صالح اجتماعی نظام اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک کہ افرادِ انسانی کے اخلاق واعمال میں عدل و استقامت پیدا نہ ہوجائے اور چونکہ تمام اخلاق و اعمال کا منبع و مصدر اور جڑ روح اور قلب ہیں تو حیاتِ انسانی میں انفراداً و اجتماعاً صلاحیت ِاستقامت پیدا کرنے کے لئے سب سے مقدم قلب کی اصلاح اور روح کی طہارت ہے، ورنہ انسان کا اُصولِ زندگی میں افراط وتفریط سے ملوث ہونا ناگزیر ہے بقول ؎
خشت اوّل چوں نہد معمار کج
تاثر یا مسرود ولہار کج
رسول اللہﷺ نے بھی ایک ارشاد میں اس حقیقت کو واضح کیاکہ «ألا إن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد کله وإذا فسدت فسد الجسد کله»
''یاد رکھو کہ جسم میں ایک ٹکڑا (لوتھڑا) ہے، اگر وہ درست ہوجائے تو تمام جسم درست ہوجاتا ہے اور اگر وہ خراب ہوجائے تو تمام جسم خراب ہوجاتا ہے۔'' (صحیح بخاری:۵۲)
عبادتِ الٰہی کا مقصد
قرآن حکیم نے بھی عبادت الٰہی پر اسی لئے زور دیا ہے اور ذکر الٰہی کی جابجا تلقین کی ہے کہ اس سے انسان کے دل کی اصلاح اور روح کی طہارت حاصل ہوتی ہے جس سے انسان کے نظامِ زندگی میں پوری پوری استقامت پیدا ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يـٰأَيُّهَا النّاسُ اعبُدوا رَبَّكُمُ الَّذى خَلَقَكُم وَالَّذينَ مِن قَبلِكُم لَعَلَّكُم تَتَّقونَ ﴿٢١﴾... سورة البقرة
''اے لوگو! اپنے پروردگار کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے تمام لوگوں کو پیدا فرمایا ہے تاکہ تم متقی اور پرہیزگار بن جاؤ۔''
اصلاح و تربیت کا فطری طریقہ
گویا قرآن نے انسان کی اصلاح و تربیت کا فطری اور سہل طریقہ یہ بتایا ہے کہ عبادتِ الٰہی میں مشغول رہے، اگر اس سے اعراض کرلے گا تو انسان کی اصلاح و تربیت مشکل ہی نہیں بلکہ محال ہے اور اس کا زندگی کی بے اعتدالیوں میں گرفتار ہوجانا لازمی ہے جیسے کہ فرمایا:﴿وَمَن يَعشُ عَن ذِكرِ الرَّحمـٰنِ نُقَيِّض لَهُ شَيطـٰنًا فَهُوَ لَهُ قَرينٌ ﴿٣٦﴾... سورة الزخرف''یعنی جو شخص ذکر ِرحمن سے جی چراتا ہے، ہم اس پر شیطان کو مسلط کردیتے ہیں،پھر وہی شیطان اس کا ہم نشین اور مشیر ہوتا ہے۔'' اس سے بھی زیادہ واضح الفاظ میں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَأَنَّ هـٰذا صِر‌ٰطى مُستَقيمًا فَاتَّبِعوهُ وَلا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُم عَن سَبيلِهِ ...﴿١٥٣﴾... سورة الانعام
''یہ میرا(بتلایا ہوا) راستہ سیدھا (جو زندگی کا صحیح نصب العین اور دستور العمل ہے، اس پر چل کر انسان کامیابی کے ساتھ مقصود تک پہنچ سکتا ہے) تو اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر (جو تمہارے خود ساختہ ہیں) مت چلو ورنہ سیدھی راہ سے بھٹک جاؤ گے۔''
اگرچہ قرآن یہ واضح کرتا ہے کہ عبادتِ الٰہی کے علاوہ اصلاح و تربیت کے جتنے بھی خود ساختہ نظام ہیں وہ صعب الحصول ہونے کے ساتھ ساتھ انسان کی گمراہی کا سبب بھی بنتے ہیں۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿فَوَيلٌ لِلقـٰسِيَةِ قُلوبُهُم مِن ذِكرِ اللَّهِ أُولـٰئِكَ فى ضَلـٰلٍ مُبينٍ ﴿٢٢﴾... سورة الزمر
''پس افسوس اور حسرت ان د لوں پر جو ذکر الٰہی کی طرف سے بالکل سخت ہوگئے ہیں اور یہی لوگ ہیں جو کھلم کھلا گمراہی میں مبتلا ہیں۔''
چونکہ عبادت سے مقصود انسان کی اصلاح و تربیت ہے، اس لئے شریعت ِحقہ نے اس کی حدود متعین کرکے توسط و اعتدال کا حکم دیا ہے اور اس میں اس درجہ غلواور افراط سے بھی شدت کے ساتھ منع فرما دیا جو انسان کو ادائیگی حقوق یا معاشرتی زندگی میں محض ایک عضو معطل بنا چھوڑے اور اس درجہ تفریط پر بھی ملامت کی جس سے عبادت کا مقصود ہی فوت ہوجائے بلکہ اس پر سخت وعید فرمائی۔
اسلام اور دیگر مذاہب کے نظریۂ عبادت میں تفاوت
قبل از ظہورِ اسلام بت پرستوں سے لے کر اہل کتاب تک لوگوں کے دلوں میں یہ عقیدہ راسخ ہوچکا تھا کہ تکلیف و تعذیب ِجسم بھی ایک قسم کی عبادت ہے اور اس سے ذاتِ الٰہی کا تقرب اور رضا حاصل ہوتی ہے۔ اس تخیل کا اثر ہے کہ چند جوگیوں نے ریاضاتِ شاقہ اور عجیب وغریب ورزشِ جسمانی کی بنیاد ڈالی جس میں سالہا سال تک کھڑے رہنا، شدید دھوپ میں قیام کرنا، گرمی کے دنوں میں آگ کے شعلوں کے دائرہ میںبیٹھنا، سالہا سال تک ایک نشست میں قائم رہنا، ایک ایک چلہ تک ترکِ اکل و شرب کرنا وغیرہ تقرب الی اللہ کے حقیقی راستے سمجھے گئے۔ آج کل جین اور بدھ مت اسی تخیل کی یادگار ہیں جو ناک، کان، منہ کو بند رکھتے ہیں کہ کسی کیڑے کو اذیت نہ ہو اور جس کے بھکشو جنگلوں اور پہاڑوں میں رہتے اور گھاس،درختوں کے پتوں اور بھیک کے ٹکڑوں پر گزر کرتے تھے۔ ایسے ہی نصرانی راہبوں نے رہبانیت کی بنیاد ڈالی جس کی رو سے تجرد کی زندگی اور آسائش و لذائذ ِجسمانی کا ترک کرنا ان کی مرغوب عبادت تھی۔ خاص خاص قسم کی تکلیف دہ ریاضوں میں مشغول رہنا کئی کئی روز تک خورد و نوش ترک کرنا ان کا انتہائی زہد و تقویٰ تھا اور اس سے پہلے یہود بھی مختلف ریاضاتِ شاقہ میں صحرا نوردی کرچکے تھے۔ قرآنِ مجید نے اپنے ظہور کے ساتھ مقصودِ عبادت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ان سب خود ساختہ طریقوں کی تردید کی اور فرمایا کہ عبادت سے مقصود انسان کی اصلاح و تربیت ہے نہ کہ تعذیب ِجسم۔ اور دین الٰہی کی بنیادیسر پر ہے نہ کہ عسر پر۔ ﴿يُريدُ اللَّهُ بِكُمُ اليُسرَ وَلا يُريدُ بِكُمُ العُسرَ...﴿١٨٥﴾... سورة البقرة''یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے اور تم کو مشقت میں ڈالنانہیں چاہتا۔'' نیز فرمایا کہ ان مبتدع طرقِ عبادت کا فطرت سے دور کا بھی لگاؤ نہیں۔﴿وَرَهبانِيَّةً ابتَدَعوها ما كَتَبنـٰها عَلَيهِم... ﴿٢٧﴾... سورة الحديد''یہ رہبانیت جس کو انہوں نے اختراع کیا ہے، ہم نے اس کے متعلق انہیں کوئی حکم نہیں دیا۔'' بلکہ بعثت ِرسولؐ کا مقصد و منشا یہی بتلایا کہ دین میں ہر قسم کی سختیوں کو جن کا انہوں نے التزام کررکھا تھا بیک قلم منسوخ کردے، فرمایا:
﴿يَأمُرُهُم بِالمَعروفِ وَيَنهىٰهُم عَنِ المُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبـٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيهِمُ الخَبـٰئِثَ وَيَضَعُ عَنهُم إِصرَهُم وَالأَغلـٰلَ الَّتى كانَت عَلَيهِم ...﴿١٥٧﴾... سورة الاعراف
''وہ رسولؐ ان یہود و نصاری کو نیکیوں کا حکم کرتا اور برائیوں سے روکتا ہے۔ طیبات (پسندیدہ چیزیں) ان کے لئے حلال کرتا ہے اور اشیائِ خبیثہ کو حرام ٹھہراتا ہے اور ان کی گردن سے (شدید احکام کی) طوق و زنجیر کوجو ان کے گلے میں پڑے ہوئے تھے، علیحدہ کرتا ہے اور ان پھندوں سے نکالتا ہے جن میں وہ (صدیوں سے) گرفتار تھے۔'' (الاعراف:۱۵۷)
الغرض اسلام کا مقصد انسان کو مذہبی اعمال کا مکلف بنانے سے دیگر مذاہب کی طرح تکلیف و تعذیب میں مبتلاکرنا نہیں،بلکہ اصلاحِ قلوب و تزکیۂ نفس ہے جو انسان کی صالح تمدنی و معاشرتی زندگی کے لئے ناگزیر ہے۔ جب مذہبی عبادات کا منشا یہ ہے تو موجودہ جدید تمدن و نئی تہذیب کے علم بردار مسلمانوں پر بہت افسوس ہے کہ جواسلامی عبادات کا یہ کہہ کر مضحکہ اُڑاتے ہیں کہ یہ فضول حرکتیں اور لاحاصل قید ومشقت ہے۔
فتنہ کی انتہا
بلکہ بعض گریجویٹ نوجوان توکھلے الفاظ میں یہ کہتے ہیں کہ روزہ عرب جاہلیت کے فقروفاقہ کی ایک وحشیانہ یادگار ہے جو یا تو اس لئے قائم کی گئی تھی کہ غذا میسر نہیں آتی تھی یا من جملہ ان غلط فہمیوں کے، ایک توہم پرستی تھی جو اہل مذاہب میں ابتدا سے پھیلی ہوئی ہیں اور انہوں نے ترکِ لذائذ و تعذیب ِنفس کو وسیلہ نجات سمجھ لیا ہے اور یہ کہ موجودہ متمدن زندگی نے دن میں پانچ مرتبہ کم از کم کھانے کا حکم دیا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ انسان ایک مہینہ تک کے لئے بالکل غذا ترک کردے۔ "وغیر ذلك من الخرافات قاتلهم اﷲ أنی یؤفکون نعوذ باﷲ من هذه الاعتقادات للزنادقة" ''اللہ انہیں غارت کرے وہ کہاں بھٹکے جارہے ہیں اور للہ تعالیٰ ہمیں ایسے زندیقانہ اعتقادات سے محفوظ رکھے۔''
دراصل اس قسم کے اعتراضات دشمنانِ اسلام کی سوقیانہ افترا پردازیاں ہیں جن کو ہمارے نوجوانوں نے قبول کرکے اپنی شکست خوردہ ذہنیت کا ثبوت دیا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ نہیںہے بلکہ اس گمراہی کا سبب فرضیت ِروزہ کی تاریخ سے عدمِ واقفیت اور اس کے حکم ومصالح سے غفلت کیشی ہے۔ روزہ اس حالت میںفرض ہوا تھا جب مسلمانوں کو ہر طرف سے مالِ غنیمت ہاتھ لگنا شروع ہوگیا تھا اور ہر قسم کے طرب و نشاط کے اسباب مہیاتھے۔پھر اس کو فاقہ کشی کی رسم کی یادگار کہنا تاریخی حقیقت سے چشم پوشی کے سوا کچھ نہیں ہے۔
روزہ صحت بخش عبادت ہے!
باقی رہا متمدن زندگی تو دن بھر میںپانچ مرتبہ چرنے کو متمدن زندگی کہنا ع 'برعکس نام نہند زندگی کافور'کا مصداق ہے۔دیکھئے: "قال بعض أطباء الأفرنگ أن صیام شھر واحد في السنۃ یذھب بالتفضلات المیتۃ في البدن مدۃ سنۃ" (تفسیر المنار) یعنی ''بعض انگریز ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ سال بھر میں ایک ماہ روزہ رکھناجسم کے سال بھر کے ردّی فضلات کا خاتمہ کردیتا ہے۔'' شارع علیہ السلام نے بھی اسی لئے روزہ کو موجب ِصحت کہا ہے، فرمایا: "اغزوا تغتنموا صوموا تصحوا سافروا تستغنوا" (رواہ الطبرانی فی الاوسط) یعنی ''جہاد کرو تو غنیمتیں حاصل ہوں، روزہ رکھو تو تندرست رہو اور سفر کرو تو تونگری حاصل ہو۔'' ایک دوسری حدیث حضرت ابوہریرہؓ سے بھی مروی ہے جو اسی کی مؤید ہے فرمایا: صوموا تصحّوا (رواہ ابونعیم فی ا لطیب) یعنی ''روزہ رکھو تو تندرست رہو گے۔'' لہٰذا معلوم ہوا کہ روزہ نہ تو وحشیانہ رسم کی یادگار ہی ہے اور نہ ہی متمدن زندگی کے خلاف بلکہ اُصولِ صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر انسان کے لئے روزہ رکھنا ضروری ہے۔
صیامِ رمضان
اسلام میں عبادت کے پانچ اہم شعبے ہیں جن کو شریعت ِحقہ کی اصطلاح میں (ارکانِ خمسہ) کے نام سے یاد کیا جاتاہے۔ ان ارکانِ خمسہ کے بارعایت شروط ادا کرنے سے اصلاحِ قلب اور تزکیۂ نفس ہوتا ہے اور ہر ایک عبادت اغراض و مقاصد پر مشتمل ہے۔یہاں ہمیں صرف روزہ کے متعلق عرض کرنا ہے کہ ہر مسلمان اسے پورے ضابطہ اور پابندی سے ادا کرے تاکہ اس کی طبع پر اس کے فوائد مرتب ہوں۔ روزہ ایک ایسی رسم عبادت ہے جو دنیا کے تمام مذاہب ِحقہ اورباطلہ میں مروّج ہے۔ قرآن نے بھی روزہ کی فرضیت بیان کرتے ہوئے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے، فرمایا:
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا كُتِبَ عَلَيكُمُ الصِّيامُ كَما كُتِبَ عَلَى الَّذينَ مِن قَبلِكُم لَعَلَّكُم تَتَّقونَ ﴿١٨٣﴾... سورة البقرة
''مسلمانو! تم پر روزے اسی طرح فرض کئے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلی اُمتوں اور قوموں پر لکھے گئے تھے، تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔''
﴿عَلَى الَّذينَ مِن قَبلِكُم﴾کو قرآن نے مبہم بیان کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فریضہ کسی خاص گروہ پرعائد نہیں تھا، بلکہ سب امتوں پر تھا۔
روزہ کے لغوی اور اصطلاحی معانی
'روزہ' کے لغوی معنی رکے رہنے کے ہیں اور اصطلاحِ شریعت میں 'وقت ِمخصوص میں اشیاءِ مخصوصہ سے رکے رہنے' کو روزہ کہا جاتا ہے۔ اس کی فرضیت کتاب و سنت اور اجماع سے ثابت ہے۔ قرآن پاک میں ہے:﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا كُتِبَ عَلَيكُمُ الصِّيامُ﴾ یعنی ''ایمان والو! تم پر روزے فرض کردیے گئے ہیں۔'' (البقرۃ:۱۸۳) نیز حدیث شریف میں ہے کہ ایک آدمی حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا کہ مجھ پر کتنے روزے فرض ہیں تو آپؐنے فرمایا:ماہِ رمضان کے۔'' اور اس فرضیت پرپوری اُمت کا اجماع ہے۔
روزہ کا فلسفہ
قرآنِ حکیم نے دوسری عبادات کی طرح روزہ کا مقصد بھی یہی بیان فرمایا ہے کہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔ تقویٰ کی حقیقت قرآن کی اصطلاح میں یہی ہے کہ نفسانی خواہشات اور جسم و روح کی تمام دنیاوی آلائشوں اور انسانی کمزوریوں سے انسان محفوظ رہے۔ روزہ میں تقلیلِ غذا کے سبب انسان کے قواے شہویہ اور غضبیہ کمزور ہوتے ہیں جو تمام شرور و رذائل کا منبع ہیں جیساکہ اقبالؒ نے فرمایاہے :
روزہ برجوع و عطش شبخون زند
خیبر تن پروری را بشکند
نظامِ معیشت اور روزہ
نیز روزہ میں اُمت کو نظا مِ معیشت کی بھی تعلیم دی گئی ہے کہ مسلمان امیر و غریب ایک ہی وقت میںکھاتے پیتے ہیں۔ روزہ کا مزید مقصد عطاے ہدایت کاشکریہ اور یاد آوری نزولِ قرآن ہے:﴿وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلىٰ ما هَدىٰكُم وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ ﴿١٨٥﴾... سورة البقرة
''تاکہ تم اس عطائِ ہدایت پر اللہ تعالیٰ کی تکبیر و تقدیس کرو اور تاکہ تم اس نزولِ خیروبرکت پر خدا کا شکریہ بجا لاؤ۔''
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ قرآن مجید کا نزول ماہِ رمضان میں ہوا ہے، جیساکہ فرمایا:﴿شَهرُ رَمَضانَ الَّذى أُنزِلَ فيهِ القُرءانُ هُدًى لِلنّاسِ وَبَيِّنـٰتٍ مِنَ الهُدىٰ وَالفُرقانِ﴾(ایضاً) ''یہ رمضان کا مہینہ ہے جس میں نزولِ قرآن (کا آغاز) ہوا، وہ انسانوں کے لئے رہنما ہے، ہدایت کی روشن صداقتیں رکھتا ہے اور حق کو باطل سے الگ کردینے والا ہے۔'' اور یہ اُمت ِمسلمہ پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان تھا کہ ان کی رہنمائی کے لئے کتاب عنایت فرمائی۔ اس عطاے ہدایت کا شکریہ بجا لانے اور نزولِ قرآن کی یاد آوری اور تذکیر کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس ماہ کا روزہ فرض کردیا۔
روزہ اُسوۂ محمدیؐ کی یاد ہے!
اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ اپنے قدوسیوں اورمحبوبوں کے کسی فعل کو ضائع نہیںکرتا اور اسے مثل ایک مظہر فطرت کے دنیا میں ہمیشہ کے لئے محفوظ کردیتا ہے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے خانۂ کعبہ کی دیواریں چنیں اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اس قربان گاہ کا طواف کیا، اللہ تعالیٰ کو اپنے دوستوں کی یہ ادائیں کچھ ایسی بھا گئیں کہ اس موقع کی ہر حرکت کو ہمیشہ کے لئے قائم رکھنے کے لئے پیروانِ دین حنیفی پر اس یادگار کا منانا فرض کردیا۔ حج کا موسم آتا ہے تو لاکھوں انسانوں کے اندر اُسوۂ خلیل ؑ جلوہ نما ہوتا ہے۔ ان میں سے ہر آدمی وہ سب کچھ کرتا ہے جو اب سے کئی ہزار سال قبل اللہ تعالیٰ کے دوستوں نے کیا تھا۔ یہی معنی ہیں اس آیت ِقرآنی کے:﴿وَوَهَبنا لَهُم مِن رَحمَتِنا وَجَعَلنا لَهُم لِسانَ صِدقٍ عَلِيًّا ﴿٥٠﴾... سورة مريم''ہم نے حضرت ابراہیم ؑ اور اس کی ذرّیت کو اپنی رحمت سے نوازا، وہ اس طرح کہ اس کا اعلیٰ و اشرف ذکر ِخیر دنیا میں باقی رکھا۔'' جب التجاے خلیل ؑ حضرت محمدﷺ پر قرآنِ پاک نازل ہوا تو آپؐ غارِحرا میں معتکف تھے جو بھوکے پیاسے تمام دنیا کی آلائشوں سے کنارہ کش تھے تو جس طرح اُسوۂ ابراہیمی ؑ کی یادگارحج فرض کرکے قائم رکھی گئی، اسی طرح اُسوۂ محمدیؐ کی بھی یادگار ہے جو ماہِ رمضان کی صورت میں قائم رکھی گئی جو چودہ سو سال گزر جانے کے بعد بھی زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گی۔
آغازِ فرضیت ِصیام اور اس کے وقت کی تحدید
روزہ ۲ ہجری میں فرض ہوا جو اسلامی فتوحات اور خیرسالی کے آغاز کا زمانہ تھا۔ اسلام سے پہلے بعض اُمتوں پر مسلسل روز ہ کا حکم تھا اور یہود میں شب و روز کا روزہ تھا، صرف افطار کے وقت شام کو کھاتے تھے اور رات کو سو جانے کے بعد پھر کھانا حرام تھا۔آغازِاسلام میں بھی یہی حکم تھا۔بخاری میں ہے کہ:«کان أصحاب محمد! إذا کان الرجل صائما فحضر الافطار فنام قبل أن یفطر لم یأکل لیله ولا یومه حتی یمسي»
''یعنی صحابہ ابتدائِ اسلام میں جب روزہ رکھتے اور افطار کا وقت آجاتا اور وہ افطار کرنے سے پہلے سوجاتے تو پھر رات بھر اور دن بھر دوسرے دن کی شام تک کچھ نہ کھاتے۔'' (بخاری: ۱۹۱۵)
اسلام نے بعض حالات کو دیکھ کر روزہ کے متعلق آیاتِ تخفیف نازل فرما دیں جن میںروزہ کے وقت کو طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک معین کردیا اور رات کو سو کر اُٹھنے کے بعد کھانے پینے کی اجازت دے دی گئی۔ صرف اجازت ہی نہیں بلکہ اس وقت کھانے پینے کو موجب برکت کہہ کر ترغیب دلائی اور مجامعت کی بھی باسثتناے وقت ِصوم عام اجازت دے دی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿أُحِلَّ لَكُم لَيلَةَ الصِّيامِ الرَّفَثُ إِلىٰ نِسائِكُم هُنَّ لِباسٌ لَكُم وَأَنتُم لِباسٌ لَهُنَّ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُم كُنتُم تَختانونَ أَنفُسَكُم فَتابَ عَلَيكُم وَعَفا عَنكُم فَالـٔـٰنَ بـٰشِروهُنَّ وَابتَغوا ما كَتَبَ اللَّهُ لَكُم وَكُلوا وَاشرَبوا حَتّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الخَيطُ الأَبيَضُ مِنَ الخَيطِ الأَسوَدِ مِنَ الفَجرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيامَ إِلَى الَّيلِ ...﴿١٨٧﴾... سورة البقرة
''تمہارے لئے روزہ کی شب میں اپنی بیویوں سے مقاربت حلال کی گئی۔ تمہارا ان کا ہمیشہ کا ساتھ ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ تم اس معاملہ میں خیانت کرتے تھے ۔پس اس نے تم کو معاف کیا اب تم (بغیر کسی اندیشہ کے) اپنی بیویوں سے خلوت کرو اورجو کچھ تمہارے لئے (ازدواجی زندگی میں) اللہ تعالیٰ نے ٹھہرا دیا ہے، اس کے خواہشمند رہو اور (اسی طرح رات کے وقت کھانے پینے کی بھی کوئی ممانعت نہیں)۔ شوق سے کھاؤ پیئو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری رات کی کالی دھاری سے نمایاں ہوجائے (یعنی صبح کی پہلی نمود شروع ہوجائے)۔ پھر اس وقت سے لے کر رات (شروع ہونے) تک روزہ کا وقت پورا کرنا چاہئے۔'' (البقرۃ:۱۸۷)
ماہ ِرمضان اورروزہ کی فضیلت
حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب رمضان کامہینہ آتا ہے تو نیکیوں کے بہشتی دروازے کھل جاتے ہیں۔ برائیوں کے جہنمی دروازے بند ہوجاتے ہیں اور روحِ شریرہ و شیطانیہ کا عمل باطل ہوجاتا ہے۔ تو افسوس ہے ان شریر الطبع مسلمانوں پر جو خواہشوں کے غلام اور فیشن پرستیوں کے عادی ہوچکے ہیں کہ وہ اس ماہِ مقدس میں بھی شرارت سے باز نہیں آتے اور فسق وفجور میں ڈوبے رہتے ہیں اور خدا پرستی کی چند گھڑیاں اور چند لمحات بھی نہیںگزارتے:
﴿أُولـٰئِكَ الَّذينَ طَبَعَ اللَّهُ عَلىٰ قُلوبِهِم وَسَمعِهِم وَأَبصـٰرِهِم وَأُولـٰئِكَ هُمُ الغـٰفِلونَ ﴿١٠٨﴾... سورة النحل" یعنی '' یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں پر مہر لگا دی ہے اور یہ وہ ہیں جو غفلت میں گم ہوچکے ہیں۔''
دوسری حدیث میں آیا ہے کہ« من صام رمضان إیمانا واحتسابا غفرلہ ما تقدم من ذنبه»(بخاری:۳۸) یعنی ''جو شخص پورے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ طلب ِثواب کی نیت سے رکھے گا، اس کے سب پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔''
ان کے علاوہ بھی روزہ کی فضیلت بہت سی احادیث سے ثابت ہے۔
ماخوذ ٭از ماہنامہ محدث، دہلی بابت جولائی ۱۹۴۷ء
٭ مرسل ومرتب: مولانا ابراہیم خلیل ، خطیب مرکزی مسجد اہل حدیث، حجرہ شاہ مقیم