ہیں چنانچہ ان کی ثقافت، ان کی سماجی، سیاسی، معاشرتی اقدار اور جذبوں کی امین ہوتی ہے۔ علاقائی، مذہبی یا ثقافتی تہوار اور میلے وغیرہ مخلوق خدا کو خوشی اور مسرت کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔" (ص: 24)
نذیر احمد چوہدری صاحب نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے۔ یہ محض مجرد فلسفہ ہے، برصغیر کے مسلم معاشرے پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اس ضمن میں درج ذیل تاریخی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا:
(1) یہ بات اُصولی طور پر درست نہیں ہے کہ کسی بھی علاقہ کی ثقافت کا مذہب سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ برصغیر کے ہندو معاشرے میں سینکڑوں ایسی باتیں تھیں جو مسلمانوں کی تہذیب سے متصادم تھیں، لہذا مسلمانوں نے ان کو رد کر دیا۔ ہندو گائے کا پیشاب پیتے ہیں اور گوبر کھاتے ہیں، ان کے ہاں بت پرستی ان کی ثقافت کا حصہ ہے۔ کیا مسلمانوں نے ان باتوں کو محض علاقائی ثقافت سمجھ کر قبول کر لیا؟ اسلام علاقائی ثقافت کو بعینہ قبول نہیں کر لیتا، بلکہ اس کی اصلاح کرتا ہے۔
(2) مسلمانوں کا رہن سہن اور طرزِ معاشرت، ہندوؤں سے واضح طور پر مختلف رہا ہے، اور یہ دو قومی نظریہ کی اساس بھی ہے۔ لاہور جیسے شہروں میں بھی عام طور پر مسلمانوں اور ہندوؤں کے الگ الگ محلے تھے۔ انارکلی بازار میں مسلمان اور ہندو مل کر خرید و فروخت کرتے تھے، مگر دونوں کی شکل و صورت اور لباس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ ان میں کون ہندو ہے اور کون مسلمان؟
(3) بسنت اور پتنگ بازی کا تعلق رہن سہن اور طرزِ معاشرت سے نہیں۔ بسنت بنیادی طور پر ایک ہندوانہ تہوار ہے جس کا اعتراف انہوں نے خود ہی اپنی کتاب میں ان الفاظ میں کیا ہے: "بسنت بنیادی طور پر ہندوؤں کا تہوار ہے مگر مسلمانوں نے اس میں دلچسپی لینا شروع کر دی۔" (ص: 18) جب وہ خود یہ اعتراف کرت ہیں تو پھر بسنت کے مخالف لوگوں کی سوچ کو 'اندوہناک' کیوں کر قرار دیتے ہیں۔ ان کی سوچ کا یہ افسوسناک پہلو قابل فہم نہیں ہے۔
(4) بسنت کے موقع پر جس قدر انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے، اور جس طرح بجلی بار بار جانے سے لاکھوں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی جاتی ہے اور اس قدر ہلڑ بازی مچائی جاتی ہے کہ الامان! یہ مخلوقِ خدا کے لئے ایک روگ اور عذاب سے کم نہیں۔ چوہدری نذیر صاحب جیسے دانشور اسے نجانے مخلوقِ خدا کے لئے خوشی اور مسرت کا موقع کیونکر سمجھتے ہیں۔ دوسروں کی جانوں کو عذاب میں ڈال کر خوشی کے موقع حاصل کرنا کہاں تک درست ہے؟
ہندومت اور اسلام کا 'تہوار' کا تصور اور فلسفہ جدا جدا ہے۔ اگر عالمی تہذیبوں کا جائزہ لیا جائے تو ہندو تہذیب میں 'تہوار' منانے کا رجحان غالبا دیگر تمام تہذیبوں سے زیادہ ہے۔ اس کی شاید ایک وجہ ہندو مذہب کا مخصوص فلسفہ عبادت ہے۔ رسومات اور اوہام کو جس طرح ہندو مذہب میں یکجا کر دیا گیا ہے، شاید ہی دنیا کا کوئی مذہب یہ امتیاز رکھتا ہو۔ قدیم آریہ سال کو چھ موسموں میں تقسیم کرتے تھے، اس طرح دو مہینوں کا موسم بناتے تھے۔ سنسکرت زبان کے مشہور شاعر کالی داس نے 'ریو سنگھار' کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں ان چھ موسموں کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔ کالی داس کی ایک نظم سے معلوم ہوتا ہے کہ بسنت رت آتی ہے تو ندی نالے جو جاڑے کے موسم میں سوئے رہتے ہیں یکایک جاگ اٹھتے ہیں۔ آم پر بور ہوتا ہے، عشق کا دیوتا مدن بھٹکے دلوں کا شکار کرتا پھرتا ہے۔ ('بسنت: لاہور کا ثقافتی تہوار' ص: 12) ہندوؤں کے موسموں کے اعتبار سے تہوار منانے کے پیچھے ان کی مذہبی رسومات کارفرما ہیں۔ دراصل برہمنوں نے ہندو مذہب میں تہواروں کا جال بچھا کر اپنی مذہبی پیشوائیت کو استحکام دینے کی ہر ممکن صورت پیدا کی۔ بسنت کے موسم کے متعلق فرہنگِ آصفیہ کے یہ الفاظ ملاحظہ کیجئے:
"اہل ہند اس موسم کو مبارک اور اچھا سمجھ کر نیک شگون کے واسطے اپنے اپنے دیوی، دیوتاؤں اور اوتاروں کے استھانوں میں مندروں پر ان کے رجھانے کے لئے بہ تقاضائے موسم سرسوں کے پھولوں کے گڑوے بنا کر گاتے، بجاتے، لے جاتے اور اس میلے کو بسنت کہتے ہیں، بلکہ یہی وجہ ہے کہ زرد رنگ کو اس سے مناسبت دینے لگے۔"
اسلام میں موسموں کو مذہبی اعتبار سے نہ اس طرح تقسیم کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کی بنیاد پر تہوار مقرر کئے گئے ہیں۔ بلاشبہ اسلام میں بعض ایام کو زیادہ مقدس قرار دیا گیا ہے۔ مثلا عیدین، شبِ قدر وغیرہ۔ مگر اسلامی عیدین قمری سال کی وجہ سے ہر موسم میں آتی ہیں۔ ایک ہندو جب بسنت مناتا ہے، سرسوں کے پھولوں کے گڑوے بناتا ہے یا اس موقع پر بسنتی لباس پہنتا ہے تو اس کے ذہن میں یہ سارے افعال باعثِ ثواب اور مذہبی عبادت میں شامل ہوتے ہیں۔ مسلمانوں نے ان کی نقالی کرتے ہوئے زرد لباس پہننا شروع کر دیا ہے اور اپنے تئیں اسے 'ثقافت' سمجھتے ہیں۔ ہندوؤں کے درمیان 'تہوار' کا لفظ بلا امتیاز ایسی تقریبات کے لئے ہوتا ہے جنہیں وہ عبادت سمجھ کر انجام دیتے ہیں۔ 'تہوار' کا لفظ 'عید' کا مترادف ہے۔ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ بسنت کو مسلمان 'عید' سمجھ کر کیوں کر منا سکتے ہیں۔ اس معاملے میں ہندوؤں کی مشابہت کس قدر معیوب بات ہے، کاش ہمارے دانشور اس کو پیش نظر رکھتے۔
ہندومت اور تہوار
ہندومت میں تہواروں کی حیثیت و ارتقاء کو سمجھنے کے لئے ہندو صنمیات (Mythology) اُپنشد (Upanishads)، رگ وید اور برہمنی رسومات کا علم ضروری ہے۔ ظاہر ہے یہ کوئی آسان بات نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا گورکھ دھندا ہے کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ابن حنیف ایک مستند مؤرخ ہیں، ان کا تعلق ملتان سے ہے اور ابھی حیات ہیں، انہوں نے اپنے کتاب 'تاریخ ہند' میں لکھا ہے:
"ہندوؤں اور ہندو صنمیات میں دیوی دیوتاؤں کی تعداد 33 کروڑ ہے۔ دراصل زندگی کے ہر پہلو اور زندگی کے متعلق ہر چیز کو ہندوؤں کے ہاں تقدیس کا درجہ دے کر دیوی دیوتا بنا دیا گیا ہے۔"
ایک اور مصنف کا خیال ہے کہ برہمنوں نے اپنی حیثیت کو نمایاں رکھنے کے لئے ہندومت میں نت نئے رسومات و رواجوں کو تخلیق کیا جس سے ان کی مذہبی پیشوائی اور ذاتی اغراض پوری ہوتی رہیں۔ ہندوؤں کی قانونی کتاب 'منوشاستر' کے مطابق "قادرِ مطلق نے دنیا کی بہبودی کے لئے اپنے منہ سے برہمن کو پیدا کیا۔"
ہندو مذہب میں منت ماننے، چڑھاوے چڑھانے اور پنڈتوں کو نذرانہ دینے کی رسومات کی کثرت برہمن طبقہ کی مذہبی پیشوائیت اور استحصال کی ایک مستقل روایت ہے۔ ان کے ہاں تیوہاروں کا طویل سلسلہ بھی ان کی اسی روایت سے منسلک ہے۔ دنیا کے دیگر مذاہب میں تو چند ایک مذہبی تہوار (عیدیں) ہوتی ہیں مگر ہندو مذہب میں ان کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ منشی رام پرشاد ماتھر ہندو تہواروں کی تاریخ بیان کرنے میں اتھارٹی سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے درج ذیل عنوانات سے اس موضوع پر کتابیں تصنیف کی ہیں:
1۔ ہندو تیوہاروں کی دلچسپ اصلیت
2۔ ہندو تیوہاروں کی اصلیت اور ان کی جغرافیائی کیفیت
3۔ ہندو تیوہاروں کی رام کہانی
ان کتابوں میں انہوں نے ہر تیوہار کے تاریخی حالات، ان کے تمدنی و اخلاقی نظام اور ان تہواروں کی جغرافیائی ضرورت کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے۔ انہوں نے ڈیڑھ سو کے قریب ہندو تہواروں کا ایک جدول بھی ترتیب دیا ہے جس میں ان کا مذہبی پس منظر، تواریخ اور دیوی دیوتاؤں سے ان کا تعلق بھی بیان کیا ہے۔ بسنت پنچمی کے متعلق وہ لکھتے ہیں:
"اس روز کا کام دیو اور اس کی دیوی رتی کی پوجا ہوتی ہے۔ کام دیو کو شیوجی نے بھشم کر دیا اور مچھلی کے پیٹ سے نکلا۔ بعض جگہوں پر سرستی دیوی کی پوجا کرتے ہیں۔ قلم دوات نہیں چھوتے۔ اگر لکھنے کا ضروری کام آجاتا ہے تو تختی پر کھرپا سے لکھتے ہیں۔ شام کو بچے قسم قسم کے کھیل کھیلتے ہیں اور دوسرے دن سرسوتی کی مورتی کسی تالاب میں ڈال دیتے ہیں۔"
(ہندو تہواروں کی دلچسپ اصلیت: صفحہ 235)
اسی طرح انہوں نے ہولی، شیوراتری، سورج ستمی، اسمانی کاپوجن، پھلیر ادوج، ایکادشی، کرتیجے، جانکی جنم جیسے تہواروں کے پس منظر اور ان کی رسومات بیان کی ہیں۔
'تمدنِ ہند' کے مصنف کے خیال میں:
"مذاہبِ ہند میں آغازِ شعور سے سورج، چاند، ستارے، آسمان، زمین، چاروں عنصر، آواز، قوتِ نشوونما، زمانہ، علتِ مرگ وغیرہ کی پرستش ہوتی تھی۔ اس زمانہ کے شاعر اپنی قوتِ متخیلہ کے مخلوق دیوتاؤں کی تعریف میں نظمیں کہتے تھے جو مرور ایام سے مقدس اور الہامی ہو گئیں۔ دورانِ نفخہ ہائے ستائش انہوں نے روم کو مرتب کیا، جو ابتدا میں مختصر اور سادہ تھیں مگر تدریجا مفصل ہوتی گئیں۔ اس زمانے کے عرفا برہمن تھے اور مذہبی رسوم انہی کی وساطت سے ادا ہوتی تھیں۔ انہوں نے اپنی اُجرت بڑھانے کے لئے ان رسوم کو بھی بڑھایا حتیٰ کہ دن تو دن ادائے رسوم کے لئے ہفتے، مہینے بلکہ سال گزر جاتے تھے۔ اس دوران میں برہمن اپنے حقوق اُجرت کے طور پر لوگوں سے گائیں، بچھڑے، خوراک، لباس اور مکان حاصل کرتے رہتے تھے۔ اسی لالچ نے برہمنوں کو اکسایا کہ وہ وید کے افکار کو فلسفیانہ بنائیں ۔۔ ہندو عوام اوہامی رسومات و خرافات کے مقید و اسیر ہیں۔" (تمدنِ ہند، صفحہ 144)
فرہنگِ آصفیہ میں بسنت کی تعریف میں من جملہ دیگر باتوں کے یہ بھی لکھا ہے:
"موسم بہار کا وہ میلہ جس میں ہندو اپنے اوتاروں اور دیوی، دیوتاؤں کے مندروں پر سرسوں کے پھول چڑھاتے ہیں۔"
ڈاکٹر داؤد رہبر جو امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں ہندو کلچر پڑھاتے رہے ہیں، ہندوؤں کے ہاں تہواروں کا ذکر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
"ملتوں کے محسوسات ان کے تہواروں میں چھلکتے ہیں، دیہات اور قصبات اور مقدس مقامات کے مقامی تہواروں کا تو کوئی شمار ہی نہیں لیکن ہندوؤں کے وہ تہوار جو سارے بھارت میں منائے جاتے ہیں، دسہرا، ہولی، دیوالی، دُرگا پوجا اور شدراتھڑی ہیں۔ دسہرا میں دس کی گنتی کئی طرح سمجھی گئی ہے۔ ایک تو یہ کہ یہ جیٹھ کے مہینے کا دسواں دن ہے۔ لفظی معنی دسہرا کے ہیں: دس گناہوں کو دھو ڈالنے والا دن۔ یہ مان لیا گیا کہ یہ گنگا مائی کا جنم دن ہے، اور اس روز جو گنگا میں اشنان کرے گا اس کے دس پاپ دُھل جائیں گے۔ ایک اور سدہرا آسن (آسو) کے مہینے کے پہلے دس دنوں کا بھرپور تہوار ہے، اس میں دُرگا دیوی کی معرکہ آرائی کی یاد منائی جاتی ہے۔ دُرگا یا ربتی کا وہ روپ ہے جس میں اس نے مہیش نامی جن کو اپنے ہتھیار کے ایک ہی وار سے مار ڈالا تھا یہ بھی مانا گیا کہ اس مہینے (یعنی آسن) کے دسویں روز راجا رام چندر نے لنکا پر چڑھائی کی اور راون مارا گیا۔ شمالی ہند میں جہاں دشنونی پر ستاری عام ہے۔ دسہرا اس کے اوتار رام چندر کی فتح ہی کا تہوار ہے۔
ہولی بہار رُت کا تہوار ہے۔ اس میں خاص و عوام سب نئے یا دُھلے ہوئے ستھرے لباس پہن کر نکلتے ہیں، سرخ اور زرد دُھول سے سب کے کپڑے گلزار ہو جاتے ہیں، کرشن اور گوپیوں کی اس لیلا کی یاد اس اُودھم سے تازہ کی جاتی ہے۔
دیوالی کاتک کے مہینے کا تہوار ہے، کاتک (یا کار تک) شوادر یا ربتی کا فرزند ہے اور جنگ کا دیوتا ہے، دیوالی ا سکی جئے پکارنے کا تہوار ہے۔ اس روز ہندو لوگ کسی ندی میں اشنان کر کے اپنی اچھی سے اچھی پوشاک پہن کر نکلتے ہیں، اپنے آں جہانی اعزہ اور بزرگوں کی روحوں کی خیرخواہی اور میزبانی کی نیت باندھ کر اس روز شرادھ کی رسم ادا کی جاتی ہے، یعنی برہمنوں اور عزیزوں کو کھانا کھلانا جاتا ہے اور نذرانے پیش کئے جاتے ہیں۔ اس رات دولت کی دیوی لکشمی کی پوجا کی جاتی ہے۔ گھروں کو چراغاں کرتے ہیں، کھلنڈرے لوگ رات بھر جوا کھیلتے ہیں۔
شوراتڑی ما گھر کے مہینے کے آخر میں سناتے ہیں، یہ شولنگم کا جنم دن سمجھا گیا ہے، دن کو برت رکھتے ہیں اور رات کو شوپوجا ہوتی ہے، کنواریاں رات کو بن ٹھن کر سنگار سے سج کر عطر لگا کر شو کے گن گاتی ہیں اور آس رکھتی ہیں کہ اس دیوتا کی دَیا سے ایک روز ان کے بیاہ کی شادیانے بجیں گے اور پھر بھری گود کی خوشیوں کے دن آئیں گے۔"
(کلچر کے روحانی عناصر: صفحہ 34،35)
اسلام کا فلسفہ تہوار بےحد مختلف ہے۔ اسلامی تہواروں میں خشوع و خضوع، متانت، شائستگی اور وقار جیسے عناصر نمایاں ہوتے ہیں۔ اس میں 'اودھم' مچانے یا جوا کھیلنے یا راگ رنگ کا تصور تک نہیں ہے۔
ہندو معاشرے میں مذہب اور کلچر کے تعلق کو سمجھنے کے لئے یہ بھی ذہن نشین رہنا چاہیے کہ ہندوؤں کے ہاں مذہبی ذخیرہ زیادہ تر ان لوک داستانوں پر مشتمل ہے جو آریاؤں کی فتح کے بعد لکھی گئیں۔ اس مذہب کا باقاعدہ کوئی بانی نہیں ہے۔ ڈاکٹر داؤد رہبر کے الفاظ میں:
"ہندوؤں کی ملت کے حافظے میں پہلی بڑی یاد آریاؤں کی آمد ہے۔ کہہ سکتے ہیں کہ ہندو کلچر کا آغاز اسی سے ہوا۔ یاد رہے کہ ہندومت کا بانی کوئی بزرگ نہیں بلکہ آریاؤں کی فتحِ ہند ہی کو اس کا بانی کہنا چاہیے۔ جس ملت کا بانی کوئی انسانی شخصیت نہ ہو، اس کا مزاج جکڑا ہوا نہ ہو گا یعنی اس میں لچک ہو گی۔ جہاں کوئی بانی بزرگ ہو اس بزرگ کی شخصیت کی چھاپ اس کے پیش کئے ہوئے مت پر ضرور ہو گی۔ مثلا مہاتما گوتم بدھ کو ازدواج راس نہ آیا، بیوی بچے کو چھوڑ کر نکل بھاگے، اس کا اثر ان کے پیروؤں کے احساس پر برابررہے گا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم از روئے سیرت نگار گانے بجانے کے اشغال سے دور رہے اس سے مسلمانوں کے ہاں موسیقی کے فعالیت لہو و لعب قرار پا کر رِندی سے مربوط ہو گئی۔ کسی بانی کے نہ ہونے سے ہم کہیں گے کہ معبودِ حقیقی صرف خدائی ذات ہے، ہندو کہے گا ہمارے جشن کی شرکت کو سو دیوتاؤں کی برات ہے۔" (ایضا: صفحہ 21)
قیامِ پاکستان اور ہندو مسلم ثقافت
اکیسویں صدی کے آغاز میں بھی پاکستانی دانشور مذہب اور ثقافت کے درمیان باہمی تعلق کے متعلق 'کنفیوژن' کا شکار ہیں۔ سیکولر اور اشتراکیت پسند ملاحدہ کی ہی محض بات ہوتی تو ہم شاید اس موضوع پر استدلال پیش کرنا تضیع اوقات سمجھتے کیونکہ جب تک ان کے سرچشمہ ہائے فکر نہیں بدلتے، ان سے یہ توقع کرنا کہ وہ اس طرح کے دلائل کو درخور اعتنا سمجھیں گے، ایک عبث اور فضول کاوش ہو گی۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں بہت سے فاضل دانشور ایسے بھی ہیں جو اسلام پسندی کو وجہِ افتخار سمجھتے ہیں، مگر جب مذہب اور کلچر پر بات ہو تو ان کے خیالات بھی وہی ہوتے ہیں جن کا ذکر مذہب بیزار دانشور کرتے ہیں۔ ایسے ہی بعض اسلام پسند دانشور بسنت جیسے ہندوانہ تہوار کو 'قومی ثقافتی تہوار' قرار دیتے ہیں اور اپنی اس رائے کے مضمرات پر ان کی توجہ ہرگز نہیں ہے۔ اسے ہم اپنی بدقسمتی قرار دیں یا پاکستانی قوم کے علمی و ثقافتی زوال کی علامت قرار دیں کہ آج ہمیں اپنے مسلمان دانشوروں سے یہ بات تسلیم کرانے کے لئے تقریبا اس طرح کا طرزِ استدلال اختیار کرنا پڑ رہا ہے، جس طرح کے طرزِ استدلال کی 1930ء اور 1940ء کی دہائی میں حکیم الامت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ اور بابائے قوم محمد علی جناح کو دو قومی نظریہ کی حقیقت سمجھانے کی ضرورت پیش آئی تھی۔ علامہ اقبال نے 1908ء سے لے کر 1938ء تک اپنے اشعار، خطبات اور مضامین میں مسلم ملت کے جن منفرد اوصاف کا بار بار تذکرہ فرمایا، اس سے ہر شخص واقف ہے۔ ان کے کلامِ بلاغت نظام میں یہ مصرعہ تو اب ضرب المثل کی حقیقت اختیار کر گیا ہے ع خاص ہے ترکیب میں قومِ رسول ہاشمی!
اصل مصیبت یہ ہے کہ آج کے دانشوروں کو ملتِ اسلامیہ کی یہی 'خاص ترکیب' ہی سمجھ میں نہیں آئی۔ ورنہ وہ مذہب و ثقافت کے فلسفہ کے متعلق ابہام یا کنفیوژن کا شکار کبھی نہ ہوتے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے جب برصغیر کی ملتِ اسلامیہ کے وکیل کی حیثیت سے مسلمانوں کے لئے الگ وطن کا مقدمہ لڑنے کی تیاریاں کیں تو سب سے بڑی رکاوٹ ان کے سامنے یہی تھی کہ وہ کانگریس کے متحدہ قومیت اور متحدہ ثقافت کے اس فریب انگیز فلسفہ پر کاری ضرب کس طرح لگائیں جس کی رو سے وہ دو مذاہب اور ایک ثقافت کی بات کرتے تھے۔ کانگریسی لیڈر بار بار کہتے تھے کہ ایک وطن میں رہنے والے مختلف مذاہب کے لوگوں کی ثقافت مشترکہ اور ایک ہوا کرتی ہے، لہذا محض مذاہب کے فرق کی بنا پر دو الگ ریاستوں کا قیام بلا جواز ہے۔ 20 مارچ 1940ء کو مہاتما گاندھی نے ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
"میرے نزدیک ہندو، مسلمان، پارسی اور ہریجن سب برابر ہیں، میں غیر سنجیدہ نہیں ہو سکتا، جب میں قائداعظم محمد علی جناح کے بارے میں بات کروں وہ میرے بھائی ہیں۔"
22 مارچ 1940ء کو منٹو پارک میں عظیم الشان تاریخی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے گاندھی کے مندرجہ بالا الفاظ دہرائے اور طنز کے انداز میں فرمایا:
"لیکن میرا خیال ہے کہ وہ غیر سنجیدہ ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بھائی گاندھی کے تین ووٹ ہیں اور میرا صرف ایک ووٹ ۔۔" (قائداعظم: تقریر و بیانات، مترجم: اقبال احمد صدیقی، شائع کردہ بزمِ اقبال لاہور: ج2 ص 364)
اس تقریر میں قائداعظم نے ایک برطانوی اخبار کے اداریے پر تنقید کرتے ہوئے کہا:
"لندن ٹائمز جیسے ایک مقتدر جریدے نے قانون حکومتِ ہند مجریہ 1935ء پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: "بلاشبہ ہندو اور مسلمانوں میں اختلافات صحیح معنوں میں صرف مذہبی ہی نہیں بلکہ قانونی اور ثقافت کے اعتبار سے بھی ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ وہ فی الحقیقت دو بالکل نمایاں اور علیحدہ تہذیبوں کے نمائندے ہیں۔ تاہم وقت کے ساتھ توہمات ختم ہو جائیں گے اور ہندو ایک قوم کی شکل اختیار کر لے گا۔" پس لندن ٹائمز کے نزدیک دشواریاں محض توہمات ہیں۔ ان بنیادی اور گہرے روحانی، اقتصادی، معاشرتی اور سیاسی اور ثقافتی اختلافات کو تکلفا 'توہمات' کہہ کر جھٹک دیا گیا۔ یقینی طور پر معاشرے کے بارے میں اسلام اور ہندومت کے تصورات کے مابین فرق کو محض توہمات قرار دینا برصغیر ہند کی ماضی کی تاریخ کو بین طور پر نظر انداز کر دیتا ہے۔ ہزار سال کے گہرے روابط کے باوصف اگر قوموں میں اس قدر بعد ہے، جتنا کہ آج ہے، تو یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ کسی بھی وقت صرف اسی لئے ایک قوم بن جائے گی کہ ان پر ایک جمہوری دستور مسلط کر دیا گیا۔" (ایضا، صفحہ 370)
قائداعظم نے ہندومت اور اسلام کی دو الگ الگ تہذیبوں کی اہمیت بیان کرتے ہوئے اسی جلسے میں فرمایا:
"یہ سمجھنا بہت دشوار بات ہے کہ ہمارے ہندو دوست اسلام اور ہندومت کی حقیقی نوعیت کو سمجھنے سے کیوں قاصر ہیں۔ یہ حقیقی معنوں میں مذاہب ہی نہیں ہیں، فی الحقیقت یہ مختلف اور نمایاں معاشرتی نظام ہیں اور یہ ایک خواب ہے کہ ہندو اور مسلمان کبھی ایک مشترکہ قوم کی سلک میں منسلک ہو سکیں گے۔ ایک ہندی قوم کا تصور حدود سے بہت زیادہ تجاوز کر گیا ہے اور آپ کے بہت سے مصائب کی جڑ ہے۔ اور اگر ہم بروقت اپنے تصورات پر نظرثانی نہ کر سکے تو یہ ہند کو تباہی سے ہمکنار کر دے گا۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کا دو مختلف مذہبی فلسفوں، معاشرتی رسم و رواج اور ادب سے متعلق ہے۔ نہ وہ آپس میں شادی بیاہ کرتے ہیں، نہ اکٹھے بیٹھ کر کھاتے پیتے ہیں۔ دراصل وہ دو مختلف تہذیبوں سے متعلق ہیں جن کی اساس متصادم خیالات اور تصورات پر استوار ہے۔ یہ بھی بالکل واضح ہے کہ ہندو اور مسلمان تاریخ کے مختلف ماخذوں سے وجدن حاصل کرتے ہیں، ان کی رزم مختلف ہے، ہیرو الگ ہیں اور داستانیں جدا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک کا ہیرو دوسرے کا دشمن ہوتا ہے اور اسی طرح ان کی کامرانیاں اور ناکامیاں ایک دوسرے پر منطبق ہو جاتی ہیں۔" (ایضا: صفحہ 371)
گاندھی جیسے کٹر ہندو رہنما نے دو مختلف مذہبی فلسفوں کی بنیاد پر دو مختلف ثقافتوں کے تصور کے خلاف شدید ردِ عمل کا اظہار کیا۔ اس نے 1941ء میں اپنے ایک بیان میں کہا:
"کیا یہ بات ہم بھول جائیں کہ بہت سے مسلمانوں اور ہندوؤں کے آباء و اجداد ایک تھے اور ان کی رگوں میں ایک جیسا خون دوڑتا ہے؟ کیا لوگ محض اس بنا پر ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں کہ وہ مذہب تبدیل کر لیں۔"
(روزنامہ ڈان: 8 مارچ 2004ء، مضمون سید فقیر اعجاز الدین)
مہتما گاندھی نے 15 ستمبر 1944ء کو قائداعظم کے نام ایک خط میں لکھا تھا:
"میں تاریخ میں اس کی مثال نہیں پاتا کہ کچھ لوگ جنہوں نے اپنے آباؤ اجداد کا مذہب چھوڑ کر ایک نیا مذہب قبول کر لیا ہو، وہ اور ان کی اولاد یہ دعویٰ کرے کہ وہ اپنے آباؤ اجداد سے الگ قوم بن گئے ہیں۔ اگر ہندوستان اسلام کی آمد سے پہلے ایک قوم تھا تو اسلام کے بعد بھی اسے ایک قوم رہنا چاہیے۔ خواہ اس کے سپوتوں میں سے ایک کثیر تعداد نے اسلام قبول کر لیا ہو۔" (نوائے وقت میگزین: 7 مارچ 2004ء)
بھارت کے موجودہ وزیراعظم واجپائی نے بھی اپنے ایک بیان میں بالکل یہی اُسلوب اپنایا:
"یہاں کے مسلمان اور عیسائی ہندوستان کے باہر سے نہیں آئے تھے۔ ان کے آباؤ اجداد ہندو تھے۔ محض مذہب تبدیل کرنے سے ایک شخص کی قومیت یا ثقافت نہیں بدل جاتی۔" (ڈان: ایضا)
یہی وہ بنیادی فرق ہے جو اسلام کو دوسرے مذاہب سے ممتاز کرتا ہے کہ اسلام لانے کے بعد ایک فرد کی شناخت اس کا دین بن جاتا ہے۔ قوم، رنگ، نسل اور علاقہ محض ثانوی عناصر بن کر رہ جاتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی اساس ہے جسے علامہ اقبال رحمہ اللہ نے اسلامی قومیت کی تشکیل کے لئے "خاص ترکیب' کا نام دیا۔ ایک ہندو تاحیات ہندو ہی رہے گا، اگر وہ ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہو چاہے وہ ہندومت کی تعلیمات سے مکمل انکار کیوں نہ کر دے۔ اسلام اس طرح کے افراد کو ایک لمحہ کے لئے بھی اپنے دامن میں قبول نہیں کرتا۔ جواہر لال نہرو ایک جدید ذہن رکھنے والے اشتراکیت پسند ہندو تھے۔ وہ اپنی کتاب 'میری کہانی' میں ایک جگہ لکھتے ہیں:
"ہندومت کے دائرے میں بےحد مختلف اور متضاد خیالات و رسوم داخل ہیں۔ اکثر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہندومت پر صحیح معنوں میں مذہب کا اطلاق ہی نہیں ہوتا۔ ممکن ہے ایک شخص کھلم کھلا خدا کا منکر ہو لیکن کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ شخص ہندو نہیں رہا۔ جو لوگ ہندو گھرانوں میں پیدا ہوئے وہ چاہے کتنی ہی کوشش کریں، ہندومت ان کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ میں برہمن پیدا ہوا تھا اور برہمن ہی سمجھا جاتا ہوں، چاہے مذہبی اور سماجی رسموں کے متعلق میرے خیالات اور اعمال کچھ ہی ہوں۔" ('ہندو کیا ہے؟' نوائے وقت میگزین، 7 مارچ 2004ء)
اسلام لانے کے بعد برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں میں کس درجہ میں تہذیبی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور کون کون سی تہذیبی رسومات تھیں جن سے وہ جہالت یا دیگر وجوہات کی بنا پر چمٹے رہے، اور اب تک برصغیر کے مسلمانوں کی تہذیبی و ثقافتی زندگی پر ہندو تہذیب کے کیا کیا اثرات باقی ہیں؟ یہ اور اس طرح کے دیگر عملی سوالات کا جواب مؤرخین نے اپنے تئیں دینے کی کوشش کی ہے اور بعض سوالات شاید ابھی تک تشنہ تحقیق ہیں۔ اس وقت ہمارے پیش نظر اہم ترین سوال یہ ہے کہ پاکستان جیسی اسلامی نظریاتی مملکت جس کا قیام ہی 'اسلامی ثقافت کی تجربہ گاہ' کے طور پر عمل میں لایا گیا تھا، میں خالص اسلامی کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ جو شخص اس کی ضرورت سے انکار کرتا ہے، اس سے ہمیں بحث نہیں کرنا چاہیے، مگر وہ حضرات جو اس ضرورت کی اہمیت کا انکار نہیں کرتے، ان کے سوچنے کی بات ہے کہ کیا پاکستان میں ہندو کلچر کے نمایاں ترین مظہر تہواروں سے ثقافتی شغف برقرار رکھتے ہوئے کیا خالص اسلامی کلچر کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے؟ ہمارے خیال میں یہ بات بےحد مشکل ہے!!
پاکستانی کلچر پر تبصرہ
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کی شادی بیاہ کی رسومات اور دیگر تقریبات میں ہندو کلچر کا کچھ نہ کچھ رنگ اب بھی باقی ہے۔ ان فرسودہ رسومات کو ترک کرنے کی بجائے بعض لوگ ان سے یوں استدلال بھی کرتے ہیں کہ جب دیگر باتوں میں ہندوانہ کلچر کے جراثیم باقی ہیں تو محض بسنت کو قومی تہوار کے طور پر منانے پر اعتراض وارد کیوں کیا جاتا ہے۔ ہمارے خیال میں اس طرح کا استدلال محض کج بحثی ہے۔ انفرادی سطح پر مختلف گھرانوں کی طرف سے بعض شادی بیاہ کی رسومات کی پاسداری اور قومی سطح پر اجتماعی انداز میں ایک تہوار منانے میں اصولی طور پر فرق ہے۔ یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ شادی بیاہ کی تقریبات میں نکاح اور اسلامی کلچر کے دیگر عناصر بھی شامل ہوتے ہیں۔ اور بہت سے مسلمان گھرانے ایسے ہیں جو ان رسومات کی پابندی کو ضروری نہیں سمجھتے، نہ ہی کوئی ان انفرادی رسومات کو تہوار کا مقام دیتا ہے۔ تہوار درحقیقت ان رسومات کا مجموعہ ہوتا ہے جسے پورا معاشرہ پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسے مذہب سمجھ کر ادا کرتا ہے۔ بسنت کو پاکستانی قوم کا 'قومی تہوار' کہنے والوں کو تہوار کے بنیادی فلسفہ کی حقیقت کا شاید علم نہیں ہے۔ لاہور جو 'بسنت' کا اصل گڑھ ہے، اس میں بھی لاکھوں افراد ایسے ہیں جو نہ صرف بسنت سے الگ تھلگ رہتے ہیں بلکہ اسے غیر اسلامی اور ہندوانہ تہوار سمجھتے ہیں۔ پنجاب کے دیگر شہروں میں 'بسنت' کو ابھی تک مقبولیت کا وہ درجہ نہیں مل سکا ہے۔ پھر ہم یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں کہ جب ہندو کہتے ہیں کہ 'بسنت' ہمارا مذہبی تہوار ہے جسے پاکستان کے مسلمان جوش و خروش سے مناتے ہیں تو پھر ہمیں اسے ہندوانہ تہوار سمجھنے میں تامل کیوں کر ہے۔ بھارت کی انتہا پسند جماعت شیوسینا کے راہنما بال ٹھاکرے نے بارہا بسنت کے موقع پر لاہوریوں کے متعلق ان خیالات کا اظہار کیا ہے۔ جب ہم کسی رسم کو اجتماعی تہوار کے طور پر منائیں گے تو یہ بات اسلام کے عمرانی فلسفے کی اجتماعیت سے متصادم ہو گی۔
ہمارے دانشوروں کی فکری تہی دامنی اور تخلیقی قوت کی کمی بھی کم عبرت آموز نہیں ہے۔ وہ اس قابل تو نہیں ہیں کہ اسلامی اقدار کی روشنی میں اسلامی کلچر کے تقاضوں کے مطابق کسی اجتماعی تقریب کا تصور پیش کریں، البتہ وہ بسنت جیسے ہندوانہ تہوار کو اپنا 'قومی تہوار' بنانے کے لئے اپنی تحریری و تقریری صلاحیتوں کا خوب استعمال کرتے ہیں۔ ہر قوم کے تہوار ایک مخصوص پس منظر رکھتے ہیں جو اس قوم کے اجتماعی تہذیبی شعور میں رچا بسا ہوا ہوتا ہے۔ بےمقصد تفریح کسی تہوار کی بنیاد نہیں ہوتی۔ مولانا عنایت اللہ وارثی قومی تقریبات کی بنیاد پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"ہر قوم اپنی ملکی و قومی روایت کے مطابق کسی خاص اہم واقعہ کو بنیاد قرار دے کر اجتماع کی ایک صورت پیدا کر لیتی ہے۔ جس وقت تک کسی قوم میں اجتماعی روح قائم رہتی ہے اور اجتماعیت کے فائدوں کا احساس قوم کے افراد میں موجود ہوتا ہے اس وقت تک تو اس قسم کے اجتماعات میں بھی افادیت کا پہلو غالب رہتا ہے۔ افراد و قوم اکٹھے ہو کر اپنی قومی زندگی کے اس اہم واقعہ کی یاد تازہ کر کے جس کی یاد کی بنیاد پر کسی اہم عملی مفید کارنامے کی وجہ سے ہر دن تقریب کی صورت میں منایا جا رہا ہے، اپنے دلوں میں ایک نیا جوش پیدا کر لیتے ہیں۔"
(اسلامی تقریبات، از مولانا عنایت اللہ وارثی: صفحہ 165)
سوال پیدا ہوتا ہے کہ بسنت کا نام نہاد تہوار ہمارے کس قومی کارنامے کی یاد میں منایا جاتا ہے اور یہ کیسا قومی تہوار ہے جو قوم کے لئے خوشی کا باعث بننے کی بجائے وبالِ جان بنا ہوا ہے۔ یہ ہمارے معاشرے میں اجتماعیت کو فروغ دینے کی بجائے انتشار پھیلا رہا ہے۔
مولانا عنایت اللہ وارثنی صاحب ایک تہوار کے پس پشت بنیادی تصور کی وضاحت کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں:
"کسی دن کو تقریب کی صورت میں منانے والے حضرات خواہ کسی صورت میں منائیں۔ ان کا بنیادی تصور یہی ہوتا ہے کہ یہ دن وہی دن ہے جس دن میں فلاں ناقابل فراموش واقعہ رونما ہوا جس کو یادگار کی صورت قرار دے کر ہر سال منانا اور اس کی یاد کو تازہ رکھنا ضروری ہے۔ کیونکہ اس دن رونما ہونے والے واقعہ نے اس دن کو قومی سیاسی، دینی اور اعتقادی یا کسی بھی انفرادی یا اجتماعی حیثیت سے یادگار بننے کی خصوصیت یا شرف و اعزاز بخش دیا ہے۔ اس لئے اسے یاد رکھنا ہی ارادت یا عقیدت یا وفاداری کا ثبوت اور فخر کا سرمایہ ہے اور اسے بصورتِ یادگار منانے رہنے ہی سے اصل واقعہ کا تعلق اس خاص دن کے ساتھ قائم رہ سکتا ہے جس کا قائم رہنا ناگزیر ہے۔ گویا تقریب کی بنا دراصل عمل ہی ہے۔"
سید ابوالاعلیٰ مودودی کسی قوم کے تہوار منانے کے انداز اور اس کے اخلاقی نصب العین کے مابین تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں:
"تہوار منانے کے طریقے دنیا کی مختلف قوموں میں بےشمار ہیں۔ کچھ میں صرف کھیل کود اور راگ رنگ اور لطف و تفریح تک ہی تہوار محدود رہتا ہے۔ کہیں تفریحات تہذیب کی حد سے گزر کر فسق و فجور اور ناشائستگی کی حد تک پہنچ جاتی ہیں۔ کہیں مہذب تفریحات کے ساتھ کچھ سنجیدہ مراسم بھی ادا کئے جاتے ہیں اور کہیں ان اجتماعی تقریبات سے فائدہ اٹھا کر لوگوں میں اعلیٰ درجے کی اخلاقی روح پھونکنے اور کسی بلند نصب العین کے ساتھ محبت اور گرویدگی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ غرض ہر ایک قوم کا تہوار منانے کا طریقہ گویا ایک پیمانہ ہے جس سے آپ اس کے مزاج اور اس کے حوصلوں اور امنگوں کو اعلانیہ ناپ کر دیکھ سکتے ہیں۔ اس طرح اخلاقی اعتبار سے کوئی قوم جتنی پست ہو گی وہ اپنے تہواروں میں اتنے ہی مکروہ مناظر پیش کرے گی۔ جتنی بلند اخلاقی روح کسی قوم میں ہو گی اتنے ہی اس کے تہوار اخلاقی اعتبار سے مہذب اور پاکیزہ ہوں گے۔ (نشری تقریریں: صفحہ 85)
جب مسلمان دیگر اقوام کے تہواروں کو اپنے 'قومی تہوار' سمجھ کر منانا شروع کر دیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مسلمانوں کی جدید نسل کی اسلامی تہواروں (عیدین) سے جذباتی وابستگی ماند پڑ جاتی ہے اور ان کا تہوار منانے کا فلسفہ ہی بدل جاتا ہے۔ جنوری 2004ء کے دوسرے ہفتے میں انگریزی روزنامہ 'ڈان' میں ایک خاتون مصنفہ کا 'بسنت' کے موضوع پر مفصل مضمون شائع ہوا جس میں موصوفہ نے 'بسنت' کی رونقوں کو بےحد مبالغہ انگیز انداز میں بیان کرتے ہوئے اسے لاہوریوں کا سب سے عظیم تہوار قرار دیا۔ انہوں نے اپنے مضمون میں قارئین کی اطلاع کے لئے یہ بھی تحریر فرمایا کہ ان کے دو بیٹے اس وقت امریکہ میں زیر تعلیم ہیں، وہ عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے مواقع پر پاکستان آئیں یا نہ آئیں، مگر یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ بسنت کے تہوار کو منانے کے لئے نہ آئیں۔ بسنت منانے کے لئے وہ ایک مہینہ پہلے ہی پاکستان آ جاتے ہیں۔ موصوفہ کا جس طبقہ سے تعلق ہے، اس میں اسلامی تہواروں سے عدم رغبتی کا رجحان بڑھ رہا ہے اور غیر مسلموں کی تقریبات میں دلچسپی روز بروز زیادہ ہو رہی ہے۔ ویلنٹائن ڈے جیسے شرمناک دن کی مثال ہمارے سامنے ہے۔
پاکستان میں ثقافت اور مذہب کے درمیان تعلق کی بنیاد؟
ڈاکٹر جمیل جالبی صاحب سابق وائس چانسلر جامعہ کراچی نے اسی حقیقت کا پاکستانی قوم کو ادراک کرانے کے لئے یہ سنہری الفاظ تحریر کئے ہیں:
"مذہب کلچر کی سطح پر آئے بغیر ایک علم کتابی ہے، فلسفہ اخلاق کا آدرش ہے اور بس۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ زندگی میں عملا برتنے کے بعد مذہب کے آدرش نظام کی آدرشی شکل باقی رہی ہو۔ زندگی سے پورا رشتہ ناتا قائم رکھنے کے لئے مذہب کی یہی تہذیبی شکل اصلی و حقیقی شکل ہے۔"
(پاکستانی کلچر: صفحہ 134)
وہ مزید لکھتے ہیں:
"پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے۔ اس مملکت کے عوام کا ان کے مذہب کے عوام سے گہرا جذباتی رشتہ ہے اور اسے وہ زندگی کی اہم ترین قدر جانتے ہیں۔ پاکستان میں مذہب نہ صرف معاشرت اور کلچر کا بنیادی عمل ہے بلکہ یہ معاشرے میں ایک مؤثر قوت کی حیثیت رکھتا ہے۔"
کلچر اور قوم کے روحانی تجربے کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت کا احساس دلاتے ہوئے ڈاکٹر جمیل جالبی لکھتے ہیں:
"اس سلسلے میں ہم نے روحانی تجربے کی اہمیت کو بالکل محو کر دیا اور بھول گئے کہ جغرافیائی حدود میں رہ کر ہڑپہ یا موہنجوداڑو کے وہ معنی ہرگز نہیں ہیں جو حدود سے باہر رہ کر بھی ہمارے لئے کعبے کے معنی ہیں۔ کعبہ ہمارا روحانی تجربہ ہے۔ اس کے برخلاف مومن جوڈرو اور ہڑپہ ہمارے روحانی تجربہ سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ ایک ہی قسم کے اینٹ اور چونے سے مندر اور مسجد تیار ہوتے ہیں۔ مندر ہمارے روحانی تجربے کا حصہ نہیں ہے لیکن مسجد ہمارے تجربے کا حصہ ہے۔ آخر جو چیز ہمارے جذبات کو نہ ابھارے اور ہماری روایت سے بےتعلق ہو، ہمارا روحانی تجربہ کیسے بن سکتی ہے۔ یہاں تک کہ فراعنہ مصر کی تہذیب سے جدید مصر کا یا عہدِ جاہلیت کی تہذیب سے عرب تہذیب کا جو تعلق ہے وہ تعلق بھی ہمارا موہن جداڑو، ہڑپہ اور گندھارا کی تہذیبوں سے نہیں ہے۔ آخر سوچنے کی بات ہے کہ صرف برتنوں، نقش گری اور اس کے نمونوں میں ہم اپنے روحانی رشتے کیسے تلاش کر سکتے ہیں؟ یہ اگر شامل بھی ہیں تو ہمارے کلچر میں صرف خارجی طور پر شامل ہیں۔
دراصل بنیادی مسئلہ تو روحانی تجربے، تاریخ اور روایت کا مسئلہ ہے اور یہی اصل معیار ہے۔" (ایضا: صفحہ 70)
کلچر معاشرے کے مجموعی طرزِ عمل کا نام بھی ہے اور اس مجموعی طرزِ عمل کی تشکیل میں مرکزی کردار اس کے داخلی عناصر یعنی عقائد، فکری اساس اور مذہبی سوچ ادا کرتے ہیں، خارجی عناصر کی شکل و صورت بنانے میں بھی باطنی عناصر کا کردار اہم ہے۔ مہتما بدھ کا مجسمہ بنانے والے فنکار کے فن کا اصل سرچشمہ اس کی بدھ مت سے وابستگی اور عقیدت ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں بنیادی مسئلہ کلچر کے داخلی اور خارجی عناصر کے درمیان پیہم کشمکش ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے عقائد تو اسلام کے مطابق رہیں مگر ہمارا مجموعی طرز عمل دیگر اقوام کے تمدن کے خارجی مظاہر کی نقالی پر مبنی ہو۔ یہ ایک تہذیبی منافقت اور دوغلا پن ہے۔ جب تک یہ سلسلہ قائم رہے گا پاکستان کا قومی اسلامی کلچر اپنے تمدنی مظاہر کے ساتھ تشکیل کے مراحل طے نہیں کر پائے گا۔
داؤد رہبر پاکستانی ہیں، گذشتہ 20 برسوں سے امریکہ میں کلچر اور تقابل ادیان پڑھاتے رہے ہیں۔ مناسب ہو گا کہ مضمون ختم کرنے سے پہلے ان کے الفاظ بھی نقل کر دئیے جائیں، شاید اس طرح کے سیکولر دانشوروں کی آرا ہمارے ان روشن خیالی دانشوروں کے لئے فکری غذا فراہم کر سکیں جو مذہب اور کلچر کے باہمی رشتے کو اہمیت دینے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
"فنونِ لطیفہ اپنی جگہ سہی لیکن کلچر صرف فنونِ لطیفہ پر منحصر نہیں۔ کلچر زندگی کی ہانڈی پکانے کی ترکیب کا نام ہے۔ پوچھنا چاہیے کہ اس کلچر میں یا اس کلچر میں کیا کیا مسالے پڑے ہیں، ہر کلچر کی خاص اپنی بوباس ہوتی ہے جسے جسمانی زبان سے نہیں بلکہ ایک بےنام روحانی زبانی سے چکھا جاتا ہے۔ یہ ذائقہ لمحہ بہ لمحہ ایک پراسرار لطافت ہو ہو کر محسوس ہوتا رہتا ہے بہت سے ہندو کباب کھانے لگے ہیں لیکن زندگی کے گھونٹ کا مزا ان کا بیشتر ہندو ہی رہے گا۔ مسلمان جب شراب پئے گا تو گویا عصیاں کا خطرہ مول لے کر ۔۔ کلچر کا مسالہ تو پیدا ہوتے ہی پڑنے لگتا ہے۔ ہندو بچہ جونہی پیدا ہوا۔ پنگھوڑے میں لٹا دیا گیا، نووارد کا نام تجویز ہوا، بھگوان داس، ہری پرشاد، گوری شنکر، برج بھوشن، سالک رام، اوما کماری، کملا دیوی، مسلمان بچہ متولد ہوا تو نام تجویز ہوا دین محمد، خدا بخش، یا غوث علی یا غلام رسول خان یا غلام حسین یا فاطمہ، زینت یا صفیہ۔ نام سے ایک پوری روایت گھٹی میں پڑ گئی اور پھر نمسکار اور السلام علیکم کے فرق پر غور کیجئے علیک سلیک کی ان ترکیبوں کے پیچھے اپنے اپنے عالم ہیں۔" (کلچر کے روحانی عناصر: ص 20)
اس پوری بحث کو سمیٹتے ہوئے ہم بالآخر اس بنیادی سوال کی طرف لوٹتے ہیں کہ مذہب اور ثقافت کا باہمی تعلق کیا ہے؟ ہمارے خیال میں دین ایک برتر تصور ہے جو ثقافت کی حدود اور اس کے دائروں کا تعین کرتا ہے۔ اس اعتبار سے مذہب کا منصب ثقافت گری بھی ہے۔ اسلام محض ثقافت نہیں بلکہ 'دینی ثقافت' کا تصور پیش کرتا ہے جو دین و دنیا کے تمام اُمور کا احاطہ کرتی ہے۔ مذہب کو ثقافت کے مقابلے میں برتر مقام دینے کی بنیادی وجہ اس کا احکامِ الٰہی پر مبنی ہونا ہے۔ علاوہ ازیں تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو مذہبی تعلیمات کا ظہور پہلے ہوا، ثقافتی مظاہر بعد میں سامنے آئے۔ ایک مسلمان کے عقیدے کے مطابق انسان نے اپنی زندگی کا آغاز خدائی حکم سے ایک نبی یعنی حضرت آدم علیہ السلام کی قیادت میں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی معاشرے کی ابتدا میں مذہب و ثقافت کا وہ فرق ہی نہ تھا جو آج سمجھا جاتا ہے۔ آج ہم جن باتوں کو خالصتا ثقافتی سرگرمیاں سمجھتے ہیں، زمانہ قدیم میں یہ کسی نہ کسی قوم کی مذہبی اقدار پر مبنی تھیں۔رقص اور موسیقی کو ہندومت میں آج بھی عبادت کا درجہ حاصل ہے۔ تھیٹر اور اداکاری کا فن یونانی تہذیب سے ماخوذ ہے۔ یونانیوں سے یہ فن رومیوں نے سیکھا۔ یونانی اور رومی تہذیبوں میں تھیٹر کو عبادت گاہ کا درجہ حاصل تھا۔ ان کے خیال میں خدا کے اوتار نے زمین پر ظہور کیا تو گویا خدا اسٹیج پر آیا۔ یورپ میں بھی سترہویں صدی تک تھیٹر میں صرف مذہبی ڈرامے ہی پیش کئے جاتے تھے۔
اسلام چونکہ ابدی دین ہے جس میں آنے والے انسانوں کے لئے بھی ضابطہ حیات موجود ہے۔ اسی لئے اسلام نے اپنا الگ ثقافتی نصب العین بھی پیش کیا۔ بت پرستی چونکہ اسلام کے تصورِ توحید سے متصادم ہے، لہذا بت سازی یا مجسمہ سازی اسلامی ثقافت کے دائرے میں شامل نہیں ہیں۔ خدا کے اوتار کا روپ دھارنا اسلامی کلچر کی روح کے منافی ہے۔ آفاقی دین کی حیثیت سے اسلام نے تمام دنیا کے انسانوں کے لئے نظامِ معاشرت و ثقافت تجویز فرمایا۔
ہمارے دانشوروں نے جس چیز کو 'دھرتی کی ثقافت' سمجھ کر تقدس کا درجہ دے رکھا ہے یہ درحقیقت آریاؤں کی ثقافت ہے۔ بعض سیکولر اور ملحد دانشور اسلامی ثقافت کو عربوں کی ثقافت کہہ کر اس کو رد کرنے کا رجحان رکھتے ہیں، مگر وہ آریاؤں کی ثقافت سے جذباتی وابستگی رکھتے ہیں حالانکہ آریا جرمن نسل کے باشندے تھے جو مذہب کے الہامی تصور سے آشنا ہی نہ تھے۔ کہا جاتا ہے کہ بعض صوفیا نے ہندوؤں کے تہواروں میں شرکت کے متعلق لچک کا مظاہرہ کیا تھا۔ اگرچہ ان کا یہ دعویٰ بھی محل نظر ہے، مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ہزاروں سال پہلے بعض صوفیا نے ہندوؤں کو اسلام کی طرف راغب کرنے کے لئے حکمت کے تقاضوں کے مطابق اسلام میں نئے داخل ہونے والوں کے لئے اس طرح کی رعایت دی تو آج کے مسلمان اس رعایت کو اپنا استحقاق کیوں سمجھتے ہیں۔اس وقت تو برصغیر میں اسلامی ثقافت کا آغاز ہی ہوا تھا، کیا آج تک ہم اسی ارتقا اور قومی اعتبار سے ناپختگی کی منزل میں ہیں کہ ہندوؤں کی ثقافت کو اپنی ثقافت سمجھنے کے فریب میں مبتلا رہیں۔ یہ بات بےحد افسوسناک ہے کہ ہمارے ہاں اب تک ثقافت کو اسلامی نظریہ حیات کی روشنی میں جانچنے کی علمی روایات نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمارے جدید دانشوروں نے اپنے زعم میں 'کٹھ ملائیت' کے خلاف شدید رد عمل ظاہر کرنے کو ہی اپنے علم و فضل کا واحد معیار بنا لیا ہے۔ اسلامی کلچر کی تشکیل و ارتقا اور اسلامی کے تہذیبی اداروں کو مقامی ثقافت کے ساتھ جوڑنے جیسے اہم کام کو بالکل نظرانداز کئے ہوئے ہیں۔ اس کوتاہی کے نتیجے میں پاکستان کی قومی ثقافتی زندگی شدید پیچیدگیوں کا شکار ہے۔ ہمارے معاشرے کے اسلامی خدوخال نکھرنے کی بجائے دھندلاتے جا رہے ہیں، جبکہ ہندو اور مغربی تہذیب کے اثرات کا رنگ نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔
اگر ہم اسلام کو انسانی زندگی کے لئے مکمل نظامِ حیات سمجھتے ہیں، اگر ہم اسلام کو ثقافت کے باطنی و خارجی عناصر کا محوری نکتہ سمجھتے ہیں تو پھر اس کا منطقی نتیجہ اس کے علاوہ کوئی اور نہیں ہونا چاہیے کہ ہم اپنے کلچر کے مظاہر کو اسلام کی اقدار کے مطابق ڈھا لیں۔ ہمارے کھانے پینے، رہنے سہنے، اوڑھنے، سونے کے سب طریقے، ہمارے خیر و شر کے معیارات، ہماری تقریبات، ہماری خوشی و غمی کے مواقع، ہماری معیشت، ہمارے فنون و ہنر، ہماری سیاست، ہمارا ادب اور ہمارے تہوار منانے کے طریقے غرض ہماری زندگی کے سب دائرے اسلامی فکر کے نور سے روشنی پائیں۔ ہمارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی قومی زندگی میں مذہب اور کلچر کے درمیان جہاں کہیں اختلاف یا تصادم دیکھیں، وہاں مذہب کو محکم اور فیصلہ کن قوت تسلیم کریں اگر ہمارا یہی رویہ بن جائے تو تب ہماری قومی ثقافت صورت گر ہو گی!!