اسلام ؛ دین ِامن !
اسلام امن و سلامتی کا دین ہے جو فساد اور دہشت گردی کو مٹانے آیا ہے۔ دنیا میں اس وقت جو فساد بپا ہے، اس کا علاج اسلام کے سوا کسی اور نظریے میں نہیں۔ بدقسمتی سے فسادیوں اور دہشت گردوں نے اسلام کو نشانہ بنایا ہے اور اس کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر رکھا ہے، اس مہم کا جواب ضروری ہے۔ یہ جواب فکری بھی ہونا چاہیے اور عملی بھی۔ ذیل کی سطور میں ہم بدلائل یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ 'اسلام' امن ہے اور 'کفر' فساد و دہشت گردی ہے!
'اسلام' عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ 'س ل م' ہے۔ اس کے معنی اطاعت اور سپردگی ہے۔ تاہم اس کے معنی امن و سلامتی کے بھی ہیں۔(مفردات القرآن: مادّہ س ل م ) لہٰذا مسلمان جہاں اطاعت ِالٰہی کا نمونہ ہے، وہاں امن و سلامتی کا پیکر بھی ہے۔ حضورِ اکرمؐ سے مسلمان کی تعریف کے سلسلے میں جو کچھ منقول ہے، اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے :
قرآنِ مجید نے اس مادّہ سے سَلْم اور سلام کے الفاظ امن، صلح اور آشتی کے معنوں میں استعمال کیے ہیں... مثلاً فرمایا:
﴿وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَح ْ لَهَا وَ تَوَکَّلْ عَلَی اللّٰهِ اِنَّه هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴾
''اگریہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جائو اور اللہ پر بھروسا کرو کچھ شک نہیں کہ وہ سنتا اور جانتا ہے۔'' (الانفال: ۶۱)
اور﴿فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْکُمْ وَیُلْقُوْٓا اِلَیْکُمُ السَّلَمَ وَیَکُفُّوْٓااَیْدِیَھُمْ فَخُذُوْھُمْ وَاقْتُلُوْھُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ وَاُولٰٓئِکُمْ جَعَلْنَا لَکُمْ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنًا﴾ (النسائ: ۹۱)
''ایسے لوگ اگر تمہارے ساتھ لڑنے سے کنارہ کشی نہ کریں اور نہ تمہاری طرف پیغام صلح بھیجیں اور نہ اپنے ہاتھوں کو روکیں تو پھر ان کو پکڑ لو، جہاں پائو قتل کر دو۔ان لوگوں کے مقابلے میں ہم نے تمہارے لیے سند صریح مقرر کر دی ہے۔''
اسی مفہوم کے لئے دیکھیں مزید آیات ... سورۃ محمد :۳۵ اور النسائ:۹۰
ایسے ہی قرآن نے آخرت کے گھر کو 'دارالسلام' قرار دیا ہے ۔(الانعام: ۱۲۷،یونس :۲۵)
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کو امن کا گہوارہ بنایا۔ (البقرۃ: ۱۲۵، العنکبوت: ۶۷)
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اسلام کی حکومت کو امن کی حکومت قرار دیا:
﴿وَعْدَاللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَہُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْئًا وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ﴾(النور: ۵۵)
''جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے، ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنائے گا،جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو بنایا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے مستحکم و پائیدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا۔وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں گے اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بدکردار ہیں۔''
کفر دنیا میں 'فساد' کا موجب ہے!
ان تمام آیات سے واضح ہوتا ہے کہ سلامتی و امن اسلام کا بنیادی نظریہ و عمل ہے۔ اسلام اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری اور دنیا میں امن و سلامتی کا پیغام ہے۔اسلام کے مقابلے میں کفر کو دیکھیں تو وہ اوّل تو اللہ کی معصیت ہے، دیکھیں سورۃ المزمل:۱۶،البقرۃ: ۹۳، الاحزاب: ۳۶
ثانیاً:کفر کو اللہ تعالیٰ دنیا میں فساد کی جڑ قرار دیتا ہے، چنانچہ بحروبر میں فساد پھیلنے کی وجہ قرآن کی نظر میں لوگوں کے برے اعمال ہیں۔( الروم: ۴۱) اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایسے شخص کی مذمت بھی بیان کی جس کی ظاہری بات چیت تو ہمیں دلکش معلوم ہوتی ہے، لیکن درحقیقت اس کا مقصد دنیا میں فساد وفتنہ پھیلانا ہے۔( البقرۃ: ۲۰۴، ۲۰۵)
بنی اسرائیل کے بارے میں قرآنِ کریم فرماتا ہے :
﴿مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا﴾ (المائدۃ: ۳۲)
''اس قتل کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر حکم نازل کیا کہ جو شخص کسی کو ناحق قتل کرے گا بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں فساد کرنے کی سزا دی جائے، اس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا۔ اور جو اس کی زندگی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگی کا موجب ہوا۔''
امن کو تباہ کرنا اور انسانی زندگی سے کھیلنا 'فساد' ہے۔ قرآن نے اس کی سزا تجویز کی ہے :
﴿اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ذٰلِکَ لَھُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ﴾ (المائدۃ : ۳۳)
''جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہ سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور ایک طرف کے پائوں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں۔ یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔''
قرآن جس کو فساد کہہ رہا ہے، اسے اللہ اور اس کے رسولؐ کے خلاف جنگ اور روے زمین کے امن کو تباہ کرنے کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ کیونکہ اللہ اور اس کے رسول دنیا میں امن چاہتے ہیں جبکہ کفر و انکارِ خدا 'فساد' کا متقاضی ہے۔ اس دنیا میں فساد اسلام کی وجہ سے نہیں، کفر کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ کفر اللہ اور اس کے رسول کے خلاف بھی جنگ ہے اور روے زمین کے امن کے خلاف بھی۔ قرآن میں دسیوں جگہ فساد کی مذمت کی گئی ہے۔ یہ انسانی امن و سکون کے لیے مہلک ہے اور اس میں مبتلا ہونے سے روکا گیا ہے۔
امام ابن تیمیہؒ کے نزدیک 'فساد' کا لفظ جس وقت مطلق استعمال ہوتا ہے تو اس وقت تمام برائیوںپر مشتمل ہوتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
فإذا أطلق الصلاح یتناول جمیع الخیر وکذلك الفساد یتناول جمیع الشر ... وکذلك اسم المصلح والمفسد (کتاب الایمان: ۴۴)
''صلاح کا لفظ جب مطلقاً استعمال ہوتا ہے تو تمام خیر کو شامل ہوتا ہے اور فسادکا لفظ تمام برائیوں کو۔ اسی طرح مصلح اور مفسد میں بھی تمام معانی پائے جاتے ہیں۔ ''
علامہ شوکانی ؒ فساد کی انواع بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
ومنه قتل الناس وتخریب منازلهم وقطع أشجارهم وتعزیر أنهارهم ومن الفساد الکفر باﷲ والوقوع فی معاصیه (فتح القدیر: ۲؍۲۰۳)
''فساد ہی کی قسم سے لوگوں کو قتل کرنا، ان کے گھروں کا مسمار کرنا دریائوں کو خشک کرنا نیز اللہ تعالیٰ کا انکار اور اس کی نافرمانی فساد ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔''
اسلام دین امن ... سیرتِ طیبہؐ کی روشنی میں!
اسلام امن و سلامتی کا دین ہے۔ اس کی ایک شہادت تو ابھی قرآن کی آیات میں پیش کی گئی۔ دوسری شہادت نبی کریمﷺ کی سیرت وارشادات میں بھی موجود ہے :
مکہ مکرمہ میں آپؐ تیرہ برس تک اپنے حسن بیان اور حسن عمل سے مشرکین مکہ کو اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ آپؐ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم تھا : ﴿اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ﴾ (النحل: ۱۲۵)
''اے پیغمبرؐ! لوگوں کو اپنے ربّ کی راہ کی طرف حکمت سے اور اچھے طریقے پر بلائو اور نصیحت کرو اور ان سے بحث و نزاع کرو تو ایسے طریقہ پر جو حسن و خوبی کا طریقہ ہو۔''
اس دوران تشدد آمیز کارروائیاں مشرکین کی طرف سے ہوئیں۔ آپؐ نے اور آپؐ کے ساتھیوں نے ان مخالفتوں اور ایذارسانیوں کا صبر و تحمل سے مقابلہ کیا۔ ایک مرحلہ پر آپؐ نے کہا: لکم دینکم ولي دین(الکافرون:۶) ''تمہارا دین تمہارے ساتھ اور میرے لیے میرا دین۔'' مکہ مکرمہ میں دین حق کے لیے ان کاوشوں اور مشرکین کے متشددانہ رویہ پر استقامت کو قرآن نے 'جہاد' سے تعبیر کیا ہے۔ یہ پرامن جدوجہد تھی جسے 'جہاد' کہا گیا۔ فرمایا :
﴿وَالَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْن﴾ (العنکبوت: ۶۹)
''جن لوگوں نے ہماری راہ میں جدوجہد کی ہم ان کو ضرور اپنے رستے دکھائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ تو نیکو کاروں کے ساتھ ہے۔''
اکثر مفسرین کے نزدیک یہ سورت مکی ہے اور یہاں جاھدوا کا معنی سخت محنت و کوشش ہے، یہاں 'جہاد' میدان جنگ میں لڑائی کے معنی میں استعمال نہیں ہوا۔ جُہد کے معنی انتہائی درجے کی کوشش کرنے کے ہیں، چنانچہ سورۃ حج کی مندرجہ ذیل آیت میں بھی یہی معنی مراد لیے گئے ہیں :﴿وَجَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِه﴾ (الحج: ۷۸)
''اللہ کی راہ میں پوری کوشش کرو جیساکہ کوشش کرنے کا حق ہے۔''
اس سورہ کا بڑا حصہ بھی مکی ہے اور یہ آیت خاص طور پر مکی ہے۔ سورۃ الفرقان میں بھی 'جہاد' کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے اور یہاں بھی اس سے مراد جدوجہد اور کاوش ہے۔ فرمایا:
﴿فَلاَ تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ وَجَاهِدْهُمْ بِه جِهَادًا کَبِیْرًا﴾(الفرقان : ۵۲)
''آپ کافروں کا کہا نہ مانیں اور ان کے خلاف بڑے شدومد سے جدوجہد جاری رکھو۔''
مکہ کے تیرہ برس پرامن جدوجہد کا دور ہے۔ تکالیف، اذیتیں، تحقیر و تذلیل حتیٰ کہ بعض ساتھیوں کا قتل بھی اس پرامن جدوجہد کو تصادم کی راہ پر نہ چلا سکا۔ تا آنکہ آپ اپنے ساتھیوں سمیت مکہ سے ہجرت کر گئے۔ ہجرت کے بعد بھی کفار نے تشدد آمیز رویوں کو ترک نہ کیا اور مسلمانوں پر مسلسل دبائو جاری رکھا۔ اس تشدد کے جواب میں مسلمانوں کو مناسب جواب دینے اور میدانِ جنگ میں مقابلے کی اجازت دی گئی لیکن اس میں بھی اعتدال و توازن کو برقرار رکھنے پر زور دیا گیا :
﴿وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰهَ لَایُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ﴾
''جو تم سے لڑائی کر رہے ہیں، تمہیں اللہ کی راہ میں ان سے لڑنا چاہیے مگر زیادتی نہ کرنا۔ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔''(البقرۃ: ۱۹۰)
سورۃ الحج کی آیت ۳۹ بھی قتال کی اجازت پر مبنی ہے، اس میں واضح طور پر یہ دکھائی دیتا ہے کہ کفار کی جنگی سرگرمیوں کے مقابلے میں یہ اجازت دی گئی۔ آیت کے الفاظ ہیں :
﴿اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِھِمْ لَقَدِیْرٌ الَّذِِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّآ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ وَلَوْ لَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لَّھُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیْھَا اسْمُ اللّٰہِ کَثِیْرًا وَلَیَنْصُرَنَّ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ﴾(الحج: ۳۹،۴۰)
''جن مسلمانوں سے لڑائی کی جاتی ہے، ان کو اجازت ہے کہ وہ بھی لڑیں، کیونکہ ان پر ظلم ہو رہا ہے ،اللہ یقینا ان کی مدد پر قادر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ اپنے گھروں سے اس بنا پر ناحق نکال دیئے گئے کہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے۔ اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو صومعے، گرجے، عبادت خانے اور مسجدیں جن میں اللہ کا بہت سا ذکر کیا جا رہا ہے، گرائی جا چکی ہوتیں۔ جو شخص اللہ کی مدد کرتا ہے اللہ اس کی ضرور مدد کرتا ہے۔ بے شک اللہ توانا اور غالب ہے۔''
اس مسلح تصادم میں بھی صلح اور امن و آشتی کو پیش نظر رکھا۔ اگر دشمن صلح کی راہ اختیار کرے تو مسلمانوں کوبھی اسے اختیار کرنے سے گریز نہ کرنا چاہیے۔ فرمایا:
﴿وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَح ْ لَهَا وَ تَوَکَّلْ عَلَی اللّٰهِ اِنَّه هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴾
''اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جائو اور اللہ پر بھروسا کرو کچھ شک نہیں کہ وہ سب کچھ سنتا جانتا ہے۔'' (الانفال: ۶۱)
جو غیر مسلم مسلمانوں کے خلاف جارحانہ رویہ نہیں رکھتے، ان سے حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔ فرمایا:﴿ لَا یَنْهٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْھُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَیْھِمْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ﴾(الممتحنہ: ۸)
''جن لوگوں نے تم سے دین کے لیے جنگ نہیں کی اور تم کو گھروں سے نہیں نکالا، اللہ اس سے نہیں روکتا کہ تم ان کے ساتھ احسان اور بھلائی کرو اور انصاف کے ساتھ پیش آئوکیونکہ اللہ عدل کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔''
حضورِاکرمؐ کی جنگی سرگرمیوں کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ جنگیں کفار کے جارحانہ رویوں کا جواب تھا۔ مشرکین مکہ کی جارحیت تو واضح ہے۔ جہاں تک یہودیوں اور عیسائیوں کا تعلق ہے تویہاں بھی حضورِ اکرمؐ کے اقدامات ان کی جارحانہ کارروائیوں اور سازشوں کی وجہ سے تھے۔ شام کی سرحد پر واقع علاقوں میں عیسائیوں کے جارحانہ رویوں کے جواب میں ہی ۸ ہجری میں ایک فوج بھیجی گئی۔ حضورِ اکرمؐ نے حارث بن عمیر ؓ کو دعوتِ اسلام کا خط دے کر شرحبیل بن عمر غسَّانی کے پاس بھیجا تھا۔ اس نے حارث بن عمیر ؓ کو قتل کرا دیا۔ اس ظالمانہ قتل نے آپ کو جنگ پر مجبور کر دیا۔
اس طرح آپ نے ایک فوج موتہ بھیجی۔ اس واقعہ کو ایک سال بھی نہیں گزرا تھا کہ شام میں فوجیں جمع ہونے لگیں اور مدینہ پر حملے کی خبریں پھیلنے لگیں۔ حضورِ اکرمؐ خود دفاع کے لیے نکلے ،یہی اقدام ہے جس کا ذکر سورۃ توبہ میں ہے۔ اور یہی غزوئہ تبوک کے نام سے مشہور ہے۔ حضور اکرمؐ کی سیرت قیامِ امن کی ضامن ہے۔ آپ نے فتنہ و فساد کو ختم کر کے امن کا شاندار اُسوہ چھوڑا ہے۔ آپ نے امن کا جو نظام متعارف کرایا تھا، اس کے بارے میں فرمایا :
«إن الله ناصرکم ومعطیکم حتی تسیر الظعینة فیما بین یثرب والحیرة أو أکثر ما تخاف علی مطیتها السرق» (ترمذی، ابواب التفسیر، سورۃ الفاتحہ: ۶۶۵)
''اللہ تعالیٰ تمہاری ایسی مدد کرنے والا اور عطا کرنے والا ہے کہ ایک ہودج نشین عورت مدینہ اور حیرہ کے درمیان یا اس سے بھی دور سے تنہا طویل سفر کرے گی اور اسے چوروں اور ڈاکوئوں کا کوئی خطرہ نہ ہو گا۔''
آپ نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقعہ پر فرمایا:
«فان دماء کم وأموالکم وأعراضکم علیکم حرام کحرمة یومکم هذا في بلدکم هذا وفي شهرکم هذا فأعادها مراراً» (بخاری،کتاب الحج باب الخطبہ:۲۸۰)
''بلاشبہ تمہارے خون، تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں تمہارے آپس میں اسی طرح قابل احترام ہیں، جیسے تمہارے یہ دن تمہارے اس شہر میں اس مہینے کے اندر۔ پھر آپ نے اسے بار بار دہرایا۔''
مسلم اورمؤمن کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے کسی شخص کو نقصان نہیں پہنچتا اور وہ امن کا ضامن ہوتا ہے۔ امام ترمذیؒ نے حضورِ اکرمؐ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے :
عن أبی هریرة قال: قال رسول اﷲ:«المسلم من سلم المسلمون من لسانه ویده والمؤمن من أمنه الناس علی دمائهم وأموالهم» (ترمذی،کتاب الایمان: ۶۸۶)
''ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ ہیں اور مؤمن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں مالوں کو مامون جانیں۔''
اسی سے ملتی جلتی مفہوم کی احادیث دیگرکتب حدیث میں بھی روایت ہوئی ہیں؛ دیکھیں سنن ابن ماجہ، کتاب الایمان: ۵۶۵ اور صحیح بخاری، کتاب الایمان: ۵
آنجنابؐ کے جانشینوں نے امن و سلامتی کے اس مشن کو جاری رکھا اور دنیا کو انوکھی مثالیں پیش کیں۔ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے خلافت سنبھالنے کے بعد جو خطبہ دیا، وہ اس مشن کے فروغ کی تابندہ مثال ہے۔ آپ نے کہا :
«اَیُّها النَّاسُ قَدْ وُلیْتُ عَلَیْکُمْ وَلَسَتُ بِخَیرِکُم اَنَا مُتَّبِعُ وَلَسْتُ بِمْبتَدِعٍ فَانْ اَحْسَنْتُ فَاَعِیْنُونِی وَاِنْ زُغْتُ فَقَوَّمُونِی... واِنَّ أقوٰکُم عِنْدي الضَّعِیفُ حَتَّی آخُذَ لَه بِحَقَّهِ وَاِنَّ اَضْعَفَکَم عِنْدِي القَوِیُّ حَتَیٰ آخُذَ مِنْهُ الحَقَّ إن شاء اﷲ» (ابن سعد،۳، قسم اوّل: ۱۲۹ والبدایہ والنہایہ: ۵؍۲۴۸)
''لوگو! مجھے تمہارے معاملات کا نگران بنایا گیا ہے، حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں۔ میں پیروی کرنے والا ہوں، جدت طراز نہیں ہوں۔ اگر میں ٹھیک طرح معاملات انجام دوں تو میری مدد کرو اور اگر میں بے راہ روی اختیار کروں تو مجھے سیدھا کرو... تم میں سے جو قوی ہے وہ میرے نزدیک کمزور ہے جب تک میں اس سے حق وصول نہ کر لوں اور جو تم میں سب سے کمزور ہے وہ میرے یہاں قوی ہے جب تک میں اسے اس کا حق نہ دلا دوں۔''
سیدنا عمرؓ نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں جن اہم باتوں کی وصیت فرمائی، ان میں ایک یہ بھی تھی :
«وَاُوصِیه بذِمَّة اﷲِ وَذِمَّةِ رسول اﷲ ! اَن یُوفی لَهم بِعَهْدِهم وَاَن یُقاتل من وَرَائهم وَ اَن لَا یُکَلَّفُوا فَوْقَ طاقهم» (بخاری: کتاب الجنائز، حدیث۲۲۳)
''اپنے بعد میں آنے والے خلیفہ کو میں ان غیر مسلموں کے حق میں وصیت کرتا ہوں کہ ان کے ساتھ جو معاہدہ ہے پورا کیا جائے اور ان کی جان و مال کی حفاظت کیلئے جنگ کی ضرورت پڑے تو اس سے بھی دریغ نہ کیا جائے اور ان کی طاقت سے زیادہ ان پر بوجھ نہ ڈالا جائے۔''
خلافت ِراشدہ جو حضورِ اکرمؐ کی صحیح جانشین تھی، ایسا پرامن ماحول تخلیق کرنے میں کامیاب ہوئی کہ اسے عالمی تاریخ میں مثالی حیثیت دی گئی۔ مشہور مغربی مؤرخ ڈاکٹر گستاولی بان نے خلافت ِراشدہ کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ،وہ تاریخ کی شہادت ہے۔ لکھتا ہے : ''خلفاء راشدینؓ جس ملکی خوش تدبیری کو کام میں لائے وہ ان کی سپہ گری اور اس فن حرب سے مافوق تھی جسے انہوں نے آسانی سے سیکھ لیا تھا۔ شروع ہی سے انہیں ایسی اقوام سے کام پڑا جن پر سالہا سال سے مختلف حکومتوں نے نہایت بے رحمی سے ظلم کر رکھا تھا اور اس مظلوم رعایا نے نہایت خوشی کے ساتھ ان نئے ملک گیروں کو قبول کر لیا جن کی حکومت میں اُنہیں بہت زیادہ آسائش تھی۔ مفتوح اقوام کا طریقہ عمل کیا ہونا چاہیے، نہایت اور صریح طور پر مقرر کر دیا گیا اور خلفاء اسلام نے ملکی اغراض کے مقابل میں ہرگز بزورِ شمشیر دین حق کو پھیلانے کی کوشش نہیں کی،بلکہ بعوض اس کے کہ وہ بجبر اپنے دین کی اشاعت کرتے، وہ صاف طور پر ظاہر کر دیتے تھے کہ اقوامِ مفتوحہ کے مذاہب و رسوم اور اوضاع کی پوری طرح سے حرمت کی جائے گی اور اس آزادی [وتحفظ ِجان،مال وعزت]کے معاوضے میں وہ ان سے ایک بہت خفیف سا خراج لیتے تھے جو ان مطلوبات کے مقابل میں جو ان اقوام کے پرانے حکام ان سے وصول کیا کرتے تھے، نہایت ہی کم تھا۔ '' (تمدنِ عرب ،ترجمہ بلگرامی:ص ۱۳۱)
یہی مصنف سیدنا عمرؓ کے سلوک کا تذکرہ کرتا ہے جو انہوں نے اہل بیت المقدس سے کیا:
''بیت المقدس کی فتح کے وقت حضرت عمرؓ کا اخلاق ہم پر ثابت کرتا ہے کہ ملک گیرانِ اسلام، اقوامِ مفتوحہ کے ساتھ کیا نرم سلوک کرتے تھے ، اور یہ سلوک ان مدارات کے مقابل میں جو صلیبیوں نے اس شہر کے باشندوں سے کئی صدی بعد کی، نہایت حیرت انگیز معلوم ہوتا ہے۔ اس وقت حضرت عمر ؓ نے منادی کرادی کہ میں ذمہ دار ہوں کہ باشندگانِ شہر کے مال اور ان کی عبادت گاہوں کی حرمت کی جائے گی اور مسلمان عیسائی گرجوں میں نماز پڑھنے کے مجاز نہ ہوں گے۔'' (ایضاً) وہ مزید لکھتا ہے:
''جو سلوک عمروبن العاصؓ نے مصریوں کے ساتھ کیا، وہ اس سے کم نہ تھا۔ اس نے باشندگانِ مصر سے وعدہ کیا کہ پوری مذہب کی آزادی ، پوراانصاف، بلارورعایت اور جائیداد کی ملکیت کے پورے حقوق دیئے جائیں گے۔ اور ان ظالمانہ اور غیر محدود مطالبوں کے عوض میں جو شہنشاہِ یونان ان سے وصول کرتے تھے، صرف ایک معمولی سالانہ جزیہ لیا جائے گا جس کی مقدار فی کس دس روپے تھی۔'' (ایضاً: ص ۱۳۲)
خلفاء اسلام اپنے معاہدوں پر کس قدر مضبوطی سے قائم تھے اور عام لوگوں سے کتنا عادلانہ رویہ اختیار کیا ، اس کا اندازہ اسی مصنف کے الفاظ سے کریں وہ لکھتا ہے:
''عمالِ اسلام اپنے عہد پر اس درجہ مستحکم رہے اور انہوں نے اس رعایا کے ساتھ جو ہر روز شہنشاہِ قسطنطنیہ کے عاملوں کے ہاتھوں سے انواع و اقسام کے مظالم سہا کرتی تھی، اس طرح کا عمدہ برتائو کیا کہ سارے ملک نے بکشادہ پیشانی دین اسلام اور عربی زبان کو قبول کر لیا۔ میں باربار کہتا ہوں کہ یہ ایسا نتیجہ ہے جو ہرگز بزورِ شمشیر نہیں حاصل ہو سکتا۔''
اسلام دین امن و سلامتی ہے لیکن اسے دفاع کا حق اللہ پاک نے دیا ہے۔ اگر کفر اسلام کو مٹانے پر تل جائے تو مسلمانوں کو اجازت ہے کہ پوری قوت کے ساتھ دفاع کریں۔ اس دفاع میں وہ حق پر ہیں تو اللہ کی نصرت ان کے ساتھ شامل ہو گی۔
عصر حاضر کا شر
اس وقت مسلمان پوری دنیا میں مظلوم ہیں۔ مختلف کافر قومیں مسلمانوں پر ٹوٹ پڑی ہیں۔ ان کی بستیوں کو تباہ کیا جا رہا ہے، ان کے وسائل کو لوٹاجا رہا ہے، ان کے بچوں اور عورتوں کو مارا جا رہا ہے، ان کے جوانوں اور ان کے بوڑھوں کو قتل کیا جا رہا ہے اور اُلٹا عالمی سطح پر ان کے خلاف دہشت گردی اور تشدد کا الزام لگایا جا رہا ہے تا کہ مسلمان دفاع نہ کر سکیں اور کافروں کے مظالم کا شکار رہیں۔ ایسے حالات میں مسلمانوں کے اہل علم کی ذمہ داری ہے کہ کافروں کی سازشوں کو بے نقاب کریں اور اسلام کے پیغامِ امن کو عام کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ کفر فساد ہے اور کافر قوموں نے ہمیشہ فسا بپا کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ قرآن نے یہود ونصاریٰ کی سرگرمیوں کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے :
﴿وَاَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَوَاةَ وَالْبَغْضَآءَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ کُلَّمَآ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَھَا اللّٰہُ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ﴾ (المائدۃ: ۶۴)
''اور ہم نے ان میں باہم قیامت تک عداوت اور بغض ڈال دیا۔ جب کبھی لڑائی کی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس کو فرو کر دیتے ہیں۔ اور یہ ملک میں فساد کرتے پھرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو محبوب نہیں رکھتے۔''
اس وقت اہل کتاب ہی کا اُٹھایا ہوا شر ہے جس کی زد میں پوری اُمت ِمسلمہ ہے۔ سب سے بڑا شر 'دہشت گردی' کا الزام ہے اور اس الزام کے نتیجے میں امت ِمسلمہ کے صالح اور صاحب ِتقوی افراد کو نشانہ بنا کر قتل کیا جا رہا ہے۔ اہل کتاب کے اربابِ سیاست نے چونکہ اپنے مذہب کو چھوڑ کر بے دینی اختیار کی ہے لہٰذا انہیں مذہب پر عمل کرنے والا مسلمان قابل قبول نہیں۔ جس طرح انہوں نے اپنے مذہب کو ایک کونے میں لگایا ہے، اسی طرح وہ اسلام کو بھی بے وقعت کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے پہلے انتہا پسندی کی اصطلاح وضع کی اور اسے مسلمانوں پر چسپاں کیا اور اب اس کے ساتھ دہشت گردی کا الزام بھی چسپاں کر دیا۔ کیا مسلمان واقعی انتہا پسند اور دہشت گرد ہیں؟ آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں :
انتہا پسندی
انتہا پسندی انگریزی کی اصطلاح Extremism کا ترجمہ ہے جو ہمارے ہاں پہلے پہل اخبارات میں استعمال ہوئی اور پھر دیکھتے دیکھتے مختلف مذہبی گروہوں پر چسپاں ہونے لگی۔ انگریزی زبان کا یہ لفظ Extreme سے نکلا ہے جس کے متعدد معانی بیان کیے گئے ہیں۔
''انتہائی دور دراز، مرکز سے بعید ترین، سخت، شدید، انتہا پسند، آخری سرے کا، انتہا، حد، سرا وغیرہ۔ '' (Consice Oxford Dictionary)
اور Extremism کے معنی ''انتہا پسندی، افراطِ دوستی، غلو...'' وغیرہ
Webster کی یونیورسٹی ڈکشنری میں Extreme کے تحت لکھا گیا:
Outer most or farthest from a centre (extreme edge of the forest); Final; last; Being in the highest degree (extreme happiness-extreme poverty.); Entending beyond norm (an extreme libral); The greatest or utmost degree or point; An extreme condition; A drastic or immoderate expendient.
(Websters New Revised Unversity Dictionary p.458)
''باہری طرف کی انتہائی سطح یا مرکز سے بعید ترین، (جنگل کا آخری سرا) انتہائی، آخری، سب سے اونچے درجے پر ہونا(انتہائی خوشی،انتہائی غربت) عام طور طریقے سے بالا تر (انتہائی آزاد منش) انتہائی یا آخری زاویہ یا نقطہ ، انتہائی حالت، ایک بالادست یا غیر متوازن فعل۔''
اس کا مطلب ایسا رویہ ہے جو معمول کے مطابق نہیں ہے۔ کسی معاشرے کے فکری و عملی پیمانوں سے باہر اور تہذیبی حدود سے خارج ایسا رویہ جس میں دلیل اور افہام و تفہیم کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ اس اعتبار سے منصفانہ جائزہ لیا جائے توپتہ چلتا ہے کہ اسلام انتہا پسندی نہیںبلکہ معمول کا ایک نظریۂ حیات ہے جو تعمیر شخصیت اور استحکامِ اجتماعیت میں خاص کردار ادا کرتا ہے ...
اسلام 'اعتدال' کا نام ہے!
اسلام سے پہلے زندگی کے بارے میں مختلف گروہوں کا رویہ افراط و تفریط پر مبنی تھا۔ ایک گروہ نے مادّی زندگی ہی کو سب کچھ سمجھ رکھا تھا، لہٰذا اس کی تمام سرگرمیاں اسی کے گرد گھومتی تھیں۔ ایک دوسرے گروہ نے مادّی زندگی کو آلائش سمجھ کر رد کر دیا تھا۔ ان کے نزدیک سچی مذہبیت ترکِ دنیا سے ہی حاصل ہوتی تھی۔ اسلام نے ان دونوں رویوں کے درمیان اعتدال کی راہ اپنائی۔ یہ 'اعتدال' دنیا کی روحانی تعبیر ہے۔ یعنی ایک انسان کاروبارِ دنیا کو اللہ کے احکام و قوانین کے مطابق چلائے تو دنیا کی لذتیں حاصل کرتا ہے۔ اور مذہبی تجربے کی لطافتوں سے بھی بہرہ مند ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُمت ِمسلمہ کو اُمت ِوسط قرار دیا ہے جس کے کئی مفاہیم میں سے ایک یہ بھی ہے۔ قرآن نے کہا :
﴿وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَهِیْدًا﴾ (البقرۃ: ۱۴۳) ''اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک معتدل اُمت بنایا ہے تا کہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہی دیں گے ۔''
قرآن نے انتہا پسندی کے لیے جو اصطلاح استعمال کی ہے وہ 'غلو' ہے جس کے معنی ہیں بڑھنا، زیادہ ہونا اور متجاوز ہونا۔ یہ لفظ اگر دین کے تعلق سے آئے تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ دین میں جس چیز کا جو درجہ و مرتبہ یا وزن ومقام ہے، اس کو بڑھا کر کچھ سے کچھ کر دیا جائے۔ (تدبر قرآن: ۲؍۲۰۶)
کسی کام کو قواعد و ضوابط کے مطابق انجام دینا 'اعتدال' کہلاتا ہے اور ان قواعد و ضوابط میں کمی بیشی کرنا افراط و تفریط قرار دیا جاتا ہے۔ اہل کتاب اپنے عقائد اور رویوں میں اعتدال کی راہ سے ہٹے ہوئے تھے، اس لیے قرآن نے ان کے رویے کو انتہا پسندی سے تعبیر کیا۔ قرآن نے اہل کتاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
﴿یٰٓاَهْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ﴾(النساء: ۱۷۱)
''اہل کتاب! اپنے دین میں غلو نہ کرو اور اللہ کی طرف حق کے سوا کوئی بات منسوب نہ کرو۔''
دین میں مشکل پسندی بھی ایک طرح کی انتہا پسندی ہے۔ مذہبی لوگوں کے ہاں یہ مشکل پسندی ہمیشہ مرغوب رہی ہے۔ مختلف مذہبی گروہوں نے ایسی مشقیں اور ایسی مشقتیں اختیار کی ہیں کہ انسانی طبیعت اس طرح کا بوجھ نہیں برداشت کر سکتی۔ حضورِ اکرمؐ کی ذات ان مشقتوں اور مشکلوں سے نجات دلانے کے لیے آئی۔ اہل کتاب ہی کے حوالے سے قرآن نے آپ کے احسانات کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا :
﴿وَیُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَیَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْهِمْ﴾(الاعراف: ۱۵۷)
''ان کیلئے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے اور ان پر سے وہ بوجھ اُتارتا ہے جو ان پر لادے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔''
اہل کتاب کے ہاں چونکہ مذہبیت مشکل پسندی تھی، اس لیے ان کے سیکولر اور روشن خیال طبقے نے مذہب کا قلادہ ہی اُتار دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہی اہل کتاب اب اس اعتدال پسند اُمت کو انتہا پسند کہتے ہیں۔ حالانکہ مسلمان کبھی انتہا پسند نہیں ہو سکتا۔ ہمارے انتہا پسندانہ رجحانات اگر کہیں پائے گئے تو وہ منحرف گروہوں میں پائے گئے جنہیں امت کے اجتماعی ضمیر نے ہمیشہ ردّ کیا ہے۔ اسلام ایک کھلا، اُصولی اور عقلی دین ہے جس میں موافقت و مخالفت، محبت و نفرت اور یگانگت و علیحدگی کے ضوابط موجود ہیں۔ یہ کوئی زیر زمین تحریک نہیں ہے کہ سازشیں کرے یا خفیہ منصوبہ بندی کرے۔ اس کا نصب العین واضح اور مقاصد متعین ہیں۔ اہل کتاب نے ہمیشہ خفیہ منصوبہ بندیاں کی ہیں، سازشیں کی ہیں، بدعہدیاں کی ہیں اور انتہا پسندانہ کارروائیاں کی ہیں۔ مسلمان اپنے مزاج کے اعتبار سے ہی اس قابل نہیں کہ وہ اس طرح کی سرگرمیاں کر سکے۔ اسلام اور کفر کا بنیادی فرق اعتدال اور انتہا پسندی کا ہے۔ انقلابِ زمانہ ہے کہ بولہبی ظلمت چراغِ مصطفوی پر خندہ زن ہے۔ اسلام نے اختلاف کے لیے بھی اُصول دیئے اور رویے طے کیے۔ فرمایا:
﴿وَلاَ تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ فَیَسُبُّوْا اﷲَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ﴾
''یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انہیں گالیاں نہ دو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں۔'' (الانعام: ۱۵۸)
حالت ِجنگ کے سلسلے میں بھی اُصول دیئے اور اسمیں بھی حد سے بڑھنے کی اجازت نہ دی
﴿وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰهَ لَایُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ﴾
''تم اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں مگر زیادی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔'' (البقرۃ: ۱۹۰)
یہ حالات کی ستم ظریفی ہے کہ مسلمانوں کی جس بات کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جانا چاہیے تھا وہی قابل مذمت ہو گئی ہے۔ کوئی قوم اگر اپنے دین پر عمل کرتی ہے۔ اخلاقی زندگی گذارتی اور معاشرے میں عدل و احسان کے استحکام کی کوشش کرتی ہے تو اس میں انسانیت کی مجموعی فلاح ہے۔ اس سے فساد مٹتا ہے اور حیاتِ انسانی نشو و نما پاتی ہے۔ لیکن مغرب کے حکمران چونکہ سیکولر ہیں اور جدید اقدار کو نئے مذہب کی حیثیت دے چکے ہیں لہٰذا مسلمانوں کا دینی عمل اور ان کی اخلاقی قدریں انہیں حیا سوز اور بے اخلاق تہذیب سے متصادم نظر آتی ہیں۔ مسلمانوں کی اخلاقی زندگی کے خلاف حسد و کینہ ہے جس نے انہیں مسلمانوں پر الزام تراشی کے لیے مجبور کیا ہے۔ اگر انتہا پسندی اپنے آپ کو صحیح اور دوسرے کو غلط سمجھنے کا نام ہے تو مغرب سب سے بڑا انتہا پسند ہے کہ وہ اسلحہ کے زور پر اپنے نقطہ نظر کو نافذ کرنا چاہتا ہے اور دنیا کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اس کے کلچر کو اور اس کی قدروں کو اپنائے۔
چونکہ مسلمانوں کا اپنا نظامِ اقدار ہے اور وہ اس پر مطمئن ہیں تو انہیں بزور اس نظام کو ترک کرنے پر کیوں مجبور کیا جا رہا ہے؟ مسلمان مغرب سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ وہ ان کے معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ اگر مسلمان اپنے دین کے مطابق زندگی گذارنا چاہتے ہیں تو مغرب کو اس سے کیا تکلیف ہے؟ مشکل یہ ہے کہ مغرب پوری دنیا کو اپنا کلچر دینے پر اصرار کر رہا ہے اور جو شخص، گروہ یا ملک ایسا کرنے میں پس و پیش کرتا ہے تو اس پر انتہا پسندی کا لیبل لگا کر اس کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہی وہ فساد ہے جسے قرآن نے خشکی اور تری کا فساد قرار دیا ہے :
﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ﴾ (الروم: ۴۱) ''خشکی اور تری میںلوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تا کہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، عجب نہیں کہ وہ باز آ جائیں۔''
دہشت گردی
مسلمانوں پرجس طرح عرصۂ حیات تنگ کیا جا رہا ہے، اس کے نتیجے میں نا امیدی اور مایوسی کی ایک کیفیت پیداہوئی ہے۔ مسلمانوں کے بعض نوجوانوں نے کفر کے اجتماعی تشدد کے جواب میں محدود اور انفرادی تشدد کی کارروائیاں شروع کی ہیں، اس پر سارا مغرب چیخ اٹھا ہے اور اس انفرادی جوابی تشدد کو 'دہشت گردی' کا نام دے کر مزید اجتماعی اور منظم دہشت گردی پر اُتر آیا ہے۔ چونکہ اس کے پاس اسلحہ اور میڈیا کی طاقت ہے، اس لیے مسلمانوں کو تو مسلمہ دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے اور ان کا خون مباح سمجھا جا رہا ہے لیکن مغرب و مشرق کی طاقتور قومیں جو تخریب کاری کر رہی ہیں، اسے دہشت گردی کا نام نہیں دیا جاتا۔ دہشت گردی کے واقعات کو ایک طرف رکھتے ہوئے پہلے یہ جائزہ لیتے ہیں کہ دہشت گردی کیا ہے؟ اسے کیسے بیان کیا جاسکتا ہے؟ دہشت گردی کا لفظ انگریزی لفظ Terrorism کا ترجمہ ہے۔ انگریزی لغت کی کتابوں میں Terror کے بارے میں جو وضاحت ملتی ہے وہ کچھ اس طرح ہے :
Intense fear, a person or thing causing intense fear, the quality of causing suchfear, terribleness (Webster's New World college Dictonary (Third Edition) p.1382 )
'' شدید خوف، سخت خوف کا موجب کوئی شخص یا کوئی شے، یا اس درجے کا خوف پیدا کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہونا۔ پر مصائب۔''
اس ڈکشنری میںTerrorismکو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے :
The act of terrorising, use of force to demoralize, intimidate, and subdugate especially such use as a political weapon or policy, the demoralization and intimidation produced in this way (Ibid)
'' خوف زدہ کرنے کا عمل کسی کو ہراساں کرنے کیلئے طاقت کا استعمال، سیاسی ہتھیار یا سیاسی پالیسی کے طور پر خوف زدگی کی ترغیب یا نفاذ ، ڈر کے ت حت ہراساں کر کے ترغیب دینا۔''
دہشت گردی کی اصطلاح ہمارے عہد میں اتنی کثرت سے استعمال ہوئی ہے اور اتنے متنوع مفاہیم میں استعمال ہو رہی ہے کہ اس کی کوئی مستند تعریف نہیں کی جا سکتی، تاہم جن مفاہیم میں کثرت سے استعمال کی جا رہی ہے، ان میں سے چند ایک کی طرف ہم اشارہ کریں گے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے طاقت کا استعمال دہشت گردی ہے، اسی طرح ریاست کا محض شبہ کی بنا پر کسی غیر جانبدارانہ عدالتی طریقہ کے بغیر اور جرم ثابت کیے بغیر سزا دینا بھی دہشت گردی قرار پائے گی۔ مغرب چونکہ دہشت گردی میں ملوث رہا ہے اور اس وقت اسے بعض مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کر رہا ہے، اس لیے ان کے ہاں اس کی وضاحت پائی جاتی ہے۔ مثلاً آکسفورڈ انسائیکلو پیڈیا میں اسے ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے :
Terroism is a deliberate. Unjustifiable and random use of violence for political ends against protected persons
(The world book encyclopedia,19/178 (Field entrprise) Education corporation, chicago 1998)
'' تحفظ یافتہ افراد کے خلاف اچانک غیر منصفانہ طریقے سے جان بوجھ کر طاقت کا استعمال دہشت گردی ہے۔''
بدنام زمانہ ہن ٹنگٹن نے بھی اپنی کتاب میں دہشت گردی پر بات کی ہے۔ وہ لکھتا ہے:
''یہ محرومی اور بے بسی کے جواب میں سیاسی مقاصد کے لیے قوت کا ایسا استعمال ہے جس کا ہدف کوئی ذاتی فائدہ حاصل کرنا نہ ہو بلکہ مقابل قوت کو متوجہ بلکہ خائف کرنے کے لیے کوئی ایسی چونکا دینے والی کارروائی کرنا ہے جو نقصان بھی پہنچائے اور توجہ کو اسی مقصد کی طرف مبذول کرانے کا ذریعہ بنے جس کے لیے تشدد کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ اسی لیے اسے طاقتور کے مقابلے میں کمزور کا ہتھیار کہا گیا ہے۔''
(Grolier's Encyclopedia/gloler publishing inc, 1992)
ایک اور انسائیکلو پیڈیا کے مطابق دہشت گردی کی تعریف کچھ اس طرح ہے :
Terrorism is the use or threat of voilance to create fear and alarm. Most terroists commit crimes to support political causes. ( Oxford Encyclopedia of the modren Islamic World, 4/205 New york oxford University press 1995)
Terrorism is the sustained, clandestine use of violence. including murder, kidnapping, Hijacking and bombing to achieve a political purpese. In popular usage, however, as influenced by politicians and the media, terroism is now increasingly used as a generic term for all kinds of political violence especially as menifsted to revolutionary and guerrilla warfare, nevertheless, not all political violence short of conventional war was terrerism. (Clash of civilizations)
Oxford Concise Dictonory of politics نے اسے زیادہ بہتر انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے :
''خوف اور ہنگامی حالت پیدا کرنے کے لیے تشدد کی دھمکی دہشت گردی کہلاتی ہے۔اکثر دہشت گردی سیاسی موجبات کو تقویت دینے کے لیے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔''
سخت اوروحشیانہ تشدد دہشت گردی کی ذیل میں آتے ہیں۔ اس عمل میں قتل،اغوا،ہائی جیکنگ اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے بم باری بھی شامل ہے۔ سیاست دانوں اور ذرائع ابلاغ کے زیر استعمال آنے کے بعد یہ لفظ اپنی اصل ہیت میں ہر قسم کے سیاسی تشدد کے لیے استعمال ہونے لگا ہے خاص کر انقلابی اور گوریلا جنگی حکمت عملی کے ضمن میں مکمل جنگ کے علاوہ دیگر تمام پر تشدد سیاسی اقدامات دہشت گردی کے مترادف ہیں۔''
بہت سے لوگ اس کی تعریف میں انفرادی یا غیر سرکاری تنظیموں کی کارروائی کو ہی دہشت گردی قرار دیتے ہیں لیکن ان کی یہ بات یک طرفہ ہوتی ہے کیونکہ ایسا یا تو حکومتیں کرتی ہیں یا حکومتوں کے تنخواہ دار لوگ کرتے ہیں۔ بے شمار ایسے لکھنے والے ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی حکومت یا قوت کا نقطہ نظر پیش کر رہے ہوتے ہیں یا اس کے حق میں دلائل دے رہے ہوتے ہیں۔ امریکی دانشور نوم چومسکی کی بات غالباً غیرجانبدارانہ ہے، وہ کہتا ہے:
''دہشت گردی، تشدد یا تشدد کی دھمکی کا نپا تلا استعمال ہے جو دبائو ڈال کر اور جبر و خوف پیدا کر کے سیاسی، مذہبی یا نظریاتی نوعیت کے اہداف حاصل کرنے کے لیے کیا جائے۔'' ( ارشاد احمد حقانی، کیا نوم چومسکی انسان سے مایوس ہو رہے ہیں؟ روزنامہ جنگ لاہور ۸ نومبر ۲۰۰۱ئ)
ان تمام تعریفوں میں ہر ایک نے اپنے اپنے نقطہ نظر کو بیان کیا ہے، تاہم ہر ایک میں جارحیت اور تشدد کا مفہوم پایا جاتا ہے جو سب سرگرمیوں میں قدرِ مشترک ہے۔ ہر ایسی جارحانہ اور پرتشدد کارروائی جس سے سیاسی و معاشی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جائے دہشت گردی کہلائے گی۔
دہشت گردی کے مقاصد
اگرچہ دہشت گردی کی مستند تعریف نہیں کی جا سکی، تاہم جو معنی بیان کیے گئے ہیں اس سے جو نتیجہ نکلتا ہے، وہ یہ ہے کہ دہشت گردی ایک ایسا عمل ہے جس میں منصوبہ بندی کے ساتھ تشدد اور تباہی کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ دہشت گردی کا ایک واقعہ بھی ہو سکتا ہے اور کئی واقعات کا تسلسل بھی۔ خوف و ہراس کی ایسی فضا پیدا کرنا جس سے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاسکیں، دہشت گردی کا ماحول کہلائے گا۔ اس کا بنیادی ہدف کچھ لوگ ہوتے ہیں لیکن اس کا شکار معصوم بھی ہو جاتے ہیں گو ان کو مارنا مقصود نہیں ہوتا۔ اصل مقصود ایک ایسی فضا تیار کرنا ہوتی ہے جس سے لوگوں میں اضطراب پیدا ہو اور مطلوبہ مقاصد حاصل ہو سکیں۔ مقاصد میں سیاسی، معاشی اور مذہبی پہلو شامل ہیں۔ بعض اوقات صرف ذاتی مقاصد کے لیے دہشت گردی ہوتی ہے جیسے ذاتی دشمنی کا انتقام، ڈکیتی وغیرہ لیکن بالعموم دہشت گردی کی تہ میں گروہی مقاصد کارفرما ہوتے ہیں۔ جماعتیں، حکومتیں اور قومیں اپنے مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے دہشت گردی کی کارروائیاں کرتی ہیں۔
دہشت گردی کی اقسام
دہشت گردی کی تین بڑی اقسام قرار دی جا سکتی ہیں :
انفرادی گروہی ریاستی
انفرادی دہشت گردی ذاتی انتقام یا ذ ہنی بیماری کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ کوئی انسان بھی اپنے حالات ماحول یا ذہنی بیماری کے باعث تشدد کی راہ اختیار کر سکتا ہے اور ایسا بالعموم ان معاشروں میں ہوتا ہے جہاں مسابقت کے باعث بعض افراد تنہائیIsolation) یا (Alianationکا شکار ہو جاتے ہیں اور پھر وہ معاشرے سے انتقام لیتے ہیں۔ یہ انفرادی عمل ہوتا ہے لیکن بعض اوقات اسکے بھیانک اثرات مرتب ہوتے ہیں جو اجتماعی ہوتے ہیں۔
گروہی دہشت گردی
گروہی دہشت گردی میںمذہبی، نسلی اور سیاسی عوامل شامل ہوتے ہیں۔ مذہبی دہشت گردی کی وجہ مذہبی اختلافات میں شدت ہوتی ہے۔ ایک گروہ اپنے مذہبی رجحانات کی وجہ سے اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے اور دوسرے کو باطل اور حق کے غلبے کے لیے طاقت کے استعمال کو جائز سمجھتا ہے۔
پاکستان میں تشدد کے واقعات مسجدوں پر منظم قبضے کی صورت میں شروع ہو ئے تھے۔ ضیاء الحق مرحوم کے مارشل لا کے ابتدائی دور میں پنجاب کے ایڈمنسٹریٹر اور گورنر کی شہ پر ایک مذہبی گروہ ـ[بریلوی]مسجدوں پر منظم قبضے کی مہم میں مصروف رہا۔ اس دور میں لاہور اور دوسری جگہوں پر مسجدوں پر قبضے کیے گئے۔ اس گروہ کے لوگ اجتماعی تشدد اور دھونس سے اپنے مسلک کو غالب کرنے کی جدوجہد میں سرگرم رہتے تھے۔
ایرانی انقلاب نے شیعہ حضرات کے جارحانہ رویوں میں اضافہ کیا۔ انہیں سیاسی، سماجی، اور سرکاری اداروں میں پہلے ہی کافی رسوخ حاصل تھا۔ اس انقلاب نے ان کی اہمیت میں اور اضافہ کر دیا۔ پاکستان میں شیعہ سنی اختلاف ہمیشہ حساس مسئلہ رہا ہے۔ ملک کی سنی اکثریت منظم اقلیت سے ہمیشہ خائف رہی ہے۔ شیعہ حضرات کی جارحانہ تبلیغی سرگرمیاں ہمیشہ موضوعِ بحث رہی ہیں۔ جلسے، جلوس اور تقریبات وغیرہ دراصل تبلیغ کے ذرائع اور اپنے اثر و رسوخ کی حدود کو وسیع کرنے کی حکمت ِعملی ہے۔ ان تقریبات کو تبدیلی مسلک اور قوت کے اظہار کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، اس لیے سنی اکثریت کے علاقوں میں ان جلوسوں کے گذرنے پر اختلافات اور جھگڑے رونما ہوتے رہے ہیں۔ شیعہ حضرات اس کو اپنا مذہبی حق قرار دے کر اس پر اصرار کرتے رہتے ہیں اور سنی اسے اپنے علاقوں میں بہ جبر گذارنے اور منعقد کرنے کو اپنی حق تلفی قرار دیتے رہے ہیں۔ کسی مناسب افہام و تفہیم نہ ہونے کی وجہ سے تصادم کی صورت پیدا ہوتی رہی جس میں سنیوں کے بعض گروہوں کو سرکاری اداروں کی یک طرفہ شیعہ حمایت کی وجہ سے مایوسی اور بے چارگی کا احساس پیدا ہوا۔اس احساسِ محرومی کو بعض علما نے اپنی تقریروں کا موضوع بنایا اور شیعہ عقائد اور سرگرمیوں پر کڑی تنقید شروع کی۔ ان جلسوں میں آہستہ آہستہ زبان سخت ہوتی گئی، اسی طرح شیعہ ذاکرین و خطبا نے اپنی تقریروں میں مسالہ اور تیز کر دیا جو بالآخر باہمی قتل و خون ریزی پر منتج ہوا۔ تشدد پسند تنظیمیں وجود میں آئیں اور ایک دوسرے کو قتل کرنے کے واقعات رونما ہونے لگے۔ مسجدوں میں نمازی قتل ہوئے۔ امام باڑوں پر حملے ہوئے۔ مؤثر علما مقررین کو نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔ ایک مرحلہ پر تو ایسا نظر آنے لگا تھا کہ خدانخواستہ یہ مملکت ِخداداد شیعہ سنی غارت گری کا میدان بن جائے گی لیکن الحمد گذشتہ چند سالوں سے اس صورتحال میں قدرے بہتری آئی ہے اور فرقہ وارانہ دہشت گردی میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔
شیعہ سنی ہماری تاریخ اور ہمارے عقیدہ کی دو تعبیریں ہیں اور صدیوں سے موجود ہیں دونوں طرف سے اپنے حق میں دلائل دیئے جا رہے ہیں اور دیئے جاتے رہیں گے۔ کوئی ایک دوسرے کو ختم نہیں کر سکا اور دونوں اسلامی معاشروں میں مل جل زندگی بسر کرتے آئے ہیں۔ اس لیے عقل مندی کی بات یہ ہے کہ اس اختلاف کو قبول کر لیا جائے اور طاقت کے استعمال کے بجائے دلیل کی بات کی جائے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے اقلیتی گروہ اپنی سیاسی، معاشی اور سماجی حیثیت سے اپنی عددی قوت کے اعتبار سے کہیں زیادہ مؤثر اور طاقتور ہے، اس لیے وہ اپنے اثرات کو مجتمع کرنے اور مرتکز کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کا اندازِ بیان مؤثر اور طریق کار خفیہ طور پر منظم ہے، اس لیے ثمر آور ہے۔ سنی گروہوں کا ردّعمل کھلا اور شدید ہے، اس لیے بے اثر ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں گروہوں کی قیادت کو بقاے باہمی اور رواداری کے اُصولوں پر پختہ معاہدے کا پابند کیا جائے اور بیرونی مداخلت کے دروازے بند کیے جائیں۔ ہر قسم کے جلسے جلوسوں کو اپنی اپنی آبادیوں میں محدود کر دیا جائے اور کھلے بندوں ہر جگہ جلسے جلوس کی کارروائیوں پر مستحکم پابندی لگائی جائے تا کہ اپنے علاقے اور اپنی مسجد میں اظہارِ خیال پر پابندی بھی نہ لگے اور کھلے بندوں جلوسوں جلسوں کے انعقاد کی وجہ سے نقض امن کی صورت حال بھی نہ پیدا ہو۔ تبلیغ مسلک کو مسجدوں اور امام باڑوں تک محدود کر دیا جائے اور اسلام کی وہ تعلیمات جو مشترک عقائد و اقدار پر مبنی ہیں ان کی تبلیغ کی کھلی اجازت دی جائے۔ یہی اُصول بریلوی، دیوبندی اور اہل حدیث گروہوں کے سلسلے میں بھی اپنایا جائے۔
گروہی دہشت گردی میں سیاسی دہشت گردی بھی شامل ہے جس میں ایک سیاسی فکر رکھنے والی جماعت بہ جبر لوگوں کو اپنی سیاسی رائے کا پابند کرے۔ سیاسی زندگی تو ایک روادارانہ زندگی ہے جس میں اپنے موقف کا اظہار اور اس کے لیے رائے عامہ کو ہموار کرنا بنیادی استحقاق ہے۔ بعض گروہ تشدد کے ذریعہ خوف کی فضا پیدا کر کے لوگوں کو اپنا ہم نوا بننے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ سیاسی دہشت گردی اس بنیادی تصور ہی کے خلاف ہے جس پر کسی ملک کی سیاسی زندگی منظم ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ سیاسی نظام مستحکم نہیں ہوا، اس لیے سیاسی جماعتیں بعض اوقات اپنے مقاصد کے لیے پرتشدد کارروائیاں کرتی ہیں جو نقض امن کا سبب بنتی ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ خوفناک 'لسانی دہشت گردی' ہے۔ بعض گروہوںنے لسانیت کو ایک سیاسی مذہب کے طور پر اختیار کیا اور اس کی بنیاد پر اپنے سے مختلف لسانی گروہوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان ایک ملک ہونے کے باوجود ایک علاقے کا آدمی دوسرے علاقے میں کاروبار کرنے یا آباد ہونے میں مشکلات محسوس کرتا ہے۔ سیاسی رواداری اور معاشرتی حسن عمل کا تقاضا ہے کہ اس ملک کا ہر شہری بلا لحاظ مذہب زبان اور نسل ہر جگہ آزادی کے ساتھ اپنی مثبت سرگرمیاں جاری رکھ سکے۔
سندھ میں کئی برسوں سے آباد غیر سندھیوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا اور کراچی میں دہشت و تشدد کی کاررائیاں شدید خوفناکی کے باعث اپنی نظیر نہیں رکھتیں۔ یہ لاقانونیت اصحابِ اختیار کی نفاذِ قانون کی پالیسی سے ہی ختم ہو سکتی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوری اور ملکی استحکام کے شعور کا فقدان ہی اس کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ لسانی دہشت گردی مذہبی دہشت گردی کی طرح بہت خطرناک ہے کیونکہ اس سے نہ صرف ملکی استحکام کو خطرہ ہے بلکہ اس سے ملک کا وجود بھی دائو پر لگ گیا۔ لسانی گروہ کسی وقت پانچویں کالم کا کردار ادا کر کے کسی دشمن ملک کا آلہ کار بن سکتا ہے۔ بعض لسانی گروہوں نے کھلم کھلاملک کے ٹوٹنے کی باتیں کی ہیں۔ پاکستان چونکہ بنگلہ دیش کی صورت میں ایک حادثے کا شکار ہو چکا ہے، اس لیے اسے خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ ایسے گروہوں کے ساتھ Appeasement کی پالیسی ہمیشہ نقصان دہ رہی ہے۔ لسانیت کو علاقائی محرومیوں کے سیاسی و سماجی نعروں سے مزین کیا جاتا ہے اور اسے دلکش بنانے کے لیے مفادات کے تحفظ کی بات کی جاتی ہے اور یوں تعصبات اور نفرتوں کی فصل تیار کی جاتی ہے۔ ملک کا سیاسی نظام اگر مستحکم ہو اور ہر علاقے میں برابر ترقیاتی کام ہوتے رہیں اور مستحق لوگوں کو ان کے جائز حقوق میسر ہوں۔ معاشی مفادات، ملازمتیں اور شہری سہولتیں بہم پہنچتی رہیں تو تخریب کار گروہ وجود میں نہیں آئیں گے۔
ریاستی دہشت گردی
ریاست کے ارتقا پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ یہ ادارہ خونیں ہے۔ اس کی تشکیل، استحکام اور بقا میں قتل و غارت گری شامل ہے۔ بادشاہت اور ڈکٹیٹر شپ سے لے کر دورِ حاضر کی جمہوری ریاستوں تک اس تنظیم کی تہ میں خون کا دریا بہہ رہا ہے۔ ریاست نے انسانوں پر جتنے مظالم کیے ہیں، اتنے شاید افراد اور گروہوں نے نہ کیے ہوں۔ ریاست سے اختلاف بغاوت تصور ہوتا ہے جو واجب القتل قرار پاتا ہے۔ دورِ حاضر میں ریاست اور حکومت کے فرق کو واضح کیا گیا ہے اور حکومت سے اختلاف کو جمہوری حق قرار دیا گیا ہے لیکن حکومتیں اس اختلاف کو آسانی سے ریاست سے اختلاف کی شکل دے دیتی ہیں اور قید و بند اور قتل و نہب کی سزائیں طے پا جاتی ہیں۔ ریاست کے پاس فوج، پولیس، ملیشیا، خفیہ ایجنسیاں اور بے پناہ مالی وسائل ہوتے ہیں، اس لیے ریاست کے لیے بہت آسان ہے کہ وہ اپنے مقاصد حاصل کر لے۔ علاقوں کو زیر تسلط لانا، گروہوں کو شکست دینا، افراد کو گرفتار کرنا، غائب کرنا یا قتل کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ اس لیے ریاست ہمیشہ جارحانہ اور متشددانہ عزائم رکھتی ہے۔ اسی لیے بعض گروہ جب پرامن ذرائع سے ریاست کو قائل نہیں کر سکتے تو پھر مسلح جدوجہد شروع کرتے ہیں جو ریاستی دہشت گردی کے خلاف ایک رد ِعمل ہوتا ہے۔ دنیا میں مختلف خطوں میں ریاستی دہشت گردی کے خلاف مسلح تحریکیں چل رہی ہیں اور بعض ریاستیں اپنی دہشت گردی کی وجہ سے نمایاں مجرم ہیں۔ ان میں امریکہ، اسرائیل، ہندوستان اور روس نمایاں ہیں۔ بدقسمتی سے ان تمام صورتوں میں مسلمان ہی اس دہشت گردی کا شکار ہیں۔ عراق و افغانستان، فلسطین، کشمیر اور چیچنیا کے مسلمان نمایاں طور پر اور فلپائن کے مسلمان عمومی طور پر ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں اور افسوسناک بات یہ ہے کہ ان دہشت گرد ریاستوں نے عالمی میڈیا کے زور پر ان مسلمان مزاحمت کنندہ تحریکوں اور لوگوں کو دہشت گرد قرار دے کر قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ریاستی دہشت گردی کی بدترین صورتیں کشمیر، فلسطین اور چیچنیا میں ظاہر ہو رہی ہیں لیکن عالمی برادری ان پر خاموش ہے۔ عالم کفر مسلمانوں کے بارے میں متحدہ موقف رکھتا ہے۔ جن کے گھر مسمار ہو رہے ہیں، نوجوان قتل ہو رہے ہیں، کھیتیاں جل رہی ہیں، عورتوں کی بے حرمتی ہو رہی ہے اور بچے مر رہے ہیں، وہ دہشت گرد قرار دیئے جا چکے ہیں اور جو قتل وغارت میں مصروف ہیں وہ امن کے پیغامبر ہیں ؎ تفو پر تو اے چرخ گردوں تفو
بین الاقوامی دہشت گردی
ریاستی دہشت گردی کی ایک اور بدترین صورت عالمی دہشت گردی ہے جب ایک ملک دوسرے ملک پر حملہ آور ہوتا ہے۔ ہوسِ ملک و زر کے لیے جنگیں لڑنے والے فاتحین نے غارت گری سے دوسرے ملکوں پر قبضہ کیا اور ان کے وسائل کو لوٹا۔ مغرب کی دہشت گردی اپنی روایت رکھتی ہے۔ رومیوں نے جب عیسائیت قبول کی تو غیر عیسائی اقوام کے خلاف ان کا رویہ دہشت گردانہ تھا۔ اس کی کوکھ سے جنم لینے والی یورپی مملکتیں دہشت گردی اور تشدد پسندی کی راہ پر چلتی رہیں۔ مذہب کے نام پر یہ تشدد قرونِ وسطی میں جاری رہا۔ اس کے بعد یہ دہشت گردی عالم اسلام پر مسلط ہوئی۔ صلیبی جنگیں (۱۰۹۵ء تا ۱۲۰۴ئ) مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی اور بربریت کا بدترین نمونہ تھیں۔ اس دوران میں مسلمانوں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کیا گیا۔ دورِ حاضر میں مغرب میں مسلمانوں کے خلاف جو لٹریچر تیار ہوا ہے اور اب جو سیاسی بیانات، ریڈیو اور ٹیلیویژن کے پروگرام اور تبصرے آ رہے ہیں، ان کی بنیاد یہی زہریلا لٹریچر اور یہی روایت ہے جو قرونِ وسطی میں مرتب ہوئی۔ بین الاقوامی دہشت گردی کی قیادت عظیم ترین طاقت کے ہاتھ میں ہے۔ اسرائیل، ہندوستان اور روس اپنے اپنے دائرے میں دہشت گردی کا ارتکاب کر رہے ہیں اور انہیں عالمی برادری کی حمایت حاصل ہے۔ بین الاقوامی دہشت گردی کا شکار عراق اور افغانستان ہوئے ہیں اور مزید ممالک کا نام فہرست میں شامل ہے۔یہ عظیم طاقت عالمی دہشت گردی کی اصطلاح مسلمانوں پر چسپاں کر کے ان کے خلاف جارحانہ اقدام جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیل اور ہندوستان نے اس کی پیدا کردہ اس عالمی فضا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فلسطین اور کشمیر میں دہشت گردی و قتل و غارت اور ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ یہی کچھ روس چیچنیا میں کر رہا ہے۔ عالمی ضمیر نام کی اگر کوئی شے ہو سکتی ہے تو وہ بھی ان مظالم پر خاموش ہے۔ دنیا اس وقت واضح طور پر کفر و اسلام میں منقسم ہے اور مسلمان ظلم و دہشت گردی کی زد میں ہیں...!!
لائحہ عمل جہاد
اسلام اگرامن و سلامتی کا دین ہے تو کیا پرامن رہنے کا مطلب ظلم برداشت کرنا اور دہشت گردی کے مقابلے میں جاں سپرد کرنا ہے؟ ہرگز نہیں! اسلام امن و سلامتی کا دین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو ظلم نہیں کرنا چاہیے، ناحق خون نہیں بہانا چاہیے، بے گناہ انسانوں کی جان و مال کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے، کوئی ایسا اقدام نہیں کرنا چاہیے جو ناجائز تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔ جہاں تک ظالم کے ہاتھ کو روکنا اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کا تعلق ہے تو امن و سلامتی کا یہ دین اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ظالم کا ہاتھ روک دیا جائے اور دہشت گردی کا مقابلہ کیا جائے؛ اسی کا نام 'جہاد' ہے۔
'جہاد' فتنہ و فساد کو روکنے اور ظلم کو مٹانے کا نام ہے۔ دہشت گردی فساد انگیزی اور ظالمانہ کارروائی ہے۔ جب کہ جہاد حق کے دفاع اور انصاف کے قیام کا نام ہے، دہشت گردی بلا امتیاز قتل و غارت اور بے دریغ تباہی و بربادی ہے اور جہاد جارحیت کا مقابلہ اور برسرپیکار فسادیوں کی مزاحمت ہے۔ امن و سلامتی کا دین عطا کرنے والے ربّ نے مسلمانوں کو اس امر کی اجازت دی ہے کہ ظالموں، قاتلوں اور فسادیوں کے سامنے کھڑے ہو جائیں ان کا ربّ ان کی مدد کرے گا اور انہیں ظالموں پر فتح عطا کرے گا۔
دہشت گردی ایک منفی طرزِ عمل ہے جب کہ جہاد ایک مثبت اُصولِ حیات ہے۔ جہاد اُمت ِمسلمہ کے اجتماعی تشخص کی حفاظت کے لیے فرض کیا گیا ہے اور یہ ہمیشہ فرض رہے گا، کبھی منسوخ نہیں ہو گا۔ اسلامی حکومت ہے تو وہ اس کا اہتمام کرے گی، اسلامی حکومت نہیں تو مسلم معاشرے کے اہل تقویٰ و علم اس کا فیصلہ کریں گے۔ اگر وہ بھی نہیں تو جس معاشرے کو ہلاکت و تباہی کا سامنا ہے، وہ انفرادی و اجتماعی طور پر جہاد کی دفاعی حکمت ِعملی وضع کر سکتے ہیں اور ظالموں اور فسادیوں کے سامنے سرنگوں ہونے کی بجائے ان کے مقابلے میں شہادت حاصل کرنا جہاد کی روح کے عین مطابق ہے۔ قرآن نے ایسے حالات میں قتال کی اجازت دیتے ہوئے فرمایا :
﴿اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُونَ بَانَّھُمْ ظُلِمُوا وَاِنَّ اللّٰہ عَلَی نَصْرِهِمْ لَقدِیْرٌ﴾ (الحج:۳۹)
''اجازت دی گئی ہے ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ جاری ہے کیونکہ وہ مظلوم ہے اور اللہ یقینا ان کی مدد پر قادر ہے۔''
یہ قتال فی سبیل اللہ کے بارے میں پہلی آیت ہے جس میں مقابلے کی اجازت دی گئی۔ یہ اجازت ذی الحجہ ۱ ھ میں دی گئی۔ اس کے بعد جنگ ِبدر سے کچھ پہلے رجب یا شعبان ۲ھ میں مقابلہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ ارشادِ ربانی ہے:
﴿وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰہَ لَایُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ وَاقْتُلُوْھُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ وَاَخْرِجُوْھُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْکُمْ وَالْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا تُقٰتِلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰی یُقٰتِلُوْکُمْ فِیْہِ فَاِنْ قٰتَلُوْکُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ کَذٰلِکَ جَزَآئُ الْکٰفِرِیْنَ فَاِنِ انْتَھَوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَاتَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ فَاِنِ انْتَھَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَی الظّٰلِمِیْنَ اَلشَّھْرُ الْحَرَامُ بِالشَّھْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ﴾ (البقرۃ:۱۹۰تا ۱۹۴)
''اور تم اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں، مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ان سے لڑو جہاں بھی تمہارا ان سے مقابلہ پیش آئے اور انہیں نکالو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے، اس لیے کہ قتل اگرچہ برا ہے، مگر فتنہ اس سے بھی زیادہ برا ہے۔ اور مسجد ِحرام کے قریب جب تک وہ تم سے نہ لڑیں تم بھی نہ لڑو، مگر جب وہ وہاں لڑنے سے نہ چوکیں، تو تم بھی بے تکلف انہیں مارو کہ ایسے کافروں کی یہی سزا ہے۔ پھر وہ اگر باز آ جائیں، تو جان لو کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔''
ان آیات میں اسلام کے اوّلین دشمنوں یعنی مشرکین مکہ کے طرزِ عمل پر بحث کی گئی ہے۔ جب بھی اور جہاں بھی مسلمانوں کے دشمنوں کے ایسے رویے ہوں گے، ان کے خلاف وہی طرز عمل اپنانا ہو گا جس کا حکم دیا گیا ہے۔
جہاد کا مقصد
جہاد کا مقصد فتنہ و فساد کو ختم کرنا ہے۔ متذکرہ بالا آیت میں اسے واضح کیا گیا ہے۔ قرآن مزید بتاتا ہے کہ اگر مختلف قوموں کو ایک دوسرے کے دفاع کی وجہ سے کنٹرول نہ کیا جاتا تو زمین پر فساد برپا ہو جاتا :
﴿وَ لَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ﴾ (البقرۃ:۲۵۱) ''اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے دفع نہ کرتا تو زمین فسادسے بھر جاتی لیکن اللہ اہل عالم پر بڑا مہربان ہے۔''
جہاد دہشت گردی کے خلاف دفاع کی حکمت ِعملی ہے۔ یہ دہشت گردی انفرادی طور پر ایک مجرم یا فسادیوں کے گروہ کی طرف سے ہو یا کسی ریاست کی طرف سے، اس کا سدباب صرف جہاد سے ہی ہو سکتا ہے۔ اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ فسادیوں کو سزا دے۔ ہمارے فقہا نے محاربہ پر مفصل بحثیں کی ہیں، ہم صرف قرآنی حکم پر اکتفا کرتے ہیں:
﴿اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ذٰلِکَ لَھُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ﴾(المائدۃ:۳۳)
''جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور ایک طرف کے پائوں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔''
حضورِ اکرمؐ سے مقاصد جہاد کے سلسلے میں بہترین توضیحات مروی ہیں۔ جن میں نبی کریم نے جہادکا واحد مقصد اعلاء کلمۃ اللہ بیان کیا ہے۔ (مسلم: ۶؍۴۶ عن ابی موسیٰ اشعریؓ) ایک اور حدیث میں نبی کریم نے امیر کی اطاعت ، انفاق اور فساد سے پرہیز کرنے والے مجاہد کو کئی گنا اجر کا مستحق قرا ردیا ہے، جبکہ ریاکاری کے مرتکب او رامیر کے نافرمان جہاد کرنے والے کو نقصان کمانے کی وعید سنائی ہے۔ ( ابو داود: ۳؍۳۰ عن معاذ بن جبلؓ)
کیا 'جہاد ' دہشت گردی کا مترادف ہے؟
قتال کے سلسلے میں حضور اکرمؐ کی جو ہدایات ہیں، وہ انسانی تاریخ میں منفرد اہمیت کی حامل ہیں۔ جہاد کے ادارہ کے خلاف جو مہم چلائی جا رہی ہے اور اسے جس طرح دہشت گردی کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے، وہ سراسر بدنیتی اور تعصب پر مبنی ہے۔ دشمنوں نے مجاہدین کے جہادی کا تحقیری لفظ استعمال کیا اور ہمارے دانشور بھی دشمنوں کی اطاعت میں جہاد کی بجائے جہادی کلچر اور مجاہد کی بجائے جہادی کی اصطلاحیں استعمال کر رہے ہیں۔ آپ نے جو ہدایات دی ہیں ان میں سے چند ایک کو یہاں بیان کیا جاتا ہے تا کہ جہاد کا تصور واضح ہو :
غیر اہل قتال کو نقصان پہنچانے سے منع کیا:حضورِ اکرمؐ نے اہل قتال اور غیراہل قتال کا فرق واضح کرتے ہوئے حکم دیا کہ غیر اہل قتال (Non combatant)کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ عورتیں بچے، بوڑھے، بیمار، گوشہ نشین زاہد، معبدوں اور مندروں کے مجاور اور پجاری وغیرہ کو قتل نہ کیا جائے۔ آپ کا ارشاد کتب ِحدیث میں منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مجاہدین کو رخصت کرتے ہوئے فرمایا:
«لا تقتلوا شیخاً فانیا ولا طفلاً صغیراً ولا امراة ولا تغلوا وضموا غنائمکم وأصلحوا وأحسنوا إن الله یحب المحسین» (مشکوۃ: کتاب الجہاد،باب القتال فی الجہاد ۳؍۴۸۷)
''اللہ کے نام پر اور اللہ کی توفیق سے رسول اللہ ﷺکی ملت پر چلو، اور کسی بوڑھے کو قتل کرو نہ چھوٹے بچے کو اور نہ عورت کو، اموالِ غنیمت میں چوری نہ کرو۔ جنگ میں جو کچھ ہاتھ آئے سب ایک جگہ جمع کرو، نیکی و احسان کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ محسنوں کو پسند کرتا ہے۔''
اسی طرح آپ سے مروی ہے : «نهی رسول الله عن قتل النساء والصبیان»
''رسول اللہؐ نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع کیا۔''
(بخاری:کتاب الجہاد، باب فی قتل النساء ۳۱؍۲۱)
اس وقت فلسطین، عراق، کشمیر اور چیچنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے اس فرمانِ رسول ﷺ کی روشنی میں دیکھیں اور فیصلہ کریں کہ دہشت گردی کیا ہے؟ اور دہشت گرد کون ہے؟ کس کا خون بہہ رہا ہے؟ کس کی بستیاں تباہ ہو رہی ہیں؟ اور کس کے جوان مر رہے ہیں؟ اور کس کی عورتیں تشدد کا نشانہ بن رہی ہیں؟
اہل قتال کے حقوق
اسلام نے تو ان لوگوں کا بھی خیال رکھا جو اہل قتال ہیں (Combatant) مثلاً آپ نے آگ میں جلانے کی ممانعت کی، باندھ کر مارنے سے منع کیا، لوٹ مار سے روکا، تباہ کاری سے منع کیا، قیدی کو قتل کرنے اور لاش کو بگاڑنے کو ممنوع قرار دیا، سفیر کو قتل کرنے سے منع کیا اور بدعہدی کی ممانعت کی اور وحشیانہ اعمال کے ارتکاب سے روکا۔ دہشت گرد تو اس طرح کے امتیازات اور اسی طرح کی اخلاقی رعایتوں کے قائل نہیں ہوتے۔ مجاہدین اسلام نے ہمیشہ اپنے ہادی کے دیے ہوئے اُصولوں کا لحاظ کیا۔
آگ میں جلانے کی ممانعت:اسلام سے پہلے لوگ شدتِ انتقام میں دشمن کو زندہ جلا دیتے تھے۔ رسول اللہؐ نے اس وحشیانہ حرکت کو ممنوع قرار دیا۔ آپ ﷺسے منقول ہے!
«لا یَنْبَغِی اَنْ یُعَذِّبَ بالنَّارِ الاَّ رَبُ النَّار»(ابوداود: الجہاد، باب فی قتل الاسیر ۳؍۱۳۷)
''آگ کا عذاب دینا آگ پیدا کرنے والے کے سوا کسی کے لیے سزا وار نہیں ۔''
ابو ہریرہؒ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آنحضرتؐ نے ہم لوگوں کو لڑائی پر جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اگر فلاں دو آدمی ملیں تو ان کو جلا دینا۔ جب ہم جانے لگے تو بلایا اور فرمایا:
«انِّی اَمَرْتُکُم اَنْ تحرقوا فُلاًنا وفُلانًا واِنَّ النَّارَ لاَ یُعَذِّبُ بِهَا اِلاَّ اللّٰه فاِنْ وَجَدْتُمُوهُما فاَقْتُلوهُما» (بخاری:کتاب الجہاد،باب فی کراہیۃ حرق العدو بالنار ۳؍۱۲۶)
''میں نے تم کو حکم دیا تھا کہ فلاں فلاں شخص کو جلا دینا مگر آگ کا عذاب اللہ کے سوا کوئی نہیں دے سکتا ،اس لیے اگر تم انہیں پائو تو بس قتل کر دینا۔''
اب اس کا مقابلہ کریں دور حاضر کے اسلحہ سے جس سے آتش و آہن کی بارش ہوتی ہے کہ ظالمانہ رویہ کس کا ہے؟ اور کس پر دہشت گردی کا عنوان درست بیٹھتا ہے؟ اجتماعی تباہی کی کارروائیاں دور حاضر کی حربی حکمت عملی ہے جس کا اخلاق، دیانت اور شرافت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایک طرح کی درندگی ہے جو کمزوروں اور نہتوں کو شکار کرتی ہے۔
باندھ کر مارنے سے منع فرمایا: رسول اللہؐدشمن کو باندھ کر قتل کرنے اور تکلیفیں دے کر مارنے سے منع فرمایا۔ابو ایوب انصاریؓ بیان کرتے ہیں:
«سَمِعُتْ رَسوُلَ اﷲ، یَنْهٰی عَنْ قَتْلِ الصَّبْرِ فوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِه لَوْکَانَتِ الدَّجَاجَةْ مَاصَبَرْتهُا» (ابوداود: کتاب الجہاد،باب فی قتل الاسیر ۳؍۱۳۷)
''میں نے رسول اللہؐ سے سنا ہے کہ آپ نے باندھ کر مارنے (قتل صبر) سے منع فرمایا۔ خدا کی قسم! اگر مرغی بھی ہوتی تو میں اس کو باندھ کر نہ مارتا۔''
لوٹ مار اور مثلہ کی ممانعت: عبداللہ بن یزید الانصاریؓ نے لوٹے ہوئے مال کو حرام قرار دیتے ہوئے کہا:«نَهَی النبیُّ عَنِ النُّهْبَةِ والمُثْلَةِ»(مسند احمد:۴؍۳۰۷)
''رسول اللہؐ نے لوٹ کھسوٹ اور مثلہ سے منع فرمایا۔''
ایک سفر جہاد میں آپ نے لوٹ مار کے جانوروں کا گوشت کھانے سے روک دیا۔ بلکہ آپ نے وہ دیگچیاں الٹ دیں جن میں گوشت پک رہا تھا اور پھر فرمایا:
«اِنَّ النُّهْبَةَ لَیْسَتْ باَحَلَّ مِنَ المَیْتَةِ»... ''لوٹ کھسوٹ کا مال مردار سے بہتر نہیں۔'' (ابوداود:کتاب الجہاد،باب فی النہی عن النہبۃ۳؍۱۰۱)
آپ فوجوں کو بھیجتے وقت جو ہدایات دیتے تھے، ان میں تاکید فرماتے!
«لاتَعدُوا ولَا تَغُلُّوا ولا تمثلوا»''بد عہدی نہ کرنا، غنیمت میں خیانت نہ کرنا اور مثلہ نہ کرنا''(ترمذی:کتاب السیر، باب ماجاء فی وصیۃ النبیؐ فی القتال، ۴؍۷۳۱۶۴)
قتل اسیر کی مخالفت :دورِ جاہلیت میں اسیروں کو قتل کرنا انتقامی کاروائی تھا۔رسول اللہؐ نے قتل اسیر سے منع فرمایا۔ فتح مکہ کے موقع پر جب آپؐ شہر میں داخل ہونے لگے تو فوج میں اعلان کرادیا:
«لَا تُجْهَزُنَّ عَلَی جَرِیْحِ وَلاَ یُتْبَعَنَّ مُدْبَرٌ، ولاَ یُقْتَلَنَّ اَسِیْرٌ، وَمَنْ اَغْلَقَ بَابَه فُهَوآمِن» (فتوح البلدان:۴۷) ''کسی مجروح پر حملہ نہ کیا جائے، کسی بھاگنے والے کا پیچھا نہ کیا جائے ،کسی قیدی کو قتل نہ کیا جائے اور جو اپنے گھر کا دروازہ بند کرلے وہ امان میں ہے۔''
حجاج بن یوسف نے ایک مرتبہ عبداللہ بن عمر ؓ کو حکم دیا کہ قیدی کو قتل کریں۔ تو انہوں نے فرمایا : « وَمَا اُمِرْنَا بِهَا یَقُولُ اﷲُ:﴿حَتَّی اِذَا اَثْخَنُتُمُوهُم فَشُدُّوا الْوَ ثَاقَ فَاِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَاِمَّا فِدَاءً» (محمد:۴)
''اللہ تعالی نے ہم کو اس بات کی اجازت نہیں دی۔ البتہ یہ حکم دیا ہے کہ جو قیدی گرفتار ہوکر آئیں ان سے یا تو احسان کا برتاو کرو یا فدیہ لے کر رہا کردو۔'' (کتاب الخراج:۱۲۱)
بدعہدی کی ممانعت:بدعہدی ایک ایسی برائی ہے جو مخالف گروہوں میں عام طور پر پائی جاتی ہے۔ اسلام نے اسے بدترین گناہ قرار دیا۔ جنگ کی حالت میں بدعہدی کو ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ عَنْ عَبدِ اﷲ بن عَمُرو قالَ: قالَ رَسُول اللہ!: «مَنْ قَتَل مُعَاهِدًا لَم یُرِحْ رَائِحَةَ الجَنَّةَ وَاِنَّ رِیْحَهَا لَتُوجَدُ مِنْ مَسِیْرةِ اَرْبَعِیْنَ عَامًا»
''جو کوئی معاہد کو قتل کرے گا اسے جنت کی خوشبو نصیب نہ ہو گی۔ حالانکہ اسکی خوشبو ۴۰ برس کی مسافت سے بھی محسوس ہو گی '' (ابن ماجہ: کتاب الدیات ، باب من قتل معاہدا ۲؍۸۹۶)
ایک اور حدیث میں آپ سے منقول ہے :
«لِکُلِّ غَادِرٍ لِواءٌ یَومَ الِقَیامَةِ یُرْفَعْ لَه بِقَدرِ غَدْرِهَ الَا وَلاَ غَادِرٌ اَعْظَمُ غَدْرًا مِنْ اَمِیرٍ عَامَةٍ» (مسلم:کتاب الجہاد،باب تحریم القدر ۵؍۱۴۳)
''ہر ڈار عہد شکن کی بے ایمانی کا اعلان کرنے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا جو اس کے غدر کے ہم قدر ہو گا اور یاد رکھو کہ جو سردار قوم غدر کرے اس سے بڑا کوئی غدار نہیں۔''
خارجہ تعلقات میں ایفاء عہد کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ غالب قومیں ہمیشہ بدعہدی کرتی ہیں اور اس کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کر لیتی ہیں لیکن مسلمانوں کو اس امر کا شدت سے پابند بنایا گیا کہ وہ بدعہدی سے پرہیز کریں۔ عمرو بن عتبہؒ نے امیر معاویہؓ کو حالت صلح میں جنگ کی تیاری میں بھی عہد کی پابندی کا احساس دلاتے ہوئے حضور اکرمؐ کا قول روایت کیا:
«مَنْ کَانَ بَیْنَه وَبَیْن قَوْمٍ عَهْدٌ فلا یُحِلَّنَّ عهداً ولا یَشُدَّنَّه حَتَّی یَمْضی اَمَدُه أو یُنْبَذَ اِلَیْهِم عَلٰی سَواءٍ»(ابوداود:کتاب الجہاد،باب ما یومر من انضمام العسکر۳؍۹۵)
نظم و ضبط:دورِ حاضر کی فوجوں کا نظم و ضبط شاندار ہے۔ مغرب نے بالخصوص اس نظم و ضبط میں کا فی پیش رفت کی ہے، لیکن جنگ کے دنوں میں دشمن کے عام لوگوں کو تنگ کرنے کے سلسلے میں کوئی اصول و ضوابط موجود نہیں ہیں۔ حضور اکرمؐ نے آج سے چودہ سو برس پہلے نظم و ضبط اور عام انسانوں سے عدم تعرض کے بارے میں واضح ہدایات دی تھیں۔ اسلام سے پہلے کی تمام جنگیں خواہ عربوں کی ہوں یا عجمیوں کی، لوٹ مار اور وحشت وظلم کی آئینہ دار تھیں۔ آپ نے مجاہدین کو خبردار کرتے ہوئے فرمایا:
«مَنْ ضَیَّقَ مَنِزْلاً وَقَطَع طَرِیْقاً فلاجِهَادَ لَه»(ترمذی، کتاب السیر، باب ما جاء فی الغدر ۴؍۱۴۳، ابو داود کتاب الجھاد، باب فی الامام ۳؍۱۹۰۔۱۹۱)
''جو کوئی منزل کو تنگ کرے گا یا راہ گیروں کو لوٹے گا اس کا جہاد نہیں ہو گا۔''
اسی طرح آپ نے ایک موقع پر فرمایا:
«إنَّ تَفَرُّقَکُم فِی هذِه الشِعَابِ وَالْاَوْدِیَةِ اِنَّمَا ذَلِکُمُ الشَّیْطَانُ» (ابوداود:کتاب الجہاد،باب ما یومر من انضمام العسکر ۳۷۹)
''تمہارا اس طرح وادیوں اور گھاٹیوں میں منتشر ہو جانا ہی شیطانی فعل ہے۔''
شائستگی و شرافت:آپ نے فوجوں کے نظم و ضبط کے ساتھ انہیں شائستہ رہنے کی ہدایت کا سلسلہ بھی جاری کیا۔ آپ کا طریق کار تھا کہ جب قائد عسکر کو جنگ پر بھیجتے تو اسے اور اس کی فوج کو پہلے تقویٰ اور خوف کی نصیحت کرتے اور پھر فرماتے:
«اُغْزُوا بِسمِ اللّٰهِ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰه قَاتِلُوا مَنْ کَفَر بِاللّٰهِ اغُزُوا وَلاَ تَغْدِرُوا وَلاَ تَغُلُّو ولا تُمَثِّلُوا وَلاَ تَقْتُلُوْا وَلِیداً» (ابن ماجہ:کتاب الجہاد، باب وصیۃالامام ۲؍۹۵۳)
''جائو اللہ کا نام لے کر اور اللہ کی راہ میں لڑیں ان لوگوں سے جو اللہ کا انکار کرتے ہیں۔ مگر جنگ میں کسی سے بدعہدی نہ کریں، غنیمت میں خیانت نہ کریں، مثلہ نہ کریں اور کسی بچے کو قتل نہ کریں۔''
حضور اکرمؐ کے جانشین نے جب فوجیں شام کی طرف روانہ کیں تو ان کو ہدایات دیں وہ دس ہدایات اسلامی تعلیمات جنگ کا ملخص ہیں۔ وہ ہدایات مندرجہ ذیل ہیں:
1. عورتیں، بچے اور بوڑھے قتل نہ کیے جائیں۔
2. مثلہ نہ کیا جائے۔
3. راہبوں اور عابدوں کو نہ ستایا جائے اور نہ ان کے معابد مسمار کیے جائیں۔
4. کوئی پھل دار درخت نہ کاٹا جائے اور نہ کھیتیاں جلائی جائیں۔
5. آبادیاں ویران نہ کی جائیں۔
6. جانوروں کو ہلاک نہ کیا جائے۔
7. جو لوگ اطاعت کریں ان کی جان و مال کا وہی احترام کیا جائے جو مسلمانوں کی جان و مال کا ہے۔
8. اموال غنیمت میں خیانت نہ کی جائے۔
9. جنگ میں پیٹھ نہ پھیری جائے۔
اُمور جنگ کی ان اصلاحات کے ساتھ آپ نے مثبت اصول بھی دیئے، مثلاً ایفائِ عہد، غیر جانبداروں کے حقوق کا یقین و تحفظ، اختتامِ جنگ پر اسیرانِ جنگ سے حسن سلوک، غنیمت کے مسئلہ کی منصفانہ عملی صورت، صلح و امان کی شرائط، مفتوحین کے ساتھ اچھا برتائو، معاہدین وغیر معاہدین کے متعلق تفصیلی احکام، ذمیوں کے حقوق وغیرہ۔ان تمام اُمور کے بارے میں قرآن و سنت کی واضح تعلیمات موجود ہیں۔(تفصیلات کے لیے دیکھئے امام ابوسفؒ کی کتاب الخراج اور سید مودودیؒ کی الجہاد فی الاسلام؍۱۹۶۔۲۵۰)
اسلام نے جنگ کو ان تمام وحشیانہ افعال سے پاک کر دیا جو اس عہد میں جنگ کا ایک غیر منفک جز تھے اور مثبت اُصولوں کے ذریعہ اسے دنیا کی تمام جنگوں سے منفرد و ممتاز کر دیا۔ جہاد اپنے مقصد اور حصولِ مقصود کے طریق کار کے لحاظ سے پاکیزہ ہے۔ دنیا کا کوئی سیاسی نظام جنگی معاملات میں اتنی باریکیاں اور اپنی فوج پر اتنا نظم و ضبط نہیں برقرار رکھ سکا۔
اس حکمت ِعملی کے مقابلے میں دورِ حاضر کی جنگوں کو دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ جہاد کتنا پاکیزہ طرزِ عمل ہے۔ اجتماعی تباہ کاری، انسانیت کشی اور جلائو گھیرائو کا ظالمانہ طریقہ دورِ حاضرکا مسلمہ اُصول ہے۔
اسلامی نقطہ نظر سے جنگ بھی امن و سلامتی کا ذریعہ اور استحکامِ معاشرت کا وسیلہ ہے۔ اس سے بڑی اور کوئی ستم ظریفی نہیں ہو سکتی کہ جہاد کو دہشت گردی قرار دیا جائے اور اسلام کو ایک انتہا پسندانہ نظریہ قرار دیا جائے۔ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے اور جہاد ایک تعمیری اور مثبت حکمت ِعملی ہے جس کا مقصد فساد اور دہشت گردی کو ختم کرنا ہے۔ دنیا کے دہشت گرد اسلام کو اور اس کے ادارہ جہاد کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں کہ اسلام اپنے روحانی نظام اور ربانی ہدایت کے امین ہونے کی وجہ سے کفر کے غلبے کی راہ میں رکاوٹ ہے اور جہاد اس لیے کہ یہ مسلمانوں کو اپنی جان و مال، عزت و آبرو اور گھر بار اور وطن و مملکت کے دفاع کا حکم دیتا ہے۔ کفر یہ چاہتا ہے کہ مسلم نہتے، بے بس اور بے ہمت ہو کر ہزیمت خوردہ رہیں۔ انہیں جب چاہیں شکار کر لیا جائے۔
اسلام امن و سلامتی کا دین ہے، جارحیت اور دہشت گردی کے خلاف ہے،لیکن اپنے ماننے والوں کو عزت و وقار کی زندگی کے لیے دفاع کا حکم دیتا ہے اور اس کے لیے مکمل تیاری پر آمادہ کرتا ہے۔ ارشادِ باری ہے :
﴿وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِه عَدُوَّاللّٰهِ وَعَدُوَّکُمْ وْاٰخَرِیْنَ مِنَ دُوْنِھِمْ لاَ تَعْلَمُوْنَھُمْ اَللّٰہُ یَعْلَمُھُمْ﴾ (الانفال:۶۰) ''اور جہاں تک ہو سکے اپنی قوت اور گھوڑوں کو تیار رکھتے ہوئے ان کے لیے مستعد رہو کہ اس سے اللہ کے دشمنوں اور ان کے سوا اور لوگوں پر جن کو تم نہیں جانتے اللہ جانتا ہے ہیبت بیٹھی رہے گی۔''