میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

     اسلام اور مسلمانوں کا خواتین کی تعلیم وتربیت کے بارے میں کیا موقف ہے،اور اسلام میں خواتین کی تعلیم کی کتنی ترغیب موجود ہے، خواتین کی تعلیم کی نوعیت کیا ہونی چاہیے؟اس بارے میں بہت سے سوالات لوگوں کے ذہنوں میں پائے جاتے ہیں۔اسلام کو عورتوں کی تعلیم کا مخالف بتایا جاتا اورمیڈیا میں مسلم خواتین کو تعلیم کا مطالبہ کرتے دکھایا جاتا ہے ۔ کچھ عرصہ قبل ملالہ یوسف زئی کو مسلم خواتین میں تعلیم کا سفیر بنا کر پیش کیا گیا اور بعض لوگوں کو خواتین کی تعلیم کامخالف بنا کربھی پیش کیا جاتا ہے جیساکہ سوات ووزیرستان میں طالبات سکولوں کی تباہی کے بعد یہ عام تاثر اُبھارا گیا کہ طالبان ، خواتین کی تعلیم کے خلاف ہیں۔ خواتین کی تعلیم کے بارے اسلامی ہدایات کیا ہیں، اس ضمن میں مسلمانوں کی روایات کیا ہیں اور ہمارا دین ہم سے اس بارے میں کیا تقاضا کرتا ہے؟ اس موضوع پر احادیثِ نبویہ سے رہنمائی ذیل میں پیش کی جارہی ہے :

تعلیم ہرمرد وزَن کا نہ صرف حق ہے بلکہ بطورِ مسلمان ہم پر فرض اور ہمارا طرۂ امتیاز ہے، اور اس باب میں اُصولی طورپر مرد وزن دونوں کے مابین کوئی فرق نہیں ہے، بعض لوگوں کی علاقائی روایات ، کلچر یا خارجی وجوہات کی بنا پر اس بنیادی حق میں کمی بیشی ہوتی رہی ہے، لیکن جہاں تک اسلام کی ہدایت اور خیرالقرون سے ہمیں معلوم ہوتا ہے تو مسلم خواتین پر تعلیم کے لازمی ہونے میں کوئی دوسری رائے نہیں رکھی جاسکتی۔تفصیل ذیل میں ملاحظہ کریں:

خواتین کو اسلامی تعلیم دینا

اس موضوع پر کتب ِاحادیث سے ہمیں درج ذیل رہنمائی ملتی ہے:

1. نبی کریمﷺ نے خواتین کی تعلیم کے لئے ایک دن متعین کیا ہوا تھا جیسا کہ سیدنا ابو سعید خدری سے مروی ہے کہ

جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيثِكَ فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ فَقَالَ اجْتَمِعْنَ فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا فَاجْتَمَعْنَ فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ: «مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ وَلَدِهَا ثَلَاثَةً إِلَّا كَانَ لَهَا حِجَابًا مِنْ النَّارِ» فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَوْ اثْنَيْنِ؟ قَالَ فَأَعَادَتْهَا مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ: «وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ»[1]             

’’ایک عورت نبی کریمﷺ کے پاس حاضر ہوئی اور کہنے لگی: یارسول اللّٰہ! مرد حضرات آپ سے فرامین سیکھنے میں سبقت لے گئے، ایک دن ہمارے لئے بھی متعین فرمائیے جس میں ہم آپ سے وہ سیکھیں جو اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو سکھایا ہے تو آپ نے کہا: تم فلاں فلاں دن ، فلاں فلاں مقام پر جمع ہوجایا کرو۔ عورتیں وہاں جمع ہوگئیں تو آپﷺ ان کے پاس آئے اور اُنہیں اللّٰہ سے سیکھی باتیں سکھائیں۔ فرمایا: کسی عورت کے اگر تین بچے فوت ہوجائیں تو وہ اس کے لئے جہنم کی آگ سے رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ ایک عورت بولی: اگر دو بچے فوت ہوجائیں تب؟ تو آپ نے فرمایا: دو بھی، اس نے یہ بات دو بار دہرائی تو آپ نے تین بار دو، دو، دو کہا۔‘‘

صحیح بخاری کی احادیث میں ہی آتا ہے کہ آپﷺ عیدالفطر اور عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی خواتین کو علیحدہ تعلیم دیا کرتے۔ ایک بار آپ خواتین کے ہاں تھے کہ عورتوں نے شور ڈالا ہوا تھا۔ اچانک سیدنا عمر ؓپہنچ گئے تو عورتیں چپ ہوگئیں۔ عمر نے اُنہیں ڈانٹا کہ تم نبی کریم ﷺ سے نہیں گھبراتیں اور مجھ سے ڈرتی ہو تو اُنہوں نے جواب دیا کہ

قلن: نعم، أنت أفظّ وأغلظ من رسول الله ﷺ[2]

’’ہاں بالکل، آپ اللّٰہ کے رسول سے زیادہ سخت اور شدید ہیں۔‘‘

اسی طرح نبی کریم ﷺ خواتین کو مختلف مواقع پر تعلیم دیا کرتے، جیسا کہ سنن اربعہ میں اس پر بہت سی احادیث موجود ہیں ۔

2. خواتین کے لیے نبی ﷺکی تعلیم کا اہتمام سيدناعبد الله بن عباس﷜ نے بیان کیا ہے:

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ «خَرَجَ وَمَعَهُ بِلاَلٌ، فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعْ فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلَتِ المَرْأَةُ تُلْقِي القُرْطَ وَالخَاتَمَ، وَبِلاَلٌ يَأْخُذُ فِي طَرَفِ ثَوْبِهِ»[3]

’’ایک بارنبی کریم ﷺ خطبہ دے کر نکلے اور آپ کو گمان ہوا کہ خواتین تک آواز نہیں پہنچی تو آپ نے اُنہیں بھی وعظ ونصیحت فرمائی اور اُنہیں صدقہ کا حکم دیا۔ خواتین پر اس کا اثر یہ ہوا کہ کسی نے اپنے بالی اُتار دی، اور کسی نے انگوٹھی دے دی۔ سیدنا بلال﷜ اُنہیں اپنی چادر کے پلّو میں اکٹھا کرنے لگے۔‘‘

3. خواتین کی دینی تعلیم میں نبی کریمﷺ اس قدر توجہ دیا کرتے کہ آپ نے خطبہ عید کے روز، حیض والی خواتین کو بھی تلقین کی کہ نمازِ عید میں شریک تو نہ ہوں لیکن خطبہ عید ضرور سنیں اور دعا میں شریک ہوں، جیسا کہ سیدہ حفصہؓ سے مروی ہے:

«يَخْرُجُ العَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الخُدُورِ، أَوِ العَوَاتِقُ ذَوَاتُ الخُدُورِ، وَالحُيَّضُ، وَلْيَشْهَدْنَ الخَيْرَ، وَدَعْوَةَ المُؤْمِنِينَ، وَيَعْتَزِلُ الحُيَّضُ المُصَلَّى»[4]

’’جوان، پردہ نشین اور حیض والی عورتیں عید گاہ کے لیے نکلیں، اور خیرکے کاموں اور مسلمانوں کی دعا میں شرکت کریں۔ البتہ حائضہ عورتیں نماز سے الگ رہیں۔‘‘

حافظ ابن حجر اس حدیث کی شرح میں فتح الباری میں لکھتے ہیں :

وَفِيهِ أَنَّ الْحَائِضَ لَا تَهْجُرُ ذِكْرَ اللَّهِ وَلَا مَوَاطِنَ الْخَيْرِ كَمَجَالِسِ الْعِلْمِ وَالذِّكْرِ سِوَى الْمَسَاجِدِ[5]

’’اس فرمان سے معلوم ہوا کہ حائضہ عورت نہ تو اللّٰہ کی یاد ترک کرے اور نہ خیر کے مقامات جیسے مساجد کے علاوہ علم وذکر کی دیگر مجالس وغیرہ۔‘‘

خواتین کو لکھنا پڑھنا سکھانا

4. اوپر جو احادیث بیان ہوئی ہیں، ان میں خواتین کی دینی تعلیم وتربیت کی بارے میں رہنمائی ملتی ہے ، جہاں تک اُنہیں لکھنا پڑھنا سکھانےکی بات ہے تو احادیثِ نبویہ میں اور صحابیات کے معمولات سے ہمیں علم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی صحابیہ لیلیٰ شفاءؓ بنت عبد اللّٰہ عدویہ قرشیہ کو تلقین کی کہ وہ آپ کی زوجہ حفصہؓ بنت عمر کو لکھنا پڑھنا سکھائیں، شفاء خود راویہ ہیں کہ

دخل علي رسول الله ﷺ وأنا عند حفصة فقال لي: «ألا تُـعلّمين هذه – يريد حفصة – رقية النملة كما علَّمتها الكتابة»[6]

’’میں سیدہ حفصہ کے پاس بیٹھی تھی کہ نبی کریمﷺ بھی وہاں آگئے اور مجھے فرمایا: تم حفصہ کو پھنسی کا علاج بھی سکھادو جیساکہ تم نے اسے لکھنا پڑھنا سکھایا ہے۔‘‘

اس حدیث کو سنن کبریٰ نسائی، مستدرک حاکم اور مسند احمد بن حنبل[7] میں بھی روایت کیا گیا ہے۔ اورابونعیم اور ابن مندہ نے تفصیل کے ساتھ روایت کیا ہے اور الاصابہ میں بھی بیان ہوئی ہے۔[8]

5. اُمّ المومنین عائشہ صدیقہ کی بھانجی عائشہ بنتِ طلحہ سے مروی ہے کہ

قلت لعائشة -وأنا في حجرها- وكان الناس يأتونها من كل مصر، فكان الشيوخ ينتابوني لمكاني منها، وكان الشباب يتأخّوني فيهدون إلي، ويكتبون إلي من الأمصار، فأقول لعائشة: يا خالة! هذا كتاب فلان وهديته فتقول لي عائشة: "أي بنية! فأجيبيه وأثيبيه؛ فإن لم يكن عندك ثوابٌ، أعطيتك". فقالت: فتعطيني

’’میں نے عائشہ صدیقہ سے کہا اور میں ان کے زیر تربیت تھی اور لوگ مختلف شہروں سے اُن کے پاس آتے تھے، اور بزرگ لوگ، سیدہ عائشہ سے میرے تعلق کی بنا پر مجھے سے رابطہ رکھتے اور نوجوان بھی مجھ سے اُخوت كا تعلق رکھتے اور مجھے ہدایا بھیجتے اور شہروں سے مجھے سوالات لکھا کرتے۔ میں عائشہ صدیقہ سے کہتی: اے خالہ جان! یہ فلاں کا مراسلہ اور اس کا ہدیہ ہے۔ تو عائشہ مجھے فرماتیں : پیاری بیٹی! ان کے مراسلہ کا جواب لکھ اور درست مسئلہ بتلا ۔ اگر تو درست مسئلہ سے ناواقف ہوئی تو میں تجھے سمجھا دوں گی۔ چنانچہ وہ مجھے بعض مسائل میں راہنمائی دیا کرتیں۔‘‘

یہ حدیث امام بخاری نے باب الکتابة إلى النساء وجوابهنکے زیر عنوان اپنی کتاب الادب المفرد میں بیان کی ہے اور شیخ محمد ناصر الدین البانی نے اسے صحیح الادب المفرد میں درج کرکے اس کو حسن الاسناد قرار دیا ہے۔[9]

6. دورِ نبوی کی خواتین کے بارے پتہ چلتا ہے کہ

وكانت حفصة زوج النبي وابنة عمر تكتب وكانت أم كلثوم بنت عقبة تكتب. وكذلك كانت عائشة بنت سعد، وكريمة بنت المقداد، وشميلة. و وَرد أن عائشة زوج الرسول، أنها كانت تقرأ المصحف ولا تكتب[10]

’’اُمّ المومنین سیدہ حفصہ بنت عمر الخطاب، اُمّ کلثوم بنت عقبہ، عائشہ بنت سعد، کریمہ بنت مقداد، شمائلہ لکھنا جانتی تھیں۔ جبکہ سیدہ عائشہ مطالعہ کیا کرتیں اور لکھتی نہیں تھیں۔‘‘

خواتین کی تعلیم کی ترغیب وفضیلت اور عملی اقدام

7. نبی کریم ﷺنے خواتین کی تعلیم وتربیت کو انتہائی باعث ِفضیلت امر قرار دیا، فرمایا:

«مَنْ عَالَ ثَلَاثَ بَنَاتٍ فَأَدَّبَهُنَّ وَزَوَّجَهُنَّ وَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ فَلَهُ الْجَنَّةُ» حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ أَوْ ثَلَاثُ بَنَاتٍ أَوْ بِنْتَانِ أَوْ أُخْتَانِ[11]

’’جس شخص نے تین بیٹیوں کی پرورش کی، ان کو اچھی تعلیم و تربیت دی اور ان کی شادی کردی، ان سےبہترین سلوک کیا تو اس کے لئے جنت ہے۔ جبکہ جریر از سہیل کی سند سے یہ بھی مروی ہے کہ تین بہنیں یا تین بیٹیاں، یا دو بیٹیاں اور دو بہنیں۔‘‘

شارح سنن ابوداودمولانا شمس الحق عظیم آبادی نے اپنی شرح عون المعبود میں أدّبهن کی تفسیر أي بآداب الشريعة وعلّمهن یعنی ’’ان کو شرعی آداب سکھائے اور ان کو تعلیم دی‘‘سے کی ہے۔[12]

8. اسلام میں خواتین کی تعلیم تو کجا، خادمات کی تعلیم کی تلقین بھی موجود ہے۔جیسا کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :

«ثَلاَثَةٌ لَهُمْ أَجْرَانِ: رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الكِتَابِ، آمَنَ بِنَبِيِّهِ وَآمَنَ بِمُحَمَّدٍ ﷺ، وَالعَبْدُ المَمْلُوكُ إِذَا أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ، وَرَجُلٌ كَانَتْ عِنْدَهُ أَمَةٌ فَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا، وَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ»[13]

’’تین طرح کے لوگوں کو دوہرا جر ملے گا: ایسا شخص جو اہل کتاب میں سے تھا، اپنے نبی پر بھی ایمان لایا، اور اسلام قبول کرکے نبی کریم پر بھی ایمان لے آیا۔ ایسا غلام جو اللّٰہ کے حقوق بھی ادا کرتا ہے اور اپنے آقا کے بھی۔ اور تیسرا شخص وہ جس نے اپنی باندی کی تربیت کی اور بہترین تربیت کی۔اس کو تعلیم دی اور بہترین تعلیم دی، پھر اس کو آزاد کرکےاپنے نکاح میں لے لیا ، اس کے لئے بھی دوہرا اَجر ہے۔‘‘

9. نبی کریم ﷺاپنے صحابہ کرام ﷢کو حکم دیتے کہ وہ اپنے اہل خانہ کو تعلیم دیں، سیدنا مالکؓ بن حویرث سے مروی ہے:

أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِي، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، وَكَانَ رَحِيمًا رَفِيقًا، فَلَمَّا رَأَى شَوْقَنَا إِلَى أَهَالِينَا، قَالَ: «ارْجِعُوا فَكُونُوا فِيهِمْ، وَعَلِّمُوهُمْ، وَصَلُّوا، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ»[14]

’’میں نبی کریمﷺ کے پاس اپنی قوم کے ساتھ آیا۔ ہم نے بیس راتیں آپ کے ہاں قیام کیا۔ آپ بہت مہربان اور نرم دل تھے۔ جب آپ نے اہل وعیال سے ہماری اُداسی محسوس کی تو فرمایا: اپنے گھروں میں چلے جاؤ اور انہی میں قیام کرو۔ ان کو تعلیم دو اور نماز پڑھاؤ، جب نماز کا وقت آجائے تو تم میں سے ایک اذان کہے اور تم میں سب سے بڑا امامت کرائے۔‘‘

10. مذکورہ فرمان پر خود عمل کرتے ہوئے نبی کریمﷺ کا اپنے گھر والوں کے ساتھ یہی معمول تھا جیسا کہ سیدہ عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں کہ

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَلَّمَهَا هَذَا الدُّعَاءَ «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ... خَيْرًا»[15]

’’ان کو نبی کریم نے اس دعا کی تعلیم دی: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ... خَيْرًا»‘‘

11. اسلام نے نہ صرف خواتین کے لئے دین کی تعلیم بلکہ دین میں مہارت اور بصیرت کو قابل تعریف قرار دیا ہے، جیساکہ اسماؓبنت یزیدنے سیدہ عائشہ کا یہ فرمان ذکر کیا ہے:

«نعم النساء نساء الأنصار لم يمنعهن الحياء أن يتفقهن في الدين»[16]

’’انصاری خواتین بہترین عورتیں ہیں کہ دین کی گہری سمجھ بوجھ حاصل کرنے میں ان کو شرم وحیا مانع نہیں ۔‘‘

12. صحابیات دین کی تعلیم میں بہت ذوق وشوق سے شرکت کرتیں، چنانچہ سیدنا حارثہ بنت نعمان ﷜ اپنے بارےمیں بیان کرتی ہیں کہ

"مَا حَفِظْتُ ق، إِلَّا مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ ﷺ، يَخْطُبُ بِهَا كُلَّ جُمُعَةٍ"[17]

’’میں نے سورۃ ق کو نبی کریم سے سن سن کر زبانی یادکرلیا، آپ ہر جمعہ میں اس سورت مبارکہ کے ساتھ خطبہ دیا کرتے۔‘‘

13.    اسلام نے خواتین کی تعلیم کو عام کیا اور شرعی مسائل پر ان کے آزادانہ استفسار کی بھی حوصلہ افزائی کی، جیساکہ ایک بار انصاری صحابیہ اسما ؓبنت یزید آپ ﷺکے پاس حاضر ہوئیں اور یوں گویا ہوئیں کہ میں آپ کے پاس دیگر مسلمان عورتوں کی نمائندہ بن کر آئی ہوں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو مردوزن دونوں کی طرف مبعوث فرمایا ہے لیکن ہم خواتین پردہ نشین اور گھروں میں رہتی ہیں اور مرد لوگ جمعہ میں حاضری، جنائز اور جہاد میں شرکت کی بنا پر ہم سے ثواب میں آگے نکل گئے ہیں، جبکہ ہمیں ان کے مالوں کی حفاظت اور اولاد کی تربیت میں مشغول رہنا پڑتا ہے۔کیا ہم اپنے مردوں کے اجر میں شریک ہیں؟ نبی کریم ﷺنے اپنا چہرہ مبارک صحابہ کی طرف کیااور پوچھا :

«هل سمعتم مقالة امرأة قط أحسن من مسألتها في أمر دينها من هذه؟» فقالوا: يا رسول الله: ما ظننا أن المرأة تهتدي إلىٰ مثل هذا فالتفت النبي ﷺ إليها ثم قال لها: «انصرفي أيتها المرأة و أعلمي من خلفك من النساء أن حسن تبعل إحداكن لزوجها وطلبها مرضاته واتباعها موافقته تعدل ذلك كله» قال: فأدبرت المرأة وهي تهلل وتكبر استبشارًا[18]

’’کیا تم نے اپنے دین کے بارے اس عورت سے بہتر سوال کرنے والا کسی کو پایا ہے، صحابہ نے جواب دیا : نہیں، ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ کوئی عورت اتنا سمجھ دار گفتگو بھی کرسکتی ہے۔ نبی کریم اسماء کی طرف متوجہ ہوئے اور اسے کہا : اے عورت! واپس جاکر اپنی پچھلی خواتین کو بتلا دے کہ کسی عورت کا اپنے شوہر سے حسن سلوک، اس کی رضا کی جستجو، اور اس کی مرضی کے مطابق عمل کرنا، ان تمام نیکیوں کے برابر ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ عورت خوشی خوشی تہلیل وتکبیر کہتے ہوئے واپس لوٹ گئی۔‘‘

14.    خواتین کے دینی مسائل کو سیکھنے کی ایک عملی مثال صحيح بخاری میں سیدہ اُمّ سلمہ سے مروی ہے:

جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَسْتَحْيِي مِنَ الحَقِّ، فَهَلْ عَلَى المَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا احْتَلَمَتْ؟ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: «إِذَا رَأَتِ المَاءَ» فَغَطَّتْ أُمُّ سَلَمَةَ، تَعْنِي وَجْهَهَا، وَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَوَتَحْتَلِمُ المَرْأَةُ؟ قَالَ: «نَعَمْ، تَرِبَتْ يَمِينُكِ، فَبِمَ يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا»[19]

’’ اُمّ سلیم نبی کریم کے پاس آکر کہنے لگیں: یا رسول اللّٰہ! اللّٰہ تعالیٰ حق بیان کرنے سے نہیں شرماتا، جب عورت کو احتلام ہو تو کیااسے غسل کرنا چاہیے، تو نبی کریم بولے: ہاں جب وہ پانی دیکھے۔ یہ سن کر ام سلمہ نے اپنے چہرے کو ڈھانپ لیا۔ اور کہا : یارسول اللّٰہ! کیا عورت کو بھی احتلام ہوجاتا ہے، تو آپ نے جواب دیا: ہاں، تیرا ہاتھ خاک آلود ہو، اس کا بچہ اس سے مشابہ کیوں ہوتا ہے؟‘‘

15.    اسی طرح اُمّ سلمہ کی فقہی مہارت کا تذکرہ صحیحین کی اس حدیث میں ملتا ہے جسے ابو سلمہ نے روایت کیا ہے كہ سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابو ہریرہ سے کسی نے سوال کیا کہ شوہر کی وفات کے چالیس دن کے بعد اگر حاملہ بیو ی بچہ جن دے تو پھر اس کی عدت کیا ہوگی؟ ابن عباس نے کہا کہ جو مدت بعد میں پوری ہو، وہی اس کی عدت ہے۔ جبکہ میں نے کہا کہ اس کی عدت قرآن کی روسے وضع حمل ہی ہے۔

قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي -يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ- فَأَرْسَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ غُلاَمَهُ كُرَيْبًا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ يَسْأَلُهَا، فَقَالَتْ: «قُتِلَ زَوْجُ سُبَيْعَةَ الأَسْلَمِيَّةِ وَهِيَ حُبْلَى، فَوَضَعَتْ بَعْدَ مَوْتِهِ بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً، فَخُطِبَتْ فَأَنْكَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَكَانَ أَبُو السَّنَابِلِ فِيمَنْ خَطَبَهَا»

’’سیدنا ابوہریرہ کہنے لگے کہ   میں اپنے بھائی ابو سلمہ کے ساتھ ہوں۔ چنانچہ ابن عباس نے اپنے غلام کریب کو ام سلمہ کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا تو انہوں نے جواب دیا کہ سبیعہ اسلمیہ کا شوہر شہید ہوگیا حالانکہ وہ حاملہ تھی۔ اس نے چالیس دن کے بعد بچہ جنا۔پھر اس کو نکاح کا پیغام ملا تو نبی کریمﷺ نے اس کا نکاح پڑھا دیا اور ابو سنابل وہ شخص تھا جس نے اسے نکاح کا پیغام بھیجا تھا۔‘‘

اس حدیث میں ایک صحابیہ سے جلیل القدر صحابی حضرت عبدا للہ بن عباس کا استفسار کرنے، مسئلہ پوچھنے اور باہمی اختلاف میں فیصلہ کن رائے حاصل کرنے کا پتہ چلتا ہے۔

16.    نبی کریم ﷺکا مشہور فرما ن ہے :

«طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِم»[20]

’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔‘‘

اس حدیث کو حسن قرار دیتے ہوئے امام سخاوی ﷫لکھتے ہیں:

قَدْ أَلْحَقَ بَعْضُ الْمُصَنِّفِينَ بِآخِرِ هَذَا الْحَدِيثِ «وَمُسْلِمَةٍ» وَلَيْسَ لَهَا ذِكْرٌ فِي شَيْءٍ مِنْ طُرُقِهِ وَإِنْ كَانَ مَعْنَاهَا صَحِيحًا[21]

’’بہت سے مصنّفین نے اس حدیث کے آخر میں ’مسلمہ‘ کا لفظ بھی ملا دیا ہے، حالانکہ یہ لفظ کسی بھی روایت میں نہیں آتا، تاہم اس حدیث کے مفہوم میں خواتین بالتبع داخل ہیں۔‘‘

17.    نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«مُرُوا أَوْلاَدَكُمْ بِالصَّلاَةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُنَّ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْر، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ»[22]

’’اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جبکہ وہ سات سال کی عمر کو پہنچ جائیں، اور ان کو [ترک نماز پر ]مارو جب وہ دس برس کی عمر کے ہوجائیں اور [اس عمر میں] ان کے بستر علیحدہ کردو۔‘‘

امام نووی اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں:

وَالْحَدِيثُ يَتَنَاوَل بِمَنْطُوقِهِ الصَّبِيَّ وَالصَّبِيَّةَ، وَأَنَّهُ لاَ فَرْقَ بَيْنَهُمَا بِلاَ خِلاَفٍ، ثُمَّ قَال النَّوَوِيُّ: قَال الشَّافِعِيُّ وَالأَْصْحَابُ رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى: عَلَى الآْبَاءِ وَالأُْمَّهَاتِ تَعْلِيمُ أَوْلاَدِهِمُ الصِّغَارِ الطَّهَارَةَ وَالصَّلاَةَ وَالصَّوْمَ وَنَحْوَهَا، وَتَعْلِيمُهُمْ تَحْرِيمَ الزِّنَى وَاللِّوَاطِ وَالسَّرِقَةِ، وَشُرْب الْمُسْكِرِ وَالْكَذِبِ وَالْغِيبَةِ وَشِبْهِهَا، وَأَنَّهُمْ بِالْبُلُوغِ يَدْخُلُونَ فِي التَّكْلِيفِ، وَهَذَا التَّعْلِيمُ وَاجِبٌ عَلَى الصَّحِيحِ، وَأُجْرَةُ التَّعْلِيمِ تَكُونُ فِي مَال الصَّبِيِّ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ فَعَلَى مَنْ تَلْزَمُهُ نَفَقَتُهُ.[23]

’’یہ حدیث براہِ راست بچے اور بچی دونوں کے بارے میں ہے۔ اور دونوں کے مابین اس بارے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ پھر امام نووی فرماتے ہیں کہ امام شافعی اور ان کے اصحاب  کہتے تھے کہ ماں باپ کو چاہیے کہ اپنے چھوٹے بچوں کو طہارت، نماز، روزے وغیرہ کی تعلیم دیں۔ ان کو زنا کی حرمت، لواطت وچوری کی ممانعت، نشہ آور شے ، جھوٹ، غیبت اور ا س جیسے برے کاموں کے بارے میں سکھائیں۔ کیونکہ بالغ ہونے کے ساتھ ان احکام کی پابندی ان پر لاگو ہوجائے گی۔ صحیح موقف کے مطابق ہر مسلمان کو یہ سکھانا واجب ہے۔اور ایسی تعلیم کی اجرت [یتیم] بچے کے مال سے لی جائے گی، اور اگر اس کا مال نہ ہو تو جس پر اس بچے کا نفقہ واجب ہو، اس کو اس تعلیم دینے کے اخراجات ادا کرنے ہوں گے۔‘‘

اسلام علم کا دین ہے اور اس علم کو اللّٰہ تعالیٰ نے مردوزن دونوں کے لئے ضروری قرار دیا ہے۔ چنانچہ یہاں عورتوں کی تعلیم کی اہمیت اس قدر ہے کہ انہی کے احکام کے لئے کئی سورتیں مختص کردی گئی ہیں، ایک لمبی سورۃ تو سورۃ النساء کے نام سے ہی ہے، جب کہ عبد اللّٰہ بن مسعود سورۃ الطّلاق کوبھی چھوٹی سورۃ النساء کہا کرتے۔

اسلام نے عورتوں کی تعلیم کی بہت ترغیب دی ہے۔ شہنشاہ ہنری ہشتم نے تو عیسائی عورتوں کے لیے انجیل یعنی عہدنامہ جدید پڑھنا ممنوع قرار دے دیا تھا جبکہ مسلمانوں کے ہاں خواتین کی تعلیمی روایت اتنی پختہ ہے کہ قرنِ اوّل میں قرآن کریم جمع کرنے کے بعد، اسے سیدہ حفصہ بنت عمر کے پاس رکھ دیا گیا تھا اور ان کی حفاظت کو معتبر ومستند سمجھا گیا تھا۔

عورتوں کو لکھنا پڑھنا نہیں سکھانا چاہئے

مسلمانوں میں بعض لوگوں نے یہ موقف بھی اختیار کیا ہے کہ خواتین کو تعلیم دینا بالخصوص لکھنا پڑھنا سکھانا فتنہ سے خالی نہیں ہے۔اُن کا موقف یہ ہے کہ

إنه أحسن المذاهب وأولاها بالصواب، وهو الذي وجدنا عليه آباءنا وهم كانوا أحسن منا، وتعليم النساء يفسد أخلاقهن، فإن المرأة التي لا تقرأ ولا تكتب تكون بعيدة عن متناول شياطين الإنس، فإن القلم كما لا يخفى أحد اللسانين، فبعدم معرفتها للقراءة والكتابة تأمن شر هذا اللسان وبضرب الحجاب المتين عليها تأمن شر اللسان الثاني، فيتم لها الأمن[24]

’’یہی بہترین موقف اور درستگی کے قریب تر ہے اور اسی پر ہمارے بڑے جو ہم سے بہتر تھے، عمل کرتے آرہے ہیں۔ دراصل خواتین کی تعلیم ان کے اخلاق کو فاسد کردیتی ہے۔ جو عورت لکھ پڑھ نہیں سکتی ، وہ شیطان کے بھٹکاوے سے محفوظ رہتی ہے۔ظاہرکہ قلم بھی ایک زبان ہے اور قلم کی زبان نہ جاننے والی اس زبان کے شر سے محفوظ رہے گی، اس شر سے محفوظ عورت دوسری زبان کے شر سے بھی آخرکار بچ جائے گی، اس طرح اس کو برائی سے پوری عافیت مل جائے گی۔کتنی ہی عورتیں ہیں جو پڑھنے کے سبب گمراہ ہوئی ہیں، پڑھنے کی صلاحیت عورت کو معاشرے میں پھیلے تمام فسادات سے مطلع کردیتی اور اس کے نظریات کو پراگندہ کردیتی ہے۔‘‘

ممانعت یا کراہت کا موقف ملاعلی قاری ﷫ نے مرقاۃ المفاتیح میں اور شیخ نعمان آلوسی ﷫ نے ایک مستقل کتابچہ میں اختیار کیا ہے، جس کی تفصیل آگے نکتہ نمبر 7 اور 8 کے تحت آرہی ہے۔

اس موقف پر اُن کے دلائل یہ ہیں:

1.    سیدہ عائشہ صدیقہ سے نبی کریم ﷺ کا یہ فرما ن مروی ہے:

«لَا تُنْزِلُوهُنَّ الْغُرَفَ وَلَا تُعَلِّمُوهُنَّ الْكِتَابَةَ» يَعْنِي النِّسَاءَ

اور بعض مرویات میں ان الفاظ پر یہ مزید اضافہ بھی موجود ہے کہ

«وَعَلِّمُوهُنَّ الْمِغْزَلَ وَسُورَةَ النُّورِ»[25]

’’عورتوں کو محلات میں نہ ٹھہراؤ اور اس کو لکھنا پڑھنا مت سکھاؤ۔ اس کو کپڑا بننا اور سورۃ النور پڑھانی چاہئے۔‘‘

یہی روایت مسند بزار میں ان الفاظ سے بھی ہے :

علّموهن الغَزْل، ولا تُسكنوهن الغُرف، ولا تعلموهن الخط

’’ان کو سینا پرونا سکھاؤ، محلات میں نہ ٹھہراؤ، اور اُن کو لکھنا مت سکھاؤ۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کرکے اس کو صحیح قرار دیا ہے جبکہ امام ذہبی نے موضوع اور امام بیہقی نے اس کو منکر قرار دیا ہے۔درست بات یہ ہے کہ اس حدیث سے استدلال درست نہیں کیونکہ یہ حدیث سخت ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں محمد بن ابراہیم منکر الحدیث اور مشہورواضع حدیث ہے اور اس حدیث کو ابن حبان نے الضعفاء میں بیان کیا ہے۔   امام دار قطنی نے اسے جھوٹا بتایا اور ابن عدی نے کہا ہے کہ اس کی اکثر احادیث شاذ ہوتی ہیں۔

حافظ ابن حجر اپنی کتاب ’الاطراف‘ میں لکھتے ہیں کہ مستدرک حاکم والی سند میں عبد الوہاب بن الضحاک ہے جو ’متروک‘راوی ہے:

إِنَّ فِي إِسْنَادِ الْحَاكِمِ عَبْدَ الْوَهَّابِ بْنَ الضَّحَّاكِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ

امام ابن جوزی نے ’الموضوعات‘ میں اسے درج کرنے کے بعد لکھا ہے :

هَذَا الحَدِيث لَا يَصح وَقَدْ ذكره أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَاكِمُ النَّيْسَابُورِيّ فِي صَحِيحه وَالْعجب كَيْفَ خَفِي عَلَيْهِ أمره. قَالَ أَبُو حَاتِم بْن حِبَّانَ: كَانَ مُحَمَّد بْن إِبْرَاهِيمَ الشَّامِيّ يضع الحَدِيث على الشاميين لَا يحل الرِّوَايَة عَنْهُ إِلا عِنْد الِاعْتِبَار. روى أَحَادِيث لَا أصُول لَهَا من كَلَام رَسُول الله ﷺ لَا يحل الِاحْتِجَاج بِهِ[26]

’’یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ ابو حاکم عبد اللّٰہ نیشاپوری نے اس کو اپنی صحیح میں بیان کیا ہے لیکن قابل تعجب ہے کہ ان پر اس کا ضعف کیوں کر مخفی رہ گیا۔ ابو حاتم ابن حبان کہتے ہیں کہ محمد بن ابراہیم شامی ، شامیوں پر ضعیف روایتیں گھڑا کرتا تھا، اس سے تائید کے سوا کوئی روایت لینا جائز نہیں۔ اس نے ایسی احادیث بیان کی ہیں جن کی نبی کریمﷺ کے کلام میں کوئی بنیاد نہیں ہے، اس سے حجت لینا درست نہیں ہے۔‘‘

امام شوکانی ﷫ ’نیل الاوطار ‘میں اس روایت کا تذکرہ کرکے لکھتے ہیں کہ

’’اس حدیث کا زیادہ سے زیادہ یہ مفہوم ہوسکتا ہے کہ هذا الحديث محمول على من يُخشٰي من تعليمهَا الفساد‘‘[27]

امام شوکانی کے اس موقف پر شیخ البانی لکھتے ہیں:

أن الجمع الذي ذكره يُشعر أن حديث النهي صحيح، وإلا لما تكلف التوفيق بينه وبين هذا الحديث الصحيح. وليس كذلك، فإن حديث النهي موضوع كما قال الذهبي. وطرقه كلها واهية جداً، وبيان ذلك في سلسلة الأحاديث الضعيفة، رقم 2017، فإذا كان كذلك فلا حاجة للجمع المذكور، ونحو صنيع الشوكاني هٰذا قول السخاوي في هٰذا الحديث الصحيح "إنه أصحّ من حديث النهي" فإنه يوهم أن حديث النهي صحيح أيضًا[28]

’’اس حدیث کی دیگر صحیح احادیث سے تطبیق کرنے سے تاثر یہ دیا گیا کہ یہ حدیث صحیح ہے، وگرنہ شوکانی اس موافقت کی کوشش ہی نہ کرتے۔ حالانکہ ایسا نہیں بلکہ کتابت سے ممانعت کی حدیث موضوع ہے جیسا کہ امام ذہبی نے کہا ہے۔ اس کے تمام طرق انتہائی بے کار ہیں۔ اور اس کی پوری تفصیل سلسلہ ضعیفہ ، نمبر2017 کے تحت موجود ہے۔ اگر یہ روایت ایسی ہے تو پھر مذکور جمع وتطبیق کی ضرورت ہی نہیں ہے۔اور شوکانی کے اس رویہ سے ملتا جلتا سخاوی کا قول بھی ہے جنہوں نےاس موضوع پر صحیح حدیث کے ذکر کے بعد کہا کہ یہ حدیث ممانعت کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اس جملہ سے یہ وہم ہوتا ہے کہ ممانعت کی حدیث بھی صحیح ہے (حالانکہ ایسا بالکل نہیں)۔‘‘

2.    سیدنا عبد اللّٰہ بن عباس﷜ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«لَا تُعَلِّمُوا نِسَاءَكُمْ الْكِتَابَةَ وَلَا تُسْكِنُوهُنَّ [الغرف] الْعَلَالِيَّ» وَقَالَ «خَيْرُ لَهْوِ الْمُؤْمِنِ: السِّبَاحَةُ، وَخَيْرُ لَهْوِ الْمُؤْمِنَةِ: الْمِغْزَلُ»[29]

’’اپنی عورتوں کو لکھنا مت سکھاؤ،ان کو بالا خانوں میں مت ٹھہراؤ، مزید فرمایا :مؤمن کی بہترین تفریح تیراکی اور مؤمنہ کی بہترین تفریح   کاتنا؍کڑھائی ہے۔‘‘

یہ حدیث بھی ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں جعفر بن نصر راوی کےبارے میں امام ذہبی کا کہنا ہے کہ وہ متہم بالکذب ہے ۔ ابن جوزی نے العلل المتناہیہ میں اس کو ناقابل اعتبار راوی قرار دیا ۔ امام شوکانی نے کہا کہ وہ ثقہ راویوں سے باطل اقوال بیان کیا کرتا تھا۔

امام ابو الفرج ابن جوزی لکھتے ہیں:

هَذَا حَدِيث لَا يَصح. قَالَ ابْنُ حِبَّانَ: جَعْفَر بْن حَفْص كَانَ يحدث عَنِ الثقاة بِمَا لم يحدثوا بِهِ. وَقَالَ ابْن عدى: يحدث عَن الثقاة بِالْبَوَاطِيل وَله أَحَادِيث مَوْضُوعَات عَلَيْهِم.[30]

’’یہ حدیث صحیح نہیں ہے ۔ ابن حبان کہتے ہیں کہ جعفر بن حفص ایسے ثقات سے روایت کرتا ہے جنہوں نے اس سے وہ حدیث بیان نہیں کی ہوتی۔ اور ابن عدی کہتے ہیں کہ وہ ثقہ راویوں سے باطل روایات بیان کرتا ہے اور اُن پر باتیں گھڑ کر بیان کرنے کا عادی ہے۔‘‘

امام جلال الدین سيوطی ضعیف احادیث پر اپنی کتاب میں يہ حدیث درج کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

لَا يَصِّحُ جَعْفَر بْن نصر حدَّث عَنِ الثِّقَات بِالْبَوَاطِيل[31]

’’جعفر بن نصر قابل اعتماد راوی نہیں ہے، یہ ثقہ راویوں سے باطل اقوال بیان کیا کرتا ہے۔

ابو احمد ابن عدی جرجانی نے ’الکامل فی الضعفاء ‘ میں جعفر بن نصر کی من جملہ باطل روایات کے اس کو بھی پیش کیا ہے اور کہا کہ

وهذان الحديثان لَيْسَ لهما أصل فِي حديث حفص بن غياث[32]

’’حفص بن غیاث سے یہ دو روایات جو اس نے بیان کی ہیں، ان کی حفص بن غیاث سے کوئی بنیاد نہیں ہے۔‘‘

حافظ ابن حجر نے لسان الميزان میں ابو میمون جعفر بن نصر عنبری کوفی کا تذکرہ کرکے اس کی روایت کردہ باطل روایات میں بطور مثال سیدنا عبد اللّٰہ بن عباس سے مروی مذکورہ بالا روایت کو پیش کیا گیا ہے۔[33]           امام ذہبی نے میزان الاعتدال میں بھی ایسے ہی کیا ہے ۔[34]

امام نور الدین   علی بن محمد الکنانی (م963ھ)نے اپنی کتاب تنزیہ الشریعہ میں زیر نمبر33، سیدہ عائشہؓ صدیقہ اور سیدنا ابن عباسؓ کے اقوال درج کرنےکے بعد ان کے ضعف کی صراحت کی ہے۔[35]

3.    سیدنا عمر بن خطاب﷜ کا یہ قول بیان کیا جاتاہے:

"لَا تُسْكِنُوا نِسَاءَكُمْ الْغُرَفَ وَلَا تُعَلِّمُوهُنَّ الْكِتَابَةَ وَاسْتَعِينُوا عَلَيْهِنَّ بِالْعُرَى وَقَالَ أَيْضًا: اسْتَعِيذُوا بِاَللَّهِ مِنْ شِرَارِ النِّسَاءِ وَكُونُوا مِنْ خِيَارِهِنَّ عَلَى حَذَرٍ"

’’اپنی عورتوں کو بالاخانوں میں مت ٹھہراؤ، انہیں لکھنا مت سکھاؤ، اور سختی کے ذریعے ان کی نگہداشت کرو۔ مزید فرمایا: بدترین عورتوں سے اللّٰہ کی پناہ مانگا کرواور نیک عورتوں سے بھی محتاط رہو۔‘‘

اس قول کے بارے میں شیخ ناصر الدین البانی فرماتےہیں:

موضوع ومثله: واستعينوا عليهن بالعرى[36]

’’یہ بھی موضوع ہے، اور مذکورہ بالا قول بھی موضوع ہی ہے۔‘‘

آپ مزید لکھتے ہیں:

رواه ابن عدي في "الكامل" (13/1 و1/313 - ط)، والطبراني في "الأوسط" (2/223/2/8452 - بترقيمي و9/133/8283 - ط) عن إسماعيل بن عباد المزني: حدثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس مرفوعا، وقال ابن عدي: "وهذا الحديث بهذا الإسناد منكر، لا يرويه عن سعيد غير إسماعيل هذا، وليس بذلك المعروف ".

قلت: وقال الدارقطني: "متروك" وقال ابن حبان: "لا يجوز الاحتجاج به بحال" وأعلّه الهيثمي(5/138)بشيخ الطبراني: موسى بن زكريا ضعيف.

قلت: وهو مردود، فإنه متابع عند ابن عدي، والعلة ما ذكرنا.

وروى ابن أبي شيبة في "مصنفه " (4/420) عن عمر أنه قال: "استعينوا على النساء بالعري، إن إحداهن إذا كثرت ثيابها وحسنت زينتها أعجبها الخروج". قلت: وفيه أبو إسحاق، وهو السبيعي مدلس مختلط. وقد روي الحديث مرفوعا من حديث مسلمة بن مخلد نحوه، وسنده ضعيف جدًّا أيضًا

’’ابن عدی نے الکامل میں، طبرانی نے الاوسط میں اس قول کی اسناد بیان کی ہیں اور ابن عدی کہتے ہیں کہ یہ حدیث اس سند کے ساتھ متروک ہے، اس کوسعید سے اسمٰعیل بن عباد کے علاوہ کوئی بیان نہیں کرتا، جبکہ وہ ’معروف ‘نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ دار قطنی نے اسے متروک قرار دیا ہے۔ ابن حبان کے مطابق کسی بھی صورت اس سے حجت پکڑنا جائز نہیں ہے۔ جہاں تک طبرانی کی سند کا تعلق ہے تو ہیثمی نے یہ خرابی پیش کی ہے کہ ان کے استاد موسیٰ بن زکریا ضعیف راوی ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ وہ تو قابل قبول ہی نہیں ہیں۔وہ ابن عدی کے ہاں متابع ہیں، اور وجہ وہی ہے جو میں نے ذکر کی ہے۔

ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں سیدنا عمر سے یہ بھی روایت کیا ہے کہ سختی کے ذریعے ان کی نگہداشت کرو۔ ان میں کوئی ایک کے جب کپڑے زیادہ ہوجائیں اور اس کی زینت میں اضافہ ہوجائے تو اسے باہر نکلنا اچھا لگتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس میں ابو اسحق سبیعی ہے جو مدلس اور مختلط ہے۔اور یہ روایت مسلمہ بن مخلد وغیرہ سے بھی مرفوعا بیان کی گئی ہے ، حالانکہ اس کی سند بھی بے حد ضعیف ہے۔‘‘

اس قول کی امام ابن جوزی نے الموضوعات[37] میں ، امام سیوطی نے اللآلی المصنوعۃ[38]، امام کتانی نے تنزیہ الشریعہ[39] میں، محمد بن طاہر پٹنی نے تذکرۃ الموضوعات [40] میں ضعف کی صراحت کی ہے۔

4.    سیدہ عائشہ صدیقہ سے یہ روایت کیا جاتا ہے کہ

"إذا رأيتم النساء يجلسن على الكراسي، ويقلن: حدثنا وأخبرنا، فأحرقوها بالنار، فإني سمعت رسول الله يقول: «إذا كان آخر الزمان يجلس العلماء والفقهاء في البيوت وتظهر النساء ويقلن: حدثنا وأخبرنا، فإذا رأيتم شيئا من ذلك فأحرقوهن بالنار»[41]

’’جب تم عورتوں کو دیکھو کہ مسندوں پر براجمان ہوکر ، حدثنا وأخبرنا کہہ رہی ہوں تو ان کو آگ سے جلا ڈالو کیونکہ میں نےنبی مکرم کو یہ کہتے سنا کہ جب آخری زمانہ ہوگا تو علما وفقہا گھروں میں بیٹھ جائیں گے، اور عورتیں باہر نکل کر حدثنا وأخبرنا سکھانا شروع کردیں گی۔ جب تم ایسا پاؤ تو ان عورتوں کو آگ سے جلا ڈالو۔‘‘

یہ حدیث ناقابل اعتبار ہے کیونکہ اس میں محمد بن علی ہاشمی نامی راوی ضعیف ہے[42]۔ نیز سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا کا اپنا زندگی بھرکا عمل اس کی تردید کررہا ہے۔امام محمد بن طاہر محدث پٹنی نے اسے موضوعات میں شمار کیا ہے ۔[43]

5.    علامہ ابن تیمیہ کے شاگر دِ رشید اور نامور قاضی وفقیہ ابن مفلح ﷫ نے اپنی کتاب ’الآداب الشرعیہ‘میں   ان تمام احادیث کو بیان کیا ہے جن میں عورتوں کو لکھنا سکھانے سے روکا گیا ہے، اور سب کو بیان کرنے کے بعد، ان احادیث کے ضعف کی صراحت کی ہے:

وَقَدْ سَرَدَ ابْنُ مُفْلِحٍ فِي الآْدَابِ الشَّرْعِيَّةِ الأَْحَادِيثَ الَّتِي يُؤْخَذُ مِنْ ظَاهِرِهَا النَّهْيُ عَنْ تَعْلِيمِ النِّسَاءِ الْكِتَابَةَ، إِلاَّ أَنَّهُ قَدْ ضَعَّفَ هَذِهِ الأَْحَادِيثَ، أَوْ أَعَلَّهَا بِالْوَضْعِ[44]

6.    بعض عرب شعرا بھی ان مرویات اور خیالات سے متاثر ہوئے جیسا کہ مشہور دیوانِ حماسہ کا شارح عربی شاعر ابو العلاء معری (449ھ) کہتا ہے :

علموهن الغزل والنسج والرد      ن وخـــلوا كتــــابــة وقــراءة
فصلاة الفتاة بالحمد والإخـلا      ص تجــزئ عن يــونس وبـراءة

’’خواتین کو کپڑے کاتنا اور بننا ہی کافی ہے، ان کے لئے لکھنا پڑھنا رہنے ہی دو۔ ایسے ہی لڑکیوں کا نماز میں سورۃ الحمد اورالاخلاص پڑھ لینا، ان کو سورۃ یونس اور سورۃ البراءۃ پڑھانے سے کفایت کرجائے گا۔‘‘

7.    بعض اہل علم نے باقاعدہ موضوع بنا کر مسلم عورتوں کے لکھنے کی ممانعت پر رسائل لکھے، جیسا کہ شیخ نعمان آلوسی نے الإصابة في منع النساء من الكتابة کے نام سے مستقل رسالہ تحریر کیا۔[45]

8.    بعض فقہا نے بھی یہ موقف اختیار کیا ہے اور وہ بعد کے اَدوار میں ، اس کو پسندیدہ امر نہیں سمجھتے۔ جیسا کہ ملا علی قاری (م1014ھ) المرقاة میں رقم طرا ز ہیں:

يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ جَائِزًا لِلسَّلَفِ دُونَ الْخَلَفِ لِفَسَادِ النِّسْوَانِ فِي هَذَا الزَّمَانِ، ثُمَّ رَأَيْتُ قَالَ بَعْضُهُمْ: خُصَّتْ بِهِ حَفْصَةُ لِأَنَّ نِسَاءَهُ ﷺ خُصِصْنَ بِأَشْيَاءٍ قَالَ تَعَالَى: ﴿يَانِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ﴾ [الأحزاب: 32] وَخَبَرُ "لَا تَعَلَّمْنَّ الْكِتَابَةَ"، يُحْمَلُ عَلَى عَامَّةِ النِّسَاءِ خَوْفَ الِافْتِتَانِ عَلَيْهِنَّ. [46]

’’شفاء کی حدیث کے بعد احتمال یہ ہے کہ خواتین کو لکھنا پڑھنا سکھانا پہلے زمانوں میں جائز ہو لیکن موجودہ زمانوں میں عورتوں میں پھیل جانے و الے فتنہ فساد کی بنا پر ایسا جائز نہیں ۔ میری نظر سے بعض کا یہ قول بھی گزرا ہے کہ سیدہ حفصہ کے لیے یہ نبی کریم کا خاص حکم تھا، جیساکہ ازواج مطہرات کے بارے میں قرآن کریم میں آیا ہے : اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اور "لَا تَعَلَّمْنَّ الْكِتَابَةَ" والا فرمان عام عورتوں کے لیے ہے، ان کے فتنہ میں مبتلا ہوجانے کے ڈر سے۔ ‘‘

ملا علی قاری کے اس موقف کا تفصیلی جواب علامہ شمس الحق عظیم آبادی جو سنن ابو داود کی مایہ ناز شرح عون المعبود کے مصنف ہیں، نے ایک مستقل کتاب کی صورت میں دیا ہے جس کا نام عقود الجمان في جواز الکتابة للنسوان ہے۔یہ موقف برصغیر میں بعض فقہا کے ہاں بھی پایا گیا ہے لیکن مولانا اشرف علی تھانوی ﷫ نے اپنی کتاب ’بہشتی زیور‘ میں خواتین کو مختلف خطوط لکھنے اور پڑھنے کی عملی تعلیم دے کر، گویا عملاً اس رجحان کے خاتمے کی کوشش کی ہے۔

الغرض خواتین کو تعلیم نہ دینے کا موقف مسلم اُمہ میں پروان نہیں چڑھ سکا کیونکہ احادیثِ نبویہ میں وضاحت کے ساتھ عورتوں کی تعلیم وتربیت کی تلقین وترغیب بلکہ حکم موجو دہیں ، چنانچہ

1.  مجد ابن تیمیہ اپنی کتاب منتقیٰ الاخبارمیں شفاء کی حدیث بیان کرنےکے بعد فرماتے ہیں:

هو دليل علي جواز تعلّم النساء الكتابة

’’اس میں عورتوں کو لکھنا سکھانے کے جواز کی دلیل وضاحت سے موجود ہے۔‘‘

2.  اوریہی موقف حافظ ابن قیم نے بھی ’زادالمعاد‘ [47]میں پیش کیا ہے:

وَفِي الْحَدِيثِ دَلِيلٌ عَلَى جَوَازِ تَعْلِيمِ النِّسَاءِ الْكِتَابَةَ

3.  شارح سنن ابو داؤد، امام خطابی فرماتے ہیں کہ

فيه دلالة على أن تعلم النساء الكتابة غير مكروه

’’اس حدیث میں دلیل ہے کہ عورتوں کو لکھنا سکھانا ناپسندیدہ نہیں ہے۔‘‘

4.  علامہ محمد ناصر الدین البانی ﷫ خواتین کے لکھنے کی مخالفت پر مبنی روایات کی عقلی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اگر اُس روایت میں ان کے لئے لکھنے کی ممانعت کو مان لیا جائے جن کو تعلیم سے فساد میں پڑنے کا اندیشہ ہے، جیساکہ شوکانی کا موقف ہے تو پھر اس ممانعت کو عورتوں سے مخصوص کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ کیونکہ فساد کا یہ خوف صرف عورتوں سے مخصوص نہیں بلکہ کتنے ہی مرد بھی ایسے ہیں جو لکھنے پڑھنے کی بنا پر اپنے دین او راخلاق میں فساد کا شکار ہوگئے ، کیا اس بنا پر ان کے لئے بھی لکھنا منع ہونا چاہئے۔ بلکہ پڑھنے کی صلاحیت بھی ممنوع ہونی چاہئے کیونکہ پڑھنا بھی لکھنے کے مثل ہی ہے، امکانی فساد میں۔

حالانکہ درست بات یہ ہے کہ لکھنا پڑھنا اللّٰہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر نعمتوں میں سے ہیں جیسا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے پہلی وحی اقرا میں اس کو الذي علّم بالقلم سے جتلایا ہے۔ یہ بھی من جملہ اُن انعامات کے ہے، جو اللّٰہ نے اپنے بندوں پر احسان کئے ہیں، اور انسانوں سے چاہاہے کہ وہ اس نعمت کو اللّٰہ کی اطاعت میں استعمال کرے۔ اگر کوئی فرد اس کو ناپسندیدہ مقام پر استعمال کرتا ہے تو اس بنا پر اس کا نعمت ہونا ختم نہیں ہوجاتا جیسا کہ بصارت، سماعت، تکلم وغیرہ کی نعمتیں ہیں، ایسے ہی لکھنے پڑھنے کی نعمت ہے۔ والدین کے لئے جائز نہیں کہ اپنی بیٹیوں کی اخلاقی تربیت کے نام پر ان کو لکھنے پڑھنے سے محروم رکھیں۔جس طرح یہی بات ان کے بیٹوں کے حق میں بھی ضروری ہے او راس سلسلے میں لڑکا لڑکی کے مابین فرق نہیں ہے۔

والأصل في ذلك أن كل ما يجب للذكور وجب للإناث، وما يجوز لهم جاز لهن ولا فرق، كما يشير إلى ذلك قوله ﷺ «إنما النساء شقائق الرجال»، رواه الدارمي وغيره، فلا يجوز التفريق إلا بنص يدل عليه، وهو مفقود فيما نحن فيه، بل النص على خلافه، وعلى وفق الأصل، وهو هذا الحديث الصحيح، فتشبث به ولا ترض به بديلاً، ولا تصغ إلى من قال:

ما للنساء وللكتـابة                            والعــمالة والخـــطابـة

هـذا لـنا ولهـن منــا                     أن يبِــتن عـلى جنابــة!

فإن فيه هضماً لحق النساء وتحقيراً لهن، وهن كما عرفت شقائق الرجال[48]

’’اس باب میں اصل یہ ہے کہ جو کچھ مردوں کے لیے واجب ہے ، وہی عورتوں کے لیے بھی ضروری ہے۔جو ان کے لیے جائز ہے، وہ ان کے لیے بھی جائز ، اور دونوں کے مابین کوئی فرق نہیں جیساکہ اس کی طرف نبی کریمﷺ کا یہ فرمان رہنمائی کرتا ہے کہ عورتوں مردوں کے سگے بھائیوں کی مثل ہیں۔ اس فرمان کو دارمی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔ سو دونوں صنفوں کے مابین روا رکھا جانے والا کوئی بھی فرق شرعی دلیل کا محتاج رہتا ہے جواس باب (یعنی تعلیم) میں مفقود ہے بلکہ فرمان نبی کی صراحت اس کے برعکس موجود ہے یعنی اصل کی تائید میں جو کہ مذکورہ بالاصحیح حدیث ہے۔آپ کو اس پر ہی جم جانا چاہیے اور اس کے متبادل پر راضی نہیں ہونا چاہیے اور اس قول کی اتباع نہ کرنا چاہیے جو یوں کہتے ہیں کہ عورتوں کو لکھنے ، خطابت کرنے اور ملازمتیں کرنے سے کیا مطلب۔یہ تو ہم مردوں کے کام ہیں اور ان کا فرض ہماری طرف سے یہ ہے کہ وہ جنابت میں رات بسر کریں۔اس موقف میں عورتوں کے حقوق کو ہضم کرکے، ان کی تحقیر کا رویہ اختیار کیا گیا ہے، حالانکہ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ صحیح فرمانِ نبوی کی روسے وہ مردوں کے مماثل ہیں۔‘‘
حوالہ جات
[1]    صحیح بخاری: 101، باب هل یجعل للنساء یوم على حدة في العلم

[2]    ایضاً: 3051

[3]    صحیح بخاری: باب عظة الإمام النساء وتعلیمهن : رقم 98

[4]    صحیح بخاری: باب شهود الحیض العیدین ودعوة المسلمین، رقم 324

[5]    فتح الباری: 1؍424 زیر حدیث صحیح بخاری: 324

[6]    سنن أبو داوود،           حديث صحيح 3887، باب ماجاء فی الرقی، قالہ الالبانی: صحیح

[7]    مسند احمد بن حنبل: حدیث الشفاء بنت عبد اللّٰہ ، رقم 27095

[8]    عون المعبود شرح سنن ابو داود ،   زیر حدیث مذکور

[9]    حدیث نمبر 855۔ شیخ البانی مزید لکھتے ہیں: قلت: وموسى هذا هو ابن عبد الله بن إسحق بن طلحة القرشي، روى عن جماعة من التابعين، وعنه ثقتان، ذكره ابن أبي حاتم في الجرح والتعديل (4/1/150) ومن قبله البخاري في التاريخ الكبير (4/287) ولم يذكرا فيه جرحاً ولا تعديلاً، وقد ذكره ابن حبان في (الثقات)، وقال الحافظ في التقريب: "مقبول" يعني عند المتابعة، وإلا فهو لين الحديث.

[10]          المفصل فی تاریخ العرب بحوالہ فتوح البلدان458،بلاذری، انساب 1؍ 137، الاصابہ4؍ 335، رقم 632

[11]           سنن ابود اودد، کتاب الادب، رقم 4481

[12]           عون المعبود ، زیر حدیث مذکور

[13]           صحیح بخاری:97، باب عظة الإمام النساء وتعلیمهن

[14] صحیح بخاری: رقم 597

[15] مسند احمد: 23870

[16] صحيح مسلم: 500

[17] صحیح مسلم: رقم 51

[18] شعب الايمان از امام بیہقی: 8743

[19] صحیح بخاری:باب الحیاء فی العلم، رقم 130

[20] سنن ابن ماجہ: رقم 224، باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم ...قال الالبانی: صحیح

[21] المقاصد الحسنۃ از امام سخاوی: 277

[22] سنن ابو داود: 495، باب متی یؤمر الغلام بالصلاة

[23] المجموع از امام نووی: 1؍50، 3؍11

[24] شیخ تقی الدین الہلالی نے اپنے مشہور عربی کتابچہ   تعلیم الأناث وتربیتهن میں من جملہ تین مواقف کے، ایک موقف یہ بھی ذکر کیا ہے۔

[25] مستدرك حاكم:3494،باب تفسیر سورۃ النور.... قالہ الذہبی : موضوع

[26] الموضوعات:2؍269، کتاب النکاح، بَاب تَعْلِيم النِّسَاء سُورَة النُّور ومنعهن من تَعْلِيم الْكِتَابَة، رقم 590

[27] نیل الاوطار: 8؍245، باب ماجاء فی الرقی والتمائم

[28] سلسلہ أحاديثِ صحیحہ، از شیخ البانی 1؍295

[29] الكامل لابن عدی، الضعفاء لابن حبان بحوالہ الفوائد المجموعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ للشوکانی: 1؍127، رقم 27

[30] الموضوعات:2؍268، کتاب النکاح، بَاب تَعْلِيم النِّسَاء سُورَة النُّور ومنعهن من تَعْلِيم الْكِتَابَة، رقم 589

[31] اللآلی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ: 2؍143، کتاب النکاح

[32] الکامل فی الضعفاء از ابن عدی: 2؍395،رقم 346

[33] لسان المیزان از حافظ ابن حجر، تحقیق ابو غدۃ:2؍479، رقم 1928

[34] میزان الاعتدال از اما م ذہبی : 1؍419، رقم 1541

[35] تنزیہ الشریعہ المرفوعہ عن الاخبار الشنیعہ الموضوعہ: 2؍209

[36] السلسلۃ الضعیفہ از ناصر الدین البانی:5؍37، رقم2022

[37] الموضوعات:2؍282

[38] اللآلی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ :2 ؍153

[39] تنزیہ الشریعہ عن الاخبار الشنیعہ: 2؍212، رقم 43

[40] تذکرۃ الموضوعات :1؍129

[41] مسند فردوس از ديلمی:1؍1؍ق 140،

[42] الاحادیث الضعیفۃ و الموضوعۃ مما لیس فی سلسلۃ الالبانی: رقم 47 و   ذیل المیزان از عبد الرحیم عراقی : 1؍404،

[43] تذکرۃ الموضوعات از محدث پٹنی : ص 27

[44] الآداب الشرعيہ از ابن مفلح : 3؍296

[45] اس رسالہ کا مخطوطہ ’مکتبہ اوقاف‘ بغداد میں موجود ہے۔ فہرست مخطوطات میں زیر نمبر:1؍383... اور انٹرنیٹ پر بھی اس کا متن دستیاب ہے۔

[46] مرقاة المفاتیح:7؍2884

[47] زاد المعاد فی ہدی خیر العباد: 4؍170

[48] سلسلہ أحاديثِ صحیحہ، از شیخ البانی 1؍295