ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

  • اکتوبر
1998
خورشید احمد
اسے ذہنی مرعوبیت کہیے ، احساس کمتری سمجھیئے یافیشن کانام دے لیجے ------
بہرحال ہمارے ہاں یہ روِش ایک عرصے سےچل نکلی ہےکہ کوئی مسئلہ ہو،اصطلاح ہو، یاکوئی حوالہ اورجملہ ، جو مغرب سےہمارے ہاں پہنچے،ہم اسےفوراً حرزِ جاں اوروِردِزبان بنالیتے ہیں ۔ اور یوں محسوس کرتے ہیں کہ گویا یہ ایک الہام ہے، جسےنقل کرنا، جس کی پیروی کرنا اورجسے عام کرنا ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔۔۔۔
اس کےباوجود ہم سینہ پھلا کر کہتےہیں کہ ہم آزادہیں ! 47ء کےبعد صرف ہمارے حکمران بدلے ہیں ،اذہان میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ،----
  • اکتوبر
1998
عطاء اللہ صدیقی
گذشتہ دنوں ادارہ تحقیقات ِ اسلامی کےزیرِ اہمتام '' مسلمانوں کےبارے میں مغرب کاتصور اورمغرب کےبارے میں مسلمانوں کاتصور، ، کےعنوان پر سےمنعقدہ سیمینار میں وزیرِ اعظم پاکستان میاں نواز شریف نےخطاب کرتےہوئےکہا کہ اسلام کےسیاسی فلسفہ کی بنیاد جمہوریت ک‎پر مبنی ہے۔ انہوں نےواضح کیاکہ'' اسلام کےخلاف نظریاتی تنازعہ مکمل طورپر غیرضروری ہ ے۔وہ لوگ جواسلام کی مغرب کادشمن سمجھتےہیں اورمغرب اوراسلام میں جنگ دیکھتے ہیں وہ ایک محدود تاریخی پس منظر رکھتےہیں ۔ انہوں نےکہا کہ اسلامی بنیادپرستی کومغرب نےبڑھا چڑھا کر پیش کیااور اسے شکست دینے پرزور دیا ، اسلام کی بنیاد پرستی پرمسلمانوں کوفخر ہے۔ وہ بنیادیں یہ ہیں : توحید ، رسالت ، نماز، روزہ ، زکوۃ ، اورحج ، ان پرعمل کرکےبہت سے مسلمان اپنے آ پ کو سچا مسلمان گردانتے ہیں ، کیا یہ بنیاد پرستی ہے؟ ہرگز نہیں ! انہوں نےکہا کہ بنیاد پرستی (فنڈا میشلزم ) کی اصطلاح عیسائیت سےآئی ہےلیکن اسے اسلام پرتھوپ دیا گیا ،، - ( روزنامہ جنگ ،،لاہور 70۔اکتوبر 1997ء )
  • اکتوبر
1998
غازی عزیر
قرآن وسنت ، شریعت کے دو بنیادی مآخذ ہیں۔ دین کی اساس انہی دو چیزوں پر قائم ہے اگرچہ حکم الٰہی ہونے کے اعتبار سے دونوں بجائے خود ایک ہی شے ہیں ،لیکن کیفیت وحالت کے اعتبار سے جدا ہیں ، مگر اس کے بادجود ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا ۔ دونوں چیزیں دین کے قیام کے لیے یکساں طور پر ضروری اور اہم ہیں ۔ ان کے درمیان ردح اور قالب جیسا تعلق ہے افاداتِ فراہی کے ترجمان جناب خالد مسعود اپنے ایک مضمون ''احکام رسول کا قرآن مجید سے استنباط'' کے زیر عنوان لکھتے ہیں:

''یہ ایک مسلمہ امر ہے جس میں کوئی مسلمان شک نہیں کر سکتا کہ نبی ﷺ کے ارشادات شریعت کے احکام کی ایک مستقل بنیاد ہیں خواہ قرآن سے مستنبط ہوں یا نہ ہوں ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ حضوؐر کے دیئے ہوئے احکام کتابِ الٰہی ہی سے مستنبط ہوتے تھے جیسا کہ متعدد احکام کے ضمن میں خود آپ نے تصریح فرمائی اور قرآن میں بھی ا س پر نصوص موجود ہیں''
  • اکتوبر
1998
ادارہ
28 اگست 1998کوموجودہ حکومت نےنفاذِ شریعت کےحوالہ سے آئین میں پندرہویں ترمیم کاایک بل پیش کیا ہے جس میں شریعت کوسپریم لاء قرار دینےکااعلان ہے۔
اس بل میں جوتجویز یادعویٰ کیاگیا ہے، یہ وہی ہےجس کاوعدہ تحریک پاکستان میں کیاگیا،پھرقیا پاکستان کےبعد کیا گیا اوراب تک کیا جاتارہا ہے۔جب واقعہ یہ ہےکہ شریعت کی عملداری پاکستان کےقیام کی محرک تھی اوربانی پاکستان سےلےکرہرحکمران نےا س کاوعدہ بھی کیا۔خود میاں نواز شریف صاحب نےیہ وعدہ متعدد مواقع پرکیا۔ توپھر اس مقصد کےلیے پیش کی گئی پندرہویں ترمیم کی مخالفت اپنوں اوربیگانوں کی طرف سےکیوں کی جارہی ہے؟ اپنوں سےمراد وہ دینی جماعتیں اورمذہبی حلقے ہیں جن کی سیاست اورسرگرمیوں کامقصد ومحور ہی شریعت کی بالا دستی ہےلیکن ان کی اکثریت بھی حکومت کےپیش کردہ بل سےمتعلق ذہنی تحفظات کاشکار ہے۔اور بیگانوں سےمراد وہ لوگ ہیں جواس ملک میں شریعت اسلامیہ کی بجائے سکولرازم ، اباحیت اورزندقہ کےعلم بردارہیں ۔ان لوگوں کےمقاصد وعزائم اگرچہ ڈھکے چھپے نہیں رہےہیں تاہم یہ بھی حقیقت ہےکہ واضح الفاظ میں ان لوگوں کواس سےپہلے شریعت کی بالادستی کےخلاف اس طرح لب کشائی کی جراءت نہیں ہوئی تھی ۔یہ پہلا موقعہ ہےکہ ایسے لوگ اس شریعت بل کےخلاف متحد ہوگئے ہیں اوراس کےخلاف تحریک چلانے کےعزم کااظہار کررہےہیں۔آخرایسا کیوں ہے؟