ماہِ اپریل کی وجہ تسمیہ
اپریل April انگریزی سال کا چوتھا مہینہ ہے جو تیس دن پر مشتمل ہے۔ یہ لفظ قدیم رومی کیلنڈر کے ایک لاطینی لفظ Aprilis 'اپریلیس' یا Aperire سے مشتق ہے۔ وہ لوگ یہ لفظ موسم بہار کے آغاز، پھولوں کے کھلنے اور نئی کونپلیں پھوٹنے کے موسم کے لئے استعمال کرتے تھے۔ (دائرۃ معارف القرآن الرابع عشر: 1/20)
پہلے پہل فرانس میں سال کی ابتدا جنوری کی بجائے اپریل سے ہوتی تھی۔ 1645ء میں فرانس کے حکمران شارل نہم نے اپریل کی بجائے جنوری سے سال شروع کرنے کا حکم دیا۔
اس کی مزید توجیہات بھی ہیں مثلا یہ کہ موسم بہار کی ابتدا ماہ اپریل سے ہوتی ہے تو رومیوں نے اس مہینے کے پہلے دن کو محبت، خوبصورتی کے خدا، ہنسی اور خوش قسمتی کی ملکہ (جنہیں وہ 'فینوز' کہتے تھے) کے حوالے سے منعقدہ تقریبات کے لئے مخصوص کر دیا۔
روم میں بیوائیں اور دوشیزائیں 'فینوز' کے عبادت خانہ میں جمع ہو کر اس کے سامنے اپنے جسمانی اور نفسانی عیوب افشا کر کے اس سے درخواست کیا کرتی تھیں کہ وہ ان کے عیوب کو ان کے خاوندوں کی نظر سے مخفی رکھے یعنی ان پر ان عیوب کو ظاہر نہ ہونے دے۔ سیکسنا قوام اس مہینے میں اپنے خداؤں سے دور ہٹ کر خوشی کی تقریبات منعقد کیا کرتی تھیں۔ ایسٹر ان کا قدیم خدا ہے جسے آج کل عیسائیوں کے ہاں 'عید الفصح' کہا جاتا ہے۔
مندرجہ بالا تفصیل سے معلوم ہوا کہ قدیم زمانہ میں یورپی اقوام کے ہاں ماہ اپریل کو خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے۔ (ماخوذ از مجلہ 'ہنا' لندن: شمارہ 438، اپریل 1985ء)
اپریل فول کی ابتدا اور اس کی تاریخ
اپریل فول کے بارے میں لوگوں کی آرا مختلف ہیں اور کوئی ایک حتمی رائے معلوم نہیں ہو سکی۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ 21 مارچ کو جب دن رات برابر ہوتے ہیں اور موسم بہار کی مناسبت سے تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ جب سے یہ تقریبات شروع ہوئی ہیں، اپریل فول کی تاریخ بھی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔
بعض کا خیال ہے کہ یہ رسم بد فرانس میں 1564ء میں نیا کیلنڈر جاری ہونے کے بعد یوں شروع ہوئی کہ جو لوگ نئے کیلنڈر کو تسلیم نہ کرتے اور ان کی مخالفت کرتے تھے، انہیں طعن و تشنیع اور لوگوں کے استہزاء کا نشانہ بنایا جاتا اور ان کے ساتھ انتہائی بدسلوکی روا رکھی جاتی۔
بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہ رسم بت پرستی کے باقی ماندہ آثار میں سے ہے۔ اس کی تاریخ قدیم بت پرستی کی تقریبات سے ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس رسم کا تعلق موسم بہار کے آغاز میں ایک معین تاریخ سے ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بعض علاقوں میں شکار کا موسم شروع ہونے کے پہلے دنوں میں بالعموم بعض دوسرے علاقوں میں شکار ناپید ہوتا ہے۔ یہی چیز یکم اپریل کو منائے جانے والے 'فول' Fool کی بنیاد بن گئی۔
بعض لوگوں نے اس تاریخ کو سقوطِ غرناطہ کا آخری دن قرار دیا ہے کہ اس دن آخری مسلمان کو اندلس سے نکالا گیا تھا۔ مسلمانوں کی اس تاریخی شکست کی خوشی میں عیسائیوں نے یہ دن منانا شروع کیا۔
اپریل کی مچھلی: انگریز لوگ 'اپریل فول' کو اپریل کی مچھلی (Poisson Bavril) کہتے ہیں۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس دن سورج 'برج حوت' سے دوسرے برج میں داخل ہوتا ہے۔ 'حوت' مچھلی کو کہتے ہیں۔
یا دوسری وجہ یہ ہے کہ لفظ Possion باسون سے تحریف شدہ ہے۔ باسون کا معنی 'عذاب' اور Possion کا معنی مچھلی ہے۔ اس سے اس عذاب اور تکلیف کی اشارہ ہے جو عیسائیوں کے عقیدہ کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام کو برداشت کرنا پڑا۔ ان کا خیال ہے کہ یہ واقعہ یکم اپریل کو رونما ہوا تھا۔
انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں اپریل فول کے بارے میں لکھا ہے:
"یہ تمام بیوقوفوں کا دن ہے جس میں ہر عمر کے لوگ اپنے دوستوں اور عزیز و اقارب کو بیوقوف بناتے ہیں، بیوقوف بنانے پر مبنی پیغامات ارسال کرتے ہیں اور اس دن اس فعل کی معاشرے میں گویا اجازت تصور کی جاتی ہے۔ اپریل فول کی ابتدا کا تو کوئی علم نہیں، صدیوں سے جاری ہے اور مختلف اقوام میں منایا جاتا ہے۔ بھارت میں 31 مارچ کو ختم ہونے والے مقدس تہوار کو بھی اس کی وجہ بتایا جاتا ہے اس کی وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ فطرت مارچ کے اواخر میں موسم میں غیر معمولی تبدیلیاں پیدا کر کے دنیا کو بےوقوف بناتی ہے۔ امریکہ میں یہ رسم برطانیہ سے درآمد ہوئی جبکہ سکاٹ لینڈ میں اپریل فول سے متاثر ہونے والوں کو Cuckoo کہا جاتا ہے۔" (صفحہ: 460)
احمقوں اور پاگلوں کا دن (All Fool Day)
انگریز لوگ اپریل کے پہلے دن کو All Fool Day یعنی احمقوں اور پاگلوں کا دن کہتے ہیں، اس لئے وہ اس دن ایسے ایسے جھوٹ بولتے ہیں جنہیں سننے والا سچ سمجھتا ہے اور پھر وہ اس سے استہزاء کرتے ہیں۔ سب سے پہلے 'اپریل فول' کا ذکر Drake News Letter میں ملتا ہے۔ اخبارِ مذکور اپنی دو اپریل 1698ء کی اشاعت میں لکھتا ہے کہ کچھ لوگوں نے یکم اپریل کو لندن ٹاور میں شیروں کے غسل کا عملی مشاہدہ کرانے کا اعلان کیا۔
یکم اپریل کو یورپ میں ہونے والے مشہور واقعات میں سب سے اہم اور مشہور یہ واقعہ ہے کہ ایک انگریزی اخبار ایفینج سٹار نے 31 مارچ 1846ء کو اعلان کیا کہ کل یکم اپریل کو سلنجٹن (شہر) کے زراعتی فارم میں گدھوں کی عام نمائش اور میلہ ہو گا۔ لوگ انتہائی شوق سے لپک لپک کر آئے، جمع ہوئے اور نمائش کا انتظار کرنے لگے۔ جب وہ انتظار میں تھک کر چور ہو گئے تو انہوں نے پوچھنا شروع کیا کہ میلہ کب شروع ہو گا؟ مگر انہیں کوئی خاطر خواہ جواب نہ ملا۔ آخرکار انہیں بتایا گیا کہ جو لوگ نمائش دیکھنے میلے میں آئے ہیں، وہ خود ہی گدھے ہیں۔
اپریل فول کو منانا کیا اسلامی شریعت کی رو سے جائز ہے۔ اس کو منانے سے اسلام کے کون کون سے اصول متاثر ہوتے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کن فرامین کی مخالفت ہوتی ہے، ذیل میں اپریل فول سے متاثر ہونے والی شریعت کی ان بنیادوں کو علیحدہ علیحدہ ذکر کیا گیا ہے:
(1) اول تو اس میں جھوٹ کا عنصر ہے، جس میں دھوکہ دہی کا پہلو بھی پایا جاتا ہے، اسلام میں جھوٹ بولنے کی شدید مذمت آئی ہے جیسا کہ آئندہ صفحات میں جھوٹ کی مذمت میں 9 احادیث ذکر کی گئی ہیں۔ جن صورتوں میں جھوٹ بولنے کی اسلام میں گنجائش ہے، اس کا بھی تذکرہ آ رہا ہے۔ چنانچہ اسلام میں جھوٹ کی وجہ سے اپریل فول کی کوئی گنجائش نہیں۔
(2) اس رسم کو منانے سے کفار سے مشابہت بھی لازم آتی ہے اور کفار کی رسوم سے گریز کرنا بذاتِ خود شریعت کی ایک مستقل بنیاد ہے۔ چنانچہ آئندہ صفحات میں قرآن کریم کی 4 نسبتا عام آیات اور 11 واضح اور صریح احادیثِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذکر کیا گیا ہے جن میں کفار کی رسوم سے گریز کرنے کا مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے۔ ان احادیث میں ایسی رسوم سے مسلمانوں کو روکا گیا ہے جنہیں کفار نے بھی اختیار کیا تھا، بلکہ مسلمانوں کو اس میں قدرے تبدیلی کے ساتھ اپنانے کی اجازت دی گئی ہے۔
(3) اپریل فول اگر تو جھوٹ پر مبنی غیر مسلموں کی ایک رسم ہے تو مذکورہ دو بنیادوں کی بنا پر اس سے گریز ازبس ضروری ہے۔ اگر اس کا تعلق مزاح سے ہے تو اسلام میں مزاح کی بعض حدود کے ساتھ گنجائش ہے۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاح پر مبنی 13 واقعات اس مضمون کے آخر میں دئیے گئے ہیں۔ اس امر سے بھی مجالِ انکار نہیں کہ کبھی کبھار مزاح انسانی ذہن کی ضرورت بن جاتی ہے۔ باہمی میل جول اور اپنائیت میں اس سے گرم جوشی پیدا ہوتی ہے لیکن مزاح اور چیز ہے اور جھوٹ اور شے۔ مضمون میں اپنے مقام پر اس کی تفصیلی بحث کی گئی ہے۔
(4) انسانی کلام کی بعض صورتیں میں تصریح سے کام لیا جاتا اور بعض میں تعریض سے۔ تعریض نہ سچ ہوتا ہے اور نہ جھوٹ! بعض حدود کے ساتھ اس کی بھی گنجائش اور مثالیں ملتی ہے۔ مضمون کے بالکل آخر میں تعریض کے تصور پر بھی بحث کی گئی ہے۔
اگلے صفحات میں ان چاروں نکات کو علیحدہ علیحدہ ملاحظہ فرمائیں:
1۔ شریعتِ اسلامیہ میں جھوٹ کی مذمت
جھوٹ ایک کبیرہ گناہ اور انتہائی برا عیب ہے۔ اس لئے یہ بہت بڑی بری بیماری ہے۔ اسے منافق کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ یہ چونکہ ایمان کے منافی ہے۔ (فتح الباری: 10/508) اس لئے اسے ایمان میں بہت بڑا عیب قرار دیا گیا ہے۔ جھوٹ بولنا انتہائی مذموم اور قبیح ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسے سب سے بری عادت قرار دیتے تھے۔ (مسند احمد: 6/152)
اہل علم نے بیان کیا ہے کہ ایمان اور جھوٹ دونوں جمع نہیں ہو سکتے کیونکہ ایمان کی بنیاد صدق (سچائی) ہے اور نفاق کی بنیاد کذب (جھوٹ) ہے لہذا ان دونوں کا اجتماع محال ہے۔
جھوٹ کی مذمت میں بہت سی احادیث آئی ہیں۔ ان میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:
(1) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(أربع من كن فيه كان منافقاً خالصاً، ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها، إذا حدث كذب وإذا عاهد غدر، وإذا وعد أخلف وإذا خاصم فجر (متفق عليه واللفظ لمسلم(بخاری مع فتح الباری 1/89، کتاب الایمان، باب علامۃ النفاق: 34 و مسلم: 1/78 کتاب الایمان، باب بیان خصال المنافق: 207)
"جس شخص میں چار خصلتیں ہوں وہ پکا منافق ہے۔ اور جس کے اندر ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے، یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے:
٭ جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔
٭ اور جب کوئی معاہدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے۔
٭ اور جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے۔
٭ اور جب کسی سے جھگڑا ہو تو گالیاں دے۔"
(2) عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف فرما تھے کہ اس اثنا میں میری والدہ نے مجھے بلایا کہ ادھر آؤ، میں تمہیں کچھ دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم اسے کیا دینا چاہتی ہو؟ اس نے کہا میں اسے کھجور دوں گی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(أما إنّك لو لم تعطه شيئاً كتبت عليك كذبة) (ابوداؤد: 4/228، کتاب الادب، باب التشدید فی الکذب، و احمد: 3/447، و سلسلۃ الاحادیث صحیحہ، حدیث نمبر: 748)
"خبردار! اگر تم اسے کچھ نہ دیتیں تو یہ بات تمہارے حق میں جھوٹ لکھی جاتی۔"
(3) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمْ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ (قال أبو معاوية الراوى: وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ) وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، شَيْخٌ زَانٍ، وَمَلِكٌ كَذَّابٌ، وَعَائِلٌ مُسْتَكْبِرٌ)
(مسلم: 3/103، کتاب الایمان، باب بیان غلظ تحریم اسبال الازار)
"اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تین قسم کے آدمیوں سے بات نہیں کرے گا اور نہ انہیں گناہوں سے پاک کرے گا (راوی حدیث ابو معاویہ نے اس کا بھی اضافہ کیا: اور نہ ان کی طرف رحمت کی نظر سے دیکھے گا) اور ان کے لئے دردناک عذاب ہو گا: ٭بوڑھا زانی ٭ اور جھوٹا بادشاہ ٭ اور غریب آدمی جو متکبر ہو۔"
(4) حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(دع ما يريبك ، إلى ما لا يريبك إن الصدق طمانينة وأن الكذب ريبة)
(ترمذی: 4/668، کتاب صفۃ القیامہ باب 60 والنسائی: 8/327 و 328 کتاب الاشربہ وغیرہ، صحیح الجامع الصغیر حدیث: 3373)
"مشکوک بات کو ترک کر کے بغیر شک والی بات کو اختیار کرو۔ بےشک سچائی میں اطمینان اور جھوٹ میں بےسکونی اور بے اطمینانی ہے۔"
(5) حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي، قَالاَ: الَّذِي رَأَيْتَهُ يُشَقُّ شِدْقُهُ فَكَذَّابٌ، يَكْذِبُ بِالكَذْبَةِ تُحْمَلُ عَنْهُ حَتَّى تَبْلُغَ الآفَاقَ، فَيُصْنَعُ بِهِ إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ..) (بخاری مع الفتح: 10/507 کتاب الادب، باب قول اللہ (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ) : 6096)
"میں نے خواب میں دیکھا کہ دو آدمی میرے پاس آئے۔ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ منظر دیکھا کہ ایک شخص کی باچھ کو چیرا جا رہا ہے، وہ جھوٹا شخص تھا۔ وہ ایسا جھوٹ بولتا کہ دور دور تک جا پہنچتا۔ اس جرم کی پاداش میں اس کے ساتھ یہ سلوک قیامت تک ہوتا رہے گا۔"
(6) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ، فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ، فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ، وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا) (متفق علیہ واللفظ لمسلم ۔۔ بخاری مع الفتح: 10/507، کتاب الادب، باب قول اللہ تعالیٰ: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ) وما نہی عن الکذب، حدیث نمبر 6094 و مسلم: 4/2013)
"ہمیشہ سچ بولو، سچائی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ جو شخص سچ بولتا اور سچ کی کوشش کرتا رہتا ہے، اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں سچا لکھ دیا جاتا ہے۔ اور جھوٹ سے بچو، بےشک جھوٹ گناہوں کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم میں لے جاتے ہیں۔ جو شخص ہمیشہ جھوٹ بولتا اور جھوٹ کی کوشش کرتا رہتا ہے، اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔"
(7) حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(يطبع المؤمن على كل خصلة غير الخيانة والكذب)
(بزار بسند قوی کما فی فتح الباری: 10/508 و فیض القدیر 6/463)
"مومن کو خیانت اور جھوٹ کے علاوہ ہر وصف اور خصلت پر پیدا کیا جاتا ہے۔"
(8) حضرت اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
"میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو تیار کیا۔ پھر میں آپ کی خدمت میں آئی اور آپ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آنے کی دعوت دی۔ آپ تشریف لائے، اور ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ پھر دودھ کا ایک برتن پیش کیا گیا۔ آپ نے دودھ نوش فرمانے کے بعد وہ پیالہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیا تو انہوں نے شرم کی وجہ سے سر جھکا لیا۔ میں نے ڈانٹا اور کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے پیالہ لے لو۔ چنانچہ انہوں نے پیالہ لے کر کچھ دودھ پی لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ سے فرمایا: اپنی خادمہ کو پکڑا دو۔ اسماء کہتی ہیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزید نوش فرمائیں اور پھر مجھے دیں۔ پھر میں نے پیالہ لے کر اپنے گھٹنے پر رکھا اور اسے گھما کر غور سے دیکھنے لگی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس جگہ اپنا منہ مبارک رکھ کر دودھ نوش فرمایا ہے۔ پھر آپ نے مجھے فرمایا: باقی دودھ ان عورتوں کو پلا دو۔ عورتوں نے کہا: ہمیں حاجت نہیں ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا) "بھوک اور جھوٹ جمع نہ کرو۔" (مسند احمد: 6/438 و تخریج احیاء علوم الدین: 3/141 و آداب الزفاف: ص 19)
(9) حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(أنا زعيم ببيت في ربَض الجنة لمن ترك المراء وإن كان محقًّا، وببيت في وسط الجنة لمن ترك الكذب وإن كان مازحاً، وببيت في أعلى الجنة لمن حسن خلقه)
(رواہ ابوداؤد: 4/253، کتاب الادب، باب حسن الخلق و سلسلہ احادیث صحیحہ حدیث: 273)
"٭ جو شخص جھگڑا چھوڑ دے اگرچہ سچا ہو، میں اس کے لئے جنت کے کنارے ایک محل کی ضمانت دیتا ہوں۔ ٭ اور جو شخص جھوٹ ترک کر دے خواہ وہ مذاق و مزاح ہی کر رہا ہو، میں اس کے لئے جنت کے وسط میں ایک محل کا ضامن ہوں۔ ٭ اور جس کے اخلاق اچھے ہوں میں اس کے لئے جنت کے اعلیٰ اور بلند درجات میں ایک محل کا ضامن ہوں۔"
مذکورہ بالا احادیث سے مستنبط مسائل
(1) جھوٹ بولنا نفاق کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
(2) چھوٹوں کے ساتھ جھوٹ بولنا بھی جھوٹ شمار ہوتا ہے۔ اس لئے کہ اس بارے میں چھوٹے بڑے میں کوئی فرق نہیں۔
(3) جھوٹے بادشاہ کی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے ہم کلام نہ ہوں گے، نہ اس کی طرف دیکھیں گے اور نہ اسے گناہوں سے پاک کریں گے۔
(4) جھوٹ میں بےسکونی اور سچائی اطمینان کا سبب ہے۔
(5) حدیث میں جھوٹ بولنے والے کی سزا بھی بیان ہوئی ہے۔
(6) مومن کو چاہیے کہ وہ جھوٹ سے بچے۔
(7) مومن کا جھوٹ بولنا ناممکن بات ہے۔
(8) یہ بھی ثابت ہوا کہ کھانے کی حاجت ہو تو اس حالت میں یہ کہنا کہ مجھے حاجت نہیں، یہ بھی جھوٹ ہے۔ ایسا کہنے والے نے بھوک اور جھوٹ کو جمع کر لیا۔
(9) جھوٹ ترک کرنے والے کے لئے جنت کے وسط میں محل تیار ہے۔
جن صورتوں میں جھوٹ بولنے کی اجازت ہے!
حضرت اُم کلثوم سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(ليس الكذاب الذي يصلح بين الناس ويقول خيرا أو ينمى خيرا)
(بخاری:5/299 مع فتح الباری، کتاب الصلح، باب لیس الکاذب الذی یصلح بین الناس: 2629 و مسلم: 4/2011، کتاب البر والصلہ والادب، باب تحریم الکذب و بیان المباح منہ: 6576)
"وہ شخص (شریعت کی نظر میں) جھوٹا نہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کرانے کی خاطر اچھی بات کہے یا کسی کی طرف کوئی اچھی بات منسوب کرے۔"
ابن شہاب کہتے ہیں کہ میں نے سنا کہ
"صرف تین صورتوں میں جھوٹ بولنے کی اجازت ہے۔ لڑائی کے موقعہ پر، لوگوں کے درمیان صلح کرانے کی خاطر اور میاں بیوی کا ایک دوسرے سے۔"
امام غزالی فرماتے ہیں:
"گفتگو مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہوتی ہے۔ ایسا مقصد جس کا حصول سچ اور جھوٹ دونوں طرح ہو سکتا ہو، ایسی صورت میں جھوٹ بولنا حرام ہے۔ اور اگر کوئی جائز مقصد ایسا ہو جس کا حصول صرف جھوٹ ہی سے ممکن ہو تو ایسی صورت میں جھوٹ بولنا مباح ہے بشرطیکہ اس مقصود کا حصول شرعا مباح ہو۔ اور اگر مقصود واجب ہو تو جھوٹ بولنا واجب ہے مثلا مسلمان کی جان بچانا واجب ہے۔ جب کوئی مسلمان کسی ظالم سے چھپا ہوا ہو ایسی صورت میں سچ بولنے کا نتیجہ اس مسلمان کی جان کے ضیاع کی صورت میں نکلے گا، لہذا ایسے حالات میں جھوٹ بولنا واجب ہے۔ اسی طرح لڑائی یا اصلاح بین الناس کا مقصود مطلوب حاصل کرنے کے لئے جھوٹ ناگزیر ہو تو جھوٹ بولنا مباح ہے۔ تاہم حتیٰ الامکان جھوٹ سے احتراز کی پوری کوشش کرنی چاہیے کیونکہ جب انسان ایک دفعہ کسی ضرورت کے لئے جھوٹ بولے تو خدشہ ہے کہ وہ مجبوری کی صورت کے علاوہ عام حالات میں بھی جھوٹ بولنے لگے گا۔ جھوٹ بولنا بنیادی طور پر حرام ہے۔ البتہ (شرعی) ضروریات کے پیش نظر جائز ہے۔"
(احیاء علوم الدین: 3/137، ریاض الصالحین: ص 586)
بعض اہل علم نے مذکورہ بالا حدیث میں جوازِ کذب کو توریہ اور تعریض کے معنی پر محمول کیا ہے۔ مثلا کوئی شخص کسی ظالم سے کہے کہ میں نے کل آپ کے حق میں دعا کی تھی۔ جب کہ اس سے اس کی مراد یہ ہو کہ میں نے اللهم اغفر للمسلمين کہا تھا۔
اسی طرح کوئی شخص اپنی بیوی سے کوئی چیز دینے کا وعدہ کرے اور اس کا ارادہ یہ ہو کہ اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو دوں گا یا وہ بیوی کے سامنے محض اپنی قوتِ خرید کا اظہار کرنا چاہتا ہو۔
اہل علم کا اتفاق ہے کہ زوجین کے آپس میں ایک دوسرے سے جھوٹ بولنے سے مراد یہ ہے کہ اس سے کسی کی حق تلفی نہ ہوتی ہو یا ناحق کچھ لینا مقصود نہ ہو۔
اسی طرح لڑائی میں اگر کسی کو امان دی گئی ہو تو جھوٹ کی اجازت نہیں۔ البتہ اہل علم نے متفقہ طور پر اضطراری صورت میں جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے۔ مثلا کوئی ظالم کسی شخص کو قتل کرنا چاہتا ہے اور وہ مظلوم کسی کے ہاں چھپا ہوا ہے تو اس کی جان بچانے کے لئے وہ اس کے اپنے پاس ہونے کا انکار کر سکتا ہے اور قسم بھی اٹھا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں وہ گناہگار نہ ہو گا۔ واللہ اعلم (فتح الباری: ج 5 ص 300)
بعض اہل علم نے ذکر کیا ہے کہ صرف تین صورتوں میں ہی جھوٹ بولنے کی اجازت ہے جن کا ذکر اس حدیث میں آیا ہے۔ اس لئے کہ لشکر امتِ اسلام کے لئے محافظ ہوتا ہے اور اختلاف ہر مصیبت کی بنیاد پر ہوتا ہے اور زوجین کے باہمی نزاع سے پورا خاندان متاثر ہوتا ہے۔ چونکہ یہ چیزیں معاشرہ کی بنیاد ہیں، اس لئے ان صورتوں میں جھوٹ کی اجازت ہے۔ (جاری ہے)