ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • مئی
2017
صلاح الدین یوسف
انسدادِ سود کی کوششوں کی ناکامی کی المناک کہانی
10 ؍اپریل 2017 ءکے اخبارات میں وفاقی شرعی عدالت کے موجودہ چیف جسٹس جناب ریاض احمد خاں (خىال رہے اس بىان كے چند روز بعد موصوف رىٹائر ہوگئے) کے یہ ریمارکس شائع ہوئے ہىں کہ
  • مئی
2017
شاہد حسن صدیقی
یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ پاکستان کے بااثر، مال دار اور فیصلہ ساز طبقے نہیں چاہتے کہ پاکستان میں اسلامی نظامِ معیشت و بینکاری شریعت کی روح کے مطابق نافذ ہو اور معیشت سے سود کا خاتمہ ہو کیونکہ اس سے ان کے ناجائز مفادات پر کاری ضرب پڑے گی مگر ملک کے کروڑوں افراد کی قسمت بہرحال بدل جائے گی۔
ربٰوا (سود) کا مقدمہ گزشتہ 25برسوں سے زیر سماعت ہے جہاں شرعی عدالتوں میں عالم جج بھی موجود رہے ہیں۔
  • مئی
2017
حسن مدنی
رمضان المبارک ایسا عظیم اوربابرکت مہینہ ہے جس میں مسلمانوں کے دل اللّٰہ کی بندگی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اس ماہ میں شیاطین کی جکڑبندی، بارانِ رحمت کے نزول، روزے کی کیفیت اور تراویح وغیرہ میں قرآن کریم پڑھنے پڑھانے سے ماحول پر تقدس کی فضا چھا جاتی اور نیکیوں کی طرف توجہ بڑھ جاتی ہے۔اس ماہ میں انفرادی اور اجتماعی طور پر بھی بہت سے نیک اعمال انجام دیے جاتے ہیں۔
  • مئی
2017
عبد الرحمن مدنی
13،12؍مئی 2017ء کو انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد کے زیر اہتمام نظـام القضاء في الدّول الإسلامية (النظریة والتطبيق) کے عنوان سے بین الاقوامی کانفرنس کے مرکزی مباحث میں تشریع الأحکام القضائية في الإسلام (المصادر التي يجب أن يعتمد عليها القاضي في إصدار أحكامه) کے تحت درج ذیل مقالہ پیش کیا گیا، جس کے تحت پاکستان اور سعودی عرب کے عدالتی نظام کی قانونی حدود کے لئے پہلے دونوں دساتیر كا جائزہ لیا گیا
  • مئی
2017
شکیل عثمانی
گذشتہ دنوں راقم کا ایک مضمون ’ غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ؛ دستورِ پاکستان اور قادیانیت ‘پاکستان کے متعدد رسائل میں شائع ہوا تھا جس میں ملک کے ممتاز دانشور جاوید احمد غامدی کے مضمون ’اسلامی ریاست؛ ایک جوابی بیانیہ‘کے چند نکات پر گفتگو کی گئی ۔ مضمون میں غامدی صاحب کے جوابی بیانیے کے نکتہ نمبر4 پر تفصیلی بحث کی گئی تھی اور اُن سے عرض کیا گیا تھا کہ اپنے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے واضح طور پر اعلان کریں
  • مئی
2017
محمد نعمان فاروقی
جب ہم عالمى سطح پر كفاركى پالىسىوں، اقدامات اور مسلمانوں كى صورتحال كا جائزہ لىتے ہىں تو كچھ نتائج نكھر كر ہمارے سامنے آتے ہىں، جو ىہ ہىں:
1.   دنىا كے كسى بھى خطے مىں شورشوں، اندرونى خلفشاروں اور دہشت گردىوں كا تسلسل ہے تو وہ بلادِ اسلامىہ ہى ہىں۔ بلادِ غىر مىں آپ كو اىسا كوئى تسلسل نظر نہىں آئے گا۔ اىك آدھ واقعہ ہو جانا اور بات ہے۔