میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

'ملی مجلس شرعی' کے مقتدر علماے کرام اِن دنوں 'متفقہ تعبیر شریعت'کی تیاری کے مراحل میں ہیں تاکہ نفاذِ شریعت کے کسی بھی مرحلے پر ایک متفقہ تعبیر اور نفاذِ شریعت کاطے شدہ منہج پہلے سے موجود ہو۔ اس سلسلے میں 'ملی مجلس شرعی' نے مختلف مکاتب ِفکر کے نمائندہ ۳۱؍علمائے کرام کے ۱۹۵۱ء میں تیار کردہ ۲۲ نکات کو ہی عصر حاضر میں ریاست وحکومت کے اسلامی کردار کو استوار کرنے کے لئے اساس قرار دیتے ہوئے انہی نکات کی تصویب و حمایت کی ہے۔

راقم کو اس سلسلے میں علماے کرام کی طرف سے قانونی رہنمائی کی درخواست کے ساتھ مولانا ابو عمار زاہد الراشدی کی زبانی یہ تجویز بھی موصول ہوئی ہے کہ چونکہ اس وقت تمام مکاتب ِفکر اور سیاسی اکائیوں کی متفقہ رائے سے دستورِ پاکستان ۱۹۷۳ء نافذ ِعمل ہے اور ملک میں پارلیمانی جمہوری نظام رائج ہے،اس لئے انتہائی ضروری ہے کہ ۲۲؍نکات کے مطالبے کو آگے بڑھانے سے قبل یہ جائزہ لے لیا جائے کہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خاں کی پیش کردہ قراردادِ مقاصد۱۹۴۹ء اور ۱۹۵۱ء میں ۳۱؍علما ئے کرام کے طے کردہ ۲۲نکات کے کو ن سے رہنما اُصول، دستورِ پاکستان میں شامل کئے جا چکے ہیں۔ زیر نظر تحقیق اسی حوالے سے پیش کی جارہی ہے کہ یہ نشاندہی کردی جائے کہ ۲۲ نکات دستور میں کس کس مقام پر شامل کئے جاچکے ہیں تاکہ مستقبل میں اِن نکات کا اِعادہ نہ ہو۔

۲۲نکات میں سے پہلے ہر نکتہ کا مستند متن شائع کیا گیاہے، بعد ازاںدستورِ پاکستان ۱۹۷۳ء کی متعلقہ دفعہ اور ذیلی دفعات کا اُردو متن دیا گیا ہے۔ دستور میں شامل تشریح کو بھی 'وضاحت' کے زیر عنوان پیش کیا گیا ہے، جس میں بعض تشریحی جملے راقم کی طرف سے بھی اضافہ کئے گئے ہیں جبکہ اس پر راقم کے تاثرات و تبصرہ کو 'تشریح وتبصرہ' کے مستقل عنوان سے پیش کیا گیا ہے۔ یہی اُسلوب تمام ۲۲؍نکات کے سلسلے میں اختیار کیا گیا ہے۔ تجزیہ وتقابل کے آخر میں فی الوقت درکار تجاویز و ترامیم کی نشاندہی کی گئی ہے جن کا مطالبہ 'ملی مجلس شرعی' کے علما کو اس وقت حکومت ِوقت سے کرنا چاہئے۔ [ان ترامیم کو نمبرg کے تحت ص نمبر۵۴ پر ملاحظہ فرمائیے]

۳۱علماے کرام کے ۲۲ نکات اور دستورِپاکستان۱۹۷۳ء

نکتہ 1:'' اصل حاکم شریعت وتکوینی حیثیت سے اللہ ربّ العالمین ہے۔''

٭یہ اُصول دستور کی تمہید اور آرٹیکل۲؍اور۲؍الف میں شامل ہے۔ تمہید(Preamble) اور آرٹیکل ۲؍الف کے ذریعہ قرار دادِ مقاصد Objectives Resolution (۱۹۴۹ئ) کودستور میں شامل کر کے اللہ ربّ العالمین کو تشریعی اور تکوینی حیثیت سے حاکمِ مطلق تسلیم کر لیا گیا ہے۔

٭ جب کہ آرٹیکل ۲کے مطابق ''اسلام، مملکت پاکستان کا مذہب ہے۔''

نکتہ 2: ''ملک کا قانون کتاب وسنت پر مبنی ہو گا اور کوئی ایسا قانون نہ بنا یا جا سکے گا، نہ کوئی ایسا انتظامی حکم دیا جا سکے گا جو کتاب وسنت کے خلاف ہو۔

تشریحی نوٹ:اگر ملک میں پہلے سے کچھ ایسے قوانین جاری ہوں جو کتاب وسنت کے خلاف ہوں تو اس کی تصریح بھی ضروری ہے کہ وہ بتدریج ایک معینہ مدت کے اندر منسوخ یا شریعت کے مطابق تبدیل کر دیئے جائیں گے۔''

یہ نکتہ دستور پاکستان کی درج ذیل دفعہ میں شامل کیا جاچکا ہے:

٭آرٹیکل ۲۲۷: ''تمام موجودہ قوانین کو قر آنِ پاک اور سنت میں منضبط اسلامی احکام کے مطابق بنایا جائے گا جن کا اس حصہ میں بطور اسلامی اَحکام حوالہ دیا گیا ہے اور ایسا کوئی قانون نہیں بنایا جا سکے گا جو مذکورہ اَحکام کے منافی ہو۔''

تشریح وتبصرہ:'انتظامی حکم': ہر انتظامی حکم کسی نہ کسی قانون کی بنیاد پر جاری ہو تا ہے۔ ہر قانون کاکتاب وسنت کے مطابق ہونا ضروری ہے،کیونکہ اگر وہ قانون قرآن وسنت کے خلاف ہے تو وہ وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ہر انتظامی حکم کو قانون کے خلاف یا ماورا ہونے کی وجہ سے یا بنیادی حقوق سے تصادم کی صورت میں عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ پہلے سے موجود قوانین آرٹیکل ۲۷۷کی رو سے قرآن وسنت کے مطابق ڈھالے جائیں گے۔ وفاقی شرعی عدالت تقریباً تمام قوانین کا جائزہ لیتی ہے، ما سوائے چند قوانین کے جنہیں استثنیٰ حاصل ہے۔

اس سلسلہ میں قانون سازی کی اتنی ضرورت نہیں جتنی کہ حکومت کے سیاسی عزم (Political Will)کی ضرورت ہے۔سیاسی عزم کے لئے مقتدر اشخاص اور اداروں کا اسلامی ذہن (Mindset) کا حامل ہونا ضروری ہے۔

نکتہ 3: ''مملکت جغرافیائی، نسلی یا کسی اور تصور کی بجائے ان اُصول ومقاصد پر مبنی ہو گی جن کی اساس اسلام کا پیش کیا ہوا ضابطہ حیات ہے۔''

یہ نکتہ درج ذیل مقامات پر دستور میں شامل کیا گیا ہے:

٭ تمہید(Preamble) اور آرٹیکل ۲؍الف قراردادِ مقاصد(۱۹۴۹ئ) دستورپاکستان اسلام کو ضابطہ حیات کی اساس او ربنیاد بتلاتا ہے۔

٭دستور کا آرٹیکل۳۳ مزید قرار دیتا ہے کہ ''مملکت شہریوں کے درمیان علاقائی ، نسلی، قبائلی، فرقہ وارانہ او رصوبائی تعصبات کی حوصلہ شکنی کرے گی۔

وضاحت: اسلام تنگ نظری پر مبنی قوم پرستی، علاقائیت اور نسلی امتیاز کا سخت مخالف ہے۔ اور پاکستان کی بنیاد اسلامی نظریات پر ہے۔''

تشریح و تبصرہ: اسلام نے اپنے عروج کے ایک ہزار سال سے زیادہ طویل دور میں مختلف فرقوں اور گروہوں کے درمیان صلح و آشتی کا جو نمونہ پیش کیا، وہ موجودہ دور میں دنیا کے بعض حصوں میں نسلی برتری کے بے جا دعوے، تعصب اور ظلم سے بالکل مختلف تھا۔پاکستان چونکہ ایک اسلامی ملک ہے اور اس کی بنیاد بھی اسلامی نظریے پر رکھی گئی ہے، ا س اعتبار سے پاکستان میں بسنے والے تمام لوگ باہم بھائی ہیں۔اس لیے اگر علاقائیت اور دیگر مماثل تعصبات کو ہوا دی گئی تو پھر نظریۂ پاکستان کمزور پڑ سکتا ہے۔ لہٰذا نظریۂ پاکستان کی تقویت کے لئے ضروری ہے کہ مذہب، زبان، علاقائیت اور ثقافت کو بنیاد بنا کر ان عوامل کی حوصلہ شکنی کی جائے جیسا کہ قائد اعظم نے ۱۱؍اگست۱۹۴۷ء کو پاکستان میں مجلس دستور ساز میں ایک ایسی پاکستانی قومیت کی بنا ڈالنے کا اعلان کیا تھا جو و طنیت پر مبنی ہو اورجس میں پاکستان کے ہندو، مسلمان اور عیسائی وغیرہ سب ایک٭ ہوں۔

۲۷؍ رمضان المبارک کو قائد اعظم نے فرمایا:

''پاکستان کے باشندوں پر زبر دست ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ اُنہیں اب یہ موقع حاصل ہوا ہے کہ دنیا کو یہ ثابت کر دیں کہ کس طرح ایک قوم جس میں مختلف عناصر شامل ہیں، آپس میں مل جل کر صلح و آشتی کے ساتھ رہتی ہے اور ذات پات کا امتیاز کئے بغیر اپنے تمام شہریوں کی یکساں فلاح وبہبود کے لئے کام کرتی ہیں۔''

قائد اعظم کے الفاظ کو صرف اسی صورت میں عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے کہ قانون ساز ادارے قانون سازی کر کے علاقائی اور دیگر تعصبات سے پاک معاشرہ قائم کریں۔

نکتہ 4: ''اسلامی مملکت کا یہ فرض ہو گا کہ قرآن وسنت کے بتائے ہوئے معروفات کو قائم کرے، منکرات کو مٹائے اور شعائر ِاسلام کے اِحیا و اِعلا اورمسلمہ اسلامی فرقوں کے لئے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری اسلامی تعلیم کا انتظام کرے۔''

اس نکتہ کے ضمن میں دستور کا آرٹیکل ۳۱بیان کرتا ہے :

٭''آرٹیکل۳۱:اسلامی طرزِ زندگی: ۱) پاکستان کے مسلمانوں کو انفرادی او راجتماعی طور پر اپنی زندگی اسلام کے بنیادی اُصولوں اور اساسی تصورات کے مطابق مرتب کرنے کے قابل بنانے کے لئے اور اُنہیں ایسی سہولتیں مہیا کرنے کے لئے اقدام کیے جائیں جن کی مدد سے وہ قرآنِ پاک اور سنت ِمطہرہ کے مطابق زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں۔

1. پاکستان کے مسلمانوں کے بارے میں مملکت مندرجہ ذیل اُمور کی کوشش کرے گی:

الف)قرآ نِ پاک اور اسلامیات کی تعلیم کولازمی قرار دینا، عربی زبان سیکھنے کی حوصلہ افزائی کرنا اور اس کے لئے سہولت بہم پہنچانا اور قرآن پاک کی صحیح او رمن وعن طباعت اور اشاعت کا اہتمام کرنا۔

ب) اتحاد اور اسلامی اخلاقی معیاراور ترقی پابندی کو فروغ دینا اور

ج) زکوٰۃ (عشر) ، اوقاف اور مساجد کی باقاعدہ تنظیم کا اہتمام کرنا

وضاحت: اس ذیلی دفعہ میں حکومت پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ مسلمانوں کو انفرادی او راجتماعی طور پر اپنی زندگی اسلام کے بنیادی اُصولوں اور اساسی تصورات کے مطابق بسر کرنے کے قابل بنائے اور اُنہیں ایسی سہولتیں میسر کرے جن کی مدد سے وہ قرآن وسنت کے مطابق اپنی زندگیاں ڈھال سکیں (اور ایسا صرف اسی صورت ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ تمام نافذ عمل قوانین جو قرآن وسنت کے مطابق نہیں ہیں، اُنہیں قرآن وسنت کے مطابق بنا کر ان پر عمل در آمد بھی کرایا جائے۔) یہ عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ خود بھی اپنی زندگیوں کو اسلام کے مطابق بسر کرنے کی ہر ممکنہ سعی کریں تاکہ ایک مثالی معاشرہ وجود میں آ سکے۔

2. اس ذیلی دفعہ میں حکومت پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ ایسے اقدامات بر وئے کار لائے جن سے مملکت کے ہر فرد کو قرآنِ پاک اور اسلامیات کی تعلیم حاصل کرنے کے مواقع میسر آ سکیں۔ چنانچہ اس پر عمل در آمد کرتے ہوئے حکومت نے ابتدائی درجہ سے میٹرک تک قرآن پاک اور احادیث وغیرہ پر مبنی اسلامی تعلیم لازمی قرار دے دی ہے۔

الف) عربی زبان کی ترویج و اشاعت کا خاطرخواہ انتظام کرنا بھی حکومتی ذمہ داری میں شامل ہے تاکہ جو لوگ عرب ممالک میں جاتے ہیں، وہ بہتر طر یقے سے اپنے ملک کی نمائندگی کر سکیں۔

اس شق کے تحت حکومت نے ۳جولائی ۱۹۷۳ء کو اَغلاط سے پاک قرآنِ پاک کی اشاعت کے نام سے ایک قانون کی بھی منظوری دی جس کے تحت قرآن پاک کے طباعت میں کسی نہ کسی وجہ سے رہ جانے والی غلطیوں کا سد ِباب کر دیا گیا ہے۔

ب) آئین کی یہ ذیلی دفعہ مملکت کو اس بات کا پابند کرتی ہے کہ وہ اس بات کا دھیان رکھے کہ اس کی عمل داری میں آنے والے علاقوں میں رہائشی افراد کے مابین امن وآشتی اور مذہبی اخوت کی فضا قائم رہے۔ اور کسی بھی شخص کو اس بنا پر امن عامہ کی صورتِ حال خراب کرنے کی اجازت نہ دے کہ اس کا تعلق کسی با اثر شخصیت یا جماعت سے ہے اور اخلاقی قدروں کو پامال نہ ہونے دے، کیونکہ اخلاق ہی معاشرے کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ج) ۲؍مارچ۱۹۸۵ء کے صدارتی فرمان میں زکوٰۃ ( عشر) ، اوقاف اور مساجد کی باقاعدہ تنظیم کے اہتمام کرنے کو کہا گیا ہے۔ ''

تشریح وتبصرہ: زکوٰۃ اسلام کے بنیادی اور عملی ارکان میں خاص اہمیت کا حامل رکن ہے۔ قرآنِ حکیم کی بے شمار آیات میں زکوٰۃ کا ذکر کیا گیا ہے۔احادیث میں بھی اس کی بڑی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اپنے مال میں سے ایک مقررہ حصہ ایک معین طریقے سے ہر سال اللہ کی راہ میں دیا جائے۔

زکوٰۃ چار قسم کے اَموال پر فرض ہے:

1.سائمہ جانورں ( وہ جانورجو سال کا اکثر باہر چر کر گزارتے ہیں) پر

2.ہر قسم کے تجارتی مال پر

3. سونے چاندی پر

4.کھیتی اور درختوں کی پیداوار پر

چاندی کا نصاب دو سو درہم ہے جس کے ساڑھے باون تولے بنتے ہیں جبکہ سونے کا نصاب ساڑھے سات تولے ہے۔ اگر مال کی قیمت ساڑھے باون تولے چاندی یا ساڑھے سات تولے سونے کی قیمت کے برابر ہو یا اس سے زائد ہو تو سال گزر جانے پر اس کی زکوٰۃ کے طور پر چالیسواں حصہ دینا فرض ہے۔

حکومت ِپاکستان نے اس اہم رکن کو ملک میں نافذ کرنے کے لئے۱۹۸۰ء میں صدارتی آرڈیننس جاری کیا اور اس کی وصولی اور تقسیم کے لئے پورے ملک میں زکوٰۃ و عشر کمیٹیاں قائم کیں۔ 'نیشنل زکوٰۃ فاؤنڈیشن' اس کا اہتمام کرتی ہے۔

اسی طرح کسان اپنی پیداوار کا دسواں حصہ بطورِ عشر ادا کرنے کے پابند ہیں۔

مزید برآں حکومت نے چاروں صوبوں میں محکمہ اوقاف بھی قائم کر رکھا ہے۔ یہ محکمہ بڑے بڑے مزارات سے ہونے والی آمدنی کو مزارعت پر ہی بروئے کار لاتا ہے اور مزارعین کو سہولیات فراہم کرتا ہے۔ اس محکمہ کے وجود میں آنے سے متعدد معاشرتی برائیوں کا قلع قمع ممکن ہے۔

اس وقت محکمہ اوقاف کی تحویل میں ملک بھر میں کئی مساجد ہیں جن کا انتظام محکمہ کے افسران چلا رہے ہیں۔ مساجد میں مسجد مکتب سکول بھی کھولے گئے ہیں، جہاں پرائمری کی سطح تک طلبا اور طالبات کو تعلیم دی جاتی ہے۔

پچھلی دہائی میں فوجی آمر کی حکومت نے درج بالا اُمور عملاً اسلامی روح اور روایات کے خلاف سر انجام دیے اور موجودہ حکومت بھی وہی پالیسیاں اختیار کئے ہوئے ہے۔

نکتہ 5:''اسلامی مملکت کا یہ فرض ہو گا کہ وہ مسلمانانِ عالم کے رشتہ اتحاد و اُخوت کو قوی سے قوی تر کرنے اور ریاست کے مسلم باشندوں کے درمیان عصبیت ِجاہلی کی بنیادوں پر نسلی و لسانی علاقائی یا دیگر مادی امتیازات کے بھرنے کی راہیں مسدود کر کے ملت ِاسلامیہ کی وحدت کے تحفظ و استحکام کا انتظام کرے۔ ''

اس نکتہ سے متعلق دستور پاکستان ۱۹۷۳ء کا درج ذیل آرٹیکل تشکیل دیا گیا ہے:

٭آرٹیکل ۴۰:''عالم اسلام سے رشتے استوار کرنا اور بین الاقوامی امن کو فروغ دینا: مملکت اس بات کی کوشش کرے گی کہ اسلامی اتحاد کی بنیاد پر مسلم ممالک کے مابین برادرانہ تعلقات کو برقرار رکھا جائے اور مستحکم کیا جائے۔ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے عوام کے مشترک مفادات کی حمایت کی جائے۔ بین الاقوامی امن اور سلامتی کو فروغ دیا جائے، تمام قوموں کے ما بین خیر سگالی اور دوستانہ تعلقات پیدا کیے جائیں اور بین الاقوامی تنازعات کو پر امن طریقوں سے طے کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

وضاحت:پاکستان جغرافیائی لحاظ سے اہم مقام پر فائز ہے۔ اس کے ایک طرف مشرقِ وسطیٰ اور دوسری طرف جنوب مشرق ایشیا ہے۔ ان دونوں جغرافیائی حصوں کے درمیان پاکستان بیک وقت حد ِفاصل اور رابطے کا کام دیتا ہے۔ اور ان حصوں میں ہونے والی تبدیلی کا اثر پاکستان پر بھی پڑتا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر مشرقِ وسطیٰ کے تمام اسلامی ممالک کا اس کے ساتھ گہرا رابط ہے۔ اس نے مراکش، اُردن، الجزائر، لیبیا، نائیجیریا، کویت اور دیگر اسلامی ممالک کی آزادی کے لئے اَن تھک کاوشیں کی ہیں۔ اسی طرح ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کی مظلوم قوموں کا ساتھ دیا ہے۔ حالیہ واقعات میں افغانستان ، کویت اور نمیبیا کی آزادی شامل ہیں۔

۱۹۶۹ء میں جب بیت المقدس کو ایک یہودی نے تباہ و برباد کیا تو سعودی عرب کے شاہ فیصل کے تعاون سے اسلامی ممالک کی تنظیم کا قیام اور جنوبی ایشیا کو ایٹم سے پاک رکھنے کی قرار دادوں کی منظوری میں پاکستان کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کشمیر کی آزادی کے لئے بھی بین الاقوامی تعاون چاہتا ہے اور اسے لڑائی کی بجائے مذاکرات میں حل کرنے کا خواہاں ہے تاکہ علاقے کا امن برباد نہ ہو۔ اسی طرح افغانستان اور روس کا شیرازہ بکھرنے کے بعد وجود میں آنے والے وسطی ایشیائی ریاستیں پاکستان کے لئے خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ بانی پاکستان بھی اس بات کے خواہاں تھے کہ پاکستان آزاد خارجہ پالیسی کو اپنائے، اس ضمن میں اُنہوں نے فرمایا تھا:

''ہماری خارجہ پالیسی کا اصل اُصول تمام اقوام عالم کے لئے دوستی اور خیر سگالی کا عملی جذبہ ہے۔ ہم دنیا کے کسی ملک یا قوم کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتے۔ ہم قومی اور بین الاقوامی معاملات میں دیانت اور انصاف کے اُصولوں پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم دنیا میں امن اور خوشحالی کے اضافے اور ترقی کے لئے اپنی جانب سے زیادہ زیادہ کردار انجام دینے کے لئے تیار ہیں۔'' اور اس کے بعد اُنہوں نے اپنے عملی جذبات کا اعادہ کرتے ہوئے فرمایا:

''پاکستان دنیا کے مظلوم اور کچلی ہوئے اقوام کو اخلاقی اور مادی امداد دینے سے کبھی نہیں ہچکچائے گا اور اقوامِ متحدہ کے منشور میں درج شدہ اُصولوں کا حامل ہے۔''

قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک جتنی بھی حکومتیں قائم ہوئی ہیں، وہ قائد اعظم کے ان ارشادات پر عمل پیرا ہیں۔ پاکستان کا استحکام ان سب ریاستوں اور ان کے عوام کے لئے ضروری ہے۔

نکتہ 6:''مملکت بلا امتیازِ مذہب ونسل وغیرہ تمام ایسے لوگوں کی لا بدی انسانی ضروریات یعنی غذا، لباس، مسکن ومعالجہ او رتعلیم کی کفیل ہو گی جو اکتسابِ رزق کے قابل نہ ہوں، یا نہ رہے ہوں یا عارضی طور پر بے روزگاری، بیماری یا دوسرے وجوہ سے فی الحال سعی ٔ اکتساب پر قادر نہ ہوں۔''

آرٹیکل ۳۸ اس ضمن میں بیان کرتا ہے:

٭''آرٹیکل۳۸: عوام کی معاشی او رمعاشرتی فلاح وبہبود کا فروغ:

الف) عام آدمی کے معیارِ زندگی کو بلند کر کے، دولت اور وسائل پیدوار و تقسیم کو چند اشخاص کے ہاتھوں میں اس طرح جمع ہونے سے روک کر کہ اس سے مفادِ عامہ کو نقصان پہنچے اور آجر و ماجور اور زمیندار و مزارع کے درمیان حقوق کی منصفانہ تقسیم کی ضمانت دے کر بلحاظِ جنس، ذات، مذہب یا نسل ، عوام کی فلاح وبہبود کے حصول کی کوشش کرے گی۔

ب) تمام شہریوں کے لئے ملک میں دستیاب وسائل کے اندر، معقول آرام و فرصت کے ساتھ کام اور مناسب روزی کی سہولتیں مہیا کرے گی۔

ج) پاکستان کی ملازمت میں یا بصورتِ دیگر تمام اشخاص کو لازمی معاشرتی بیمہ کے ذریعے یا کسی اور طرح معاشرتی تحفظ مہیا کرے گی۔

د) ان تمام شہریوں کے لئے جو کمزوری ، بیماری یا بے روزگاری کے باعث مستقل یا عارضی طور اپنی روزی نہ کما سکتے ہوں، بلا لحاظِ جنس، ذات، مذہب یا نسل بنیادی ضروریاتِ زندگی مثلاً خوراک، لباس، رہائش، تعلیم اور طبی امداد مہیا کرے گی۔

ھـ) پاکستان کی ملازمت کے مختلف درجات میں اشخاص سمیت افراد کی آمدنی او رکمائی میں عدم مساوات کو کم کرے گی اور

و) ربوٰ کو جتنی جلد ممکن ہو ختم کرے گی۔

تشریح و تبصرہ: آئین کی اس دفعہ (الف، ب، ج، د، ہ اور و) میں جو تمہید ہے، اس میں عوام کی معاشرتی و اقتصادی بہبود کو فروغ دینے پر نہ صرف زور دیا گیا ہے بلکہ یہ واضح کیا گیا ہے کہ مملکت کی یہ کوشش ہو گی کہ معیارِ زندگی بلند کر کے عمومی مفاد کے خلاف چند ہاتھوں میں دولت او رذرائع وتقسیم اور ترسیل کے ارتکاز کو روک کر آجروں اور زمینداروں او رمزارعوں کے درمیان حقوقِ منصفانہ تقسیم کر کے عوام کی فلاح و بہبود حاصل کی جائے۔

اس دفعہ میں مزید گنجائش یہ رکھی گئی ہے کہ ہمارے شہریوں کو معقول آرام اور فرصت کے ساتھ کام اور مناسب روزگار کی سہولتیں بھی مہیا کی جائیں گی اور ایسے شہریوں کو جو قانونی، بیماری یا بے روزگاری کی وجہ سے مستقل یا عارضی طور پر کسب ِمعاش کرنے کے لائق نہ ہوں اُنہیں بنیادی ضروریات زندگی یعنی غذا، لباس، مکان تعلیم اور طبی اِمداد مہیا کی جائے۔

اس دفعہ کے ذریعے اَفراد کی آمدنی اور یافت میں عدم مساوات کو کم کرنے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ نیز ربا یعنی سود کو جلد از جلد ختم کرنے کا عہد کیا گیا ہے، کیونکہ اسلام کسی بھی حالت میں سودی کاروبار کی اجازت نہیں دیتا۔

اس دفعہ کے تحت حکومت کو یہ آئینی تلقین بھی کی گئی ہے کہ وہ عوام کی معاشی او رمعاشرتی فلاح وبہبود کے فروغ کے سلسلے میں سرکاری ادارے قائم کرے یا نجی اور رضاکارانہ طور پر کام کرنے والے اداروں کی مالی امداد کر کے ان کی حوصلہ افزائی کرے۔ اس ضمن میں قائم ادارے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو بروئے کار لا سکتے ہیں۔

نکتہ 7 و8:''باشندگانِ ملک کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو شریعت ِاسلامیہ نے ان کو عطا کیے ہیں یعنی حدودِ قانون کے اندر تحفظ ِجان و مال و آبرو ، آزادیٔ مذہب و مسلک، آزادیٔ عبادت،آزادیٔ ذات، آزادیٔ اظہار رائے ، آزادیٔ نقل و حرکت، آزادیٔ اجتماع، آزادیٔ اکتسابِ رزق وترقی کے مواقع میں یکسانی اور رفاہی اِداروں سے استفادہ کا حق''

بنیادی حقوق کا آرٹیکل ۴ اور آرٹیکل ۸ تا ۲۵ مندرجہ بالا نکات کو سموئے ہوئے ہیں:

٭''آرٹیکل۴: اَفراد کا حق کہ ان سے قانون وغیرہ کے مطابق سلوک کیاجائے:

1. ہر شہری کو خواہ کہیں بھی ہو اور کسی دوسرے شخص کو جو فی الوقت پاکستان میں ہو، یہ ناقابلِ انتقال حق ہے کہ اسے قانون کا تحفظ حاصل ہو اور اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔

2. خصوصاً...:

الف) کوئی ایسی کاروائی نہ کی جائے جو کسی شخص کی جان ،آزادی ، جسم، شہرت یا املاک کے لئے مضر ہو ، ما سوائے اس کے جب قانون اس کی اجازت دے۔

ب) کسی کو بھی کوئی ایسا کام کرنے کی ممانعت یا مزاحمت نہ ہوگی جو کام قانوناً ممنوع نہ ہو

ج)کسی شخص کو کوئی ایسا کام کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا جس کا کرنا اس کے لئے قانوناً ضروری نہ ہو۔

٭آرٹیکل نمبر۸: بنیادی حقوق کے نقیض یا منافی قوانین کالعدم ہوں گے:

1.کوئی قانون یا رسم یا رواج جو قانون کا درجہ اور حکم رکھتا ہو، تناقض کی اس حد تک کالعدم ہو گا جس حد تک وہ اس باب میں عطا کردہ حقوق کا نقیض ہو۔

2. مملکت کوئی ایسا قانون وضع نہیں کرے گی جو بایں طور عطا کردہ حقوق کو سلب یا کم کرے اور ہر وہ قانون جو اس شق کی خلاف ورزی میں وضع کیا جائے، اس خلاف ورزی کی حد تک کا لعدم ہو گا۔

3. اس آرٹیکل کے احکام کا اطلاق حسب ِذیل پر نہیں ہو گا :

الف)کسی ایسے قانون پر جس کا تعلق مسلح اَفواج یا پولیس یا اَمن عامہ قائم رکھنے کی ذمہ دار دیگر جمعیتوں کے اَرکان سے ان کے فرائض کی صحیح طریقے پر انجام دہی یا ان میں نظم وضبط قائم رکھنے سے ہو ، یا

ب)درج ذیل میں سے کسی پر

(i جدول اوّل میں مصرحہ قوانین جس طرح کہ یومِ نفاذ سے عین قبل نافذ العمل تھے یا جس طرح کہ مذکورہ جدول مصرحہ قوانین میں سے کسی کے ذریعے ان کی ترمیم کی گئی تھی۔

(ii جدول اوّل کے حصہ۱ میں مصر حہ دیگر قوانین اور ایسا کوئی قانون یا اس کا حکم اس بنا پر کالعدم نہیں ہو گا کہ مذکورہ قانون یا حکم اس باب کے کسی حکم کے متناقض یا منافی ہے۔

4. شق ۳ پیرا 'ب' میں مذکورہ کسی امر کے باوجود یومِ آغاز سے دو سال کے اندر متعلقہ مقننہ (جدول اوّل کے حصہ دوم) میں مصرحہ قوانین کو اس باب کی روح سے عطا کردہ حقوق کے مطابق بنائے گی بشرطیکہ متعلقہ مقننہ قرار داد کے ذریعے دو سال کی مذکورہ مدت میں زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کی توسیع کر سکے گی۔

وضاحت: اگر کسی قانون کے بارے میں مجلس شوریٰ ( پارلیمنٹ) متعلقہ مقننہ ہو تو مذکورہ قرار داد قومی اسمبلی کی قرارد اد ہو گی۔

5. اس باب کی رو سے عطا کردہ حقوق معطل نہیں کیے جائیں گے۔ بجز جس طرح کے دستور میں بالصراحت قرار دیا گیا ہے۔

٭''آرٹیکل ۹:فرد کی سلامتی: کسی شخص کو زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جائے گا سوائے جبکہ قانون اس کی اجازت دے۔''

٭''آرٹیکل۱۰:گرفتاری اور نظر بندی سے تحفظ:

1.کسی شخص کوجسے گرفتار کیا گیا ہو، مذکورہ گرفتاری کی وجوہ سے جس قدر جلد ہو سکے، آگاہ کئے بغیر نہ تونظر بند رکھا جائے اور نہ اسے اپنی پسند کے کسی قانون پیشہ شخص کو مشورہ کرنے اور اس کے ذریعے صفائی پیش کرنے کے حق سے محروم کیا جائے گا۔

2. ہر اس شخص کو جسے گرفتار کیا گیا اور نظر بند رکھا گیا ہو، مذکورہ گرفتاری کے چوبیس گھنٹے کے اندر کسی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازم ہو گا، لیکن مذکورہ مدت میں وہ وقت شامل نہ ہو گا جو مقامِ گرفتاری سے قر یب ترین مجسٹریٹ کی عدالت تک لے جانے کے لئے درکار ہو اور ایسے کسی شخص کو کسی مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر مذکورہ مدت سے زیادہ نظر بند نہیں رکھا جائے گا۔

3. شقات۱ اور۲ میں مذکورہ کسی امر کا اطلاق کسی ایسے شخص پر نہیں ہو گا جسے امتناعی نظر بندی سے متعلق کسی قانون کے تحت گرفتار یا نظر بند کیا گیا ہو۔

4. اِمتناعی نظر بندی کے لئے کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا بجز ایسے لوگوں کے خلاف کاروائی کرنے کے لئے جو کسی ایسے طریقے پر کام کریں جو پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سالمیت تحفظ یا دفاع یا پاکستان کے خارجی اُمور یا امن عامہ یا رسد یا خدمات کے برقرار رکھنے کے لئے ضرر رساں ہو اور کوئی ایسا قانون کسی شخص کو تین ماہ سے زیادہ مدت تک نظر بند رکھنے کی اجازت نہیں دے گا تا وقتیکہ متعلقہ نظرثانی بورڈ نے اسے اصالتاً سماعت کا موقع مہیا کرنے کے بعد مذکورہ مدت ختم ہونے سے قبل اس کے معاملہ پر نظر ثانی نہ کر لی ہو اور یہ رپورٹ نہ دی ہو کہ اس کی رائے میں مذکورہ نظر بندی کیلئے کافی وجہ موجود ہے۔''

٭''آرٹیکل ۱۱ : غلامی ، جبری مشقت اور بیگار وغیرہ کی ممانعت:

1. غلامی معدوم اور ممنوع ہے اور کوئی قانون کسی بھی صورت میں اسے پاکستان میں رواج دینے کی اجازت نہیں دے گا یا سہولت بہم نہیں پہنچائے گا۔

2. بیگار کی تمام صورتوں اور انسانوںکی خرید وفروخت کو ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔

3. چودہ سال سے کم عمر کے کسی بچے کو کسی کارخانے یا کان یا دیگر ملازمت میں نہیں رکھا جائے گا۔

4. اس آرٹیکل میں مذکور کوئی امر ایسی لازمی خدمت پر اثر انداز متصور نہیں ہو گا:

الف) جو کسی قانون کے خلاف کسی جرم کی بنا پر سزا بھگتنے والے کسی شخص سے لی جائے۔ یا

ب) جو کسی قانون کی رو سے غرضِ عامہ کے لئے مطلوب ہو مگر شرط یہ ہے کہ کوئی لازمی خدمت ظالمانہ نوعیت کی یا شرفِ انسانی کے مخالف نہیں ہو گی۔''

٭''آرٹیکل ۱۲: مؤثر بہ ماضی سزا سے تحفظ: aکوئی قانون کسی شخص کو:

1. کسی ایسے فعل یا ترکِ فعل کے لئے جو اس فعل کے سرزد ہونے کے وقت کسی قانون کے تحت قابل سزا نہ تھا، سزا دینے کی اجازت نہیں دے گا۔ یا

2. کسی جرم کے لیے ایسی سزا دینے کی جو اس جرم کے ارتکاب کے وقت کسی قانون کی رو سے اس کے لئے مقررہ سزا سے زیادہ سخت یا اس سے مختلف ہو، اجازت نہیں دے گا۔

3.شق۱ یا آرٹیکل۲۷۰میں مذکور کوئی امر کسی ایسے قانون پر اطلاق پذیر نہ ہو گا جس کی رو سے ۲۳مارچ ۱۹۵۶ء سے کسی بھی وقت پاکستان میں نافذ عمل کسی دستور کی تنسیخ یا تخریب کی کاروائیوں کو جرم قرار دیا گیا ہو۔''

٭''آرٹیکل۱۳:دہری سزا اور اپنے کو ملزم گرداننے کے خلاف تحفظ:کسی شخص :

1. پر ایک ہی جرم کی بنا پر ایک سے زائد بار مقدمہ چلایا جائے او رنہ ہی سزا دی جائے گی یا کسی

2. کو جب کہ اس پر کسی جرم کا الزام ہو، اس بات پر مجبور نہیں کیا جائے گا وہ اپنے ہی خلاف ایک گواہ بنے۔''

٭''آرٹیکل۱۴: شرفِ انسانی قابل حرمت ہو گا:

1. شر فِ انسانی اور قانون کے تابع، گھر کی خلوت حرمت ہو گی۔

2. کسی شخص کو شہادت حاصل کرنے کی غرض سے اَذیت نہیں دی جائے گی۔''

٭''آرٹیکل ۱۵:نقل و حرکت وغیرہ کی آزادی: ہر شہری کو پاکستان میں رہنے اور مفادِ عامہ کے پیش نظر قانون کے ذریعہ عائد کردہ کسی معقول پابندی کے تابع، پاکستان میں داخل ہونے او راس کے ہر حصے میں آزادنہ نقل و حرکت کر نے اور اس کے کسی حصے میں سکونت اختیار کر نے اور آباد ہو نے کا حق ہو گا۔''

٭''آرٹیکل ۱۶: اجتماع کی آزادی: امن عامہ کے مفاد میں قانون کے ذریعے عائد کردہ پابندیوں کے تابع، ہر شہری کو پر امن طور پر اسلحہ کے بغیر اجتماع کا حق ہو گا۔''

٭''آرٹیکل ۱۷: انجمن سازی کی آزادی:

1. پاکستان کی حاکمیت ِاعلیٰ یا سالمیت ، امن عامہ یا اخلاق کے مفاد میں قانون کے ذریعے عائد کردہ معقول پابندیوں کے تابع ہر شہری کو انجمنیں یا یونٹیں بنانے کا حق ہو گا۔

2. ہر شہری کو جو حکومت ِپاکستان کا ملازم نہ ہو، پاکستان کی حاکمیت ِاعلی یا سالمیت ٭ (یا امن عامہ) کے مفاد میں قانون کے ذریعے عائد کردہ معقول پابندیوں کے تابع، کوئی سیاسی جماعت بنانے یا اس کا رکن بننے کا حق ہو گا

اورمذکورہ قانون میں قرار دیا جائے گا کہ جبکہ وفاقی حکومت یہ اعلان کر دے کہ کوئی سیاسی جماعت ایسے طریقے پر بنائی گئی ہے یا عمل کر رہی ہے جو پاکستان کی حاکمیت ِاعلی یا سالمیت(یا امن عامہ) کے لیے مضر ہے تو وفاقی حکومت مذکورہ اعلان سے پندرہ دن کے اندر معاملہ عدالت ِعظمیٰ کے حوالے کر دے گی جس کا مذکورہ حوالے پر فیصلہ قطعی ہو گا۔

3. ہر سیاسی جماعت قانون کے مطابق اپنے مالی ذرائع کے مآخذ کے لئے جواب دہ ہو گی۔

4. ہر ایک سیاسی جماعت، قانون کے مطابق اپنے عہدیداروں اورجماعت کے قائدین کا انتخاب کرنے کے لئے جماعت کے اندر انتخابات منعقد کرے گی۔''

٭''آرٹیکل۱۸: تجارت کاروبار یا پیشے کی آزادی: ایسی شرائط قابلیت صلاحیت ، حیثیت کے تابع ہوں جو قانون کے ذریعے مقرر کی جائیں، ہر شہری کو کوئی جائز پیشہ یا مشغلہ اختیار کرنے اور کوئی جائز تجارت یا کاروبار کرنے کا حق ہو گا:

1. کسی تجارت یا پیشہ کو اُجرت نامہ کے طریقہ کار کے ذریعے منضبط کرنے میں یا

2. تجارت، کاروبار یا صنعت میں آزادانہ مقابلہ کے مفاد کے پیش نظر اسے منضبط کرنے میں یا

3. وفاقی حکومت یا کسی صوبائی حکومت یا کسی ایسی کارپوریشن کی طرف سے جو مذکورہ حکومت کے زیر نگرانی ہو، دیگر اشخاص کو قطعی یا جزوی طور پر خارج کر کے کسی تجارت، کاروبار، صنعت یا خدمت کا انتظام کرنے میں۔''

٭''آرٹیکل۱۹: تقریر وغیرہ کی آزادی: اسلام کی عظمت یا پاکستان یا اس کے کسی حصہ کی سالمیت ، سلامتی یا دفاع، غیر ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات، امن عامہ، تہذیب یااخلاق کے مفاد کے پیش نظر یا توہین عدالت، کسی جرم (کے ارتکاب) یا اسکی ترغیب سے متعلق قانون کے ذریعے عائد کردہ مناسب پابندیوں کے تابع، ہر شہری کو تقریر او راظہارِ خیال کی آزادی کا حق ہو گا او ران ہی شرائط کے ساتھ پریس بھی آزاد ہو گا۔''

٭''آرٹیکل۲۰: مذہب کی پیروی او رمذہبی اداروں کے انتظام کی آزادی: قانون، امن عامہ او راخلاق کے تابع:

1. ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق ہو گا اور

2. ہر مذہبی گروہ اور اس کے ہر فرقے کو اپنے مذہبی ادارے قائم کرنے، برقرار اور ان کا انتظام کرنے کا حق ہو گا۔''

٭''آرٹیکل۲۱: کسی خاص مذہب کی اغراض کے لئے محصول لگانے سے تحفظ:کسی شخص کو کوئی ایسا خاص محصول ادا کرنے پر مجبور نہیں کیاجائے گا جس کی آمدنی اس کے اپنے مذہب کے علاوہ کسی او رمذہب کی تبلیغ و ترویج پر صرف کی جائے۔''

''آرٹیکل۲۲: مذہب وغیرہ کے بارے میں تعلیمی اداروں سے متعلق تحفظات:

1. کسی تعلیمی ادارے میں تعلیم پانے والے کسی شخص کو مذہبی تعلیم حاصل کرنے یا کسی مذہبی تقریب میں حصہ لینے یا مذہبی عبادت میں شرکت کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، اگر ایسی تعلیم، تقریب یا عبادت کا تعلق اس کے اپنے مذہب کے علاوہ کسی او رمذہب سے ہو۔

2. کسی مذہبی ادارے کے سلسلے میں محصول لگانے کی بابت استثنا یا رعایت منظور کرنے میں کسی فرقے کے خلاف کوئی امتیاز روا نہیں رکھا جائے گا۔

3. قانون کے تابع:

الف)کسی مذہبی فرقے یا گروہ کو کسی تعلیمی ادارے میں جو کلی طور پر اس فرقے یا گروہ کے زیر انتظام چلایا جاتا ہو اس فرقے یا گروہ کے طلبا کو مذہبی تعلیم دینے کی ممانعت نہ ہو گی۔

ب)کسی شہری کو نسل، مذہب، ذات یا مقام پیدائش کی بنا پر کسی ایسے تعلیمی ادارے میں داخل ہونے سے محروم نہیں کیا جائے گا جسے سر کاری محاصل سے اِمداد ملتی ہو۔

4. اس آرٹیکل میں مذکور کوئی امر معاشرتی یا تعلیمی اعتبار سے پسماندہ شہریوں کی ترقی کے لئے کسی سرکاری ہیئت ِمجاز کی طرف سے اہتمام کرنے میں مانع نہ ہو گا۔

٭''آرٹیکل۲۳:جائیداد کے متعلق حکم: دستور او رمفادِ عامہ کے پیش نظر قانون کے ذریعے عائد کردہ معقول پابندیوں کے تابع، ہر شہری کو جائیداد حاصل کرنے، قبضہ میں رکھنے اور فروخت کرنے کا حق ہو گا۔''

٭''آرٹیکل۲۴: حقوق جائیداد کا تحفظ:

1. کسی شخص کو اسکی جائیداد سے محروم نہیں کیا جائے گا سوائے جبکہ قانون اسکی اجازت دے۔

2. کوئی جائیداد زبردستی حاصل نہیں کی جائے گی اور نہ قبضہ میں لی جائے گی بجز کسی سرکاری غرض کے لئے او ربجز ایسے قانون کے اختیار کے ذریعے جس میں اس کے معاوضہ کا حکم دیا گیا ہو اور یا تو معاوضہ کی رقم کا تعین کر دیا گیا ہو یا اس اُصول اور طریقے کی صراحت کی گئی ہو جس کے بموجب معاوضہ کا تعین کیا جائے گا اور اسے ادا کیا جائے گا۔

3. اس آرٹیکل میں مذکور کوئی امر حسب ِذیل کے جوازپر اثر انداز نہیں ہو گا:

الف)کوئی قانون جو جان ، مال یا صحت ِعامہ کو خطرے سے بچانے کے لئے کسی جائیداد کے لازمی حصول یا اسے قبضے میں لینے کی اجازت دیتا ہو۔ یا

ب) کوئی قانون جو کسی ایسی جائیداد کے حصول کی اجازت دیتا ہو جسے کسی شخص نے کسی ناجائز ذریعے سے یا کسی ایسے طریقے سے جو خلاف قانون ہو حاصل کیا ہو یا اس کے قبضہ میں آئی ہو۔ یا

ج) کوئی قانون جو کسی ایسی جائیداد کے حصول، انتظام، یا فروخت سے متعلق ہو جو کسی قانون کے تحت متروکہ جائیداد یا دشمن کی جائیداد ہو یا متصور ہوتی ہو، جو ایسی جائیداد نہ ہو جس کا متروکہ جائیداد ہونا کسی قانون کے تحت ختم ہو گیا ہو۔ یا

د) کوئی قانون جو یا تو مفادِ عامہ کے پیش نظر یا جائیداد کا انتظام مناسب طور پر کرنے کے لئے یا اس کے ملک کے فائدے کے لئے مملکت کو محدود مدت کے لئے کسی جائیداد کا انتظام اپنی تحویل میں لے لینے کی اجازت دیتا ہو۔ یا

ہ) کوئی قانون جو حسب ِذیل غرض کے لئے کسی قسم کی جائیداد کے حصول کی اجازت دیتا ہو:

(iتمام یا شہریوں کے کسی مصرحہ طبقے کو تعلیم او رطبی امداد مہیار کرنے کے لئے۔ یا

(ii تمام یا شہریوں کے کسی مصرحہ طبقے کو رہائشی اور عام سہولتیں اور خدمات مثلاً سڑکیں، آب رسانی ، نکاسی آ ب، گیس اور بروقت مہیا کرنے کے لئے ۔ یا

(iii ان لوگوں کو نان نفقہ مہیا کرنے کے لئے جو بیروزگاری ، بیماری، کمزوری یا ضعیف العمری کی بنا پر اپنی کفالت خود کرنے کے قابل نہ ہوں۔ یا

و) کوئی موجودہ قانون یا آرٹیکل ۲۵۳کے بموجب وضع کردہ کوئی قانون

4. اس آرٹیکل میں محولہ کسی قانون کی رو سے قرار دیئے گئے ہیں یا اس کی تعمیل میں متعین کئے گئے کسی معاوضہ کیلئے کافی ہونے یا نہ ہونے کو کسی عدالت میں زیر بحث نہیں لایا جائے گا۔''

٭''آرٹیکل۲۵:شہریوں سے مساوات:

1. تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور قانونی تحفظ کے مساوی حق دار ہیں۔

2. محض جنس کی بنا پر کوئی امتیاز نہیں کیا جائے گا۔

3. اس آرٹیکل میں مذکورہ کوئی امر عورتوں اور بچوں کے تحفظ کے لئے مملکت کی طرف سے کوئی خاص اہتمام کرنے میں مانع نہ ہو گا۔''

نکتہ9:'' مسلمہ اسلامی فرقوں کو حدودِ قانون کے اندر پوری مذہبی آزادی حاصل ہو گی۔ اُنہیں پیروکاروں کو اپنے مذہب کی تعلیم دینے کا حق حاصل ہو گا۔ وہ اپنے خیالات کی آزادی کے ساتھ اشاعت کر سکیں گے۔ ان کے شخصی معاملات کے فیصلے ان کے اپنے فقہی مذہب کے مطابق ہو ں گے اور ایسا انتظام کرنا مناسب ہو گا کہ اُنہی کے قاضی یہ فیصلہ کریں۔''

علماء کے ۲۲ نکات میں سے نکتہ نمبر۹ دستورِ پاکستان کی درج ذیل دفعات میں سمویا گیاہے:

٭''آرٹیکل۳۳: مملکت شہریوں کے درمیان علاقائی، نسلی، قبائلی، فرقہ وارانہ اور صوبائی تعصبات کی حوصلہ شکنی کرے گی۔''

٭''آرٹیکل۲۰: مذہب کی پیروی او رمذہبی اداروں کے انتظام کی آزادی: قانون،امن عامہ او راخلاق کے تابع:

الف) ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق ہو گا اور

ب) ہر مذہبی گروہ اور اس کے ہر فرقے کو اپنے مذہبی ادارے قائم کرنے ، برقرار اور ان کا انتظام کرنے کا حق ہو گا۔''

٭''آرٹیکل۲۲۷: قرآن پاک اور سنت کے بارے میں احکام:

1. تمام موجودہ قوانین کو قرآن پاک اور سنت میں منضبط اسلامی احکام کے مطابق بنایا جائے گا جن کا اس حصے میں بطورِ اسلامی احکام حوالہ دیا گیا ہے اور ایسا کوئی قانون وضع نہیں کیا جائے گا جو مذکورہ اَحکام کے منافی ہو۔

وضاحت:کسی مسلم فرقے کے قانونِ شخصی پر اس شق کا اطلاق کرتے ہوئے عبارت 'قرآن وسنت' سے مذکورہ فرقے کی اپنی توضیح کے مطابق قرآن وسنت مراد ہو گی۔

2. شق 1. کے احکام کو صرف اس طریقہ کے مطابق نافذ کیا جائے گا جو اس حصہ میں منضبط ہے۔

3. اس حصہ میں کسی امر کا غیر مسلم شہریوں کے قوانینِ شخصی یا شہریوں کے بطور ان کی حیثیت پر اَثر نہیں پڑے گا۔

تشریح وتبصرہ:1،2 اسلام کا نظریہ آفاقی ہے، یہ کسی خاص علاقے یا نسل تک محدود نہیں ہے اس کا روئے سخن تمام دنیا کی طرف ہے، اس لیے اس کے اصول اور قوانین میں بھی آفاقیت پائی جاتی ہے۔ یہ قوانین فطرت انسانی کے عین مطابق ہیں اور ہر زمانے کے تقاضوں اور تمام قوموں کی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ملت ِاسلامیہ کی بنیاد اسلامی نظر یۂ حیات ہے او راس نظریۂ حیات کا منبع قرآن وسنت ہیں۔ اسی لیے دفعہ ہذا میں یہ کہا گیا ہے کہ پاکستان کے تمام موجودہ قوانین کو قرآن وسنت میں منضبط اسلامی احکام کے مطابق بنایا جائے گا جن کا اس حصے میں بطور اسلامی احکام کا حوالہ دیا گیا ہے او رایسا کوئی قانون وضع نہیں کیا جائے گا جو قرآن وسنت کے منافی ہو گا۔ اس دفعہ کی شق ۱میں اس بات کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ چونکہ پاکستان کی آبادی میں متعدد ممالک کے لوگ ہیں، اس لیے کسی مسلم فرقے کے قانون شخصی پر اس شق کا اطلاق کرتے ہوئے عبارت قرآن وسنت سے مذکورہ فرقے کی طے کردہ توضیح کے مطابق قرآن وسنت مراد ہو گی۔

3. شق نمبر 3 کا حاصل یہ ہے کہ اس حصہ میں کسی امر کا غیر مسلم شہریوں کے قوانین شخصی یا شہریوں کے بطور ان کی حیثیت پر اثر نہیں پڑے گا۔پاکستان میں چونکہ اقلیتیں بھی آباد ہیں لہٰذا اس حصہ میں کسی امر کا غیر مسلم شہریوں کے قوانین شخصی یا شہریوں کے بطور ان کی حیثیت پر اثر نہیں پڑے گا۔ بہ لفظ ِدیگر اقلیتی فرقے کے لوگ اپنے اپنے مذہب کے مطابق عبادت کر سکیں گے اور اس ضمن میں کوئی امر مانع نہ ہو گا۔

دفعہ ہذا احکاماتِ اسلامی کے بارے میں پارلیمنٹ کے اختیارات کی بھی تحدید کرتی ہے۔

نکتہ10:''غیر مسلم باشندگانِ مملکت کو حدودِ قانون کے اند مذہب وعبادت ، تہذیب و ثقافت او رمذہبی تعلیم کی پوری آزادی حاصل ہو گی اور اُنہیں اپنے شخصی معاملات کا فیصلہ اپنے مذہبی قانون یا رسم و رواج کے مطابق کرانے کا حق حاصل ہو گا۔''

دیکھئے دستور پاکستان کا درج ذیل آرٹیکل:

٭''آرٹیکل۲۰:مذہب کی پیروی اور مذہبی اداروں کے انتظام کی آزادی: قانون، امن عامہ او راخلاق کے تابع:

1. ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے، اس پر عمل کرنے اور اسکی تبلیغ کرنے کا حق ہو گا او ر

2. ہر مذہبی گروہ اور اس کے ہر فرقے کو اپنے مذہبی ادارے قائم کرنے،بر قرار او ران کا انتظام کرنے کا حق ہو گا۔

نکتہ11: ''غیر مسلم باشندگانِ مملکت سے حدودِ شریعہ کے اندر معاہدات کئے گئے ہوں، ان کی پابندی لازمی ہو گی او رجن حقوقِ شہری کا ذکر نکتہ نمبر ۷ میں کیا گیا ہے، ان میں غیر مسلم باشندگانِ ملک اور مسلم باشندگانِ ملک سب برابر کے شریک ہوں گے۔''

نکتہ12:''رئیس مملکت کا مسلمان اور مرد ضروری ہے جس کے تدین، صلاحیت اور اصابت رائے پر جمہوری ان کے منتخب نمائندوں کو اعتماد ہو۔''

دستور میں رئیس مملکت کی بجائے رئیس حکومت کو حکومت کے انتظام و انصرام کا اختیار ہے او راس میں نیابت، اصابت اور اقتدار کے لئے وہ تمام اہلیت جو کہ آرٹیکل ۶۲میں درج ہے، موجود ہونا ضروری ہے:

٭''آرٹیکل۶۲: مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ)کے ارکان کی رکنیت کے لیے اہلیت:کوئی بھی شخص مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ)کا رکن منتخب ہونے یاچنے جانے کا اہل نہیں ہو سکتا، اگر:

الف)وہ پاکستان کا شہری نہ ہو۔

ب)وہ قومی اسمبلی کی صورت میں پچیس سال سے کم عمر کا ہو اور انتخابی فہرست میں ووٹر کی حیثیت سے درج ہے۔

(iپاکستان بھر میں کسی عام نشست کے لیے یا کسی مخصوص غیر مسلم نشست کے لیے۔

(iiصوبہ کی کوئی بھی جگہ جہاں سے وہ نشست حاصل کرتی ہے جو خواتین کے لیے مخصوص ہو۔

ج) سینٹ کی رکنیت کے لیے اس کی عمر۳۰سال سے کم نہ ہو اور صوبہ میں کسی جگہ اس کی (اس کا نام)انتخابی فہرست میں درج ہو یا جیسی بھی صورتِ حال ہو کہ وہ وفاق کے تحت قبائلی علاقہ جات سے متعلق ہو، جہاں سے بھی وہ نشست حاصل کرتا ہے۔

د) وہ اچھے کردار اور چال چلن کا حامل ہو اور اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی کا مرتکب نہ ہو۔

ر) وہ اسلامی تعلیمات سے اچھی طرح واقف اور آگاہ ہو اور ان پر عمل کرنے کے فرائض کو قبول کرتا ہو اور سمجھتا ہو جیسا کہ اسلام نے بیان کیا ہے اور کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرتا اور بچتا ہو۔

س)وہ زیرک اور دانش مند ہو، راست باز ہو اور اوباش؍ عیاش نہ ہو اور دیانت دارو اَمین ہو۔

ش)وہ کسی بد اخلاقی کے جرم میں سزا یافتہ نہ ہو یا کسی کے خلاف جھوٹی گواہی کا مرتکب نہ ہو۔

ص)پاکستان کی تخلیق کے بعد پاکستان کی سا لمیت کے خلاف اور پاکستان کی حقیقی وجہ تخلیق کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ نہ لیا ہو۔

مگر شرط یہ ہے کہ پیرا 'د' اور 'ر'میں مصرحہ نا اہلیتوں کا کسی ایسے شخص پر اطلاق نہیں ہو گا جو غیر مسلم ہو لیکن ایسے شخص کا اچھی شہرت کا حامل ہونا ضروری ہے اور

ض)وہ ایسی دیگر خصوصیات اور اہلیتوں کا حامل ہو جو مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ)کے ایکٹ کے ذریعہ مقرر کی گئی ہوں۔''

نکتہ13:''رئیس مملکت ہی نظم مملکت کا اصل ذمہ دار ہو گا۔ البتہ وہ اپنے اختیارات کا کوئی جز کسی فرد یا جماعت کو تفویض کر سکتا ہے۔''

نکتہ14:''رئیس مملکت کی حکومت مستبدانہ نہیں، بلکہ شورائی ہو گی۔ یعنی وہ ارکانِ حکومت اور منتخب نمائندگانِ جمہور سے مشورہ لے کر اپنے فرائض انجام دے گا۔''

نکتہ15 :''رئیس مملکت کو یہ حق حاصل نہ ہو کا کہ وہ ستور کو کلا ً یا جزواً معطل کر کے شوریٰ کے بغیر حکومت کرنے لگے۔''

نکتہ16:''جو جماعت رئیسِ مملکت کے انتخاب کی مجاز ہو گی، وہ کثرت آرا سے اُسے معزول کرنے کی بھی مجاز ہو گی۔''

تبصرہ: نکتہ نمبر ۱۵ کے لئے یہ درج کرنا کافی ہو گا کہ آرٹیکل ۵۸ b بی میں مناسب تبدیلی پر مشتمل ۱۸ ویں ترمیم ان دنوں اسمبلی اور سینٹ سے پاس ہوچکی ہے۔ دستور کو معطل کرنے کا اختیار بھی جمہوری اُصول پر مبنی ہے۔

نکتہ17 :''رئیس مملکت شہری حقوق میں عامتہ المسلمین کے برابر ہو گا او رقانونی مؤاخذہ سے بالا تر نہ ہو گا۔

تبصرہ: دستورِ پاکستان کے آرٹیکل ۲۴۸ جو صدر وگورنر کو عدالتی باز پرس سے استثنیٰ عطا کرتا ہے، کی جو تشریح NROکیس میں سپریم کورٹ نے کی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رئیس مملکت مؤاخذہ سے بالا تر نہیں۔ مزید وضاحت سپریم کورٹ سے متوقع ہے۔

نکتہ18 :''ارکان وعمالِ حکومت اور عام شہریوں کے لئے ایک ہی قانون وضابطہ ہو گا اور اس کودونوں پر عام عدالتیں ہی نافذ کریں گی۔''

تبصرہ: ارکان و عمالِ حکومت اور عام شہریوں کے لئے شہری حقوق کے سلسلہ میں قانون اور ضابطہ ایک ہی ہے۔ فرق صرف ان کے نفاذ کا ہے جس کے لئے معیاری نگرانی اور اعلیٰ طرز حکومت Good Governance،صحیح نفاذ کی ضرورت ہے۔

نکتہ19:''محکمہ عدلیہ، محکمہ انتظامیہ سے علیحدہ اور آزاد ہو گا تاکہ عدلیہ اپنے فرائض کی انجام دہی اور ہیئت ِانتظامیہ سے اثر پذیر نہ ہو۔

تبصرہ: عدلیہ کی آزادی اور قوانین کے تحفظ کا سول سوسائٹی،وکلا اور اب عدلیہ نے خود اہتمام کیا ہوا ہے۔

نکتہ20:''ایسے افکار و نظریات کی تبلیغ واشاعت ممنوع ہو گی جو مملکت ِاسلامی کے اساسی اُصول و مبادی کے انہدام کا باعث ہوں۔''

دستور کے آرٹیکل۱۹،۳۱،۳۵ اور ۳۷ کے علاوہ آرٹیکل۶۲ کی ذیلی دفعہ 'ص'، آرٹیکل۶۳ کی ذیلی دفعہ۱ 'ز'، اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعات ۲۹۵سی،۲۸۹،۲۹۸الف،ب،ج کافی حد تک مذکورہ بالا نکتہ کے اُمور کا احاطہ کرتی ہیں۔ اس نکتہ پر دستور کے آرٹیکل اور قوانین کا مختصر جائزہ ملاحظہ فرمائیے:

٭آرٹیکل۱۹:''اسلام کی عظمت یا پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سلامتی یا دفاع سے متعلق قانون کے ذریعے عائد کردہ مناسب پابندیوں کے تابع ہر شہری کو تقریر اور اظہارِ خیال کی آزادی کا حق ہو گا۔''

٭آرٹیکل۳۱: ''اسلامی طرزِ زندگی: aپاکستان کے مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی اسلام کے بنیادی اُصولوں اور اساسی تصورات کے مطابق مرتب کرنے کے قابل بنانے کے لیے اور اُنہیں ایسی سہولتیں مہیا کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے جن کی مدد سے قرآن پاک اور سنت کے مطابق زندگی کامفہوم سمجھ سکیں۔''

٭آرٹیکل۳۵:''مملکت شادی، خاندان، ماں او ربچے کی حفاظت کرے گی۔

وضاحت: واضح رہے کہ خاندان کا تحفظ شرعِ متین کے اُصولوں کے مطابق ہی ہوگا۔''

٭آرٹیکل۳۷:''معاشرتی انصاف کا فروغ اور معاشرتی برائیوں کا خاتمہ مملکت کے فرائض میں ہے۔'' او ریہ اس کا پیمانہ بھی شرعی اُصول ہیں۔

٭آرٹیکل۳۸: ''عوام کی معاشی اور معاشرتی فلاح و بہبود کا فروغ بھی مملکت ، اسلام کے اُصولوں کے مطابق دینے کی پابند ہے۔''

٭آرٹیکل۶۲ : ''[ص]:اس نے قیام پاکستان کے بعد ملک کی سا لمیت کے خلاف کام کیا ہو یا نظریۂ پاکستان کی مخالفت کی ہو۔'' [تو ایسا شخص مجلس شوریٰ کا رکن منتخب ہونے کا اہل نہیں ہے]

٭آرٹیکل۶۳ : ''aمجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کی رکنیت کے لیے نااہلیت کی وجوہ :

[ز] وہ کسی ایسی رائے کی تشہیر کررہا ہو یا کسی ایسے طریقے پر عمل کررہا ہو جونظریۂ پاکستان یا پاکستان کے اقتدارِ اعلیٰ، سا لمیت یا سلامتی یا اخلاقیات یا امن عامہ کے قیام یا پاکستان کی عدلیہ کی دیانتداری یا آزادی کے لیے مضر ہو یا جو پاکستان کی مسلح افواج یا عدلیہ کو بدنام کرے یااس کی تضحیک کا باعث ہو...''

٭تعزیراتِ پاکستان میں مندرجہ دفعات مختصراً درج کی جاتی ہیں:

٭دفعہ ۲۹۵سی: ''رسولِ اکرم1 کی بابت خلافِ شان الفاظ استعمال کرنا: ''جو کوئی الفاظ خواہ وہ منہ سے بولے جائیں یا لکھے جائیں یا لکھے گئے ہوں یا نظر آنے والے نمونوں سے یا کسی اِتہام، چالاکی یا کنایہ سے، بلاواسطہ مقدس پیغمبرمحمد1 کے متبرک نام کی بے حرمتی کرے تو اسے موت یا عمر قید کی سزا دی جائے گی اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔''

٭دفعہ۲۹۸ : ''مذہبی احساسات کو مجروح کرنے کی دانستہ نیت سے الفاظ وغیرہ بولنا: جو کوئی دانستہ نیت سے کسی شخص کے مذہبی احساسات کو مجروح کرنے کے لئے کوئی بات کہے یا کوئی آواز نکالے جس کو وہ شخص سن سکے یا اس شخص کے پیش نظر کوئی حرکت کرے یا کوئی شے اس کے پیش نظر رکھے، اسے دونوں قسموں میں سے کسی قسم کی قید کی سزا دی جائے گی جس کی میعاد ایک برس تک ہوسکتی ہے یا جرمانہ یا دونوں سزائیں۔

الف) معزز اشخاص کی نسبت توہین آمیز رائے زنی کرنا:جو کوئی پیغمبرپاک1 کی کسی بیوی (اُمّ المؤمنینؓ) یا ان کے ارکانِ کنبہ یا راست باز خلیفوں (خلفاے راشدین) میں سے کسی کی یا پیغمبر پاک (1) کے ساتھیوں (صحابہ کرامؓ) کی الفاظ سے، چاہے زبانی ہوں یا تحریری یا ظاہری اشاروں یا اتہام طعن زنی یا درپردہ تعریض سے بلاواسطہ بے حرمتی کرے، اسے دونوں قسموں میں سے کسی قسم کی قید کی سزا دی جائے گی جس کی میعاد تین برس تک ہوسکتی ہے یا جرمانہ یا دونوں سزائیں۔

ب) ایسے القاب، حرکات اور خطاب وغیرہ کا غلط استعمال جو مقدس مقامات یا شخصیات کے لئے مخصوص ہیں:

1. قادیانی یا لاہوری جماعت کا کوئی فرد (جو خود کو احمدی یا کسی دیگر نام سے موسوم کرتے ہیں) جو زبانی یا تحریری الفاظ سے یا ظاہری بیان سے:

(i کسی شخص کا، علاوہ یا پیغمبر محمدؐ کے مصاحب کے، بطور امیرالمؤمنین، خلیفۃ المؤمنین، خلیفۃ المسلمین، صحابی یا رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یا خطاب کرے...

(ii کسی شخص کا، علاوہ زوجہ پیغمبر حضرت محمدؐ کے ، بطور اُمّ المؤمنین کے حوالہ دے یا خطاب کرے...

(iiiکسی شخص کا، علاوہ پیغمبر حضرت محمدؐ کے رکن کنبہ کے، بطورِ اہل بیت کے حوالہ دے یا خطاب کرے یا

(iv اپنی عبادت گاہ کا بطورِ مسجد کا حوالہ دے، نام لے کر پکارے...

تو اسے دونوں اقسام میں سے کسی قسم کی ایسی مدت کی سزاے قید دی جائے گی جو تین سال تک ہوسکتی ہے او روہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔

2. قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کا کوئی شخص (جو خود کو قادیانی یا کسی دیگر نام سے موسوم کرتے ہیں)جو زبانی یا تحریری الفاظ سے یا ظاہری حرکات سے اپنے عقیدہ میں پیروی کردہ عبادت کے لیے بلانے کے لیے کسی طریقہ یا شکل کو بطورِ اذان کے حوالہ دے یا اس طرح اذان دے جس طرح مسلمان دیتے ہیں تو اسے دونوں اقسام میں سے کسی قسم کی سزاے قید دی جائے گی جس کی مدت تین سال تک ہوسکتی ہے اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔

ج) قادیانی جماعت وغیرہ کے اشخاص کا خود کو مسلمان کہنا یا اپنے عقیدہ کی تبلیغ یااشاعت کرنا: قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کا کوئی شخص (جو خود کو قادیانی یا کسی دیگر نام سے موسوم کرتا ہو) بلا واسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرتا ہو یا اپنے عقیدہ کا بطورِ اسلام کے حوالہ دیتا ہو یا موسوم کرتا ہو یا دیگران کو اپنا عقیدہ قبول کرنے کی مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائے، اسے دونوں اقسام میں سے کسی قسم کی سزاے قید دی جائے گی جس کی مدت تین سال تک ہوسکتی ہے اور سزاے جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔''

نکتہ21 :''ملک کے مختلف ولایات و اَقطاع مملکت ِواحدہ کے انتظامی اجزا متصور ہوں گے ان کی حیثیت نسلی، لسانی یا قبائلی یونٹس کی نہیں محض انتظامی علاقوں کی ہوگی جنہیں انتظامی سہولتوں کے پیش نظر مرکز کی سیادت کے تابع انتظامی اختیارات سپرد کرنا جائز ہوگا۔

تبصرہ: پارلیمانی کمیٹی برائے دستوری ترامیم ان معاملات (دستور میں صوبائی آزادی اور کنکرنٹ لسٹ) کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اس وقت ان اُمور کو اُٹھانا موزوں نہ ہے کیونکہ موجودہ حالات میں ان پر کافی پیش رفت ہوچکی ہے۔

نکتہ22:''دستور کی کوئی ایسی تعبیر معتبر نہ ہوگی جو کتاب و سنت کے خلاف ہو۔''

تبصرہ: آئین پاکستان کی رُو سے کوئی قانون خلافِ قرآن یا سنت نہیں بن سکتا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قانون کی تعبیر بھی خلافِ سنت یا احکامِ قرآن نہیں کی جاسکتی بہرحال اس نکتہ پرمزید اصرار ضروری ہے۔

نوٹ