Pages from Muhaddis May 2017-2

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

رمضان المبارک ایسا عظیم اوربابرکت مہینہ ہے جس میں مسلمانوں کے دل اللّٰہ کی بندگی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اس ماہ میں شیاطین کی جکڑبندی، بارانِ رحمت کے نزول، روزے کی کیفیت اور تراویح وغیرہ میں قرآن کریم پڑھنے پڑھانے سے ماحول پر تقدس کی فضا چھا جاتی اور نیکیوں کی طرف توجہ بڑھ جاتی ہے۔اس ماہ میں انفرادی اور اجتماعی طور پر بھی بہت سے نیک اعمال انجام دیے جاتے ہیں۔
ذیل کے دو حصوں میں باری باری ہر دو قسم کے اعمال کی شرعی اور مسنون حیثیت پیش کی جائے گی:
حصہ اوّل : انفرادی مسنون اعمال
1۔قرآنِ کریم اور رمضان المبارک
قرآن کریم میں ارشادِ ربانی ہے: ﴿شَهرُ رَمَضانَ الَّذى أُنزِلَ فيهِ القُرءانُ...﴿١٨٥﴾... سورة البقرة
’’رمضان کا مہینہ جس میں قرآن نازل کیا گیا۔‘‘
﴿إِنّا أَنزَلنـٰهُ فى لَيلَةِ القَدرِ ﴿١﴾ وَما أَدرىٰكَ ما لَيلَةُ القَدرِ ﴿٢﴾ لَيلَةُ القَدرِ خَيرٌ مِن أَلفِ شَهرٍ ﴿٣﴾... سورةالقدر                                 ’’ہم نے قرآن کو لیلۃ القدر میں نازل کیا، اور آپ کیا جانیں کہ لیلۃ القدر کیا ہے؟ لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔‘‘   
نبی کریمﷺ کے معمولات کے حوالے سے احادیث میں آتا ہے کہ رمضان میں آپﷺ قرآن کریم کا دور فرمایا کرتے، وفات والے سال آپ نے دو بار دور فرمایا:
«أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ بِالقُرْآنِ كُلَّ سَنَةٍ مَرَّةً، وَإِنَّهُ قَدْ عَارَضَنِي بِهِ العَامَ مَرَّتَيْنِ...»[1]
” جبریل ﷤ہر سال مجھ سے سال میں ایک مرتبہ دور کیا کرتے تھے لیکن اس سال مجھ سے اُنہوں نے دو مرتبہ دور کیا ...‘‘
’عرضہ ‘سے کیا مراد ہے؟ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں:
والمراد من معارضته له بالقرآن كل سنة مقابلته على ما أوحاه إليه عن الله تعالىٰ ليبقي ما بقي ويذهب ما نسخ توكيدا واستثباتا وحفظا. ولهذا عارضه في السنة الأخيرة من عمره عليه السلام على جبريل مرتين وعارضه به جبريل كذلك[2]
’’آپ کے ہرسال معارضہ (ایک دوسرے کو پیش کرنے) سے مراد یہ ہے کہ جبریل نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو آپ پر وحی کی، اس کا تقابل کرنا۔تاکہ جو باقی ہے وہ قائم رہے، اور جو منسوخ ہوچکا، اس کو ترک کردیا جائے، تاکید، پختگی اور یاددہانی کے طور پر۔اسی بنا پر نبی کریم ﷺ کی عمر کے آخری سال آپ نے جبریل پر اس کادوبار عرضہ کیا اور جبریل نے قرآن کا عرضہ ایسے ہی کیا۔‘‘
آپ ﷺ کا فرمان سیدنا عبد اللہ بن عمر ونے روایت کیا ہے:
«الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَقُولُ الصِّيَامُ: أَيْ رَبِّ، مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهَوَاتِ بِالنَّهَارِ، فَشَفِّعْنِي فِيهِ، وَيَقُولُ الْقُرْآنُ: مَنَعْتُهُ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ، فَشَفِّعْنِي فِيهِ»، قَالَ: «فَيُشَفَّعَانِ» [3]
’’روزہ اور قرآن بندے کے لئے روزِقیامت سفارش کریں گے، روزہ کہے گا : یاربّ! میں نے دن کو کھانے اور خواہشات سے اسے روکے رکھا، میری سفارش اس کے بارے میں قبول فرما۔ اور قرآن کہے گا: میں اسے رات کو سونے سے روکے رکھا، تو میری سفارش قبول فرما۔ تو نبی کریمﷺ نے فرمایاکہ دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘
اور قرآن میں سے سورۃ الملک کی سفارش اس حدیث میں مذكور ہے :
«سُورَةٌ مِنْ الْقُرْآنِ ثَلَاثُونَ آيَةً تَشْفَعُ لِصَاحِبِهَا حَتَّى يُغْفَرَ لَهُ ﴿تَبٰرَکَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ﴾»[4]
’’قرآن کریم کی ایک سورت تیس آیتوں والی ، اپنے پڑھنے والے کے لیے سفارش کرے گی ، حتیٰ کہ اسے بخش دیا جائے گا   : ﴿تَبـٰرَكَ الَّذى بِيَدِهِ المُلكُ﴾ ‘‘
رمضان المبارک میں قرآن کریم ختم کرنا
رمضان المبارك میں قرآن کریم مکمل کرنا مستحب ہے، جیسا کہ شیخ ابن باز فرماتے ہیں:
كان الإمام أحمد رحمه الله يحب ممن يؤمّهم أن يختم بهم القرآن ، وهذا من جنس عمل السلف في محبة سماع القرآن كله، ولكن ليس هذا موجباً لأن يعجل ولا يتأنى في قراءته، ولا يتحرى الخشوع والطمأنينة، بل تحري هذه الأمور أولى من مراعاة الختمة.[5]
’’امام احمد  ائمہ کے لئے پسندکرتے کہ وہ (رمضان میں)مکمل قرآن ختم کرے۔ اور اس کا تعلق سلف  کے پورے قرآن کے سماع کو پسند کرنے سے ہے۔یہ نہ ہو کہ جلدی کرتے ہوئے قراءت میں سکون کو نظرانداز کردیا جائے اور خشوع وطمانیت کی فکر نہ کی جائے بلکہ ان چیزوں کی پاسداری تکمیل قرآن سے زیادہ اہم ہے۔‘‘
حافظ ابن حجر لکھتے ہیں:
وقیل السبب فيه أن جبريل كان يعارضه بالقرآن في كل رمضان مرة فلما كان العام الذي قبض عارضه مرتين فلذلك اعتكف قدر ما كان يعتكف مرتين[6]
’’[بیس دن اعتکاف كا] سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ سیدنا جبریل نبی کریمﷺ سے ہررمضان میں ایک بار قرآن کریم کا دور کیا کرتے۔ جس سال آپ کی وفات ہوئی، تو جبریل نے آپ سے دو بار دور کیا، چنانچہ آپ نے اس سال اعتکاف بھی دو اعتکاف کی مدت کے برابر کیا۔‘‘
شیخ محمد ابن عثیمین کہتے ہیں:
"ختم القرآن في رمضان للصائم ليس بأمر واجب، ولكن ينبغي للإنسان في رمضان أن يكثر من قراءة القرآن، كما كان ذلك سنة رسول الله ﷺ، فقد كان عليه الصلاة والسلام يدارسه جبريل القرآن كل رمضان. [7]"
’’رمضان میں صائم کے لئے قرآن ختم کرنا واجب نہیں، تاہم انسان کو رمضان میں زیادہ سے زیادہ قرآن پڑھنا چاہیے کیونکہ یہ نبی کریمﷺ کی سنت ہے کہ آپ پورا رمضان جبریل سے قرآن کا دور کیاکرتے۔‘‘
ختم قرآن کی کم سے کم مدت کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عمرو سے مروی ہے ، انہوں نے عرض کیا:
يَا رَسُولَ الله! فِي كَمْ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ فِي شَهْرٍ. قَالَ إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ. يُرَدِّدُ الْكَلَامَ أَبُو مُوسَى وَتَنَاقَصَهُ حَتَّى قَالَ: «اقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ» قَالَ إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: «لَا يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَهُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ»[8]
’’اے اللہ کے رسول ! میں کتنے دنوں میں قرآن پڑھوں ؟ آپ ﷺنے فرمایا ” ایک مہینے میں۔‘‘ انہوں نے کہا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ ابوموسیٰ ( ابن مثنیٰ ) نے یہ جملہ بار بار دہرایا ۔ یعنی اُنہوں نے اس مدت میں کمی چاہی ۔ بالآخر آپ ﷺنے فرمایا :” سات دنوں میں پڑھو ۔ “ انہوں نے کہا : میں اس سے بھی زیادہ طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ ﷺنے فرمایا ” جس شخص نے تین دن سے کم میں قرآن پڑھا ، اس نے اسے سمجھا ہی نہیں ۔ “
صحیح بخاری میں یہی واقعہ 5052 نمبر حدیث کے تحت آیا ہے جس میں سیدنا عبد اللہ نے بڑھاپے میں کہا کہ کاش میں نبی مکرّم ﷺ کی دی ہوئی رخصت قبول کرلیتا، پھر اس عمر میں وہ سات روز میں قرآن ختم کیا کرتے۔
رمضان میں قرآن کریم ختم کرنے کے بارے میں سلف کی مختلف عادات کا جو ذکر آتا ہے کہ مجاہد رمضان کی ہر رات قرآن ختم کیا کرتے، اور امام شافعی رمضان میں 60 بار قرآن کریم ختم کرتے، اَسود رمضان کی ہر دوسری رات قرآن ختم کرتے، اور قتادہ رمضان کی ہر تیسری رات، آخری عشرے میں ہررات کو قرآن ختم کرتے وغیرہ وغیرہ۔ تو یہ روایتیں ثبوت کی محتاج اور مذکورہ بالا حدیث کے منافی بھی ہیں۔ اور اس کی یہ توجیہ کہ نبی   کریمﷺ کا حکم رمضان کے بارے میں نہیں تھا، بلادلیل ہے۔ جبکہ نبی کریمﷺ کا مسنون عمل تو رمضان میں ایک یا دو بار ختم کرنا ہی ہے ۔
ماہ بھر میں قرآن کریم کو ختم کرنے میں یہ بھی امکان ہے کہ نبی کریمﷺ رمضان کی تیس راتوں میں تیس پاروں کو تقسیم کردیتے ہوں، تاکہ اس طرح قرآن کی برکت پورے ماہ رمضان پر پھیل جائے، اور یہ عبادت ایک توازن وتسلسل کے ساتھ اس طرح جاری رہے ۔
2۔ قیام اللیل میں لمبی تلاوتِ قرآن
رمضانِ کریم نزولِ قرآن کا مہینہ ہے، لیلۃ القدر اِس کی عظیم ترین رات ہے جس کی عظمت بھی نزولِ قرآن کے مرہونِ منت ہے۔اس مہینہ کو قرآنِ کریم سے خاص مناسبت حاصل ہے، اس کو شهر الصوم کے ساتھ شهر القرآنبھی کہا جاسکتا ہےکیونکہ روزہ اور قیام اللیل اس کے دو خاص شعار ہیں۔ اور قیام اللیل میں کثرتِ رکعات کی بجائے طولِ قیام زیادہ اہم ہے جس میں تلاوتِ قرآن ہی کی جاتی ہے۔ جیساکہ ارشاد باری ہے :
﴿قُمِ الَّيلَ إِلّا قَليلًا ﴿٢﴾ نِصفَهُ أَوِ انقُص مِنهُ قَليلًا ﴿٣﴾ أَو زِد عَلَيهِ وَرَتِّلِ القُرءانَ تَرتيلًا ﴿٤﴾... سورة المزمل
’’ کچھ حصہ کے سوا، رات بھر قیام کر۔نصف رات یا اس سے کچھ کم کرلے۔اور قرآن کریم کی ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کر۔‘‘                   [المزمل: 2 - 4]
«مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»[9]
’’جو کوئی رمضان میں ( راتوں کو ) ایمان رکھ کر اور ثواب کے لیے قیام کرے تو اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔‘‘
فَقَالَ: «إِنَّهُ مَنْ قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ كُتِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ»[10]
’’جس نے امام کے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ وہ فارغ ہوجائے تو اس کے لیے پوری رات کاقیام لکھا جائے گا۔‘‘
اس حدیث سے یہ بھی علم ہوتا ہے کہ تراویح باجماعت پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔
یہی اجر رمضان المبارک کے بعد بھی ایک اور صورت میں جاری رہتا ہے ، فرمانِ نبوی ہے:
«مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَمَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فِي جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا صَلَّى اللَّيْلَ كُلَّهُ»[11]
’’ جس نے عشا کی نماز باجماعت ادا کی تو گویا اس نے آدھی رات کا قیام کیا اور جس نےصبح کی نماز (بھی) جماعت کے ساتھ پڑھی تو گویا اس نے ساری رات نماز پڑھی۔‘‘
روزہ ،قیام اللیل اور تلاوتِ قرآن اس ماہ کے خاص اعمال ہیں۔ جہاں تک تلاوتِ قرآنِ کریم ہے تو نبی کریم کی تلاوت کی کیفیت یہ ہوتی تھی کہ آپ بعض اوقات کئی کئی پارے ایک رکعت میں پڑھ جایا کرتے۔ اور تلاوت کے دوران اس کے معانی میں غور وفکر کرتے جیسا کہ سیدنا حذیفہ روایت کرتے ہیں کہ
صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ، ثُمَّ مَضَى، فَقُلْتُ: يُصَلِّي بِهَا فِي رَكْعَةٍ، فَمَضَى، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ بِهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ، فَقَرَأَهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ، فَقَرَأَهَا، يَقْرَأُ مُتَرَسِّلًا، إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَسْبِيحٌ سَبَّحَ، وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ، وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَجَعَلَ يَقُولُ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ»، فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ قَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»، ثُمَّ قَامَ طَوِيلًا قَرِيبًا مِمَّا رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، فَقَالَ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى»، فَكَانَ سُجُودُهُ قَرِيبًا مِنْ قِيَامِهِ. [12]
’’میں نے ایک رات نبی کریمﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے سورۃ البقرۃ سے آغاز کیا۔ میں نے سوچا کہ آپ سو آیات پڑھ کر رکوع کرلیں گے، آپ کی تلاوت جاری رہی۔میں نے سوچا کہ اس سورۃ کو ایک رکعت میں ختم کرلیں گے۔ آپ کی تلاوت جاری رہی، پھر آپ نے سورۃ النساء کا آغاز کردیا، اس کو پڑھا، پھر سورۃ آل عمران کا آغاز کردیا، اس کوبھی پڑھا۔ آپ ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتے۔ جب بھی کسی تسبیح والی آیت سے گزرتے تو اللّٰہ کی تسبیح بیان کرتے، جب بھی کسی سوال کی آیت سے گزرتے تو اللّٰہ سے مانگتے، اور جب بھی کسی پناہ والی آیت پر پہنچتے تو اللّٰہ سے پناہ طلب کرتے۔ پھر آپ نے رکوع کیا۔آپ کا رکوع آپ کے قیام کے برابر ہی طویل تھا، پھر سمع اللّٰہ لمن حمدہ کہا جو رکوع کے برابر لمبا تھا، پھر سجدہ کیا اور سبحان ربی الاعلیٰ کہا، آپ کے سجدے بھی قیام کے بقدر لمبے تھے۔‘‘
3۔تلاوت کے دوران آیات میں تدبر وتفکر
اور نزول قرآن کے مقاصد میں اس میں تدبر کرنا بھی شامل ہے، جیسا کہ قرآ ن کریم میں ہے :
﴿كِتـٰبٌ أَنزَلنـٰهُ إِلَيكَ مُبـٰرَكٌ لِيَدَّبَّروا ءايـٰتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُوا الأَلبـٰبِ ﴿٢٩﴾... سورةص
’’ہم نے یہ مبارک کتاب آپ پر اس لئے اُتاری تاکہ آپ اس کی آیات میں غور وفکر کریں اور
عقل مند لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں۔‘‘
﴿ أَفَلا يَتَدَبَّرونَ القُرءانَ وَلَو كانَ مِن عِندِ غَيرِ اللَّهِ لَوَجَدوا فيهِ اختِلـٰفًا كَثيرًا ﴿٨٢﴾... سورةالنساء
’’کیا یہ قرآن میں تدبر نہیں کرتے۔ اگر یہ قرآن اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یہ اس میں بہت سے اختلاف پاتے۔‘‘
اور نبی کریم کی تلاوتِ قرآن کے ساتھ قرآن میں تدبر کرنا اور آیات کو دہرانا بھی شامل تھا، جیسا کہ سیدنا عوف بن مالک﷜ سے مروی ہے کہ
كُنْتُ مَعَ رَسُولِ الله ﷺ لَيْلَةً فَاسْتَاكَ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ مَعَهُ فَبَدَأَ فَاسْتَفْتَحَ الْبَقَرَةَ فَلَا يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ فَسَأَلَ، وَلَا يَمُرُّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ فَتَعَوَّذَ، ثُمَّ رَكَعَ فَمَكَثَ رَاكِعًا بِقَدْرِ قِيَامِهِ، وَيَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: «سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْـمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ» ، ثُمَّ سَجَدَ بِقَدْرِ رُكُوعِهِ، وَيَقُولُ فِي سُجُودِهِ: «سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ» ثُمَّ قَرَأَ آلَ عِمْرَانَ ثُمَّ سُورَةً سُورَةً يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ[13]
’’میں رسو ل اللّٰہ ﷺکے پاس ایک رات موجود تھا۔ آپ نے مسواک کرکے وضو کیا اور نماز کے لیے کھڑے ہوگئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ ہی کھڑا ہوگیا۔ آ پ نے سورۃ البقرۃ سے آغاز کیا۔ آپ کسی آیتِ رحمت سے نہ گزرتے مگر وہاں رک کر اللّٰہ کی رحمت کا سوال کرتے۔ اور کسی آیت عذاب سے نہ گزرتے مگر رک کر اللّٰہ عزوجل سے پناہ مانگتے۔پھر رکوع کیا تو اس کا دورانیہ قیام کے بقدر تھا اور اپنے رکوع میں یہ دعا ... پڑھی۔ پھر سجدہ کیا تو اس میں رکوع کے بقدر وقفہ کیا اور سجدوں میں یہ دعا «سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْـمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ»پڑھی۔ پھر آپ نے [اگلے قیام میں ]سورۃ آلِ عمران کی تلاوت کی، پھر کوئی اور سورت، پھر کوئی اور... اور ہر سورۃ میں ایسے ہی کرتے۔‘‘
آپ ﷺ نماز میں آیات کے معانی پر غور کرتے ہوئے آیات کو دہرایا کرتے، جیساکہ ابوذرّ غفاری ﷜سے مروی ہے :
«قَامَ النَّبِيُّ ﷺ بِآيَةٍ حَتَّى أَصْبَحَ يُرَدِّدُهَا» وَالْآيَةُ: ﴿إِن تُعَذِّبهُم فَإِنَّهُم عِبادُكَ وَإِن تَغفِر لَهُم فَإِنَّكَ أَنتَ العَزيزُ الحَكيمُ ﴿١١٨﴾... سورة المائدة[14]
’’ایک رات نبی ﷺ نے قیام کیا، تو ساری رات گزر گئی اور اسی آیتِ کریمہ کو آپ دہراتے رہے کہ ’’یاالٰہی! یہ تیرے ہی بندے ہیں، اگر تو انہیں معاف کردے تو تو غالب ودانا ہے۔‘‘
آپ قرآنی آیات میں غور وفکر فرمایا کرتے، اور تلاوتِ قرآن کے دوران بہت زیادہ رویا کرتے، جیساکہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں :
لَمــَّا كَانَ لَيْلَةٌ مِنَ اللَّيَالِي قَالَ: «يَا عَائِشَةُ! ذَرِينِي أَتَعَبَّدُ اللَّيْلَةَ لِرَبِّي». قُلْتُ: وَالله إِنِّي لَأُحِبُّ قُرْبَكَ وَأُحِبُّ مَا سَرَّكَ. قَالَتْ: فَقَامَ فَتَطَهَّرَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي. قَالَتْ: فَلَمْ يَزَلْ يَبْكِي حَتَّى بَلَّ حِجْرُهُ. قَالَتْ: ثُمَّ بَكَى فَلَمْ يَزَلْ يَبْكِي حَتَّى بَلَّ لِحْيَتَهُ. قَالَتْ: ثُمَّ بَكَى فَلَمْ يَزَلْ يَبْكِي حَتَّى بَلَّ الْأَرْضُ. فَجَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ. فَلَمَّا رَآهُ يَبْكِي. قَالَ يَا رَسُولَ الله! لِمَ تَبْكِي وَقَدْ غَفَرَ الله لَكَ مَا تَقَدَّمَ وَمَا تَأَخَّرَ. قَالَ: «أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا لَقَدْ نَزَلَتْ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ آيَةٌ وَيْلٌ لِمَنْ قَرَأَهَا وَلَمْ يَتَفَكَّرْ فِيهَا: ﴿اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِۚۙ﴾ الآية كلها»[15]
’’راتوں میں سے ایک رات نبی کریم ﷺ کہنے لگے: عائشہ! مجھے آج اپنے ربّ کی بندگی کرلینے دو۔ میں نے کہا: واللّٰہ ! مجھے آپ کی قربت بڑی عزیز ہے لیکن آپ کی خوشی بھی مجھے محبوب ہے۔ کہتی ہیں کہ آپ کھڑے ہوگئے اور وضو کیا۔کہتی ہیں کہ نماز میں روتے رہے حتی کہ آپ کی گود تر ہوگئی۔پھر کہتی ہیں کہ روتے رہے حتی کہ ڈاڑھی مبارک بھی بھیگ گئی۔ پھر روتے رہے اور اتنا روئےحتی کہ زمین بھی گیلی ہوگئی۔ پھر بلال آگئے ، نماز کی اطلاع دینے کے لیے۔ جب انہیں روتے دیکھا تو کہا: یارسول اللّٰہ ! آپ کیوں روتے ہیں؟ اللّٰہ نے آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کردیے ہیں۔ تو جواب دیا: میں اللّٰہ کا شکرگزار بندہ کیوں نہ بنوں!! آج رات مجھ پر ایسی آیت نازل ہوئی ، افسوس اس پر جو اس کو پڑھے لیکن اس میں غور وفکر نہ کرے۔ ‘‘
حافظ ابن قیم حدیث خيركم من تعلّم القرآن وعلّمه كی تشريح كرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وَتعلّم الْقُرْآن وتعليمه يتَنَاوَل تعلم حُرُوفه وَتَعْلِيمهَا وَتعلم مَعَانِيه وَتَعْلِيمهَا وَهُوَ أشرف قسمي علمه وتعليمه فَإِن الْمَعْنى هُوَ الْمَقْصُود وَاللَّفْظ وَسِيلَة إليه. فتعلّم الْمَعْنى وتعليمه تعلّم الْغَايَة وَتَعْلِيمهَا وَتعلم اللَّفْظ الْمُجَرّد وتعليمه تعلم الْوَسَائِل وَتَعْلِيمهَا وَبَينهمَا كَمَا بَين الغايات.[16]
’’قرآن کو سیکھنےسکھانے میں اس کے حروف ومعانی کو سیکھنا سکھانا بھی شامل ہے۔ یہ قرآن کو سیکھنے سکھانے کے دو مبارک ترین علم ہیں۔کیونکہ معنی ہی تو مقصود ہے، اور الفاظ اس مقصد کا وسیلہ ہیں۔گویا معنی سیکھنا سکھانا، تو اصل مقصد کو سیکھنا سکھانا ہے اور اکیلے الفاظ کو سیکھنا سکھانا، وسائل کو سیکھنا سکھانا ہوا۔ اور دونوں کے مابین وہی فرق ؍فاصلہ ہے جو مقصد اور وسائل کے مابین ہوتا ہے۔‘‘
حافظ ابن قیم نے تلاوت قرآن کووسیلہ ؍ذریعہ اور آیات میں تدبر وتذکیر کو اصل مقصد بتایا ہے، اور ان کا یہ موقف اوپر مذکور سورۃ ص کی آیت :29 اور سورۃ محمد کی آیت : 24 کی بنا پر ہے جس میں نزولِ قرآن کا مقصد تدبر وتذکیر قرار دیا گیا ہے۔
علامہ ابن تیمیہ معانی قرآن کی اہمیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وَأَمَّا النَّوْعُ الثَّانِي: الْجُهَّالُ. فَهَؤُلَاءِ الْأُمِّيُّونَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ الْكِتَابَ إلَّا أَمَانِيَّ وَإِنْ هُمْ إلَّا يَظُنُّونَ. فَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وقتادة فِي قَوْلِهِ: ﴿وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ﴾ أَيْ غَيْرُ عَارِفِينَ بِمَعَانِي الْكِتَابِ يَعْلَمُونَهَا حِفْظًا وَقِرَاءَةً بِلَا فَهْمٍ وَلَا يَدْرُونَ مَا فِيهِ.
وَقَوْلُهُ: ﴿إلَّا أَمَانِيَّ﴾ أَيْ تِلَاوَةً فَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ فِقْهَ الْكِتَابِ إنَّمَا يَقْتَصِرُونَ عَلَى مَا يَسْمَعُونَهُ يُتْلَى عَلَيْهِمْ. قَالَهُ الْكِسَائِيُّ وَالزَّجَّاجُ وَكَذَلِكَ قَالَ ابْنُ السَّائِبِ لَا يُحْسِنُونَ قِرَاءَةَ الْكِتَابِ وَلَا كِتَابَتَهُ إلَّا أَمَانِيَّ إلَّا مَا يُحَدِّثُهُمْ بِهِ عُلَمَاؤُهُمْ.
وَقَالَ أَبُو رَوْقٍ وَأَبُو عُبَيْدَةَ أَيْ تِلَاوَةً وَقِرَاءَةً عَنْ ظَهْرِ الْقَلْبِ وَلَا يَقْرَءُونَهَا فِي الْكُتُبِ فَفِي هَذَا الْقَوْلِ جَعْلُ الْأَمَانِيِّ الَّتِي هِيَ التِّلَاوَةُ تِلَاوَةَ الْأُمِّيِّينَ أَنْفُسِهِمْ وَفِي ذَلِكَ جَعْلُهُ مَا يَسْمَعُونَهُ مِنْ تِلَاوَةِ عُلَمَائِهِمْ وَكِلَا الْقَوْلَيْنِ حَقٌّ وَالْآيَةُ تَعُمُّهُمَا.[17]
’’اور دوسری قسم جاہلوں کی ہے ۔ ایسے ان پڑھ جو قرآن سے اپنی خواہشات کے سوا کچھ نہیں جانتے اور گمان کے سوا کچھ نہیں کرتے۔سیدنا ابن عباس اور قتادۃ سے ﴿وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ﴾کے بارے میں مروی ہے کہ ’’ وہ قرآن کے معانی کو نہیں جانتے، وہ صرف قرآن کو سمجھے بغیر بطورِ حفظ وتلاوت پڑھ سکتے ہیں اور اس میں کیا احکام ہیں، اس کا انہیں کچھ پتہ نہیں۔اور قرآنی لفظ ﴿إلَّا أَمَانِيَّ﴾ کا مطلب ہے تلاوت کرنا، وہ قرآن کے معانی نہیں سمجھتے، جس قدر ان پرقرآن پڑھا جاتا ہے، وہ اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔ امام کسائی ، زجاج اور ایسے ہی ابن سائب نے کہا کہ وہ قرآن کو اچھی طرح پڑھ لکھ نہیں سکتے، سوائے اپنی من پسند بات کے اور جو ان کے علما ان کو بتلا دیتے ہیں۔
اور ابو روق، ابو عبیدہ کہتے ہیں کہ دل کے حافظے سے قرآن کی تلاوت وقراءت کرنا، اور مصحف کو دیکھ کر نہ پڑھنا۔ اس قول میں خواہشات یعنی محض تلاوت کو خود ان پڑھوں کی تلاوت کہا گیا ہے اور اس میں جو وہ اپنے علما کی تلاوت سننےپر اکتفا کرتے ہیں، اس کو بھی خواہشات کہا گیا ہے، اور دونوں معانی ہی درست ہیں اور یہ آیت دونوں معانی کو حاوی ہے۔‘‘
تبصرہ: حافظ ابن قیم کا یہ موقف تو قرآنی دلیل کی بنا پر معتبر ہے کہ نزولِ قرآن کا اصل مقصد تدبر وتذکیر ہے جبکہ تلاوتِ قرآن کا علم بھی اَشرف علوم میں سے ہے۔ تاہم حافظ ابن تیمیہ نے جو تلاوتِ قرآن کوجاہلوں اور من پسند خواہشات کا مصداق بتایا اور اس پر بعض ماثور تفاسیر ذکر کی ہیں تو اکیلی تلاوتِ قرآن کو سیاقِ ذمّ میں بیان کرنامحل نظر ہے کیونکہ تلاوتِ قرآن تو پہلا نبوی فریضہ اور اس کو بلا ترجمہ پڑھنا بھی باعثِ ثواب ہے ، جیسا کہ تلاوت کے ثواب کی مثالی نبی کریم نے غیر واضح المعنی لفظ اَ لـم سے دی ہے اور قرآن کریم اللہ کے مبارک کلمات اور غیر مخلوق ہیں اور یہ ان الفاظِ الٰہی کا خاصہ ہے۔ مشہور منکرِحدیث غلام احمد پرویز کا موقف ہے کہ نزولِ قرآن کا مقصد فہم وتدبر ہی ہے اور تلاوت کی کوئی معنویت نہیں۔الغرض نزولِ قرآن کے مقاصد میں تلاوت، فہم وتدبر، اس پر عمل کرنا شامل ہیں۔ اور اوّلین مقصد فہم وتدبر ہے، جبکہ باقی مقاصد بھی مشروع اور باعث ثواب ہیں۔
4۔ کثرتِ دعا واستغفار
گویا (1) روزہ، (2) تلاوتِ قرآن، (3) قیام اللیل اور لمبا قیام، اور (5) قرآن کے معانی میں تدبرکرنا سب رمضان کے خاص اعمال ہوئے۔ مزید برآں روزے کے دوران اورمبارک ترین اوقات میں (6) دعا کی تلقین بھی کی گئی۔ روزے دار کی دعا کی خاص اہمیت سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم نے فرمایا:
«ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ: الْإِمَامُ الْعَادِلُ وَالصَّائِمُ حِينَ يُفْطِرُ وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ يَرْفَعُهَا فَوْقَ الْغَمَامِ وَتُفَتَّحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ»[18]
’’تین لوگوں کی دعائیں ردنہیں کی جاتیں : پہلا امام عادل ہے، دوسرا صائم جب وہ افطار کرے، اور تیسرا مظلوم جب کہ وہ بددعا کرتاہے، اللہ تعالیٰ (اس کی بددعاکو) بادل کے اوپر اُٹھالیتا ہے، اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے: قسم ہے میری عزت کی میں ضرور تیری مدد کروں گا، اگر چہ کچھ دیر بعد ہی سہی۔‘‘
امام نووی اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
يستحب للصائم أن يدعو في حال صومه بمهمات الآخرة والدنيا له ولمن يحب وللمسلمين لحديث أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: «ثلاثة لا تردّ دعوتهم الصائم حتى يفطر والامام العادل والمظلوم» رواه الترمذي وابن ماجه. قال الترمذي: حديث حسن. وهكذا الرواية حتى بالتاء المثناة فوق فيقتضى استحباب دعاء الصائم من أول اليوم إلى آخره لأنه يسمى صائمًا في كل ذلك[19]
’’روزے دار کے لئے مستحب ہے کہ اس حدیثِ ابوہریرہ کی بنا پر اپنے روزے کے دوران دنیا وآخرت کی اہم چیزوں اور اپنے ودیگر مسلمانوں کے لئے پسندیدہ چیزوں کی دعا کرے ۔ یہ حدیث امام ترمذی کے نزدیک حسن ہے۔ اور اس روایت میں حَتّٰی( اوپر کے دو نقطوں کے ساتھ) تقاضا کرتا ہے کہ روزے دار کی دعا صبح اوّل یوم سے آخر تک مستحب ہو، کیونکہ وہ سارا دن ہی روزے دار کہلاتا ہے۔‘‘
یہ حدیث سنن ترمذی میں دو بار آئی ہے اور سنن ابن ماجہ[20] میں بھی ہے۔ تاہم سنن ترمذی میں ایک بار "حِیْنَ يُفْطِرَ"کے الفاظ سے ہے اور دوسری بار "حَتَّى يُفْطِرَ"[21]کے الفاظ ہیں جیسا کہ اوپر گذری۔ اور دونوں کو شیخ البانی نے صحیح قرار دیا ہے جس میں حِیْنَ کی صحت کے لئے زیادہ طاقتور الفاظ استعمال کئے ہیں جبکہ سنن ابن ماجہ میں بھی حَتّٰی کے الفاظ آئے ہیں۔ حَتّٰی کے الفاظ کا مطلب یہ ہوا کہ روزے دار کی سارا دن بشمول افطاری کے وقت دعا قبول ہوتی ہے، اور حِین کا مطلب ہے کہ افطاری کے وقت صائم کی دعا ردّ نہیں ہوتی۔سنن ابن ماجہ کے شارح امام سندی لکھتے ہیں :
قَوْلُهُ "حَتَّى يُفْطِرَ" يَدُلُّ عَلَى أَنَّ دُعَاءَهُ تَمَامَ النَّهَارِ مُسْتَجَابٌ وَعَلَى هَذَا فَلَفْظُ الدَّعْوَةِ بِمَعْنَى الدُّعَاءِ لَا لِلْمَرَّةِ كَمَا هُوَ أَصْلُ الْبِنَاءِ وَالْأَقْرَبُ أَنَّ حَتَّى سَهْوٌ مِنْ بَعْضِ الرُّوَاةِ وَالصَّوَابُ حِينَ كَمَا يَدُلُّ عَلَيْهِ الْحَدِيثُ الْآتِي.[22]
’’نبی کریم کا فرمان "حَتَّى يُفْطِرَ"سے معلوم ہوا کہ سارا دن ہی اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔اس بنا پر دعوۃ سے مراد دعا ہے، نہ کہ صرف ایک دعا جیسا کہ لفظ کی اصل ساخت ہے۔ مناسب یہ ہے کہ یہاں لفظ حَتّی بعض راویوں کی غلطی ہے اور صحیح لفظ حِین ہے، جیسا کہ اگلی حدیث إِنَّ لِلصَّائِمِ عِنْدَ فِطْرِهِ بتاتی ہے۔‘‘
یہ اما م سندی ہی کی رائے ہے کہ صحیح لفظ حتی کی بجائے حین ہے، جبکہ حتی کا لفظ بھی اگر صحیح احادیث میں ثابت ہے تو اس کو مانتے ہوئے وسیع تر مفہوم بھی لیا جاسکتا ہے۔ اب افطاری کے وقت قبولیت دعا پر حَتّٰی کا لفظ دال ہے اور حِین کا لفظ بھی ، جبکہ افطاری کے وقت دعا کی قبولیت کی خاص گھڑی والی حدیث ضعیف ہے:«إِنَّ لِلصَّائِمِ عِنْدَ فِطْرِهِ لَدَعْوَةً مَا تُرَدُّ».
قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الله بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ إِذَا أَفْطَرَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ أَنْ تَغْفِرَ لِي.[23]
’’روزے دار کے لیے روزہ کھولتے وقت ایک دعا ایسی ہوتی ہے جو رد نہیں ہوتی۔‘‘ عبداللہ بن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو ؓ کو روزہ افطار کرتے وقت یوں کہتے سنا: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ أَنْ تَغْفِرَ لِي’اے اللہ! میں تجھ سے تیری اس رحمت کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جس نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے کہ تو میری مغفرت فرما دے۔‘‘
یہ حدیث ضعیف ہے، جیسا کہ شیخ البانی نے إرواء الغلیل (رقم 921) اور ضعیف الجامع (رقم 1965) میں اس کی صراحت کی ہے۔اسی طرح اس حدیث میں سیدنا عبد اللہ بن عمرو کی جو دعا مذکور ہے، وہ بھی افطار سے پہلے کی بجائے عین افطار کے وقت کی ہے۔ تاہم دیگر مذکوراحادیث کی بنا پر افطاری کے وقت کی دعا کی بھی خاص اہمیت ہے۔واللہ اعلم
ایسے ہی شبِ قدر کے بارے نبی کریمﷺ سے سیدہ عائشہ نے پوچھا :
يَا رَسُولَ الله! أَرَأَيْتَ إِنْ عَلِمْتُ أَيُّ لَيْلَةٍ لَيْلَةُ الْقَدْرِ مَا أَقُولُ فِيهَا. قَالَ: «قُولِي اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ كَرِيمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي»[24]
’’میں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے تو میں اس میں کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا:’’ پڑھو ، اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي’اے اللہ ! تو عفو ودر گزر کرنے والا ہے، اور عفو و درگزر کرنے کو توپسند کرتاہے، اس لیے تو ہمیں معاف اور ہم سے درگزر کردے۔‘‘
رمضان كا اختتام صدقۃ الفطر پر ہوتا ہے، جو طُهرة للصائم ہوتے ہوئے وجہ مغفرت بھی ہے۔[25]
5۔ انفاق فی سبیل اللہ
روزے دار کی افطاری کراناانفاق فی سبیل اللہ بھی ہے، اور خصوصی عمل بھی ، چنانچہ فرمانِ نبوی ہے:
«مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْئًا»[26]
’’جس نے کسی صائم کو افطار کرایا تو اسے بھی اس کے برابر ثواب ملے گا، بغیر اس کے کہ صائم کے ثواب میں سے ذرا بھی کم کیاجائے۔‘‘
رمضان میں نبی ﷺانفاق فی سبیل اللہ میں بھی کثرت فرمایا کرتے، سیدنا ابن عباس سے مروی ہے:
«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ، وَكَانَ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ القُرْآنَ، فَلَرَسُولُ الله ﷺ أَجْوَدُ بِالخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ المُرْسَلَةِ»[27]
’’رسول اللہ ﷺ سب لوگوں سے زیادہ جواد ( سخی ) تھے اور رمضان میں ( دوسرے اوقات کے مقابلہ میں جب ) جبرئیل علیہ السلام آپ ﷺ سے ملتے، بہت ہی زیادہ جود و کرم فرماتے۔ جبرئیل علیہ السلام رمضان کی ہر رات میں آپ ﷺ سے ملاقات کرتے اور آپ ﷺکے ساتھ قرآن کا دورہ کرتے، غرض آنحضرت ﷺلوگوں کو بھلائی پہنچانے میں بارش لانے والی ہوا سے بھی زیادہ جود و کرم فرمایا کرتے تھے۔‘‘
حدیثِ مبارکہ میں جُود کا لفظ آیا ہے کہ نبی کریم ﷺرمضان میں اَجود ہوتے، جُود سے کیا مراد ہے؟ جُود کا مطلب ہے : فیاضی اور یہ فیاضی مال اور علم دونوں کو شامل ہے... حافظ ابن قیم لکھتے ہیں:
 الجود بالعلم وبذله وهو من أعلى مراتب الجود والجود به أفضل من الجود بالمال لأن العلم أشرف من المال[28]
’’علم کے ساتھ فیاضی اوراس کو صرف کرنا، جُود کی اعلیٰ ترین قسم ہے۔علمی فیاضی ، مالی فیاضی سے افضل ہے، کیونکہ علم بھی مال سے افضل ہے۔‘‘
علامہ احمد بن عبد الحلیم ابن تیمیہ فرماتے ہیں:
كما أن لله ملائكة موكلة بالسحاب والمطر فله ملائكة موكلة بالهدى والعلم هذا رزق القلوب وقوتها وهذا رزق الأجساد وقوتها. قال الحسن البصري في قوله تعالى: ﴿وَمِمَّا رَزَقنَاهُم يُنفِقُونَ﴾. قال: إن من أعظم النفقة نفقة العلم أو نحو هذا الكلام وفي أثر آخر: نعمت العطية ونعمت الهدية الكلمة من الخير يسمعها الرجل فيهديها إلى أخ له مسلم [29].
’’جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو بادلوں اور بارش کی ڈیوٹی سونپی ہوئی ہے، ایسے ہی اس کے فرشتے ہدایت وعلم پھیلانے کے بھی ذمہ داربنائے گئے ہیں۔ علم تو دلوں کا رِزق وتوشہ ہے   جبکہ بادل وبارش اَجساد کا رزق و توشہ ہیں۔امام حسن بصری اللہ کے اس فرمان: ’’جو ہم نے رزق دیا، وہ اس سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘ کے بارے میں کہتے ہیں کہ سب سے بڑی سخاوت علم کا صدقہ ہے۔ اور ایک دوسرے اَثر میں ہے کہ بہترین عطیہ اورتحفہ اچھی بات بتادینا ہے، کہ کوئی شخص اسے سن کر اپنے مسلمان بھائی تک پہنچا دے۔‘‘
گویا نبی کریمﷺ کی فیاضی رمضان میں صرف صدقات پر منحصر نہیں، بلکہ ہرقسم کی جود وسخا میں آپ سب سے بڑھ جاتے۔اور اس سخاوت میں مال کے ساتھ علمی سخاوت بھی شامل ہے۔اور رمضان میں آپ کا جود وسخا مال کے ساتھ علم وفضل میں بھی بڑھ جاتا تھا۔
6۔ رمضان میں عمرہ
رمضان میں عمرہ کی بھی خاص اہمیت اور فضیلت ہے، نبی کریم ﷺکا فرمان ہے :
«فَإِذَا كَانَ رَمَضَانُ اعْتَمِرِي فِيهِ فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ حَجَّةٌ» أَوْ نَحْوًا مِمَّا قَالَ[30]
’’ رمضان آئے تو عمرہ کرلینا، کیوں کہ رمضان کا عمرہ ایک حج کے برابر ہوتا ہے ۔‘‘
7۔ اعتکاف
سیدنا ابوہریرہ ﷜سے مروی ہے:
كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَعْتَكِفُ فِي كُلِّ رَمَضَانَ عَشْرَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ يَوْمًا[31]
’’رسول اللہ ﷺ ہر سال رمضان میں دس دن کا اعتکاف کیا کرتے تھے۔ لیکن جس سال آپ ﷺ کا انتقال ہوا، اس سال آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا تھا۔‘‘
8۔ رمضان میں نیک اعمال کے فضائل
رمضان میں نیک اعمال کی طرف پوری توجہ کی جائے اور اس ماہ زیادہ سے زیادہ اللہ کی عبادت کی جائے تو رمضان کی عبادت ، مسلمان کو شہید کے درجے سے بھی بڑھا دیتی ہے ، سیدنا طلحہ بن عبید اللہ سے مروی ہے:
أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ بَلِيٍّ قَدِمَا عَلَى رَسُولِ الله ﷺ، وَكَانَ إِسْلَامُهُمَا جَمِيعًا، فَكَانَ أَحَدُهُمَا أَشَدَّ اجْتِهَادًا مِنَ الْآخَرِ، فَغَزَا الْمُجْتَهِدُ مِنْهُمَا فَاسْتُشْهِدَ، ثُمَّ مَكَثَ الْآخَرُ بَعْدَهُ سَنَةً، ثُمَّ تُوُفِّيَ، قَالَ طَلْحَةُ: فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ: بَيْنَا أَنَا عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ، إِذَا أَنَا بِهِمَا، فَخَرَجَ خَارِجٌ مِنَ الْجَنَّةِ، فَأَذِنَ لِلَّذِي تُوُفِّيَ الْآخِرَ مِنْهُمَا، ثُمَّ خَرَجَ، فَأَذِنَ لِلَّذِي اسْتُشْهِدَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ، فَقَالَ: ارْجِعْ، فَإِنَّكَ لَمْ يَأْنِ لَكَ بَعْدُ، فَأَصْبَحَ طَلْحَةُ يُحَدِّثُ بِهِ النَّاسَ، فَعَجِبُوا لِذَلِكَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ الله ﷺ، وَحَدَّثُوهُ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: «مِنْ أَيِّ ذَلِكَ تَعْجَبُونَ؟» فَقَالُوا: يَا رَسُولَ الله! هٰذَا كَانَ أَشَدَّ الرَّجُلَيْنِ اجْتِهَادًا، ثُمَّ اسْتُشْهِدَ، وَدَخَلَ هَذَا الْآخِرُ الْجَنَّةَ قَبْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «أَلَيْسَ قَدْ مَكَثَ هَذَا بَعْدَهُ سَنَةً؟» قَالُوا: بَلَى، قَالَ: «وَأَدْرَكَ رَمَضَانَ فَصَامَ، وَصَلَّى كَذَا وَكَذَا مِنْ سَجْدَةٍ فِي السَّنَةِ؟» قَالُوا: بَلَى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «فَمَا بَيْنَهُمَا أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ»[32]
’’قبیلہ بَلِیِّ کے دو آدمی نبیﷺکے پاس (ہجرت کرکے مدینہ) آگئے۔ وہ دونوں اکٹھے مسلمان ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک دوسرے کی نسبت (نیکی کے کاموں میں) زیادہ محنت کرنے والا تھا، چنانچہ اس محنت کرنے والے نے جہاد کیا اور شہید ہوگیا۔ دوسرا آدمی اس کے بعد ایک سال تک زندہ رہا، پھر وہ فوت ہو گیا۔ حضرت طلحہ نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوں۔ اچانک دیکھا کہ وہ دونوں بھی وہاں موجود ہیں۔ جنت سے ایک آدمی باہر آیااور اس نے آخر میں فوت ہونے والے کو (جنت میں جانے کی) اجازت دے دی۔ (کچھ دیر بعد) وہ پھر نکلا اور شہید ہونے والے کو اجازت دے دی۔ پھر میری طرف متوجہ ہو کر کہا: واپس چلے جاؤ ، ابھی آپ کا وقت نہیں آیا۔ صبح ہوئی تو طلحہ نے لوگوں کو خواب سنایا،انہیں اس پر تعجب ہوا۔ رسول اللہﷺ کو بھی معلوم ہوا، اور لوگوں نے نبیﷺ کو (تفصیل سے خواب کی) بات سنائی۔ آپ نے فرمایا: تمہیں کس بات پر تعجب ہے؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! دونوں میں یہ شخص زیادہ محنت والا تھا، پھر اسے شہادت بھی نصیب ہوئی لیکن جنت میں دوسرا اس سے پہلے چلا گیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: یہ (دوسرا) اس (پہلے) کے بعد ایک سال تک زندہ نہیں رہا؟ اُنہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اس میں روزے رکھے اور سال میں اتنی اتنی رکعت نماز پڑھی؟ اُنہوں نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ان دونوں (کے درجات) میں تو آسمان و زمین کے درمیانی فاصلے سے بھی زیادہ فرق ہے۔ ‘‘
لیلۃ القدر اگر کسی مسلمان کو مل جائے تو اس کو ہزار ماہ یعنی 83 سال سے زائد عبادت کا ثواب ملتا ہےاور 83 سال عام انسانوں کی اوسط عمر سے زیادہ ہے۔ چنانچہ ایک رمضان جس میں روزے اور قیام اللیل بھی ہوتے ہیں، زندگی بھر کی عبادت سے بڑا مقام عطا کر سکتا ہے، اس لیلۃ القدر کے ثواب سے بھی اس حدیث کی تائید ہوتی ہے۔رمضان میں رکھے جانے والے روزوں کے ثواب کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کہا کہ
«كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ، الْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْع مِائَة ضِعْفٍ، قَالَ اللهُ عَزَّوَجَلَّ: إِلَّا الصَّوْمَ، فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي»، «لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ»، «وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ»[33]
’’ابن آدم کا ہر عمل بڑھا یا جا تا ہے ۔نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک (بڑھا دی جا تی ہے)۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:سوائے روزے کے (کیونکہ )وہ (خالصتاً) میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ۔وہ میری خاطر اپنی خواہش اور اپنا کھا نا پینا چوڑ دیتا ہے ۔روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ایک خوشی اس کے (روزہ ) افطار کرنے کے وقت کی اور (دوسری )خوشی اپنے ربّ سے ملا قات کے وقت کی۔ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسند یدہ ہے۔‘‘
روزے کی فضیلت میں قرآن کریم میں ہے:
﴿ وَأَن تَصوموا خَيرٌ لَكُم إِن كُنتُم تَعلَمونَ ﴿١٨٤﴾... سورة البقرة
’’تم روزہ رکھو، یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔‘‘
اور قیام اللیل کے بارے میں قرآن میں ہے :
﴿تَتَجافىٰ جُنوبُهُم عَنِ المَضاجِعِ يَدعونَ رَبَّهُم خَوفًا وَطَمَعًا وَمِمّا رَزَقنـٰهُم يُنفِقونَ ﴿١٦﴾ فَلا تَعلَمُ نَفسٌ ما أُخفِىَ لَهُم مِن قُرَّةِ أَعيُنٍ جَزاءً بِما كانوا يَعمَلونَ ﴿١٧﴾... سورة السجدة
’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ۔ وہ اپنے پروردگار کو خوف اور اُمید سے پکارتے ہیں اور جو رزق ہم نے انہیں دیا ،اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ کوئی یہ نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کی کیا کچھ چیزیں ان کے لئے چھپا رکھی گئی ہیں، یہ ان کاموں کا بدلہ ہوگا جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘
چنانچہ رمضان کے اہم اور نمایاں اعمال: روزہ ،قیام اللیل اور اعتکاف تینوں ایسے مبارک اعمال ہیں جن کے ثواب کو اللہ تعالیٰ نے بیان نہیں کیا۔ بلکہ اسے غیرمعمولی اجر ، جسے دیکھ کر انسان خوش ہوجائے، سے ذکر کیا ہے۔ علما کا کہنا ہے کہ وہ اجر جن کا تذکرہ قرآ ن وسنت میں متعین نہیں کیا گیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے اوپر چھوڑا ہے، ان تمام اجور سے بڑھ کر ہیں، جن کا تذکرہ کردیا گیا ہے۔ حافظ ابن رجب فرماتے ہیں:
’’مذکورہ بالا حدیث میں روزے کو دوگنے اجر والے اعمال سے مستثنیٰ کیا گیا ہے۔ چنانچہ سب اعمال 10 سے 700 گنا تک اضافہ کئے جاتے ہیں، سوائے روزوں کے، کیونکہ ان کو دوگنا کرنا اس 700 کے عدد میں مقید نہیں بلکہ اللہ عزوجل اس کو بلاحساب کئی گنا کردیتے ہیں۔ کیونکہ روزے صبر کا نتیجہ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ صبر کرنے والے اپنا اجربلاحساب دیے جائیں گے۔ اسی بنا پر نبی کریم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے اس ماہ کو ماہ صبر قرار دیا ہے ۔‘‘[34]
جس حدیث میں رمضان کے اعمال کا ثواب سات سو گنا تک ہوجانے کا وعدہ دیا گیا ہے ، وہ سیدنا سلمان فارسی کی آمدِ رمضان کے حوالے سے مشہور لمبی حدیث ہے، اور اسی میں رمضان کو ماہِ صبر اور ماہ ہمدردی قرار دیا گیا ہے ، لیکن یہ حدیث ضعیف ہے جیسا کہ آگے وضاحت آرہی ہے۔
مزید برآں رمضان میں صوم، قیام اللیل اور لیلۃ القدر کے قیام: تین چیزوں پر تمام گناہوں کی معافی کی بشارت سنائی گئی ہے، اور رمضان کو سال بھر کے گناہوں کا کفارہ بھی قرار دیا گیا ہے۔ارشاد ِنبوی ہے:
«الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمْعَةُ إِلَى الْجُمْعَةِ، وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ، مُكَفِّرَاتٌ مَا بَيْنَهُنَّ إِذَا اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ»[35]
’’جب (انسان) کبیرہ گناہوں سے اجتناب کر رہا ہو تو پانچ نمازیں ، ایک جمعہ ( دوسرے ) جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک ، درمیان کے عرصے میں ہونیوالے گناہوں کو مٹانے کا سبب ہیں ۔ ‘‘
ان احاديث سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان میں تمام اعمالِ خیر کا اجر بے پناہ بڑھ جاتا ہے۔
6۔ہمدردی وخیر خواہی
ایک مسلمان کے لئے صبر وہمدردی، خیرخواہی اور نرمی وشفقت بھی بہت سا ثواب عطا کرتے ہیں۔ تاہم ماہ رمضان   میں اس حوالے سے آنے والی خصوصی احادیث ضعیف ہیں۔اس سلسلے میں اہم ترین حدیث سیدنا سلمان فارسی سے بیان کی جاتی ہے، جس میں رمضان کو شهر المواساة، شهر الصبرقرار دیا گیا ہے۔[36]
اور يہ حدیث مقبول ہے جس میں رمضان میں دوسروں کے کام آنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ
«... ولأن أمشي مع أخ في حاجة أحب إلي من أن أعتكف في هذا المسجد، (يعني مسجد المدينة) شهرًا ...»[37]
’’میں اپنے مسلمان بھائی کی کوئی ضرورت پوری کرنے کو نکلوں تو یہ میرے لئے مسجد ِنبو ی میں اعتکاف کرنے سے بہتر ہے۔‘‘
روزے سے افضل عمل
بعض مبارک کام ایسے بھی ہیں، جن کا اجر رمضان کے اعمال اور روزے سے بھی زیادہ ہے،مثلاً
«أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَةِ الصِّيَامِ، وَالصَّلَاةِ، وَالصَّدَقَةِ؟». قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ الله! قَالَ:«إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ، وَفَسَادُ ذَاتِ الْبَيْنِ: الْحَالِقَةُ»
” کیا میں تمہیں روزے ، نماز اور صدقے سے بڑھ کر افضل درجات کے اعمال نہ بتاؤں ؟ “ صحابہ نہ کہا : کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسول ! آپ ﷺنے فرمایا ” آپس کے میل جول اور روابط کو بہتر بنانا ۔ ( اور اس کے برعکس ) آپس کے میل جول اور روابط میں پھوٹ ڈالنا ( دین کو ) مونڈدینے والی خصلت ہے ۔ “
«السَّاعِي عَلَى الأَرْمَلَةِ وَالمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ الله أَوِ القَائِمِ اللَّيْلَ الصَّائِمِ النَّهَارَ»[38]
’’بیواؤں اور مسکینوں کے کام آنے والااللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے برابر ہے ، یا رات بھر عبادت اور دن کو روزے رکھنے والے کے برابر ہے ۔‘‘
پہلی حدیث میں براہ راست روزے اور نماز سے بہتر عمل کی بات کی گئی ہے جبکہ دوسری حدیث میں رمضان کے بنیادی اعمال: روزے اور قیام اللیل کے اجر کے برابر فضیلت کا وعدہ دیا گیا ہے ۔         (جاری ہے)
حوالہ جات
[1]    ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الِاسْتِئْذَانِ، بَابُ مَنْ نَاجَى بَيْنَ يَدَيِ النَّاسِ،رقم 6285
[2]    فضائل القرآن از حافظ ابن كثير: ص 84
[3]    مسند احمد محقق: 6626، مجمع الزوائد: 3؍181، وقال الهیثمی: رواه أحمد والطبراني في الكبير، ورجال الطبراني رجال الصحيح
[4]    سنن أبي داؤد: کِتَابُ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَتَحْزِيبِهِ وَتَرْتِيلِهِ (بَابُ فِي عَدَدِ الْآيِ)، رقم1400
[5]    مجموع فتاوى ومقالات متنوعة لسماحة الشيخ ابن باز :15؍324
[6]    فتح الباري از حافظ ابن حجر: 4؍285،زیر حدیث 1939
[7]    مجموع فتاوی ابن عثیمین: 20؍516
[8]    سنن أبي داؤد: کِتَابُ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَتَحْزِيبِهِ وَتَرْتِيلِهِ (بَابُ فِي كَمْ يُقْرَأُ الْقُرْآنُ)، رقم 1390
[9]    ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ (بَابٌ تَطَوُّعُ قِيَامِ رَمَضَانَ مِنَ الإِيمَانِ)، رقم 37
[10] جامع الترمذي: أَبْوَابُ الصَّوْمِ عَنْ رَسُولِ الله ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي قِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ​)،رقم 806
[11] صحيح مسلم: كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ (بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ فِي جَمَاعَةٍ)، رقم 1491
[12] صحيح مسلم: كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا (بَابُ اسْتِحْبَابِ تَطْوِيلِ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ)، رقم 1814
[13] الشمائل المحمديةاز امام ترمذی،ص: 256، رقم 314،طبع المكتبة التجارية
[14] سورۃ المائدة: 118... سنن ابن ماجہ:1؍429، رقم1350،قال الألباني:حسن
[15] آل عمران: 190صحيح ابن حبان ،محقق:2؍ 387،رقم 620 ۔شیخ شعیب ارناؤوط نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ إسناده صحيح علىٰ شرط مسلم، وأخرجه أبو الشيخ في أخلاق النبي: ص 186 عن الفريابي، عن عثمان بن أبي شيبة، بهذا الإسناد. وله طريق أخرى عن عطاء عند أبي الشيخ ص 190، 191 وفيه أبو جناب الكلبي يحيى بن أبي حية، ضعفوه لكثرة تدليسه لكن صرح بالتحديث هنا، فانتفت شبهة تدليسه.
[16] مفتاح دار السعادة از حافظ ابن قیم: 1؍74
[17] مجموع فتاوی ابن تیمیہ: 17؍434
[18] جامع الترمذي: أَبْوَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ عَنْ رَسُولِ الله ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ وَنَعِيمِهَا​)، رقم 2526... قال الألباني: صحيح دون قوله مم خلق الخلق، الصحيحة (2 ؍ 692، 693)
[19] المجموع: 6؍375
[20] سنن ابن ماجه: کتاب الصیام: باب في الصائم لا تردّ، رقم 1752... قال الألباني: ضعيف وصحّ منه شطره الأول، لكن بلفظ المسافر وفي رواية: الوالد مكان الإمام
[21] جامع الترمذي: أَبْوَابُ الدَّعَوَاتِ(بَابُ)، رقم 3598...قال الألباني: ضعيف لكن صحّ منه الشطر الأول بلفظ المسافر مكان الإمام العادل
[22] حاشية السندي علی سنن ابن ماجہ: زیر حدیث 1752
[23] سنن ابن ماجه: كِتَاب الصِّيَامِ (بَابٌ فِي الصَّائِمِ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُ)، رقم 1753
[24] جامع الترمذي: أَبْوَابُ الدَّعَوَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابٌ فِي فَضلِ سُؤَالِ العَافِيَةِ وَالمُعَافَةِ)، رقم 3513
[25] سنن أبي داؤد: كِتَابُ الزَّكَاةِ (بَابُ زَكَاةِ الْفِطْرِ)، رقم 1609
[26] جامع الترمذي: أَبْوَابُ الصَّوْمِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا​)، رقم 897
[27] صحيح البخاري: كِتَابُ بَدْءِ الوَحْيِ )بَابٌ(، رقم 6
[28] مدارج السالکین:2؍292
[29] مجموع الفتاویٰ: 4؍42
[30]صحيح البخاري: کِتَابُ العُمْرَةِ (بَابُ عُمْرَةٍ فِي رَمَضَانَ)، رقم 1782
[31] صحيح البخاري: كِتَابُ الِاعْتِكَافِ (بَابُ الِاعْتِكَافِ فِي العَشْرِ الأَوْسَطِ مِنْ رَمَضَانَ(، رقم 2044
[32] سنن ابن ماجه: كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا (بَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا) ، رقم 3925، قال الألباني: صحيح، التعليق الرغيب (1 ؍ 142، 143)... مسند احمد: مسند باقي العشرة المبشرة، رقم 1389،1404 ... قال شعیب الارناؤط: حسن لغیره
[33] صحيح مسلم: كِتَابُ الصِّيَامِ (بَابُ فَضْلِ الصِّيَامِ)، رقم 2707
[34] لطائف المعارف از ابن رجب :ص150
[35] صحيح مسلم: كِتَابُ الطَّهَارَةِ (بَابُ الْصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَالْجُمُعُةِ إِلَى ، رقم 552
[36] ابن خزیمہ:کتاب الصوم، باب فضائل شہر رمضان 3؍191، رقم 1887،شعب الایمان از بیہقی: فضائل شہر رمضان: 5؍223، رقم 3336.... قال الاعظمی: ضعیف
[37]           السلسلة الصحيحة للألباني:906... قضاء الحوائج از ابن ابی الدنیا: 36، حلية الأولیا ء از ابو نعیم: 6؍348
[38] صحيح البخاري: كِتَابُ النَّفَقَاتِ (بَابُ فَضْلِ النَّفَقَةِ عَلَى الأَهْلِ)،رقم 5353