وطن عزیز ان دنوں شدید سیاسی مشکلات سے دوچار ہے۔ حکمرانوں کا قبلہ و کعبہ اور ہے اور عوامی فکر کے دھارے اور سمت بہتے ہیں۔ بالخصوص چند ماہ سے پاکستانی منظر نامے میں ایسی تبدیلیاں لگاتار آ رہی ہیں، جن سے محب وطن اور اسلام پسند حضرات شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ ایک بحران ابھی نہیں ٹلتا کہ دوسری آفت آن وارد ہوتی ہے۔ پے در پے ان اُلجھے حالات سے عجیب بےچینی اور مایوسی کی فضا پھیلی ہوئی ہے۔ حکمران جو بیرونی طاقتوں کے سہارے ملک پر مسلط ہیں، اپنے عوام کے جذبات کا احساس کرنے اور ملک کو داخلی مسائل کے گرداب سے نکالنے کی بجائے عالمی قوتوں کی خوشنودی کے حصول میں مگن ہیں۔
فروری میں ہونے والے پاک بھارت مذاکرات میں پاکستان پر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے ڈالے جانے والے دباؤ کو ہر صاحبِ نظر محسوس کر سکتا ہے۔ کشمیر کے مسئلے پر اپنے اصولی موقف سے دستبرداری کے لئے عوام الناس کو ذہبی طور پر زبردستی تیار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت میں روایتی تناؤ کو ختم کرنے کے لئے جس طرح کھیل ڈپلومیسی اختیار کی گئی ہے اور اس کے نتائج دینے کی پاکستان سے توقع کی جا رہی ہے، اس سے بھی محبِ وطن حلقے شدید پریشانی اور دباؤ کا شکار ہیں۔ کھیلوں کا یہ سلسلہ کرکٹ سے بڑھ کر ہاکی، فٹ بال، پولو میچز اور سیف گیمز تک پھیل رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نام نہاد ثقافتی طائفوں کی آمد بھی شروع ہو چکی ہے جن کے استقبال میں حکمرانوں کا والہانہ پن اور اپنائیت ہر کوئی محسوس کر سکتا ہے۔ مشترکہ چیمبر آف کامرس کو وجود میں لانے کی باتیں ہو رہی ہیں اور یکم اگست 2004ء سے مظفر آباد/سری نگر بس سروس بھی شروع کی جا رہی ہے۔
یہی پرویز مشرف تھے جو آگرہ میں گئے تو ان کے تیور اور بھارتی حکمرانوں سے بات چیت کے انداز مختلف تھے، تھوڑے ہی عرصے میں کیا ایسی قیامت خیز تبدیلی آ گئی کہ اپنے موقف سے مکمل انحراف ضروری سمجھا گیا۔ کیا بھارت نے خفیہ طور پر کسی غیر معمولی خیر سگالی کا مظاہرہ کیا ہے یا پاکستان کی طرف سے کسی ان دیکھے دباؤ پر یک طرفہ لچک کو اپنایا گیا ہے؟ جنگ نہ ہونے اور ایک دوسرے کے جذبات کے احترام کرنے کا کوئی معاہدہ طے پایا ہے یا کچھ اور ہے جس کی پردہ داری ہے اور بےچارے عوام کی نظروں سے وہ اوجھل ہے!!
ابھی چند روز پہلے ملک کے مایہ ناز ایٹمی سائنسدانوں کے ساتھ کھیل کھیلا گیا اور عالمی سطح پر پاکستان کا ایٹمی پروگرام رسوا ہوا، قابل فخر سائنسدانوں کی سبکی ہوئی، پھر عام معافی سے معاملہ مشروط معافی تک پہنچا، جس کو امریکہ کسی وقت دوبارہ اٹھا سکتا ہے (خبر 1/اپریل)۔ یہ آفت ابھی نہیں ٹلی کہ وانا آپریشن کا قیامت خیز سلسلہ شروع ہو گیا۔ عوام کو کھیل میں اُلجھا کر جس طرح مجاہدین پر ظلم و ستم ڈھایا گیا، اس سے ملک و ملت کا درد رکھنے والا ہر فرد بےچین اور فکر مند ہے۔ اس آپریشن میں سرکاری بیان کے مطابق پاک فوج کے 50 سے زیادہ اہل کار کام آئے جبکہ سینکڑوں مجاہدین اور علاقے کے معصوم عوام کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔ آپریشن کے اختتام پر یہ عقدہ کھلا کہ یہ آپریشن جو اسامہ یا ان کے کسی اہم ذمہ دار کو پکڑنے کے لئے عمل میں لایا گیا، دراصل غلط معلومات اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے نہ صرف ناکام ہوا بلکہ حکومتی افراد بھی یرغمال بنا لئے گئے۔ بعض مبصرین کے مطابق امریکہ کے حالیہ صدارتی الیکشن میں کامیابی کے لئے پاکستانی حکومت کو یہ ذمہ داری تفویض کی گئی تھی، جس کو انہوں نے اپنی ملکی و ملی ضروریات کو نظر انداز کر کے دیوانگی کی حد تک پورا کرنے کی کوشش کی۔
دینی مدارس کے ساتھ حکومت کی دلچسپی ان دنوں حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔ امریکہ بہادر نے 6 ارب کی خطیر رقم ان کی 'فلاح و بہود' کے لئے مختص کر دی ہے۔ ماڈل دینی مدارس کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے اور مدارس کی اصلاح کے نت نئے قانون وضع کئے جا رہے ہیں۔ مدارس پر نظر کرم اس حد تک بڑھی ہے کہ سندھ میں ان پر اسناد جاری کرنے کی پابندی عائد کر دی گئی ہے اور یہ سلسلہ قدم بقدم دوسرے صوبوں کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔ مدارس کو رجسٹریشن کا پابند کرنے کی تیاریاں ہو چکی ہیں اور جو ادارہ بھی حکومتی اداروں کے آگے سرتسلیم خم نہیں کرے گا، اسے نونہالانِ قوم کو تعلیم دینے کا کوئی حق حاصل نہیں رہے گا۔
وطن عزیز میں جدید تعلیم کو پھیلانے والے کاروباری تعلیمی اداروں میں جس طرح یونیورسٹی چارٹرز کی بندر بانٹ جاری ہے، مدارس کے کرتا دھرتاؤں نے تمام دینی امتحان بورڈز پر مشتمل ایک چارٹر کی درخواست سرکار کی خدمت میں پیش کی تھی، لیکن اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا گیا۔ جدید تعلیم کا کوئی بھی ادارہ ہو، جب اس میں مغربی کلچر کی معمولی سی چکاچوند پیدا ہو جائے اور وہ نمایاں ہونے لگے تو اس کو ابتدائی طور پر یونیورسٹی کے لئے منظور کر لیا جاتا ہے لیکن بیسیوں سال سے قائم عظیم دینی مدارس جن کی خدمات، طلبہ اور علمی وسائل ایسے اداروں سے کئی گنا زیادہ ہیں، اور ان کا نیٹ ورک بہت وسیع ہے، ان کا داخلہ اس میدان میں سرے سے ہی بند ہے۔
ایک طرف دینی مدارس کو حاصل آمدنی کے ذرائع پر پابندیاں لگا دی گئی ہیں دوسری طرف بیرونی فنڈ سے چلنے والی ملکی اور غیر ملکی این جی اوز کا ایک جنگل اُگ آیا ہے اور بے روک ٹوک کام کر رہی ہیں۔ ان کی امداد کس مد میں صرف ہو رہی ہے، اس پر کوئی چیک نہیں۔ مدارس کے لئے اوقاف تو عرصہ ہوا انگریز سرکار نے چھین لئے تھے، جس کے بالمقابل عیسائی اداروں کو عوام الناس میں اسلام سے بیزاری پیدا کرنے کے لئے کھلی چھوٹ دی گئی تھی۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آج بھی صورتحال چنداں مختلف نہیں۔ چند ماہ قبل ہی ایف سی کالج جیسے بڑے سرکاری تعلیمی ادارے کو اربوں کی اراضی اور وسائل کے ساتھ دوبارہ عیسائیوں کے حوالے کیا جا چکا ہے۔ اب 31 مارچ کے اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی ہے جس سے بہت سے اندیشے سر اٹھانے لگے ہیں:
"ایف سی کالج کو یونیورسٹی کا چارٹر مل گیا ۔۔ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر پیٹر آرماکوسٹ نے کہا ہے کہ اس یونیورسٹی کا الحاق امریکہ کی یونیورسٹی سے کیا جائے گا۔ ہم جدید طرز کا امتحانی سسٹم متعارف کرائیں گے۔" (روزنامہ جنگ: 31 مارچ 2004ء، ص 3)
اس سے پہلے ملک میں حدود آرڈیننس کے خلاف مہم جاری ہے، نام نہاد حقوقِ انسان کی بحالی کے لئے حکومتی سطح پر کوششیں کی جا رہی ہیں، اور قومی اسمبلی میں اس پر بحث شروع ہو چکی ہے جس کی حمایت اور مخالفت میں گروپ بندی ہو رہی ہے۔
یہ سب کچھ کسی نئی آزمائش کا پتہ دے رہا ہے، کچھ تو ایسا ہے جو اس ملک میں مقتدر طبقہ کے درمیان طے پا گیا ہے۔ امریکہ نے پاکستان کے لئے ایک نیا کردار تجویز کیا ہے، ایسی حکومت جو سرچشمہ اقتدار پر امریکی طاقت کے سہارے قابض ہے، اس کی کمزوری کی کچھ ایسی قیمت لگی ہے کہ سب کے تیور بدلے بدلے نظر آتے ہیں۔ گویا ایک دھن ہے یا ایک فرض جس کی تعمیل کے لئے سر پر اقتدار پر براجمان طبقہ سرگرم ہے۔ حکومت کی یہ فدویانہ روش کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہی جناب عرفان صدیقی کے بقول:
"شاید ہی کوئی پاکستانی بھارت سے مستقل متصادم ہو، محاذ آرائی اور جنگ و جدل کے حق میں ہو ۔۔ لیکن شاید ہی کوئی پاکستانی سپر اندازی اور خود سپردگی کی اس فدویانہ روش کے حق میں ہو جسے ہم نے عہد نو کی حکمتِ عملی کے طور پر اپنایا ہے۔" (30 مارچ 2003ء)
اِسی روز یہی بات ایک اور رنگ میں مسرت لغاری صاحبہ نے اپنے کالم میں لکھی ہے:
"پاکستان کے پرچم کو بھارت کے ترنگے کے ساتھ سینے کا کام کس کے حکم پر ہوا۔ پاکستانیوں کی خود سپردگی کا یہ عالم ہے کہ کرکٹ کے میدان میں ہارنے کے بعد جشن فتح منایا گیا، پاکستانی کپتان کے چہرے پر بلا کا سکون اور سکون کی گہری نیند سے بیدار ہونے کا چین لگتا تھا، گویا ان کے ذمے جو مشن سونپا گیا تھا، بخوبی انہوں نے پورا کر دیا۔ ہارنے کے بعد پس منظر میں اتنے پاکستانی پرچم لہرائے گئے کہ لگتا تھا جیت پاکستان کی ہوئی ہے۔ پاکستانی تماشائیوں کے گالوں پر ترنگے کے نشان اور دلوں میں مچلتی ترنگیں تھیں۔" (کالم 'فکر جہاں')
حکومت نے جس انداز میں کھیل ڈپلومیسی شروع کی، اس میں وارفتگی کا یہ عالم ہے کہ 23 مارچ کو ہمیشہ سے منعقد ہونے والا یومِ قرارداد پاکستان منسوخ کر گیا گیا، اس روز قراردادِ پاکستان پر ملک بھر میں تقریبات کا سرے سے اہتمام نہ کیا گیا، کسی سرکاری عمارت پر چراغاں نہ کیا گیا جبکہ تعلیمی اداروں میں سوئی گرنے کی سی خاموشی طاری رہی۔
بھارتیوں پر اس فریفتگی کا نتیجہ مثبت نکلنے کے بجائے وہی نکلا جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ 29 مارچ کے اخبارات میں یہ خبر چھپی کہ بھارتی ریاست گجرات کے 3 بڑے شہروں میں متشددانہ کاروائیاں شروع ہو گئی ہیں اور مسلم کش فسادات کا خطرہ محسوس کیا جانے لگا ہے۔
آغا خانیوں کا ملک میں بڑھتا ہوا کردار
ملک کی خارجہ صورتحال تو پریشان کن ہے ہی، لیکن داخلی صورتحال بھی کچھ کم تشویشناک نہیں۔ پاکستان کے نئے سیاسی منظر نامے میں آغا خاں اور ان کے پیروکاروں کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ آغا خانی فرقے کے عقائد اس باطنی گروہ سے ملتے ہیں جو تاریخ میں حسن بن صباح کے جانثاروں کے نام سے معروف ہے۔ ان کا تعلق اس اسماعیلی فرقے سے ہے جو مصر میں کئی سو سال حکومت کر چکا ہے اور مسلمانوں کی وحدت کو توڑنے میں اس کا کردار نمایاں رہا ہے۔ اس فرقے کو نئی زندگی اُنیسویں صدی میں اس وقت ملی جب انگریزوں نے ان کی سرپرستی کی اور دنیا بھر سے آغا خانیوں کو جمع کیا گیا۔ آغا خاں اول ایران میں نمودار ہوئے، 1858ء میں مسقط کی اسماعیلی جماعت نے آغا خاں کی مذہبی حیثیت کے بارے بمبئی ہائیکورٹ میں مقدمہ دائر کیا، انگریزی عدالت کے فیصلہ کی رو سے آغا خاں کو اس فرقے کا روحانی پیشوا قرار دیا گیا۔ اسی وجہ سے آغا خاں کو 'پرنس' کا لقب دیا جاتا ہے۔
آغا خاں کی شخصیت سے سرچارلس اس قدر متاثر تھے کہ انہوں نے ان کی بیش بہا خدمات اور قربانیوں کا ذکر گورنر جنرل ہند سے کیا اور لندن پورٹ روانہ کی جس کے نتیجے میں آغا خاں کو 'ہرہائی نس' کا تاریخی خطاب عطا کیا گیا۔ (تاریخ اسماعیلیہ: ص 49،50)
ایک اور روایت کے مطابق سندھ پر انگریزوں کے حملے میں آغا خانیوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا۔ یہ آخا خان سوئم کا زمانہ تھا، ان کی خدمات کے صلے میں انہیں حکومتِ برطانیہ کی طرف سے 'سر' اور 'ہزہائی نس' کے خطابات سے نوازا گیا۔
آغا خانیوں کے مذہبی عقائد کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیے:
"اس فرقے نے اسلامی عقائد کو پامال کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں جانے دیا۔ قرآن کو محرف بتایا، اللہ رب العزت کے وجود کا یہ کہہ کر انکار کیا کہ غائب خدا کو ماننا نامعقول ہے۔ اپنے امام کو خدا مانا، جنت و دوزخ اور آخرت کا انکار کیا۔ نماز روزہ اور حج کا تصور ہی ختم کرنے کی کوشش کی۔ خانہ کعبہ کو سامراجیوں کا اجتماع گاہ قرار دیا اور اسلامی شریعت کو سرے سے منسوخ و باطل قرار دیا۔" (ماہنامہ الحق: اگست 1985ء، ص 37)
ان دنوں آغا خانی پرنس فرانس میں رہائش پذیر ہیں جہاں ان کے متعدد دفاتر کام کر رہے ہیں جبکہ تنظیم کا صدر فدتر جینوا میں ہے جس میں یہودیوں کی بکثرت آمد و رفت رہتی ہے، غیر مسلم دنیا میں ان کا غیر معمولی احترام کیا جاتا ہے، پاکستان میں بھی انہیں سربراہِ مملکت کا پروٹوکول دیا جاتا ہے۔ معروف جریدے 'تکبیر' کے مطابق"پرنس کریم آغا خان اور ان کے خاندان کے بین الاقوامی سطح پر رابطوں، اثر و رسوخ میں کوئی ثانی نہیں۔ اس گروپ کے اسرائیل، امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور یورپی یونین سمیت درجنوں اسلام ممالک، آسیان ممالک، افریقی ممالک سے براہ راست اقتصادی تعلقات ہیں۔ دنیا کے بیشتر ملکوں میں پرنس کو VVIP پروٹوکول حاصل ہے۔" (14 مئی 2003ء، ص 12)
انہی اعلیٰ غیر ملکی تعلقات کا نتیجہ ہے کہ پاکستان میں آغا خان کے دیہی ترقیاتی پروگرام کو روز بروز ترقی دی جا رہی ہے، جس میں برطانیہ، امریکہ، کینیڈا بڑھ چڑھ کر مدد دے رہے ہیں۔ آغا خانیوں نے عرصہ دراز سے پاکستان کے سرحدی علاقوں گلگت، چترال اور وادی ہنزہ میں امدادی سرگرمیوں کا جال بچھا رکھا ہے۔ زرِ کثیر خرچ کر کے ان علاقوں میں انہوں نے اپنی اہمیت تسلیم کرا لی ہے۔ مولانا عبیداللہ چترالی نے 1987ء میں ان شمالی علاقہ جات کا دورہ کیا اور اپنے تاثرات میں لکھا کہ
"ان علاقوں میں آغا خانی ریاست عملا قائم ہو چکی ہے، ہر چھوٹے بڑے گاؤں میں آغا خانی سکول قائم ہیں۔ اور علاج معالجہ کے لئے متعدد ہسپتال، جماعت خانوں کو آغا خانی دفاتر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جن میں یومیہ 8 بجے صبح سے 4 بجے شام تک آغا خانی پرچم لہرایا جاتا ہے۔ تقریبا تمام دیوانی و فوجی مقدمات کا فیصلہ اسماعیلی تنظیموں کے سرکردہ افراد کرتے ہیں، حکومتی عہدیدار آغا خانی تنظیموں کے سامنے بےبس اور مجبور ہیں۔ سڑکوں، نہروں اور ریلوں کا جال بچھایا گیا ہے جن پر آغا خان فاؤنڈیشن کے بورڈ نصب ہیں۔ سرکاری سڑکوں پر فرلانگ، دو فرلانگ کے فاصلے پر آغا خانی شعار (5 انگلیوں والا نشان) دکھائی دیتا ہے۔ ان تمام کاموں کی سرپرستی 'اسماعیلیہ ایسوسی ایشن' کے نام سے ایک تنظیم کرتی ہے۔ ان کاموں کی رپورٹیں کراچی کے صدر دفتر کے ذریعے فرانس میں باقاعدگی سے ارسال کی جاتی ہیں جہاں سے کام کرنے کی پالیسی جاری ہوتی ہے۔" (ماہنامہ 'الحق' بابت دسمبر 1989ء ص 31، شمالی علاقہ جات، آغا خانی عزائم اور ہماری غفلت، از مولانا عبیداللہ چترالی)
آغا خانی ریاست
آغا خانی اپنے نئے جنم سے ایک سٹیٹ بنانے کے لئے سرگرم ہیں جس کے لئے نہ صرف انگریز سرکار کی حاشیہ نشینی کر چکے ہیں، بلکہ روس کی افغانستان پر جارحیت کے دنوں میں آغا خان نے چیکوسلواکیہ اور اشتراکی ممالک کے کئی دورے کئے، اور روس نے واخان کا علاقہ ان کے دائرہ اختیار میں دے دیا، جہاں انہوں نے ائیر پورٹ اور میزائلوں کے اڈے بھی بنائے۔ روس کے اشتراک سے ایک زیر زمین سرنگ کی کھدائی شروع کی گئی جو واخان کو چترال اور گلگت سے ملاتی۔ روس سے اس معاہدے میں ان دنوں بھارت بھی شریکِ کار تھا۔
دوسری طرف پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں آغا خانی متعدد بار عوامی رائے دہی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 1982ء میں ان علاقوں میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے نتیجے میں آغا خانیوں کا یہ مطالبہ سامنے آیا کہ ان علاقوں سے سنیوں کو نکالا اور ملک کے دیگر حصوں سے آغا خانیوں کو یہاں لا کر آباد کیا جائے۔ صدر ضیاء الحق سے آغا خاں نے شمالی علاقہ جات کو مستقل صوبہ بنانے اور اس کے تمام اخراجات اٹھانے کی درخواست بھی کی۔ ان علاقوں میں بزورِ بازو قبضہ برقرار رکھنے کے لئے 'فدائی فورس' کے نام سے آغا خانی رضا کار سکاؤٹ تنظیم بھی منظم طور پر کام کر رہی ہے۔ آغا خانیوں کو بڑی مقدار میں اسلحہ بھی فراہم کیا گیا ہے چنانچہ گلگت کے فرقہ وارانہ فسادات میں اسلحہ سے بھری ہوئی آغا خانی گاڑیاں برآمد کی جا چکی ہیں۔
مسئلہ کشمیر اور آغا خانی
روس اور پاکستان کے تعاون سے آغا خانی سٹیٹ بنانے میں وقتی ناکامی کے بعد ان دنوں آغا خانی واحد سپر پاور امریکہ کے ایجنٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں، روس کے افغانستان میں ہزیمت پانے کے بعد امریکہ کی طرف سے پہلے پہل آغا خانیوں کو افغانستان میں آباد کاری کا مشن بھی انہیں سونپا گیا، لیکن اب ایک اور سمت تیزی سے کام جاری ہے۔
بھارت نے پاکستان کے ساتھ جس بنیاد پر جنگ کی بجائے صلح کا رنگ اختیار کرنا شروع کیا ہے، اس کی وجہ وہ امریکی حکمتِ عملی ہے جس کی رو سے کشمیر کو 3 حصوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ سرحدوں سے اپنی افواج کو واپس بلانے اور لب و لہجے میں نرمی اختیار کرنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ بھارت کو کشمیر میں اپنا مطلوبہ حصہ دینے کی امریکہ ضمانت فراہم کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے زیر سایہ کشمیر کی 580 کلومیٹر لمبی لائن آف کنٹرول میں سے 360 کلومیٹر پر آہن و فولاد کی ناقابل عبور باڑ لگائی جا چکی ہے اور باقی ماندہ حصے پر 31 مئی 2004ء تک کام مکمل ہو جائے گا۔ فی کلومیٹر 32 لاکھ روپے کے خرچ سے کھڑی کی جانے والی اس باڑ میں عنقریب برقی رو دوڑا دی جائے گی جس سے مقبوضہ کشمیر میں 'دراندازی، سمگلنگ اور مداخلت کے امکانات بالکل ختم ہو جائیں گے۔ لائن آف کنٹرول کو اس طرح مستقل سرحد قرار دے دینا اقوام متحدہ کی قراردادوں سے صریح انحراف ہے، جس پر احتجاج اور سفارتی جنگ کے بجائے پاکستان خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ (نقش خیال: نوائے وقت، 30 مارچ 2004ء)
راز ہائے درونِ خانہ جاننے والوں کا کہنا ہے کہ کشمیر کا 28 ہزار مربع میل پر مشتمل علاقہ مستقل طور پر بھارت کو دینے کی تیاری کر لی گئی ہے، جبکہ آزاد کشمیر، منسلکہ شمالی علاقہ جات اور وادی کے کچھ حصے پر مشتمل علاقہ کو امریکی منصوبے میں شمالی کشمیر کا نام دیا گیا ہے، جس میں گلگت، بلتستان اور کرگل کا علاقہ بھی شامل ہو گا۔ اس علاقے میں چونکہ آغا خانی 30 فیصد ہیں، اور مکمل انتظامی کنٹرول رکھتے ہیں، لہذا امریکیوں کی دلچسپی ہو گی کہ اقتدار انہیں سونپا جائے، جبکہ کشمیر کا تیسرا حصہ جو 10 ہزار مربع میل پر مشتمل ہے اور چین کے قبضے میں ہے، کو متنازعہ علاقہ قرار دے کر ایشیا کا مستقبل کا میدانِ جنگ بنایا جائے، پہلے بھی اس کا تنازعہ بھارت اور چین کے درمیان چل رہا ہے، اس کو ہوا دی جائے اور بھارت کو چین کے ساتھ اُلجھا دیا جائے، اس سے یہ مقصد حاصل ہو گا کہ چین علاقائی مسائل کا شکار ہو گا اور عالمی سیاست میں اس کا کردار اور دلچسپی محدود ہو جائے گی۔ چین کو علاقائی مسائل میں اُلجھانے کے لئے بھارت کو پاکستان سے فارغ کرنا بہت ضروری ہے جس کے لئے یہ تمام امریکی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
بھارت سے پاکستان کا تناؤ ختم ہونے کے بعد پاکستان سے ایٹمی پروگرام سے دستبرداری کا مطالبہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ ایسی صورت میں اس کا دفاعی جواز ختم ہو جائے گا، جبکہ آغا خانی اقتدار کی صورت میں امریکہ کو ایک مستقل ٹھکانہ مل سکتا ہے، آغا خانیوں کے عالمی تعلقات کے پس منظر میں اسرائیل کی طرح ایٹمی قوت کا انعام بھی انہیں دیا جا سکتا ہے تاکہ وہ امریکی تھانیدار کا کردار ادا کرے۔ امریکہ کی طرف سے کشمیر پر تصفیہ کا یہی فارمولا 2003ء کے وسط میں سامنے آیا ہے جس پر دبے لفظوں میں صدر اور وزیر اطلاعات کا احتجاج بھی سامنے آ چکا ہے۔ (ہفت روزہ تکبیر: 14 مئی 2003ء، 'کشمیر میں آغا خان کا پراسرار کردار': ص 12)
آغا خانیوں کا پاکستانی معیشت پر قبضہ
گذشتہ مہینوں میں 'آغا خان فنڈ برائے ترقی' کو پاکستان کا سب سے بڑا بینک 'حبیب بینک' بھی اونے پونے داموں میں فروخت کیا گیا، جس پر مالی حلقوں میں خوب لے دے ہوئی۔ بنک کی نجکاری کے اس عمل پر تکبیر کی ہی ایک مفصل رپورٹ میں اظہارِ خیال کیا گیا، جس میں قرار دیا گیا کہ 70 ارب روپے کے اثاثوں پر مشتمل بنک کو صرف 22 ارب روپے میں بعجلت فروخت کر دیا گیا، بنک کے آخری سال کا منافع ہی اٹھائی ارب روپے تھا، جبکہ موجودہ ڈیل میں حکومت کو صرف 10 ارب روپے درحقیقت ادا ہونے ہیں۔ جناب پرویز مشرف نے حبیب بنک کی آغا خان کو فروخت پر اطمینان اور مسرت کا اظہار کیا جس کے بعد اکثر اعتراض کرنے والے خاموش ہو گئے۔ لیکن گذشتہ دنوں سپریم کورٹ میں اس نجکاری کے خلاف رٹ دائر کر دی گئی۔ 31 مارچ کے روزنامہ نوائے وقت اور روزنامہ جنگ کے مطابق
"وکلاء نے سپریم کورٹ کے سہ رکنی فل بنچ کے سامنے یہ موقف اختیار کیا کہ نجکاری کا یہ عمل شفاف نہیں بلکہ IMF اور ورلڈ بنک کے دباؤ پر اختیار کیا گیا ہے۔"
یہ رٹ پٹیشن سابق وفاقی سیکرٹری منصوبہ بندی ڈاکٹر اختر حسن نے دائر کی۔ ملک کا اہم ترین بنک اگر ملک دشمن لابی کے ہاتھ چلا جاتا ہے تو اس کا نقصان یہ ہے کہ اس سے ملک کے معاشی بحرانوں اور عمومی ضروریات میں حکومت سے اپنی بات منوانا اور دباؤ ڈالنا آسان ہو جاتا ہے جس کے نقصانات ہر ذی شعور بحوبی محسوس کر سکتا ہے۔
پاکستان میں آغا خانیوں کے عمل دخل کو مزید تقویت پہنچانے کے لئے مختلف عالمی اداروں (سیڈا، یورپی کمیشن اور یو ایس ایڈ وغیرہ) نے اپنے امدادی فنڈ آغا خاں فاؤنڈیشن کے حوالے کئے ہیں۔ پاکستان کو ملنے والی غیر ملکی امداد کے حوالے سے آغا خانیوں کی یہ بڑھتی اہمیت مستقبل کے عزائم کا پتہ دیتی ہے۔
آغا خان اور پاکستانی نظامِ تعلیم
پاکستان میں تعلیمی نظام آغا خاں بورڈ کے حوالے سے کرنے کے فیصلے کے متعلق ابھی عوام گومگو کا شکار تھے کہ خود وزیر تعلیم محترمہ مسز زبیدہ جلال نے 2006ء تک تمام تعلیمی امتحانات کو آغا خان یونیورسٹی کے حوالے کرنے کی تائید کر دی۔ (روزنامہ جنگ: 29 مارچ 2004ء) جبکہ انہوں نے فرقہ واریت پر مبنی قابل اعتراض مواد کو درسی کتب سے نکالنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ (روزنامہ نوائے وقت: 31 مارچ 2004ء)
اس سے قبل 29 جنوری 2004ء کے اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی کہ
"امریکی حکومت نے پاکستانی معیشت پر آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے ذریعے قبضہ جمانے کے بعد پاکستانی تعلیمی نظام کو بھی اپنے کنٹرول میں لینے کے لئے اقدام شروع کر دیے ہیں۔ اس سلسلہ میں امریکی حکومت اور آغا خاں یونیورسٹی کے درمیان ایک معاہدہ 3 اگست 2003ء کو طے پایا تھا۔ پاکستان میں تعینات امریکی سفیر نینسی پاول اور آغا خاں یونیورسٹی کے نمائندے شمس قاسم لاکھانی نے اس معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ جس کی رو سے آغا خاں یونیورسٹی ملک بھر کے 23 تعلیمی بورڈز کا نظام اپنے ماتحت چلائے گی۔ ذرائع نے انکشاف کیا کہ معاہدے کے مطابق تعلیمی بورڈز کا نظام سنبھالنے کے لئے امریکی حکومت کو آغا خاں یونیورسٹی کو 450 لاکھ ڈالر کی امداد بھی فراہم کرے گی۔ جس کے ذریعے آغا خاں یونیورسٹی ایک پرائیوٹ تعلیمی بورڈ بھی تشکیل دے گی جو میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے 23 بورڈز کے انتظامات سنبھالے گی۔" (روزنامہ 'نیا اخبار': صفحہ اول بحوالہ قومی اخبارات)
اس معاہدہ میں وفاقی وزیر تعلیم زبیدہ جلال اور سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم عرفان اللہ مروت نے بھی دستخط کئے۔ قومی اسمبلی کے ایوان میں جب اس پر توجہ دلائی گئی تو وزیراعظم اور چودھری شجاعت حسین نے اس بارے میں اپنی لاعلمی کا اظہار کیا جبکہ وزارتِ تعلیم نے یہ موقف اختیار کیا کہ موجودہ معاہدہ سے قبل ایسے امور طے پا چکے ہیں۔ جبکہ نومبر 2002ء میں صدارتی آرڈیننس بھی جاری کیا جا چکا ہے۔ ان دنوں قانونی حلقوں میں یہ بحث چل رہی ہے کہ آیا اس آرڈیننس پر اسمبلی کے ایوان میں بحث ہو سکتی ہے یا اس کا تعلق ان آرڈیننسوں سے ہے، جن کو ایل ایف او کے ذریعے منظور کیا جا چکا ہے۔ اخبارات میں تازہ خبر یہ چھپی ہے کہ 3 اپریل کو وزیراعظم نے نصاب تعلیم میں تبدیلی اور قرآنی آیات کے اخراج کے مسئلے پر وزارت تعلیم کا ایک اجلاس طلب کر لیا ہے۔ (روزنامہ جنگ: 2 اپریل 2003ء)
پاکستانی تعلیم سے نظریہ پاکستان اور اسلامی تعلیمات نکالنے کی یہ مذموم سازش نائن الیون کے بعد پیدا شدہ حالات کے تناظر میں شروع ہوئی، جس پر اسلام آباد کی ایک الحاد پسند تنظیم SDPI نے ریسرچ پیپر تیار کیا، اس رپورٹ کی بنیاد پر وزارتِ تعلیم نے نصاب کی اصلاح کا ایک کمیشن قائم کیا ہے، جو سفارشات کی روشنی میں نصاب میں اصلاحات کے اقدامات کرے گا۔
SDPI کی اس رپورٹ کے آخر میں اس کو تیار کرنے والے جن 29 حضرات کے نام درج ہیں ان میں سے بعض قادیانی ہیں اور بعض نظریہ پاکستان اور وطن مخالف سرگرمیوں میں شریک ہیں۔ رپورٹ تیار کرنے والے ادارہ 'اقبال احمد فاؤنڈیشن' کا امریکی لابی سے گہرا تعلق ہے، اباحت پسند دانشوروں کی تیار کردہ یہ رپورٹ پاکستان میں لا دینیت کو فروغ دینے کی ایک طویل جدوجہد کا حاصل ہے جس پر 15،20 سال سے کام جاری ہے۔
رپورٹ تیار کرنے والوں میں ایسے نام نہاد دانشور بھی شامل ہیں جنہوں نے آج سے 8،10 سال پہلے وطن کے مایہ ناز ایٹمی سائنسدانوں کی اسلام آباد میں قبر بنا کر ان کی توہین کی تھی جبکہ نظریہ پاکستان کے خلاف تواتر سے لکھنے والوں کی تحریریں بھی شامل کی گئی ہیں۔ بعض لادین کلچر اور ملک میں افراتفری پھیلانے والی این جی اوز کے تنخواہ دار لکھاری ہیں۔ غرض یہ رپورٹ اسلام آباد اور پاکستان کے خلاف لکھنے والے لادین دانشوروں کے منحرف خیالات کا مرقع ہے، جس کو 11 ستمبر کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے لیے ریسرچ کے نام پر پیش کیا گیا ہے۔ 140 صفحات پر مشرمل ریسرچ پیپر The subtle subversion کے چیدہ چیدہ نکات کو روزنامہ 'نوائے وقت' میں یوں شائع کیا گیا ہے:
"نصاب میں اسلامی تعلیمات اور دو قومی نظریہ نہیں ہونا چاہیے۔ رپورٹ میں تمام عوامل مثلا اسلامی شعائر کی تعلیمات، فلسفہ جہاد و تصورِ شہادت، دو قومی نظریہ جس کا نصاب اس وقت آئینہ دار ہے، کو غیر ضروری قرار دیا گیا۔ نام نہاد محققین نے موجودہ نصاب کی روح کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ تعلیمی نصاب کو محض اسلامی قواعد و ضوابط کا ملغوبہ بنا دیا گیا ہے۔ ناظرہ قرآن کی تعلیم غیر ضروری ہے۔ اکثریتی قوت کو فوقیت دے کر مذہبی متعصبانہ رویے کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ قائداعظم نے کبھی نظریہ پاکستان کا لفظ استعمال نہیں کیا، نظریہ پاکستان کی کوئی حقیقت نہیں، اسے 1969ء میں ہوا دی گئی ہے۔ یہ بھی اعتراض کیا گیا ہے کہ کچھ لوگوں نے اپنے سیاسی نظریات کو باوزن بنانے کے لئے تاریخ کو مسخ کر کے پیش کیا ہے۔ تحریکِ پاکستان کے نام سے شامل تاریخ دوسری قوموں کے خلاف نفرت آمیز جذبات ابھارنے کے مترادف ہے۔ پہلی کلاس تا دہم میں محمد بن قاسم کو فاتح کے طور پر ذکر کرنا درست نہیں۔ رپورٹ کے مصنفین نے نصابِ تعلیم میں بھارتی لیڈروں کو سراہے نہ جانے پر بھی اعتراض کیا ہے۔ نصاب کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہر سطح پر یہ نصاب مذہبی تعلیمات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ نئے نصاب میں معاشرتی، معاشی اور سیاسی پہلوؤں کو اہمیت دی جانا چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق نصابی کتب میں استعمال کئے جانے والے مسلم دنیا کے الفاظ بالکل درست نہیں۔ اسلامی معاشرہ کے الفاظ بھی قابل گرفت ہیں۔ ایسا نصاب ہونا چاہیے جو گلوبلائزیشن کے عالمی تقاضوں کی تکمیل کرتا ہو۔ مجموعی اعتبار سے پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بنانے کے لئے نصاب پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔" (نوائے وقت: 23 مارچ 2004ء)
اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر منیر الدین چغتائی نے کہا کہ "یہ رپورٹ پاکستانیوں کو ہندو ذہنیت کے زیر اثر لانے کا حربہ ہے۔ یہ نظریہ پاکستان اور پاکستانی وجود کے خلاف کھلی جنگ ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے ہاں ایسے نام نہاد مفکر موجود ہیں جو یہ کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستانی نصاب تعلیم سے ایسی تمام چیزیں نکال دی جائیں جو ہمارے نظریہ حیات کی بنیاد ہیں اور جن کی بنیادیں قرآن و سنت میں ہیں۔ یہ ان لوگوں کے خیالات ہیں جو اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھتے ہیں۔ 1905ء میں صوبہ بنگال و آسام کے نام سے جب ایک حکومت قائم کی گئی تو ہندوؤں نے احتجاج و ہنگامہ کر کے انگریزوں سے 1911ء میں اس صوبے کو ختم کرا دیا۔ اس تحریک میں ہندو کہا کرتے تھے کہ صوبہ علیحدہ بنا کر ہمارے مذہب کو نقصان پہنچایا گیا ہے، ہماری کالی دیوی کے ٹکڑے کئے گئے ہیں، جس کو ہم کبھی برداشت نہیں کریں گے۔" (ایضا)
الفلاح اکیڈیمی کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی کے ہی سابق وائس چانسلر ڈاکٹر رفیق احمد نے قرار دیا کہ
"نصاب سے نظریہ پاکستان اور اسلامی عقائد کا اخراج خطرناک ہو گا، اگر ایسا ہوا تو پاکستان کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔" (روزنامہ 'نوائے وقت': 31 مارچ، ص 2)
27 مارچ 2004ء کو جامعہ نعیمیہ، گڑھی شاہو میں اس موضوع پر اہم میٹنگ منعقد کی گئی جس میں ملک بھر سے علماء اور دانشوروں نے حصہ لیا۔ اس سے اگلے روز اسی مقام پر ایک پریس کانفرنس کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں کہا گیا کہ
"نصاب تعلیم میں تبدیلی کے خلاف بھرپور تحریک چلانے کا اعلان ۔۔ 22 جماعتوں پر مشتمل 'تحفظِ تعلیمی نصاب محاذ' کا قیام، قرآنی آیات بحال کرائیں گے: مشترکہ اعلامیہ ۔۔ نصاب تبدیل کرنے کے لئے ساڑھے چار لاکھ ڈالر کے عوض امریکہ اور آغا خان فاؤنڈیشن سے معاہدہ طے پا گیا ۔۔ این جی اوز کا عمل دخل ختم کیا جائے: علماء کرام کا پرزور مطالبہ
(روزنامہ 'نوائے وقت': 30 مارچ 2004ء)
تفصیلات کے مطابق اسلام اور نظریہ پاکستان کے منافی نظامِ تعلیم مسلط کرنے کے خلاف جامعہ نعیمیہ میں مذہبی جماعتوں کے سربراہوں علماء، طلباء اساتذہ کے ہنگامی اجلاس میں مشترکہ لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نصابِ تعلیم میں تبدیلی اور قرآنی آیات حذف کرنے پر حکومت کے خلاف بھرپور تحریک چلائی جائے گی۔ بائیں جماعتوں پر مشتمل تحفظِ تعلیمی نصاب محاذ قائم کر دیا گیا ہے جس نے تحریک بحالی قرآنی آیات کا اعلان کیا ہے۔ اس ضمن میں پریس کانفرنس سے مفتی محمد خان قادری، ڈاکٹر سرفراز نعیمی، مولانا محمد امجد خان، صغیر احمد مصطفائی، ملک عبدالرؤف، مولانا عبدالرحمٰن مدنی، پروفیسر ملک محمد حسین، پروفیسر ناظم حسین، محمد احمد اعوان، خواجہ ناصر رحمانی، علامہ نصرت علی شاہانی، حافظ ادریس، ڈاکٹر مہر محمد سعید، سید وقار علی، قاری جمیل الرحمٰن، میاں خالد حبیب الٰہی اور عزیز احمد مرزا نے خطاب کرتے ہوئے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس میں حکومت کے ان فیصلوں کی مذمت کی گئی ہے جو وہ نظامِ تعلیم کو غیر اسلامی بنانے کے لئے کر رہی ہے اور این جی اوز اور خصوصا آغا خان یونیورسٹی کی سرپرستی کرنے والی حکومتوں کے اسلام دشمن ایجنڈا کو آگے بڑھا رہی ہے۔
اس رپورٹ کا پس منظر پیش کرتے ہوئے 11 اپریل کو 'بحالی قرآنی آیات مارچ' کا اعلان کیا گیا، مزید کہا گیا کہ اسی روز بحالی قرآنی آیات کو کنونشن منعقد کیا جائے گا جبکہ آئندہ ماہ اپریل کے آخر میں لاہور سے اسلام آباد تک بحالی قرآنی آیات کارواں چلایا جائے گا اور احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔ پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ نظامِ تعلیم میں بڑھتی ہوئی بیرونی مداخلت اور غیر ملکی امدادی اداروں کے ذریعے این جی اوز کا عمل دخل ختم کیا جائے۔ اسماعیلیوں کو آغا خان فاؤنڈیشن کے ذریعے جس طرح شمالی علاقوں میں پورا نظامِ تعلیم دے دیا گیا ہے اور آغا خان ایجوکیشن بورڈ کے ذریعے جس طرح سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کو بورڈ کے ساتھ الحاق کی اجازت دے دی گئی ہے، یہ قومی نظام تعلیم کے لئے زہر قاتل ہے، اسے فوری طور پر واپس لیا جائے۔
علماء اور اہل دانش نے مطالبہ کیا ہے کہ آغا خان ایجوکیشن بورڈ کو پارلیمنٹ کے ایکٹ کے طور پر منظور نہ کیا جائے۔ تربیتِ اساتذہ کا سلسلہ جس طرح یو ایس ایڈ، یورپی کمیشن اور سیڈا کی مالی پشت پناہی سے آغا خان فاؤنڈیشن کے حوالے کیا گیا ہے، اسے واپس لیا جائے اور تربیت یافتہ اساتذہ کے قومی اداروں کے ذریعے ہی حسب سابق کام لیا جائے۔ نصابِ تعلیم پر جس طرح متعصبانہ اور غیر علمی انداز سے بعض این جی اوز محاذ بنائے ہوئے ہیں ان کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے نصابِ تعلیم میں اسلامی نظریہ حیات اور قرآن و حدیث نیز نظریہ پاکستان کے اساس کو ختم کرنے کی بجائے اس میں آئین کے آرٹیکل 31 کی روشنی میں اضافہ کیا جائے۔
گذشتہ دنوں قاضی حسین احمد نے بھی اس حوالے سے بھرپور تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ یہی رپورٹ ان دنوں اخبارات کا موضوع ہے، چنانچہ نوائے وقت نے دوبارہ 30 مارچ کو صفحہ آخر پر اس کے مطالبات قدرے طنزیہ انداز میں پیش کئے ہیں:
"نصائی کتب سے تاثر ملتا ہے کہ پاکستان صرف مسلمانوں کے لئے ہے، SDPI کی انوکھی منطق ۔۔ سکول کی کتب میں مذہب اور تاریخ سے متعلق غلطیاں درست کی جائیں، تنظیم کی مرتب کردہ رپورٹ میں تاریخی سفارشات ۔۔"
رپورٹ کا بڑا نام معنی خیز تجویز کیا گیا ہے، The subtle subversion لطیف تخریب، ۔۔۔ یعنی نظریہ پاکستان اور اسلامی معلومات کو پاکستانی بچوں کو سکھانے کے لیے ایسے نام کے انتخاب سے ہی مرتبین کے عزائم کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ اس رپورٹ میں تین مضامین سوشل سٹڈیز یا پاکستان سٹڈیز، اُردو اور انگلش کا خصوصی طور پر احاطہ کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق اگرچہ غیر مسلم طلبہ کے لئے اسلامیات لازمی نہیں ہے اس کے باوجود انہیں یہ دیگر مضامین کے ذریعے پڑھائی جاتی ہے۔ بہت سے طلبا کو اسلامیات کا مضمون لینا پڑتا ہے کیونکہ انہیں 25 فیصد اضافی نمبروں کا لالچ ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان نصابی کتب سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پاکستان صرف مسلمانوں کے لئے ہے کیونکہ اسلامیات تمام طلبہ کو پڑھائی جاتی ہے، چاہے ان کا کوئی بھی عقیدہ ہو۔ اس میں قرآن پاک کی لازمی ریڈنگ بھی شامل ہے۔
رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ نظریہ پاکستان کی تلقین ہندوؤں اور بھارت کے خلاف نفرت پیدا کرتی ہے اور یہ طلبہ پر زور دیتی ہے کہ وہ جہاد میں حصہ لیں اور شہید ہوں۔ مسلمان اور پاکستانی تشخص کو مساوی کرنے کا عمل سکول کی ابتدائی تعلیم میں ہی شروع ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر 'نیشنل ارلی چائلڈ ہوڈ ایجوکیشن' کے مارچ 2002ء میں جاری کردہ نصاب میں بچوں میں اسلامی تشخص اور پاکستانی ہونے پر فخر کا احساس پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس میں اس کا ذکر نہیں کہ یہ صرف مسلمان طلبہ کے اندر پیدا کیا جائے گا۔ اس مقصد کے تحت مجوزہ مواد اسلامیات ہے جو کہ تمام مذاہب کے طلبہ کو پڑھنا پڑتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نصاب کی یہ ضرورت ہے کہ پاکستانی (چاہے اس کا تعلق کسی بھی عقیدے سے ہو) اسلام کا محبت و احترام کرے اور اسلامی اصولوں و روایات اور رسم و رواج پر عمل اور فخر کرے۔
ضروری ہے کہ اس رپورٹ کے مندرجات پر قومی پریس میں نہ صرف بحث و تمحیص کی جائے جس میں تعلیم و تربیت کے لئے مختص اداروں کے ماہرین سرگرم حصہ لیں بلکہ ایسی رپورٹ منظر عام پر آنے کی اصل وجوہات تک بھی رسائل حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ عوامی تجزیہ کے لیے اس رپورٹ کا اردو ترجمہ بھی مفید ہو گا۔ رپورٹ پر بحث و تنقید کے لیے تو مستقل مضامین کی ضرورت ہے، لیکن قارئین کی دلچسپی کے لیے ابواب کے نام پیش خدمت ہیں:
باب اول: 'تعلیمی پالیسی اور اصلاحات،نصاب تعلیم کے نئے زاویے' پر مبنی ابتدائیہ
باب 2: قومی مذہبی تنوع سے غیر حساسیت پر مبنی نصاب، از اے ایچ نیز
باب 3: تاریخ کی تعلیم میں غلط بیانی اور نا انصافیاں، از احمد سلیم
باب 4: جہاد اور عسکریت کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا، از اے ایچ نیز، احمد سلیم
باب 5: مفید حقائق جو نظر انداز کر دئیے گئے، از خورشید حسین
باب 6: پرائمری تعلیم میں درپیش تدریسی مسائل: ایک نصابی تجزیہ، از احمد پرویز
باب 7: سکولوں کی نصابی کتب میں صنفی امتیاز کی تعلیم، از آمنہ منٹو، نیلم حسین
باب 8: انسانی حقوق، از سید جعفر احمد
باب 9: چھٹی سے دسویں کلاس تک اردو کی تعلیم، از طارق رحمن
باب 10: چھٹی سے دسویں کلاس تک معاشرتی علوم کی تعلیم، از ہاجرہ احمد
باب 11: سکولوں میں 'تعلیمات امن' سکھانے کا مجوزہ منصوبہ، از زرینہ سلامت
اخبارات میں رپورٹ کے اشاعت کے ساتھ ہی دانشور صحافی جناب عطاء الرحمٰن نے اپنے کالم 'تجزیہ' میں اس رپورٹ میں پیش کردہ اعتراضات کی دو اقساط (30 اور 31 مارچ 2004ء) میں وضاحت کی۔ رپورٹ کا خلاصہ پیش کرنے کے بعد آپ نے ان اعتراضات کو 8 مختلف حصوں میں تقسیم کر کے ان کا جواب دیا ہے، قارئین کی دلچسپی کے لئے اس کے بعض حصے پیش خدمت ہیں:
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نہرو اور گاندھی کے کردار کو نظر انداز کر دیا گیا اور قائداعظم کے کردار کو حقیقت سے زیادہ اُجاگر کیا گیا ہے۔ یہ اعتراض تاریخ کی میزان میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ پاکستان نہرو اور گاندھی نے نہیں بنایا تھا بلکہ انہوں نے ڈٹ کر مخالفت کی تھی، قائداعظم اس ملک کے غیر متنازعہ بانی ہیں، ان کی اس حیثیت کو ہندو مؤرخین بھی تسلیم کرتے ہیں۔ 1942ء میں نہرو اور گاندھی کی کانگریس نے انگریز حکومت سے ہندوستان چھوڑ دو کا مطالبہ کیا اور تحریک چلائی تو قائداعظم نے کہا کہ صرف ہندوستان چھوڑنا کافی نہیں بلکہ اسے تقسیم بھی کرو۔
ایک اعتراض یہ بھی کیا گیا کہ تقسیم ہند کے وقت ہندوؤں کے مظالم کو بڑھ چڑھ کر بیان کیا گیا ہے جبکہ مسلمانوں کے مظالم کا کوئی تذکرہ نہیں۔ یہ اعتراض بھی بے وزن ہے۔ کیا کوئی ہندو، انگریز، سکھ مؤرخ اس بات سے انکار کر سکتا ہے کہ سکھوں نے ہندوؤں کی کھلی آشیر باد سے پاکستان کی طرف ہجرت کرنے والے قافلوں سے ان کی جوان بیٹیاں چھین لیں۔ مزاحمت کرنے والے باپوں اور بھائیوں کو قتل کر دیا۔ ان میں سے بچی کچھی عورتیں آج بھی بھارتی پنجاب میں موجود ہیں۔ کیا رپورٹ کے مصنفین یہ بتا سکتے ہیں کہ پاکستانی پنجاب میں بھی اس حد تک مکروہ غیر انسانی اور ظالمانہ افعال کئے گئے۔ اگر تو سکھوں کی صفائی پیش کرنا ہے اور مسلمانوں کو برابر کا مجرم ٹھہرانا ہے تو یہ 'مقدس' کام آپ کو ہی مبارک ہو۔ نہ جانے بیرونی امداد پر چلنے والی این جی اوز کے لوگ اس معروضیت سے ہاتھ کیوں دھو لیتے ہیں جس کا یہ لوگ بہت دعویٰ کرتے ہیں۔
اس رپورٹ میں تیسرا اہم اعتراض نظریہ پاکستان پر کیا گیا ہے کہ اسے 25 سال بعد وضع کیا گیا اور بلا تخصص سب بچوں پر اسے ٹھونسا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مصنفین کی یہ رائے بھی قطعی طور پر مغالطہ آمیز ہے۔ دو قومی نظریے کو آزادی کے واحد محرک کی بجائے قیام پاکستان کی اُصولی اور نظریاتی اساس کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اگر دیگر مذاہب کے بچے اس سے واقفیت حاصل کرتے ہیں تو پاکستان کے شہریوں کی حیثیت سے انہیں اس کا شعور ہونا چاہیے، دو قومی نظریہ کی بنیاد پر آج تک پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی نہیں پھیلی، قائداعظم اس نظریے کے سب سے بڑے علمبردار تھے، آپ نے اپنی تقریروں میں بارہا اس کی وضاحت کی۔ بھارت میں پڑھائے جانے والی نصابی کتب میں جس طرح دو قومی نظریے کی تکذیب کی جاتی ہے اور اکثر و بیشتر غیر حقیقی دلائل کا سہارا لے کر مسلمان بچوں کے ذہنوں کو مسموم کیا جاتا ہے اس کا تو عشر عشیر بھی پاکستان میں نہیں ہوتا۔
رپورٹ میں تاریخ پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔ یہ اعتراض بھی بچگانہ ہے کیونکہ پاکستان کی تاریخ تو محمد بن قاسم یا قائداعظم سے ہی شروع کی جا سکتی ہے، ہاں ہندوستان کی تاریخ پڑھنا ہو تو آریاؤں سے اس کو شروع کرنا ہو گا۔
جن اعتراضات کو اس مذہب بیزار طبقہ نے اس رپورٹ میں دہرایا ہے، اس سے قبل بھی وہ ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے آئے ہیں۔ محدث کے صفحات میں پہلے بھی ان باتوں کا نوٹس لیا جاتا رہا ہے۔ جناب محمد عطاء اللہ صدیقی کا جولائی 2001ء میں ایک مفصل مضمون 'پاکستان کی بقا اسلام میں ہے!' کے موضوع پر شائع ہو چکا ہے جس میں ایسے خیالات دہرانے والے 13 دانشوروں کے نام ذکر کر کے ہر ایک کے اعتراضات کی مستقل طور پر بالتفصیل وضاحت کی گئی ہے۔ 'نظریہ پاکستان کی اصطلاح جماعت اسلامی کی وضع کردہ نہیں' کا مستقل عنوان قائم کر کے صدیقی موصوف نے متعدد حوالہ جات کی روشنی میں 5 صفحات پر اس خام خیالی کی پرزور حقائق پر مبنی تردید کی ہے۔ آپ لکھتے ہیں:
"پاکستان کا سیکولر طبقہ جو ہمیشہ اہل مغرب کے نظریات کی ہی جگالی کرتا ہے، وہ عالمی استعماری طاقتوں کے آلہ کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کے بائیں بازو کے دانشور جو امریکہ کے خلاف لکھتے تھکتے نہیں تھے، آج امریکی زیرسرپرستی کام کرنے والی این جی اوز کے نیٹ ورک کے ہراول دستے میں شامل ہیں۔ این جی اوز امریکی سوچ کو پھیلانے کا آج کل مؤثر ترین ذریعہ ہیں۔ اسلام، نظریہ پاکستان، علماء دین، جہادی تنظیموں اور دینی مدارس کے خلاف پاکستان کا سیکولر طبقہ جو کچھ لکھ رہا ہے، وہ بنیادی طور پر امریکی پالیسی ہی کو آگے بڑھانے کی ہی ایک صورت ہے۔" (ص 58، شمارہ مذکور)
آپ مزید لکھتے ہیں:
"راقم الحروف کی ریسرچ کے مطابق 'پاکستان آئیڈیالوجی' کی اصطلاح سب سے پہلے پاکستان کے لفظ کے خالق چوہدری رحمت علی (مرحوم) نے 1934ء میں استعمال کی تھی۔ ان کے اپنے الفاظ ہیں:
"The effect of Pak-Ideology on the myth of Indian unity has been devastating. It has destroyed the cult of uni-nationalims and uni-territorialism of Indian and created instead the creed of the multi-nationalism and multi-territorialism od "Dania" (South Asia) ("Pakistan – The FatherlandofPakNation.Ch.RehmatAli,P.205)
"ہندوستانی وحدت کے موہوم راز پر پاک آئیڈیالوجی کے بہت تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔ اس نے وحدانی علاقائیت، وحدانی قومیت کے عمومی تصور کو ختم کر دیا اور اس کی بجائے کثیر القومیت اور کثیری علاقائیت یعنی دینیہ (جنوبی ایشیا) کے تصور کو پروان چڑھایا۔"
'نظریہ پاکستان' کے الفاظ خود قائداعظم بھی اپنی تقریروں میں استعمال کرتے رہے ہیں:
Pakistan not only means freedom and independance but the Muslim Ideoloty which has to be preserved, which has come to us as a precious gift and trasure and which we hope other will share with us. ("Some recent speeches and writing of Mr. "Jinnah" Published by Sh. Muhammad Ashraf, Lahore, 1947, P.89)
"پاکستان کا مطلب محض آزادی نہیں ہے، اس کا مطلب 'مسلم آئیڈیالوجی' بھی ہے جس کا تحفظ کیا جانا باقی ہے، جو ہم تک ایک قیمتی تحفے اور خزانے کے طور پر پہنچا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں دوسری (اَقوام) بھی اس میں حصہ دار بن سکتی ہے۔" ؟؟؟
مارچ 1949ء میں جب دستور ساز اسمبلی نے قراردادِ مقاصد منظور کی تو اس کے بعد وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان نے جو تقریر کی وہ نظریہ پاکستان کی تشریح کے متعلق ایک عظیم دستاویز کا درجہ رکھتی ہے۔ اس میں انہوں نے نظریہ پاکستان کے خدوخال اور اس کے نفاذ کی حکمت عملی کو بےحد بلیغ انداز میں بیان کیا۔
اسی طرح جناب ابراہیم اسماعیل چندریگر نے 18 اکتوبر 1957ء کو وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھایا، اس تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے انہوں نے من جملہ دیگر باتوں کے کہا:
"میری جماعت (مسلم لیگ) حکومت میں اس لئے داخل ہوئی ہے تاکہ آئیڈیالوجی آف پاکستان (نظریہ پاکستان) کا تحفظ کر سکے جسے مخلوط انتخابات سے خطرات لاحق ہیں۔"
("Pakistan Affairs" by Tariq Mahmood Dogar. P.178)
محترم محمد عطاء اللہ صدیقی کے ان اقتباسات سے بخوبی ظاہر ہے کہ نظریہ پاکستان کا تصور قیام پاکستان کے 25 سال بعد وضع نہیں کیا گیا بلکہ یہ پاکستان کے قیام کی ایک اہم ترین اساس کا درجہ رکھتا ہے۔ اور ہر دور میں قومی رہنماؤں کے سامنے رہا ہے۔ رپورٹ کے بعض دیگر نکات کی وضاحت کے لیے محدث کے اسی شمارے میں ایک مستقل مضمون ملاحظہ فرمائیں۔
پاکستان کا عالمی حالات میں نیا کردار
سیاسی اور ملکی منظرنامے کے ان مختلف ٹکڑوں سے جو تصویر اُبھرتی ہے اس کے خدوخال صاف ملاحظہ کئے جا سکتے ہیں۔ معمولی غور و فکر سے پتہ چلتا ہے کہ ان دنوں جنوبی ایشیا میں ایک نیا میدان کھولا جا رہا ہے، جس کا پاکستان ایک اہم کل پرزہ ہے۔
پاکستان میں جاری ان مختلف اقدامات کو 4 حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
(1) بھارت سے دوستانہ تعلقات: جو برابری کی بنیاد پر ہونے کی بجائے ماتحتی کا رنگ لئے ہوئے ہوں۔ اس مقصد کے لئے مستقل طور پر نظام تعلیم سے پاک بھارت دشمنی کی جڑوں کو ختم کر دیا جائے اور بھارت کی بالادستی کو ذہنوں سے قبول کرنے کی مستحکم منصوبہ بندی کی جائے۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ پاکستان کے ساتھ تناؤ ختم کر کے بھارت کے لئے چین کو علاقائی مسائل اور سیاسی و اقتصادی ایشوز پر الجھانا ممکن ہو جائے گا۔ جس سے عالمی سطح پر امریکہ کو غیر معمولی فائدہ ہو گا اور اس کی سپر پاور حیثیت کو درپیش خطرات ٹلنے کے امکانات پیدا ہو جائیں گے۔
(2) پاکستان کے اسلامی تشخص کا خاتمہ: دنیا بھر میں جس جہادی کلچر سے امریکہ کو خطرہ ہے، اس کی بیخ کنی اس کا سب سے اہم ہدف ہے۔ پاکستان کی بھارتی اور افغان سرحد پر خاردار بارڈر کی دیوار کھڑی کرنے سے پاکستان سے مجاہدین کا کردار بہت محدود ہو جائے گا۔
اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
نصاب تعلیم سے اسلامی بنیادوں اور بنیادی عقائد کو ختم کر دینے سے پاکستانی معاشرہ میں مذہب سے وابستگی میں کمی واقع ہو گی۔ پاکستان کے دینی مدارس جو پاکستان کی دینی تحریکوں میں صف اول کا کردار ادا کر رہے ہیں، اور ان تحریکوں کے دنیا بھر میں ذیلی یونٹ قائم ہیں، ان میں کمی واقع ہو جائے گی۔ اس طرح کے اقدامات سے مستقبل میں مسلمانوں کے احتجاج کے امکانات معدوم ہو جائیں گے۔ اس مقصد کے لئے دینی مدارس کی اصلاح کا بھی مشرف حکومت کو ایجنڈا دیا گیا ہے یوں بھی بھارت سے دشمنی کے پس پردہ بھی حقیقی عامل مسلمانان پاکستان کی اسلام سے وابستگی ہے۔ اگر یہ وابستگی کمزور پڑ جاتی ہے تو بھارت سے پاکستان کی کشمکش کے امکانات بھی ختم ہو جاتے ہیں۔
(3) آغا خانیوں کے ذریعے اپنے مفادات کا مستقل تحفظ: آغا خانی فرقے کا ملک و ملت دشمنی پر مبنی سابقہ کردار امریکہ کو یہ اُمید دلاتا ہے کہ اس کے ذریعے وہ اسرائیل کی طرز پر اپنے مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے آغا خانیوں کے مالی اور تعلیمی تسلط کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ پاکستان کے تمام تعلیمی بورڈز آغا خانیوں کے حوالے کرنے کے بعد تدریجا نصابات میں بھی ایسی تبدیلیاں لاگو کی جائیں گی جس سے ایک مسلم معاشرہ کا تصور کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے۔ اسی مقصد کے لئے پہلے بھی ایسے ادارے ملک میں ایسا نصاب پھیلا رہے ہیں جو بیک وقت دہلی اور لاہور کے سکولوں میں پڑھایا جا سکے۔
سیاسی طور پر بھی آغا خانیوں کو کشمیر سے منسلک ایسی ریاست میں نمائندگی دی جا رہی ہے تاکہ وہ امریکہ کے سہارے مستقل طور پر امریکی مفادات کا تحفظ کر سکیں اور ان کے زیر سایہ اپنے مذموم مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں۔
(4) چین کے ساتھ معاشی جنگ: ایک سپر پاور اپنی طاقت کو دوام دینے کے لئے مختلف مہروں کو حرکت دے رہی ہے۔ چین کو معاشی طور پر نقصان پہنچانے کے لئے چند اقدامات درج ذیل ہیں:
پاکستان کی چین سے حالیہ تجارت 70 فیصد ہے، باہم دوستانہ تعلقات میں معاش کا کردار بڑا اہم ہوتا ہے۔ آخری سارک کانفرنس کے نتیجے میں یہ طے پایا ہے کہ سارک ممالک آپس میں تجارت کو فروغ دیں اور تدریجا باہمی تجارت میں تمام ڈیوٹیوں کو ختم کر دیا جائے۔ چین سارک ممالک میں شریک نہیں، چنانچہ بھارت کے ساتھ پاکستان کے تناؤ کم ہونے کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ پاکستان کے بھارت سے تجارتی مراسم بڑھ جائیں گے اور چین سے روز بروز کم جس کا لازمی اثر سیاسی اور تجارتی تعلقات پر بھی ہو گا۔ یوں بھی پاک بھارت تجارت میں سفری مسائل نہ ہونے کے برابر ہیں، دونوں کی آباد سرحدیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں جبکہ چین سے تجارت میں رسائل و وسائل کے اخراجات زیادہ ہیں، اس زمینی حقیقت کی بنا پر بھی چین سے تجارت متاثر ہو گی۔ اس معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یورپین ممالک نے چین سے تجارتی روابط امریکہ کے دباؤ پر روز بروز محدود سے محدود تر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس صورت حال میں بھی چین کی معاشی حیثیت اور اقتصادی صورت حال خراب سے خراب تر ہو گی جس کا لازمی اثر عالمی سیاست پر پڑے گا۔
الغرض اس سارے مضمون کو اس عنوان کے تحت بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ "سپر پاورز کی جنگ میں پاکستان سے مطلوب کردار" اہالیان پاکستان اور حکومت کے لئے اس سارے منظر نامے میں غور و فکر کے بہت سے سامان موجود ہیں۔ پاکستان کل بھی روس جیسی عالمی طاقت سے ٹکر لے کر امریکی مفادات کا محافظ بنا تھا، جس کی قیمت اسے یہ ملی کہ اس دور کی واحد سپر پاور امریکہ مسلمانوں پر ہی چڑھ دوڑی اور دو مسلم ممالک کو ہلاکت آمیز تباہی کا نشانہ بنانے کے بعد دیگر مسلم ممالک کو ڈرا دھمکا رہی ہے۔ آج پھر پاکستان کو اس جنگ میں نیا کردار سونپا گیا ہے۔ اس کا نتیجہ پاکستان کو اپنے بنیادی نظریہ سے دستبرداری اور اپنے استحکام کو خطرات سے دوچار کر کے ہی نکل سکتا ہے۔ پاکستان کی غیر معمولی جغرافیائی حیثیت اور عالمی سیاست میں اہم کردار کا پہلے بھی ہم نے خراج ادا کیا تھا، آج بھی ہمارا یہ امتیاز ہمارے فائدے کا نہیں لیکن دوسروں کا ہمیں آلہ کار بننے پر مجبور کر رہا ہے۔
اگر ہم اپنی جغرافیائی اور نظریاتی حیثیت سے فائدہ نہیں اٹھا سکے تو اس کی وجہ ہماری داخلی کمزوری اور قومی وحدت کا نہ ہونا ہے۔ سیاسی طور پر ہمارے حکمران وطن میں اپنی بنیادیں مضبوط کرنے اور ملک و ملت کا بھلا کرنے کی بجائے غیروں کے سہارے پر اہل وطن پر حکومت کرتے ہیں۔ ایسے عالم میں دوسرے ہمیں استعمال ہی کر سکتے ہیں اور ہماری کمزوری کی ہم سے قیمت ہی وصول کر سکتے ہیں۔ یہ توقع رکھنا کہ اس خود سپردگی اور اطاعت وفاداری کے بعد امریکہ جیسی سپر پاور ہماری شکر گزار ہو گی، ایک کار عبث ہے۔
کل کے اخبار میں امریکی خارجہ پالیسی کا یہ وصف نمایاں سرخیوں کے ساتھ چھپا ہے:
"امریکہ کا دہشت گردی سمیت کسی بھی ایشو پر کوئی اصولی موقف نہیں، امریکہ کی حمایت اور مخالفت ہمیشہ اس کے قومی مفاد کے تابع رہی ہے۔ جمہوریت انسانی حقوق، آزادی اظہار، عدلیہ اور انصاف کے سب نعرے فقط نعرے ہیں۔ صدر مشرف نے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے باوجود امریکہ کی اس قدر قربت اس لئے حاصل کر لی ہے کہ انہوں نے امریکی پالیسیوں کی غیر مشروط حمایت کی ہے۔" روزنامہ نوائے وقت (30 مارچ صفحہ آخر)
ان سرخیوں کے بین السطور اس امر کا اعلان موجود ہے کہ دراصل امریکہ کسی بھی ملک یا شخصیت کا دوست نہیں ہے بلکہ وقتی مفادات کے تحت امریکہ کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ آج اگر کوئی امریکی حکومت کی آنکھ کا تارا ہے تو مفادات پورے ہو جانے پر اس کو سر بازار تختہ دار پر بھی چڑھایا جا سکتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو امریکہ کی اس صاف گوئی سے عبرت پکڑنا چاہیے اور اللہ کے دئیے اس منصب اور اس مملکتِ خداداد کی حرمت کو پامال کرنے پر اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔
(حافظ حسن مدنی)