پاکستان کے آئین کے مطابق اسلام کو تمام قوانین پر بالادستی حاصل ہے، لیکن ہمارے ہاں سیکولر مزاج رکھنے والے حکمران طبقہ نے صدقِ دل سے اسلام اور شریعت کی اس بالادستی کو کبھی قبول نہیں کیا۔ امریکہ اور یورپ پاکستان کو ایک خالصتا اسلامی ریاست کی حیثیت سے آگے بڑھتے ہوئے دیکھنا نہیں چاہتے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پاکستان میں 'اسلامائزیشن' کے عمل کے خلاف ہمیشہ پرزور احتجاج کیا ہے۔
پاکستان میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش جاری ہے۔ حکومتی سطح پر سوائے صدر ضیاء الحق مرحوم کے ہر دور میں سیکولرازم کے رجحانات کو غلبہ حاصل رہا ہے۔ چونکہ عوامی مزاج میں اسلامیت اب بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، اسی لئے یہاں سیکولرازم کے قدم جمنے نہیں پائے۔ دینی جماعتوں نے ہمیشہ سیکولرائزیشن کے خلاف بھرپور مزاحمت کی ہے مگر دینی جماعتیں ہمیشہ سیکولر طبقہ کے 'عمل' کے خلاف 'ردِ عمل' کا ہی اظہار کرتی رہی ہیں۔ دینی طبقہ کو حکومتی پالیسیوں کے بارے میں عام طور پر اس وقت پتہ چلتا ہے، جب وہ تشکیل کے مراحل طے کر کے عملدرآمد کی منزل میں داخل ہو جاتی ہیں۔ حکومتی پالیسی وضع کرنے کا عمل ہتھیلی پر سرسوں جمانے کے مترادف نہیں ہے، اس کے لئے متواتر اجلاس ہوتے ہیں، بحث و تمحیص ہوتی رہتی ہے جو بالآخر نتیجہ خیز ہو کر فیصلہ جات میں بدل جاتی ہے۔
ایک اخباری اطلاع کے مطابق پاکستان کی وفاقی حکومت کی جانب سے ملک بھر کے تعلیمی بورڈز کو میٹرک کے آئندہ امتحانات میں قرآن مجید کے ترجمہ کے سوال کو نصاب سے خارج کرنے کی بنا پر دینی اور مذہبی جماعتوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ دینی جماعتوں نے اس فیصلے کو سیکولرازم کی جانب ایک پیش قدمی قرار دیا ہے۔ دینی جماعتیں عنقریب ایک کنونشن طلب کریں گی جس میں اس فیصلے کے خلاف متفقہ لائحہ عمل طے کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ (نوائے وقت، 8 جنوری 2001ء)
امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے اس خبر پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر تعلیم نے امریکہ کے حکم پر قرآن کریم کے ترجمہ کو میٹرک کے نصاب سے ختم کر دیا ہے۔ یہ لوگ قرآن کی روشنی کو معاشرے میں پھیلتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ (روزنامہ 'انصاف' 8 جنوری)
روزنامہ نوائے وقت نے اپنی خبر میں یہ وضاحت بھی کی ہے کہ حکومت نے امریکی افسروں کو بتایا تھا کہ اس نے ماضی میں ہونے والے میٹرک کے امتحانات میں سے قرآن مجید کے ترجمے والا سوال ختم کر دیا ہے اور اس کی جگہ قرآن مجید ناظرہ کو امتحان کا حصہ بنایا جائے گا۔ تاہم تمام تعلیمی بورڈوں نے حکومت کے فیصلے اور حکم نامے پر عمل درآمد کرنے سے معذوری کا اظہار کر دیا ہے۔
پاکستان میں تعلیمی نصاب کو وضع کرنے یا اس میں ترمیم لانے کا ایک مفصل طریقہ کار اور باقاعدہ قواعد و ضوابط موجود ہیں۔ اس طرح کے فیصلے راتوں رات نہیں کئے جا سکتے۔ جب سے موجودہ حکومت برسر اقتدار آئی ہے، اس نے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات متعارف کرانے کے کام کا بیڑہ اٹھایا ہے، تعلیمی شعبہ میں اصلاحات متعارف کرانے کے لئے باقاعدہ ایک 'تعلیمی مشاورتی بورڈ' تشکیل دیا گیا جس کے چئیرمین وفاقی وزیر تعلیم ہیں۔ گذشتہ ایک سال کے دوران اس بورڈ کے متعدد اجلاس منعقد ہوئے۔ اس کا ایک اہم اجلاس جنرل پرویز مشرف کی زیر صدارت 31 اکتوبر 2000ء کو اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں صوبائی گورنروں اور صوبائی وزرائے تعلیم نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں وفاقی وزیر تعلیم نے 'تعلیمی شعبہ میں اصلاحات' کے عنوان سے ایک ایکشن پلان پیش کیا۔
مذکورہ تعلیمی مشاورتی بورڈ میں جن افراد کو بطور رکن نامزد کیا گیا، ان کی اکثریت سیکولر اور اشتراکی نظریات کی حامل ہونے کے علاوہ مغربی تہذیب کی علمبردار این جی اوز سے وابستگی کا پس منظر بھی رکھتی ہے۔ اس بورڈ کے ایک متحرک رکن 'ڈاکٹر پرویز ہود بھائی' ہیں۔ 'پرویز ہود بھائی' اگرچہ قائداعظم یونیورسٹی میں فزکس کے پروفیسر ہیں، مگر فکری اعتبار سے متعصب قادیانی اور نظریہ پاکستان کے زبردست مخالف ہیں۔ اسلام آباد میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف گذشتہ چند برسوں میں جن لوگوں نے جلوس نکالے اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قبر بنا کر ان کی توہین کی، ان کے فکری قائدین میں نمایاں ترین نام پرویز ہود بھائی کا ہے۔ اسی قادیانی پروفیسر نے ڈاکٹر مبشر حسن اور روزنامہ 'نیوز' کے امتیاز عالم کے ساتھ مل کر پاک انڈیا پیپلز فورم تشکیل دیا ہے جو پاکستان مخالف سرگرمیوں میں بہت متحرک رہا ہے۔ ڈاکٹر پرویز ہود بھائی گذشتہ کئی برسوں سے قائداعظم یونیورسٹی میں نوجوانوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کی مذموم جدوجہد میں مصروف ہے۔ اس کے خلاف اسلام پسند طبقہ نے کئی بار احتجاجی جلوس بھی نکالے، مگر چونکہ اس کے ہاتھ بہت لمبے ہیں اور اس کا اثر و رسوخ امریکی سفارتخانے تک بھی ہے، اس لئے ابھی تک وہ تدریسی فرائض بدستور انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر پرویز ہود بھائی اگرچہ فزکس کے پروفیسر ہیں، مگر گذشتہ کئی برسوں سے وہ پاکستان میں تعلیمی نصاب کی اصلاح کے بارے میں 'تحقیقی' مقالہ جات تحریر کرتے رہے ہیں۔ وہ پاکستان میں تعلیمی نصاب کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کے زبردست ناقد رہے ہیں۔ وہ نہایت تواتر سے اپنی اس پریشانی کا اظہار کرتے رہتے ہیں کہ آخر نظریہ پاکستان اور اسلام کو نصابی کتب کا حصہ کیوں بنایا گیا ہے۔ ان کے ایک مقالہ کا عنوان ہے، 'پاکستان کی تاریخ کو مسخ کرنے کا عمل' ۔۔۔ تمام قادیانی اور سیکولر دانشوروں کی طرح پرویز ہود بھائی بھی نظریہ پاکستان کے فروغ کو صدر ضیاء الحق کی 'بدعت' قرار دیتے ہیں۔ مذکورہ مضمون میں وہ لکھتے ہیں:
"1977ء کے بعد کی "تاریخ پاکستان' کی تمام نصابی کتابوں میں 'نظریہ پاکستان' کے فقرے نے مزکری اہمیت کی حیثیت حاصل کر رکھی ہے۔ نظریہ پاکستان کا فقرہ ہر گفتگو میں نفوذ کر گیا ہے۔ ہر بحث میں حوالہ کا کام دیتا ہے اور تمام کتابوں میں آغاز ہی پر وہ نظر آ جاتا ہے۔ مثلا لکھا جاتا ہے کہ "ایک نظریاتی ملک کے شہری ہونے کی حیثیت سے پہلے اس اساس کا جاننا ضروری ہے جس پر پاکستان قائم ہوا تھا یعنی نظریہ پاکستان۔"
وہ اپنی پریشانی کا مزید اظہار یوں کرتے ہیں:
"دوسری کتابوں کی بھی ابتدا ایسے ہی جملوں سے ہوتی ہے: "پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے۔ پاکستان کے حصول کے لئے کی گئی جدوجہد کی بنیاد اور محرک بھی نظریہ پاکستان تھا۔ نظریہ پاکستان کی تشریح کئی طریقوں سے کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر ایک ذریعہ کا کہنا ہے "نظریہ پاکستان 'اسلام' ہے۔"
جماعت اسلامی، اسلامی نظام کی علمبردار ہے اور اس کا یہ قصور سیکولرازم دانشور معاف کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ پرویز ہود بھائی لکھتے ہیں:
"جماعت اسلامی جسے مولانا مودودی رحمہ اللہ نے قائم کیا تھا، ایک بنیاد پرست جماعت ہے، جو صاف صاف تمام قوانین پر اسلامی شریعت کے بالاتر ہونے کی دعویدار ہے اور اس بنیاد پر اس نے ایک سیاسی اور سماجی تنظیم قائم کر رکھی ہے۔ جماعت کی اپیل کا بڑا حصہ مغربی تہذیب اور مغربی جمہوریت کی مذمت پر مبنی ہے۔ نیز اس نے ایک اسلامی ریاست کا خاکہ بھی بنا رکھا ہے۔ حال ہی میں پاکستان کی جدید نصابی کتابوں کے ذریعہ اسی تصور کو عام کیا گیا ہے۔"
سیکولر پراپیگنڈہ بازوں کا فریب انگیز اُسلوب یہی رہا ہے کہ وہ پاکستان میں اسلام کے مطالبہ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے 'جماعت اسلامی کا اسلام' کہہ کر پکارتے ہیں۔ وہ ثابت یہ کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کا تعلق اسلام سے نہیں ہے، یہ تو محض جماعتِ اسلامی کی کارستانی ہے کہ اس نے نفاذِ اسلام کی تحریک برپا کر رکھی ہے۔ دینی جماعتوں کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کے ذریعے وہ بالواسطہ اسلام کے خلاف زہر افشانی کرتے ہیں۔ کبھی وہ نظریہ پاکستان کو ضیاء الحق سے منسوب کرتے ہیں۔ چونکہ بعض حلقے ضیاء الحق مرحوم کو آمر حکمران ہونے کی وجہ سے پسند نہیں کرتے، اسی لئے وہ نظریہ پاکستان کے خلاف نفرت ابھارنے کے لئے اسے ضیاء الحق سے منسوب کرتے ہیں۔ حالانکہ ضیاء الحق کی آمرانہ حیثیت اپنی جگہ، پاکستان کے تعلیمی اداروں میں انہوں نے تعلیمی نصاب کو اسلام کے مطابق ڈھالنے کے لئے جو کاوش کی، وہ حد درجہ قابل تحسین ہے۔
ڈاکٹر پرویز ہود بھائی 'نصابی کتابوں میں اسلام کاری' کے زیر عنوان مضمون میں تحریر کرتے ہیں:
"مطالعہ پاکستان کی نصابی کتابوں کا مرکزی موضوع 'اسلامائزیشن' ہے۔ تقسیم کے بعد کی صرف تین باتیں تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔ اولا وہ 1949ء کی قراردادِ مقاصد کو پیش کرتی ہیں جس نے ریاست پاکستان کی حاکمیتِ اعلیٰ اللہ کو دی ہے اور جس نے مختلف شہری حقوق کی صورت میں مسلمانوں کو غیر مسلمانوں سے جدا کر دیا ہے۔"
اس مضمون میں وہ ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
"نئی نصابی کتابوں میں سماجی انصاف پر زور دینے کے برعکس اسلام کے رسمی پہلوؤں پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ سائنس اور سیکولر تعلیم کو سخت مشکوک بنا دیا گیا ہے۔ ایک کتاب کے مطابق جدید تعلیم سے دور رہنا چاہیے، اس لئے کہ یہ الحاد اور مادیت کی طرف لے جاتی ہے۔"
ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے مذکورہ بات لکھتے ہوئے کسی کتاب کا حوالہ نہیں دیا۔ یہ محض اس کے ذہن کی افترا پردازی اور شرپسندی ہے۔ ورنہ کسی بھی نصابی کتاب میں جدید تعلیم سے دور رہنے کی تلقین نہیں کی گئی ہے ۔۔ پاکستان میں اقلیتوں کو تمام حقوق حاصل ہیں، مگر قادیانی ہمیشہ پراپیگنڈہ کرتے ہیں کہ ان کے حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے۔ پرویز ہود بھی اس قادیانی سوچ کے اظہار سے باز نہ رہ سکے، لکھتے ہیں:
"نئی نصابی کتابوں میں اسلام کو عبادتی رسوم کا مجموعہ بنانے پر زور دینے کے ساتھ بعض غیر مسلم فرقوں کے خلاف جذبات کو شعوری طور پر بھڑکایا گیا ہے۔ خاص طور پر ہندوؤں اور قادیانیوں کے خلاف۔"
اس بیہودہ الزام تراشی کی تائید میں پرویز ہود بھائی نے نصابی کتب میں سے ایک بھی مثال پیش نہیں کی جس میں قادیانیوں کے خلاف جذبات کو شعوری طور پر بھڑکایا گیا ہو۔ اس مضمون کے آخر میں وہ سیکولر حکمرانوں کی کوتاہی کی نشاندہی اس انداز میں کرتے ہیں:
"مغربی طرزِ زندگی رکھنے والا آزاد خیال طبقہ جس نے سیاسی اقتدار برطانیہ سے جانشین کے طور پر لیا تھا، اگر اس نے تعلیم کو بنیادی طور پر جدید اور سیکولر کردار میں ڈھال دیا ہوتا تو اس سے آخر کار ایک جدید اور سیکولر ذہن رکھنے والی شہریت جنم لیتی۔ لیکن اس طبقہ کی خود غرضانہ اور موقع پرستانہ ذہنیت نے سیاسی اور اقتصادی ہنگامی حالات کے پیش نظر اسے لبرل قدروں کو ترک کر دینے پر مجبور کر دیا۔"
پرویز ہود بھائی کا یہ مضمون 'اسلام، جمہوریت اور پاکستان' نامی کتاب میں شامل ہے جسے ائر مارشل (ر) اصغر خان نے 1999ء میں ترتیب دے کر شائع کیا۔ اس وقت تک ابھی نواز شریف کی حکومت ہی تھی۔ اس کتاب میں شامل دیگر مضامین بھی سیکولرازم کی فکر کے عکاس ہیں۔ نہایت بےباکی سے نظریہ پاکستان اور اسلام کے خلاف زہر اُگلا گیا ہے، مگر ہمارے دینی طبقہ کی بےحسی ملاحظہ کیجئے کہ کسی طرف سے اس طرح کی شر انگیز کتب کا مؤثر محاکمہ نہیں کیا گیا۔ ارشاد حقانی صاحب نے روزنامہ جنگ میں اس کتاب پر 'ریویو' لکھا، مگر اس میں انہوں نے بھی اسلامی نقطہ نگاہ سے اس کتاب پر تنقید نہیں کی، بلکہ بعض جگہوں پر تو ان کی تنقید سیکولرازم کی تائید کرتی نظر آتی ہے۔ راقم الحروف نے ارشاد حقانی صاحب کے مضمون کے جواب میں مفصل تبصرہ ارسال کیا تھا، جو شائع نہ کیا گیا۔
پرویز ہود بھائی جو تعلیمی مشاورتی بورڈ کے رکن ہیں، ان کے خیالات مندرجہ بالا سطور میں پیش کئے گئے ہیں۔ یہ خیالات انہوں نے تعلیمی مشاورتی بورڈ کا رکن بننے سے پہلے پیش کئے تھے۔ گذشتہ چند ماہ میں بھی وہ انگریزی اخبارات میں تواتر کے ساتھ انہی خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ این جی اوز نے اپنے لٹریچر میں بھی بےحد وسیع پیمانے پر نظریہ پاکستان کی مخالفت کی مہم برپا کئے رکھی۔ عاصمہ جہانگیر کا انسانی حقوق کمیشن ہو، اصغر خان کی سنگی فاؤنڈیشن ہو، عورت فاؤنڈیشن ہو یا یورپی ایجنٹوں کی کوئی قابل ذکر این جی اوز، آپ ان کا لٹریچر اُٹھا لیجئے، اس میں وہی خیالات ملیں گے جس کی جھلک پرویز ہود بھائی کے مضامین سے دکھائی گئی ہے۔ ہماری دینی جماعتیں این جی اوز کے خلاف اخبارات میں جارحانہ بیان دیتی رہتی ہیں اور فی نفسہ یہ ایک قابل تعریف اقدام ہے۔ مگر ان کی جانب سے علمی سطح پر اس زہریلے پراپیگنڈہ کا توڑ بھی پیش کرنا چاہیے۔ انہیں اسلام دشمن سیکولر طبقہ کی خطرناک پیش قدمی پر گہری نگاہ رکھنی چاہیے۔ جہاں کہیں اصلاحات کے نام پر سیکولرازم کے نفاذ کے لئے پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں، ان کو قبل از وقت بے نقاب کر کے ان کے خلاف زبردست تحریک برپا کرنی چاہیے۔
مذکورہ قادیانی پروفیسر ہود بھائی کو اس سال 14 اگست کے موقعہ پر ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ کسی بھی حلقے سے نظریہ پاکستان کے مخالف کی اس عزت افزائی پر احتجاج نہیں کیا گیا۔ اگر ہماری دینی اور وطنی حمیت کی یہ صورت ہے تو پھر ہمیں یہ شکایت زیب نہیں دیتی کہ امریکہ کے حکم پر ہمارے تعلیمی نصاب سے قرآن پاک کا ترجمہ خارج کر دیا گیا ہے۔