میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

نام و نسب:ابوالحسن علی بن عمر بن احمد بن مہدی بن مسعود بن نعمان بن دینار بن عبداللّٰہ بغدادی دارقطنی﷫تاریخ پیدائش:۳۰۶ھ [1]

دارقطنی کی وجہ تسمیہ :بغداد میں ایک محلہ تھا جس کا نام دارُالقطن تھا، وہاں کے رہائشی تھے اس كى وجہ سے اسی طرف منسوب ہوئے ۔

اساتذہ: آپ نے اس قدر زیادہ شیوخ سے استفادہ کیا جن کا شمار ناممکن ہے، ان کے چند مشہور اساتذہ درج ذیل ہیں :ابوالقاسم بغوی ،ابوبکر بن ابو داود،یحییٰ بن صاعد،ابن قانع صاحبِ معجم الصحابہ ، اور اسماعیل بن محمد الصفار وغیرہ

تلامذہ:ابونعیم اصفہانی،ابوبکر برقانی،امام حاکم صاحب المستدرک،خلال جوہری، تنوخی، عتیقی، قاضی ابوالطیب طبری اور حافظ عبدالغنی مقدسی وغیرہ

علمی سفر

          آپ نو سال کے تھے کہ آپ نے علم حدیث حاصل کرنا شروع کر دیا تھا، آپ کے ساتھی یوسف القواس کہتے ہیں کہ جب ہم امام بغوی﷫ کے پاس جاتے تو دارقطنی ہمارے پیچھے پیچھے ہوتے، ان کے ہاتھ میں روٹی ہوتی جس پر سالن رکھا ہوا ہوتا تھا ۔بعض دفعہ اگر ان کو کلاس میں نہ بیٹھنے دیا جاتا تو یہ باہر بیٹھ کر روتے ...[2]

آپ نے فقہ شافعی اپنے استاد ابوسعید اصطخری سے پڑھی ،اور باقاعدہ تعلىم امام بغوی سے حاصل كى۔ لوگوں کی آپ سے اُمیدیں وابستہ تھیں کہ آپ دارالقطن کے قاری بنیں گے لیکن اللّٰہ تعالی نے اُنھیں محدث بنا دیا۔ آپ نے علم کے حصول کے لئے تمام علمی مراکز کا سفر کیا۔ جن مىں سے کوفہ ،بصرہ،واسط ،تنیس،شام ،مصر، خوزستان ،مکہ اور مدینہ قابل ذكر ہىں ۔

علمی مقام و مرتبہ :آپ کی امامت و ثقاہت پر تمام محدثین کا اتفاق ہے ۔الحمدللہ

آپ کے شاگردشیخ الاسلام ابوالطیب طاہر بن عبداللّٰہ طبری﷫ نے آپ کو’امیر المومنین فی الحدیث‘ کہا ہے ۔[3]                             خطیب بغدادی آپ کے متعلق لکھتے ہیں :

"وکان فرید عصره، وقریع دهره، ونسیج وحده، وإمام وقته، انتهی إلیه علم الأثر والمعرفة بعلل الحدیث وأسماء الرجال وأحوال الرواة مع الصدق والأمانة والفقه والعدالة وقبول الشهادة وصحة الاعتقاد وسلامة المذهب و الاضطلاع بعلوم سوی علم الحدیث"[4]

’’ آپ یگانہ روزگار، یکتاے زمانہ، اما مِ وقت اور نابغہ عصر شخصیت تھے۔علوم حدیث، اور علل حدیث واسمائے رجال کے علوم آپ پر ختم ہوجاتے ہیں۔علاوہ ازیں صدق وامانت ، فقہ وعدالت، قبولِ شہادت، درستگی عقیدہ ومنہج میں بلند مقام پر فائز تھے۔‘‘

حافظ ذہبی نے کہا :"الإمام الحافظ المجوّد شیخ الإسلام، علّم الجهابذة، المقرئ، المحدّث "[5]

’’آپ امام ، حافظ ، مجوّد، شیخ الاسلام او رنامور قاری ومحدث تھے۔ آپ نے اساطین فن کو پڑھایا۔‘‘

ایک جگہ لکھتے ہیں :"بل کان سلفیًّا"[6]                               ’’بلكہ وہ سلفى تھے۔‘‘

حافظ سخاوی نے کہا :"وبه ختم معرفة العلل"[7] ’’آپ پر علل کی معرفت ختم ہو گئی۔‘‘

امام دارقطنی امام الجرح والتعدیل تھے ۔ امام﷫ کو اللّٰہ تعالیٰ نے بہت ہی زیادہ حافظہ عطافرمایا تھا۔ اس بات کا صرف ایک واقعے سے اندازہ لگا لیں۔ امام دارقطنی ﷫ کی سب سے بڑی کتاب العِلَل ہے جو سولہ جلدوں میں مطبوع ہے۔ اس کتاب میں احادیث پر جرح و تعدیل کے اعتبار سے کلام ہے،یہ ساری کتاب آپ نے زبانی لکھوائی۔ خطیب بغدادی فرماتے ہیں کہ میں نے امام برقانی سے پوچھا:کیا ابوالحسن دارقطنی اپنی کتاب العلل آپ کو زبانی لکھواتے تھے؟تو اُنھوں نے جواب دیا :جی ہاں ۔[8]

وفات:آپ بدھ ۸ ذوالحجہ ۳۸۵ھ کو فوت ہوئے اور باب الدیر کے مقبرہ میں دفن ہوئے۔[9] اور آپ کی نمازِ جنازہ ابوحامد اسفرائینی الفقیہ نے پڑھائی۔[10]

امام دارقطنی کے تفصیلی حالات معلوم کرنے کے لئے درج ذیل کتب کا مطالعہ کریں:

تاریخ لابن ماکولا (ج۱۲؍ص۰۴)،تاریخ بغداد(ج۱۲؍ص۳۴)،الانساب للسمعانی (ج۲؍ ص۴۳۸)، وفیات الاعیان(ج۳؍ص۲۹۷)،تذکرۃ الحفاظ (ج۳؍ص۹۹۱)،البدایۃ والنہایۃ (ج۱۱؍ ص۳۱۷) ،سیراَعلام النبلاء(ج۱۶؍ص۴۴۹)

امام حاکم ﷫ نے اپنے استاد محترم امام دارقطنی ﷫ سے ان عراقی راویوں کے متعلق لکھ کر سوالات کیے جن کے حالات اُنھیں بذاتِ خود معلوم نہیں ہو رہے تھے۔ امام دارقطنی﷫ نے ان پر جرح و تعدیل کے لحاظ سے لکھ کر کلام کیا، پھر بعد میں امام حاکم﷫ نے بالمشافہ بھی سوال کىے ۔اور ان میں بعض وہ سوال وجواب بھى ہیں جو امام دارقطنی﷫ سے کسی اور نے کىے لیکن امام حاکم﷫ جواب کے وقت موجود تھے، ان تمام سوال و جواب کو امام حاکم﷫ نے ترتیب دیا ہے۔ پہلے ان سوال وجواب کو لکھا ہے، پھر امام صاحب نے جواب دیے پھر کتاب کے آخر میں ان سوالات وجوابات کو درج کیا جو بالمشافہ سوال كىے اور یہ کتاب سؤالات الحاکم کے نام سے مطبوع ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے معلوم ہو جاتا ہے کہ امام دارقطنی﷫ جرح وتعدیل کے کس قدر بلند مقام پر فائز تھے ۔

اسی طرح امام ابوعبدالرحمٰن سُلمی نے اپنے شیخ امام دارقطنی﷫ سے سوالات كىے وہ بھی مطبوع ہیں، اسی طرح برقانی کے سوالات بھی مطبوع ہیں۔ سؤالات حمزة السهمي بھی عام متداول ہیں۔ ان کتب سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ امام دارقطنی مرجع خلائق تھے اور ان کے جوابات کو بہت ہی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔[11]

اہم تصانیف اور ان کا اُسلوب

آپ نے ساری زندگی علوم حدیث پر کتب تصنیف فرمائیں، ان کی تعداد ۵۳ بنتی ہے۔ ان میں سے بعض مطبوع ہیں اور بعض مخطوط ۔ ان کی ضرورى تفصیل پیش خدمت ہے :

1. أحادیث الصفات                                         2. أحادیث النزول

3. رؤية الله                                                          4. الالزامات

5. التــتبع                                                           6. الافـراد

7. سؤالات البرقاني للدارقطنی    8. سؤالات الحاکم للدارقطني

9. سؤالات السُّلمی للدارقطنی     10. السنن للدارقطنی

11. الضعفاء والمتروکون                 12. العلل الواردة في الأحادیث النبوية

13. غرائب مالك                                            14. المؤتلف والمختلف في أسماء الرجال

1۔سنن الدارقطنی

امام دارقطنی﷫ کی یہ مشہورِ زمانہ کتاب ہے اس میں احادیث کی تعداد ۴۸۳۵ ہے ۔صحیح احادیث بھی ہیں اور ضعیف بھی ۔اس کتاب میں امام صاحب نے درج ذیل منہج اپنایا ہے :

1.  فقہی ترتیب :اس کتاب میں تمام احادیث فقہی ترتیب کے مطابق لکھی گئی ہیں، مثلاً: پہلے کتاب الطہارۃ، پھر کتاب الصلاۃ... الخ ۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو فقہ میں خوب مہارت تھی بلکہ فقہ کی جزئیات تک نظر تھی، اس لئے تو احکام کے متعلق احادیث کو سنن دارقطنی میں جمع کیا ہے او رجن ضعیف اور موضوع روایات سے بعض فقہا استدلال کرتے تھے، ان کے ضعف کو واضح کیا ہے ۔

2.  جو حدیث جتنے شیوخ سے سنی ہوئی ہے، ان تمام کا نام لیتے ہیں اور سند کی تبدیلی کے وقت ح لکھتے ہیں۔ مثلا حدیث نمبر ۱ کو چار شیوخ اور حدیث ۲ کو چھ شیوخ سے بیان کرتے ہیں۔

3.  امام دارقطنی﷫ کا کوئی اُستاد اپنے کئی شیوخ سے حدیث بیان کرے تو امام دارقطنی ان تمام کے نام لکھتے ہیں مثلاً دیکھیں :حدیث نمبر۱۱

4.  امام دارقطنی غریب الحدیث کا بھی اہتمام کرتے ہیں مثلا قُلّتین کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ابن عرفۃ نے کہا کہ میں نے ہشیم سے سنا کہ قلتین سے مرادالجرتین الکبار ہے۔

5.  امام دارقطنی کی یہ کتاب اصل میں علل کی کتاب ہے۔ ہر حدیث کی زیادہ سے زیادہ سندیں بیان کرتے ہیں پھر ان میں اختلاف نقل کرتے ہیں اور بعض دفعہ راجح بھی لکھتے ہیں، مثلاً: حدیث نمبر ۲۰ میں لکھتے ہیں :والمحفوظ عن ابن عیاش

6.  اگر کسی روایت کے مرفوع اور موقوف ہونے میں اختلاف ہو تو امام دارقطنی ﷫ اس اختلاف کو بیان کرکے راجح کی تعیین کرتے ہیں ،مثلاً دیکھیں: حدیث نمبر۲۹،۷۷

7.  اگر کوئی کثیر الخطا راوی حدیث بیان کرنے میں غلطی کرے تو امام دارقطنی﷫ اس غلطی کو بیان کرتے ہیں، مثلاً دیکھیے:حدیث نمبر ۳۸

8.  امام دار قطنی جر ح و تعدیل کے امام تھے، یہی وجہ ہے کہ وہ ہر ہر باب میں جو ضعیف روایات ہوں، ان کی نشان دہی ضرور کرتے ہیں اور ضعیف روایت کی علت بیان کرتے ہیں، مثلاً:

حدیث نمبر۴۷ میں لکھتے ہیں: رشدین بن سعد لیس بالقوي

حدیث نمبر۷۰ میں لکھتے ہیں: ابن أبي ثابت لیس بالقوي

حدیث نمبر ۷۵ میں لکھتے ہیں: أبان بن عیاش متروك

حدیث نمبر ۸۴ میں لکھتے ہیں: سعید بن أبي سعید ضعیف

حدیث نمبر ۸۶ پر تبصرہ کرتے ہیں: غریب جدًا خالد بن إسمٰعیل متروك

اگر کوئی روایت مرسل ہو تو اس کی وضاحت کر دیتے ہیں، مثلاً: دیکھىے حدیث نمبر ۴۹

9.  امام دارقطنی﷫ اپنی اس کتاب میں مرفوع کے علاوہ صحابہ (حدیث نمبر۶۶) اور تابعین کے اقوال بھی باسند لائے ہیں، مثلاًدیکھىے:حدیث نمبر۵۳

10.  بعض احادیث کے صحیح ہونے کا حکم لگاتے ہیں، مثلاً: حدیث نمبر ۷۸ پر لکھتے ہیں:إسناده حسن۔ حدیث نمبر ۸۵ پر لکھتے ہیں: هذا إسناد صحیح۔نیز دیکھیں حدیث۹۶۔ بعض دفعہ کئی احادیث پر اکٹھا ہی حکم لگا دیتے ہیں، مثلاً: حدیث نمبر ۱۰۱ سے ۱۰۳ تک کی احادیث کو ان الفاظ میں حکم لگاتے ہیں : هذه أسانید صحاح.

11.  امام دارقطنی ﷫ اپنی خاص سند کا لحاظ کرتے ہوئے الگ الگ سند پر حکم لگاتے ہیں۔ اس لىے سنن دارقطنی کے مطالعہ کے دوران کئی ایک متون صحیح بخاری سے ملتے جلتے نظر آئیں گے لیکن ان کی سند جو امام دارقطنی﷫ کو ملی، اس میں ضعیف یا متروک راوی ہو تو اس کی وضاحت کر دیتے ہیں، حالانکہ اس متن کے کئی اور طرق بھی ہوتے ہیں۔ امام دارقطنی ان کا لحاظ کرتے ہوئے متن حدیث کو صحیح یا حسن قرار نہیں دیتے بلکہ اپنی خاص سند کا لحاظ کرتے ہوئے حکم لگاتے ہیں۔یہی تحقیق سنن دارقطنی کے محقق شیخ مجدی بن منصور ﷾ نے پیش کی ہے۔[12]

2۔رؤیۃ اللّٰہ یا کتاب الرؤیۃ

1.     امام دارقطنی عقیدے کے اہم مسئلے کہ’’ قیامت کومؤمن اللّٰہ کا دیدار کریں گے ‘‘کے موضوع پر اپنی اس کتاب میں ۲۸۷ مرفوع باسند احادیث لائے ہیں جن میں اس مسئلے کا اثبات کیا گىا ہے۔ علم حدیث کی اصطلاح میں اس کو ’جزء فی رؤیۃ اللّٰہ‘ کا نام دینا چاہىے ۔

2.  بعض احادیث پر صحت و ضعف کے اعتبار سے حکم بھی لگائے ہیں، مثلاً: پہلی حدیث کے آخر میں لکھتے ہیں: هذا حدیث صحیح أخرجه البخاري في صحیحه

3.  بعض احادیث کے آخر میں اسناد کا اختلاف نقل کرتے ہیں، مثلاً: دس نمبر حدیث کے آخر میں سند کا اختلاف نقل کیا ہے ۔

4.  في کتابه کی وضاحت۔امام دارقطنی﷫ اپنی کتاب میں اس روایت کی فی کتابہ کہہ کر وضاحت کرتے ہیں جو شیخ نے اپنی کتاب سے بیان کی ہو گی،مثلاً: دیکھیں حدیث نمبر۴۸

5.  سند کے شروع میں اپنے شیخ کا نام تفصیل سے لکھتے اور بعض راویوں پر جرح و تعدیل کے لحاظ سے حکم لگاتے ہیں،مثلاً: حدثنا أبوبکر أحمد بن محمد بن إسماعیل الآدمي المقرئ الشیخ الصالح ۔حدیث نمبر:۴۹

6.  امام دارقطنی﷫ مسانید کے طرز پر صحابہ کرام﷢کے نام سے روایت بیان کرتے ہیں، پھر اس کی مختلف سندوں کو بیان کرتے اور ہر ہر سند کے ساتھ اس کا متن بھی ذكر کردیتے ہیں ۔مثلاً حدیث ابی سعید الخدری﷜

7.  بعض وہ احادیث جن کو ایک شیخ کے کئی شاگرد بیان کرتے ہیں، ان تمام کے نام لکھتے ہیں اور اگر کوئی راوی اضافہ یا کمی کرتا ہے تو وضاحت کرتے ہیں، مثلاً دیکھیں حدیث نمبر۷۶

3۔کتاب العلل

اس کتاب میں امام دارقطنی﷫ سے مختلف احادیث کے متعلق سوالات كىے گئے اور آپ نے ان کے جواب دىے۔ یہ کتاب سولہ جلدوں میں مطبوع ہے اور علل حدیث پر مشتمل یہ کتاب ایک عظیم شاہکار ہے اور یہ ساری کتاب امام ﷫ نے زبانی لکھوائی ہے ۔والحمدللہ

اس کتاب کی کوئی فقہی ترتیب نہیں، انھى کی مثل شیخ البانی﷫ کی الصحیحہ اور الضعیفہ ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ البانی﷫ نے صحیح اور ضعیف احادیث الگ الگ درج کی ہیں اور ىہ دونوں كتب خود لکھی ہیں اور امام دار قطنی﷫ کی علل میں صحیح اور ضعیف دونوں طرح کی ملى جلى احادیث ہیں اور یہ کتاب انھوں نے زبانی لکھوائی ہے ۔

یہ کتاب اپنے فن میں نادر اور عمدہ ہے، اس کی مثل کوئی کتاب نہیں ۔متقدمین نے جو علل پر کتب تالیف فرمائیں ان میں سے علل لابن المدینی،علل ومعرفۃ الرجال لاحمد بن حنبل ،المسند المعلل لیعقوب بن شیبہ،العلل الکبیرللترمذى ،المسند المعلل للبزار ،العلل لابن ابی حاتم معروف ہیں۔ جب ہم تقابلی مطالعہ کی حیثیت سے ان کتب کاعلل الدارقطنی کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں تو دارقطنی کی علل ہر لحاظ سے فائق نظر آتی ہے۔ اس بات کا اعتراف حافظ ابن کثیرنے کیا ہے۔ [13]

اس کتاب میں احادیث کی ترتیب مسانید کے انداز پر ہے، مثلاً پہلے خلفاے راشدین کی روایات پر بحث پھر دیگر صحابہ کرام ﷢ کی احادیث پر ۔اس کتاب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ امام دارقطنی﷫ ایک معجزہ تھے جنھىں اللّٰہ تعالیٰ نے خدمتِ حدیث کے لىے پیدا کیا تھا کہ کس طرح زبانی طرق ، متون ،اور جرح وتعدیل پر بحث کرتے ہیں ۔آج بھی جو انسان اپنے آپ کو خدمتِ حدیث کے لىے وقف کرلے اللّٰہ تعالیٰ اس کو بہت کچھ عطافرمادیتا ہے ۔

4۔جزء ابی طاہر

          اس جزء میں۱۶۲ ا؍احادیث ہیں جن کو امام دارقطنی﷫ نے ابو طاہر کی سند سے روایت کیا ہے ۔مختلف موضوعات کے متعلق احادیث ہیں۔

5۔الالزامات

اس کتاب میں ان احادیث کو جمع کیا گیا ہے جو امام دارقطنی﷫ کی تحقیق کے مطابق صحیح بخاری یا صحیح مسلم میں ہو نی چاہىے تھیں کیو نکہ انھی کی مثل احادیث بخاری یا مسلم میں ہیں تو یہ کیوں نہیں۔ اس کتاب کی وجہ تسمیہ خود امام ﷫ یہی لکھتے ہیں۔[14]

          یہ گویا ایک طرح کے الزامات ہیں کہ امام بخاری یا امام مسلم فلاں روایت اپنی اپنی صحیح میں کیوں نہیں لائے، حالانکہ وہ احادىث بھی ان کی بخاری یا مسلم کی مثل تھیں ۔

6۔التتبع

امام دارقطنی﷫نے اس کتاب میں ان روایات کو مورد الزام ٹھہرایا ہے جو صحیح بخاری وصحیح مسلم میں ہیں۔ امام دارقطنی﷫ کی تحقیق کے مطابق ان میں کوئی نہ کوئی علت ہے ۔

نوٹ: امام دارقطنی ﷫کے یہ دو الگ الگ رسالے ہیں۔ الالزامات الگ ہے اور التـتبّع الگ لیکن چونکہ ان دونوں کا تعلق صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے ہے، اس لىے محدثین نے ان دونوں کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے۔ بخاری ومسلم یا صحیح بخاری یا صحیح مسلم کی ۲۱۸ روایات کو معلول قرار دیا ہے۔یاد رہے امام دارقطنی﷫ کے ان اعتراضات کے جوابات محدثین نے دے دىے ہیں، مثلاًحافظ ابن حجر عسقلانی﷫ نے ہدی الساری میں اور شیخ مقبل نے الالزامات والتتبع کے حاشیے میں ...جزاہما اللّٰہ خیرًا ،اور راقم نے اپنی کتاب شرح صحیح مسلم میں بھی بعض مقامات پر اعتراضات کے جوابات دیے ہیں ۔امام دارقطنی﷫ کے ان اعتراضات میں کوئی وزن نہیں اور ان میں بھی حق امام بخاری﷫ اور امام مسلم﷫ کے ساتھ ہے۔ یعنی صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی تمام مسند احادیث صحیح ہیں اور اسی پر امت کا اتفاق ہے ۔

7۔غرائب مالک

اس کتاب میں امام دارقطنی﷫ نے موطاامام مالک﷫ سے ان روایات کو جمع کیا ہے جو منفرد اور غرائب سے ہیں اور ان روایات پر جرح وتعدیل کے لحاظ سے بحث کی ہے۔

8۔فضائل الصحابہ

فضائل صحابہ ﷢ پر ایک اچھوتے انداز میں لکھی ہوئی کتاب ہے جس پرامام دارقطنی﷫ کو سبقت حاصل ہے۔ اس میں امام دارقطنی﷫ نے سیدنا ابوبکر صدیق ﷜ کی تعریف سیدنا علی﷜ اور ان کی اولاد سے ثابت کی ہے ۔یہ کتاب ان لوگوں کی زبردست تردید ہے جو صراطِ مستقىم سے دور ہىں۔ سیدنا ابوبکر صدیق﷜ کی، سیدنا علی﷜ کی زبانی تعریف پرامام دارقطنی۲۱۰؍احادیث و آثار لائے ہیں ۔جبکہ سیدنا علی﷜کے بیٹوں اور ان کے اہل و عیال کی زبانی ،سیدنا ابوبکر صدیق﷜ کی تعریف کے متعلق امام دارقطنی ۶۰؍احادیث وآثار لائے ہیں بس یہ کتاب اسی پر مکمل ہو جاتى ہے۔ اس میں کل ۸۰ احادیث وآثار بیان کی گئی ہیں ۔

9۔کتاب الصفات

اس کتاب میں امام دارقطنی﷫ نے ان احادیث کو جمع کیا ہے جن کا تعلق اللّٰہ تعالیٰ کی صفات کے ساتھ ہے ۔ہر ہر صفت کو باسند مرفوع احادیث سے ثابت کیا ہے۔والحمدللہ

10-النزول

          اس کتاب میں امام دارقطنی﷫ نے ۷۸احادیث سے ثابت کیا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف رات کے آخری تہائی حصے میں اُترتے ہیں۔ محدثین کی زندگیاں اللّٰہ تعالیٰ اور محمد رسول اللّٰہ ﷺ کے لىے وقف تھیں اور انھوں نے کس قدر محنت سے اللّٰہ تعالیٰ کی صفات پر الگ الگ کتب تالیف فرمائیں۔ فجزاهم الله خیرًا

اس کتاب میں مسانید کے انداز سے احادیث جمع کی گئی ہیں۔ سب سے پہلے وہ سیدنا علی ﷜کی احادیث لائے ہیں پھر سیدنا جبیر بن مطعم ﷜ کی، پھر دیگر صحابہ کرام کی۔

11۔سوالات البرقانی ،  12۔سوالات الحاکم اور             13۔سوالات السلمی

          ان تینوں کتابوں میں امام برقانی ،امام حاکم اور امام سُلمی﷭نے جو جو اپنے استاد امام دارقطنی﷫ سے سوالات کیے، ان کو جمع کر دیا ہے ۔ اس كى تفصىل پیچھے گزر چكى ہے۔

14۔الموتلف والمختلف فی اسماء الرجال

          اس کتاب میں ان رواۃ كے نام ىا القاب ىا انساب شامل كىے گئے ہىں جو صورت خطى مىں اىك جىسے اور تلفظ كے لحاظ سے مختلف ہوں مثلاً مِسوَر اور مُسَوِّر ۔

نوٹ:اُستاد محترم شیخ ارشاد الحق اثری﷾ نے امام دارقطنی﷫ پر ایک کتاب تالیف کی ہے،  افسوس کہ اس مضمون کو لکھتے وقت میرے سامنے وہ کتاب نہىں تھی۔آئندہ شمارے مىں امام بىہقى﷫ كے حالات اور ان كى كتبِ حدىث كا منہج پیش کیا جائے گا۔ ان شا ءاللّٰہ!
حوالہ جات
[1]    تارىخ بغداد ج 12 ص 39،40 ترجمہ: 6404

[2]              تذکرۃ الحفاظ ج۳ص۹۸۹،تاریخ دمشق:ج ۱۲؍۲؍۲۴۱؍۱

[3]              تاریخ بغداد:ج۱۲ص۳۶

[4]              تاریخ بغداد:ج ۱۲ص۳۴

[5]    سیر اعلام النبلاء :ج۱۶ص۴۴۹

[6]    السیر:ج۱۶ص۴۵۷

[7]    الاعلان بالتوبیخ :۱۶۵

[8]    تاریخ بغداد :ج۱۲ص۳۷

[9]    تاریخ بغداد:ج۱۲ص۴۰

[10] السیر :ج۱۱ص۴۳

[11]   جس طرح پہلے محدثین کے شاگرد اپنے شیوخ کو بہت ہی اہمیت دیتےاور ان سے جو سوالات کرتے ان کو کتابی صورت میں جمع کرتے، بالکل اسی طرح ہمارے زمانے میں امام العصر شیخ البانی ﷫ کے شاگردوں نے بھی شیخ محترم کا بہت احترام کیااور ان سے جوسوالات کىے ان کو کتابی شکل میں محفوظ کیا،الحمدللہ ۔راقم کے ناقص مطالعہ کے مطابق ابواسحٰق الحوینی ،علی حسن الحلبی ،ابن ابی العینین﷾ کے سوالات مطبوع ہیں اور عقیدے و منہج میں تو کئی جلدوں پر مشتمل شیخ البانی کی کتب شائع ہو چکی ہیں، ان میں بھی بے شمار سوالات کے جوابات محفوظ ہیں لیکن افسوس کہ برصغیر میں اساتذہ کے جوابات کو کتابی شکل میں جمع نہیں کیا جاتا، شاید یہاں علم کے قدر دان کم ہیں ۔راقم نے اپنے تمام شیوخ سے اب تک جو کچھ سوال كىے وہ سؤالات ابن بشیر الحسینوي لشیوخنا الکرام کے نام سے تحریری طور پر محفوظ ہیں اور مزید اضافہ جاری ہے۔ یسّر الله لنا طبعه

[12] مقدمہ تحقیق سنن الدارمی ج۱ص۴

[13] اختصار علوم الحدیث:ص۶۴،۶۵

[14] الالزامات والتتبع:ص۶۴