2. شریعت ِاسلامیہ میں مزاح کا حکم
مزاح سے مراد کسی سے شغل کرنا ہے۔ اس سے اس کا دل دکھانا یا ایذا دینا مقصود نہ ہو بلکہ دل خوش کرنا اور محبت کا اظہار ہو۔ اس مفہوم کی روشنی میں مزاح اور استہزا میں فرق ہے۔
مزاح کی ضرورت :انسان کا ہمیشہ ایک ہی انداز اور ایک ہی طریقہ پر چلتے رہنا بسا اوقات ملال و رنج کا باعث بنتا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرتﷺ وعظ ونصیحت کرنے میں ہمارا خیال رکھا کرتے تھے کہ ہم اکتا نہ جائیں۔ (بخاری، کتاب العلم؛ ۶۸)
عبداللہ بن عمروؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرتﷺ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا:
''مجھے پتہ چلا ہے کہ تم ساری ساری رات قیام کرتے اور دن کو روزے رکھتے ہو۔ میں نے کہا: جی ہاں، تو آپﷺنے فرمایا: ''یوں نہ کیا کرو۔ رات کو قیام بھی کیا کرو اور آرام بھی۔ کبھی روزے رکھ لیا کرو اور کبھی چھوڑ دیا کرو۔ تمہارے جسم کا تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھ کا بھی تم پرحق ہے۔''(بخاری:کتاب الادب،باب حق الضیف؛۶۱۳۴/صحیح مسلم،کتاب الصیام)
اس حدیث کی تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان پر اس کے جسم، اولاد اور دوستوں وغیرہ کے حقوق ہیں۔ انسان کو اپنی زندگی کے معمولات میں معتدل ہونا چاہئے ۔ دل کو خوش رکھنا بھی از حد ضروری ہے۔ ہر وقت ایک ہی انداز پر رہنا انسان کے لئے ناممکن اور مشکل ہوتا ہے۔
حضرت حنظلہ اُسیدیؓ ایک دفعہ آنحضرتﷺ کی خدمت ِاقدس میں آئے اور کہا:
''یارسول اللہﷺ! ہم آپﷺکی خدمت میں آتے ہیں۔ آپﷺ ہمیں جنت اور دوزخ کے متعلق بیان فرماتے ہیں تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ ہم اپنی آنکھوں سے جہنم اور جنت کو دیکھ رہے ہیں۔ لیکن آپﷺکی مجلس سے جانے کے بعد جب ہم اپنی بیویوں، اولاد اور دیگر مصروفیات میں مشغول ہوتے ہیں تو اکثر باتیں ذہن سے نکل جاتی ہیں اور ہمیں بھول جاتی ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
''اس اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، میرے پاس تمہاری جو حالت ہوتی ہے اگر ہر وقت تمہاری وہی کیفیت رہے اور تم اللہ کے ذکر میں مصروف رہو تو اللہ کے فرشتے تمہارے بستروں پر اور راستوں میں تم سے مصافحے کریں۔ لیکن حنظلہ یہ وقت وقت کی بات ہوتی ہے۔(یہ آپﷺ نے تین بار فرمایا)'' ( صحیح مسلم، کتاب التوبہ؛نمبر۶۹۰)
بعض اہل علم نے بیان کیا ہے کہ جس طرح انسان کا جسم تھک جاتا ہے، اسی طرح دل بھی تھکاوٹ اور اکتاہٹ محسوس کرتا ہے۔ اس لئے صحیح اور جائز مزاح کے ذریعے دوسروں کے دل کو خوشی پہنچائی جاتی ہے۔ اس سے آپس کے مخلصانہ اور محبانہ تعلقات مزید پختہ اور مضبوط ہوتے ہیں نیز اس سے خوشی اور محبت کی تجدید ہوتی ہے۔
مزاح کرنا آنحضرتﷺ سے بھی ثابت ہے۔ اس کی بعض مثالیں بطورِ نمونہ ہم آئندہ ذکر کریں گے۔ اس لئے ائمہ کرام نے بیان کیا ہے کہ مزاح سے مکمل پرہیز اور اجتناب بھی سنت و سیرتِ نبویہ کے خلاف ہے حالانکہ ہمیں سنت اور سیرتِ نبویہ کی اتباع و اقتدا کا حکم دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سلسلہ میں ایک حدیث جوبایں الفاظ مروی ہیں:
أنه قال: «لا تمار أخاك ولا تمازحه»(ترمذی :۴؍۳۵۹)
یعنی آپﷺنے ارشاد فرمایا: ''تم اپنے بھائی سے شغل اور مزاح نہ کرو۔''
یہ حدیث سنداً ضعیف ہے۔اس کا ایک راوی لیث بن ابی سلیم ضعیف ہے۔ بالفرض یہ حدیث صحیح ہو بھی تو اس سے ایسا مزاح مراد ہوگا جس میں افراط یا حد سے تجاوز ہو اور آدمی ہمیشہ ایسا کرتا ہو یا فضول مزاح مراد ہوگا۔ ایسی صورتوں میں مزاح کرنا شرعاً ممنوع ہے۔
یہ بات پیش نظر رہے کہ مزاح میں ہمیشہ سچ ہونا چاہئے۔ اس میں جھوٹ کی آمیزش قطعاً نہ ہو۔ مزاح کے طور پر جھوٹ بولنے والے کے لئے شدید وعید آئی ہے اور مزاح میں جھوٹ ترک کرنے والے کے حق میں ثواب کا وعدہ کیا گیاہے۔
آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا: ''جو شخص مزاح میں جھوٹ ترک کردے، میں اس کے لئے جنت کے وسط میں ایک محل کی ضمانت دیتا ہوں۔''
بہز بن حکیم کے دادا فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہﷺکو یہ فرماتے سنا کہ
سمعت رسول اﷲ! یقول: «ویل للذي یحدث بالحدیث لیضحك به القوم فیکذب ویل له ویل له» (ترمذی:۴؍۵۵۷)''جو شخص لوگوں کو ہنسانے کی خاطر جھوٹ بولتا ہے، اس کے لئے ہلاکت ہے، تباہی ہے، بربادی ہے۔''
آنحضرتﷺ کے مزاح کی چند مثالیں
٭ حضرت صہیبؓ فرماتے ہیں کہ میں نبیﷺ کی خدمت میں آیا۔آپﷺ کے سامنے روٹی اور کھجوریں تھیں۔ آپﷺ نے مجھ سے فرمایا ''قریب آجاؤ اور کھاؤ۔''میں کھجوریں کھانے لگا۔ تو آپﷺ نے فرمایا: ''تم کھجوریں کھا رہے ہو، تمہاری تو آنکھیں دکھتی ہیں؟'' میں نے کہا: ''یارسول اللہﷺ! میں دوسری طرف سے چبا رہا ہوں۔'' یہ سن کر آپ مسکرا پڑے۔ (سنن ابن ماجہ: کتاب الطب، باب الحمیۃ)
٭ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص آنحضرتﷺکی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے کہا: ''یارسول اللہﷺ! مجھے کوئی سواری عنایت فرمائیں۔ '' نبیﷺ نے فرمایا: ''ہم تجھے اونٹنی کا بچہ دے دیں گے۔'' وہ بولا: ''میں اونٹنی کے بچے کا کیا کروں گا؟'' تونبیﷺ نے فرمایا: ''اونٹنی ہی تو اونٹ کو جنم دیتی ہے۔'' (سنن ابی داؤد:کتاب الادب، باب ماجاء فی المزاح، جامع ترمذی، کتاب البروالصلہ، باب ماجاء فی المزاح)
٭ حسن فرماتے ہیں کہ ایک بڑھیا نبیﷺ کی خدمت میں آئی، اس نے کہا: یارسول اللہﷺ! دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کریں۔'' آپﷺ نے فرمایا: ''اے امّ فلاں! جنت میں بوڑھے داخل نہیں ہوں گے۔ '' وہ روتے ہوئے واپس جانے لگی تو آپﷺ نے فرمایا: ''اسے بتاؤ کہ یہ بڑھاپے کی حالت میں جنت میں نہیں جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِنّا أَنشَأنـٰهُنَّ إِنشاءً ﴿٣٥﴾ فَجَعَلنـٰهُنَّ أَبكارًا ﴿٣٦﴾ عُرُبًا أَترابًا ﴿٣٧﴾... سورة الواقعة
''بے شک ہم ان عورتوں کونئے سرے سے پیداکریں گے اور انہیں باکرہ بنا دیں گے جو خوش اطوار اور اپنے شوہروں کی ہم عمر ہوں گی۔'' (شمائل ترمذی:۲؍۳۸)
٭ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی، جس کا نام زاہر بن حرام تھا، وہ دیہات سے نبیﷺ کے لئے تحائف اور ہدایا لایا کرتا تھا اور آنحضرتﷺ بھی اسے کچھ نہ کچھ عنایت فرمایاکرتے۔ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: ''زاہر ہمارا دیہاتی دوست ہے اور ہم اس کے شہری دوست ہیں۔'' آپﷺ کو اس سے محبت تھی۔ ایک دن آپﷺ نے اسے دیکھا وہ کچھ سامان فروخت کررہا تھا۔ آپﷺ نے اسے پیچھے سے اپنے بازوؤں میں لے لیا۔ وہ دیکھ نہ سکتا تھا کہ یہ کون ہے۔ وہ بولا، کون ہو؟ مجھے چھوڑ دو۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو آپﷺ کو پہچان لیا۔ پہچاننے کے بعد چھڑوانے کی بجائے وہ کوشش کرکے اپنی کمر نبیﷺ کے سینہ سے لگانے لگا۔ اور نبی ﷺآوازیں دینے لگے: مجھ سے اس غلام کو کون خریدے گا؟ اس نے کہا: یارسول اللہ! میری آپ کو بہت کم قیمت ملے گی تو نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: ''لیکن اللہ کے ہاں تم بڑے قیمتی ہو، تمہاری قیمت کم نہیں ہے۔'' (شرح السنہ البغوی:۳؍۱۸۱ اور شمائل ترمذی:۲؍۳۵)
٭ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہﷺ اور سودہ بنت زمعہ ؓ میرے ہاں تشریف فرما تھے۔ میں نے حریرہ (کھانا) تیار کرکے آپﷺ کی خدمت میں پیش کیا۔ اور میں نے سودہ سے کہا ''آپ بھی کھائیں'' وہ بولیں:''یہ مجھے اچھا نہیں لگتا۔'' میں بولی: ''اللہ کی قسم! تمہیں یہ کھانا ہوگا ورنہ میں اسے تمہارے چہرے پر مل دوں گی۔ ''وہ کہنے لگیں: ''میں اسے چکھوں گی بھی نہیں۔'' میں نے پیالے میں سے کچھ کھانا لے کر سودہ کے چہرے پر مل دیا۔ رسول اللہﷺ ہمارے درمیان بیٹھے تھے۔ آپ نے اپنے گھٹنے جھکا دیئے تاکہ وہ مجھ سے بدلہ لے سکے۔ اس نے بھی پیالے سے کچھ کھانا لیا اور میرے چہرے پر مل دیا۔ یہ منظر دیکھ کر رسول اللہﷺ مسکراتے رہے۔ (کتاب الفکاہہ، مسند ابی یعلی)
٭ حضرت عبداللہ بن حارثؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے عبداللہؓ، عبیداللہؓ اور کثیر بن عباسؓ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: ''جو میرے پاس پہلے آئے گا، اسے فلاں چیز دوں گا'' چنانچہ وہ گرتے پڑتے آپ کی طرف دوڑے اور آکر آپ کی پشت مبارک اور سینہ مبارک پر لوٹنے لگے اور آپ انہیں بوسے دیتے اور معانقہ کرتے تھے۔ (مسنداحمد: ۱،۲۱۴ و مجمع الزوائد: ۹؍۱۱)
٭ حضرت ابوہریرہؓ کا بیان ہے کہ نبیﷺ حضرت حسن بن علیؓ کے لئے اپنی زبان مبارک باہر نکالتے، بچہ آپ کی سرخ زبان دیکھتا تو جلدی سے ادھر متوجہ ہوتا۔ (اخلاق النبی لابی الشیخ ص۸۶، شرح السنہ از امام بغوی: ۱۳؍۱۸۰)
٭ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، صحابہ نے کہا: یارسول اللہﷺ! آپ بھی ہمارے ساتھ مزاح اور شغل کرتے ہیں؟ فرمایا! ہاں، میں سوائے حق و سچ کے کچھ نہیں کہتا۔ (جامع ترمذی، کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء فی المزاح اور الادب المفرد از بخاری)
٭ حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ میں ایک سفر میں رسول اللہﷺکے ہمراہ تھی۔ ان دنوں میں نوعمر تھی اور میرا جسم بھاری نہیں ہوا تھا۔ آپﷺنے لوگوں سے فرمایا: آگے چلو، لوگ آگے چل گئے تو آپ نے مجھ سے فرمایا: آؤ دوڑ لگائیں۔ ہم نے دوڑ لگائی تو میں آگے نکل گئی، آپ خاموش ہوگئے۔ اس کے بعد ایک اور موقعہ پر میں آپ کی ہم سفر تھی۔ میرا جسم بھاری اور بوجھل ہوچکاتھا۔ میں پہلی بات بھول چکی تھی۔ آپ نے لوگوں کو آگے جانے کا حکم دیا۔ لوگ آگے نکل گئے تو آپﷺنے فرمایا: آؤ دوڑ لگائیں۔ مقابلہ ہوا تو اس دفعہ آپﷺ آگے نکل گئے۔ آپﷺ نے ہنستے ہوئے فرمایا: یہ اس کا بدلہ ہوگیا۔ (مسنداحمد ۶؍۲۶۴/ سنن ابی داود: کتاب الجہاد، سنن ابن ما جہ، کتاب النکاح)
٭ حضرت انس بن مالکؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ کے اخلاق سب لوگوں سے عمدہ تھے۔ میرا ایک بھائی ابوعمیر چھوٹا تھا۔ جب آنحضرتﷺ تشریف لاتے تو اس سے شغل فرماتے اور کہتے: ابوعمیر! ممولے نے کیاکیا؟ (صحیح مسلم، کتاب الادب)
٭ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرتﷺ ایک سفر میںتھے۔ ایک سیاہ فام غلام، أنجشہ حدی خوانی کررہا تھا۔ آپﷺ نے اسے فرمایا: أنجشہ! ذرا خیال کرو، ہمارے ہمراہ آب گینے (خواتین) ہیں۔ (بخاری: کتاب الادب ۶۲۱۰/ صحیح مسلم :کتاب الفضائل۵۹۹۰)
٭ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے مجھے بطورِ مزاح فرمایا: ''ارے دو کان والے!'' (جامع ترمذی، شمائل ترمذی، سنن ابی داود، شرح السنہ)
٭ صحابہ کرام ایک دوسرے کی طرف ہندوانے (تربوز) پھینکا کرتے تھے۔ معلوم ہوا کہ وہ بھی انسانوں جیسے انسان ہی تھے۔ (الادب المفرد ا ز امام بخاری: ص۱۰۳)
4.تعریض اور اس کا حکم
کھلم کھلا بات کرنے کو 'تصریح'کہتے ہیں۔ اس کے برعکس بات ہو تو اسے تعریض کہا جاتاہے۔ اُوپر رسول اللہﷺکے مزاح کی جو مثالیں بیان ہوئی ہیں، شاید ان میں سے بعض کا تعلق تعریض یا توریہ سے ہو۔ بہرحال یاد رکھنا چاہئے کہ 'توریہ اور تعریض' یا بعض مخفی اغراض و مقاصد اور مزاح دوسرے کو خوش کرنے کے لئے ہی مباح ہے لیکن اگر مزاح یا تعریض سے دوسروں کو ایذا پہنچتی ہو یا کسی پر ظلم ہوتا ہو یا ا س کے ذریعہ حق کو باطل یا باطل کو حق قرار دیا جارہا ہو تو اس کی نہ صرف اجازت نہیں بلکہ حرام ہے۔ مزاح اور تعریض سے اپنے حق کا حصول یا ظالم کے ظلم سے تحفظ مقصود ہو تو اس کی اجازت ہے۔
جیسا کہ واقعہ ہجرت میں دورانِ سفر حضرت ابوبکر صدیقؓ کا کوئی واقف کار انہیں ملا، وہ رسولِ اکرمﷺکو نہیں پہنچانتا تھا۔ اس نے ابوبکرؓ سے پوچھا: من معک ھذا؟ یہ آپ کے ہمراہ کون ہیں؟ تو انہوں نے ذومعنی جواب دیا: ھذا رجل یھدینی السبیل کہ یہ شخص مجھے راستہ کی رہنمائی کرتا ہے۔ مخاطب سمجھا کہ حضرت ابوبکر جدھر جارہے ہیں، یہ اس راہ کی راہنمائی کرنے والا ہے۔ جب کہ حضرت ابوبکرؓ کی مراد کچھ اور تھی۔ ایسی ذومعنی بات کو 'تعریض یا توریہ' کہا جاتا ہے۔ شرعاً اس کی اجازت ہے۔ (مترجم)
یہ بھی ضروری ہے کہ مزاح کرنے والا اللہ کے دین کے بارے میں مزاح نہ کرے۔ بہت زیادہ مزاح سے بھی اجتناب کرنا چاہئے کیونکہ اس سے انسان کی مروّت اور وقار مجروح ہوتا ہے۔
کثرتِ مزاح کے مفاسد
1. مزاح کی کثرت انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کرتی ہے۔
2. کثرتِ مزاح کے سبب انسان دین کے اہم امور اور دین کے تفکر سے غافل ہوجاتا ہے۔
3. اس سے دل سخت ہوجاتا ہے۔
4. اس سے بغض و حسد پیدا ہوتا ہے۔
5. اس سے انسان کی سنجیدگی اور وقار کو زوال آجاتا ہے۔
6. کثرتِ مزاح کثرتِ ضحک کا سبب ہے۔ کثرتِ ضحک کے نتیجہ میں دل سخت اور اللہ کی یاد سے غافل ہوجاتا ہے۔
7. زیادہ مزاح کرنے والے کی بات پر اعتماد کرنا مشکل ہوتا ہے۔ سننے والا اس کی سنجیدگی یا مزاح میں تمیز نہیں کرسکتا۔
خلاصہ یہ کہ جب مزاح سچ پر مشتمل اور مذکورہ مفاسد سے پاک ہو تو اس کی اجازت ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم دوزخ اور اس کے عذاب اور جنت اور ا س کی نعمتوں کو ہروقت یاد رکھیں اور ان کی طرف سے غافل نہ ہوں اور ہمیں آنحضرتﷺ کا یہ فرمان ہر وقت پیش نظر رکھنا چاہئے جس میں آپﷺ نے فرمایا ہے :
«یا أمة محمد! واﷲ لو تعلمون ما أعلم لبکیتم کثیرا ولضحکتم قلیلا ألا هل بلغت»(متفق علیہ:بخاری:۲؍۵۲۹ فتح الباری،کتاب الکسوف، باب الصدقہ۱۰۱۴،و مسلم:۲؍۶۱۸)
''اے امت ِمحمدﷺاللہ کی قسم! میں جوکچھ جانتا ہوں اگر تم بھی جان لو تو تم زیادہ روؤ گے اور بہت کم ہنسو گے۔ خبردار میں دین کے احکام تم تک پہنچا چکا۔'' (جاری ہے)