جنگیں اگرچہ توپ و تفنگ سے لڑی جاتی ہیں لیکن ان کا اصل میدان عقائد و افکار کے مباحث ہیں۔ آج عالم کفر جہاں ملتِ اسلامیہ پر آتش و آہن کی بارش برسا رہا ہے وہیں اس کے تھنک ٹینکس ہمارے تصورِ زندگی اور مذہبی و معاشرتی اقدار کو بدلنے کے لیے بھی دن رات کوشاں ہیں۔ الفاظ و مصطلحات چوں کہ پوری تہذیب کی نمائندہ ہوتی ہیں، اسلیے انھیں بگاڑنے کے لیے وہ تمام تر توانائیاں صرف کر رہے ہیں؛ اس ضمن میں استعمار اور ان کے کارندوں کے یہاں مختلف اسالیب بروے کار لائے جاتے ہیں جن کا مختصر تذکرہ حسب ذیل ہے:
تلبیس: ترویج باطل کا ایک کارگر اسلوب
1.   باطل کی ترویج کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اصطلاحوں کی اصل حقیقت کو مستور رکھتے ہوئے ان کے خود ساختہ مفاہیم کو رواج دیا جائے، مثلاً سیکولرزم کو فروغ دینے کے لیے اس کا یہ معنیٰ بیان کرنا کہ ’’ہر ایک کو اپنے مذہب پر رہنے کی آزادی ہے اور اس پر کوئی جبر نہیں۔‘‘ بعض سادہ لوح اس فریب کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اگر اس کا یہی مطلب ہے تو ایک نئی اصطلاح کی حاجت ہی کیا ہے؟
مزید یہ کہ اہل مذہب کو یہ دھوکا دیا جائے کہ مذہب تو خود جبر کی نفی کرتا ہے، پس اس طرح اسلام خود سیکولر مذہب ہے۔ لیکن جب سیکولرزم کو منوا لیا تو پھر اصل نظام رائج کر دیا کہ مذہب کا سیاست و ریاست، آئین و قانون اور اقتصاد و معیشت سے کوئی تعلق نہیں، اور یہ کہ مذہب کو مسجد و مندر کی چار دیواری تک محدود رکھو!
اصطلاحوں کے گم راہ کن اور دل فریب تراجم
2.باطل افکار و نظریات پھیلانے کے لیے اہل باطل جو مختلف ہتھکنڈے اختیار کرتے ہیں، ان میں ایک تکنیک یہ ہے کہ تباہ کن مفاہیم کی حامل اصطلاحوں کو ایسے خوش نما الفاظ میں دوسری زبانوں میں منتقل کیا جائے کہ اصل حقیقت پوشیدہ رہے اور لوگ التباسِ فکری میں مبتلا ہو جائیں۔ مثلاًDemocracyکا ترجمہ’جمہوریت ‘ کرنا؛ حالاں کہ جمہوریت اس کا درست ترجمہ نہیں ہے، بلکہ ’عوام کی حاکمیت‘ اس کا صحیح مفہوم ہے۔ اور معنویت کے لحاظ سے جمہوریت میں اکثریت کی اقلیت پر جبری حکومت ہوتی ہے۔ اس سے یہ ہوا کہ اسلامی لٹریچر میں موجود جمہور علما کی ترکیب سے ڈیموکریسی کے جواز پر استشہاد کیا جانے لگا جبکہ دونوں میں کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔ جمہور علماکے موقف کو قرینۂ ترجیح کے طور پر اس وقت بیان کیا جاتا ہے جب حکم شرعی کی شرح و توضیح میں اہل علم کا اختلاف ہو جائے، جبکہ ڈیموکریسی میں شریعت کا کوئی دخل مانا ہی نہیں جاتا۔
3.   اسی طرح اقوامِ متحدہ کی دستاویزات میں Women Empowerment کو عربی میں تمکین المرأة (عورت کو تمکین دینا) سے تعبیر کیا گیا تو اس پر علمانے نقد کیا اور وضاحت کی کہ اس کا صحیح ترجمہ استقواء المرأة بنتا ہے، یعنی ’عورت کو قوت دینا‘ یا قوی کرنا تاکہ وہ مردوں سے اپنے حقوق کے لیے جنگ کر سکے۔ یہ لفظ اصلاًFeminist تحریک کے ایک تصور کو بیان کرتا ہے جو اسلامی مفاہیم سے قطعی متصادم ہے۔ تمکین تو اسلام نے عورت کو پہلے ہی سے عطا کر رکھی ہے اور اس کے تمام حقوق کی مکمل نگہداشت کرتے ہوئے مردوں کو ان کی ادائیگی کا پابند کیا ہے۔
4.   اسی طرح عربی زبان میں سیکولرزم کا ترجمہ العلمانيةکیا گیا لیکن یہ بھی بالکل غلط اور دور از کار ہے کیوں کہ یہ عربی لفظ علم سے مشتق ہے جب کہ Secularismمیں علم کا کوئی مفہوم نہیں پایا جاتا۔ اس کا صحیح مفہوم ’لا دینیت‘ یا مذہب کو دیگر امورِ زندگی (بہ شمول سیاست، قانون، معیشت، معاشرت) سے یک قلم جدا کر دینا ہے کہ ان معاملات میں اس کا کوئی کردار نہ ہو۔
غیر اسلامی تناظرات کا مسلم تہذیب پر اطلاق
5.   بعض الفاظ ایسے ہیں جو یورپ کے قرونِ مظلمہ Dark Ages میں چرچ اور دیگر طبقہ ہاے فکر کے مابین ہونے والی آویزشوں کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوئے؛ مثلاً Fundamentalist جس کاترجمہ عربی میں الأصولية اور اردو میں ’بنیاد پرستی‘ کیا جاتا ہے۔ یہ منفی معنوں میں مستعمل ہے کیوں کہ اس سے اہلِ کلیسا کا وہ رویہ مراد لیا جاتا ہے جو انھوں نے نئے سائنسی نظریات کے بالمقابل اپنایا کہ انھیں خلافِ مذہب قرار دے کر یکسر مسترد کر دیا جائے، حالانکہ یہ جدید نظریات اصل مذہب کے بجائے مذہب کے نام پر خود تراشیدہ مذہبی تشریحات کے خلاف تھے۔ اسلام میں ایسی کسی جنگ و پیکار کا وجود ہی پایا نہیں جاتا کہ انسانی تجربات و اکتشافات اور ان کے حاصلات اصلاً دین کا موضوع ہی نہیں ہیں؛ اس کا بنیادی محور خیر و شر اور ہدایت و ضلالت کے مباحث ہیں؛ پس سائنسی نظریات سے اسلام کو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے، الاّ یہ کہ سائنس کا نام لے کر غلط طور پر عقائد و ایمانیات میں دخل اندازی کی کوشش کی جائے۔ اسلام میں بنیاد پسندی قابل تحسین ہے، بہ ایں معنیٰ کہ بنیادی عقائد و افکار سے وابستگی رکھی جائے اور ان سے سرِ مو انحراف نہ کیا جائے۔
6.   اسی طرح کا ایک لیبلTheocracyہے جسے ’ پاپائیت‘ کہہ کر بے تکلفی سے علما پر چسپاں کر دیا جاتا ہے۔ تھیا کریسی، دراصل مذہبی پیشواؤں Priests کے حکومت و اقتدار سے عبارت ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ پوپ کا فرمایا ہوا گویا خدا کا فرمان ہے، اور مذہب و قانون وہی ہے جو اس کی زبان سے نکلے۔ اس کے برعکس اسلام میں علما کو ایسی کوئی مذہبی اتھارٹی حاصل نہیں ہے؛ دین و مذہب محض وحی و تنزیل میں محصور ہے؛ علما بھی دیگر لوگوں کی مانند اس دین پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔ باقی علما کی تشریحات ہیں جو اجتہاد کے زمرے میں داخل ہیں اور اجتہاد جب تک اجماع ( یعنی پوری اُمت کے اتفاق) میں نہ ڈھلے، ظنی رہتا ہے جس سے علمی اختلاف کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔
مختصراً یہ کہ ایسی اصطلاحیں اسلامی تہذیب میں فِٹ ہی نہیں بیٹھتیں کہ ان کا تناظر خالصتاً دوسری تہذیب اور غیر مذہب سے جُڑا ہوا ہے جو یہاں سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔
متفقہ اسلامی اصطلاحوں میں تحریف
7.   مسلمانوں میں بعض تجدد پسند دانشور، جو جانے انجانے میں استعمار کے مقاصد کو پورا کر رہے ہیں، اپنی خود ساختہ تشریحات و تعبیرات کو مسلمانوں میں مقبول بنانے کے لیے صدیوں سے مروّج مذہبی لفظیات کو نت نئے معانی پہناتے ہیں؛ یعنی لفظ پرانا اور شرح نئی! مثال کے طور پر ’سنت‘ کا لفظ لیجیے؛ یہ فقہ، عقیدہ اور اُصول کی معروف اصطلاح ہے اور عمومی طور پر جب کتاب و سنت کی ترکیب بولی جائے تو ہر مسلما ن اس کا یہی مفہوم سمجھتا ہے کہ اس سے مراد رسول اللّٰہ ﷺ کے اقوال و ارشادات اور افعال مراد ہیں جو کتبِ حدیث میں مندرج ہیں لیکن اب بعض اربابِِ فکر نے اس کے معنیٰ یہ بیان کیے ہیں کہ ’’سنت سے ہماری مراد دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی ﷺنے اس کی تجدید و اصلاح کے بعد اس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایاہے۔‘‘
اس اصطلاح کا یہ مفہوم ہمارے مذہبی لٹریچر میں کبھی بیان نہیں ہوا؛ بنا بریں یہ نادرست ہے کیوں کہ یہ فکری التباس کا باعث بنتا ہے اور عام مخاطب اس سے وہی مراد لیتا ہے جو علماء کے یہاں معروف ہے۔ پھر اس سے وہ تمام اُمور سنت کے اطلاق سے خارج ہو جاتے ہیں جو اس تعریف پر پورا نہیں اترتے لیکن احادیث کے دفاتر میں درج ہیں اور مسلمان انھیں سنت سمجھ کر ہی ان پر عمل پیرا ہیں۔ ان اہلِ دانش سے ہماری گزارش یہ ہے کہ وہ اپنے تصورات کی تعبیر کے لیے نئے الفاظ وضع کریں تا کہ غلط فہمی کا امکان باقی نہ رہے۔
مبہم اصطلاحیں
8.بعض ایسے الفاظ اور اصطلاحیں مشہور کی جاتی ہیں جن کا مفہوم انتہائی مبہم ہوتا ہے لیکن انھیں مسلمانوں سےجوڑ دیا جاتا ہے جیسے Terrorismیا دہشت گردی۔ آج تک دہشت گردی کی کوئی جامع تعریف متعین نہیں کی جا سکی چناں چہ اپنے حقوق کی خاطر ہتھیار اُٹھانے والے گروہوں کو بےتامل دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے جبکہ طاقت ور ملکوں کی جانب سے کم زور ممالک کی حکومتوں کو ختم کرنے کے لیے فوجی کارروائیوں کو دہشت گردی نہیں کہا جاتا۔ اسی منطق کی رو سے کشمیر میں مسلمانوں کا بھارتی فوج سے لڑنا تو دہشت گردی ہے لیکن عراق پر امریکی حملہ ہرگز دہشت گردی نہیں ہے۔
9.یہی معاملہ Extremism یا ’انتہا پسندی‘ کا ہے کہ عام طور سے مذہبی طبقات کو انتہاپسندی کا طعنہ دیا جاتا ہے؛ خصوصاً وہ لوگ جو اسلامی شریعت کے نفاذ کی جدوجہد میں مشغول ہوں اور شرعی قوانین پر عمل پیرا ہوں، انھیں انتہاپسند کا خطاب دیا جاتا ہے۔ لیکن اس اصطلاح کی بھی کوئی واضح اور متعین تعریف موجود نہیں ہے کہ اس کا معیار اور کسوٹی کیا ہے؟ کب کسی شخص یا گروہ کو انتہاپسند کہا جائے گا؟ اگر سیکولر اقدار و قوانین کی پابندی انتہاپسندی نہیں ہے تو مذہبی تصورات اور قواعد و ضوابط کے نفاذ کا مطالبہ انتہاپسندی کے دائرے میں کیوں کر داخل کیا جا سکتا ہے؟
شرعی اصطلاحوں کی گھناؤنی تشریح
مغربی میڈیا نے، جو دراصل ان کی فکری یلغار کا ایک مؤثر ترین وسیلہ ہے، آج شرعی اصطلاحوں کو بہت ہی غلط معانی پہنا دیے ہیں اور انھیں اس قدر گھناؤنے تصورات سے جوڑ دیا ہے کہ لوگ انھیں سن کر ہی وحشت میں مبتلا ہو جاتے ہیں حتیٰ کہ عام مسلمان بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ مثلاً جہاد کو دہشت گردی، خلافت کو ظالمانہ بادشاہت و موروثیت یا مذہبی پیشواؤں کی حکومت، حدود و تعزیرات کو ظلم و تشدد اور حجاب کو پس ماندگی کے مترادف سمجھا جاتا ہے ۔ عالم یہ ہے کہ آج اچھے بھلے پڑھے لکھے مسلمان بھی یہ سوال کرتے ہیں کہ خلافت تو قبائلی معاشرے کا نظام تھا، آج اس کے قیام کی جدوجہد کا کیا فائدہ؟ بعض دانشوروں کا کہنا ہے کہ ہمیں مغرب کے توحش کو دیکھتے ہوئے ان اصطلاحوں سے دست کش ہو کر انھی کی اصطلاحیں اپنا لینا چاہییں اور خلافت کے بجاے جمہوریت کی اصطلاح کو رواج دینا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اصطلاحات کے حقیقی مفاہیم کو اجاگر کیا جائے اور مغرب کے اس مکروہ پراپیگنڈے کا مؤثر جواب دیا جائے۔
اصطلاحوں کی اسلام کاری
اصطلاحات کے باب میں ایک خلط یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ غیر اسلامی تہذیب سے ایک اصطلاح لے کر اس کے ساتھ اسلامی کا سابقہ لگا دیا جاتا ہے اور یوں گویا ایک کافرانہ تصور کو مشرف بہ اسلام کر لیا جاتا ہے ۔ چنانچہ اسلامی اشتراکیت، اسلامی سوشلزم اور اسلامی جمہوریت ،اسلامی بینکاری اسی نوعیت کی اصطلاحیں ہیں حالاں کہ یہ اسلام سے بالکل مختلف بلکہ متضاد تصورات کی عکاسی کرتی ہیں ۔ ہمیں اپنے سیاسی ، معاشی اور معاشرتی افکار و تصورات کی تعبیر کے لیے اپنے اسلاف سے منقول مذہبی لٹریچر میں مستعمل لفظیات کو رواج دینا چاہیے تا کہ کفر و اسلام کے نظریات میں فرق و امتیاز باقی رہے اور اسلامی عقائد التباس کا شکار نہ ہوں جیسا کہ فی زمانہ ہم بچشم سر اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں !
حرفِ آخر: اصطلاحوں کا مسئلہ بڑی دقتِ نظر اور تعمق فکر کا متقاضی ہے۔ اربابِِ علم و تحقیق کی ذمہ داری ہے کہ وہ مغربی فکر و فلسفہ اور اسلامی تہذیب کا تقابل کرتے ہوئے ان کے باہمی تضادات و امتیازات کو اجاگر کریں اور افرادِ امت کو اس فکری بحران سے نجات دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔