Title Dec

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

یہ گفتگو ادارہ علم و تحقیق ’المورد‘ کے سلسلہ وار آن لائن ماہانہ علمی لیکچرز کی سولہویں نشست میں کی گئی۔ اسے کچھ تہذیب و تنقیح کے بعد اشاعت کی غرض سے لیکچر سے تحریری صورت دی گئی ہے۔

سوال1: قطعی الدلالۃ کا معنی ومفہوم کیاہے؟

قطعی کا لفظ قَطَع سے ہے جس کے معنی کاٹنا ہیں۔ پس ’قطعی الدلالۃ‘ میں قطعی کے معنیٰ یہ ہیں کہ لفظ میں موجود ایک سے زائد معانی کے احتمالات کا ختم ہو جانا اور محتمل معانی میں سے ایک ہی معنی کا متعین ہو جانا۔

’دلالت‘ کا اصطلاحی معنیٰ یہاں منطق کی اصطلاح میں : دلالتِ مطابقت ، دلالتِ تضمن اور دلالتِ التزام ہے۔ اور اُصول فقہ کی اصطلاح میں ’دلالت‘ سے مراد منطوق اور مفہوم ہے یعنی لفظی اور معنوی دلالت۔ مَنطوق سے صریح اور غیر صریح مراد ہے کہ لفظ، صیغے اور نظم کلام کی اپنے معنی پر دلالت صراحت کے ساتھ ہے یا غیر صراحت کے ساتھ۔ صریح میں مطابقت اور تضمن یعنی لفظ کا کل معنی یا جزوی معنی پر دلالت کرنا ہے جیسا کہ امر ونہی، مطلق ومقید، عام وخاص، مجمل ومبین اور ظاہر ومؤول وغیرہ۔ غیر صریح میں دلالتِ التزام مراد ہے کہ لفظ نہ تو کل معنی پر دلالت کرے اور نہ ہی جزوی معنی پر بلکہ لازم معنی پر دلالت کرے جیسا کہ اشارۃ النص، اقتضاء النص اور ایماء النص۔

مفهوم کی دو قسمیں ہیں: موافق اور مخالف۔ موافق کی قسموں میں اولیٰ اور مساوی ہے جبکہ مخالف کی قسموں میں غایت، شرط، وصف، عدد، ظرف، علت اور لقب ہے۔ یہ جمہور کا طریقہ ہے۔

حنفیہ کے نزدیک دلالت کی چار قسمیں ہیں: یعنی وضع، استعمال، وضوح وخفا اور قصد کے اعتبار سے۔ وضعی دلالت کے اعتبار سے لفظ عام، خاص اور مشترک میں منقسم ہے۔ لفظ یا تو ایسے مدلول کے لیے وضع ہوا ہے کہ جو محصور ہے یا پھر ایسے مدلول کے لیے کہ جو غیر محصور ہے یا پھر ایک سے زائد مدلول کے لیے وضع ہوا ہے۔ پھر لفظ اپنے وضعی معنی میں استعمال ہوا ہے یا نہیں تو اس اعتبار سے حقیقت ومجاز اور صریح وکنایہ کی اصطلاحات ہیں۔ پھر لفظ کی اپنے معنی میں دلالت کتنی واضح یا کس قدر خفی ہے تو اس پہلو سے ظاہر، نص، مفسر اور محکم ہے یا خفی، مشکل، مجمل اور متشَابہ ہے۔ اور قصد کے اعتبار سے عبارۃ النص، اشارۃ النص، دلالۃ النص اور اقتضاء النص ہیں۔ اگر تو وہ دلالت متکلم کا مقصود ہے تو عبارت ہے اور اگر مقصود کلام نہیں ہے تو اشارہ ہے۔ اور اگر دلالت لغوی ہے تو دلالت ہے اور اگر شرعی ہے تو اقتضا ہے۔

قطعی الدلالۃ کی اصطلاح میں ’قطعی‘ کا لفظ خود اس بات کی دلیل ہے کہ لفظ میں ایک سے زائد معانی کا احتمال ہوتا ہے ورنہ تو ’قطع‘ کا معنی کیا ہوا کہ جو اس لفظ کی اصل ہے۔ پس قطعی الدلالۃ کا لفظ یہ بتلا رہا ہے کہ لفظ میں شروع ہی سے ایک سے زائد معانی کا احتمال تھا لیکن جب قرائن یا سیاق وسباق کی روشنی میں ان معانی میں سے ایک معنی قطعی ہو گیا تو لفظ کی اپنے معنی پر دلالت قطعی کہلائی۔ کسی لفظ میں یہ ایک سے زائد معنوی احتمالات لغت میں لفظ کے ایک سے زائد معانی کے لیے وضع ہونے یا لفظ کے عرفی معنی میں اختلاف یا لغوی اور شرعی معنی میں فرق یا نظم کلام اور سیاق وسباق میں کسی لفظ کو رکھ کر دیکھنے کے پس منظر یا لفظ کے معاشرتی تناظر اور سببِ نزول کے اختلاف وغیرہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ لہٰذا یہ بات امر واقعہ ہے کہ بعض اوقات کلام میں فی نفسہٖ ایک سے زائد معانی کا احتمال موجود ہوتا ہے۔

سوال2: قرآن مجید کے الفاظ کی اپنے معانی پر دلالت قطعی ہے یا نہیں ؟

قرآن مجید کے الفاظ کی اپنی دلالت میں قطعیت اور ظنّیت کے بارے تین موقف ہیں:

۱۔قرآن مجید کل کا کل قطعی الدلالۃ ہے۔

۲۔ قرآن مجید کل کا کل ظنی الدلالۃ ہے۔

۳۔قرآن مجید کا بعض قطعی الدلالۃ اور بعض ظنی الدلالۃ ہے۔

ہمیں اس وقت یہ بحث نہیں کرنا کہ ان میں سے کون سا کس کا موقف ہے؟ بلکہ پہلے دو نقطہ ہائے نظر کی غلطی اور تیسرے کی صحت بیان کرنا ہے۔ قرآن مجید کے قطعی یا ظنی ہونے کے بارے تیسرا موقف اس دینی اور علمی روایت کا تسلسل ہے کہ جس پر تمام معروف مذاہب کا اتفاق رہا ہے۔ ہم اپنی گفتگو میں اختصار کے پیش نظر پہلے موقف کو قرآن مجید ’قطعی‘ ہے، دوسرے کو قرآن مجید ’ظنی‘ ہے اور تیسرے کو قرآن مجید ’قطعی اور ظنی‘ ہے، کے عنوان سے بھی ذکر کریں گے۔

سوال3: کیا قرآن مجید کا ہر لفظ قطعی الدلالۃ ہے؟

جب کسی علمی یا دینی روایت میں یہ بحث کی جاتی ہے کہ قرآن مجید قطعی الدلالۃ ہے یا نہیں تو وہاں دلالت سے مراد دلالت کی مذکورہ بالا جمیع اقسام ہوتی ہیں۔ اپنی بات کو آسان انداز میں پیش کرنے کی غرض سے قرآن مجید قطعی الدلالۃ کا معنیٰ ہم یہ لے رہے ہیں کہ قرآن مجید کے الفاظ کا ایک متعین معنی ہے کہ جو متکلم کا مقصود ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور معنی مراد لینا نہ صرف متکلم کی مراد کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس کی مخالفت بھی ہے۔ اگر ہم اس بحث کہ قرآن مجید کل کا کل قطعی الدلالۃ ہے، کی ممکنہ صورتیں بنائیں تو وہ درج ذیل چار صورتیں ہیں:

1.     قرآن مجید عند اللّٰہ قطعی الدلالۃ ہے؟ ہمارا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ہر کلام اپنے متکلم کے نزدیک اپنے لفظ لفظ میں قطعی ہوتا ہے۔

2.     قرآن مجید عند رسول اللّٰہ ﷺ قطعی الدلالۃ ہے؟ اس میں کچھ تفصیل ہے کہ فی نفسہٖ قطعی نہیں بلکہ مع البیان قطعی ہے جیسا کہ اللّٰہ کے رسول ﷺ کو قرآن مجید میں سورۃ القیامۃ میں ارشاد فرمایا گیا کہ آپ حضرت جبرئیل علیہ السلام کی قراءت کی اتباع کریں اور پھر اس قراءت کا بیان ہمارے ذمہ ہے۔ پس محض قرآن مجید کے الفاظ اپنے معانی میں اجمال بھی رکھتے ہیں کہ جن کی تفصیل سنت میں علیحدہ سے نازل ہوئی ہے۔ مثلا قرآن مجید کے الفاظ ﴿ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ ﴾ کا وہ معنی ومفہوم جو منشاے متکلم ہے کہ پانچ نمازیں پڑھنی ہیں اور ان اوقات میں پڑھنی ہیں اور یوں پڑھنی ہیں وغیرہ، اللّٰہ کے رسول ﷺکے لیے صرف اسی نص کے نزول سے قطعی نہیں ہوا بلکہ مزید وحی کے ذریعے سنت کے بیان سے قطعی ہوا جیسا کہ جبرئیل علیہ السلام نے آ کر آپ ﷺ کو نمازوں کے اوقات وغیرہ کی تعلیم دی۔ پس ﴿ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ ﴾ کے الفاظ اپنا مکمل معنی بتلانے میں قطعی نہیں ہے جب تک کہ سنت کا بیان اس میں شامل نہ ہو جائے۔

اسی بات کو امام شافعی نے یوں فرمایا ہے کہ کتاب وسنت دومصادر نہیں ہیں بلکہ ایک ہی مصدر ہے۔ قرآن مجید اللّٰہ کے الفاظ ہیں جبکہ سنت ان الفاظ کا معنی ہے، دونوں منزل من اللّٰہ ہیں۔ ایک میں لفظ نازل ہوا اور دوسرے میں معنیٰ۔ ایک میں لفظ محفوظ ہے اور دوسرے میں معنی۔ اگر سنت کو چھوڑ دیں گے توقرآن مجید میں صرف الفاظ باقی رہ جائیں گے۔[1]اور سنت کا انکار دراصل قرآن مجید کے نازل شدہ معانی کا انکار ہے۔ اور سنت کے انکار کے بعد ہی فتنہ پرور گروہ قادیانیت، باطنیت، خارجیت اور اعتزال وغیرہ قرآن مجید ہی کے الفاظ سے سب قسم کی گمراہیاں نکال لیتے ہیں کہ جب آپ نے قرآن مجید کے اُلوہی معنیٰ یعنی سنت کا انکار کر دیا تو اب تو وہ محض الفاظ ہیں کہ جو کھیل اُن کے ساتھ کھیلنا چاہیں، کھیل سکتے ہیں اور جو ان سے نکالنا چاہیں، نکال سکتے ہیں۔

3.     قرآن مجید عند جمیع المخاطبین قطعی الدلالۃ ہے؟ یعنی تمام مکلفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن مجید کے لفظ لفظ کا ایک ہی معنیٰ سمجھیں اور قرآن مجید کے کسی لفظ کے معنی میں ان کے مابین اختلاف نہ ہونے پائے۔ تو یہ دعوی کسی طور نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی سوفسطائیت ہے جو تفسیر میں اختلاف کے وجود کی بھی منکر ہے۔ تفسیر میں اہل علم کا اختلاف ہوا ہے اور یہ تنوع کا بھی ہے اورتضاد کا بھی ہے۔ تفسیر کا یہ اختلاف آج بھی جاری ہے، اور آئندہ بھی جاری رہے گا۔ اللّٰہ کے رسول ﷺ نے معراج کی رات، اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ کو دیکھا یا نہیں تو اس میں صحابہ رضوان اللّٰہ اجمعین سے آج تک اختلاف جاری ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ ایک مفسر کے نزدیک راجح رائے کون سی ہے یا اس کے پاس اپنی اس رائے کے حق میں دلائل کس قدر مضبوط ہیں یا اسے اپنی اس رائے کی صحت پر کتنا ایمان اور یقین حاصل ہے، وغیرہ ۔

ہم یہ بات کر رہے ہیں کہ قرآن مجید کے جتنے مقامات کی تفسیر میں اہل علم کا اختلاف ہوا ہے تو کیا اس اختلاف کے نتیجے میں کسی مفسر کے دلائل اس قدر مضبوط اور کافی و شافی ہیں کہ اس نے مرادِ الٰہی کی قطعیت کو اس طرح ثابت کر دیا ہو کہ نہ صرف معاصرین نے اس سے اپنا اختلاف ترک کر دیا ہو بلکہ قیامت تک آنے والے اہل علم کے لیے بھی اس کی رائے سے اختلاف کرنا ممکن نہ رہا ہو۔ ہم تو نفس اختلاف کی بات کر رہے ہیں کہ صلاحیت اور اخلاص دونوں بنیادوں پر اہل علم کا قرآن مجید کی آیات کی تفسیر میں اختلاف ہوا ہے، ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا اور یہی اس کے قطعی الدلالۃ نہ ہونے کے لیے کافی و شافی دلیل ہے۔

اب یہ کہنا کہ ’تاویل کا اختلاف‘ اور ہوتا ہے اور ’احتمال کا اختلاف‘ مختلف ہے اور مفسرین نے ’تاویل میں اختلاف‘ کیا ہے۔ یہ ویسی ہی تھیورائزیشن (اصطلاح بندی) ہے جیسی کہ قرآن مجید کو ظنّی الدلالۃ کہنے والوں نے کی ہے۔ جب ان کے اس موقف پر کہ قرآن مجید کل کا کل ظنی الدلالۃ ہے، عقلی وشرعی اعتراضات وارد کیے جاتے ہیں تو وہ یہی جواب دیتے نظر آتے ہیں کہ ’تفسیر‘ اور ہوتی ہے اور ’اعتبار‘ فرق ہے۔ کسی شے کو تھیورائز کر لینے کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس قاعدے کلیے یا ضابطے کا آپ کے ذہن سے باہر خارج میں بھی وجود ثابت ہو گیا ہے۔

امر واقعہ یہ ہے کہ مفسرین میں تاویل کا اختلاف تنوع کا بھی ہے اور تضاد کا بھی۔ البتہ متقدمین مفسرین یعنی صحابہ کی جماعت میں تفسیر کا زیادہ تر اختلاف تنوع کا ہی تھا ۔ اس لیے ابن تیمیہ ﷫ متقدمین کی تفسیر کی طرف رجوع کے پرجوش مبلغ ہیں کہ اس سے قرآن مجید کی قطعیت بڑھ جاتی ہے کہ قرآن مجید کامعنی ومفہوم متعین کرنے میں متقدمین کو کچھ ایسے خارجی ذرائع بھی حاصل تھے جو متاخرین کو حاصل نہیں ہیں جیسا کہ ان کا شانِ نزول کا حصہ ہونا یعنی صحابہ اس سببِ نزول کا حصہ تھے کہ جو قرآنِ مجید کی آیات کے نزول کا باعث بنا۔ آسان الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صحابہ لفظ کے اس معاشرتی تناظر سے خوب واقف تھے کہ جس میں اس لفظ کا معنی موجود تھا۔ لیکن قرآن مجید کی تفسیر میں متاخرین نے جو اختلاف متقدمین سے کیا یا متاخرین نے آپس میں کیا تو اس میں تو اکثر اختلاف، تضاد ہی کا ہے۔ اور تضاد کا اختلاف، نفس کلام اور لفظ میں موجود ایک سے زائد احتمالات کے بغیر ممکن نہیں ۔

4.     قرآن مجید عند بعض المخاطبین قطعی الدلالۃ ہے۔ تو یہ دعویٰ بھی درست نہیں ہے کہ ایک مفسر کے لیے کل قرآن مجید قطعی الدلالۃ ہو جائے۔ یہ تو عصمت ہے جو نبی کے علاوہ کو حاصل نہیں ہے۔ اگر نبی کے علاوہ کسی کو حاصل ہو سکتی تو دو اشخاص کو لازماً حاصل ہوتی یعنی عمر بن خطاب اور عبد اللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما کہ جن کی قرآن فہمی، تاویل وتفسیر اور دینی علم کی فضیلت و منقبت نصوص سے ثابت ہیں۔ حضرت عبد اللّٰہ بن عباس ﷜کو اللّٰہ کے رسول ﷺ نے سینے سے لگا کر یہ دعا دی کہ ’’اے پروردگار! اُنہیں کتاب کا علم عطا فرما۔‘‘[2] اور حضرت عمر بن خطاب ﷜ کے بارے میں اللّٰہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ ’’وہ علم نبوت کے اس پیالے سے سیراب کیے گئے   کہ جس سے میں سیراب ہوا ہوں۔‘‘[3] اور یہی عمر بن خطاب ﷜ فرماتے ہیں کہ ’’مجھے
’أَ بًّا‘ کا معنی معلوم نہیں اور اگر میں اس کا معنی معلوم کرنے کی کوشش بھی کروں گا تو تکلف محض ہو گا۔ ‘‘[4] اور اس نوعیت کے اقوال کئی ایک کبار صحابہ سے منقول ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ قرآن مجید کے بعض مقامات بعض مفسرین کے لیے کچھ خارجی ذرائع کی وجہ سے قطعی الدلالۃ ہو جائیں جبکہ وہی مقامات دیگر مفسرین کی جماعت کے لیے قطعی نہ ہوں۔ اور یہ مفسرین صحابہ اور ان کے بعد کے مفسرین کی جماعت میں ایک اہم فرق ہے۔ حضرت عمر بن خطاب نے حضرت عبد اللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما کو خط لکھا کہ مسلمان اُمت قرآن مجید میں کیسے اختلاف کرے گی ؟ تو اُنہوں نے یہی جواب دیا کہ قرآن مجید ہم صحابہ کی جماعت کے تو سامنے نازل ہوا لہذا ہمیں آیات کے بارے علم ہے کہ کس بارے، کیوں اور کس پس منظر میں نازل ہوئی۔ لیکن ہمارے بعد والے اس سے محروم ہوں گے اور بہت اختلاف کریں گے۔ پس صحابہ کے لیے قرآن مجید کے بہت سے مقامات قطعی الدلالۃ تھے جبکہ بعد والوں کے لیے وہ قطعی نہیں ہیں، اگر وہ صحابہ کو درمیان سے نکال دیں۔ ہاں البتہ بعد والے اگر اس بارے صحابہ پر اعتماد کریں تو اُنہیں قرآن مجید کے قطعی معنیٰ تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے کہ صحابہ ان الفاظ کے معانی تک پہنچنے کا دروازہ ہیں کیونکہ وہ اس معاشرے کا حصہ تھے کہ جس کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے قرآن مجید کی آیات نازل ہوئی تھیں۔

سوال4: کیا اللّٰہ عزوجل اپنی کتاب کو قطعی الدلالۃ بنانے پر قادر نہیں ہے اور اللّٰہ عزوجل نے اپنی کتاب میں بعض مقامات کو ظنی الدلالۃ کیوں رکھا ہے؟

اللّٰہ تعالیٰ نے اہل عرب کی زبان میں کلام فرمایا ہے یعنی قرآن مجید جس زبان میں نازل ہوا ہے، اللّٰہ عزوجل نے اسے قرآنِ مجید کے نزول کے ساتھ وضع نہیں کیا بلکہ اہل عرب اس زبان کے واضع تھے۔ لہذا عربی معلی ہو یا عربی مبین، یہ مخلوق کی زبان ہے کہ جس میں خالق نے کلام فرمایا ہے۔ خالق نے اپنے کلام کے لیے مخلوق کی وضع کردہ زبان کو آلہ بنایا ہے اور اسی لیے تو قرآن مجید نے بھی کہہ دیا کہ ’’وہ آپ ﷺکی زبان میں آسان ہوا ہے۔‘‘[5]

پس ہمارے نزدیک ظنی الدلالۃ ہونے کا یہ معنی نہیں ہے کہ متکلم قادر الکلام نہیں ہے بلکہ یہ کہ متکلم نے اپنے کلام کے بعض مقامات کو جانتے بوجھتے اپنے بندوں کی آزمائش کی غرض سےظنی الدلالۃ بنایا ہے جیسا کہ ہمارے لیے واضح ہے کہ کس طرح اللّٰہ عزوجل نے آیات کو محکم اور متشَابہ میں تقسیم کر کے متشَابہات کو آزمائش بنانے اور ان پر ایمان لانے کا حکم دیا ۔ پس قرآن مجید کے بعض مقامات کا ظنی الدلالۃ ہونے کا سبب بندوں کی آزمائش ؍ اعجاز القرآن ہے، نہ کہ اللّٰہ کا کلام کی قدرت نہ رکھ سکنا۔

اسی طرح اللّٰہ تعالیٰ کی صفت کلام اور مخلوق کی زبان میں فرق لازم ہے اور یہ اس بارے دوسرا نکتہ ہے۔ ظنی الدلالۃ ہونا کلام کا عیب نہیں ہے جیسا کہ کسی شخص کا پیدائشی گونگا، بہرا یا نابینا ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اللّٰہ کی صفتِ خلق میں کوئی عیب یا نقص ہے بلکہ یہ اس شخص کی آزمائش ہے۔ اللّٰہ عزوجل کی صفت خلق اور مخلوق دونوں میں فرق لازم ہے۔ اسی طرح کلام کا ظنی الدلالۃ ہونا یہ لازم نہیں کرتا کہ اللّٰہ کی صفتِ کلام میں عیب اور نقص ہے بلکہ اس میں بندوں کی آزمائش رکھی گئی ہے۔

سوال5: کیا قرآن مجید کل کا کل فی نفسہ قطعی الدلالۃ ہے؟ خود قرآن مجید اس بارے کیا کہتا ہے؟

قرآن مجید کل کا کل قطعی الدلالۃ نہیں ہے جیسا کہ خود "القرآن يفسّر بعضُه بعضًا"  کے اُصول سے ثابت ہو رہا ہے۔ قرآن مجید میں متوفی عنہا کی عدت درج ذیل آیت میں بیان کی گئی ہے: ﴿وَالَّذينَ يُتَوَفَّونَ مِنكُم وَيَذَرونَ أَزو‌ٰجًا يَتَرَبَّصنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَربَعَةَ أَشهُرٍ وَعَشرًا﴾[6] جبکہ اس کے بعد ایک اور آیت میں حاملہ عورتوں کی عدت بیان کی گئی: ﴿ وَأُولـٰتُ الأَحمالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعنَ حَملَهُنَّ﴾.[7] ہردو صورتوں میں، کہ پہلی آیت متوفی عنہا حاملہ کے حکم کو شامل ہے یا نہیں، متوفی عنہا کی عدت کے مسئلہ میں دوسری آیت نے پہلی آیت کے معنی کو قطعیت دی ہے اور دونوں آیات کے نزول میں زمانی اختلاف موجود ہے لہٰذا دوسری آیت کے نزول تک پہلی آیت فی نفسہٖ ظنی الدلالۃ تھی ۔

اسی طرح اگر قرآن مجید فی نفسہٖ قطعی الدلالۃ ہوتا تو حضرت عدی بن حاتم ﷜ کو کیوں شبہ ہوتا کہ الخيط الأبيض اور الخيط الأسود سے کیا مراد ہے کہ ان کی تو مادری زبان بھی عربی تھی۔ البتہ یہ الفاظِ قرآنی عند رسول ﷺقطعی الدلالۃ تھے۔ پس قرآن مجید بعض مقامات پر فی نفسہٖ قطعی ہے جیسا کہ مائة جلدة اوربعض پر فی نفسہ ٖظنی جیسا کہ الـمَيتَة.

سوال6: قرآن مجید فی نفسہ ٖقطعی ہے یا سنت کے ساتھ مل کر قطعی ہوتا ہے؟

قرآن مجید کا کل ذخیرہ الفاظ یا محاورات عربی معلی ہی کے ہیں یا قرآن مجید نے اصلاً عربی معلی میں کلام کیا اور بہت سا ذخیرہ الفاظ یا محاورات ایسے استعمال کیے جو اہل عرب کی زبان میں رائج نہیں تھے؟ یہ اس موضوع سے متعلق ایک اہم سوال ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ قرآن مجید نے بہت سے الفاظ اور محاورات ایسے استعمال کیے ہیں جو اہل عرب کے لیے نئے تھے یعنی اُن کی زبان میں وہ مستعمل نہ تھے جیسا کہ استواء علی العرش، سدرۃ المنتہیٰ، لوحِ محفوظ اور جہنم وغیرہ۔ اب عرب جن الفاظ اور محاورات ہی کو پہلی مرتبہ سن رہے تھے تو وہ ان کے لیے فی نفسہٖ قطعی الدلالۃ کیسے ہو گئے؟ ہاں! سنت کے بیان کے ساتھ مل کر وہ قرآنی الفاظ قطعی الدلالۃ ہو گئے ہوں تو وہ علیحدہ مسئلہ ہے کہ اس صورت میں ایک خارجی ذریعے نے قرآن کے الفاظ کے معانی کو متعین کیا ہے نہ کہ نظم کلام یا سیاق وسباق نے۔

اسی طرح قرآنِ مجید نے عربی معلی کے جس ذخیرہ الفاظ یا محاورات کو استعمال کیا تو کیا بعینہٖ اسی معنی میں استعمال کیا کہ جسے عرب جانتے تھے یا جس معنی میں وہ استعمال کرتے تھے، اس معنی میں کمی بیشی کے ساتھ لفظ کو ایک نیا معنی دیا کہ جس معنی سے عرب اس سے پہلے واقف نہ تھے؟ امر واقعہ یہ ہے کہ قرآنِ مجید کے بہت سے الفاظ جو کہ اصطلاحاتِ شرعیہ کی قبیل سے ہیں، قرآن مجید نے اُنہیں ان معانی میں استعمال ہی نہیں کیا کہ جس معنی میں وہ عربی معلی میں مستعمل تھے بلکہ اس میں بہت زیادہ کمی بیشی کی جیسا کہ لفظ صلوٰۃ، صوم، زکوۃ اور حج وغیرہ۔ اب سنت کے بیان کے بغیر کیا قرآن مجید کے یہ الفاظ اپنے معانی ومفاہیم میں قطعی الدلالۃ ہیں؟

آپ اگر سنت سے مراد ’سنتِ ابراہیمی‘ بھی لے لیں تو پھر بھی صورت حال یہ ہے کہ ایک تو یہ سنت بھی قرآن مجید کے علاوہ ایک خارجی ذریعہ ہی ہے اور دوسرا آپ اس سنت میں بھی تجدید واضافے کے بھی قائل ہیں کہ یہ سنت بھی بعینہٖ وہی نہیں تھی جو اہل عرب میں اسلام سے پہلے رائج تھی یا عرب اس کے اصل معنی سے واقف تھے۔ تو اس صورت میں بھی سنت ابراہیمی وہی ہے جس کا تعین اللّٰہ کے رسول ﷺنے کیا نہ کہ وہ جو عربوں کے ہاں معروف تھی۔ لہٰذا اللّٰہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بتلائے بغیر محض دورِ جاہلیت کے عرب معاشرے کے رسم ورواج سے سنتِ ابراہیمی بھی متعین نہیں ہوتی ہے۔ پس قرآن مجید اللّٰہ کے رسول ﷺکی سنت کے بغیر قطعی نہیں ہو سکتا ہے۔

سوال7: قرآن مجید ، سنت کے علاوہ کون سے خارجی ذرائع سے قطعی الدلالۃ بن جاتا ہے؟

یہ بات درست ہے کہ قرآن مجید کے بعض مقامات جو کہ مخاطبین کے لیے ظنی الدلالۃ ہوں،خارجی ذرائع مثلا ً تفسیر رسول ﷺ، لغتِ قرآن میں تفسیر صحابی، شانِ نزول کی روایات اور اجماعِ مفسرین سے قطعی ہو جاتے ہیں۔

سوال8: کیا قرآن مجید، سنت اور دیگر خارجی ذرائع سے کل کا کل قطعی الدلالۃ بن جاتا ہے؟

کل قرآن مجید فی نفسہٖ قطعی الدلالۃ ہے یا خارجی ذرائع کے ساتھ قطعی الدلالۃ ہے تو یہ دعویٰ کسی صورت درست نہیں ہے کہ کم از کم حروفِ مقطعات تو دونوں صورتوں میں نکالنے ہی پڑیں گے کہ ان کا معنی ومفہوم کسی کے علم میں نہیں ہے۔ اور فی نفسہٖ قطعی الدلالۃ نہ ہونے کے ثبوت میں اُمورِ غیبیہ اور مصطلحاتِ شرعیہ بھی تو دلیل ہیں کہ قرآن مجید میں جن غیبی اُمور کا بیان ہے یا شرعی اصطلاحات کا بیان ہے تو ان کا اکثر معنی محض قرآن مجید کے بیان سے سمجھنا ناممکن ہے۔ کیا کوئی مفسر یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ سنت کے بغیر قرآنی الفاظ صلوٰۃ، زکوٰۃ، صوم اور حج کا وہ معنی معلوم ہو سکتا ہے کہ جو متکلم کی مراد ہے؟ کیا قرآن مجید مصطلحاتِ شرعیہ کے معانی ومفاہیم کے بیان میں فی نفسہٖ قطعی الدلالۃ ہے کہ بغیر کسی خارجی ذریعے کے ان اصطلاحات کے معانی ومفاہیم مخاطب کو سمجھ آ جائیں؟ نہیں ایسا نہیں ہے۔

سوال9: قطعی المعنیٰ اور قطعی القصد میں کیا فرق ہے؟

اگر آپ یہ کہیں کہ کل قرآن مجید فی نفسہٖ قطعی القصد ہے تو یہ بات درست ہے لیکن قطعی المعنی تو یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔ قرآن مجید نے آیات متشَابہات کے بارے کہا کہ اللّٰہ کا قصد واضح ہے کہ ان آیات پر ایمان لے آؤ لیکن ان کی معنوی حقیقت ، تو یہ اللّٰہ کے علاوہ کسی کے علم میں نہیں ہے۔

سوال10: کل معنی، اصل معنی اور لازم معنی میں کیا فرق ہے یا معنی اور معنوی حقیقت میں کیا فرق ہے؟

ایک کل معنی ہے، ایک اصل معنی ہے اور ایک لازم معنی ہے۔ یہ فرق بھی اس بحث میں اہم ہے۔ ’جنت‘ کا کل معنی یا حقیقی معنی نامعلوم اور کبھی معلوم ہو ہی نہیں سکتا کہ کسی آنکھ نے دیکھی نہیں، کان نے سنی نہیں اور دل پر خیال نہیں گزرا۔ اور ’جنت‘ کا اصل معنی معلوم ہے کہ وہ باغ ہے۔ اور اس کا لازم معنی یہ ہے کہ مؤمنین کا اُخروی گھر ہے۔ ’فرشتہ‘ کا کل معنی نامعلوم ہے اورمعلوم ہونا ناممکن ہے۔ اصل معنی نور ہے۔ اور لازم معنی اللّٰہ کی مخلوق ہونا ہے۔ یہ واضح رہے کہ ’معنی‘ میں اور ’معنوی حقیقت‘ میں بھی فرق ہے کہ لفظ کے کل معنی کو معنوی حقیقت کہتے ہیں۔

سوال11: قرآن مجید کو کل کا کل ظنی الدلالۃ کہنے والوں کی الجھن کیا ہے؟

یہاں سے ہی ظنی الدلالۃ کہنے والوں کو شبہ ہوا کہ کل قرآنِ مجید کل کا کل ظنی الدلالۃ ہے کہ ان کے نزدیک کسی بھی لفظ کی حقیقت و ماہیت معلوم نہیں ہو سکتی یعنی کسی لفظ کا کل معنی معلوم نہیں ہو سکتا ہے۔ اور یہ تحکم محض اور جہل مرکب ہے کہ قرآن مجید کے لفظ لفظ کے بارے یہ دعوی کر دیا جائے کہ اس کا کل معنی نامعلوم ہے۔"أربعة" کا کل معنی "أربعة" اور"مائة" کا کل معنی "مائة" ہے۔ موسیٰ کا کل معنی معلوم ہے کہ اللّٰہ کے پیغمبر ہیں اور ان کی ذات مراد ہے اور ہارون کا کل معنی معلوم ہے کہ موسی علیہ السلام کے بھائی ہیں ، اللّٰہ کے پیغمبر ہیں اور ان کی ذات مراد ہے۔ اب یہ کہنا کہ قرآن مجید میں موسی علیہ السلام سے ’قلبِ سلیم‘ اور ہارون سے ’عقل مستقیم‘مراد ہے تو اس سے بڑھ کر اللّٰہ کی کتاب سے کیا کھلواڑ ہو گا؟ اور اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ قرآن مجید چونکہ کل کا کل ظنی الدلالۃ ہے لہذا ان الفاظ کا یہ معنی مراد لینا بھی جائز اور درست ہے۔ قرآن مجید کی باطنی تفسیروں کی بنیاد یہی اُصول ہے کہ قرآن مجید کل کا کل ظنی الدلالۃ ہے اور قرآن مجید میں کچھ بھی قطعی الدلالۃ نہیں ہے اور یہ ایک دوسری انتہاہے۔

سوال12: ظنی الدلالۃ ہونے کا معنی ومفہوم کیا ہے؟

قرآن مجید کو قطعی الدلالۃ کہنے والوں کا یہ خیال ہے کہ قرآن مجید کو ظنی الدلالۃ کہنے میں توہین کا پہلو شامل ہے اور قرآن مجید کو ظنی الدلالۃ کہنے والوں کا ذہن ہے کہ ظنی الدلالۃ کا جیسے کوئی معنی

ہی نہیں ہوتا ہے تو ہم اس کو بھی واضح کرتے چلیں کہ ظنی الدلالۃ کا یہ معنی نہیں ہے کہ

1.       قرآن مجید کی آیات کا کوئی معنی ومفہوم ہی نہیں ہے، یہ تو اہل تفویض کا قول ہے۔

2.     اور نہ ہی ظنی الدلالۃ کا معنی یہ ہے کہ مفسر کو قرآن مجید کا جو معنی ومفہوم سمجھ آیا ہے تو وہ لازما غلط ہی ہے۔

3.     اور نہ ہی ظنی الدلالۃ کا یہ معنی ہے کہ قرآن مجید کے الفاظ میں اس قدر ابہام ہے کہ مرزائیوں کی مرزائیت، روافض کی رافضیت اور باطنیہ کی باطنیت بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

پہلی دو باتوں کے بارے عرض یہ ہے کہ ظنی الدلالۃ کا معنی یہ ہے کہ مفسر کے غالب گمان کے مطابق قرآنِ مجید کا معنی ومفہوم وہی ہے جو اسے سمجھ میں آیا ہے۔ وہ عِنده مُصیب ہے اور قرآن فہمی میں خطا کے باوجود عند اللّٰہ ماجور ہو گا کہ ایک گنا اجر حاصل کرے گا بشرطیکہ اس میں قرآن مجید کی تفسیر کی اہلیت اور اخلاص کی شرائط موجود ہوں۔ علاوہ ازیں ظنی الدلالۃ ہونے کا معنی یہ بھی ہے کہ اس کی قرآن فہمی میں خطا جبکہ فریق مخالف کی تفسیری رائے میں صحت کا امکان بھی موجود ہے۔

تیسری بات کے بارے ہمیں یہ عرض کرنا ہے کہ ظنی الدلالۃ ہونے کا یہ معنی کسی بھی اُصولی علمی روایت میں بیان نہیں ہوا کہ لفظ کی کوئی حدود ہی نہیں ہوتیں کہ جو چاہیں اس سے معنی مراد لے لیں۔ لفظ ’يَد‘ کا معنی ہاتھ ہے یا بازو ہے یا قدرت ہے تو یہی احتمالات ہیں کہ جن میں سے کوئی ایک مراد لیا جا سکتا ہے۔ اب ظنی الدلالۃ ہونے کا یہ معنی تھوڑا ہی ہے کہ لفظ ’يَد‘سے آنکھ بھی مراد ہو سکتی ہے، ناک بھی اور کان بھی وغیرذلک۔ جس طرح اُصولیین نے عقل ونقل سے یہ ثابت کر دیا کہ کتاب وسنت میں لفظ کا کل معنی مراد ہو گا یا جزوی معنی یا لازم معنی اور دلالت کی تمام اقسام کو عقل کے علاوہ شرع سے بھی ثابت کیا ہے اور اُصول فقہ کی کتب اس قسم کی مباحث سے بھری پڑی ہیں، اسی طرح سے ظنی الدلالۃ کہنے والوں کا علم اعتبار کے علم ہونے پر اصرار ابھی تک کسی محقق کی راہ دیکھ رہا ہے کہ وہ بھی مذہب، لسانیات اور کلام کی روشنی میں یہ ثابت کر سکیں کہ ظنی الدلالۃ میں معانی متعین نہیں ہوتے ہیں؟ ہمارا کہنا یہ ہے کہ ’’قطعی الدلالۃ میں ایک ہی معنی متعین ہوتا ہے جبکہ ظنی الدلالۃ میں ایک سے کچھ زائد معانی ہوتے ہیں کہ جن میں سے ایک کو اختیار کیا جاتا ہے۔ اور ظنی الدلالۃ میں یہ نہیں ہوتا کہ لفظ کا کوئی معنی ہی نہیں ہوتا یا لامحدود معانی اور تصورات میں سے کوئی بھی معنی اور تصور لفظ کے لیے مراد لیا جا سکتا ہے۔‘‘

اور اب وجودیوں کا یہ دعویٰ کرنا کہ قرآن مجید میں بنی اسرائیل سے مراد’خیالاتِ طیبہ‘ ہیں اور جو دریا اُنہوں نے پار کیا تھا، اس سے مراد ’دریائے وحدت‘ ہے، موسی علیہ السلام سے مراد ’قلب سلیم‘ ہے اور ہارون علیہ السلام سے مراد ’عقل مستقیم‘ہے اور فرعون سے مراد ’نفسِ لعین‘ ہے۔ اور فرعون کے ایمان لانے سے ہماری مراد اب تو تمہاری سمجھ میں آ گئی ہو گی؟ اور اوپر سے اگر اصرار یہ ہو کہ ’تفسیر‘ اور ’اعتبار‘ میں فرق ہے اور ’علم الاعتبار ‘اور ’باطنیت‘میں فرق ہے تو یہ ’جہل مرکب‘ ہے کہ ’اعتبار ‘کو ’ علم‘ کہہ دیا تو جہالت کو علم کہنا جہل مرکب کہلاتا ہے۔

پس ظنی الدلالۃ ہونے کا معنیٰ ہر گز یہ نہیں ہے کہ کتاب اللّٰہ کا جو معنی ومفہوم چاہیں بیان کر دیں تو اس کا بھی احتمال قرآنی الفاظ میں موجود ہوتا ہے۔ قرآنی الفاظ میں جو احتمالات ہیں، پہلے اُنہیں لغت، عرف، اور شرع سے ثابت کرنا ہو گا اور پھر ان تین قسم کے احتمالات میں سے جب کوئی ایک احتمال کسی مفسر کے نزدیک لفظ کے خارجی ذرائع مثلاً سنت، الفاظ کے سیاق، سببِ نزول وغیرہ کی روشنی میں متعین ہو جائے تو یہ ظنی الدلالۃ کا معنی ومفہوم ہے۔ اور اگر سب مفسرین کا اس معنی ومفہوم پر اتفاق ہو جائے تو یہ قطعی الدلالۃ ہے۔ بنی اسرائیل سے مراد’خیالات طیبہ‘ ہیں، یہ معنی نہ تو لغوی احتمالات میں سے ہے، نہ عرفی اور نہ ہی شرعی۔ اور جو معنی ان احتمالات کے علاوہ ہو، وہ باطنیت ہی کی ایک قسم ہے، چاہے اسے ’ اعتبار‘ کا نام دیا جائے یا ’تفسیر اشاری‘ کا۔

سوال13: قرآن مجید قطعی الدلالۃ بھی ہے اور ظنی الدلالۃ بھی، اس دعوی کی دلیل قطعی کیا ہے؟

باقی رہا یہ سوال کہ جو اُصول ہم نے بیان کیا کہ قرآن مجید قطعی الدلالۃ بھی ہے اور ظنی الدلالۃ بھی تو اس اُصول کے قطعی ہونے کیا دلیل ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اصول ان کلیاتِ محضہ میں سے نہیں ہے کہ جن کے اثبات کے لیے کسی صغریٰ وکبریٰ کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ قاعدہ کلیہ ایک خارجی حقیقت اور امر واقعہ ہے۔ پہلے ذرا اس بات پر غور کریں کہ قرآن مجید کے لفظ لفظ میں مفسرین کااختلاف ہے یا بعض مقامات میں ہے؟ اور اس سوال کا جواب ایک تاریخی واقعہ ہے کہ جس کے بارے دو رائے ممکن نہیں ہیں کہ قرآن مجید کے بعض الفاظ کے معانی میں مفسرین کا اتفاق ہے اور بعض میں اختلاف ہے۔ یہ ایک واقعاتی حقیقت ہے۔

قرآن مجید کے لفظ لفظ کے بارے نہ تو متقدمین میں اختلاف ہوا اور نہ ہی معاصرین میں۔ تو جن مقامات میں سب کا اتفاق ہے تو وہ قطعی الدلالۃ ہیں اور جن میں اختلاف ہے تو وہ ظنی الدلالۃ ہیں۔ اختلاف سے مراد اختلافِ تضاد ہے، تنوع کا اختلاف در حقیقت اختلاف نہیں ہوتا بلکہ معنی کی ایک نئی جہت کا تعارف ہوتا ہے۔

سوال14: قرآن مجید میں کچھ آیات ایسی ہیں کہ جن کو اس دعوی کی دلیل کے طور نقل کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید کل کا کل قطعی الدلالۃ ہے۔ اس بارے آپ کی کیا رائے ہے؟

اب رہی وہ آیات کہ جو قرآن مجید کے قطعی الدلالۃ ہونے کی دلیل کے طور نقل کی جاتی ہیں تو فریق مخالف کا خود ان آیات کے معنی ومفہوم میں آپ سے اختلاف ہے۔ اور فریق مخالف نے ایسی بہت سی آیات بیان کی ہیں کہ جو قرآن مجید کے ظنی الدلالۃ ہونے کی دلیل ہیں لیکن آپ ان کے معنی ومفہوم کے بیان میں اختلاف رکھتے ہوں گے۔ دلیل کے معنی ومفہوم میں دونوں طرف سے یہ اختلاف بھی اس بات کی دلیل ہے کہ سب قرآن مجید قطعی الالدلۃ نہیں ہے۔

سوال15: قرآن مجید کا لفظ لفظ قطعی الدلالۃ مان لینے سے کیا کوئی گمراہی پیدا ہو جاتی ہے؟

جب آپ قرآن مجید کی کسی آیت کے بارے یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ قطعی الدلالۃ ہے جبکہ مفسرین کا اس آیت کی تفسیر میں اختلاف ہے تو آپ یہ دعوی کر رہے ہوتے ہیں کہ اللّٰہ کی مراد وہی ہے جو آپ کو سمجھ آئی ہے جبکہ بقیہ سب نہ صرف غلطی پر ہیں بلکہ آپ کی نہیں، اپنے پروردگار کی مخالفت پر کھڑے ہیں۔

اگر آپ یہ کہیں کہ الزانية والزاني کا لفظ شادی شدہ اور غیر شادی شدہ دونوں کو شامل ہے اور یہ معنی ومفہوم ظنی الدلالۃ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ دوسروں کو اختلاف کی گنجائش دے رہے ہیں۔ اس صورت میں آپ اپنے نزدیک مصیب ہیں اور عند اللّٰہ ماجور ہیں، اگر آپ میں یہ معنی بیان کرنے کی اہلیت اور اخلاص کی شرائط موجود ہیں کیونکہ حدیث میں مجتہد مخطی کے لیے ثواب کا ذکر ہے نہ کہ صرف مخطی کے لیے۔ اسی طرح آپ اس صورت میں اپنی قرآن فہمی میں خطا اور دوسرے کی تفسیر میں صحت کا امکان تسلیم کر رہے ہیں۔

لیکن اگر آپ یہ دعوی کریں کہ الزانية والزاني کا لفظ شادی شدہ اور غیر شادی شدہ دونوں کو شامل ہے اور یہ معنی ومفہوم قطعی الدلالۃ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نہ صرف دوسروں کو اپنے سے اختلاف کا حق نہیں دے رہے بلکہ یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ جس نے آپ سے اختلاف کیا، اس نے پروردگار سے اختلاف کیا۔ قطعی الدلالۃ ہونے کا معنیٰ تو یہی ہے کہ اس متعین معنی کے علاوہ کوئی معنیٰ مراد لینا جائز نہیں ہے کہ جسے آپ نے قطعی الدلالۃ قرار دے دیا ہے۔ اس لیے قرآن مجید کے ان مقامات میں کہ جن میں اہل علم کا اختلاف ہے، قطعی الدلالۃ ہونے کا دعویٰ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ یہ ممکن نہیں ہے۔

سوال16: لفظ کا معنی کہاں موجود ہوتا ہے؟ لفظ میں یا کہیں اور؟

لفظ کا معنیٰ کہاں موجود ہوتا ہے، یہ لسانیات [linguistics]میں ایک اہم بحث ہے۔ معنی[meaning] کہاں موجود ہوتا ہے؟ خود لفظ [word]میں، لفظ کے سیاق [context] میں یعنی پیراگراف میں، لفظ کے تناظر [perspective] میں یعنی سبب نزول میں، مخاطب کے ذہن [mind] میں یعنی تصور میں، مخاطب کے شعور میں [consciousness]یعنی شعوری سطح میں، مخاطب کے کلچر میں یعنی عرف میں وغیرہ۔

یہ واضح رہے کہ لفظ کا معنی لفظ میں ہی ہوتا ہےاور تفصیل اس میں یہ ہے کہ لفظ اپنے معنی کے لیے بعض اوقات ظرف اور برتن [container]کی مانند ہوتا ہے کہ کل معنی یا اصل معنی لفظ میں ہی ہوتا ہے اور ہمیں لفظ کا معنی معلوم کرنےکے لیے کسی خارجی ذریعے یا قرینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اور بعض اوقات لفظ اپنے معنیٰ کے لیے ایک علامت [sign] کی حیثیت رکھتا ہےکہ وہ اپنے کل معنی یا اصل معنی پر دلالت کا ذریعہ ہوتا ہے جبکہ کل معنی یا اصل معنی کچھ خارجی قرائن کے ساتھ مل کر مکمل ہوتا ہے اور قرآن مجید میں ان قرائن سے مراد سنت، سببِ نزول، لفظ کا سیاق وسباق وغیرہ ہو تے ہیں۔ لیکن یہ کہنا کہ لفظ کا معنیٰ لفظ میں موجود ہوتا ہی نہیں ہے بلکہ مخاطب کے ذہن یا شعور یا سماج میں ہوتا ہے اور وہ جو معنی مراد لے لے تو وہی اس لفظ کا معنی درست ہے تو اس سے گھٹیا اور سطحی بات کوئی نہیں ہے کہ اس صورت میں کسی بھی لفظ کا کوئی بھی معنی ہو سکتا ہے۔ اور پھر صحیح معنوں میں یہی صورت حال ہو گی کہ ؏’کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی‘۔ اور طرفہ تماشہ یہ ہے کہ جو لوگ اس فکر کے داعی ہیں، ان کی اپنی بات بھی اسی اُصول کے تحت دوسروں تک منتقل ہوتی ہے کہ لفظ اور معنی کا تعلق لازم وملزوم کا ہے۔


 

حوالہ جات
[1]    وسُنَنُ رسول الله مع كتاب الله وجهان: أحَدُهما: نص كتاب، فَاتَّبَعَه رسول الله كما أنزل الله، والآخر: جملة، بَيَّنَ رسول الله فيه عن الله معنى ما أراد بالجملة، وأوضح كيف فرَضَها عامَّاً أو خاصاً، وكيف أراد أن يأتي به العباد، وكلاهما اتبع فيه كتاب الله. [الشافعي، محمد بن إدريس، الرسالة، مكتبه الحلبي، مصر، 1940م، ص 90]

[2]   عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: ضَمَّنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَقَالَ: «اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الكِتَابَ» [البخاري]

[3]    أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، يَقُولُ: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ، حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَخْرُجُ مِنْ أَظْفَارِي، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي -يَعْنِي- عُمَرَ» قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «العِلْمَ» [صحيح البخاري، كِتَابُ التَّعْبِيرِ، بَابُ اللَّبَنِ]

[4]    عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَرَأَ عَلَى الْمِنْبَرِ: ﴿وَفَاكِهَةً وَأَبًّا﴾، فَقَالَ: هَذِهِ الْفَاكِهَةُ قَدْ عَرَفْنَاهَا، فَمَا الْأَبُّ؟ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى نَفْسِهِ، فَقَالَ: «لَعَمْرُكَ، إِنَّ هَذَا لهو التكلُّف يا عمر» [التفسير من سنن سعيد بن منصور، دار الصميعي: 1/181]

[5] فَإِنَّما يَسَّرنـٰهُ بِلِسانِكَ لَعَلَّهُم يَتَذَكَّرونَ ﴿٥٨  [الدخان:58]

[6]    سورة البقرة: 234

[7]    سورة الطلاق: 4