ىونان اور ىُنّان

چىن كا اىك صوبہ ہے ىُنّان (Yunnan) جس كى سرحدىں مىانمار (برما) اور لاؤس سے ملتى ہىں۔ اُردو كے اكثر صحافتى قلم كار اُسے ىونان لكھ ڈالتے ہىں اور اس پر غور نہىں كرتے كہ كہاں جنوب مشرقى ىورپ كا ملك ىونان اور كہاں چىن كا اىك دُور دراز صوبہ!... وىسے ىونان جسے ہم پاكستانى قدىم عربى كى پىروى مىں ىونان كہتے ہىں، انگرىزى مىں گرىس (Greece) اور جدىد عربى مىں اِغرىق كہلاتا ہے۔ اسى لىے ىونانىوں كو انگرىزى مىں The Greek اور جدىد عربى مىں اِغرىقى كہا جاتا ہے۔دراصل قدىم ىونانى آئىو (Io)دىوى كى نسبت سے ’آئىونىن‘ كہلاتے تھے اور ان كے مسكن كو آئىونىا كہا جاتا تھا۔ اس سے عربوں اور اىرانىوں مىں ىونان كى اصطلاح مشہور ہوئى۔ دىكھىے سرسىد احمد خاں نے ىونان كس معنى مىں استعمال كىا ہے     ؎

فلاطوں طفلكے باشد بہ ىونانے كہ من دارم                                مسىحا رشك مى آىد ز درمانے؟؟؟ كہ من دارم

’’مىرے پاس جو علم كا ىونان ہے اس كے آگے افلاطون تو اىك بچہ ہى ہوگا اور مىرے پاس تمھارے مرض كا جو علاج ہے، اس پر مسىحا كو بھى رشك آتا ہے۔‘‘

آسٹرىا اور آسٹرىلىا

خبر آئى تھى وى آنا سے! اور باخبر اصحاب جانتے ہىں كہ وى آنا (دارالحكومت) اور آسٹرىا (ملك) لازم وملزوم ہىں مگر اخبار كے بے خبر مترجم نے كماحقہ توجہ دىے بغىر آسٹرىا كو آسٹرىلىا بنا ڈالا اور آسٹرىا كے صدر ہنزفشر كو آسٹرىلىا كا صدر لكھ دىا، حالانكہ آسٹرىلىا مىں صدر نہىں ہوتا، گورنر جنرل سربراہِ مملكت ہوتا ہے۔ غالباً معصوم خبرنگار كو علم ہى نہ تھا كہ وى آنا وسطى ىورپ كا اىك تارىخى شہر ہے۔ اس نے بس كركٹ كے حوالے سے آسٹرىلىا كا نام بكثرت سُن ركھا ہوگا، لہٰذا فوراً وى آنا (آسٹرىا) كا تعلق آسٹرىلىا سے جوڑ دىا جس كا دارالحكومت كىنبرا ہے اور اس كے مشہور شہر سڈنى، برسبىن، مىلبورن، پرتھ، ڈارون اور اىڈىلىڈ ہىں۔ اكثر خبرنگار بغىر سوچے Austria كو Australiaبنادىتے ہىں۔ وىسے بھى آسٹرىلىا كى طرف پاكستانىوں كا مىلان زىادہ ہے كىونكہ بہت سوں كا كوئى عزىز ىا دوست آسٹرىلىا مىں روزى كما رہا ہوتا ہے اور جرمن سپىكنگ آسٹرىا كى نسبت انگلش سپىكنگ آسٹرىلىا كى خبرىں كثرت سے آتى رہتى ہىں۔

اعظمىہ كى بگڑى شكل

جب عرب ممالك كے نام انگرىزى میڈیا كے ذرىعے سے اُردو كى سان پر چڑھتے ہىں تو عجب عجب لطىفے سرزد ہوتے ہىں۔ بغداد كى اىك آبادى كا نام اعظمىہ ہے جہاں امام اعظم ابوحنىفہ مدفون ہىں۔ اعظمىہ مىں ہونے والے اىك خودكُش دھماكے كا ذكر تھا اور خبرنگار نے اسے ’ادھمىحا‘ بنادىا۔ دراصل عربى ناموں كو انگرىزى مىں لكھتے وقت كبھى حرف’ض‘ كے لىے dh استعمال كرتے ہىں جىسے Riyadh(رىاض) اور كبھى ’ظ‘ كے لىے dh آتا ہے جىسے Abu Dhabi(ابوظبى)۔ اىسے ہى اعظمىہ (Adhamiyyah ) مىں dh كى غلط فہمى سے اچھا بھلا اسلامى نام بگڑ كر ناقابل فہم ہوگىا۔ جہاں تك ’ابوظبى‘ كا تعلق ہے تو اس كے لغوى معنى ہىں:’ہرنوں والا‘ ىا ’ہرنوں كا دىس‘ مگر ہمارے ہاں ترجمے اور بول چال مىں اسے Abu Dhabiسے ابودہبى ىا ابوظہبى بنا دىا جاتا ہے۔

بحراوقىانوس اور بحرالكاہل

وہ جو كہتے ہىں: ’حامد كى ٹوپى محمود كے سر‘ تو اس كى مثالىں اُردو صحافت مىں بار بار دىكھنے مىں آتى ہىں۔ اعلىٰ تعلىم ىافتہ بھى بحراوقىانوس (Atlantic)اور بحرالكاہل كے بارے مىں گڑبڑا جاتے ہىں، خصوصاً اخبارى مترجمىن تو اكثر ٹھوكر كھاتے ہىں۔ اور تو اور اُردو دائرہ معارفِ اسلامىہ مىں بھی مراكش كے اىك شہر كے متعلق لكھا دىكھا كہ ىہ بحرالكاہل كے ساحل پر واقع ہے، حالانكہ مراكش سے بحرالكاہل (Pacific) كا دُور كا بھى تعلق نہىں۔ مراكش كے مغرب مىں بحراوقىانوس ہے اور شمال مىں بحىرۂ روم (Mediterranean)اور آبنائے جبل الطارق (جبر الٹر)۔ اُردو دائرۂ معارف اسلامىہ دراصل لائڈن (نىدرلىنڈ) كے ’انسائىكلوپىڈىا آف اسلام‘ كا ترجمہ اور اضافہ شدہ ہے جس كے باعث اىك فاش غلطى اس مىں درآئى۔ گڑبڑ سے بچنے كے لىے ىہ ىاد ركھنا چاہىے كہ بحراوقىانوس اور بحرہند كى نسبت بحرالكاہل مىں زىادہ شدىد طوفان نہىں آتے، اس لىے اسے كاہل (Pacific) كہا گىا۔ پھر اس كے بعد دوسرا بڑا سمندر تو بحراوقىانوس (Atlantic) ہى ہے۔

شاق اور شاك

اىك قلم كار نے لكھا ىا كمپوزر نے ىوں كمپوز كىا: ’’اُنھىں قوم كى بے راہروى شاك گزرتى ہے۔‘‘ اُردو مىں ’شاق گزرنا‘ تو ہے جس كے معنى ہىں:’ناگوار ہونا‘ مگر ىہ ’شاك گزرنا‘ لفظى مشابہت كى غلطى كا نتىجہ ہے۔ ’شاق‘ عربى لفظ شق (پھاڑنا) سے مشتق ہے بلكہ ىہ مشتق (پھاڑا گىا، لىا گىا) بھى مادہ ’شق‘ ہى سے ہے جس سے مصدر اِشتِقاق (اخذ كرنا ىا لىنا) بھى ہے۔ اس كے برعكس انگرىزى لفظ شاك (Shock)كے معنى ہىں :’صدمہ‘ ىا ’صدمہ پہنچانا‘۔ اس طرح كى غلطىاں اب عام ہورہى ہىں، ان سے بچنا چاہىے۔

باق اور باك

عربى لفظ ’باق‘ كے معنى ہىں: ’باقى‘۔ ىوں ’بے باق‘ كے معنى ہوئے:’باقى نہ بچنا‘ اور اسى لىے ’حساب بے باق كرنا‘ بولتے لكھتے ہىں۔ اس كے مقابلے مىں ’باك‘ كے معنى ہىں:’ڈر‘ اور ’بىباك‘ ىا ’بے باك‘ نڈر اور بے خوف كے معنى دىتا ہے۔ مسئلہ اس وقت بنتا ہے جب نوآموز قلم كار ان كے معنوى فرق كو نظرانداز كرتے ہوئے ’حساب بىباك كردىا‘ ىا ’اس نے بىباقى سے اظہارِخىال كىا‘ لكھ ڈالتے ہىں۔ اہل زبان اس طرح بھى بولتے ہىں: ’’مجھے ىہ كہنے مىں كوئى باك نہىں كہ...‘‘

بَىد اور بَىدِ مجنوں

سابق سعودى سفىر عبدالعزىز ابراہىم الغدىر كے انٹروىو مىں اىك محترمہ نے لكھا: ’’براؤن رنگ كا بىنت كا بنا صوفہ سعودى پرچم كے پاس ركھا گىا تھا۔‘‘ اُردو كا لفظ ’بىد‘ ہے جسے پنجابى مىں ’بَىنت‘ كہا جاتا ہے۔ ہم پنجابى الفاظ كے اُردو مىں داخل كرنے كے خلاف نہىں لىكن جو آسان اور عام فہم اُردو الفاظ مستعمل ہىں، ان كى جگہ غىر ضرورى طور پر پنجابى ىا دىگر زبانوں كے الفاظ لانا مستحسن نہىں۔ ’بَىد‘ سے بىدانجىر (ارنڈ كا درخت)، بىدِمجنوں (جس كى شاخىں جھكى رہتى ہىں) اور بىدِمُشك كى تركىبىں بھى استعمال ہوتى ہىں۔ بىدِمشك كا عرق دل كى فرحت كے لىے استعمال كىا جاتا ہے۔ شرىر ىا كام چورلڑكوں كو اُستاد بىدزنى كى سزا دىتے تھے، ىہ ’’مار نہىں، پىار‘‘ كے فلسفے سے پہلے كى بات ہے۔ وىسے بَىد ىا وَىد ہندى مىں طبىب كو بھى كہتے ہىں اور وىد ىا بىد ہندوؤں كى مذہبى كتابىں بھى ہىں۔

نصىبىن سے جنّوں كى آمد

سىرت كى كتابوں مىں نَصِىبِىن (تركى) سے وادى نخلہ (مكہ) مىں جنوں كى آمد كا ذكر ہے جنھوں نے نبى كرىمﷺ سے قرآنِ كرىم كى تلاوت سُنى اور آپﷺ پر اىمان لے آئے تھے۔ قرآنِ مجىد كى سورۂ جنّ مىں اس واقعے كا بىان ہے۔ ان دنوں نَصِىبِىن كو نُصَىبِىن (Nusaybin)كہا جاتا ہے۔ ىہ شہر جنوب مشرقى تركى مىں شام كى سرحد پر واقع ہے۔9؍اكتوبر كے اخبار مىں خبر تھى كہ

’’تركى نے شام سے ملحقہ سرحد پر 2مىٹر اونچى دىوار تعمىر كرنا شروع كردى ہے تاكہ شامى باشندوں كى غىرقانونى نقل وحمل كو روكا جاسكے۔ سرحدى علاقے نوسع بن مىں تعمىراتى كام شروع ہوچكا ہے۔‘‘

ظاہر ہے اخبارى مترجم كا ’نوسع بن‘ دراصل تارىخى شہر نُصَىبِىن ہے۔ كسرىٰ نوشىرواں كو جب ىہ شہر فتح كرنے مىں مشكل پىش آئى تھى تو اس نے طىرانشاہ (اىران) سے بڑى تعداد مىں بچھو منگوائے اور جب شىشے كى بوتلوں مىں بھرے ’بچھو بم‘ منجنىق سے شہر پر پھىنكے گئے تو اہل شہر نے تنگ آكر شہر كے دروازے كھول دىے۔ پھر اىك سو برس بعد سىدنا امىرمعاوىہ﷜كے عہد مىں نصىبىن مىں بچھوؤں كى اس قدر كثرت تھى كہ حاكم شہر نے امىرالمومنىن كے حكم پر بچھو مارنے والوں كے لىے انعام مقرر كردىا۔ ىوں شہرىوں كو ان موذىوں سے نجات مل گئى۔

’ہىرونىشا‘ اور خىرالنسا٫

سابق صدرِتركىہ عبداللّٰہ گُل كى اہلىہ كا نام خىرالنساءہے مگر بعض اُردو اخبارات مىں اسے’ہىرونىشا‘ لكھا جاتارہا جو تركى زبان كے لاطىنى رسم الخط كا شاخسانہ ہے كىونكہ اس مىں حرف ’خ‘ كے لىے Hاستعمال ہوتا ہے۔ تركى زبان كا عربى فارسى رسم الخط ىہودونصارىٰ كے فكرى اىجنٹ مصطفىٰ كمال اتاترك (متوفىٰ ٫1938) نے ختم كركے اس كى جگہ لاطىنى رسم الخط جبراً رائج كردىا اور ىوں تركوں كو ان كے اسلامى ورثے (عربى اور فارسى كے علوم) سے محروم كردىا۔ اس كے نتىجے مىں آج تركوں كى نوجوان نسل اكثر قرآنِ مجىد كى تلاوت كے شرف سے قاصر ہے۔ لاطىنى رسم الخط مىں خىرالنسا٫ كو Herunnisa لكھا جانے لگا جو ہمارے ہاں ہىرالنسا٫ ىا ہىرونىشا بن گىا۔ اىسے ہى ترك وزىراعظم احمد داؤد اوغلو كا نام تركى مىں Ahmet Davut Ogluلكھا جاتا ہے جسے ’اُمورِ تركى كے ماہر‘ فرخ سہىل گوىندى اپنے كالم مىں بالالتزام ’احمت دعوت اوگلو‘ لكھتے چلے جاتے ہىں۔ تركى كے بار بار كے دوروں كے بعد بھى وہ ترك وزىراعظم كے اسلامى نام كو اُردو مىں درست طور پر نہىں لكھ رہے۔

گوىندى صاحب كے ممدوح اور اتاترك كے فكرى شاگرد سابق ترك وزىراعظم كا نام بلند اَجود تھا جو انگرىزى سے ترجمہ ہوكر ہمارے ہاں بلنت اجوت بن جاتا تھا كىونكہ لاطىنى رسم الخط مىں اسے Bulent Ecevitلكھا جاتا ہے۔ اسلام پسند ترك وزىراعظم نجم الدىن اربكان كا نام جسے لاطىنى حروف مىں Necmettin Erbakanلكھا جاتا تھا، اردو مىں نسمتىن اربكان بن جاتا تھا۔

اىك افسوسناك لطىفہ دىكھىے۔ ع س؟؟؟ مسلم استنبول مىں اىك تارىخى مسجد دىكھنے گئے۔ وہاں نوجوان ترك گائىڈ دىوار پر نقش عربى عبارت كو Our National Heritage (ہمارا قومى ورثہ) بتا رہا تھا۔ مسلم صاحب نے كہا: ذرا اپنا قومى ورثہ پڑھ كر تو سناؤ۔ اس پر وہ نوجوان بغلىں جھانكنے لگا۔ وہ عربى مىں لكھى سورۃ فاتحہ تھى جبكہ اسے عربى حروف كى پہچان ہى نہ تھى۔ تب مسلم صاحب نے سىاحوں كو مخاطب كركے بتاىا كہ ىہ قرآن مجىد كا پہلا چىپٹر (سورت) ہے جو اللّٰہ كى تعرىف اور دعا پر مشتمل ہے۔ پھر اىك اىك آىت پڑھ كر اس كا ترجمہ سناىا تو سىاح حىران اور خوش ہوئے۔

صلاح الدىن ىا صلاطىىن؟

قىم جماعت اسلامى جناب لىاقت بلوچ جو ىكم نومبر 2015 ٫كو تركى كے عام انتخابات كا مشاہدہ كركے آئے ہىں،’اىشىا‘مىں لكھتے ہىں: HDP(خلق ڈىموكرىٹك پارٹى) كے كو چىئرمىن صلاطىىن دمرطاس...‘‘ جبكہ كردوں كى اس پارٹى كے لىڈر كا صحىح نام ’صلاح الدىن دمىرتاش‘ ہے۔

گاما اسلامىہ اور جمال كا ’گمال‘

اىك خبر مىں مصر كى اىك جماعت كا نام ’گاما اسلامىہ‘ پڑھا تو سر پىٹنے كو جى چاہا۔ ہر پڑھا لكھا جانتا ہے كہ مصر عرب ملك ہے اور عربى وہاں كى سركارى و دفترى زبان ہے، نىز عربى مىں حروف پ، ٹ، چ، ڈ، ڑ، ژ، گ نہىں ہوتے۔ ىہ الگ بات ہے كہ مصرى عربى حرف ’ج‘ كا تلفظ ’گ‘ كى طرح كرتے ہىں، اس لىے انگرىزى تحرىروںمىں حرف ’ج‘ لاطىنى حرف Gكى شكل اختىار كرلىتا ہے مگر اس صوتى تغىر كے باوجود عربى رسم الخط مىں تو حرف ’ج‘ ہى رہتا ہے، جىسے جمال (مصرى تلفظ ’گمال‘)، جمعہ (تلفظ ’گُما‘)، جابر (تلفظ ’گابر‘)، لہٰذا عربى نام اُردو مىں آكر تبدىل نہىں ہوتے۔ اگر مترجم صاحب ىہ پہلو مدِّنظر ركھتے تو جان لىتے كہ Gama’aدراصل ’جماعہ‘ ىا ’جماعت‘ ہے اور اسے گاما (پہلوان) سے كوئى نسبت نہىں۔

تارىخ اسلام اور نام نہاد دانشور كى جاہلانہ سوچ

نام تو عرفان حسىن ہے مگر حسىن﷜كے عرفان سے دُور كا بھى تعلق نہىں۔ روزنامہ ’دُنىا‘ (8جون ٫2015) مىں لكھتے ہىں: ’’عرب اور وسطى اىشىا سے آنے والے مسلم حملہ آور بھى توسىع پسندانہ عزائم كے ساتھ لشكر كشى كرتے دكھائى دىے۔ مشرقِ وسطىٰ، افرىقہ اور ىورپ كے كئى علاقے اىك اىك كركے اسلام كے پرچم تلے سرنگوں ہوتے گئے۔ دوسرى طرف صدىوں تك افغان حملہ آوروں كى ىلغار سے ہندوستان مىں خونرىزى اور بربادى كى داستانىں رقم ہوتى رہىں۔ افغان حملہ آوروں كى برصغىر مىں فوج كشى كى داستان آج بھى پتھر كا كلىجہ شق كردىتى ہے۔‘‘

’عرفان‘ كے بجائے اس سراپا جہالت شخص كو مسلم فاتحىن سب ’مسلم حملہ آور اور توسىع پسند‘ نظر آتے ہىں۔ گوىا محمد بن قاسم، امىر ناصرالدىن سبكتگىن، سلطان محمود غزنوى اور سلطان شہاب الدىن غورى كے مقابل آنے والے راجہ داہر، جے پال، انندپال اور پرتھوى راج تو سراسر امن پسند اور معصوم تھے۔ اسے ىہ بھى معلوم نہىں كہ فروغِ حق كے لىے لڑنا جہاد ہے، حملہ آورى ىا توسىع پسندى نہىں۔ اس جہلِ مركّب كو طارق بن زىاد، سلطان الپ ارسلان سلجوقى، حاجب المنصور، امىر ىوسف بن تاشفىن، سلطان صلاح الدىن اىوبى، سلطان ركن الدىن الظاہر بىبرس اور سلاطىن عثمانى كى فتوحات اىك آنكھ نہىں بھاتىں اور اسے رومىوں اور دىگر ىورپىوں كے پرچم سرنگوں ہونے كا دُكھ مارے دے رہا ہے۔ وہ احمد شاہ ابدالى كو بھى خونرىزى اور بربادى كى داستان رقم كرتے دىكھتا ہے، حالانكہ اس مجاہد عظىم نے شاہ ولى اللّٰہ كى دعوت پر آكر مرہٹوں كى لوٹ مار سے مسلمانانِ ہند كو بچاىا تھا جبكہ ان دہشت گردوں نے جنوبى ہند سے درىائے سندھ تك اور مشرق مىں بنگال تك قتل و غارت كا بازار گرم كرركھا تھا۔ ابدالى نے پانى پت كى تىسرى جنگ (٫1761) مىں دہشت گرد ہندو مرہٹوں كے تىن لاكھ كے لشكر كا صفاىا كركے مسلمانوں كى گرانبہا خدمت انجام دى تھى جو اس شپرہ چشم(عرفان حسىن) كو نظر نہىں آتى اور علا٫الدىن خلجى اور احمد شاہ ابدالى كى فتوحات سے اس كا پتھر كا كلىجہ بلاوجہ شق ہوتا ہے۔ ’دنىا‘ كے نام سے اخبار اور چىنل چلانے والے مىاں عامر محمودسے تنخواہ پانے والے اس شخص كى ہفوات مسلمانان پاك و ہند كے لىے انتہائى تكلىف دہ ہىں۔

اس قبىل كے اىك نام نہاد مؤرخ مبارك على اور اىك جعلى دانشور منظور احمد بھى ہىں جو انگرىز اور ہندومؤرخىن كى مسلمان حكمرانوں كے متعلق كذب بىانىوں كو اپنى تحرىروں مىں اُگلتے رہتے ہىں اور بدقسمتى سے ہمارے اخبارات اور مىڈىا مىں بىشتر قلم كار اىسے لوگوں كے لكھے كو حرفِ آخر سمجھ كر اپنے كالموں اور پروگراموں كى زىنت بناتے ہىں۔ بھارتى مصنفىن نے تارىخ كے نام پر بہت كچھ رطب و ىابس بھردىا ہے جو ہمارے ہاں انگرىزى ذرىعۂتعلىم كے غلبے كے باعث ہمارے نوجوانوں كے ذہنوں كو تارىخ كے حوالے سے مسموم كررہا ہے۔ ہمارے اربابِ حل و عقد اور محب اسلام اور محب پاكستان دانشوروں كے لىے ىہ صورتِ حال اىك چىلنج ہے۔

سكھ مت اور انگرىز

روزنامہ نوائے وقت کے ڈپٹی ایڈیٹر جناب سعید آسی لکھتے ہیں: ’’سكھوں كا مذہب وىسا ہى انگرىزوں كا اىجاد كردہ ہے جىسے اُنھوں نے قادىانىت كا فتنہ كھڑا كىا تھا۔‘‘[1]

درحقىقت سكھوں كا مذہب گرونانك سے شروع ہوا جو دوسرے مغل بادشاہ نصىرالدىن ہماىوں كے عہد مىں ٫1539مىں فوت ہوئے۔ ان كے نوىں گرو تىغ بہادر اور دسوىں گرو گوبند سنگھ اورنگ زىب عالمگىر كے دور مىں گزرے اور گوبند سنگھ نے لفظ سنگھ بمعنى ’شىر‘ كو سكھوں كے نام كا حصہ بنادىا، لہٰذا سكھ مت كو انگرىزوں كا اىجاد كردہ قراردىنا ہرگز درست نہىں۔ لاہور كى سكھ رىاست (٫1799 تا ٫1849) بھى انگرىزى دور سے پہلے قائم تھى۔ اس كے خاتمے پر سكھ برطانوى فوج مىں شامل ہوگئے اور مشرقى پنجاب كى سكھ رىاستوں كى مدد سے انگرىزوں نے ستمبر ٫1857 مىں دہلى كو دوبارہ فتح كىا۔

ٹىپو اور كارنوالس

اثر چوہان ’سىاست نامہ‘ مىں لكھتے ہىں: ’’ٹىپو سلطان نے بہ حالتِ مجبورى مدراس كےانگرىز گورنر لارڈ كارنوالس سے معاہدے (٫1792) كے تحت اپنے دو بىٹوں كو ىرغمال كے طور پر بھجوادىا۔‘‘[2]

حقىقت ىہ ہے كہ لارڈ كارنوالس مدراس كا گورنر نہىں، ’گورنر جنرل آف انڈىا‘ تھا كىونكہ انگرىز جنگِ پلاسى (جون ٫1757) اور جنگِ بكسر(٫1764)جىت كر بنگال، بہار اور اڑىسہ كى حكمرانى حاصل كرچكے تھے اور بمبئى اور مدراس كے انگرىز گورنر كلكتہ مىں مقىم گورنر جنرل كے ماتحت تھے۔كارنوالس ٫1783 مىں امرىكى ہىرو جارج واشنگٹن سے شكست كھا كر ہندوستان آىا تھا۔ تىسرى جنگ مىسور    (92-٫1789) مىں انگرىز نظام حىدرآباد اور مرہٹوں كى مدد سے سلطنتِ مىسور كو شكست دىنے مىں كامىاب رہے تھے اور سلطان كو دو بىٹے بطورِ ىرغمال بھىجنے كے علاوہ اپنى نصف سلطنت بھى انگرىزوں كے حوالے كرنى پڑى تھى۔
حوالہ جات
[1]    ’بىٹھك‘ سعىد آسى: ’نوائے وقت‘ 13؍نومبر2015ء

[2]    ’نوائے وقت‘ 12 ؍نومبر2015ء