میں دینی جامعات کا کردار‘
جامعہ لاہور الاسلامیہ Lahore Islamic Universityکے مختلف ملکی اور غیرملکی یونیورسٹیوں سے تعاون اور اشتراکِ عمل کے معاہدات ہیں جس کے تحت یہ یونیورسٹیاں جامعہ ہذا کے اشتراک سے درپیش مسائل پر سیمینارز منعقد کراتی رہتی ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی مذکورہ بالا عنوان پر منعقد ہونے والا وہ سیمیناربھی ہے جو بروز ہفتہ 14جنوری 2017ء؍ 15 ربیع الثانی 1438ھ کو جامعہ لاہور الاسلامیہ کے مرکزی کیمپس،گارڈن ٹاؤن لاہور میں ہوا۔ یہ سیمینار بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے ’اقبال انسٹیٹیوٹ برائے مکالمہ وتحقیق‘ اور جامعہ لاہور الاسلامیہ کے ’اسلامک ہیومن رائٹس فورم ‘ کے اشتراک سے منعقد ہوا۔ تفصیلی رپورٹ اور خطابات کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیں۔    (ادارہ ’محدث‘)
انتہاپسندی اوردہشت گردی ایک ایسا فعل یا عمل ہےجس سے معاشرے میں دہشت و بد امنی کا راج اور لوگوں میں خوف وہراس پھیلتا ہے۔اس وقت دنیا کو نظری وعملی انتہاپسندی اوردہشت گردی کا ہی سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے ۔ پریشانی کی بات ہے کہ اب یہ انتہاپسندی فکر ونظر، زبان و قلم سےآگے قتل وغارت کی انتہائی خطرناک صورت اختیار کرچکی ہے۔سیاست ومعیشت اور معاشرت غرض ہر چیز اِس کی زد میں ہے اور ہزاروں بچے، بوڑھے اور جوان اِس کی نذر ہو چکے ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ دہشت گردی اور اسلام دو متضاد چیزیں ہیں۔اسلام ایک اعتدال پسند مذہب ہے، اور اس کی تمام تعلیمات میں یہ وصفِ خاص ممتاز طور پر نظر آتاہے۔ جہاں تک انتہا پسندی کا تعلق ہے، اسلام اس کی تائید نہیں کرتا ، اس انتہا پسندی کے جس پہلو سے دہشت گردی جنم لیتی ہے، اور جہاں پہنچ کر عدل وانصاف کے تمام تقاضے رخصت ہوجاتے ہیں، صرف ایک جنون باقی رہ جاتاہے، قابل مذمت ہیں۔ آج جہاں کہیں بھی دہشت گردی نظر آرہی ہے، وہ اسی جنون کے مختلف مظاہر ہیں۔ اسلام کو وہ انتہا پسندی بھی مطلوب نہیں جو کسی فرد یا قوم کو انتہائی بزدل بنادیتی ہے اور اس میں اتنی صلاحیت یا اتنا حوصلہ اور سکت بھی باقی نہیں رہتی کہ وہ اپنا حق لے سکے یا اپنا دفاع کرسکے۔ اسلام کی اعتدال پسندی یہ ہے کہ وہ اپنی جان ومال، اور دین ووطن کے دفاع اور تحفظ کے لیے سینہ سپر رہنے کی تلقین بھی کرتا ہے اور یہ بھی چاہتا ہے کہ کسی فرد یا قوم سے کسی دوسرے فرد یا قوم کو بلا قصور کوئی تکلیف نہ پہنچے۔
افسوس کہ انتہا پسندی کا یہ عفریت براہِ راست آسمان سے نازل نہیں ہوا بلکہ یہ مٹی سے جنم لینے والا انسانی گروہ ہی ہے،جو انسانیت کو درندگی کے ایسے خطر ناک موڑ پر لے آیا ہے جہاں سے واپسی نا ممکن تو نہیں لیکن خاصی حدتک مشکل ضرور ہے۔اسی انتہا پسندی اورفرقہ واریت کو روکنے کے لیے گزشتہ دنوں جامعہ لاہور الاسلامیہ (رحمانیہ)میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ’اقبال انسٹیٹیوٹ برائے تحقیق و مکالمہ‘ کے اشتراک سے ایک ورکشاپ ’انتہا پسندی، فرقہ واریت اور تشدد کے انسداد میں دینی جامعات کا کردار‘کے نام سے نماز عصر تا عشاء منعقد ہوئی جس میں اسلامی یونیورسٹی کے چیئرمین ڈاکٹر محمد یوسف درویش،جامعہ لاہور الاسلامیہ کے سر پرست جناب ایس ایم ظفر (سابق وفاقی وزیر قانون)،جماعۃ الدعوۃ کے پروفیسر ظفر اقبال ، ’تنظیم اساتذہ پاکستان‘ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر میاں محمد اکرم ، نامور صحافی سجاد میر،رؤف طاہر،ارشاد احمد ارشد،انور طاہر، اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے کلیہ شریعہ و قانون کے اساتذہ :ڈاکٹر حافظ محمد انور،ڈاکٹر فضلِ ربی، کلیۃ القرآن و التربیہ الاسلامیہ کے مدیر قاری صہیب احمد میر محمدی،تنظیم اسلامی کے ڈائریکٹر ریسرچ حافظ عاطف وحید، لاہور یونیورسٹی کےصدر ڈاکٹر علی اکبر زہری،پروفیسر ڈاکٹر ممتاز احمد سالک، ڈاکٹر حمیداللّٰہ عبدالقادر،کالجز کے اساتذہ کرام پروفیسر ڈاکٹر اختر حسین عزمی،ڈاکٹر مدثر اورڈاکٹر عبدالغفار نے شرکت کی،جبکہ جامعہ لاہور الاسلامیہ کے مشائخ واساتذہ مولانا محمد رمضان سلفی،مولانا زید احمد،ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی،ڈاکٹر حافظ انس مدنی، ڈاکٹر حافظ حسین ازہر،مولانا محمد شفیع طاہر،مولانا شاکر محمود،مولانا احسان اللّٰہ فاروقی، حافظ محمد کوثر زمان ناظم ’الحکمہ انٹرنیشنل‘اور دیگر اساتذہ و اہل علم بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔
ورکشاپ کے پہلے سیشن(عصر تا مغرب)میں شیخ الجامعہ ڈاکٹر مولانا حافظ عبدالرحمٰن مدنی،محترم جناب ایس ایم ظفر اور اسلامک یونیورسٹی کے چیئر مین شیخ الدرویش نے خطاب کیا۔سیشن کا آغاز ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی کی تلاوتِ کلام مجید سے ہوا،جبکہ جامعہ لاہورالاسلامیہ کے مدیر التعلیم ڈاکٹر حافظ حسن مدنی نے نقابت کے فرائض انجام دیے۔پہلے سیشن میں ڈاکٹر ممتاز احمد سالک اور محترم قاری صہیب احمد میر محمدی نے بھی تبصرہ کرکے شرکت کی۔جبکہ دوسرے سیشن(مغرب تا عشاء)میں تمام شرکا کے مابین پیش نظر موضوع پر مجلس مذاکرہ کا انعقاد کیا گیا،جس میں مذکورہ بالا نامور شخصیات نے اظہارِخیال کیا۔
جامعہ لاہور کے آڈیٹوریم میں راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کے انتظامات کیے گئے تھے۔ سٹیج پر مہمانان گرامی کی تشریف آوری اور تلاوتِ کلام پاک   کے بعد ڈاکٹر حافظ حسن مدنی نے سب شرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے موضوع کی اہمیت اور انتہاپسندی کے خاتمے کی ضرورت کو اُجاگر کیا، انھوں نے کہا کہ عمل سے قبل فکر ونظر کی اصلاح ضروری ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے بھی بیت اللّٰہ سے بت پرستی کے خاتمے سے قبل لوگوں کے ذہنوں میں اُن کے بارے میں پھیلےنظریات کو واضح اور صاف کیا۔
’اقبال انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ‘ کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈاکٹر احسان الحق صاحب نے سامعین کی خدمت میں ہدیۂ سلام پیش کیا اور حمدوثنا کے بعد ’اقبال انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ‘(IRD) کا تفصیلی تعارف کرایااور آج کے سیمینار کے اغراض ومقاصد سے آگاہ کیا۔
1.  مولانا ڈاکٹر حافظ عبدالرحمٰن مدنی ﷾   (شیخ الجامعہ)
خطابات کے سلسلے کا آغاز آپ کے خطاب سے ہوا جس میں آپ نے حسب ِذیل آیت کی تلاوت کی:
﴿ كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِيّٖنَ مُبَشِّرِيْنَ وَ مُنْذِرِيْنَ وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيْمَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ﴾[1]
’’لوگ ایک ہی اُمّت تھے،تو اللّٰہ تعالیٰ نے انبیا ﷩ کو خوشخبری دینے اور متنبہ کرنے والے بنا کر بھیجا اور اُن کے ساتھ حق کے ساتھ کتاب اُتاری تاکہ وہ لوگوں کے باہمی اختلاف میں فیصلہ کریں۔‘‘
اسلام دین برحق ہےاور حق کو دنیا میں نافذ العمل بنانا دین اسلام کا سب سے بڑا مشن اور مقصد ہے ۔جبکہ موجودہ حالات میں سیکولرازم دین اسلام کی حقیقی ہیئت اور شکل کو مسخ کرنے کے درپے ہے جس کا دعویٰ ہے کہ وہ علم اور دلیل کی بات کرتا ہے ،جبکہ مذہب جذبات اور عقیدت کی بات کرتاہے ۔
1857ء تک تمام دینی مدارس کا نصاب تعلیم اور فکری اساس متحد تھی،کسی مسلک کی تفریق نہ تھی۔ 1857ء کے بعد برطانوی سامراج نے مسلمانوں میں اتحاد کو ختم کرنے کے لیے شیعہ سنّی کی تفریق پیدا کی جس کی وجہ سے مسلمان اُمت وقت گزرنے کے ساتھ باہم دست و گریباں ہونے کی وجہ سے تشدد اور انتہاپسندی کی نذر ہوگئی۔اُنھوں نے بتایا کہ اس وقت دنیا میں مسلمانوں کے دو واضح بلاک بن چکے ہیں :سنّی ،شیعہ۔پہلا بلاک فقہ جعفری کا ہےجس کے مطابق ایران کا آئین اور دستوربنایا گیا ہے۔ جبکہ دوسرا بلاک سنّی ہے جس کوآگے تین گروپوں میں تقسیم کیاگیا ہے:اہل حدیث، دیوبندی،بریلوی.... طالبان کے دور میں فقہ حنفی کو افغانستان کا آئین اوردستوربنانے کی کوشش کی گئی جس کے نتیجے میں باقی مسالک اور قرآن وسنت سے براہِ راست استدلال کے امکانات مخدوش ہوگئے۔
کسی بھی معاملے کو اکثر یت اور غالب ہونے کی وجہ سے قبول کیا جائے یا دلیل کی بنیاد پر...؟ آیتِ مبارکہ ﴿ قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ وَ اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَيَبْغِيْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ...﴾[2] کے مطابق حضرت داؤد﷤ کے پاس ایک کیس لایا گیا کہ ایک آدمی کی99 بھیڑیں تھیں، دوسرے کی ایک ہی بھیڑ تھی۔ 99والے نے ایک بھیڑ لینے کا کیس حضرت داؤد﷤ کے سامنے دائر کیا تو آپ نے علم وحکمت کے ساتھ فیصلہ فرمایا، نہ کہ اکثریت کو بنیاد بنا کر۔اس مثال سے ثابت ہوتا ہے کہ فیصلہ کرتے وقت حق اور دلیل کو دیکھا جاتا ہے، نہ کہ محض اکثریت اورغلبے کو۔اُنہوں نے مزید فرمایا کہ’دانش گاہیں اور عدالتیں‘ایسی جگہیں ہیں جہاں صرف اور صرف دلیل کا زور چلتا ہے۔ تعلیمی اور قانونی اداروں میں ذاتی پسند و نا پسند،گروہ بندی اور حزبیت کی بجائے دلائل کی حکومت ہوتی ہے اور ہونی چاہیے،ان سے بلند ہونے والی طاقتور آواز سے معاشرے اور اقوام کا رخ بدل جاتا ہے۔اور تعلیم ہی انسانی فکر کی تشکیل کرتی ہے۔اسی لیے ہم نے ان میدانوں میں اللّٰہ کے دین کا بول بالا کرنے کے لیےاس میدانِ کا ر کو منتخب کیا ہے۔
2.  جناب ایس ایم ظفر ، سابق وفاقی وزیرقانون              (سرپرست جامعہ لاہور الاسلامیہ)
آپ نے اپنی گفتگو کا آغاز اس بات سے کیا کہ اسلام کی دو بڑی بنیادیں ہیں :احترامِ آدمیت اوربرداشت۔
برداشت اور تحمل سے انسان کی طاقت کا اندازہ ہوتا ہے۔انسان میں برداشت اور احترامِ آدمیت پیدا ہو جائے تو تمام قسم کے جھگڑے او راختلافات ختم ہو جائیں۔احترامِ آدمیت اور برداشت کیسے پیدا ہو؟
انھوں نے کہاکہ یہ دونوں چیزیں علم سے حاصل ہوں گی ۔علم ہو گا تو برداشت بھی پیدا ہو گی اوراحترامِ آدمیت بھی آئے گی۔افسوس کہ مسلمانوں نے علم کا دائرۂ عمل محددو کر دیا ہے ،حالانکہ علم سائنس،علم فلکیات، علم ریاضیات،علم الحیوان اور جدید علوم و فنون کی معرفت بھی مسلمانوں ہی کی ذمہ داری ہے ۔
انھوں نے نیوٹن اور آئن سٹائن کا قول بیا ن کیا کہ
’’اتنی ترقی کرنے کے بعد بھی ہم گویا علم کے سمندر کے کنارے کھڑے سیپیاں گن رہے ہیں، نجانے اس سمندر کی گہرائی میں کیا کچھ ہماری نگاہوں سے پوشیدہ پڑا ہے۔‘‘
پھر جناب ظفر کہنے لگے کہ ’’جہالت اتنی زیادہ خطرناک نہیں جتنی خطرناک یہ بات ہے کہ سمجھ دار انسان کہے کہ جو میں کہہ رہا ہوں، و ہی حق ہے۔علم آ جانے سے جہالت تو ختم ہو جاتی ہے مگر جاہلیت بڑھ جاتی ہے۔‘‘ اُنھوں نے شیخ الجامعہ مولانا ڈاکٹر حافظ عبد الرحمٰن مدنی ﷾سے اپنی تحصیل علم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں آج سے 45 سال قبل1971ءمیں نمازِ فجر کے بعد اِن سے ترجمہ قرآن پڑھتا رہا ہوں۔‘‘
3.  پروفیسر ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش ﷾ کا خطاب
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر احمد یوسف درویش نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ
شاعرِمشرق علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں انتہا پسندی،فرقہ واریت کی مذمت اور اُمّتِ مسلمہ کے اتفاق واتحاد سے متعلق بہت کچھ لکھا ہے جس کو پڑھنے کی اشد ضرورت ہے۔ علامہ اقبال اپنے افکارو نظریات کی بنا پر پوری دنیا میں جانے جاتے اور مسلمانوں کے فکری قائد کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اسلام کےکئی ایک امتیازات ہیں ،جن میں سے ایک اہم امتیاز یہ بھی ہے کہ وہ رواداری کا درس دیتا ہے حتیٰ کہ کھانے پینے، صدقات و خیرات میں بھی میانہ روی اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ عبادات میں توازن کی مثال دیتے ہوئے کہنے لگے کہ نبی ﷺنے فرمایا:
«يَا أَيُّهَا النَّاسُ، خُذُوا مِنَ الأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ الله لاَ يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا»[3]
’’اے لوگو!اتنا عمل کرو جتنی تم طاقت رکھتے ہویقیناً اللّٰہ تعالیٰ نہیں اُکتا تا ،تم اکتا جاتے ہو۔‘‘
﴿ وَ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَ لَمْ يَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَيْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا﴾[4]
’’جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل ، بلکہ اُن کا خرچ دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے ۔‘‘           
﴿ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا﴾[5]                        ’’اور کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو ۔‘‘
جب ہم توازن و اعتدال کی بات کرتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم مداہنت کا شکار ہوجائیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ فریق مخالف سے بات سنیں اور سنائیں، وہ مانے یا نہ مانے یہ اس کی مرضی ہے۔ ہمارے ذمہ کوشش ہے جیسا کہ نبی مکرمﷺ نے جناب ابو طالب کو دعوتِ اسلام دی لیکن اس نے آپ کی دعوت کو نہیں مانا کیونکہ توفیق دینا تو اللّٰہ تعالیٰ کا کام ہے ۔ جیسا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا :
﴿ اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ﴾[6]
’’ نبیﷺ ! آپ جسے چاہیں، اسے ہدایت نہیں دے سکتے ، مگر اللّٰہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘
اُنھوں نےانتہا پسندی اورفرقہ واریت کے خاتمے کےلیے چند ایک ہم نکات ذکر کیے مثلاً
انتہا پسندی اورفرقہ واریت نے اُمت کوبہت نقصان پہنچایاہے۔مخلص لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ انتہاءپسندی اورفرقہ واریت کو روکنے کے لیےکردار اداکریں کیونکہ ا نتہا پسندی اورفرقہ واریت کا ہم انکار نہیں کرسکتے، البتہ اس کا سامنا اور اس کا حل نکالنے کی ہمیں تدبیر کرنا چاہیے۔
ہمیں معاشرے میں دلیل اور اعلیٰ نظریات کےساتھ کام کرنا چاہیے۔
امن و سلامتی کی بنیاد پر دعوتِ دین دینے کی اشد ضرورت ہے۔
دہشت گرد کے متعلق آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ جہنم کے دروازے پرہوں گے۔امام ابن قیم نے فرمایا:
’’اسلام عدل ،سچائی اورامن پسندی کادین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین کرام نے اسلام کو امن وسلامتی کے ساتھ لوگوں تک پہنچایا ہے۔انتہا پسندی اورفرقہ واریت کا خاتمہ قرآن وسنت کی طرف رجوع کرنے اور منہجِ سلف کو اختیار کرنے ہی سے ممکن ہے۔‘‘
دور جدید میں میڈیااسلام کی شکل بگاڑ نے میں خاصا پیش پیش ہے۔ اسلام اور اہل اسلام کا مذاق اُڑانا اور معاشرے کو ان سے متنفر کرنا روزمرہ کا معمول بن چکاہے۔ لہٰذاہمیں سوشل میڈیا اوردیگر ذرائع ابلاغ کے اداروں کی طرف بھی توجہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدرنشین جناب محترم ڈاکٹر الدریویش کے عربی خطاب کا ترجمہ ، اسی یونیورسٹی کے ’کلیہ شریعہ وقانون ‘ کے استاذ ڈاکٹر حافظ محمد انور نے اُردو زبان میں پیش کیا۔
اس موقع پر مذکورہ بالا خطابات کے اہم نکات کا خلاصہ پیش کرنے کے بعد سیمینار کے نقیب نے محترم شرکا کو مختصر تبصرے کی دعوت دی، جس کے نتیجے میں درج ذیل دو مختصر تاثرات پیش کیے گئے:
4.  پروفیسر ڈاکٹر ممتازاحمدسالک ﷾
’پنجاب یونیورسٹی‘ اور ’دی یونیورسٹی آف لاہور‘ کے سابق پروفیسر ڈاکٹر ممتاز احمدسالک نے کہا کہ سیکولر انتہا پسندی کا خاتمہ اور سوشل میڈیا پر پیدا ہونے والی نظریاتی جنگ کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟
اُنھوں نے فرمایاکہ آج سیکولر قوتیں ہمیں آپس میں لڑا کر ایک قسم کی خانہ جنگی کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔ہمیں ان کی سازشوں کو سمجھنا اور اتحاد کو قائم کرنا ہو گا ۔کیونکہ سیکولر قوتیں ہمیں باہم دست و گریباں کر کے ہمارے وسائل پر قبضہ جمانے کے در پے ہیں ۔ان کا مقابلہ ہمیں حکمتِ عملی کے ساتھ کرنا ہو گا اور ایک دوسرے کےساتھ تعاون کرنا ہوگا۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ١۪ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ﴾[7]
’’ نیکی اورتقویٰ کی بنیاد پر باہمی تعاون کرو اور گناہ و زیادتی کی بنیاد پر ایک دوسرے سے تعاون نہ کرو۔‘‘
اُنہوں نے مزید کہا کہ انتہاپسندی ہر پہلو اور سمت سے قابل اصلاح ہے، اسلام کے نام پر ہونے والی انتہاپسندی کے ساتھ ساتھ لبرل اور سیکولر طبقے بھی انتہاپسندانہ رویے اختیار کرچکے ہیں، جس کی مثال فیس بک اور سوشل میڈیا پر آئے روز اسلام اور شعائر اسلام کے خلاف آنے والے اعتراضات ہیں۔ ان کا بھی خاتمہ ہونا چاہیے اور ہر لحاظ سے معاشرہ کو اعتدال کا علم بردار ہونا چاہیے۔
5.  قاری صہیب احمد میر محمدی ﷾ (مدیرکلیۃ القرآن والتربیہ الاسلامیہ) کا تبصرہ
قاری صاحب نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدر محترم کے خطاب کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی تردید کرتے ہوئے ہمیں ان اصطلاحات کو ترک نہیں کردینا چاہیے جو ہمیں قرآن وسنت نے سکھائی ہیں، مثلاً: جہاد جواسلام کی بلند کوہان ہے ، اس سے دستبردار ہونا سراسر گمراہی ہوگا۔ ایسے ہی دہشت گردی کی مذمت کےلیے ہمیں ’اِرہاب ‘کی عربی اصطلاح اپنانے سے بھی گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ لفظ تو قرآن کریم میں مثبت معانی کے لیے استعمال ہوا ہے۔
دوسرا سیشن
اس کے بعد نمازِ مغرب کا وقفہ ہوا، جس کے بعد فاضل شرکا مجلس کے مابین مذاکرہ کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔
6.  پروفیسر ظفر اقبال ﷾
مذاکرہ کا افتتاحی خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ سب سے پہلے تو یہ طے ہونا ضروری ہے کہ انتہا پسندی کسے کہتے ہیں؟’’کسی بھی مسئلے میں اپنی ذاتی فکر کوحتمی، حرفِ آخرقرار دینا،اسی کو حق سمجھنا،اس کو منوانے کےلیےتشدد کرنا،اور کفر کے فتوے لگانا،کسی دوسرے کی رائے کو قبول نہ کرنا‘‘ انتہا پسندی ہے۔البتہ حق کو سمجھنا ،پھر اس کی اتباع کرنا انتہا پسندی نہیں۔ اُمتِ مسلمہ کفار کے دباؤ کی وجہ سے دین کےمسلمہ اُمورمیں بھی دفاعی پوزیشن پر آگئی ہے۔واضح رہے کہ حق پر سختی کرنا انتہا پسندی اورفرقہ واریت نہیں ہے۔مثلاً لفظ اللّٰہ اور ربّ میں تشدید سےسختی کی طرف اشارہ ہے،بچے جب دس سال کے ہوجائیں تو نماز کے معاملے میں سختی کرنے کا حکم ہےتو اصل بات یہ ہے کہ باطل سختی نہیں ہونی چاہیے ۔افسوس کہ آج کل سب کچھ ایسے ہی ہورہا ہے کہ ﴿ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ﴾[8]
’’ہر ایک گروہ کے پاس جو کچھ ہے، وہ اسی میں مگن ہے۔‘‘
﴿ وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا﴾[9]
’’سب مل کر اللّٰہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو ۔‘‘
جیسے آگ اورپانی اکٹھے نہیں ہو سکتے، ایسے ہی اصل (قرآن وسنت )اور باطل(شرک وکفر) اکٹھے نہیں ہوسکتے،اصل بات سے ہٹنا ہی فرقہ واریت ہے اور اصل قرآن وسنت اورمنہج سلف ہے۔
7.  ڈاکٹر حافظ حسن مدنی ﷾     (مدیر التعلیم جامعہ لاہور الاسلامیہ)
انتہا پسندی کا تعین اس پر موقوف ہے کہ پہلے دیکھا جائے کہ عدل واعتدال کیا ہے؟’’کسی بھی چیزکواس کےمحل پر رکھنا یا پھر کسی کام کا اس کےمحل پرہونا ‘‘   عدل ہے۔ اور اسی عدل کے قیام کے لئے اللّٰہ تعالیٰ نے انبیاے کرام کو مبعوث فرمایا ،ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ﴾[10]
’’ہم نے اپنے رُسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا ، اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ عدل وانصاف پر قائم ہوں۔‘‘
معاشرے میں عدل واعتدال کوقائم کرنا دین کا بنیادی مقصد ہے، اسی کے لیے اللّٰہ تعالیٰ نے رسولوں کو مبعوث فرمایا اورچالیس سے زائد آیات میں عدل وانصاف کا حکم موجود ہے،گویا کہ عدل واعتدال کتاب وسنت میں ہی ہےاور اس کو قائم کرنا انتہاپسندی نہیں ہے۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ نرمی اختیار کرو اور غلو سے بچو:
«اللهُمَّ ارْفُقْ بِمَنْ رَفَقَ بِأُمَّتِي، وَشُقَّ عَلَى مَنْ يَشُقُّ عَلَيْهَا»[11]
’’الٰہی! اس شخص پر رحم کرجو میری اُمت پر رحم کرے اور اس شخص پر سختی کر جو اس پر سختی کرے۔‘‘
«إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ، وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ، فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَأَبْشِرُوا، وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنَ الدُّلْجَةِ»[12]
’’بے شک دین آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی اختیار کرے گا تو دین اس پر غالب آ جائے گا ( اور اس کی سختی نہ چل سکے گی ) ۔پس اپنے عمل میں پختگی اختیار کرو اور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی برتو اور خوش ہو جاؤ اور صبح اور دوپہر اور شام اور کسی قدر رات میں(عبادت سے ) مدد حاصل کرو۔ ‘‘
ان نصوص سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام کا پیغام نرمی اور اعتدال کا ہے،نہ کہ تشدد اور فرقہ واریت کا۔انتہا پسندی اورفرقہ واریت چاہے سیکولرازم کی طرف سے ہو یاداعیانِ مذہب کی طرف سے د ونوں کا راستہ روکنا ضروری ہے،کیونکہ فرقہ واریت ایک غلط رویّہ ہے نہ کہ مطلوبِِ شریعت،لہٰذا اس کے خاتمے کے لیےمسلمانوں کوجہاں عوامی سطح پر اتحاد کرنے کی ضرورت ہے، وہاں علمی محاذپرفکری اتحاد قائم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اُنھوں نے انتہا پسندی اورفرقہ واریت کے خاتمے کے لیے اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے اس سلسلے میں علماے کرام کے مؤثر کردار کی طرف اشارہ کیا:
﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِيْلًاؒ﴾[13]
’’اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، اطاعت کرو اللّٰہ کی اور اطاعت کرو رسول ﷺ کی اور اُن لوگوں کی جو تم میں سے صاحبِ امر ہوں ، پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہو جائے تو اسے اللّٰہ اور رسول ﷺ کی طرف پھیر دواگر تم واقعی اللّٰہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو۔یہی ایک صحیح طریق ِ کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے۔‘‘
شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫ فرماتے ہیں کہ
وَأُولُو الْأَمْرِ صِنْفَانِ: الْأُمَرَاءُ وَالْعُلَمَاءُ، وَهُمْ الَّذِينَ إذَا صَلَحُوا صَلَحَ النَّاسُ[14]
’’مسلمانوں کے اولی الامر دو قسموں کے ہیں: حکام اور علما اور انہی دو گروہوں کی اصلاح پر معاشرے کی صلاح موقوف ہے۔ ‘‘
اُولی الامر سے مراد اصلاً علماءہی ہیں جودراصل حکام کونظریہ دیتے ہیں کہ ہمیں کس توازن و اعتدال سے چلنا چاہیے اور حکاّم اس نصبُ العین کی تکمیل کرتے ہیں۔علما کی آراسے اختلاف تو ہو سکتا ہےلیکن تعصّب نہیں ہونا چاہیے ، اور اپنے موقف کو دوسرے پرٹھونسنا نہیں چاہیے کیونکہ کسی کا اجتہاد دوسرے فقیہ کےاجتہاد کوختم نہیں کر سکتا،اس لیے علما کی نیتوں پر حملےاور طعن وتشنیع کی بجائےان کی شخصیات کے بارے میں احتیاط کا پہلو غالب ہونا چاہیے۔دوسری طرف علماے کرام کو بھی چاہیے کہ اپنی رائے کو کتاب وسنت کی بجائے ایک اجتہادی موقف ہی سمجھیں اور اسے بعینہٖ نافذ کرنے پر اصرار مت کریں۔
فرقہ واریت میں کمی لانےکا طریقہ یہ ہے کہ مختلف مکاتب فکر کی ممتاز شخصیات کا احترام کیا جائے، ان کے موقف کی ممکنہ غلطی کی بنا پر اُن کی نیت پر حملہ نہ کیا جائے۔پھر معاشرے میں پائے جانے والے موقف دو طرح کے ہیں، ایک تو علمی طور پر کتابوں میں موجود ہیں، دوسرا وہ جو بعض عوامی خطبا کی زبانوں پر ہیں،ان دونوں میں بھی بہت سا فرق ہے۔ ہر مکتبِ فکر کے علما کو اپنے خطبا اور عوام کی اصلاح کا فریضہ انجام دینا چاہیے مثلاً جملہ بریلوی علما ومفتیان اس بات پر متفق ہیں کہ عورتیں مزاروں پر نہیں جاسکتی تو صرف اسی بات پربریلوی عوام کو عمل کرالینے سے کتنے مسائل حل ہوسکتے ہیں ۔ اسی طرح باہمی اختلافات کے خاتمے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ مختلف الخیال اہل علم کو باہمی تبادلہ خیال کا موقع دیا جائے، ایک دوسرے کے دلائل تحمل وبرداشت سے پیش کیے جائیں، اس سے بھی اختلافات میں بہت سی کمی آسکتی ہے۔
8.  قاری صہیب احمد میرمحمدی﷾             (مدیر کلیۃ القرآن والتربیہ الاسلامیہ، قصور)
انتہا پسندی اورفرقہ واریت کے خاتمےکے لیے چارگزارشات ہیں:
علم کےذریعے انتہا پسندی اورفرقہ واریت کا خاتمہ ممکن ہےاور علم کہتے ہیں:
"العلم إدراك الشيء بحقيقته"    (موسوعۃ القرآن:8؍386)
جب انسان كسی چیزکی حقیقت تک پہنچتا ہے توپھر اس کو صحیح معرفت ہوتی ہے ۔حقیقت تک پہنچنے کے لیے علم اور دلائل کی ضرورت ہوتی ہےاور سب سے بڑی دلیل قرآن وسنت ہے، لہٰذا ہم دہشت گردی کےتمام پہلوؤں کوختم کر سکتے ہیں ،جب ہمارے پاس قرآن وسنت کاحقیقی علم ہوگا ۔
منصف مزاج لوگ دینی نصاب کا جائزہ لیں تو وہ ضرورمحسوس کریں گےکہ یہی وہ نصاب ہے جس سے انتہا پسندی اورفرقہ واریت کو ختم کیا جاسکتا ہے،مثلاًنبی ﷺنے فرمایا:
«مَنْ فَجَعَ هَذِهِ بِوَلَدِهَا؟ رُدُّوا وَلَدَهَا إِلَيْهَا»[15]
’’اس (پرندے)کے بچےکو کس نے پکڑا ہے؟اس کے بچوں کوواپس کرو ،میری غیرت برداشت نہیں کرتی کہ کسی پرندے کو بھی دکھ دیا جائے۔‘‘
آپﷺ نے فرمایا :         «مَنْ رَحِمَ، وَلَوْ ذَبِيحَةَ عُصْفُورٍ رَحِمَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»[16]
’’جوکسی چڑیا کوذبح کرتے وقت بھی رحم کرے تو اللّٰہ تعالیٰ قیامت کےروز اس پر رحم کرے گا۔‘‘
تعجب کی بات ہے کہ اونٹ ایک جانور ہے ،اس کے متعلق نبیﷺ نے فرمایا :
«إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ، فَأَعْطُوا الْإِبِلَ حَظَّهَا مِنَ الْأَرْضِ»[17]
’’جب تم سر سبزوشاداب زمین میں سفر کرو تو اونٹ کوبھی زمین سے حق دو۔‘‘(یعنی اسے سفر کے بعد باندھو نہیں بلکہ چرنے کےلیے چھوڑ دو)
کفار کے مقابلےمیں مسلمانوں کو جب جہاد کا حکم دیا توآپﷺ نے فرمایا:
«لَا تَقْتُلُوا صَبِيًّا، وَلَا امْرَأَةً، وَلَا شَيْخًا كَبِيرًا، وَلَا مَرِيضًا، وَلَا رَاهِبًا، وَلَا تَقْطَعُوا مُثْمِرًا، وَلَا تُخْرِبُوا عَامِرًا، وَلَا تَذْبَحُوا بَعِيرًا وَلَا بَقَرَةً إِلَّا لِمَأْكَلٍ، وَلَا تُغْرِقُوا نَخْلًا، وَلَا تُحْرِقُوهُ»[18]
’’بچوں، عورتوں،بوڑھوں، بیماروں اورجنگ سے بھاگنے والوں کو قتل نہ کرو،پھل دار درخت نہ کاٹو گھروں کو مسمار نہ کرو، اونٹوں اورگائےکو کھانے کے سوا ذبح نہ کرو،کھجورکے باغات کوضائع نہ کرو اور نہ ہی جلاؤ ۔‘‘
اسلئے صحابہ کرام نے جہاں بھی فتوحات کی ہیں، وہاں جان،مال اوررزق کا تحفظ کیا ہے، لہٰذا قرآن وحدیث پر مبنی نصاب کو جامعات اورکالجز تک لے جانا بہت بڑا ہدف ہے اور اسی سے تمام مسائل حل ہوں گے۔
اللّٰہ تعالیٰ نے انسان میں محبت اور غصے کے جذبات رکھے ہیں، لیکن ان کو توازن میں رکھنے کے لیے شریعت اُتاری ہے، اگر اللّٰہ تعالیٰ محبت نہ رکھتے تو کوئی ماں بچے کودودھ نہ پلاتی۔ اگر یہی محبت حدودِ الٰہی سے تجاوز کر جائے تو دنیا وآخرت میں مذموم ہوجاتی ہے، اسی طرح اللّٰہ نے اگر غصے کو انسانی طبیعت میں نہ رکھا ہوتا تو کوئی جہاد کا میدان سجتااور نہ ہی کوئی غیرت نامی چیز نظر آتی لیکن یہی غصّہ جب کنٹرول سے باہر ہوجائے اور اللّٰہ تعالیٰ کے لیے نہ ہو تو اسی سےانتہا پسندی اورفرقہ واریت پھیلتی ہے۔یہ توازن واعتدال اس وقت تک ممکن نہیں جب تک انسان میں چار چیزیں نہ ہوں: قرآن، حدیث، تعامل صحابہ اور ان تینوں کو سمجھنے کے لیے علم صحیح۔ انہی سے توازن و اعتدال آئے گا اور انہی سےانتہا پسندی اورفرقہ واریت کا خاتمہ ہوگا۔
نص کی موجودگی میں اجتہاد استدلالی قوت نہیں بلکہ استبدالِ دین ہے،نص (قرآن وسنت )کی موجودگی میں جو مکالمہ کرتا ہے دراصل اس کا ایمان قابل مکالمہ ہے، اس لیے ہمیشہ حق کے ساتھ انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے جستجو ہونی چاہیے اورپھر انسان اگراکیلا بھی ہو لیکن اللّٰہ کی تائید اور مدداس کے ساتھ ہو،تو وہ اکیلا بھی جماعت ہے جیسا کہ سیدنا ابراہیم۔﴿ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًا﴾[19]’بے شک ابراہیم اکیلے ہی امت تھے ۔‘‘یعنی جتنا کام پوری اُمت مل کر کرتی ہے اتنا کام اکیلے ابراہیم نبی ﷤نے کردیا۔
9. ڈاکٹر علی اکبر الازہری           (صدر شعبہ علوم اسلامیہ ، دی یونیورسٹی آف لاہور)
دہشت گردی کے سبب سب سے زیادہ نقصان ہوا۔اسلامی اصطلاحات کا غلط استعمال کرکے اُمت کومنتشر کیا گیا ہے۔ ہمیں اس کے خاتمے کے لیےمسلک کی نہیں بلکہ اللّٰہ اور رسول کی نمائندگی کرنی چاہیے،مسائل میں اختلاف ہو جاتا ہے لیکن اختلافات کا اصل علاج دلیل سے ہونا چاہیے اور دلیل میں تعصّب نہیں ہونا چاہیے،اوریہ تب ہی ممکن ہوسکتا ہےجب کہ ہمارا مزاج تحقیق پسند انہ ہو اور تحقیق ہی کو فروغ دے۔
10.  رونامہ ندائے ملت سے وابستہ صحافی جناب ارشاد احمد ارشدنے ایک شعر میں عمدہ پیغام دیا:
قدرت کو ناپسند ہےسختی زبان میں                          اسی لیے پیدانہ کی ہڈی زبان میں
یعنی انتہا پسندی کا خاتمہ اصل میں زبان کے کنٹرول میں ہے۔
11.  ڈاکٹر عبد الغفار    ( کلیہ الدراسات الاسلامیہ، جامعہ لاہورالاسلامیہ )نے فرمایا:
انتہا پسندی اورفرقہ واریت کے خاتمے کے لیےقرآنی اصطلاحات کا ایک ایسا ’اسلامی مستند مجموعہ ‘ ہونا چاہیے جس کو شامل نصاب کیا جائے ،تا کہ اُمت کا مجموعی موقف بن سکے۔خصوصاً دو اصطلاحات یعنی ’اجتہاد اور جہاد‘ کاغلط استعمال انتہا پسندی اورفرقہ واریت کا سبب بنتا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ان دو اصطلات کا صحیح مطلب لوگوں کو سمجھا یا جائے۔
12.  ڈاکٹر حافظ حسین ازہر (پروفیسر ویٹرنری یونیورسٹی، لاہور)نے فرمایا:
﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَآفَّةً﴾[20]
’’اے ایمان لانے والو ! تم پورے کے پورے اسلام میں آ جاؤ۔‘‘
آج برائی سے روکنا انتہاپسندی سمجھا جاتا ہے۔مثلاًمیوزک سے روکا جائے تو کہا جاتا ہے کہ یہ انتہاپسندی ہے۔ لہٰذا علم اور دلیل کی بنیاد پر مضبوطی سے پورے اسلام پر عمل کیا جائےتو یہی تمام مسائل کا حل ہے۔
13.  پروفیسر ڈاکٹر میاں محمد اکرم   (صدر تنظیم اساتذہ ،پاکستان)
پہلے ہم اسلام کی بات بڑے زور سے بیان کرتے تھے لیکن اب ہم کہتے ہیں کہ تحفظِ اسلام ،تحفظ ِناموس رسالت ہونی چا ہیے یعنی اسلام کا پیغام دفاعی پوزیشن میں آ چکا ہے،اس صورت حال پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے حالات میں دینی جامعات اور جدید علوم کی جامعات کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ چند ایک اقدامات کریں:
جامعات کو چاہیے کہ وہ جہاد کا صحیح اسلامی تصور واضح کریں کیونکہ دنیا کے سامنے جہاد کا صرف ایک منفی پہلو ہی رکھا جارہا ہے،جبکہ جہاد کے دونوں پہلو ؤں کو عامۃ الناس اور نوجوان نسل میں واضح کرنے کی ضرورت ہے۔مسلم ،غیر مسلم کی جان ومال اور عزت کی حفاظت کے متعلق اسلامی تعلیمات کو عام کیا جائے۔
دین نے تو ایک ہی تصور دیا تھا:﴿ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ مِنْ قَبْلُ وَ فِيْ هٰذَا ﴾ [21]
’’اللّٰہ تعالیٰ نے پہلے بھی تمہارا نام’ مسلم ‘ رکھا تھا ،اوراِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے)۔‘‘
افسوس کہ اللّٰہ تعالیٰ نے جو تصور دین دیا تھا، ہم نےاسے دوسرے تصورات میں لا کر آپس میں دوریاں پیدا کیں۔ اسی تصور کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضر ورت ہے تا کہ مسلم اور غیر مسلم کے درمیان فرق ختم ہو سکے کیونکہ وہ بھی فرقہ واریت کا شکار ہوتے ہوئے لڑتے رہے، اس طرح ہم بھی آپس میں لڑیں تو ہم اور ان میں فرق کیا ہوا؟کس چیز سے انتہا پسندی اورفرقہ واریت پھیل رہی ہے ،اس پر ریسرچ کی جائے۔
میڈیا میں جب دین کی اقدار کا مذاق اُڑایا جائے اوروہ چیزیں پیش کی جائیں جو دین کی جڑ کاٹنے والی ہیں تو اس سے نوجوان نسل میں انتہا پسندی کی صورت میں لازمی رد عمل پیدا ہوگا، اس طرح جب غیر اسلامی معاشرے کی تشکیل کے لیے جو اقدامات کیے جارہے ہیں، این جی اوز اور بہت سارے عناصر مل کر ہمارے نصابات میں تبدیلیاں کر رہے ہیں ،یہ سب چیزیں رد عمل پیدا کر رہی ہیں، لہٰذا ایسے عناصر کو روکا جائے۔ ایسے حالات میں دینی اور دنیاوی جامعات کا کردار بہت بڑھ جاتا ہے کہ وہ مکمل ہوم ورک اورتیاری کے ساتھ میڈیا کے نمائندوں؍اینکرزکو اکٹھاکرکے اُن کو دین کےصحیح تصورات اور اسلامی تعلیمات سے آگاہ کریں۔
کچھ اساتذہ، علمااور طلبا کا انتخاب کرکے اُنہیں ان موضوعات کےلیے تیار کیا جائے جو معاشرے کی ضرورت ہیں اورلوگ سننا چاہتے ہیں مثلاً دین کا صحیح وجامع تصور، انتہا پسندی وفرقہ واریت کے اسباب، نقصانات اور خاتمے کی تجاویز، مسلم وغیر مسلم کے جان ومال اورعزت کے تحفظ کے حوالے سے اسلامی تعلیمات۔
14.  ڈاکٹر حافظ انس نضر مدنی      (مدیر مجلس التحقیق الاسلامی بالجامعہ)
انسان میں انتہاپسندی وتشدد لا علمی اور جہالت کی وجہ سے آتی ہے۔اگر انسان کے پاس علم اور دلائل موجود ہوں تو وہ باوقار طریقے سےصرفِ نظر کرتا ہے۔ جیسا کہ سیدنا ابراہیمؑ نے جب اپنے والدِگرامی کو نرمی سے دعوت دی تو باپ غصّے میں رجم کرنے اورگھر چھوڑنے کی دھمکی دینے لگا۔
تشدد اور جہالت کا خاتمہ علم اور دلائل ہی سے ممکن ہے،جبکہ دین اسلام علم اور دلائل ہی کا نام ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:﴿ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَۚ﴾[22]
’’پڑھو ! (اے نبی ؐ) اپنے ربّ کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا۔‘‘
انتہاپسندی،تشدداورغلو ان سب کا اللّٰہ تعالیٰ نے رد کرتے ہوئے فرمایا:
﴿ قُلْ يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِيْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِيْلِ﴾[23]
’’کہو ، اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو اور نہ اُن لوگوں کے تخیلات کی پیروی کرو جو تم سے پہلے خود گمراہ ہوئے اور بہتوں کو گمراہ کیا اورسَواء السبیل سے بھٹک گئے ۔‘‘
ان سب موذی بیماریوں کا علاج ما انزل اللّٰہ یعنی دین کی طرف لوٹنے اورحصولِ علم میں ہے۔اورما انزل اللّٰہ سب سے زیادہ اسلامی جامعات ہی میں پڑھایا جاتا ہے،لہٰذا اسلامی جامعات سے ہی انکا علاج ممکن ہوسکتا ہے۔
15.  پروفیسر ڈاکٹر حمید اللّٰہ عبد القادر            (اُستاذ ’دی یونیورسٹی آف لاہور‘)
انتہا پسندی اورفرقہ واریت کا اصل توڑ نرم گوئی اور نرم مزاجی ہے جیسا کہ اللّٰہ تعالیٰ نےموسیٰ اور ہارون کو فرعون کی طرف بھیجتے ہوئے فرمایا:    ﴿ فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى﴾[24]
’’اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا ، شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔‘‘
اسی طرح نبیﷺ نے فرمایا: «مَنْ قَالَ لِأَخِيهِ يَا كَافِرٌ فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا»[25]
’’جو اپنےبھائی کوکافر کہے تو دونوں میں سے ایک کافر ہوجاتا ہے۔‘‘
امام بخاری باب من کفّرَ أخاه بغیر تاویلهكا عنوان قائم كر کے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ یہ اس آدمی کے لیے ہے جس نےمسلمان کو حقیقی کا فر کہا ،اللّٰہ کا منکر بنادیا۔
اگر کوئی کفریہ کلمہ کہہ بھی دے لیکن نیت ٹھیک ہو تو وہ کافر نہیں ہوتاجیسا کہ ایک آدمی نے خوشی سے کہا:
«اللهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ، أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ»[26]
’’اے اللّٰہ تو میرابندہ اور میں تیرا ربّ، خوشی کی شدت سے اس کے منہ سے غلط ادا ہوگیا۔‘‘
اس جملے کے باوجود اللّٰہ تعالیٰ نے اس کی توبہ قبول کی ہے۔آپ دعوت داعی الیٰ اللّٰہ کی حیثیت سے دیں نہ کہ مفتی کی حیثیت سے ،اس رویہ سے تشدد پھیلتا ہے۔
16.  چوہدری اشرف علی              ( سینئرسبجیکٹ اسپشلسٹ ٹیچرٹریننگ لاہور)
انتہا پسندی اورفرقہ واریت کاتدارک اس کے حقیقی اسباب دور کرنے سے ہی ممکن ہے اور وہ دو ہیں:
بین الاقوامی یا قومی سطح پر غلبہ حاصل کرنے کا جنون اور دنیا کو اپنے قبضے میں لینےکا لالچ وطمع، جب تک یہ دور نہیں ہوگا تب تک انتہا پسندی اورفرقہ واریت کا خاتمہ ممکن نہیں۔ہمیں خصوصاً علمی ،سائنسی اور تکنیکی کمزوریاں دور کرنی چاہیں اور اپنی صفوں میں اتحادواتفاق پیدا کرکے اپنے دشمن کو پہچاننا چاہیے۔
17.  ڈاکٹر حافظ محمد انور                (استاذ کلیہ شریعہ والقانون، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد)
انتہا پسندی اورفرقہ واریت کا اصل علاج تعلیمی اداروں اورمنبر ومحراب میں ہےاور یہ علاج اس وقت ممکن ہے جب معاشرے میں مثبت کردار پیش کیا جائے ،اس لیے کہ کردار کی دعوت بہت بڑی چیز ہے۔
18.  پروفیسر ڈاکٹر اختر حسین عزمی                               (استاذ گورنمنٹ کالج، ٹاؤن شپ، لاہور)
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تشدد پسند عناصر کی تعداد ایک فیصد سے زیادہ نہیں ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہمیں مان لینی چاہیے کہ ایک فیصد نے ہی پورے معاشرےاور اسلام کے صحیح تصور کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ انہی افراد کی و جہ سے ہمارا دشمن ہماری تصویر کو دنیا کے سامنے جس طرح پینٹ کر رہا ہے وہ سبھی کے سامنے ہے۔جب ہم جارحیت میں ہیں ہی نہیں تو اس کا دفاع توکرنا ہی پڑے گا،اگرچہ ہمیں دفاعی پوزیشن پر نہیں ہونا چاہیے۔ جس طرح ہمیں موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے، اس طرح ہمیں بھی ایسے اعداد وشماراکٹھے کرنے چاہیں جن کے ذریعے ہم کہہ سکیں کہ تشدد پسندی کا عنصر دینی مدارس سے نہیں نکلا۔ دنیاکی ماردھاڑ حتی ٰ کہ امریکہ کے اداروں میں جو قتل وغارت ہو رہی ہے ،اس کی سر پرستی یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل لوگ ہی کر رہے ہیں۔اسی طرح اس ملک میں سیکولر انتہا پسندی بھی جس عروج پر ہے، اسے بھی نمایاں کرنا چاہیے جیسا کہ پروفیسر سلمان حیدر کو جس طرح فاطمہ جناح یونیورسٹی راولپنڈی میں گرفتار کیا گیا ،اس کا معاملہ سبھی کے سامنے ہے کہ اس نے فیس بک پر تین پیج بنائے، ان میں سے ایک کانام بھینسا رکھا جس سے مراد مولوی ہیں ۔اس طرح نبیﷺکے کارٹون بنائے، آپ کامذاق اُڑایا گیا ہے ۔ان چیزوں کو بھی واضح کرنے کی ضرورت ہے۔
انتہا پسندی کا فروغ دراصل اس وقت ہوا جب اعتدال پسندی کی متفقہ تعلیمات دینے والے لوگ بہت ہی دفاعی پوزیشن میں چلے گئے۔
اداروں میں برداشت کیوں نہیں ،قرآن وسنت کی تعبیر و تشریح میں ایک دوسرے کو گنجائش نہیں دیتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں بین المسالک اختلافات تو پڑھائے جاتے ہیں اور یقیناًیہ اختلافات پڑھانے چاہئیں لیکن افسوس کہ اس کے حل کے اُصول وآداب نہیں پڑھائے جاتے جو سلف سے منقول ہیں،اس لیے ہر طالبعلم اختلافات کو اپنے نقطہ نظر سےپڑھتا ہے اور پھر اپنی من مرضی کی سوچ بنا لیتا ہے،وہاں سے انتہاپسندی پھیلتی ہے۔
اتحادِ اُمت کی باتوں کونصاب میں شامل کرنا چاہیے،اور ساتھ ہی اسلامک یونیورسٹی کو ایسا سسٹم بنانا چاہیے کہ وفاق المدارس کی سند کے لیے ضروری ہوکہ تمام مکاتبِ فکر کے طلبہ یک جاں ہوکر چھ ماہ اسلامک یونیورسٹی میں گزاریں اور وہاں جدید علوم ومسائل اور فکر مغرب کا بھی مطالعہ کریں تاکہ ان کے ذہن میں وسعت کے ساتھ برداشت بھی پیدا ہوسکے، پھراسکے نتیجہ میں اپنے اصل دشمن کو پہچان کراس کا مقابلہ کرسکیں۔
19.  حافظ شفیق الر حمٰن زاہد                        (مدیر الحکمہ انٹرنیشنل، لاہور)
راقم نے تین منٹ میں تین اہم نکات پرچند گزارشات پیش کیں :
انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے اسباب کیا ہیں؟
انتہا پسندی اور فرقہ واریت کےنقصانات کیا ہیں؟ اور انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کی تجاویز
انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے اسباب
(1)ترکِ قرآن وسنت(2)منہج سلف سے انحراف(3)بے مہار خطابت(4) بغاوت کا رجحان(5)نیم مذہبی قیادت(6)ترجیحات کی غلط ترتیب(7)اشاعت کا غیر محتاط اُسلوب(8)مشترکات کو نظر انداز کرنا
انتہا پسندی اور فرقہ واریت کےنقصانات
(1)حکم عدولی کی فضا (2)صادق وامین حکومت کا خاتمہ(3)علمی بددیانتی کا چلن(4)شکوک وشبہات اور ابہامات کا فروغ(5)تعمیری سوچ کا فقدان(6)ناحق قتل و غارت(7)اسلام سے عدم اعتماد (8)مالی ،جانی اور دیگرنہ ختم ہونے والے نقصانات کا طوفان
انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کی تجاویز
(1)قرآن و سنت کی طرف رجوع کیا جائے۔(2)منہج سلف صالحین کو اختیار کیا جائے۔(3) تقریر، تحریر، تدریس وغیرہ میں ایسی سرگرمیوں سے گریز کیا جائے جس میں عدم برداشت کا پہلو ہو۔ (4)واعظین وخطبا حضرات کا میرٹ طےکیا جائےیعنی تخصص فی الخطابہ کورس کا آغاز ہو ، خطبا سلیکشن کمیٹی بنائی جائے ۔ (5)ریاست اور علما کے تعاون سے بورڈ تشکیل دیا جائے جو اس انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خاتمہ کے لیے کردار ادا کرے ۔(6)مدارس انتظامیہ ،اساتذہ اور طلبا کو مثبت سوچ کا حامل بنائے۔(7) سوشل میڈیا میں کردار ادا کر نےکے لیے اساتذہ،مبلغین اور طلبا کی ٹیم تیار کی جائے۔(8) مختلف اضلاع میں سیمینار کرائیں جائیں۔ (9)اسلامی اخلاقی اُصولوں کی پابندی یقینی بنائی جائے۔(10)اختلافات کے دائروں میں فرق واضح طور پر سمجھا اور سمجھایا جائے۔(11)اختلاف کی صورت میں دوسرے کے حقوق کو تلف نہ کیا جائے۔(12)اختلافی مسائل چھیڑنے سے حتی الامکان باز رہا جائے ۔(13)باہمی مکالمے کے لیے ماہر علما کی زیر نگرانی ٹیمیں بنائی جائیں۔(14)انفرادی عصبیت کی بجائے ملی و اسلامی مفادات کو ملحوظ رکھا جائے۔(15)جماعت یا پارٹی بنانے کا عمل اتنا آزاد نہیں ہونا چاہیئے۔(16)بین المسالک حقوق کا تعین مشاورت سے طے کرکے مساویانہ عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔(17)جلسے جلوس کی حدود متعین کی جائیں۔(18)سوشل میڈیا کے ذریعے اشتعال انگیز مواد کو روکا جائے اور مثبت مواد عام کیا جائے۔(19) اتحاد کی سابقہ کاوشوں کا مطالعہ کیا جائے اور انہیں رائج کیا جائے۔
یہ سیمینار اپنے موضوع پر بہت ہی مفید رہا۔ ایسے سیمینارز دینی جامعات میں وقتاً فوقتاً ہوتے رہنے چاہییں اور ان سیمینارز میں پاس کی گئی قرار دادوں پر عمل درآمد کے لیے کوئی مستقل لائحہ عمل طے کرلینا چاہیے۔ اس طرح یہ سرگر می نہ صرف متعلقہ اداروں بلکہ اسلامی معاشرے کے لیے بھی کارآمد بن جائے گی۔ ان شاءاللّٰہ
حوالہ جات
[1]    سورة البقرة: 213
[2]    سورة ص: 24 ...’’داؤد نے جواب دیا کہ اس شخص نے تیری دنبی کو اپنی دنبیوں میں ملانے کے لئے اس کا سوال کرکے تجھ پر ظلم کیا ہے۔ اور اکثر خلیط ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہی رہتے ہیں سوائے ان لوگوں کے جو ایماندار ہوں اور نیک عمل کرتے ہوں ۔‘‘
[3]    صحيح بخارى:5861
[4]    سورة الفرقان: 67
[5]    سورة الاعراف:31
[6]    سورة القصص: 56
[7]    سورة المائدة: 2
[8]    سورة الروم:53
[9]    سورة آل عمران:103
[10] سورة الحديد: 25
[11] مسند احمد: 26237
[12] صحيح بخارى: 39
[13] سورة النساء: 59
[14] السیاسۃ الشرعیۃ: ص 442
[15] سنن ابودادؤ:2675
[16] المعجم الكبیر للطبرانى:7915
[17] صحيح مسلم: 1926
[18] السنن الكبرى از امام بیہقى:18152
[19] سورة النحل: 120
[20] سورة البقرة: 208
[21] سورة الحج:78
[22] سورة العلق: 1
[23] سورة المائدة: 77
[24] سورة طہ:44
[25] مسند احمد: 5914
[26] صحيح مسلم: 2747