عربی زبان اوراس کےادب کاگہرا مطالعہ کرنےسے یہ بات کھل کرواضح ہوجاتی ہےکہ اس زبان وادب پراللہ تعالیٰ کی خاص عنایت رہی ہے،اللہ تعالیٰ جب کسی انسان کونبوت کےلیے منتخب کرتاہےتواسےخاص انداز اورخاص ماحول میں پروان چڑھاتاہے، اسی طرح جب اس نےعربی زبان کواپنے آخری پیغام ہدایت کےلیے انتخاب فرمایا تواس کوابتداء سےہی ایک خاص انداز سے اپنی نگرانی اورحفاظت میں پروان چڑھایا چنانچہ عرب قوم عصر جاہلیت سےہی اس زبان کااہتمام کرتی آئی ہے،ظہور اسلام کےبعد توا س میں اوربھی اضافہ ہوگیا ،کیونکہ عربی زبان ، اللہ کاکلام،اوراس کےآخری رسول کی زبان قرار پائی ۔حضرت نبی اطرہﷺنےفرمایا:''أحبواالعرب لثلاث لانى عربى والقرآن عربى وكلام اهل الجنة عربى اوكماقال النبى صلى الله وسلم ،،
''عربوں سےتین باتوں کی بناء پرمحبت کرو: کیونکہ کہ میں عربی ہوں ، قرآن کی زبان عربی ہےاوراہل جنت کی زبان عربی ہے،،۔

حضرت رسول اللہ ﷺ سےایسے ایسے الفاظ بھی مروی ہیں کہ عظیم ماہرلسان صحابہ کوبھی بعض اوقات ان کےمعانی معلوم کرنے کےلیے آپ سےپوچھنا پڑتا،زبان دانی اورلغوی مہارت اس دور میں ایک قابل فخر کارنامہ تھی ، چنانچہ آنحضرتﷺکافرمان ذی شان ہے:

'' انا افصح العرب ، بيدأنى من قريش ونشأت فى بن سعد بن بكر،،

'' میں عربوں میں سب سےزیادہ فصیح ہوں تاہم میں قریشی ہوں اورمیری نشوونما قبیلہ سعد بن بکرمیں ہوئی ہے،، ۔

عہد نبوت اورخلافت راشدہ میں قرآنی الفاظ کی تفسیر اورغریب الحدیث کی شرح اورتوضیح کی بلاشہ اشد ضرورت تھی ، لیکن وہاں ایسے عربی لغت دان موجود تھے،جن سے یہ ضرورت پوری ہوجاتی تھی،مثلا خلفاءاربعہ ، زید بن ثابت، اُبی بن کعب،عبداللہ بن مسعود ، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس ، معاذ بن جبل ، ابوالدرداء ، اورنامور اسلامی شعراء مثلا حسان بن ثابت، عبداللہ بن رواحہ ، کعب بن زہیروغیرھم رضی اللہ عنہم اجمعین

حضرت عبداللہ بن عباس سےمروی ہے:

الشعراء دیوان العرب۔۔۔۔۔ الخ

'' شعر عربوں کادیوان ہے۔جب قرآن کےکسی لفظ کامفہوم ہمیں معلوم نہ ہوتاہم اشعار کی طرف رجوع کرتے، جب قرآن کی کوئی بات سمجھ نہ آئے توشعروں می تلاش کیجئے ، کیونکہ کہ اشعار عربی زبان میں ہیں ،،

حضرت عبداللہ بن عباس لغت میں بہت مہارت رکھتےتھے۔وہ عربی نوادرات ومفرادات اور امثال وغیرہ سےبخوبی واقف تھےاوراسی مہارت کی بنیاد پرو ہ کلمات کی لغوی تشرح کرتے، ایک مرتبہ نافع بن ازرق اورنجدہ بن عویمر نےحضرت ابن عباس سےتفسیری مسائل دریافت کرنےکےلےیہ شرط لگائی کہ ہرکلمہ کامفہوم عربی اشعارکی مدد سے واضح کریں توآپ نے یہ شرط پوری کردی ۔گویا ابن عباسﷺ اپنے عہد کی چلتی پھرتی کتاب لغت تھے ۔

جب اسلامی فتوحات کادائرہ وسیع ہوا اورعربوں اور عجمیوں کااختلاط ہوا توعربی زبان مین بگاڑ پیدا ہوناشروع ہوا اورخاص شہری علاقے اس کی لپیٹ میں زیادہ آنے لگےتوعربی زبان کےمحافظ علماء نےاس چیز کوبڑی شدت سےمحسوس کیا،چنانچہ وہ دیہاتوں کےطرف نکل گئے تاکہ فصیح اورخالص عربی سیکھیں ، تذکرہ نگاروں نےایسے لغت دانوں کی ایک طویل فہرست دی ہےجس میں خلیل بن احمد المتوفی 170ھ،خلف الاحمر المتوفی 180ھ ، الکسائی المتوفی 189ھ، ابن درید المتوفی 321ھ جیسے لوگ شامل ہیں ۔

عربی زبان کی خدمت کرنےوالے نامور علماءاس زبان کی حفاظت میں اس قدر حساس تھےکہ کسی کلمہ کووہ محض اس لیے غلط تصو ر کرتےتھےکہ عربوں نےاسے طرح استعمال نہیں کیا تھا، خواہ وہ کلمہ بذات خود کتنا فصیح کیوں نہ ہو، وہ کلمات غیرفصیحہ پرباقاعدہ نقد وجرح کرتے اورلوگوں کو اس کےاستعمال سےباز رکھتے،بلکہ بعض نےتواس ضمن میں کتب اوررسائل بھی لکھے مثلا کسائی المتوفی 192ھ نےایک رسالہ ''ماتحلن فیہ العامۃ ، ، تحریرگیا ، اسی طرح ابوعثمان بکربن محمدالمازنی المتوفی 248ھ،ابوحنیفہ الدنیوی المتوفی 290 ھ، ابوہلال العسکری المتوفی 295ھ کی کتب کاموضوع '' لحن العامة اورلحن الخاصة ،، ہے۔

عربی زبان کی نقد وجرح اورتہذیب وتنقیح کاکام ابھی تک جاری ہے، متقدمین اورمتاخرین نے اس سلسلہ میں جس عرق ریزی سےکام لیا ہے، دنیا کی کوئی زبان اس کی ہمسری نہیں کرسکتی ، اوریہ محنت وکاوش مختلف گوشوں میں کی گئی مثلا مفردات کی روایت ، قواعد کی ترتیب ، شواہد کااستیعاب ، کلمات وموازین کاحفظ وضبط ،مترادف الفاظ میں دقیق لغوی فرق ، مغرب ودخیل الفاظ کی تحقیق وغیرہ ۔دراصل اس جانب اس اہتمام کی بڑی وجہ قرآن مجید کی حفاظت اوراس کےمعانی ومطالب کےفہم وادراک کی ضرورت واہمیت تھی ، علاوہ ازیں عربی نہ صرف علم دین کےحصول کاذریعہ تھی بلکہ انسانی علوم ، تہذیب وتمدن کےمظاہر اورانسانی تجربات، افکاروآراء کےمعلوم کرنےکاذریعہ تھی ۔

تدوین لغت کےادوار

عربی زبان کی مذکورہ بالا اہمیت وافادیت کےساتھ ساتھ جہاں تک اس کی لغت نویسی کاتعلق ہےتواگر چہ زمانہ قبل ازاسلام میں بھی عرب اس کی حفاظت کرتےآئےتھے اورطلوع اسلام سے قبل ہی یہ زبان با م عروج کوپہنچی ہوئی تھی جس کی دلیل جاہلی شعراء کےشاندار قصائدہیں ، لیکن عصر جاہلی میں لغت نویسی کاقطعاً کوئی کام نہ ہوا تھا۔بلکہ طلوع اسلام کےبعد مسلمانوں نےجہاں دیگر علوم وفنون میں طبع آزمائی فرمائی،وہاں لغت نویسی میں بھی اپنی مہارت فن کےجوہردکھائے،صحابہ کرام تاجدارمدینہ ﷺ سےقرآ ن وحدیث میں وارد شدہ الفاظ کےمعانی ومطالب دریافت کرتے،بعض صحابہ ان کوزبانی یادرکھتےاوربعض ان کولکھ لیتے اور آگے لوگوں کوبتاتے ،اسے ہم تدوین لغت کا پہلا مرحلہ کہہ سکتےہیں جوقرآن وحدیث کےبعض مشکل الفاظ کی شرح وتوضیح تک محدود تھا۔

اس کےبعد لغت نویسی کا دوسرا مرحلہ آیا اوریہ گویاپہلے مرحلے کےزیر اثر تھا،اورحضرت ابن عباس ﷺ اس کےبہترین نمائندے تھےوہ صحابہ اورتابعین کوقرآن وحدیث کی غریب الفاظ کےمعانی ومفاہیم سےآگاہ کرتےاور مفردات کے شرح بوقت ضرورت عربی اشعار کی روشنی میں کرتےتھے، ابن عباس کی طرف دوکتابیں '' غریب القرآن،، اور'' التفسیرالاکبر،، منسوب ہیں ،لیکن درحقیقت یہ ان کی تحریر کردہ نہیں تاہم لغت نگاری کےبانی مبانی حضرت ابن عباس ہیں ۔

بعض لوگ اس سلسلہ میں ابان بن تغلب ، ابوسعید البکری المتوفی 141ھ کانام بھی لیتےہیں جوایک عظیم قاری ، فقیہ اورثقہ عالم تھےاور انہوں نے ''غریب القرآن،،کےنام سے کتاب لکھی اوربوقت ضرورت شواہدکے طورپرعربی اشعار بھی رقم کیے ۔

خلاصہ کلام ، حضرت ابن عباس کےبعد ابان بن تغلب نےعربی لغت نویسی کی طرف خصوصی توجہ کی اور پھر خلیل بن احمد الفراہیدی المتوفی 170ھ نے''کتاب العین،،کےنام ایسی مایہ ناز تصنیف کےجسے اصطلاحاً '' ڈکشنری Dictionary،،کہا جاتا ہے۔ وہ اپنے اسلوب میں پہلا شخص ہےجس نےبغیر کسی کی تقلید کئے اس فن کاآغاز کیا ۔

لغت نویسی کےاس تیسرے مرحلہ میں جوارتقاء کامرحلہ ہے، لوگوں نےمختلف انداز سےاس میدان میں کام کیا مثلاً بعض مؤلفین نےلغوی مفردات کومعانی وموضوعات کےاعبتار سےاکٹھا کیا ، انہوں نے عمداً ایسے مفردات بھی اکٹھے کیے جوصورتاًبھی ملتےجلتےتھے اورمعانی کےلحاظ سےبھی ایک دوسرے کےقریب تھےجیسے ''قدوقط،،( اس نےچپرا ، پھاڑا ) ،'' قضم ، خصم ،، (اس نے چبایا )، اسی طرح بعض نےلفظ ''عین ،، '' مولی ،، '' عجوز ،، '' نوی ، ، وغیرہ جیسے کثیرالمعانی کلمات اکٹھے کیے۔اس طرز پرجوکتب مرتب ہوئیں ، ان کی نام حسب ذیل تھے:

کتاب النیات ، کتاب الحشرات ، کتاب الابل ، کتاب النخیل ، کتاب الخیل ، کتاب خلق الارض وغیرہ بہرحال جب علماء نے ایسی کتب تالیف کیں جوایک خاص ترتیب کےمطابق بیشترلغوی مفردات پرمشتمل تھیں اورساتھ ساتھ ان کےمعانی ومطالب بھی بیان کئے گئےتھے تواس کےبعد عام لغت نویسی کاآغاز ہوااور مردر زمانہ کےساتھ ساتھ اس کا طرز بدلتا اورترقی کرتارہا، تاہم پہلی صدی ہجری اس فن کانقظہ آغاز تھی اوردوسری صدی ہجری سےباقاعدہ اس فن کاارتقاء شروع ہوا جواب تک جاری وساری ہےاور رہتی دنیا تک ، جب تک اللہ کا کلام موجود ہے، اس فن میں ماہرین طبع آزمائی کرتےرہیں گے۔

درج ذیل سطور میں مشہور لغت نگاروں کااورمعروف کتب لغت کاتذکرہ کیاجاتاہےجس میں سب سےپہلے ہم علم عروض اورعربی موسیقی کےبانی شیخ خلیل بن احمد الفراہیدی کےذکرسے آغاز کرتےہیں ۔

چندمشہورلُغت نگار

خلیل بن احمد الفراہیدی

ابوعبدالرحمن البصری الفراہیدی 100 ھ میں پیدا ہوا ، اور 170ھ یا ایک روایت کےمطابق 175ھ میں وفات پائی ،ابوعمروبن العلاء کاشاگرد اورمشہور نحوی سیبویہ کااستاد تھا ، انتہائی ذہین ، فطین ، عابد،مجاہد تھا، فن لغت میں پہلی شہر ہ آفاق کتاب''کتاب العین ،، لکھیں جوعربی لغت کی اساس ہے۔

خلیل نےیہ کتاب حروف تہجی کی ترتیب سےمرتب کی مگر اس میں مخارج حروف کی ترتیب کوملحوظ رکھا، پہلے حروف حلقی (ء ، ہ ، ع ، ح ، غ، خ)، پھر وہ حروف جوزبان سےنکلتےہیں ، پھر کیونک حروف حلقی میں حلق کی گہرائی ( وسط حلق ) سے نکالنے والا یہی حرف ہے۔

خلیل کی طرف '' کتاب العین ،، کےانتساب میں اگرچہ علماء کےدرمیان اختلاف ہےجوبخوف طوالت یہاں ذکرنہیں کیاجارہا،لیکن خلاصہ یہ ہےکہ '' کتاب العین،،اگرچہ مکمل طورپرخلیل کی نہ ہوتاہم اس کااکثر حصہ اسی کاتالیف کردہ ہے،،

کتاب العین کی اہمیت کےپیش نظر بعض نامور علماءمثلاالمفضل بن سلمہ ، عبداللہ بن محمدالکرمانی اورابن درید وغیرہ حضرات نےاس پرنقد وجرح کی ، ابوبکرالزبیدی المتوفی379ھ نےاس کا عمدہ خلاصہ تحریر کیا۔

اسحاق بن مرار الکوفی الشیبانی 94ھ میں پیدا ہوا اور 206 ھ میں وفات پائی ۔شعرولغت کاعالم اورصاحب دیوان شاعر تھا،امام احمدبن حنبل اورامام ابوعبیدبن سلام جیسے علماءنے اس سے استفادہ کیا ، علم لغت میں ''کتاب الجیم ،، لکھی، اس کتاب کومشہور فرانسیسی مستشرق شارل کونس نےاستاد ابراہیم مصطفیٰ کی تحقیق کےساتھ شائع کردیا ہے۔

ابوعبیدالقاسم بن سلام

قرآن وحدیث اورلغت کایہ مشہور عالم 175ھ میں پیدا ہوااور223ھ میں وفات پائی،اس کی بےمثال تصانیف نےامتِ مسلمہ کوقرآنی مفاہیم ومعانی میں بہت مدددی،فن لغت میں ا س کی مشہور کتاب '' الغریب المصنف ،، ہے۔

اس کتاب میں اس نےلغت کی تیس کتب سےاستفادہ کیاہے۔اس کتاب کی اہمیت کااندازہ اس بات سےلگایا جاسکتاہےکہ ابن سیدہ الاندلسی المتوفی 458ھ(مشہورلغت نویس ) کویہ کتاب زبانی یاد تھی ، اسی طرح سلیمان بن مطروح بھی اس کتاب کاحافظ تھا۔

ابن دُرید :

ابوبکر محمدبن الحسن الازدی ،البصری ( 223ھ۔321ھ ) کاشمار لغت کےاکابرعلماءمیں ہوتاہے، علم لغت وادب میں وہ خلیل کاقائم تھا ، ابن الندیم نےاس کی اُنیس کتابوں کا ذکرکیاہےجس میں مشہور کتاب علم لغت کی '' الجمهرة فى اللغة ،،ہے، اس کی وجہ تسمیہ یہ بتائی جاتی ہےکہ ابن درید نےاسے جمہور کلام عرب سےمنتخب کرکےجمع کیا تھا۔الصاحب ابن عباد(متوفی 385 ھ ) نے الجوہر ۃ کےنام سے اس کتاب کاخلاصہ تیار کیا۔

ابوالقاسم اسماعین بن عباس ( 326ھ۔385ھ) ، مشہور ادیب ونثر نگارابن العمیدالمتوفی 360ھ کاشاگرد رشید ہے، اس کی ذاتی لائبریری چارسوبارشترکےبرابرتھی، یہ ایک طویل عرصہ تک مؤید الدولہ بن بویہ اوراس کےبھائی فخرولہ کاوزیررہا۔اس کےعظیم کارناموں میں لغت کی مشہور کتاب''المحیط،، ہےجووسعت اورجامعیت کےلحاظ سے بےنظیر ہے۔

ابن فارس :

ابوالحسن احمد بن زکریا بن فارسی الرازی المتوفی 390ھ، مشہورشاعر،ادیب اورلغت نگار تھا، دیگر تصانیف کےعلاوہ لغت پراس کی دوکتابیں '' مقاییس اللغۃ ،، اور'' المجمل،،مشہور ہیں ، اول الذکر چھ جلدوں پرمشتمل ہےاورڈاکٹرعبدالسلام محمدہارون کی تحقیق سےطبع ہوکرکافی عرصہ سےمارکیٹ میں آچکی ہے۔ ابن فارس نےاس کی ترتیب میں نہایت جدب پیداکی ہے۔

الجوہری :

ابونصر اسماعیل بن حماد الجوہری المتوفی 400 ھ ترکستان کےشہر فاراب کاباشندہ تھا،ابوعلی الفارسی المتوفی 356ھ اور ابوسعید السیرانی المتوفی 368ھ کاشاگردتھا،فن لغت میں اس کااعلیٰ کارنامہ '' الصحاح فی اللغۃ ،، کی تصنیف ہے، علماءے کرام نے''الصحاح، کوبہت پسند کیاہےچنانچہ ثعلبی کہتےہیں :

'' الصحا ح ، ابن درید کی الجمہرۃ فی اللغۃ اورابن فارس کی المجمل سےزیادہ بہترہے،،

علامہ جلال الدین سیوطی ﷫ کہتےہیں : '' اولین لغت نویس جس نے لغت کی کتاب میں صحت کا التزام کیاوہ الجوہری ہے۔صحاح کولغتت کتب میں وہی درجہ ہےجوصحیح بخاری کوکتب حدیث میں ،،

علامہ جوہری کی اس کتاب کوعلماء نےہرزمانہ میں پسند کیا کیونکہ موصوف نےاس کتاب کو جدید اورآسان اسلوب میں مرتب کیا، اس کےقبول عام کی سب سےبڑی دلیل یہ ہےکہ کتب لغت میں جتنا اس کےساتھ اعتناء کیاگیا، شاید اتنا کسی اور کےساتھ نہیں کیاگیا مثلا محمدبن ابی بکر بن عبادالقادرالرازی المتوفی (660ھ) نے مختارالصحاح کےنام سے اس کاخلاصہ تیار کیا ، ابوالفضل محمد بن عمر بن خالد القرشی المعروف بہ جمال القرشی نے' ' نورالصباح فی فی اغلاط الصحاح ،، کےنام سے''الصحاح ،، پرتنقید کی ، لیکن مفتی محمدسعداللہ رامپوری نےنورالصباح میں اغلاط الصراح لکھ کراس تنقید کاجواب دیا ہے۔

علامہ جلال الدین السیوطی نے'' فلق الاصباح فی تخریج احادیث الصحاح،،لکھ کرالصحاح میں مذکور احادیث کی تخریج کی ہے۔

چنددیگر مشہورکتب لغت

المحکم : یہ ابن سیدہ اندلی (ابوالحسن علی بن اسماعیل المتوفی 458ھ)کی تالیف ہے،اس کامؤلف علم نحو، لغت، علم قراءۃ میں مکمل دستگاہ رکھتاتھا، اس کی ترتیب ''کتاب العین،،کےمطابق ہے۔

المخصص : یہ ابن سیدہ کی دوسری کتاب لغت ہےاسے الثعالبی کے'' فقہ اللغہ ،،کےاسلوب پرمرتب کیاگیاہے۔

العباب :یہ علامہ رضی الدین حسن بن محمد الصغانی کی مایہ ناز کتاب لغت ہے،مؤلف نےاس کی بیس جلدیں لکھیں ، ابھی یہ نامکمل تھی کہ وہ 650ھ میں وفات پاگئے ۔

لسا ن العرب : یہ کتاب علامہ ابوالفضل جمال الدین محمدبن مکرم بن منظورالافریقی المصری المتوفی 711ھ کی تالیف ہے۔ اس کامؤلف یگانہ روز گارعالم تھا، اس سے امام السبکی اورامام ذہبی نے استفادہ کیا۔لسان العرب اسی ہزار 80.000 کلمات پرمشتمل ہےاوراسے لغت کاانسائیکلوپیڈیا کہا جائے توبےجانہ ہوگا ۔

القاموس : علامہ مجدالدین ابوطاہر محمدبن یعقوب الفیروز آبادی المتوفی 816ھ نے اسے تالیف کیا، یہ کتاب ان عظیم کتابوں میں شمار ہوتی ہےجس نےلغت نویسی کی تحریک میں ایک نئی روح پھونک دی ۔ ا س کی مقبولیت کااندازہ اس بات سےلگایا جاسکتاہےکہ مشہور عالم مرتضیٰ حسین الزبیدی نے'' تاج العروس من جواہرالقاموس،، کےنام سے اس کی شرح لکھ کرکتب لغت میں ایک غظیم اضافہ کیا،یہ بھی مکمل طورپرچھپ چکی ہے، القاموس المحیط کےکئی زبانوں مین تراجم بھی کیےگئے اور کئی علماء نے اس کےمختلف گوشوں برنقد وجرح کی مثلامحمدبن مصطفیٰ المعروف داؤد زادہ المتوفی 1107ھ نے'' الدراللقیط فی اغلاط القاموس ،، لکھی،شیخ احمدفارس الشدیاق المتوفی 1886 ء نے ''الجاموس علی القاموس ،، لکھی ،مفتی محمد سعداللہ رامپوری المتوفی 1287ھ نے '' القول المانوس فی صفات القاموسں ،،لکھی

عصرحاض میں کبت لغت

عربی زبان چونکہ اللہ اور اس کےرسول کی محبوب زبان ہےاورابدالادباررہنےوالی ہےلہذا سابقہ ادوار کی طرح عصر حاضر میں کئی کتبِ لغت معرض وجود میں آئیں مثلا المنجد، الرائد ، المورد، القاموس العصری ، الفرائد الدریہ ، القاموس الفرید وغیرہ،علاوہ ازیں کئی دکشنریاں ایسی بھی لکھی گئی ہیں جن میں عربی الفاظ کےمعانی دیگر زبانوں مثلاً اردو،فارسی ، انگلش ، ترکی وغیر ہ میں کئے گئے اور اس طرح ان عجمی زبانوں کےاکثر استعمال میں آنے والے حروف تہجی کی صورت میں ترتیب دےکر ان کےمعانی عربی زبان میں لکھے گئے ۔

خلاصہ کلام : لیکن اس کےباوجود دور جدید میں علم لغت میں کوئی جدید طرز کاخصوصی طورپر قابل تحسین کام نظر نہیں آتابلکہ سب میں متقدمین کی خوشہ چینی کی گئی ہے۔البتہ دخیل اورمعرب الفاظ کی بھرمار ہےجوعصر حاضر کاتقاضا بھی ہے۔

عربی لغت نگاری کےمکابت اربعہ

متقدمین لغت نگاروں کی لغات کوخلیل بن احمد سےلےکر الجوہری کےعہدتک حسب ذیل چارمکاتب فکر میں محصور کیاجاسکتاہے:

مکتب خلیل :

یہ عربی لغت نویسی کاپہلا مکتب فکر ہےجس کاامام خلیل بن احمد ہے۔خلیل نےاپنی کتاب کی ترتیب حروفِ ہجاء پربلحاظ مخارج رکھی ہے، لغت کوچند کتب میں تقسیم کیاہےاورہرکتاب کوابواب پرمتفرع کیا ہے، کلمات کوابواب میں جمع کیاگیاہے۔

خلیل کےبعد آنے والے کئی لغت نویسوں نے اس اسلوب کا تتبع کیاہےمثلا الازہری الہروی نےتہذیب اللغہ میں، ابن عباد نےالمحیط میں ، ابوعلی القالی نے'' کتاب البارع،، میں شیخ نحوی کی کتاب العین کی پیروی کی ہےتاہم ہربات میں پیروی کی بجائے کئی جدتیں بھی پیدا کیں ۔

مکتب ابی عبید :

یہ دبستانِ فکر ابوعبیدالقاسم بن سلام کی طرف منسوب ہے، اس میں لغت کومعانی وموضوعات پرمبنی قرار دیا گیا ہے، ابوعبیدنےپہلے چھوٹی چھوٹی کتابیں لکھیں،ہرایک کتاب علیحدہ موضوع پرمشتمل تھی مثلا کتاب الحیل ، کتاب اللبن، کتاب الحشرات وغیرہ، پھر ان جملہ کتابوں کو ایک جگہ جمع کرکے اسے '' کتاب الغریب المصنف ،،کانام دیا، ہرکتاب میں ایک موضوع سےمتعلق تمام کلمات کوجمع کردیا مثلا کتاب النساء میں وہ تما م الفاظ جمع کردئیے جوکسی نہ کسی طریقے پرعورتوں سےمتعلق تھے۔اس طرزپرابن سیدہ اندلسی نے'' المخصص ،، میں اور عبدالفتاح السعیدی نےکتاب الافصاح میں یہی طریقہ اپنایا ۔

مکتب الجوہری

اس کابانی ابونصر الجوہری ہے، اس مکتب فکر نےجونئی راہ اختیارکی اس کاخلاصہ یہ ہےکہ پہلے حروف کی بجائے کسی کلمہ کےآخر میں جوحرف ہواس کےپیش نظرموادکوحروف تہجی کی ترتیب سےمرتب کیا جائے، آخری حرف باب کہلائے گااورپہلا حرف فصل کہلائے گا، امام الصغانی کی ترتیت سےمرتب کیاجائے، آخری حرف باب کہلائے گا اور پہلا حرف فصل کہلائے گا، امام الصغانی نےالتکلملۃ میں ،ابن منظور نےلسان العرب میں اور امام فیروز آبادی نے القاموس المحیط میں یہی طریقہ اختیار کیا ۔

مکتب البرمکی :

یہ مکتب ابوالمعالی محمد بن تمیم البرمکی کی طرف منسوب ہے، اس نےاگرچہ کوئی مستقل کتاب لغت تصنیف نہیں کی ۔

تاہم لغت نویسی کاایک نیاطریقہ اختراع کیا جو ابھی تک چلا آرہا ہے، وہ یہ ہےکہ لغت نویسی کی بنیاد حروف ہجاء کی معروف ترتیب پررکھی گئی ، کسی کلمہ کےپہلے حرف کوپیش نظر رکھنے کےساتھ ساتھ کلمہ کےدوسرے اور تیسرے حرف کوبھی پیش نظر رکھا ہے،اس نےالصحاح کو اسی ترتیب پرمرتب کرکے ایک انوکھا اسلوب نکالا ، اگرچہ زمخشری نےاساس البلاغت میں یہ طریقہ اختیار کیاہےلیکن موسس البرمکی ہے۔عربی لغت نویسی سےلےکرعصرحاضر تک انہی چار مکاتب فکر میں محضور ہے۔