اس عنوان کے تحت نہ تو آپﷺکی عبادات کے مکمل احوال بیان کیے جاسکتے ہیں اور نہ روز مرہ کے اذکار ذکر کیے جاسکتے ہیں کیونکہ اس کے لیے بہت سے صفحات درکار ہیں۔ یہاں تو بس آپﷺ کے روزانہ کے معمولات کا ایک سرسری سا خاکہ سامنے رکھنا مقصود ہے کہ آپﷺکون سا کام کس وقت اور کتنے دورانیے میں کیا کرتے تھے جس کے سلسلے میں راقم نے آپ ﷺ کے اقوال وافعال کو پیش نظر رکھا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے:

تہجد کے لیے اُٹھنا

حسبِ ذیل روایات کو سامنے رکھیں تو اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ آپﷺرات کی آخری تہائی سے پہلے بیدار ہو جایا کرتے تھے۔

الف: نبیﷺنے سیدنا داود﷤کے قیام کو اللّٰہ کے ہاں پسندیدہ قرار دیا۔ اور حدیث میں وضاحت ہے کہ وہ رات کا ایک تہائی قیام کرتے تھے۔[1]

ب: نبی مکرّمﷺنے فرمایا ہے کہ جب رات کی آخری تہائی ہوتی ہے تو اللّٰہ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور ... گویا اس حدیث میں اس وقت حالتِ بیداری میں ہونے کی ترغیب ہے اور یہ کیونکر ممکن ہے کہ آپﷺاس وقت آرام کر رہے ہوں۔

ج :سیدنا مسروقکہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہؓ سے پوچھا کہ آپﷺکب (قیام اللیل کے لیے) اُٹھتے تھے؟ وہ فرمانے لگیں: آپﷺاس وقت بیدار ہوتے تھے جب مرغ کی آواز سن لیتے تھے۔[2]

جب آپ اُٹھتے تو وضو کا پانی اور مسواک آپ کے سرہانے کے پاس موجود ہوتے تھے۔[3]

تہجد سے پہلے آپﷺمسواک کر لیا کرتے تھے۔ آپﷺ کا فرمان ہے:

«إذَا قَامَ الرَّجُلُ یَتَوَضَّأُ لَیْلًا أَوْ نَهَارًا فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ وَاسْتَنَّ ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰى أَطَافَ بِهِ الْـمَلَكُ وَدَنَا مِنْهُ حَتّٰی یَضَعَ فَاهُ عَلى فِیْهِ»[4]

’’جب آدمی رات یا دن کو بیدار ہوتا ہے، وہ وضو کرتا ہے اور اچھے انداز سے کرتا ہے اور مسواک کرتا ہے تو فرشتہ اسے گھیر لیتا ہے اور اس کے قریب ہو جاتا ہے حتی کہ اپنا منہ اس کے منہ پر رکھ لیتا ہے ... ‘‘

نمازِ تہجد

رسول اکرمﷺگیارہ رکعات پڑھا کرتے تھے۔ ٹھہر ٹھہر کر سکون اور اطمینان سے پڑھنے میں کم از کم ڈیڑھ سے دو گھنٹے لگتے ہوں گے۔ ہمارے ہاں جو قرائے کرام وتر سمیت رکعات تراویح پڑھاتے ہیں، ان میں سے ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے والے ڈیڑھ سے پونے دو گھنٹے صرف کرتے ہیں۔

اگر ہم پاکستان اور بھارت کی گرمیوں اور سردیوں کی راتوں کو تین حصوں میں تقسیم کریں تو رات کی آخری تہائی سردیوں میں تقریباً 3 بجے اور گرمیوں میں تقریباً 2 بجے شروع ہوجاتی ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ آپﷺہمارے یہاں کے حساب کے مطابق سردیوں میں 3 بجے کے قریب اور گرمیوں میں 2 بجے کے قریب بیدار ہو جایا کرتے تھے۔

نمازِ تہجد کے بعد: نبیﷺتہجدکے بعد اذانِ فجر سے پہلے آرام فرماتے تھے۔ اس کی ایک دلیل تو سیدہ عائشہؓ کی روایت ہے، کہتی ہیں کہ میرے ہاں جب بھی آپﷺکی سحری کا وقت ہوتا تو آپ آرام فرما رہے ہوتے۔ [5]

دوسری دلیل یہ ہے کہ سیدنا داؤد﷤کے قیام کی گزشتہ روایت میں یہ وضاحت ہے کہ وہ رات کا تہائی حصّہ قیام فرماتے اور (آخری) چھٹے حصے میں آرام کرتے۔ اور آپﷺنے اس قیام کو پسندیدہ قرار دیا تھا۔ آپ کا اپنا معمول بھی یہی تھا۔ اسی لیے سیدنا ابن عباسؓ آپ کے معمول کے متعلق بتاتے ہیں: ’’آپﷺنے (تہجد کی) نماز پڑھی اور آرام کیا، پھر مؤذن آپﷺکے پاس آیا تو آپ اُٹھے اور نماز پڑھائی اور آپ نے وضو نہ کیا۔‘‘[6] یہ وہ وقت تھا جس میں آپﷺکے پاس کوئی نہیں آتا تھا۔[7]

سیدنا ابن عباسؓ کی وضاحت بتا رہی ہے کہ اذان ِفجر سے قبل آپﷺکچھ آرام فرماتے تھے۔

نمازِ فجر

اذانِ فجر کے بعد آپ ﷺہلکی سی دو رکعتیں پڑھتے۔ سیدہ عائشہؓ کہتی ہیں کہ یہ رکعتیں اس قدر مختصر ہوتی تھیں کہ میں کہتی :آیا آپ نے سورۂ فاتحہ بھی پڑھی ہے؟ [8]

فجر کی سنتوں میں آپﷺکیا پڑھتے تھے؟ آیئے اس کا جواب اس صحابی کے الفاظ میں پڑھتے ہیں جو مہینہ بھر اس جستجو میں رہے کہ آپﷺفجر کی سنتوں میں کن آیات کی تلاوت کرتے ہیں۔ وہ صحابی ہیں: سیدنا عبداللّٰہ بن عمرؓ۔ وہ کہتے ہیں: آپﷺفجر کی سنتوں میں سورۃ ﴿قُل يـٰأَيُّهَا الكـٰفِرونَ ﴿١ اور سورۃ ﴿قُل هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ﴿١ پڑھتے تھے۔‘‘ [9]

فجر کی سنتوں کے بعد اپنے دائیں پہلو پر لیٹتے تھے۔ [10] سنتوں کے بعد فجر کی نماز پڑھاتے۔ عمومی طور پر (ایک رکعت میں) 60 سے 100 آیات تک تلاوت فرماتے۔ [11]

نماز فجر کے بعد

نماز فجر کے بعد ذکر اذکار فرماتے۔ اور اس کے بعد نبی ﷺصحابہ کرام﷢کو رات دیکھے گئے خوابوں کی تعبیر بھی بتاتے۔ لوگوں سے باقاعدہ پوچھتے: «هَلْ رَأٰی أَحَدٌ مِّنْکُمُ اللَّیْلَةَ رُؤْیَةً» [12]

’’کیا تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے؟

رسول اکرمﷺنے اگر کوئی خواب دیکھا ہوتا تو آپ وہ بھی بیان فرماتے جیسا کہ صحیح بخاری میں آپﷺکا ایک طویل خواب ہے جو نمازِ فجر کے بعد آپ نے بیان کیا تھا۔ اور امام بخاری﷫نے اس پر یہ باب قائم کیا ہے: ’’صبح کی نماز کے بعد خواب کی تعبیر بیان کرنا۔ ‘‘[13]

اگر رات کو کوئی وحی آئی ہوتی تو وہ بھی نمازِ فجر کے بعد ہی لوگوں کو بتاتے۔ جیسا کہ سیدنا کعب بن مالک﷜اور ان کے دو رُفقا: ہلال بن اُمیہ﷜اور مرارہ بن ربیع﷜کی توبہ کی قبولیت کی اطلاع بذریعہ وحی رات کو آگئی تھی۔ سیدہ اُمّ سلمہؓ نے رات ہی کو سیدنا کعب﷜کی طرف خوشخبری بھیجنے کی اجازت چاہی، آپﷺنے اجازت نہ دی بلکہ فجر کے بعد یہ اطلاع دی۔ [14]

نمازِ فجر سے طلوعِ آفتاب کے دورانیے میں آپﷺلوگوں سے محوِ گفتگو بھی ہوتے۔ جیساکہ حدیث میں ہے: سیدنا سماک بن حرب﷫کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر﷜سے پوچھا: کیا آپ رسول اللّٰہﷺکے ساتھ مجلس کیا کرتے تھے؟ وہ کہنے لگے: ہاں، بہت زیادہ۔ آپﷺتو جس جگہ نمازِ فجر پڑھتے تھے، طلوع آفتاب تک وہیں بیٹھے رہتے تھے۔ سورج طلوع ہوتا تو آپﷺوہاں سے اُٹھتے تھے۔ صحابہ کرام﷢ آپ سے باتیں کرتے رہتے، پھر ایامِ جاہلیت کا تذکرہ بھی کرتے اور (ان باتوں) پر ہنستے بھی اور آپﷺمسکرا رہے ہوتے۔ [15]

طلوعِ آفتاب کے بعد اشراق کے نفل

طلوعِ آفتاب کے بعد آپﷺضحیٰ کی نماز پڑھتے۔ یہ 2 تا 8 رکعات ہوتی تھی۔ فتح مکہ کے دن آپﷺنے 8 رکعات پڑھی تھیں۔[16]سیدہ معاذہ نے اُمّ المومنین عائشہ ؓ سے پوچھا کہ آپﷺضحیٰ کی نماز کی کتنی رکعات پڑھتے تھے؟ کہنے لگیں: چار رکعات اور اس سے زیادہ جتنی چاہتے۔ [17]

لگتا ایسے ہے کہ آپﷺنمازِ ضحیٰ مسجد ہی میں ادا فرماتے تھے۔ اس کی ایک دلیل تو سیدہ جویریہؓ کی حدیث ہے جس میں وضاحت گزری ہے کہ آپﷺضحیٰ کی نماز پڑھنے کے بعد ان کے ہاں تشریف لائے۔ [18] دوسری دلیل یہ ہے کہ آپﷺنے نمازِ فجر کے بعد اشراق تک مسجد میں بیٹھنے کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ حدیث ہے:

«مَنْ صَلَّى الْفَجْرَ فِي جَمَاعَةٍ، ثُمَّ قَعَدَ یَذْکُرُ اللهَ حَتّٰى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى رَکْعَتَیْنِ، کَانَتْ لَهُ کَأَجْرِ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ» [19]

’’جس نے جماعت کے ساتھ فجر کی نماز ادا کی، پھر طلوعِ آفتاب تک بیٹھا ذکر اذکار کرتا رہا، پھر اس نے دو رکعات ادا کیں تو اسے ایک حج اور عمرے جتنا ثواب ملتا ہے۔‘‘

پینے کے پانی میں نبیﷺکا ہاتھ مبارک

اس دوران مدینہ منورہ کے رہائشیوں کے خادم اپنے پانی کے برتن وغیرہ لے آتے جن میں پانی بھی ہوتا۔ جو بھی برتن آپﷺکے پاس لایا جاتا ،آپ اس میں اپنا ہاتھ مبارک ڈالتے۔ کبھی سخت سردی میں بھی لایا جاتا تو آپﷺپھر بھی اپنا ہاتھ پانی میں ڈال دیتے۔ [20]

ناشتہ

اس کے بعد ناشتہ کرتے لیکن یہ طلوع آفتاب کے فوری بعد نہیں بلکہ کچھ تاخیر سے ہوتا تھا کیونکہ اگر ضحیٰ کی نماز کے بعد فوری ناشتہ کرنے کی عادت ہوتی تو سیدہ جویریہؓ کو مصلے کی بجائے چولہے کے پاس ہونا چاہیے تھا۔مگر ناشتے میں زیادہ تاخیر بھی نہیں ہوتی تھی کیونکہ سیدہ عائشہؓ کہتی ہیں کہ آپﷺ جب میرے ہاں آتے تو پوچھتے: «هَلْ عِنْدَکُمْ طَعَامٌ؟» ’’تمھارے پاس کھانے کو کچھ ہے؟‘‘ تو جب ہم کہتے: نہیں تو آپﷺ فرماتے: «إِنِّي صَائِمٌ» ’’بے شک میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔‘‘ [21]

ان روایات سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپﷺازواج مطہرات کو اپنی عبادت کا موقع بھی دیتے تھے۔

کہیں آنے جانے کا وقت

اس کے بعد کسی کام سے جانا ہوتا تو چلے جاتے۔ جیسا کہ ایک دن سیدنا عِتبان بن مالک﷜نے آپﷺکو اپنے ہاں آنے کی دعوت دی تو آپﷺنے فرمایا: میں عنقریب ایسا کروں گا۔ اور اگلے دن پہلے پہر آپﷺسیدنا ابوبکر ﷜کے ساتھ اُن کے ہاں پہنچ گئے اور جاتے ہی نماز پڑھائی۔ [22]

میرا استدلال یہاں یہ ہے کہ آنے جانے کا یہ وقت طلوع آفتاب کے بعد تھا کیونکہ اگر یہ وقت طلوعِ آفتاب سے پہلے کا ہوتا تو اس وقت تو نفل نماز پڑھنے کی ممانعت ہے۔ اور اس کی مزید دلیل صحیح بخاری کی اسی حدیث میں امْتَدَّ النَّهَارُ[23] کے الفاظ بھی ہیں جس کے معنی ہیں: ’’دن چڑھ گیا۔‘‘

سیدنا انس﷜غزوہ خیبر کے موقع پر خیبر پہنچنے کا وقت بتاتے ہیں:

"صَبَّحْنَا خَیْبَرَ بُکْرَةً" [24]  ’’ہم صبح سویرے خیبر پہنچ گئے۔‘‘

اسی طرح سیدناانس﷜کہتے ہیں کہ نبیﷺاور انصار و مہاجرین ایک سرد ترین صبح کو خندق کھودنے کے لیے نکلے۔ [25]

احادیث میں آتا ہے کہ نبیﷺنے دن کے ابتدائی حصے میں برکت کی دعا کی تھی[26] چنانچہ آپﷺنے کوئی لشکر روانہ کرنا ہوتا تو دن کے آغاز ہی میں بھیجتے۔ [27] اور خود جانا ہوتا تو بھی اسی وقت جاتے۔اسی طرح آپﷺکے پاس ملاقات کے لیے اکثر لوگ پہلے پہر ہی آتے تھے۔ سیدنا طارق اشجعی﷜کہتے ہیں:

’’ہم ایک صبح نبیﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے تو ایک اور آدمی بھی آیا۔ ایک خاتون بھی آئی۔ وہ آدمی پوچھنے لگا... ‘‘ [28]

بہرحال عہدِ نبویﷺ کا یہ معمول سامنے آتا ہے کہ وہ ناشتے سے لے کر زوال تک کے وقت میں روزانہ کے آنے جانے کے اور ضروری کام نمٹا لیتے تھے۔

نماز ظہر

آپﷺکا معمول نمازوں کو اوّل وقت میں پڑھنے کا تھا۔ اور ظہر کا وقت زوال کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے وقت کے مطابق سردیوں میں 12 بجے کے قریب قریب اور گرمیوں میں ساڑھے بارہ کے قریب نماز پڑھاتے تھے۔ ظہر کی پہلی سنتوں کی آپﷺنے ترغیب دی ہے۔ یقیناً آپ خود بھی پڑھتے تھے۔ اس کے بعد ظہر کی نماز کی امامت فرماتے۔ ظہر کی نماز میں عموماً کتنی تلاوت فرماتے؟ اس سلسلے میں سیدنا ابوسعید خدری﷜کے الفاظ ہماری رہنمائی کرتے ہیں:

’’ہم نے نبیﷺکی ظہر اور عصر کی نماز کا اندازہ لگایا۔ چنانچہ ظہر کی پہلی دو رکعتوں کے قیام کا دورانیہ 30 آیات کی تلاوت کے برابر تھا، یعنی سورۂ الم السجدہ کی تلاوت جتنا اور دوسری دو رکعتوں میں قیام اس کے نصف کے برابر (15 آیات کی تلاوت جتنا) ہوتا تھا۔ اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں قیام ظہر کی آخری دو رکعتوں کے دورانیے( 15آیات کی تلاوت جتنا) ہوتا تھا جبکہ عصر کی آخری دو رکعات پہلی دو رکعات سے آدھی ہوتی تھیں (8،7 آیات کے برابر)۔‘‘ [29]

ہماری تحقیق کے مطابق 30 آیات کی تلاوت میں اندازاً 8 سے 9 منٹ لگتے ہیں، اس طرح ظہر کی پہلی 2 رکعتوں کا دورانیہ 8 سے 9 منٹ اور دوسری 2 رکعتوں کا 4 سے 5 منٹ ہوتا تھا۔ اس طرح ظہر کی نماز تقریباً 15،14 منٹ پر مشتمل ہوتی تھی۔ واللّٰہ اعلم

اور اس کے بعد ذکر اذکار کرکے سنتیں ادا فرماتے۔ اس دوران بھی آپ کے ہاں مختلف وفود آتے۔ غالب طور پر نمازوں کے اوقات میں وفود آتے کہ اس کے بعد آپﷺسے ملاقات ہو جائے گی۔ ایک دوسرا پہلو یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ وفود کی خواہش ہوتی کہ زیادہ سے زیادہ صحابہ سے بھی ملاقات ہو جائے گی۔ جیسا کہ ایک دن ظہر کی نماز پروفد عبدالقیس کی آمد ہوئی اور آپﷺان میں مشغول ہوگئے۔ آپ ﷺکی ظہر کی سنتیں بھی رہ گئیں، پھر آپ نے وہ سنتیں عصر کے بعد سیدہ امّ سلمہؓ کے ہاں ادا کیں۔[30]

قیلولہ

نبی کریمﷺدوپہر کے وقت آرام بھی فرماتے تھے جسے ’قیلولہ‘ کہا جاتا ہے۔ آپﷺکے خادم خاص سیدنا انس بن مالک﷜دوپہر کے آرام کی وضاحت ان الفاظ سے فرماتے ہیں: ’’میں کسی ایک دن آپﷺکی خدمت کرتا رہا ،جب میں نے دیکھا کہ میں آپﷺکی خدمت سے فارغ ہوچکا ہوں۔ میں نے (دل میں) کہا آپﷺقیلولہ فرما لیں، چنانچہ میں وہاں سے چلا آیا۔ وہاں (راستے میں) کچھ بچے کھیل رہے تھے۔ میں وہاں رُک گیا اور ان کا کھیل دیکھنے لگا۔ اتنے میں آپﷺان بچوں کے پاس پہنچ گئے اور انھیں سلام کیا، پھر مجھے بلایا اور مجھے کسی کام سے بھیج دیا... ‘‘ [31]

اس روایت سے قیلولے کے متعلق کچھ باتیں واضح ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ نبیﷺقیلولہ فرمایا کرتے تھے۔ جس کا سیدنا انس بن مالک﷜کو اندازہ تھا اور اُنھوں نے وہ لمحات آپﷺکو فراہم کیے۔ دوسرے یہ کہ قیلولہ گھنٹوں آرام کرنے کا نام نہیں ہے۔ یہ کچھ دیر آرام کرنے کا نام ہے جسے ہم سستانے یا ریلیکس ہونے سے تعبیر کرسکتے ہیں۔

مسند احمد میں اس کی کچھ وضاحت اس طرح ہے: سیدنا انس﷜کہتے ہیں کہ آپﷺنے مجھے کسی کام سے بھیجا اور خود دیوار کے سائے میں تشریف فرما ہوگئے۔[32] اس روایت سے قیلولے کے وقت کی وضاحت ملتی ہے۔ وہ اس طرح کہ آپﷺدیوار کے سائے میں تشریف فرما ہوئے اور دیوار کا اتنا سایہ جس میں بیٹھا جا سکے وہ یا تو دس گیارہ بجے تک ہوتا ہے یا پھر دو تین بجے کے بعد، لہٰذا زیادہ گمان یہی ہے کہ یہ 2،3 بجے کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔ اور سائے میں تشریف فرما ہونا بتا رہا ہے کہ یہ گرمیوں کی ایک دوپہر تھی۔

دراصل قیلولہ دوپہر کے کسی بھی وقت آرام کرنے کا نام ہے۔ آپﷺکو دوپہر کے اوقات میں جب بھی وقت میسر آتا، آپ قیلولہ فرما لیتے۔ حافظ ابن حجر﷫نے موسم گرما میں ہفتے کے 6 دن نمازِ ظہر سے پہلے اور جمعے والے دن جمعے کے بعد آپﷺکے قیلولے کا استدلال کیا ہے۔ جس روایت سے اُنھوں نے استدلال کیا ہے وہ یہ ہے کہ سیدنا ابن عمرؓ روایت کرتے ہیں:

وَکَانَ لاَ یُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتّٰی یَنْصَرِفَ فَیُصَلِّىَ رَکْعَتَیْنِ[33]

’’اور آپﷺجمعے کے بعد (مسجد میں) نماز نہیں پڑھتے تھے بلکہ (گھر) واپس جا کر دو رکعات پڑھتے تھے۔‘‘

حافظ ابن حجر﷫اس روایت کا حوالہ دے کر رقم طراز ہیں:

’’بے شک آپﷺجمعہ جلدی ادا کرتے تھے، اس کے بعد قیلولے کے لیے جاتے تھے۔ لیکن نمازِ ظہر کا معاملہ اس کے برعکس تھا۔ (گرمیوں میں) اسے آپ قدرے ٹھنڈا (تاخیر) کرکے پڑھتے اور قیلولہ اس سے پہلے کر لیا کرتے۔‘‘[34]

نبیﷺکے دوپہر کے آرام کے وقت اور اس کے دورانیے کے اندازے کے بعد اب ہم یہ جانتے ہیں کہ آپﷺقیلولہ اکثر کہاں فرمایا کرتے تھے۔ یہ سعادت دو جلیل القدر صحابیات سیدہ ام سُلیمؓ اور سیدہ اُمّ حرام بنت ملحانؓ کے حصے میں آتی تھی۔امّ سلیم سیدنا انس بن مالک﷢کی والدہ تھیں، اور آپﷺکی رضاعی خالہ تھیں[35] اور سیدہ اُم حرام بنت ملحانؓ ام سلیمؓ کی بہن تھیں، اس لیے یہ بھی آپﷺکی رضاعی خالہ لگیں۔ اس لیے آپﷺان دونوں کے لیے محرم بھی تھے اور ان کے ہاں قیلولہ بھی فرما لیتے تھے۔ سیدہ ام سلیمؓ کے ہاں قیلولہ کرنے کی روایت، انھی کے لخت جگر سیدنا انس﷜ بیان کرتے ہیں: ’’نبی کریمﷺامّ سلیمؓ کے ہاں آیا کرتے تھے اور اُن کے ہاں قیلولہ فرماتے تھے۔ وہ آپﷺکے لیے بستر بچھا دیا کرتی تھیں۔ اسی دوران وہ آپﷺکا مبارک پسینہ بھی (بطورِ خوشبو) شیشی میں بھر لیا کرتیں۔ [36] سیدہ امّ سلیم اور سیدہ ام حرام﷢دونوں ہی ملحان کی بیٹیاں تھیں۔

اکثر طور پر قیلولہ انھی کے ہاں ہوتا تھا۔ مگر جب کبھی آپ وادئ قبا کا رخ فرماتے تو یہ سعادت
امّ حرامؓ کے حصے میں آجاتی۔ یہ روایت بھی ام حرامؓ کے بھانجے سیدنا انس﷜بیان کرتے ہیں:

’’نبیﷺ جب قبا جایا کرتے تھے تو سیدہ امّ حرام بنت ملحانؓ کے ہاں جاتے۔ وہ آپ کے لیے کھانا تیار کرتیں۔ ایک دن جب آپﷺ اُن کے ہاں آئے تو انھوں نے کھانا کھلایا۔ آپﷺ کھانے کے بعد آرام فرمانے لگے۔ پھر بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ سیدہ ام حرامؓ نے عرض کی: اللّٰہ کے رسولﷺ!آپ کی مسکراہٹ کی کیا وجہ ہے؟ آپﷺنے اُس موقع پر اسلامی بحریہ کی بشارت دی... ‘‘ [37]

اسی طرح نبی کریمﷺجب ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچے تو تب بھی آپﷺنے سیدنا ابوایوب انصاری﷜سے کہا: «فَانْطَلِقْ فَهَيِّئْ لَنَا مَقِیلًا»[38]

’’جائیں اور ہمارے دوپہر کے آرام کے لیے کچھ بند و بست کریں۔‘‘

الغرض آپ سفر و حضر میں قیلولہ فرمایا کرتے تھے۔ اور اُمّت کو بھی ان الفاظ سے تلقین فرمائی:

«قِیلُوا فَإِنَّ الشَّیَاطِینَ لَا تَقِیلُ»[39]

’’قیلولہ (دوپہر کا آرام) کیا کرو۔ بے شک شیطان قیلولہ نہیں کرتے۔‘‘

دراصل قیلولے سے انسان ایک دفعہ پھر تازہ دم ہو جاتا ہے۔ اور رات تک کے بقیہ اُمور اچھے انداز سے نباہ سکتا ہے حتی کہ صبح سویرے اُٹھنے کے لیے بھی قیلولہ معاون ثابت ہوتا ہے۔

دوپہر کا کھانا

سیدہ امّ حرامؓ کی مذکورہ روایت میں یہ وضاحت موجود ہے کہ آپﷺجب قبا جاتے تو ام حرامؓ کے ہاں جاتے اور وہ آپ کی خدمت میں کھانا پیش کرتیں اور آپ آرام فرماتے۔ اور یہاں ماضی استمراری کے صیغے ہیں، یعنی ایسا بارہا ہوتا آیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپﷺکے دوپہر کے کھانے کا معمول یہی تھا ۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ ممکن ہے، یہ صبح یا شام کا کھانا ہو مگر ہم کہیں گے کہ شام کے کھانے کے بعد تو نبی کریمﷺعشاء سے پہلے سونے کو ناپسند کرتے تھے۔ [40] دوسرے یہ کہ حدیثِ مذکور کے دوسرے طرق میں وضاحت ہے کہ سیدہ امّ حرامؓ آپﷺکا سر دیکھنے لگیں۔ [41] اور سر دیکھنے کا کام روشنی ہی میں ہوتا ہے۔

اُس دور میں ظاہر ہے کہ رات کو مصنوعی روشنی نہیں ہوتی تھی۔ مگر یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے وہ یہ کہ ہمارے ہاں سر دیکھنا سے مراد جوئیں نکالنا لیا جاتا ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ کبھی ماؤں، خالاؤں یا پھوپھیوں کو اپنے چھوٹوں پر، خواہ وہ لڑکیاں ہوں یا لڑکے، جب پیار آتا ہے تو وہ سر دیکھنا شروع کر دیتی ہیں، اگرچہ سر میں ایسا کچھ نہ ہو۔ اس لیے سیدہ امّ حرامؓ آپﷺکا سر مبارک دیکھتی تھیں تو اسے اسی پر محمول کیا جائے۔ واللّٰہ اعلم

تیسرے یہ کہ احادیثِ مبارکہ میں ہمیں کھانے کے دو اوقات کا تذکرہ ہی ملتا ہے۔ پہلے پہر کے کھانے کو "غَدَاء" اور شام کے کھانے کو "عَشاء" کہا جاتا تھا۔ سیدنا سہل بن سعد﷜کہتے ہیں: "کُنَّا نَقِیلُ وَنَتَغَدّٰى بَعْدَ الْجُمُعَةِ"[42]’ہم جمعے کے روز پہلے پہر کا کھانا اور قیلولہ جمعے کے بعد ہی کرتے تھے۔ ‘‘جمعہ بروقت اور مختصر ہوتا تھا، اس لیے جمعے کو صبح کا کھانا (ناشتہ) جمعے کے بعد کر لیتے۔

پہلے پہر کے کھانے کے متعلق ایک اور روایت بھی ہے۔ ایک دن نبی کریمﷺسیدہ عائشہؓ کے ہاں آئے۔ چولہے پر ہنڈیا اُبل رہی تھی۔ آپﷺنے صبح کا ناشتہ منگوایا تو آپ کی خدمت میں روٹیاں اور (پہلے سے موجود) گھر کا سالن پیش کیا گیا۔ آپ نے فرمایا: «أَلَمْ أَرَ لَحْمًا؟» ’’میں نے گوشت (پکتا) نہیں دیکھا تھا؟‘‘ گھر والوں نے عرض کیا: اللّٰہ کے رسول! بات تو اسی طرح ہے مگر وہ گوشت بریرہؓ کو بطورِ صدقہ دیا گیا تھا تو انھوں نے ہمیں ہدیہ کر دیا ہے۔ فرمایا: «هُوَ صَدَقَةٌ عَلَیْهَا وَهَدِیَّةٌ لَنَا»[43]

’’وہ گوشت اس کے لیے صدقہ تھا جبکہ ہمارے لیے ہدیہ ہے۔‘‘

اس حدیث میں "فَدَعَا بِالْغَدَاءِ" ’’تو آپ نے پہلے دوپہر کا کھانا منگوایا ... ‘‘ ہمارا محل استدلال ہے۔ اور ’الغَداء‘ عربی میں پہلے پہر کے کھانے پر بولا جاتا ہے۔

نمازِ عصر

اس کے بعد عصر کا وقت ہوتا۔ نمازِ عصر سے پہلے چار رکعات کی ترغیب بھی ثابت ہے۔ دعائے نبوی ہے:«رَحِمَ اللهُ امْرَأً صَلَّى قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا»[44]’اللّٰہ اس شخص پر رحم فرمائے جو عصر سے قبل چار رکعات پڑھے۔‘‘ اس سے واضح ہے کہ آپﷺخود بھی یہ نوافل پڑھتے تھے۔ پھر عصر کی نماز پڑھاتے۔ عصر کی نماز کی پہلی دو رکعتیں ظہر کی آخری دو رکعتوں کے برابر ہوتیں۔ اور آخری دو رکعتیں اس سے چھوٹی ہوتیں۔ [45]

ہماری تحقیق کے مطابق نمازِ عصر کا دورانیہ تقریباً 8 سے 9 منٹ ہوتا تھا۔ واللّٰہ اعلم

نماز عصرکے بعد

صحابہ کرام﷢کو کسی ضابطے یا شرعی حکم سے آشنا کرنا ہوتا یا کسی وعظ و نصیحت سے نوازنا ہوتا تو عموماً عصر کے بعد ہی ایسا کرتے۔ اس کے کئی ایک دلائل ہیں:

1.     سیدنا ابوسعید خدری﷜کہتے ہیں، ایک دن آپﷺنے عصر کی نماز پڑھائی پھر خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے۔ اور قیامت تک وقوع پذیر ہونے والے معاملات کا ذکر کیا... [46]

2.     سیدنا ابن عمرؓسے روایت ہے کہ ہم عصر کے بعد نبی کریمﷺکے جلو میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ادھر سامنے قُعَیقِعان پہاڑ پر دھوپ پڑ رہی تھی۔ اس دوران آپﷺنے فرمایا:

«مَا أَعْمَارُکُمْ فِي أَعْمَارِ مَنْ مَضٰى، إِلاَّ کَمَا بَقِيَ مِنَ النَّهَارِ فِیمَا مَضٰی مِنْهُ» [47]

’’تم سے پہلے جو لوگ گزر چکے ہیں، ان کی اور تمھاری عمروں کا یہی تناسب ہے جیسے اب دن کا کچھ حصہ باقی ہے۔‘‘             یعنی تمھاری عمریں سابقہ لوگوں کی نسبت کم ہوں گی۔

3.     فاطمہ بنت اسد مخزومیہؓ، جن سے چوری ہوگئی تھی، سیدنا اسامہ﷜کو اُن کی سفارش کے لیے پیش کیا گیا۔ واقعہ مشہور ہے مگر اس دن جو آپﷺنے اس حوالے سے خطبہ ارشاد فرمایا، وہ بھی پچھلے پہر تھا۔ حدیث میں اس کی وضاحت اس طرح ہے:

فَلَمَّا کَانَ الْعَشِیُّ قَامَ رَسُولُ اللهِ ﷺ خَطِیبًا...«فَإِنَّمَا أَهْلَكَ النَّاسَ قَبْلَکُمْ أنَّهُمْ كَانُوْا إِذَا سَرَقَ فِيْهِمُ الشَّرِيْفُ...» [48]

’’پھر جب پچھلا پہر ہوا، آپﷺخطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا... ‘‘

4.     اسی طرح ایک دفعہ سیدہ عائشہؓ نے سیدہ بریرہؓ سے ان کی آزادی کا معاملہ طے کیا کیونکہ وہ حالتِ غلامی میں تھیں۔ تو ان کے مالکوں نے کچھ ناجائز شرط رکھ دی۔ نبی کریمﷺکے علم میں یہ بات آئی تو آپﷺنے اس بارے میں عمومی ضابطہ بیان فرمانا تھا۔ اس کے لیے آپﷺنے اسی وقت کا انتخاب فرمایا۔ حدیث کے الفاظ ہیں:

... ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ ﷺ مِنَ الْعَشِيِّ فَأَثْنٰی عَلَى اللهِ بِمَا هُوَا أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ: مَا بَالَ النَّاسُ یَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَیْسَ فِي کِتَابِ اللهِ... [49]

’’پھر جب پچھلا پہر ہوا تو نبی کریمﷺ (وعظ کے لیے) کھڑے ہوئے، اللّٰہ کی ثنا بیان کی جو اس کے شایانِ شان ہے، پھر فرمایا: ’’لوگوں کو کیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں رکھتے ہیں جن کی کتاب اللّٰہ میں اجازت نہیں ... ‘‘

بہرحال العَشِیُّ کے لفظ میں عصر سے پہلے اور بعد کے دونوں احتمال موجود ہیں مگر دیگر قرائن عصر کے بعد کا اشارہ کرتے ہیں۔ عصر کے بعد عمومی نوعیت کے خطبوں کی حکمت شاید یہ ہو کہ لوگ کام کاج سے واپس آچکے ہوتے تھے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ سن سکیں۔ واللّٰہ اعلم

گھریلو زندگی

نمازِ عصر کے بعد جس دن کوئی وعظ و تذکیر یا صحابہ کرام کے ساتھ بیٹھنے کا ارادہ نہ ہوتا یا وعظ و تذکیر سے فارغ ہو کر آپﷺعصر کے بعد کے ان لمحات کو گھریلو اور نجی زندگی کے طور پر گزارتے تھے۔ اُمّ المومنین عائشہ صدیقہؓ نجی زندگی کے اس پہلو کو ان الفاظ سے بیان کرتی ہیں:

کَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الْعَصْرِ دَخَلَ عَلى نِسَاءِهِ فَیَدْنُو مِنْ إِحْدَاهُنَّ [50]

’’رسول اللّٰہﷺجب عصر کی نماز سے فارغ ہوتے تو اپنی ازواج کے ہاں جاتے اور ان میں سے کسی ایک کے قریب ہوتے (جن کے ہاں قیام ہوتا)۔‘‘

اس وقت ہر ایک زوجہ محترمہ ؓ کو وقت بھی برابر دیتے۔ اس کی وضاحت مذکورہ حدیث کے ان الفاظ سے ہوتی ہے: ’’تو آپﷺسیدہ حفصہؓ کے ہاں آئے تو آپﷺان کے پاس اس دورانیے سے زیادہ ٹھہرے جتنا آپ ٹھہرا کرتے تھے... ‘‘ [51]

ازواجِ مطہرات کو اندازہ تھا کہ آپﷺایک زوجہ کے ہاں عموماً اتنا ٹھہرتے ہیں، اسی لیے تو وہ کہہ رہی ہیں کہ آپ اس دورانیے سے زیادہ سیدہ حفصہؓ کے ہاں رہے۔ 

جب ازواج کے ہاں عصرکے بعد جاتے تو دو نفل پڑھتے۔ سیدہ عائشہؓ روایت کرتی ہیں:

’’نبی ﷺجب بھی عصر کے بعد میرے ہاں آتے تو دو رکعات ضرور پڑھتے۔‘‘ [52]

کسی کے ذہن میں سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ عصر کے بعد نفل کی ممانعت ہے۔ اس کا جواب ایک تو یہی حدیث ہے، دوسرے یہ کہ عصر کے فوراً بعد یا سورج کے زرد ہونے سے پہلے تک نفل کی اجازت ہے۔ ممانعت غروبِ آفتاب کے قریب وقت کی ہے۔ مزید دلائل کا یہ موقع نہیں۔

ازواج کے ہاں جاکر کیا آپﷺاپنے ہی آپ میں مگن رہتے تھے؟ نہیں بالکل نہیں۔ گھر کے کاموں میں ان کے ساتھ شریک ہو جایا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہؓ سے ان کے شاگرد اَسود﷫پوچھتے ہیں: نبیﷺکی گھر میں کیا مصروفیات ہوتی تھیں؟ سیدہ عائشہؓ جواب دیتی ہیں:

"یَکُونُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ، تَعْنِی خِدْمَةَ أَهْلِهِ" [53]

’’نبی ﷺ گھر والوں کے کام کاج میں مصروف رہتے، یعنی ان کا ہاتھ بٹاتے۔‘‘

اس دوران اپنے کام کاج بھی کر لیتے۔ سیدہ عائشہؓ سے آپﷺکے گھر کی مصروفیات کے متعلق پوچھا گیا تو اُنھوں نے بتایا کہ ’’آپﷺاپنے کپڑے سی لیا کرتے تھے اور اپنے جوتے گانٹھ لیا کرتے تھے اور عام طور پر مرد گھروں میں جو کام کاج کرتے ہیں، وہ بھی کرتے تھے۔ ‘‘[54]

عہدِ نبوی میں مغرب سے پہلے کا یہ وقت عمومی طور پر گھروں میں کھانا پکانے کا ہوتا تھا کیونکہ عرب میں مغرب کے وقت، تھوڑا سا پہلے یا بعد میں شام کا کھانا کھایا جاتا تھا۔ ظاہر ہے اس کی تیاری مغرب سے پہلے ہی ہوتی تھی۔ اسی لیے تو آپﷺنے ایک ہی وقت میں کھانا تیار ہونے اور نمازِ مغرب کا وقت ہو جانے پر کھانے سے آغاز کا حکم فرمایا ہے۔ حدیث میں شام کے کھانے اور نمازِ مغرب کی صراحت ہے۔ الفاظ یہ ہیں: « إِذَا قُدِّمَ الْعَشَاءُ فَابْدَؤُوا بِهِ قَبْلَ أَنْ تُصَلُّوا صَلاَةَ الْـمَغْرب»[55]

’’جب شام کا کھانا پیش کر دیا جائے تو نماز مغرب سے پہلے اسے کھا لیا کرو۔‘‘

نمازِ مغرب

پھر جب اذان سنتے تو (مسجد کی طرف) چل نکلتے۔ [56]سیاق و سباق سے اندازہ ہوتا ہے کہ جس اذان کو سن کر آپ مسجد جایا کرتے تھے، یہ مغرب کی اذان ہوا کرتی تھی۔ کیونکہ باقی نمازوں میں آپﷺ سنتیں گھر میں پڑھا کرتے تھے اور اسی کی ترغیب دیا کرتے تھے۔

پھر مغرب کی نماز پڑھاتے۔ مغرب کی نماز میں عموماً چھوٹی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔ عہدِ صحابہ میں ایک شخص مغرب میں قصارِ مُفصّل (سورۃ البینہ سے الناس تک) کی تلاوت کرتے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ﷜ نے ان کی نماز کو رسول اللّٰہﷺکی نماز کے سب سے زیادہ مشابہ قرار دیا۔ [57]

جبکہ کبھی نمازِ مغرب میں سورۃمرسلات اور سورۂ طور کا پڑھنا بھی ثابت ہے۔ [58]

شام کا کھانا

نمازِ مغرب کے بعد عشاء سے پہلے پہلے آپﷺکھانا تناول فرما لیتے تھے۔ اس کی ایک دلیل عمومی رواج کی ہے کہ تمام لوگ مغرب کے بعد یا پہلے ہی کھانا کھایا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک خاص دلیل بھی ہے: حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں

إِنَّ أَبَا بَکْرٍ تَعَشّٰی عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ ثُمَّ لَبِثَ حَتّٰى صُلِّیَتِ الْعِشَاءُ ... [59]

’’اور بے شک ابوبکر﷜نے نبیﷺکے ہاں سے شام کا کھانا کھایا پھر عشاء کی نماز تک وہاں ہی رہے... ‘‘ اسی طرح آپﷺعشاء سے قبل سونے کو ناپسند کرتے تھے۔

نمازِ عشاء

بعد ازاں نمازِ عشاء پڑھاتے۔ عشاء کی نماز میں آپﷺنے سیدنا معاذ﷜ کو والشّمس اور واللیل اور الاعلیٰ جیسی سورتیں پڑھنے کا کہا تھا۔ [60]اس سے واضح ہوتا ہے کہ آپﷺنماز عشاء میں اس جیسی سورتیں ہی پڑھا کرتے تھے یا اس سے بھی چھوٹی۔ ایک رات آپﷺنے عشاء کی نماز میں سورۃ التّین کی تلاوت فرمائی۔ [61] عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھنے کو پسند فرماتے تھے۔ [62]

سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں: ’’رسول اللّٰہﷺعشاء کی نماز پڑھاتے، پھر اپنے گھر والوں (جن کے پاس قیام کی نوبت ہوتی) کے پاس آتے۔ پھر چار رکعات پڑھتے، پھر اپنے بستر کی طرف جاتے اور (سونے کے اذکار کرکے) سو جاتے۔ وضو کاپانی بھی آپﷺکے سر مبارک کی طرف پاس ہی پڑا ہوتا اور مسواک بھی رکھی ہوتی۔ [63]

نبی کریمﷺعشاء کے بعد باتیں کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ [64]

اپنے شب و روز کے معمولات کے ساتھ آپﷺ ہمیشہ ذکر میں مشغول رہتے۔ حدیث ہے:

کَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ یَذْکُرُ اللهَ عَزَّوَجَلَّ عَلى کُلِّ أَحْیَانِه [65]

’’رسول اللّٰہﷺاپنے تمام اوقات میں اللّٰہ کا ذکر کیا کرتے تھے۔‘‘

یہ تھا آپﷺکے معمولات کا ایک مختصر خاکہ۔ رفتہ رفتہ اسے مزید وسعت دینے کی کوشش جاری رہے گی۔ ان شاء اللّٰہ

محترم قارئین! آپ کے علم میں موضوع سے متعلقہ کوئی بات ہو مجھے آگاہ کریں۔ جزاکم اللّٰہ خیرًا

 

حوالہ جات
[1]     صحیح بخاری: 1131

[2]     صحیح بخاری: 1132

[3]     سنن ابی داؤد : 1346

[4]     الجامع الصغیر: 725 ...صحيح

[5]     صحیح بخاری: 1133

[6]     صحیح بخاری: 726

[7]     صحیح بخاری: 1180

[8]     صحیح بخاری: 1171

[9]     صحیح بخاری: 417

[10]   صحیح بخاری: 1123

[11]   صحیح بخاری: 599

[12]   السلسلۃ الصحیحۃ :1؍ 471، حدیث : 473

[13]   صحیح بخاری: 7047

[14]   صحیح بخاری: 4418

[15]   صحیح مسلم : 2322

[16]   صحیح بخاری: 357

[17]   صحیح مسلم: 719

[18]   صحیح مسلم: 2726

[19]   جامع ترمذی: 586؛ السلسلۃ الصحیحۃ : 3404

[20]   صحیح مسلم : 2324

[21]   سنن ابی داؤد: 2455

[22]   صحیح بخاری: 425

[23]   صحیح بخاری: 1171

[24]   صحیح بخاری: 2834

[25]   صحیح بخاری : 7201

[26]   سنن ابی داؤد: 2606

[27]   سنن ابی داؤد: 2606

[28]   صحیح الادب المفرد : 1؍ 245، 507

[29]   سنن ابی داؤد : 804

[30]   صحیح بخاری: 1233

[31]   صحیح الادب المفرد: 885

[32]   مسند احمد :5؍ 222

[33]   صحیح بخاری: 937

[34]   فتح الباری: 13؍ 78

[35]   فتح الباری :5؍ 93، طبع دارالسلام

[36]   صحیح بخاری: 6281

[37]   صحیح بخاری: 6282

[38]   صحيح بخاری: 3911

[39]   السلسلۃ الصحیحۃ: 1647

[40]   صحیح بخاری: 599

[41]   صحیح بخاری: 2788

[42]   صحیح بخاری: 6279

[43]   صحیح بخاری: 5430

[44]   سنن ابی داؤد: 1271

[45]   سنن ابی داؤد: 804

[46]   صحیح الترغیب والترہیب : 2751

[47]   مسند احمد:2؍ 115

[48]   صحیح بخاری: 4304

[49]   صحیح بخاری: 2155

[50]   صحیح بخاری: 5216

[51]   صحیح بخاری: 5216

[52]   صحیح بخاری: 593

[53]   صحیح بخاری: 676

[54]   صحیح ابن حبان: 5677

[55]   صحيح بخاری: 672

[56]   صحیح بخاری: 5363

[57]   سنن نسائی: 984

[58]   صحیح بخاری: 4429

[59]   صحیح مسلم: 2057

[60]   صحیح مسلم: 1068

[61]   سنن ابن ماجہ: 834

[62]   صحیح بخاری: 599

[63]   سنن ابی داؤد: 1346

[64]   صحیح بخاری: 599

[65]   صحیح مسلم: 852