میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

قرآن وسنت کو پاکستان کا بالا تر(Supreme)قانون بنانا مقصود ہے اورآئین کی نویں ترمیم چونکہ شریعت کے مطابق قانون سازی کے تقاضے پورے نہیں کرتی، اس لیے ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس (پا کستان زون)نے آئین میں ترمیم کے لیے حسب ِذیل سفارشات مرتب کی ہیں تا کہ نویں آئینی ترمیمی بل کو اس کے مطابق بنایا جائے یا پھر اس کو پرائیویٹ بل کی صورت میں قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے۔ تنظیم کے ماہرین آئین وقانون نے دستور میں ترمیم کے لیے جو سفارشات مرتب کی ہیں، وہ حسب ِذیل ہیں:

1. آئین کی شق نمبر ۲میں مندرجہ ذیل ترمیم کی جائے:

الف)قرآن وسنت کو ملک کا بالاتر (Supreme)قانون قرار دیا جائے۔

ب)حکومت کے تمام ادارے جس میں مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ اور اسکے مسلم عمالِ حکومت جن میں صدر گورنر وفاقی اور صوبائی وزرا شامل ہیں، شریعت کے احکام کے پابند ہوں گے۔

ج)کسی دیگر قانون، رواج، تعامل یا بعض فرقوں کے ما بین شامل کسی بھی امر کے لیے اس سے مختلف ہونے کے باوجود، شریعت پاکستان کے بالاتر قانون ہونے کی حیثیت سے مؤثر ہو گی۔ تا کہ اگر یہ سوال پیدا ہو کہ آیا کوئی قانون اسلامی ہے یا غیر اسلامی تو اس کافیصلہ باب۳؍الف کے تحت کیا جائے گا۔

2. توضیح:

الف) شریعت سے مراد قرآن اور سنت ہے۔

ب)قرآن وسنت کے احکام کی تعبیر کیلئے مندرجہ ذیل مآخذ سے رہنمائی حاصل کی جائے گی:

(iتعامل اہل بیت ِ عظام وصحابہ کرامؓ (iiسنت خلفاے راشدین ؓ

(iii اجماعِ اُمت (ivمسلّمہ فقہا ومجتہدین کی تشریحات

ج)قرآن وسنت کی تعبیر کا وہی طریقہ کار معتبر ہو گا جو مسلّمہ مجتہدین کے علم اُصولِ تفسیر اور علم اُصول حدیث وفقہ اور اجتہاد کے مسلّمہ قواعد وضوابط کے مطابق ہو گا۔

اسی شق نمبر۲میں ذیلی شق(۲ب)کا اضافہ کیا جائے جو حسب ِذیل ہے:

ب)کوئی قانون یا قانون کی کوئی شق جو قرار دادِ مقاصد میں دیئے گئے حقوق سے متصادم ہو اسے کالعدم اور منسوخ قرار دیا جائے گا۔

3. آئین کے آرٹیکل ۳۱کی ذیلی شق 'ج'کے بعد 'د،ہ،و' اور 'ز'کا اضافہ کیا جائے جو حسب ذیل ہے:

د) انتظامیہ عدلیہ اور مقننہ کے ہر فرد کے لیے فرائضِ شریعت کی پابندی اور محرمات سے اجتناب لازم ہو گا اور جو شخص اس کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو گا وہ مستوجب سزا ہو گا۔ (بشرطیکہ کسی دوسرے قانون کے تحت یہ جرم مستوجب ِسزا قرار نہ دیا گیا ہو)

ھ) خلافِ شریعت کاروبار یا حرام طریقوں سے دولت کمانا ممنوع ہو گا۔ اور جو شخص اس کی خلاف ورزی کرے گا وہ مستوجب ِسزا ہو گا۔ (بشرطیکہ کسی دوسرے قانون کے تحت یہ جرم مستوجب ِسزا نہ ہو)

و) شریعت کے اُصولوں کے مطابق تعلیم کا انتظام۔

ز) عدلیہ اور دوسرے محکموں کے لیے موزوں اشخاص کا انتخاب اور تقرر

4. آئین کے آرٹیکل۱۷۷میں علما کے عدلیہ اور دیگر اِداروں میں تقرر کے بارے میں ترمیم کی جائے۔

5. آئین کے آرٹیکل ۲۰۳؍بی میں جو شق وفاقی شرعی عدالت سے متعلق ہے،اسکو حذف کیا جائے۔

6. 'دستور' اور ایسا 'رواج' اور' عرف' جس نے قانون کی حیثیت اختیار کرلی ہے، قانون کی تعریف میں شامل کیا جائے۔

7. آرٹیکل۲۰۳؍ڈی(جو وفاقی شرعی عدالت سے متعلق ہے)اس میں۳؍اے کا حسب ِذیل اضافہ کیا جائے:

۳؍اے: ''ان تمام قوانین کے باوجود جو آئین کے اس باب میں شامل ہیں، وہ قانون جو مالیات سے متعلق ہے یا ان کا تعلق کسی ٹیکس فیس کی وصولی، بینکنگ انشورنس اور ان کے متعلقہ ضابطوں سے ہے، کے بارے میں ان علماء سے جو شریعت میں دسترس رکھتے ہوں، مشورہ کر کے گورنمنٹ کو پابند کیا جائے گا کہ وہ ۹۰دن کے اندر قانون میں ترمیم کر کے اسے قرآن وسنت سے ہم آہنگ کرے۔''

8. آرٹیکل(۲)۲۰۳؍ڈی کی کلاز 'اے' میں 'صدر' اور 'گورنر' کا لفظ آیا ہے۔ ان کی بجائے 'قومی اسمبلی' اور 'صوبائی اسمبلی' کے الفاظ شامل کیے جائیں۔

9. آرٹیکل۲۳۰(جو اسلامی نظریاتی کونسل سے متعلق ہے)میں حسبِ ذیل ترامیم کی جائیں:

٭اس کی کلاز (بی)میں مشاورت کی رپورٹ ریفرنس سے۶۰دن کے اندر اندر بھجوانے کے لیے اسلامی کونسل کو پابند کیا جائے گا۔

٭ذیلی دفعہ(۲)حذف کی جائے۔

٭ذیلی دفعہ(۴)میں '۷سال'کی مدت کی بجائے '۳سال' اور'۲سال' کی بجائے'۶ماہ' کی مدت کے الفاظ شامل کیے جائیں اور

٭وفاقی یا صوبائی اسمبلیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ اسلامی کونسل کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد اس کے مطابق یا اس میں ترمیم واضافہ کے بعد جیسی بھی صورت ہو، متعلقہ قانون کو قرآن وسنت کے مطابق بنائیں۔

10. آئین کے آرٹیکل۲۳۳(جو ہنگامی حالات سے متعلق ہے)میں ترمیم کی جائے اور ہنگامی حالات میں بھی ان حقوق کو جو قرآن وسنت نے کسی شخص یا فریق کو عطا کیے ہیں اور جو قرار دادِ مقاصد میں درج ہیں، معطل کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہو گا۔

11. آئین کے آرٹیکل۲۴۸(جس کے تحت صدر گورنر اور وزرا کو قانونی تحفظات دیئے گئے ہیں)کو حذف کر دیا جائے۔ البتہ صدر اور گورنر کے خلاف دیوانی یا فوجداری کاروائی سے قبل۶۰دن کا نوٹس دینا ہو گا اور اس سلسلہ میں ان کے خلاف سماعت کا اختیار سپریم کورٹ کو ہو گا۔ ان کے خلاف اِلزام یا دعویٰ غلط یا جھوٹا ثابت ہونے کی صورت میں فریق کاروائی کو شرعی قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ البتہ ان کے خلاف کسی عدالت سے گرفتاری کے وارنٹ جاری نہیں کیے جائیں گے۔ دعویٰ یا الزام ثابت ہونے کی صورت میں ان کو ملک کے قانون کے مطابق سزا دینے کا اختیار سپریم کورٹ کو حاصل ہو گا۔

12. آئین کے جدول نمبر۳میں 'حلف' کے الفاظ میں ترمیم کر کے آئین کے ساتھ 'قرآن اور سنت کے تقدس اور تحفظ' کے الفاظ کا اضافہ کیا جائے۔

13. آئین کے جدول نمبر۴کے حصہ دوم، آئٹم نمبر۴۸کا اضافہ کیا جائے جو حسب ِذیل ہے:

''(۴۸)شریعت میں وہ تمام اُمور شامل ہوں گے جو اس سے متعلق ہیں۔ تا کہ اس سے وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں کو قرآن وسنت کے مطابق قانون سازی کے اختیارات حاصل ہوں۔'' [تیارکردہ : ۱۹۸۶ء]