میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

ایک مختصر نفسیاتی وتاریخی جائزہ
مولانا عبد الحمید رحمانی بر صغیر پاک و ہند کے جید علمامیں شمار ہوتے ہیں۔ جامعہ رحمانیہ بنارس پھر جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے فراغت کے بعد ملکی و عالمی سطح پر کئی ایک تنظیموں اور جماعتوں میں اہم عہدوں پر فائز رہے ۔ بزرگ علما کے منظورِ نظر تھے ، تو بعد والوں کی عقیدت و احترام کا محور ۔ توحید و سنت پر مبنی خالص دعوتِ دین کی نشر و اشاعت کے لیے بے پایاں خدمات سر انجام دیں ۔ انڈیا کا ایک معروف ادارہ ابو الکلام آزاد سنٹر اور جامعہ اسلامیہ سنابل اُنہیں کی یادگار ہیں ۔ دعوت و تبلیغ ، تربیت و تعلیم ، و عظ و تدریس اور بھرپور جماعتی و تنظیمی زندگی گزار کر اگست 2013ء میں اس دنیاے فانی سے رخصت ہوئے ۔ زیر نظر تحریر انہیں کے رشحاتِ قلم میں سے ہے ، جس کا لفظ لفظ ان کی پختگی فکر ، مدبرانہ بصیرت اور نظریۂ اہل حدیث سے والہانہ محبت اور لگاؤ کا آئینہ دار ہے ۔رحمہ اللّٰہ رحمۃ واسعۃ
یہ عجیب بات ہے کہ اہل حدیث کا تصورِ دینی جس درجہ سادہ، سمجھ میں آنے والا اور قلب وروح کو حرارت وتپش عطا کرنے والا ہے، یار لوگوں نے اسے اتنا ہی اُلجھا دیا ہے، اور اس کے بارے میں ایسی ایسی غلط فہمیاں پھیلا رکھی ہیں کہ ...الامان والحفیظ!
سوال کم پڑھے لکھے یا جہال کا نہیں، اچھے خاصے علما کا ہے۔ ان حلقوں میں اگر کسی جانی پہچانی شخصیت کے بارے میں بھولے سے کسی نے کہہ دیا کہ صاحب وہ’وہابی‘، ’غیر مقلد‘ یا ’اہل حدیث‘ ہے تو نہ پوچھیے، صرف اتنا کہہ دینے اور لکھ دینے سے اس کے متعلق رائے اس تیزی سے بدل جاتی ہے اور اس کے خلاف نفرت وتعصّب کے کتنے طوفان اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ نفرت وتحقیر کا یہ بادۂ تلخ انگریز کے استعماری مصالح کے علاوہ اور کن کن مقدس ہاتھوں سے کشید ہوا؟ اور تہمت طرازی کی اس سازش میں کس کس نے حصہ لیا ہے؟ کن کن عناصر نے اہل حدیث کے خلاف اس نفسیاتی مہم کو چلانے میں کامیاب کردار ادا کیا ہے؟ یہ ایک مستقل اور الگ موضوع ہے جو مخصوص تحقیق اور التفات چاہتا ہے، ہمارے نزدیک اس سے متعلق سردست تعرض کرنا موضوع نہیں، کیونکہ  
؏                 اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں!
تاہم اتنی بات کہنے میں کوئی مضائقہ بھی نہیں کہ نفرت کی یہ مہم پورے زور وشور اور تنظیم کے ساتھ آج بھی جاری ہے۔ حالانکہ جماعتِ اہل حدیث کے عقائد وسرگرمیاں اور کارنامے، کوئی چیز بھی تو ایسی نہیں جس میں اسلامی نظریہ وتصوّر سے کسی درجہ میں بھی انحراف پایا جائے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ہم تو معتوب اور مستوجبِ تعزیر ہی اسی بنا پر ہیں کہ ہم تفسیر ہو یا حدیث ،فقہ ہو یا کلام ، دین کے معاملے میں ادنیٰ انحراف کو بھی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ہمارا سیدھا سادہ عقیدہ یہ ہے کہ حق وصداقت کو صرف کتاب اللّٰہ اور سنت رسول ﷺ ہی میں محصور اور منحصر مانو اور سعی وعمل اور فکر وعقیدہ کا جب بھی کوئی نقشہ ترتیب دو تو تابش وضَو کے لیے اسی آفتابِ ہدایت کی طرف رجوع کرو، جس کو اللّٰہ تعالیٰ نے ساری کائنات انسانی کے لیے سراجِ منیر ٹھہرایا ہے:
﴿يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًاۙ. وَّ دَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِيْرًا﴾[1]
’’اے نبیﷺ! بے شک ہم نے آپ کو شہادت دینے والا، خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے اور اللّٰہ کے حکم سے اس کی جانب بلانے والا اور روشن کرنے والا چراغ بنایا ہے۔‘‘
یہاں اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ ہم کسی طرح بھی تاریخی ارتقا کے منکر نہیں اور زمانے کے ناگزیر تقاضوں کے تحت فقہ وکلام کے سلسلہ میں ہمارے ہاں جلیل القدر علماء وائمہ نے جو گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، ان سے ذرّہ برابر صرفِ نظر کو ہم جائز نہیں تصور کرتے۔ ہمارے نزدیک امام ابو حنیفہ کی فکری وآئینی کاوشیں، امام شافعی کی اُصولِ فقہ وحدیث کے متعلق پیمانوں کی تعیین، امام مالک  کا اصحابِ مدینہ کے تعامل کو دست بردِزمانہ سے ہمیشہ ہمیش کے لیے محفوظ کر لینا اور امام احمد بن حنبل  کی جمع حدیث کی وسیع تر کوششیں ہماری تہذیبی انفرادیت کا زندہ ثبوت ہیں اور یہ ایسی چیزیں ہیں کہ جن پر ہم جس قدر بھی فخر وناز کریں ،کم ہے!! 
ہم حق کو ان سب مدارسِ فکر میں جن کی ان بزرگوں نے بنیاد رکھی، دائر وسائر تو مانتے ہیں لیکن محصور ومنحصر کسی میں بھی نہیں جانتے، کیوں کہ ہمارے نقطۂ نگاہ سے صحت وصواب کی استواریاں غیر مشروط طور پر صرف کتاب اللّٰہ وسنت رسول ﷺکے ساتھ خاص ہیں:
﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِيْلًاؒ﴾[2]
’’ اے ایمان والو!تم اللّٰہ کی اطاعت کرو اور اللّٰہ کے رسول کی اطاعت کرو اور اصحاب علم وبصیرت وتقویٰ ذمہ داروں کی اطاعت کرو۔ تو اگر تم میں کسی چیز کی بابت اختلاف ہو جائے تو ایسی شکل میں اللّٰہ (کی کتاب) اور رسول کی (احادیث) ہی کی طرف رجوع کرو۔ اگر تم اللّٰہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو، یہی تمہارے لیے بہترین اور عمدہ ہے انجام کے لحاظ سے۔‘‘
ہمارے عقیدے کی رو سے استدلال وتاویل کا یہی دو چیزیں نقطۂ آغاز ہیں اور یہی نقطۂ آخر۔ دوسرے لفظوں میں سورۂ نساء کی اس آیت کو ہم تمہیدPrembleیا قانونی اساس سمجھتے ہیں۔ اس آیت ہی کے لب ولہجے میں علما سے کہتے ہیں کہ ہر متنازع فیہ مسئلہ میں اوّل وآخر کتاب وسنت ہی کی طرف رجوع کیجئے۔
اہل حدیث کے نفسیاتِ شوق کی تشریح
تقلید وعدم تقلید کی اصطلاح میں پڑے بغیر کہ اس میں قدرے اُلجھاؤ ہے، ہم محبت و وفا کی زبان میں دعویٰ داران عشقِ رسول سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ اللّٰہ کے واسطے آپ ہی بتائیے کہ اگر کسی گروہ نے یہ فیصلہ کر ہی لیا ہو کہ طلب وآرزو کے دامن کو وہ صرف اُنہیں گل بوٹوں سے سجائے گا جو قرآن وسنت کے سدا بہار دبستاں میں نظر افروز ہیں، اور اگر کچھ لوگوں نے ازراہِ شوق یہی مناسب جانا ہو کہ ان کی نظر اگر کسبِ ضو کر ے گی تو اُنہیں انوار وتجلیات سے جو چہرۂ نبوت کی زیب وزینت ہیں، یا زمان ومکان کے فاصلوں کو ہٹا کر اگر کوئی بے تاب ومتجسس نگاہ اسی جمال جہاں آرا کا براہِ راست مشاہدہ کرنا چاہتی ہے جس کی جلوہ آرائیوں نے عاشق کے دل میں پہلے پہل ایمان وعمل کی شمعیں فروزاں کیں ...تو آیا یہ کوئی جرم، گناہ یا معصیت ہے اور اگر یہ جرم اور معصیت ہے تو ہمیں اقرار ہے کہ وابستگانِ دامن رسالت اور اسیرانِ حلقۂ نبوت مجرم اور گنا ہ گار ہیں۔
تقلید کا اثر قلب وذہن پر
تقلید وعدم تقلید کا مسئلہ دراصل فنی وعلمی سے زیادہ نفسیاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ٹھیٹھ اسلام کی رو سے ہماری اوّلین ارادت کا مرکز کون ہے؟ ہماری پہلی اور بنیادی  وابستگی کس سے ہونی چاہیے؟ اور پیش آمدہ مسائل میں مشکلات کے حل وکشود کے سلسلے میں اوّل اوّل کس طرف دیکھنا چاہیے؟ کتاب اللّٰہ اور سنتِ رسول اللّٰہ ﷺ کی چشم کشا اور ابدی تعلیمات کی طرف یا فقہی مدارسِ فکر کی وقتی اور محدود تعبیرات کی طرف؟ اس سے قطع نظر کہ تقلید سے فکر ونظر کی تازہ کاریاں مجروح ہوتی ہیں اور اس سے بھی قطع نظر کہ اس سے خود فقہ واستدلال کے قافلوں کی تیز رفتاری میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور تہذیب وفن کی وسعتیں ...زندگی، حرکت اور ارتقا سے محروم ہوجانے کے باعث ... حد درجہ سمٹاؤ اختیار کر لیتی ہے ۔
اصل نقص اس میں یہ ہے کہ اس سے عقیدہ ومحبت کا مرکزِ ثقل یکسر بدل جاتا ہے، یعنی بجائے اس کے کہ ہماری ارادت وعقیدت کا محور، قبلہ اوّل وآخر کتاب اللّٰہ وسنتِ رسول اللّٰہ ﷺ رہے، ہماری عصبیتیں مخصوص فقہی مدارس سے وابستہ ہو کر رہ جاتی ہیں اور غیر شعوری طور پر قلب وذہن اس بات کا عادی ہو جاتا ہے کہ بحث وتمحیص کے مرحلے میں کتاب وسنت سے کسی نہ کسی طرح مسائل کی وہی نوعیت ثابت ہو جو ہمارے حلقہ اور دائرہ کے تقاضوں کے عین مطابق ہو، حالانکہ اللّٰہ اور رسول ﷺ سے ربط وتعلق کی کیفیتیں معروضیت (Objectivity) چاہتی ہیں اور اس بات کی متقاضی ہیں کہ ہر ہر مسئلہ اور امر میں نقطہ نظر کسی خاص مدرسۂ فکر کی تائید وحمایت کرنا نہ ہو بلکہ اس شے کی تصدیق مقصود ہو کہ اَخذ وقبول کے لحاظ سے کون سی صورت کتاب اللّٰہ اور سنت رسول سے زیادہ قریب تر ہے۔
ایک اہم سوال
کیا اہل حدیث کا شمار مذاہب مدوّنہ میں ہوتا ہے...؟
ممکن ہے کہ اس پر کوئی صاحب کہہ اُٹھیں کہ مسائل پر غور وفکر کرنے کا یہ تو محض ایک انداز ہوا یا زیادہ سے زیادہ اہل حدیث کی نفسیاتِ دینی کی تشریح ہوئی لیکن حل طلب سوال تو یہ ہے کہ اندازِ فکر اور اُسلوبِِ استدلال سے کوئی مذہب یا مسلک کب متعین ہوتا ہے؟ مسلک اور مذہب کی تعیین کے لیے ضروری ہے کہ اہل حدیث کے مخصوص ما بعد الطبیعاتی تصورات ہوں، علیحدہ اور ممیّز علم الکلام ہو اور کتاب وسنت کی واضح تعلیمات پرمبنی اپنا علم الفقہ اور اسی کی روشنی میں ان کی خاص تاریخ ہو جس سے ان کے ارتقاے علمی کا پتہ چل سکے اور معلوم کیا جا سکے کہ ماضی قریب وبعید کے مختلف ادوار میں اُنہوں نے مذہب ودین کی تشریح وتعبیر کے سلسلے میں کیا کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں یا اسلامی تہذیب وتمدن کی نشاط آفرینیوں میں ان کا کیا حصہ ہے؟
اعتراض بظاہر تو بہت وزنی ہے لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ ہمارا مسلک واقعی مذاہبِ مدوّنہ کی فہرست میں شامل نہیں۔ یہ ایک مذہب ہے جس کے اُصول اور کلامی وفقہی پیمانے گو متعین ہیں، تاہم اصطلاحی معنوں میں یہ مذہب نہیں ہے، اس کے ماننے والوں کے باقاعدہ معمولات ہیں اور عقیدہ وعمل کا متعین قالب ہے، مگر اسے کسی لحاظ سے بھی گروہ نہیں کہنا چاہیے۔ اسی طرح اس کی اصلاح وتجدید کے کارناموں پر مشتمل اپنی تابناک تاریخ بھی ہے، لیکن یہ تاریخ صرف ان ہی کی تاریخ نہیں ہے، اسے پورے اسلام کی تاریخ قرار دینا چاہیے!!
تضاد اور اس کا حل
 بظاہر یہ بات تو حد درجہ تضاد لیے ہوئے ہے لیکن ذرا غور کیجیے گا تو معلوم ہو جائے گا کہ اسی تضاد میں اس کا حل بھی مضمر ہے۔ کون نہیں جانتا کہ پہلی صدی ہجری  کے اخیر ہی میں اسلام کو شدید نوعیت کے دینی وسیاسی انحرافات سے دو چار ہونا پڑا اور تیسری صدی بھی اختتام کو نہیں پہنچی تھی کہ ان انحرافات نے شدید نوع کے تعصّبات کا روپ دھار لیا۔اسی عرصہ میں مسئلۂ امامت وخلافت کی وجہ سے ’شیعیت‘ اُبھری اور اس کے پہلو بہ پہلو ایک تاریخی حادثہ کی بنا پر ’خارجیت‘ نے جنم لیا جس نے آگے چل کر مستقل فتنہ کی شکل اختیار کرلی، انہی سیاسی اختلاف نے ’اِرجا ‘ کی مصلحتوں کو ہوا دی اور مسلمان مرجئہ اور غیر مرجئہ دو گروہوں میں بٹ گئے اور یونانی علوم کے فروغ وارتقا نے اعتزال وجہمیت کی تخلیق کی، جس نے صدیوں تک مسلمانوں کو گوناگوں عقلی اختلافات میں اُلجھائے رکھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ علمی ودینی حلقوں میں بیسیوں نئے مسئلے پید ا ہو گئے۔ صفاتِ باری عین ذات ہیں یا غیر؟ استوا علی العرش کے کیا معنی ہیں؟ قرآن مخلوق ہے یا غیر مخلوق؟ قدرت واستطاعت ’افعال‘ سے ہے یا ان کے ہم قرین ہے؟ انسان مجبورِ محض ہے یا مختار؟ اللّٰہ تعالیٰ محالات پر قادر ہے یا نہیں ؟ ’خلق شے‘ سے کیا مراد ہے؟ خورد سال اطفال قیامت کے روز عذاب کا ہدف بنیں گے یا نہیں؟ جنت و دوزخ عارضی ہے یا دائمی؟ روح کیا ہے؟...یہ اور اس نوع کے عجیب وغریب مسائل جن کی وجہ سے اسلامی صفوں میں انتشار اور تشتت کا پیدا ہونا ناگزیر تھا، اسی دور میں غنوصیت[3] (Gnoticism) نے، جس کے ماننے والے عراق میں کثرت سے تھے، تصور کو حریفانہ شکل میں پیش کیا اور تقدس وریاضت کے بہروپ میں اس یقین کو دلوں میں اُتارنے کی کوشش کی کہ علوم نبوت کے مقابلہ میں عرفان وادراک کا ایک اور یقینی ذریعہ کشف بھی ہے جس کی مدد سے براہِ راست حقائق کونیہ ودینیہ کو پالینا ممکن ہے۔
قریب قریب یہی وہ زمانہ ہے جس میں فقہی مذاہب مدوّن ومرتب ہوئے اور ان کے پر جوش حامی ایک دوسرے کے مقابلہ میں صف آرا ہوئے اور باقاعدہ مناظرہ وجدل کی بنیاد پڑی۔ اس کا قدرتی نتیجہ یہ نکلا کہ عصبیتیں اُبھریں، حلقے بنے اور آخر میں تقلید وجمود نے اسلامی معاشرت کی اکثریت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
غور طلب نکتہ
یہاں غور طلب نکتہ یہ ہے کہ گمراہیوں کے اس ہجوم میں اسلام کی فطرت میں اصلاحِ احوال کی جو قدرتی صلاحیتیں تھیں، کیا وہ چپ چاپ یہ تماشہ دیکھتی رہیں اور کسی گروہ،  کسی جماعت کو یہ توفیق نصیب نہ ہوئی کہ وہ ان انحرافات کی نشاندہی کرے اور یہ بتائے کہ ان گمراہیوں کے مقابلے میں اسلام کا صحیح صحیح موقف کیا ہے؟... خوش قسمتی سے واقعہ یہ نہیں ہے۔ تاریخ وسیر سے سرسری واقفیت رکھنے والے حضرات بھی جانتے ہیں کہ بہ فحوائے حدیث رسول ہر ہر دور میں ایسے لوگوں کا وجود رہا ہے جنہوں نے کلمہ حق کابر ملا اظہار کیا ہے، جنہوں نے تجدید واصلاح کی ذمہ داریوں کو سنبھالا ہے۔ اور اسلام کے چہرۂ زیبا سے بدعات کے گرد وغبار کو دور کرنے کی مقدور بھر مساعی جاری رکھیں، جنہوں نے ذخائرِ حدیث کی حفاظت کی، جنہوں نے عقائد کی پیچیدگیوں کو سلجھایا اور مروّجہ فقہی مذاہب کے مقابلے میں سنت پر مبنی، سنت سے مستنبط اور سنت سے قریب تر مسائل کی طرف فقہاکی عنانِ توجہ والتفات کو موڑ دینے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
امام اشعری اور اہل حدیث
یہ گروہ’اہل الحدیث والسنّہ ‘ کا ہے۔ امام ابوالحسن اشعری نے ’مقالات الاسلامیین‘کی پہلی جلد کے آخر میں تقریباً پانچ صفحات میں اس گروہ کے عقائد وسیرت کا  ایک دلچسپ ودل نواز نقشہ پیش کیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چوتھی صدی ہجری کے وسط تک ’اہل الحدیث والسنّہ‘ کے سامنے کلام وفقہ کے کیا کیا مسائل تھے اور ان حضرات نے ان مسائل کو کیونکر حل کیا۔ ہم اس سلسلہ میں دراصل یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اصلاح وتجدید کی یہ تمام کوششیں جو مختلف حلقوں اور مختلف زمانوں میں فقہ وکلام کی طرفہ طرازیوں کو کتاب وسنت کے ڈھانچوں میں ڈھالنے کی غرض سے انجام پائیں، ہماری ہیں۔ ان کا علم الکلام ہمارا علم الکلام ہے، ان کی فقہ ہماری فقہ ہے، ان کی تاریخ ہماری تاریخ ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہم نے کسی متعین مدرسہ فکر یا علم الکلام کے بنے بنائے اُصولوں کو اس بنا پر اپنانے کی کوشش نہیں کی کہ مبادا ہماری عصبیتیں بھی اپنا محور بدل لیں اور بجائے اس کے کہ عقیدت و وابستگی کے داعی براہِ راست کتاب وسنت رسول علیٰ صاحبہا الصلوۃ والتسلیم سے وابستہ رہیں، ہم بھی اس تضاد کا شکار ہو کر نہ رہ جائیں جس کا ماضی میں تمام فقہی وکلامی مذاہب شکار ہوئے ہیں۔
جذبۂ حبِ رسول کا تقاضا
گویا ہماری نفسیات اور ہمارے جذبۂ حب رسول کا تقاضا یہ ہے کہ فکر وعمل کی کسی صورت میں ہم بجز کتاب اللّٰہ کی اطاعت اور رسول اللّٰہ ﷺ کی  فرماں برداری کے اور کسی تقید، کسی تقلیدی انتساب کو اپنے لیے گوارا نہ کریں اور زمان ومکان اور اشخاص وائمہ سے قطع نظر ہر اس سچائی کو اپنائیں، ہر اس استدلال کو تسلیم کریں اور تجدید واصلاح کی ہر اس کوشش کو سراہیں جو قرآن وحدیث پر مبنی ہو۔اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اسی حال میں ہمیں زندہ رکھے اور جذب وکیف کے اسی جانفزا عالم میں موت سے دو چار کرے۔ آمین !
تحریک اہل حدیث کا تاریخی موقف اور اس کی خدمات
دنیا میں اچھی اور بری تحریکیں پیدا ہوتی اور مٹتی رہتی ہیں۔ بعض تحریکات کی قوت سے حکومتیں تک متزلزل ہوگئیں۔ حسن بن صباح اور حشیشین کا اتنا رعب تھا کہ بادشاہ رات کو اپنی آرام گاہوں میں آرام سے سو نہیں سکتے تھے۔صالح تحریکوں کا اثر بھی صدیوں تک دلوں کو متاثر کرتا رہا۔ طوعاً و کرہاً لوگ ان تحریکوں سے بہرحال تعاون کرتے رہے۔
تحریکِ معتزلہ نے مامون الرشید ایسے دانش مند بادشاہ کو بری طرح اپنی گرفت میں لے لیا اوریہ فتنہ متوکل علی اللّٰہ کے زمانہ تک ائمۂ سنت کے لیے وبال جان بنا رہا۔ امام احمد بن حنبل﷫اور عبدالعزیز کنانی ایسے اہل حق حضرات حق گوئی کی وجہ سے مصائب میں مبتلا رہے۔ بڑے بڑے ائمہ نے "فَازَ أَحْمَدُ وَ خَسِرْنَا" کہہ کر حالات کی ناہمواری کا عتراف فرمایا۔ رحمہم اللّٰہ
تحریکِ اہل حدیث:        یہ بھی اپنے وقت کی ایک تحریک ہے جس کا مقصد
1.  اسلام میں اعتقادی اور عملی سادگی کو قائم رکھنا اور افراط و تفریط میں اعتدال کی راہ کا تعین اور اس کی پابندی کرنا ہے۔
2.  محبت اور بغض میں عموماً انسان اعتدال کی حدوں کو پھاند جاتا ہے۔ ائمہ حدیث ایسے موقع پر ہمیشہ نقطۂ اعتدال کی تلاش فرماتے اور لوگوں کو اس سے آگاہ کرتے رہے۔
3.قرآن و سنت اور ان کے متعلقہ علوم کی تدوین و اشاعت
4.         زندگی کے تمام شعبوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اہتمام
روافض کو اہل بیت کی محبت میں غلو تھا اور خوارج کو ان کے بغض میں، اہل سنت نے اعتدال کی راہ اختیار کی۔ بعض لوگ اللّٰہ تعالیٰ کو عام انسانوں کی طرح مجسم مانتے تھے اور بعض اس کی صفات کو ایک مفہوم کی حد تک سمجھتے اور ان کی حقیقت سے صاف انکار کرتے تھے۔ ائمہ حدیث نے صفات کی حقیقت کو تسلیم فرمایا اور تشبیہ و مماثلت کی نفی فرمائی، یہی معتدل راہ تھی۔
قیاس کے ہمہ گیر اثرات نے نصوص اور صحیح احادیث کو بے کار کرکے رکھ دیا اور ظاہریت کی طغیانی نے قیاس کا سرے سے انکار ہی کردیا۔ حالانکہ نظائر اور ملتی جلتی چیزوں کے احکام بھی باہم متشَابہ رہنے چاہئیں، عقل سلیم کا یہی فتویٰ ہے۔ قرآن حکیم میں اللّٰہ تعالیٰ نے﴿اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِيْزَانَ﴾[4] ’’جس نے حق کے ساتھ کتاب اتاری اور میزان بھی۔‘‘فرما کر قیاس کے اسی پہلو کو واضح فرمایا ہے۔ حافظ ابن حزم﷫کی ’المحلیٰ‘ کے بعض قیمتی مباحث اہل حق کی آنکھوں کے لیے نور ہیں، لیکن بعض مضحکہ خیز توجیہات بھی اہل علم کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں۔ جہاں وہ رکے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے تو منع فرماتے ہیں لیکن پاخانہ کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔
حافظ ابن قیم نے ’اعلام الموقعین‘ میں اہل حق کے موقف کی پوری وضاحت فرمائی ہے۔ قیاس کی سمّیت کا یہ اثر تھا کہ محرمات اور مسکرات کی جزوی رخصت دے کر حرام کو حلال بنانے کی کوشش کی گئی، چنانچہ نبیذ اور طَلا وغیرہ کے مباحث فقہا﷭کی مستندات میں مرقوم ہیں اور مفکرین قیاس نے پاخانہ کی نجاست کو پیشاب سے بھی کم تصور فرمایا۔ اس لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ میزان اہل حدیث کے ہاتھ میں ہے جنھوں نے نبیذ اور طلا کا فیصلہ «كل مسكر حرام» کی روشنی میں کیا۔ مسکر کا استعمال تو دور رہا، اس کی صورت بدل کر سرکہ بنانے کی بھی ممانعت فرما دی اور نجاست کے معاملہ میں پیشاب اور دیگر نجاستوں کا ایک ہی حکم تصور فرمایا۔ قیاسِ صحیح کا بھی یہی تقاضا تھا اور نصوصِ صحیحہ کا بھی یہی مفاد تھا۔
اہل حدیث اور باقی تحریکات
عموماً تحریکات وقتی تقاضوں کی پیداوار ہوتی ہیں، اس لیے وقتی اور مخصوص مقاصد کی تحصیل کے بعد ان تحریکوں کی عمر ختم ہو جاتی ہے۔ مثلاً
شیعہ: خاندان نبوت کے ہوا خواہوں نے سمجھا کہ خلافت کا حق موروثی طور پر اسی خاندان کو ملنا چاہیے، اس لیے اہل بیت کی طہارت و عصمت میں غلو کیا گیا۔ علی﷜کو نبی کریمﷺکا وصی قرار دیا گیا۔ صلاۃ اور اذان تک اسی مقصد کے مطابق تبدیل کر دی گئیں، لیکن جب اُموی اقتدار نے محمد بن الحنفیہ جیسے خاندانی لوگوں کو یزید کی دوستی پر مجبور کر دیا تو تحریک کی معنویت ختم ہوگئی اور اس کے انقلابی ارادے عدم کی نظر ہوگئے۔ تحریک کے ناکام لیڈروں نے تحریک کو عقیدے اور مذہب کا رنگ دے دیا اور اس طرح یہ وقتی مسئلہ ہمیشہ کی تفریق اور دشمنی کا موجب ہوگیا، لیڈروں کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی یہی صورت تھی جس کے نتیجہ میں اہل بیت کا تقدس بڑھ چڑھ کر بیان کیا گیا، ان کی قبریں پجنے لگیں، مجلس عزا نے ایک جشن کی صورت اختیار کرلی اور ماتمی جلسہ تقریبِ شاہی کی نمائش کرنے لگا۔ تحریک مقصدِ حیات کے لحاظ سے ختم ہوگئی، لیکن لازوال دشمنی اور تفریق کی ایک بیماری سی اُمت میں چھوڑ گئی، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ شیعہ اور سنی مسلمان میں ایک نوع کا بعد سا پیدا ہوگیا۔
خوارج: خوارج نے اس غلوّ کو توڑنا چاہا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ اہل بیت بشری تقاضوں سے بالا نہیں ہیں، نہ وہ معصوم اور بے گناہ ہیں اور نہ غلطیوں سے محفوظ، بلکہ فی الواقع ان سے غلطیاں سرزد ہوئیں۔ اس اظہارِ بیان نے غلو کی صورت اختیار کی اور اہل بیت کی تکفیر تک نوبت پہنچ گئی۔ اہل بیت کے اقتدار کے خاتمہ کے ساتھ تحریک کی عملی حیثیت بھی ختم ہوگئی۔ تحریک کے ناکام لیڈروں نے اسے بھی مذہب اور فلسفہ کا رنگ دے کر ایک جدید مذہب کی بنیاد رکھ دی جس کا اسلام سے بہت کم تعلق ہے۔
متکلمین و مبتدعین:اسی طرح بعض عقل پرست حضرات نے اسلام کو اصطلاحی عقل اور عرفانی فلسفہ کے ساتھ آمیز کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں اعتزال اور جہمیت پیدا ہوئی۔ خلق قرآن اور صفتِ باری کی ’عینیت‘ اور ’غیریت‘ کے بے ضرورت مباحث پیدا ہوگئے۔ اسلام کو عقل کی روشنی میں سمجھنے کی بجائے اسلام کے بعض اساسی اور بنیادی مسائل کا انکار کیا جانے لگا۔ ہمارے متکلمین پر حافظ ابن قیم﷫ کی یہ پھبتی کس قدر صحیح ہے:  لَا لِلْإِسْلَامِ نَصَرُوْا وَلَا لِعَدُّوِّهِ كَسَرُوْا
’’نہ اسلام کی مدد کر سکے اور نہ فلاسفہ کی یورش کا مقابلہ کرسکے۔‘‘
آخر علماے اسلام اور ائمہ حدیث نے جب یونانی فلسفہ کا تار و پود بکھیر کر رکھ دیا اور یونانی فلسفہ کے وکیل مقدمہ ہار گئے اور ائمہ سنت نے مدافعت کی بجائے فلسفہ پر براہِ راست حملے شروع کیے تو اعتزال اور جہمیت ایسی تحریکیں اور متکلمین کی موشگافیاں ہی ختم ہوگئیں اور یہ تحریک بھی صرف کتابوں کے اوراق کی زینت بن کر رہ گئی۔ غرض! ہر وقتی تحریک کا یہی حشر ہوا اور وہ اپنا کام کرکے یا ناسازگارئ حالات کے اثر سے بے اثر ہوگئی۔
معمر ترین تحریک
اس سارے عرصہ میں’تحریک اہل حدیث‘ بدستور کام کرتی رہی۔ اس میں ایسی جامعیت تھی کہ اس کے خدمت گزاروں کو دنیا کے ہر گوشے میں کام ملتا رہا اور ان کی ضرورت محسوس ہوتی رہی۔ پہلی صدی ہجری میں حفظ اور کتابتِ حدیث، دوسری میں تدوین حدیث اور تصنیف و تالیف کی تاسیس کے کام، اس کے علاوہ اعتقادی اور عملی بدعات سے دست بدست لڑائی۔ ان بدعات نے جن چور دروازوں کو تخریبِ اسلام کے لیے کھولا تھا ان کی نگرانی، اس کے ساتھ مسلمانوں کے جماعتی شیرازہ کی حفاظت تاکہ بیرونی حملوں سے اسلام کی سیاسی قوت تباہ نہ ہوجائے۔ یہ وہ دوراندیشیاں ہیں جن کے نتائج فکر نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫جیسے بحرز خار کو بار بار جیل جانے پر مجبور کیا، پھر بوقتِ ضرورت اسی حکومت کی حمایت میں جس نے شیخ کو جیل بھیجا ،ایک سپاہی کی طرح میدان کارزار میں دادِ شجاعت دیتے نظر آئے اور ہلاکو اور چنگیز کی فوجوں سے برسوں سینہ سپر رہے۔ یہ اعتدالِ مزاج اور حفظِ مراتب کے وہ عظیم الشان کارنامے اور فوق العادات کام ہیں جو شاید ائمہ سنت اور ارباب حدیث ہی کا حصہ تھا اور یہ تحریک سب سے معمر اور قدیم ترین تحریک ہے جو ان فتنوں سے عہدہ برآ ہو کر زندہ رہی، کیونکہ یہ تحریک نہ وقتی تھی نہ ظروف و احوال کی پیداوار بلکہ اس کا مقصد پورے اسلام کی خدمت تھا۔
فتح ہند اور اہل حدیث
ساحل ہند پر وارد ہونے والے ہر اول دستے کامنہج اور مشغلہ بھی حدیث سے براہ راست استفادے کا تھا۔[5] آج بھی سندھ میں شیخ بدیع الدین اور ان کا خاندان، اورایک عظیم الشان مکتبہ جس میں حدیث اور رجال کا بے نظیر ذخیرہ موجود ہے، قرونِ ماضیہ کی یاد تازہ کررہا ہے۔ اس وقت گو سندھ میں اہل توحید کو وہ قوت حاصل نہیں لیکن تاریخ کے اَوراق ان کی خدمات کو نہیں بھول سکتے۔ اسی طرح مغل فاتحین بھی اسلامی سادگی اور دین فطرت کی روشنی سے زیادہ فارسی تہذیب سے آشنا تھے، اس لیے ہندوستان میں اسلامی سادگی اور کتاب و سنت کی تعلیمات کا زور زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا اور نہ ہی خدامِ حدیث کی اس قدر کثرت ہوسکی جس قدر بعض دوسرے ممالک میں تھی۔ شیخ علی المتقی صاحب ’کنز العمال‘ اور شیخ محمد طاہر مؤلف ’مجمع البحار‘، شیخ مجدد احمد سرہندی اور قاضی ثناء اللّٰہ پانی پتی اس وقت مغتنمات میں سے تھے۔ اکبری فتنوں کے سامنے کوئی طوطی کی آواز کوسنے یا نہ سنے مگر طوطی نے اپنا فرض ادا کرنے میں کمی نہیں کی۔ اس وقت اہل حق کس قدر کمزور تھے، شیطانی طاقتیں کس قدر جمع ہو رہی تھیں، فتنوں کا سیلاب کتنا تباہی خیز تھا، حکومت کا دینی جذبہ اہل حق کے لیے کتنی مصیبت کا باعث تھا، اعراس اور موالید کو بعض لوگوں نے اسلام کا بنیادی مسئلہ سمجھ رکھا تھا، تاہم ان بزرگوں نے ان بدعات پر کڑی نکتہ چینی کی۔ غیر اسلامی رسوم اور غیر اسلامی نظریوں کے خلاف ان مجد دین وقت کی پر شکوہ آواز فضاے دہر میں گونجتی رہی۔ اللّٰہ اُن سے راضی ہو جائے۔
بدعی استیلا
اس ناخوشگوار ماحول نے اکبر ایسے ملحد انسان پیدا کرکے اہل حق کے لیے فضا کو اور بھی مکدر کر دیا۔ ملا مبارک کا خانوادہ اسی ظلمت کدہ میں ﴿ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ﴾ کا حکم رکھتا ہے۔ یہ ایک بدعی استیلاتھا جس کے لیے ایک تیز مسہل کی ضرورت تھی جس کا نضیج تو شاہ ولی اللّٰہ﷫ نے کیا اور آخری تدبیر کار کے لیے مالکِ قضاء و قدر نے صاحبِ سیف و قلم مولانا اسماعیل دہلوی﷫کو منتخب فرمایا، جن کی مساعی نے مریض کو موت و حیات کی کشمکش سے نکال کر صحت کے آثار نمایاں فرما دیے۔ اس وقت جماعت کے سامنے سب سے اہم اور پہلا مقصد یہ تھا کہ وہ ہندوستان میں ایک دینی حکومت قائم کرے جس کے اربابِ اقتدار صحابہ کرام کی سیرت رکھتے ہوں، جن کے اسلام پر غیر مسلم اقلیتیں مطمئن ہوں۔اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا کہ ظالم کا بدلہ مظلوم سے لیا جائے۔ ایسی سفاکانہ حرکتیں غیر مسلم تہذیب گوارا کرسکتی ہے، اسلام اسے قطعاً برداشت نہیں کرتا۔
دوسرا مقصد عملی بدعات کے خلاف جہاد تھا۔ اس وقت کے سنّی بھی عجیب و غریب تھے۔ اہل سنت کے گھروں سے تعزیہ کے جلوس نکلتے تھے، عشرۂ محرم میں سنّی بھی سوگوار رہتے، حالانکہ ہمارے یہاں ایسے سوگ تین دن سے زیادہ جائز نہیں۔ سالہا سال تک سوگ اسلام کا طریقہ نہیں۔ محرم کی نیاز، اس ماہ میں نکاح کی ممانعت اسلام کا حکم نہیں۔
اعتقادی خرابیاں، قبر پرستی، مزار پرستی کا عام رواج تھا۔ اخلاق کا یہ حال تھا کہ بازاری عورتیں گانے بجانے کے لیے اچھے اچھے شریف گھروں میں آتی تھیں اور معاشرہ میں اسے برا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ارکانِ اسلام عموماً متروک تھے، قبور اور مشاہد کے طواف حج کعبہ کا نعم البدل تھے، تعلیمی اداروں کا زیادہ زور منطق اور یونانی فلسفہ پر تھا، علومِ سنت قطعاً متروک تھے۔ ربع مشکوٰہ تبرکاً طلبہ دیکھ لیتے۔ اصلاحِ حال کا سارا بوجھ صرف اللّٰہ کے ایک بندے شاہ ولی اللّٰہ ﷫کے خاندان پر تھا۔ قرآن کے ترجمہ نے شاہ صاحب﷫پر مصیبت برپا کر دی۔ طاغوتی طاقتیں سارے معمورہ میں پھیل رہی تھیں، شیطان ننگاناچ رہا تھا، اہل حق مجبور تھے کہ مصلحت اندیشی سے کام لیں۔
نتائج و عواقب
نظام حق کی اشاعت کے لیے سنتِ نبوی کے مطابق سید احمد رائے بریلوی﷫نے حضرو میں نفری جنگ لڑی جس میں بظاہر ناکامی ہوئی اور بقیۃ السیف پنجاب پھر پورے ہندوستان میں پھیل گئے۔ انگریز نے عیارانہ طور پر تحریک کا تعاقب کیا۔ تحریک خفیہ (انڈر گراؤنڈ) ہونے پر مجبور ہوگئی اور جماعت کے کام میں خلفشار سا ہوگیا۔ مولانا عبدالجبار غزنوی﷫اور مولانا حافظ عبدالمنان ﷫ وزیر آبادی، لکھوی علماے کرام اور بعض دوسرے اہل فکر صرف قرآن عزیز اور حدیث شریف کی نشرواشاعت پر قانع ہوگئے۔ان بزرگوں کے اثر سے قرآن و حدیث کے درس جا بجا کھل گئے۔ اعتقادی و عملی بدعات ایک ایک کرکے رخصت ہونے لگیں۔ والحمدللہ علی ذلک!
مصائب و آلام کے جس سیلاب سے تحریک اہل حدیث کو اس وقت گزرنا پڑا اور دریائے شور کی سیر جس طرح ہمارے اکابر نے کی، جیل کی جو اذیتیں ان بزرگوں نے سہیں آج لوگ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔
مجاہدین کا گروہ
مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی، مولانا عبداللّٰہ صاحب غازی پوری، صوفی ولی محمد صاحب فیروزپوری، مولوی اکبر شاہ سخانوی، مولانا عبدالقادر قصوری، مولانا فضل الٰہی﷭بدستور اسلامی نظام کے قیام کے لیے کوشش فرماتے رہے۔ یہ کوششیں خفیہ طور پر جاری رہیں اور عام حریت پرور تحریکات میں جماعت کی اکثریت کام کرتی رہی۔ خلافت، کانگریس، احرار، مسلم لیگ وغیرہ جماعتوں میں اہل حدیث نے صرف اسی نقطۂ نظر سے کام کیا کہ اس ملک میں کلمۃ اللّٰہ کو بلند کیا جائے، اس مجاہدانہ تحریک کو ناکام کرنے کے لیے یورپ کے مدبر پوری کوشش سے سرگرم تھے اور یہاں اقامتِ دین اور کلمۃ اللّٰہ کی سربلندی کے لیے شاہ ولی اللّٰہ صاحب اور ان کے خاندان کی مساعی کارفرما تھیں اور اصلاحِ حال کا سارا بوجھ اسی مختصر جماعت پر تھا جن کے پاس دولتِ ایمان کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ اور اس کے علاوہ ملک کے شکست خوردہ ذہن’وہابی‘ کے لفظ سے اس قدر بدکتے تھے ، گویا وہ ﴿ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌۙ. فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ﴾ [6]
مناظرانہ سرگرمیاں
بعض بزرگوں نے مناظرات کی راہ اختیار کی۔وقتی خطرات کے لیے یہ ایک مفید علاج تھا۔ ممکن ہے، ان کی افادیت میں کسی دوست کو اختلاف ہو لیکن وقت کی ضرورت کے لحاظ سے ان کے مفید ہونے میں شبہ نہیں کیا جاسکتا۔
قادیانیت اور بعض دوسرے فرقوں نے عوام میں جس طرح بدعی خیالات کی اشاعت کرنی شروع کی تھی، اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جاتا تو آج پانی سرسے گزر گیا ہوتا۔ اگر صورت حال کو جلد از جلد درست نہ کیا جاتا تو قادیانیت ایک عظیم فتنہ کی صورت اختیار کر لیتی۔نصف صدی کی یہ کوششیں یقیناً ان فتنوں کے دفاع میں کافی مفید ثابت ہوئیں، ورنہ انگریز بہادر کی عطا کردہ نبوت آج ایک مصیبت بن چکی ہوتی۔
میرا مقصد ان گزارشات سے جماعت کی ان خدمات کا مختصر سا جائزہ لینا تھا جو جماعت نے مختلف طریقوں سے ادا کیں تاکہ عامۃ المسلمین اس بات کا اندازہ لگا سکیں کہ اس تحریک نے اسلام کے لیے کیا کچھ کیا اور ماضی و مستقبل کی تحریکات اور اس تحریک میں کیا فرق ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اتفاق، خلوص اور عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم اسلام اور اہل اسلام کے لیے مفید تر ثابت ہوسکیں۔
مختلف مکاتبِ فکر کے علما کے اقوال
1.     مولانا سید سلیمان ندوی﷫’مولانا سندھی اور ان کے افکار و خیالات پر ایک نظر‘ کے مقدمہ میں ارشاد فرماتے ہیں:
’’ہندوستان پر اللّٰہ کی بڑی رحمت ہوئی کہ عین تنزل اور سقوط کے آغاز میں شاہ ولی اللّٰہ ﷫کے وجود نے مسلمانوں کی اصلاح و دعوت کا ایک نیا نظام مرتب کر دیا تھا اور وہ ’رجوع الی دین السلف الصالح‘ ہے۔ اس دعوت نے ہندوستان میں فروغ حاصل کیا اور گو سیاسی حیثیت سے وہ ناکام رہی، تاہم نظری، مذہبی و علمی حیثیت سے اس کی جڑیں مضبوط بنیادوں پر قائم رہیں جن کو ہندوستان کا سیاسی انقلاب بھی اپنی جگہ سے ہلا نہ سکا۔ اس تحریک کا اوّلین اصول یہ تھا کہ اسلام کو بدعات سے پاک کرکے علم و عمل میں سلف صالحین کی راہ پر چلنے کی دعوت مسلمانوں کو دی جائے اور مسائل فقہیہ میں فقہاے محدثین کے طرز کو اختیار کیا جائے۔ ‘‘
یہاں سید صاحب ہی کی طرف سے ایک حاشیہ ہے جس میں وہ لکھتے ہیں:
’’لوگوں نے اس کو بھی مختلف فیہ مسئلہ بنا رکھا ہے کہ وہ (شاہ ولی اللّٰہ﷫) فقہ میں کیا تھے؟ شاہ صاحب نے اپنے سوانح ’الجزء اللطیف‘ کے آخر میں خود ہی بتا دیا ہے کہ وہ کیا تھے؟ فرماتے ہیں:
’’وبعد ملاحظہ کتبِ مذاہب اربعہ و اُصولِ فقہ ایشاں و احادیثے کہ متمسک ایشاں است قرار داد خاطر بمد و نور عینی روش فقہاء و محدثین افتاد۔‘‘ یعنی مذاہب اربعہ کی فقہ اور ان کی اصول فقہ کی کتابوں اور ان احادیث کے غائر مطالعہ کے بعد جن سے وہ حضرات اپنے مسائل میں استناد فرماتے ہیں، نور عینی کی مدد سے فقہاء و محدثین کا طریقہ دل نشیں ہوا۔‘‘
اس زمانہ میں یمن اور نجد میں اس تحریک کی تجدید کا خیال پیدا ہوا جس کو ساتویں صدی کے آخر اور آٹھویں کے شروع میں علامہ ابن تیمیہ اور ابن قیم نے مصر وشام میں شروع کیا تھا اور جس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو ائمہ مجتہدین کی منجمد تقلید اور بے دلیل پیروی سے آزاد کرکے عقائد و اعمال میں اصل کتاب و سنت کی اتباع کی دعوت دی جائے۔ مولانا اسماعیل دہلوی کے عہد میں یہ تحریک ہندوستان تک بھی پہنچی اور خالص ولی اللّٰہی تحریک کے ساتھ آکر منظّم ہوگئی۔ اسی کا نام ہندوستان میں تحریک اہل حدیث ہے۔
2.         یہی مولانا سید سلیمان ندوی ’تراجم حدیث ہند‘ کے مقدمہ فرماتے ہیں:
’’اہل حدیث‘ کے نام سے ملک میں اس وقت بھی جو تحریک جاری ہے حقیقت کی رو سے وہ قدم نہیں، صرف نقش قدم ہے۔ مولانا اسماعیل شہید﷫جس تحریک کو لے کر اُٹھے تھے وہ فقہ کے چند مسائل نہ تھے۔ بلکہ امامتِ کبریٰ، توحیدِ خالص اور اتباعِ نبیﷺکی بنیادی تعلیمات تھیں، مگر افسوس ہے کہ سیلاب نکل گیا اور باقی جو رہ گیا ہے وہ گزرے ہوئے پانی کی فقط لکیر ہے۔
بہرحال اس تحریک کے جو اثرات پیدا ہوئے اور اس زمانہ سے آج تک دورِ ادبار کی ساکن سطح میں اس سے جو جنبش ہوئی وہ بھی ہمارے لیے بجائے خود مفید اور لائق شکر ہے۔ بہت سی بدعتوں کا استیصال ہوا، توحید کی حقیقت نکھاری گئی، قرآن پاک کی تعلیم و تفہیم کا آغاز ہوا، قرآنِ پاک سے براہِ راست ہمارا رشتہ جوڑا گیا، حدیثِ نبوی کی تعلیم و تدریس اور تالیف واشاعت کی کوششیں کامیاب ہوگئیں اور دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ ساری دنیاے اسلام میں ہندوستان ہی کو صرف اس تحریک کی بدولت یہ دولت نصیب ہوئی، نیز فقہ کے بہت سے مسئلوں کی چھان بین ہوئی۔ (یہ اور بات ہے کہ کچھ لوگوں سے غلطیاں بھی ہوئی ہیں) لیکن سب سے بڑی بات یہ کہ دلوں سے اتباع نبوی کا جو جذبہ گم ہوگیا تھا، وہ سالہا سال تک کے لیے دوبارہ پیدا ہوگیا، مگر افسوس ہے کہ اب وہ بھی جارہا ہے۔
اس تحریک کہ ہمہ گیر تاثیر یہ بھی تھی کہ وہ ’جہاد‘ جس کی آگ اسلام کے مجمر (انگیٹھی) میں ٹھنڈی پڑی ہوئی تھی وہ پھر بھڑک اُٹھی، یہاں تک کہ ایک زمانہ گزرا کہ وہابی اور باغی مترادف لفظ سمجھے گئے اور کتنوں کے سر قلم ہوگئے، کتنوں کو سولیوں پر لٹکنا پڑا اور کتنے پابہ جولاں دریائے شور عبور کر دیے گئے یا تنگ کوٹھڑیوں میں اُنھیں بند ہونا پڑا اور اب پردہ کیسا صاف کہنا ہے کہ مولانا (عبدالعزیز) رحیم آبادی کی زندگی تک تحریک کے علم برداروں میں یہ روحِ جہاد کام کر رہی تھی      ؏
افسوس کہ قبیلۂ مجنوں کسے نماند
علماے اہل حدیث کی تدریسی و تصنیفی خدمت بھی قدر کے قابل ہے۔ پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں مرحوم کے قلم اور مولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا۔ بھوپال ایک زمانہ تک علماے اہل حدیث کا مرکز رہا۔ قنوج، سہسوان اور اعظم گڑھ کے بہت سے نامور اہل علم اس ادارہ میں کام کر رہے تھے، عرب اور یمنی ان سب کے سرخیل تھے اور دہلی میں مولانا سید محمد نذیر حسین صاحب کی مسندِ درس بچھی تھی اور جوق در جوق طالبین حدیث مشرق و مغرب سے ان کی درس گاہ کا رخ کر رہے تھے۔ ان کی درسگاہ سے جونامور اُٹھے، ان میں سے ایک مولانا ابراہیم صاحب آروی تھے، جنھوں نے سب سے پہلے عربی تعلیم اور عربی مدارس میں اصلاح کا خیال قائم کیا اور مدرسہ احمدیہ کی بنیاد ڈالی۔ اس درس گاہ کے دوسرے نامور مولانا شمس الحق صاحب مرحوم صاحبِ ’عون المعبود‘ ہیں، جنھوں نے کتبِ حدیث کی جمع اور اشاعت اپنی دولت اور زندگی کا مقصد قرار دیا اور اس میں وہ کامیاب ہوئے۔ اس درسگاہ کے تیسرے نامور حافظ عبداللّٰہ صاحب غازی پوری ہیں جنھوں نے درس و تدریس کے ذریعے خدمت کی اور کہا جاسکتا ہے کہ مولانا سید نذیر حسین صاحب کے بعد درس کا اتنا بڑا حلقہ اور شاگردوں کا مجمع ان کے سوا کسی اورکو ان کے شاگردوں میں نہیں ملا۔ اس درس گاہ کے ایک اور نامور تربیت یافتہ ہمارے ضلع اعظم گڑھ میں مولانا عبدالرحمٰن صاحب مبارک پوری تھے، جنھوں نے تدریس و تحدیث کے ساتھ ساتھ جامع ترمذی کی عربی شرح ’تحفۃ الاحوذی‘ لکھی۔
اس تحریک کا ایک اور فائدہ یہ ہوا کہ مدت کا زنگ طبیعتوں سے دور ہوا اوریہ جو خیال ہوگیا تھا کہ اب تحقیق کا دروازہ بند اورنئے اجتہاد کا راستہ مسدود ہوچکا ہے، رفع ہوگیااور لوگ از سر نو تحقیق و کاوش کے عادی ہونے لگے۔ قرآن پاک اور احادیثِ مبارکہ سے دلائل کی خو پیدا ہوئی اور قیل و قال کے مکدر گڑھوں کی بجائے ہدایت کے اصلی سرچشمۂ مصفا کی طرف واپسی ہوئی۔‘‘
3.         یہی علامہ سید سلیمان دوی﷫’سیرت سید احمد شہید‘ کے مقدمہ میں ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’تیرھویں صدی میں جب ایک طرف ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی طاقت فنا ہو رہی تھی اور دوسری طرف ان میں مشرکانہ رسوم اور بدعات کا زور تھا، مولانا اسماعیل شہید اور حضرت سید احمد بریلوی کی مجاہدانہ کوششوں نے تجدیدِ دین کی نئی تحریک شروع کی۔ یہ وہ وقت تھا جب سارے پنجاب پر سکھوں کا اور باقی ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ تھا۔ ان دونوں بزرگوں نے اپنی بلند ہمتی سے اسلام کا علم اٹھایا اور مسلمانوں کو جہاد کی دعوت دی جس کی آواز ہمالیہ کی چوٹیوں اور نیپال کی ترائی سے لے کر خلیج بنگال کے کناروں تک یکساں پھیل گئی اور لوگ جوق در جوق اس علم کے نیچے جمع ہونے لگے۔ اس مجاہدانہ کارنامہ کی عام تاریخ لوگوں کو یہیں تک معلوم ہے کہ ان مجاہدوں نے سرحد پار ہو کر سکھوں سے مقابلہ کیا اور شہید ہوئے، حالا نکہ یہ واقعہ اس کی پوری تاریخ کا صرف ایک باب ہے۔ اس تحریک نے اپنے پیروؤں میں للہیت، خلوص، اتحاد، نظم، سیاست اور تنظیم کا جو جوہر پیدا کر دیا تھا، اس کے سمجھنے کے لیے کتاب (سیرت احمد شہید) کا چوتھا باب کافی ہے۔ بنگال کی سرحد سے لے کر پنجاب تک اور نیپال کی ترائی سے لے کردریائے شور کے ساحل تک اسلامی جوش و عمل کا دریا موجیں مار رہا تھا اور حیرت انگیز وحدت کا سماں آنکھوں کو نظر آرہا تھا۔
سید صاحب کے خلفاہر صوبہ اور ولایت میں پہنچ چکے تھے، بدعتیں چھوڑی جا رہی تھیں، نام کے مسلمان کام کے مسلمان بن رہے تھے، جو مسلمان نہ تھے وہ بھی اسلام کا کلمہ پڑھ رہے تھے۔ (کہتے ہیں کہ اس تحریک سے چالیس ہزار غیر مسلم مسلمان ہوئے)، شراب کی بوتلیں توڑی جا رہی تھیں، تاڑی اور سیندھی کے خم لنڈھائے جا رہے تھے۔ بازاری فواحش کے بازار سرد ہو رہے تھے اور حق و صداقت کی بلندی کے لیے علما حجروں سے اور اُمرا ایوانوں سے نکل کر میدانوں میں آرہے تھے اور ہرقسم کی ناچاری، مفلسی اور غربت کے باوجود تمام ملک میں اس تحریک کے سپاہی پھیلے ہوئے تھے اور مجاہد تبلیغ دعوت میں لگے تھے۔‘‘
4.  شیخ محمد اکرام صاحب آئی سی ایس مؤلف ’آب کوثر‘، ’موجِ کوثر‘، رودِ کوثر‘ سے برصغیر ہند و پاک کے تقریباً تمام اصحابِ فکرو نظر واقف ہیں۔ موصوف ’غلبیات‘ کے ماہر اور سر سید﷫کے بہت بڑے عقیدت مندوں میں سے ہیں۔ آپ ادارۂ ’ثقافت اسلامیہ‘ لاہور کے ڈائریکٹر رہے ہیں۔ ہندوستان کی اسلامی تاریخ کا اُنھوں نے کافی گہرا مطالعہ کیا ہے۔ یہاں کی تمام ادبی، ثقافتی، تمدنی اور دینی و اصلاحی تحریکات پر انھوں نے تحقیقی مضامین اور کتابیں لکھی ہیں۔
موصوف کی مشہور کتاب ’موجِ کوثر‘ سے ہم ایک اقتباس پیش کر رہے ہیں جو موصوف نے ہندوستان کی عظیم الشان تجدیدی و اصلاحی تحریک ’تحریک اہل حدیث‘ کی بابت ارشاد فرمایا ہے:
’’دوسرا طبقہ اہل حدیث حنفا کی جماعت ہے جنھوں نے تقلید کا قلادہ توڑ کر پھینک دیا اورکتاب و سنت کی ترویج و اشاعت اور شرک و بدعت مٹانے میں بلا خوف عملاً ایسی کوششیں کیں کہ سارے ہندوستان میں ان کی روشنی پھیلی اور توحید کا منارہ بلند ہوا۔
اہل حدیث کی مرکزی جماعت ’اہل حدیث کانفرنس، امرتسر‘ ہے اور اس کے سرگرم کارکن مولوی ابوالوفاء ثناء اللّٰہ امرتسری ہیں جنھوں نے آریہ سماج اور قادیانی جماعت کے ساتھ مباحثوں میں بڑا حصہ لیا۔ اہل حدیث تقلید کے قائل نہیں اور یہ نہیں مانتے کہ اجتہاد کا حق چار اماموں کے بعد کسی کو نہیں رہا۔ یہ صحیح ہے کہ اسلامی روایات کو برقرار رکھنے، دوسرے مذاہب کا مقابلہ کرنے اور اسلام کی ترقی،مذہبی اور معاشرتی اصلاح میں یہ جماعت سب سے آگے ہے۔ مسلمانوں کو فضول رسموں سے بچانے، بیاہ، شادی، ختنے اور تجہیز و تکفین کی فضول خرچیوں سے روکنے اور پیرپرستی اور قبر پرستی کے نقائص دور کرنے میں اس جماعت نے بڑا کام کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ تعلیم یافتہ حضرات بھی ان نقائص اور مضر رسوم کو برا سمجھتے ہیں، لیکن انھیں ٹینس،سینما اور تہذیبِ حاضر کی دوسری دلچسپیوں سے اتنی فرصت ہی نہیں ملتی کہ معاشرتی اصلاح کا ٹھوس اور محنت طلب کام اپنے ذمہ لیں۔
اس لیے یہ کام اکثر ان لوگوں کو کرنا پڑتا ہے جو تعلیم میں بھی بہت آگے نہیں اور کئی باتوں میں تنگ خیال بھی ہیں۔ بعض لوگ انھیں’چوب خشک‘ کہتے ہیں، لیکن ان کے دل ایمان اور یقیں کی دولت سے مالا مال ہیں اور وہ ’امر بالمعروف اور نہی عن المنکر‘ کے پابند ہیں۔ ان کی کوششوں سے فضول اور مضر رسوم اور خلافِ شرع عقائد جو ہندوستانی مسلمانوں میں بہت عام ہیں، روز بروز کم ہو رہے ہیں، اگرچہ کامیابی کے لیے بہت زیادہ محنت درکار ہے، لیکن ان کوششوں کی جس قدر تعریف کی جائے ،بجا ہے۔‘‘                              (ص ۲۵ تا۲۷)
e  اہل حدیث کے کرم فرمائے خاص مولانا مناظر احسن گیلانی﷫نے لکھا تھا اور جو ’برہان‘‘ کے شمارہ اگست ۱۹۵۸ء میں شائع ہوا ہے، تحریک اہل حدیث کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:
’’بجائے خود یہ تحریک اہل حدیث کچھ بھی ہو، لیکن اس کو تسلیم کرنا چاہیے کہ اپنے دین کے اساسی سرچشموں (قرآن و حدیث) کی طرف، توجہ ہندوستان کے حنفی مسلمانوں کی جو پلٹی ،اس میں اہل حدیث اور غیرمقلدیت کی اس تحریک کو بھی دخل ہے۔ عمومیت غیر مقلد تو نہیں ہوئی، لیکن تقلید ِجامد اور کورانہ اعتماد کا طلسم ضرور ٹوٹا۔‘‘
رسول اکرمﷺکی احادیثِ پاک کی جو روشنی اس وقت برصغیر ہندو پاک میں نظر آرہی ہے اور یہاں کے ایوان ہائے علمی و عملی ان کے چرچوں سے گونج رہے ہیں تو یہ سب نتیجہ ہے جماعت اہل حدیث کے ان نفوسِ قدسیہ کی مساعی، محنت، قربانی اور ایثار کا جن کو حق سبحانہ و تعالیٰ نے اس کے لیے منتخب فرمایا اور تکویناً ان کے سپرد یہ خدمت کی گئی۔ انھوں نے علماً، عملاً، تصنیفاً، تدریساً، تبلیغاً اس مقدس علم کی اشاعت کی جس سے سنن نبویہ کا احیا ہوا اور صدیوں کا وہ جمود ٹوٹا جس نے یہاں کے فقہا، واعظین اور مدرسین کوٹھس کر رکھا تھا۔
تیرھویں صدی ہجری کی پہلی چوتھائی میں اس آفتابِ ضیاپاش کی روشنی نہ صرف دہلی، راجپوتانہ، یوپی، بہار، بنگال، جنوبی ہند، سندھ، گجرات، کاٹھیاواڑ، شمال مغربی سرحد اور پنجاب میں بلکہ مشرق وسطیٰ کے ممالک تک کے علمی حلقوں میں پہنچ گئی۔
﴿ كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِي السَّمَآءِۙ. تُؤْتِيْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِيْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا﴾[7]
احیاے سنت کی اس علمی اور اصلاحی تحریک کی قیادت دو مجددِ وقت کر رہے تھے۔ شیخ الکل مولاناسید محمد نذیر حسین صاحب محدث دہلوی اور والا جاہ امیر الملک مولانا سید محمد صدیق حسن خان صاحب قنوجی سربراہِ ریاست بھوپال۔ طاب الله ثراهما وجعل أعلىٰ الجنة مثواهما
مصلحین عرب کیا کہتے ہیں؟
اہل حدیث کی یہ احیائے سنت اور فروغِ حدیثِ نبوی کی تحریک اس دور میں برصغیر میں پیدا ہوئی جب دنیا بھر میں حدیث او را س کے علوم کو نظرانداز کیا جارہا تھا، چنانچہ مصر کے علامہ رشید رضا﷫ (۱۳۵۳ھ) ایک موقع پر لکھتے ہیں کہ جب وہ ۱۳۱۵ھ میں مصر پہنچے تووہاں کے خطبا، وعاظ اور مدرّسین کا یہ حال دیکھا کہ وہ اپنے خطبوں، وعظوں اور اسباق میں ایسی بے نشان روایتیں بیان کر رہے ہیں جن میں ضعیف، منکر اور موضوع سب ہی قسم کی ہیں۔اور سلسلۂ گفتگو میں یہ بھی لکھا ہے:
"قد ضعُفت في مصر والشام والعراق والحجاز منذ القرن العاشر حتى بلغت منتهى الضعف في أوائل القرآن الرابع العشر"[8]
’’علم حدیث کی یہ کمزور حالت سب ہی مشرقی ملکوں مصر، شام، عراق اور حجاز وغیرہ میں دسویں صدی ہجری سے چلی آرہی ہے، مگر ابتدائی چودھویں ہجری میں یہ ضعف انتہا کو پہنچ گیا۔‘‘
[ماخوذ از’مجموعۂ مقالات ‘ مولانا عبد الحمید رحمانی : ج 1؍ص 49 تا 67]
                                                (انتخاب : حافظ خضر حیات، طالبعلم ایم فل’حدیث نبوی‘ ،مدینہ یونیورسٹی)
حوالہ جات
[1]    سورۃ الاحزاب: 45،46
[2]    سورة النساء: 59
[3]    ’’پہلی دو عیسوی صدیوں کی وہ فکری تحریک جس نے خالص عیسائیت میں فلسفیانہ اور صوفیانہ افکار کو داخل کیا۔‘‘ (المعجم الوسیط)
[4]    الشوریٰ: 17 ... ’’جس نے حق کے ساتھ کتاب اتاری اور میزان بھی...‘‘
[5]    غالباً مقالہ نگار کی مراد ان صحابہ کرام ﷢سے ہے، جو پہلے پہل برصغیر آئے اور چونکہ وہ اسی خالص منہاج وعقیدہ پرکاربند تھے جو فقہی مکاتب ِفکر کی بجائےنبی کریمﷺ کی براہ راست اطاعت واتباع کا حامل ہے۔ بعض محققین بیان کرتے ہیں کہ ارضِ برصغیر رسول اللّٰہ ﷺ کے پچیس صحابہ کرامؓ کے ورودِ مسعود سے بہرہ ور ہوئی ہے جس میں سے بارہ حضرت عمربن خطابؓ کے عہد خلافت میں، پانچ حضرت عثمان بن عفانؓ کے عہد میں، تین حضرت علی بن ابی طالبؓ کے دور میں، چار سیدنا معاویہؓ بن ابی سفیانؓ کے عہد میں اور ایک یزید بن معاویہ کے عہد میں تشریف لائے تھے۔ ان صحابہ کے علاوہ مختلف اوقات میں بلا دِ عرب سے اقلیم ہند میں متعدد تابعین و تبع تابعین قدم رنجا فرماتے رہے جن کی شب و روز کا مشغلہ حدیثِ رسولﷺ کی ترویج و اشاعت تھا۔ چنانچہ علامہ ابن حزم فرماتے ہیں کہ ’’عثمان بن ابی العاصؓ اپنے بھائیوں میں بہترین صحابی رسول ہیں۔ رسول اللّٰہ ﷺ نے انہیں طائف کا امیر مقرر فرمایا تھا۔ اُنہوں نے ہندوستان کے تین شہروں میں جہاد کیا ہے۔‘‘           (مزید تفصیلات کے لئے دیکھیں: ’برصغیر میں محدثین کی مساعی‘ از غازی عزیر مبارکپوری، ماہ نامہ ’محدث‘ جنوری 1993ء)                    ح ۔م
[6]    المدثر: 50-51     ... ’’ جیسے کہ وہ بدکے ہوئے گدھے ہیں جو شیر سے فرار اختیار کرچکے ہوں۔‘‘
[7]    سورة ابراہیم: 24
[8]    مقدمہ ’مفتاح کنوز السنہ‘