اسے ذہنی مرعوبیت کہیے ، احساس کمتری سمجھیئے یافیشن کانام دے لیجے ------
بہرحال ہمارے ہاں یہ روِش ایک عرصے سےچل نکلی ہےکہ کوئی مسئلہ ہو،اصطلاح ہو، یاکوئی حوالہ اورجملہ ، جو مغرب سےہمارے ہاں پہنچے،ہم اسےفوراً حرزِ جاں اوروِردِزبان بنالیتے ہیں ۔ اور یوں محسوس کرتے ہیں کہ گویا یہ ایک الہام ہے، جسےنقل کرنا، جس کی پیروی کرنا اورجسے عام کرنا ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔۔۔۔
اس کےباوجود ہم سینہ پھلا کر کہتےہیں کہ ہم آزادہیں ! 47ء کےبعد صرف ہمارے حکمران بدلے ہیں ،اذہان میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ،----

ہمارے بالائی طبقوں اور لٹریری حلقوں کےمزاج ونفسیات پرآج بھی پوری طرح مغرب چھا یا ہواہے۔ ہمارا رولنگ گلاس بین الاقوامی مارکیٹ میں مغربی مفادات کی دلالی ، بالائی طبقہ یورپی فیشن کی نقالی ، اور لٹریری سرکل مغربی خیالات کی جگالی کرتا ہے۔آخری حلقے ، یعنی دانشوروں میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جوفکری طورپراقبال''کی طرح اپنےدینی ورثے، تاریخی اثاثے اورتہذیبی سرمائے پرفخر کرتےہوں۔۔۔۔

ہمارا یہ رویہ بہرحال قابلِ رشک اوراعتماد افزا نہیں ہے!

مغرب نےریاست اورکلیسا کوالگ کیا توہم نےفوراً دین اورسیاست کی جدائی کاراگ اپنانا شروع کردیا ، مغرب نےآزادی نسواں کی بات کی توہم نےبلا توقف اپنے تہذیبی وخاندانی ڈھانچے پر تیشہ چلانا شروع کردیا ، مغرب نےسودی معیشت کوفروغ دیا توہم نےقرآن وحدیث سےایسی معیشت کےحق میں دلائل فراہم کرنے شروع کردئیے ، مغرب نےاخلاق واقدار کےنئے پیمانے گھڑے توہم فی الفور اپنی اخلاقیات کےسانچے توڑنےپرآگئے ، حدیہ کہ الفاظ ومحاورات اور اصطلاحات تک کےلیے ہم مغرب کےذہنی گداگربن گئے ، مثال کےطورپر مشہور فرانسیسی مفکر روسو نےاپنی شہرآفاق کتاب '' سوشل کنٹریکٹ ،، یعنی '' معاہدہ عمرانی ،، میں ایک جملہ لکھا :

'' انسان آزاد پیدا ہوا تھا مگر وہ ہرجگہ زنجیروں میں جکڑ ا ہو ا ہے،،۔

بس یہ فقرہ ہمارے اربابِ دانش اورروشن خیال لوگوں کےلیے ایک الہامی کلام بن گیا، نہ جانے یہ جملہ کتنی بار کہاں نقل کیا گیا ، اسے مجموعہ اقوال زریں میں سرفہرست رکھا گیا ، اس ایک فقرے سےکتنی تحریروں کا آغاز کیا گیا ،اورکتنی تنظیموں نےاسے اپنا '' ماٹو،، قرار دیا ۔ یہ جملہ 1750 ء میں روسو کی زبان اورقلم سےنکلا،لیکن جدید مفکرین کویہ خیال نہ آیا ، کہ اس سے کہیں زیادہ بلیغ ، فصیح اورپراثرجملہ روسو سے تقریباً گیارہ سوسال قبل 641ء کےلگ بھگ امیرالمؤمنین حضرت عمرفاروق نےاس وقت ادا کیا تھا ، جس مصر کےگورنر حضرت عمروبن العاص کےبیٹے نےایک بار ایک قبطی کوبلا وجہ مارا تھا ، تو آپ نےگورنر کےبیٹے کوسرعام کوڑے لگوانے اور ساتھ ہی گورنر کوغضب آلود نگاہوں سےدیکھتے ہوئے فرمایا :

'' متى استعبلتم الناس وقد ولدتهم امهاتهم احرارا ،،

'' تم نےکب سےلوگوں کواپناغلام بنانا شروع کیا ہے جبکہ ان کی ماؤں نےانہیں آزاد جنا تھا ؟ ،،

مجال ہےہمارے''روشن خیال ،، دانشوروں نےکسی بھی جگہ یہ جملہ نقل کیا ہو،بس ہرجگہ روسوکے کےجملے دھوم مچی ہوئی نظر آتی ہے، ہمیں روسو سےکوئی کدورت نہیں لیکن ا س کا یہ جملہ بذاتِ خود حضرت عمر کےارشاد کاچربہ، بلکہ سوفیصد ترجمہ ہے، کوئی انوکھا اور تخلیقی فقرہ نہیں ، یہ مثال محض یہ واضح کرنے کےلیے دی گئی ہےکہ ہم ہرواقعے کومغرب کی آنکھ سےدیکھتے ، ہر خیال کومغرب کےدماغ سےسوچتے، ہرجملے کومغرب کےکان سےسنتے اورہر حرف ولفظ کومغرب کی زبان سےبولتے اورقلم سےنقل کرتےہیں ۔

چنانچہ آج جوپوری دنیا میں بنیادی انسانی حقوق کاچرچا ہے، ہم ان حقو ق کاپہلی بار شعور حاصل کرنے ، پھر اس شعور کوعام کرنے اوران کی بنیادی دستاویز لکھنے اوران کی حفاظت اورنگہبانی کاسارا خراج مغرب کودیتے ہیں ، گویا مغربی تہذیب کےفروغ اورغلبے سےپہلے اس روئے زمین پرنہ کوئی انسان رہتا تھا اور نہ ا س کےکوئی حقوق تھے۔ ہاں ، ان حقوق کےعلم وادراک اورترتیب وشعور توبعد کی بات ہے ۔

اگر ہم ردسو، ہیگل ، کانٹ ، نیٹشے، رسکن ، سپنگلر، فرائڈ وغیرہ کےبھاری بھر کم نام لےکر لوگون پررعب جمانے کی بجائے سنجیدگی اورمتانت سےقرآن حکیم اورسیرتِ نبوی ﷺ کامطالعہ کرتے، تووہ سب کچھ آج ہمارے کاسہ و دماغ اوردامن فکر میں ہوتا جوہم بھیک کےطورپر مغرب سےمانگتے ہوئے نظر آتے ہیں ،،

اصولاً اورعملاً اسلام اوراہل اسلام بنیادی انسانی حقوق کےشروع دن سے نہ صرف علمبردار ، بلکہ محافظ رہےہیں ۔لیکن آج ان حقوق کی جملہ اجارہ داری مغرب کےنام لکھی جا چکی ہے ، اور مغرب اس مسئلے کوہر اس قوم اورملک کےخلاف ہتھیار کےطورپر استعمال کرتا ہے، جہاں اس کے سیاسی اور معاشی مفادات خطرے میں ہوں ۔

اگر کسی جگہ ایسا نہ ہو تواس کےنزدیک کہاں کے انسان ، اورکہاں کےحقوق؟ راوی ہرطرف چین ہی چین لکھتا ہے۔خطہ فلسطین ہویا وادی کشمیر، شیشان کےپہاڑ ہوں یابوسنیا کابرف پوش علاقہ ، وہاں مغرب کانیا چہر ہ سامنے آتا ہے۔

مغرب کےاسی فکری وعملی تضاد کے باعث بنیادی انسانی حقوق کاشور اورچرچا جس قدر بڑھ رہا ہے، ان حقوق کی پامالی بھی اسی رفتار سےروز افزوں ہے۔ اس کا جوہری سبب اس قوت ِ نافذہ کی کمی اورشعور کےنہج کا فقدان ہے، جوانسان کےبنیادی حقوق کی حفاظت یقینی بناسکتا ہے۔

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جس زمانے میں یورپ انسان اورحیوان کےفرق سےنا آشنا تھا،یورپ میں باقاعدہ اکھاڑے لگتے تھےاور زندہ انسانوں پربھوکےدرندے چھوڑے جاتے تھے ، بات بات پرزبان تالوسےکھینچی جاتی تھی ، ہتھوڑوں سےانسانی جبڑے توڑے جاتے تھے، انسانی جسم پرتارکول مل کراسے آگ دکھائی جاتی تھی ، اور انسان کوسزا کےطورپر برف زاروں میں منجمد کردیا جاتا تھا ، اسی زمامنے میں اسلام نےبنیادی انسانی حقوق کانہ صرف تصور دیا ، بلکہ اسے ایک الٰہی اورالہامی ضابطے کےطورپر پیش کیا ، اورپہلی بار رعایا اورحاکم کےبنیادی حقوق کےدرمیان فرق کوعملاً منسوخ کردیا ۔ ( وَلَقَد کَرَّمنَا بَنیِ آدَم َ ) ( اوربلاشبہ ہم نے انسان کوتکریم بخشی ) نیز ﴿ لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ﴾(بے شک ہم نے انسان کو بہترین قالب میں ڈھالا ، جیسے انقلابی اورانسانیت نواز افکار سےروشناس کرایا ۔

مغرب کےہاں بنیادی انسانی حقوق کاسارے کاسارا سرمایہ اورماخذ وسر چشمہ کنگ جان کاوہ '' میگنا کارٹا ،، ہے، جسے والٹیر نے حالات کےخاص پس منظر میں '' منشورآذادی،،قرار دیا ۔ اورواقعہ یہ ہےکہ جوکچھ عہدِ تاریک میں برطانیہ ، فرانس ،جرمنی وغیرہ مغربی ممالک میں انسانوں کےساتھ سیاسی وسماجی اورمعاشی سلوک ہوتا رہا اس اعتبار سےاس '' میگنا کارٹا ، ، کےبہت بڑی اہمیت ہے، اوراہل اسلام اس کے قطعاً منکر نہیں - !

اگرچہ '' میگنا کارٹا ،، کےمندرجات میں عوام کےحقوق کاواضح شعور اورتحفظ موجود نہیں ۔،

بلکہ اس دستاویز کی حیثیت دراصل یورپی امراء ( Barons ) اوربادشاہ کےدرمیان ایک بقائے باہمی کےمعاہدے کی ہے، پھر بھی حبس کےماحول میں اسے بادِ بہاری کاجھونکا نہ سہی، لُو کا تھپیڑا قرار دیا جا سکتا ہے، جس سے گھٹن میں ، خاصی کمی آئی۔یہ میگنا کارٹا 1215ء کوجاری ہوا ، اس کےبعد اہل مغرب نےبڑے وقفے کےبعد ایک سماجی زقند لگائی اورٹا پین ( Tom Paine ) نےایک پمفلٹ ( حقوق انسانی) کےنام سے شائع کیا ۔ اس پمفلٹ نےبہرحال مغربی دنیا کےجمود زدہ ماحول میں زبردست اورتعاش پیدا کیا ، یہ 1737ء سے 1809ء کےدرمیانی عرصےکی بات ہے۔

اگلے مرحلے میں انقلابِ فرانس کےبطن سےانسانی حقوق کاشعور جنم لیتا ہےاورمنشورِ حقوق انسانی ، ، نام کی دستاویز 1789ء میں اشاعت پذیر ہوتی ہے۔ اس دستاویز کی ترتیب کی محرک روسو کا '' معاہدہ عمرانی، ، بنا ، جس کےذریعے حقوق انسانی کاشعور نسبتاً زیادہ واضح شکل میں سامنے آیا! ۔

سماجی تاریخ نےاپنا سفر جاری رکھتے ہوئے بالآخر 1948ء میں وہ چارٹر دنیا کودیا ، جسے آج حقوقِ انسانی کی مستند ، مفصل ، جامع اورواضح دستاویز کادرجہ حاصل ہے۔ یہ دستاویز اقوام متحدہ کےذریعے سامنے آئی ، بلاشبہ یہ دستاویز بہت اہم اور دوررَس ہے،اور عصر حاضر میں بنیادی انسانی حقوق اجاگر کرنے میں اس کامثبت کردار ہے۔

یہ دستاویز تین دفعات پرمشتمل ہے۔ یہاں مقصود ہردفعہ کی تنقیح اورتائید وتردید نہیں، تاہم قال ذکر نکات یہ ہیں :

٭ ہرانسان کاوقار وحقوق میں مساوی حیثیت کاحامل ہونا ۔

٭ نسل ، رنگ ، زبان ، وطن ، جنس اورمذہب کےحوالے سےہرنوع کےامتیازی کی نفی ۔

٭ غلامی کاخاتمہ ۔

٭ زندہ اورآزاد رہنے کاحق ۔

٭ قانون کی نظر میں مساوات ۔

٭ نجی اورگھریلو زندگی کی ضمانت ۔

٭ حصول شہریت کا حق ۔

٭ عائلی زندگی کی آزادی ۔

٭ جائیداد کاتحفظ ۔

٭ اظہار ِ رائے اورعقیدے کی آزادی ۔

٭ اجتماع اورتنظیم کاحق ۔

٭ ثبوتِ جرم کےبغیر سزا کی نفی ۔

٭ نقل مکانی کی اجازت ۔

٭ ٹریڈ یونین ازم وغیرہ ۔

اس قدر جامع اورمفصل دستاویز اوراس پردرجنوں ممالک کےدستخط ہونے کےباوجود برسوں کامشاہدہ یہ بتایا ہےکہ اقوام متحدہ کاچارٹر وہ مقاصد حاصل نہیں کرسکا، جواسے مطلوب تھے !، اس کےکیا اسباب ہیں ؟ یہ ہم آگے چل کر بتائیں گے اس موقع پرایک نظراسلام عطا کردہ بنیادی انسانی حقوق پرڈالی جائے ، آج جس اسلام کوسب سےزیادہ''رجعت پسند ،، اور'' جنگ جو،، ثابت کیا جارہا ہےکہ ، اس اسلام اورپیغمبر اسلام ﷺ اورصحیفہ اسلام ( قرآن مجید ) نےسب سےپہلے بڑی صراحت سے اوروضاحت کےساتھ ان حقوق کاذکر کیا ۔ ان کا جامع تصور دیا ، اورانہیں نافذ کرکے دکھایا ۔ !

یہ بات ذہن میں رہےکہ یہ حق اس وقت دنیا کو عطا ہوئے ، جب یورپ تومکمل اندھیرے میں تھا ہی ، ایران وروم جیسی روشن خیال ریاستیں بھی ان حقوق سےناآشنا محض تھیں ۔ بلکہ ان کےہاں انسان مستقل طورپر تین خانوں میں بٹے ہوئے تھے : اعلیٰ، اوسط اورادنیٰ ! اعلی درجے کے لوگ شاہی خاندان کےافراد تھے، متوسط طبقہ امراء کا تھا ، اور ادنیٰ مخلوق کانام رعایا تھا ! شاہی خاندان خدائی تخفظات رکھتا تھا ، امراء کےلیے بےپناہ مراعات تھیں ، اور رعایا کے مقسوم میں کوڑے تھے یا رسوائی ، توہین ، ذلت ، غلامی او رتغزیر !

اسلام کےدیئے ہوئے بنیادی انسانی حقوق کا تصور اورخاکہ قرآن وسنت دونوں میں موجود ہے، ان دونوں سرچشموں میں اتنی صراحت اورتفصیل ہےکہ جب ہم واقوام متحدہ کاچارٹر پڑھتے ہیں ، تووہ قرآن وحدیث کاترجمہ معلوم ہوتا ہے۔ یااگر کوئی اسے زیادہ ہی '' مذہبی عقیدت ،، اور'' دینی جوش ،، کانام دے، توکم از کم ادبی زبان میں اسے''توارد،، ضرور کہا جاسکتا ہےیعنی ایک ہی خیال کا وہ مختلف مصادر ہےابھرنا ۔

ویسے بھی یہ کیوں کرممکن ہےکہ اسلام ایک منظم ریاست تشکیل دے، عدل وتقویٰ پراسے استوار کرے، اوراجتماعی فلاح کےحوالے سےاپنا نظام چلائے اورپھر انسان کےبنیادی حقوق سے صرفِ نظر کرے ؟ چنانچہ اسلام نےایسا نہیں کیا ! بہت سی تفصیلات سےگریز کرتےہوئے ہم ان بنیادی حقوق کا تذکرہ کرتےہیں جوقرآن مجید میں مو جود ہیں اور نصِ قطعی کادرجہ رکھتے ہیں ۔پھر جن آیات میں ان حقوق کا ذکر ہے، کسی مفسر کےاستنباط کانتیجہ نہیں ، بلکہ صریحاً وہ حقوق موجود ہیں جن کاتحفظ مطلوب ہے۔ رازی و زمخشری کودرمیان میں لائے بغیر ہروہ شخص جومخض قرآن مجید کوناظرہ پڑھ اور اس کا ترجمہ دیکھ سکتا ہے، خود ہی اس نتیجے پر پہنچے گا کہ یہ آیات محض وعظ وتلقین اور حصولِ ثواب کےلیے نہیں اتریں ، بلکہ ان کا ماحصل اورمدعا انسان کواس کےبنیادی حقوق سےآگاہ کرنا اورریاست کوان حقوق کی ادائیگی کاپابند بنانا ہے۔

تحفظِ جان

'' جس نےکسی انسان کو خون کےبدلے ( یعنی قصاص ) یا زمین میں فساد پھیلانے کےسوا کسی اوروجہ سے قتل کیا ، اس نےگویا تمام انسانوں کوقتل کیا ۔اور جس نے کسی کی جان بچائی ، اس نے گویا تمام انسانوں کی زندگی بچالی،،۔ ( المائدہ : 32 )

علاوہ ازیں بھی قرآن مجید میں بہت سی ایسی آیات موجود ہیں ، جن میں قتل وہلاکت کی ہر شکل کوناجائز قرار دیا گیا ۔!

تحفظ ملکیت

'' اورتم باطل طریقے سے ایک دوسرے کا مال نہ کھاؤ ،، (البقرہ : 188 )

تحفظ ِ ناموس

'' اے نبی ﷺ ، مومن مردوں سے کہیے کہ اپنی نظریں بچا کررکھیں اوراپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ۔اور مومن عورتوں سےکہہ دیجئے کہ وہ اپنی نظریں بچاکر رکھیں اوراپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ،، (النور : 30، 31 )

تحفظِ چہاردیواری

'' اےلوگو! جوایمان لائے ہو اپنے گھروں کےسوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہواکرو ، جب تک کہ گھروالوں کی رضانہ لے لو اور گھروالوں پرسلام نہ بھیج لو،،۔( النور : 27 )

شخصی آزادی

'' کسی کویہ زیب نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ تواس کوکتاب اورحکم اورنبوت عطافرمائےاوروہ لوگوں سےیہ کہے کہ اللہ کےبجائے تم میرے غلام بن جاؤ ،، ۔ ( آل عمران: 79 )

تحفظِ عقیدہ وضمیر

'' دین کےمعاملے مین کوئی جبر نہیں ، صحیح اورغلط کی چھانٹی کردی گئی ہے ۔،، (البقرہ :254 )

حقِ مساوات

'' اے لوگو ! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اورتمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں ، تاکہ تم ایک دوسرے کوپہچانو ----- اللہ کے نزدیک معزز صرف پرہیز گار ہیں ۔،، ( الحجرات : 13 )

حصولِ انصاف

'' اورمجھے حکم دیا گیا ہےکہ میں تمہارے درمیان عدل قائم کروں ۔،، (الشوریٰ :15 )

تحفظِ حاصل محنت

'' انسان کےلیے کچھ نہیں ، مگر وہ جس کی اس نےسعی کی ۔،، ( النجم : 39 )

سیاسی زندگی میں شرکت کاحق

''اور مسلمانوں کاکام آپس میں مشورے سے چلنا ہے۔ ، ، ( الشوریٰ : 38 )

تنظیم واجتماع کاحق

'' تم میں ایک گروہ ضرور ایسا ہونا چاہیے جونیکی کی طرف بلائے ، بھلائی کا حکم دے اوربرائی سے روکے ،، ( آل عمران: 104 )

کفالت کاحق

'' اوران کےمال میں سائل اور محروم کاایک حق مقرر ہے، ، ( الزاریات : 19 )

آزادی تقریر وتحریر

'' اگرتم نےلگی لپٹی بات کہی یا سچائی سےپہلو بچایا ، توجان لوجوکہ کچھ تم کرتے ہو، اللہ کواس کی خبر ہے،، ( النساء : 135 )

ثبوت کے بغیر مؤاخذے سےتحفظ کا حق

''بدگمانی کرنے سے بچو ، بعض گمان بجائے خود گناہ ہیں اور خواہ مخواہ تجسس نہ کرو۔ ،،(الحجرات : 49 )

مذہبی ودل آزادی سے تحفظ

'' ان کو بُرا بھلا نہ کہو ، جنہیں یہ لوگ اللہ کےسوا پگارتے ہیں ۔ پس وہ جہالت کےباعث اللہ کو برا بھلا کہیں گے ۔،، ( الانعام : 109 )

ان تصریحات کےبعد یہ کہنے کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہےکہ الہامی مذاہب پوجاپاٹ ، رسوم وشعائر اورعبادت وریاضت کےطریقے بتاتے ہیں ، جبکہ امورِ دنیا کی ادائیگی کےلیے انسان خود ہی ضابطہ کارطے کریں ۔ نیز مذہب اللہ اوربندے کے درمیان پرائیویٹ تعلق کانا م ہے، اس کا معاشرتی زندگی ، امور ریاست اورسیاست سےکیا واسطہ ؟ ،،

مغرب نےانسانی حقوق کےحوالے سے جتنا بھی سفر کیا ہے، وہ اس لیے رائیگاھ جارہا ہےکہ اس نے انسان کےحقوق واضح توکردیے ، مگر انہیں دوسروں پرعائد اورنافذ کون کرے ؟

یہاں ایک بہت بڑا خلا ہے، جسے کم از کم موجودہ سیکولر اورخود سَر مغرب پورا نہیں کرسکتا ۔

وہ یہ کہ انسان کبھی اپنے جیسے انسان کےحقوق کی نگہبانی نہیں کرسکتا ، اس لیے کہ قدم قدم پرانسانی مفادات ٹکراتے ہیں ------ غلاموں کےجومفادات اورحقوق ہیں ، وہ آقاؤں کےخلاف جاتے ہیں ، آقا کیوں کران کالحاظ کرے گا ؟ نسلی تفاخر میں مبتلا قومیں کیسے دوسری قوموں کےبنیادی حقوق کی پاسداری کرسکتی ہیں ؟ ------- مغرب والے ، جنہوں نے صدہا سال تکہ اہل مشرق کوغلام بنائے رکھا ، وہ انہیں بنیادی حقوق کس خوشی میں دیں گے ؟ ------- سرمایہ دار اسی طرح اپنے مزدور اور جاگیردار اپنے مزارع کےبنیادی حقوق کس طرح تسلیم کرسکتا ہے ۔ ؟

ان بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت صرف وہ دین ، مذہب یاضابطہ حیات دے سکتا ہے،جواپنے پیروکاروں کی جماعت ان خطوط پراستوار کرتا ہےکہ ا س زندگی کےبعد ایک دوسری زندگی بھی ہے۔ اور آنے والی زندگی میں موجودہ زندگی کےہرعمل کاحساب لیا جائے گا --------- انسان اپنی حیات اورموت کامالک ومختار نہیں ، بلکہ اس کی زندگی اورموت ایک برترہستی یعنی اللہ تعالیٰ کےقبضہ قدرت میں ہے ! اللہ نےانسان کوایک ہی قالب میں ڈھالا لہذا نسل ، وطن، رنگ ، زبان جیسے اعتبارات بے معنی ہیں ------- چنانچہ کوئی انسان دوسرے انسان کاحاکم ، مولا ، کارساز ، رازق ، خالق، مالک نہیں ، سبھی انسان اللہ کےبندے ہیں ---------- اسلام نے یہی تصورِ حیات اپنے ماننے والوں کوعطا کیا ، چنانچہ جب اس نےبنیادی انسانی حقوق کاچارٹر مرتب کیا ، تو یہ چارٹر فرد کافرد کے درمیان ،یاریاست کا امراء کےدرمیان ، یا حکومت کا رعایا کے درمیان ، اور مختلف حکومتوں ، ملکوں اورقوموں کا دوسری حکومتوں کےدرمیان معاہدہ ، نہیں بلکہ یہ الہیٰ حقوق ہیں جن پرعمل کرنا ہرانسان پرواجب ہے-------- اس میں کسی شاہ وگدا کی اور پیغمبر و امتی کی تخصیص نہیں ، اس تصورِ حقوق کےپس منظر میں صاف نظرآتا ہےکہ انسان اپنے جیسے انسان کےبنیادی حقوق کوتسلیم اورادا نہیں کررہا ہوتا ، بلکہ وہ اللہ کےوہ حقوق پورے کررہا ہوتا ہے، جواللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے ہربندے پرعائد کیے گئے ہیں ۔

لیکن وہ معاشرہ جواپنے امور زندگی میں خود مختاری کےشوق میں مبتلا ہو، جیسا کہ مغرب ہے، وہاں اوراس کی سفارشات کی بنا پردوسرے معاشروں میں انسان کےبنیادی حقوق کاغذوں میں تو محفوظ رہ سکتے ہیں، کارگاہِ عمل میں ہرگز نہیں --------- اوراسی کانتیجہ آج ہم دیکھ رہے ہیں اہل مغرب اورمغرب کے' ' فکری مرید،، یہ کہتے ہیں کہ جب کوئی بات یورپ سےاٹھتی ہےاس وقت اسلامی دانشوروں اورعلماء کویاد آتا ہےکہ قرآن میں تویہ بات پہلے آ چکی ہے--------- اسلام تو ا س کے بارے میں یہ ہدایت پہلے دے چگا ہے، اورسنت میں تواس کا ذکر پہلے سے موجود ہے۔ یہ اعتراض کسی حد تک درست ہے، لیکن اتنا بھی نہیں کہ شرم کےمارے سرجھکالیا جائے----!

بات یہ ہےکہ اہل اسلام مغرب کوپڑھا لکھا سمجھتے ہیں اور اس کی دیانت وامانت کےچرچے سے متاثر ہوتےہیں ۔ وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ مغرب اسلامی تعلیمات ، قرآنی احکام ، اوردینی لٹریچرسے اتنا ناہلد نہیں ہوگا ، وہ یہ نہیں کرے گا کہ ایک بات واضح اور ظاہر ہے، پھر بھی ڈنڈی مارنے سےکام لے ------- لیکن جب مغرب اوراس کےذہنی غلاموں کی تان اس پرآگر ٹوٹتی ہےکہ مذہب چلا ہوا کارتوس ہے، دین از کارِ رفتہ چیز ہے، اسلام کوعصر حاضر کےمطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے، زندگی کےتمام شعبوں میں مغرب سےرہنمائی حاصل کرنی چاہیے وغیرہ توپھر ضرورت پیش آجاتی ہےکہ ہر قدم پر انہیں بتلایا جائے کہ یہ بات جو تم کررہےہو، کوئی نئی اور انوکھی نہیں،بلکہ جگالی کررہے ہو ! یہ سب کچھ صدیوں پہلے ہوچکا ہے، یاتو تمہیں پتہ اب چلا ہے، یاپھر کتمانِ حق کا مظاہرہ کرتے ہو!

اوپر جن آیات کاحوالہ دیا گیا ہے ،ظاہرہے وہ سبھی قرآن مجید میں موجود ہیں ، کسی اسلامی مفکر اوردینی عالم نےآج یا اس سے کچھ عرصہ پہلے قرآن مجید میں داخل نہیں کیں ،------- لیکن آج جواقوام متحدہ کےچارٹر کوآسمانی صحیفہ اورالہامی دستاویز قرار دے کرپوری دنیا کوسرپراٹھالیا گیا ہے، توایسے موقع پرصورت ِ واقعہ کوواضح کرنا ضروری ہوتا جاتا ہے ۔ ان آیات کےعلاوہ حضور ﷺ کا خطبہ حجۃ الوداع بنیادی انسانی حقوق کےحوالے سےحرفِ آخر کادرجہ رکھتا ہے، اب قیامت تک کوئی فلاسفر اورمفکر اس کی تشریح توکر سکتا ہے، اس میں اضافہ ہرگز نہیں کرسکے گا ۔ !

آج مغرب کوجس دانش پربڑا ناز ہےاور دانش کی اس ترنگ میں وہ ارادہ وشعور بخشنے والے خدا کوبھی بھول بیٹھا ہے، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اس کاصدیوں کا اجتماع شعور اب بھی ا س امر کا محتاج ہےکہ وہ نبوت کےنور سےاَخذ فیض کرے ------ تبھی جوہرِ آدمیت کوآب ، اورشعور انسانیت کوتاب نصیب ہوگی ۔