اسنان مدنیت طبع ہونے کےناطے دوسرے انسان کامحتاج ہےاسی طرح یہ بھی واضح ہےکہ کوئی اانسان خواہ کسی بھی حالت میں کیوں نہ ہوتنہا اپنی جملہ ضروریات پوری نہیں کرسکتا بلکہ دوسرےانسان کا محتاج ہے۔
ہرانسان اپنی صلاحیت کےمطابق انسانی ضروریات کےلیے پیداواری یونٹ ہےاورہر یونٹ کی پیداوار دوسرے کی ضرورت ہے۔لہذا ہریونٹ اپنی پیداوار کازائد حصہ دوسرے کو دیکر اپنی بقیہ ضروریات کوحاصل کرتاہےاوریہی معاملات کی اصل اساس ہے۔ یوں ہریونٹ اپنی پیداوار کامالک بن جاتاہے ۔لہذا زیر نظر مضمون میں ان عوامل کی نشان دہی کی جاتی ہےجن کواختیار کرنے سےانسان قطعئہ ارضی کامالک بن جاتاہےاسی طرح اسلام میں ملکیت کی تعریف اورایک انسان کا اپنی مملوکہ زمین میں تصرف کااختیار پہچاننا از حد ضروری ہے۔

ملکیت کی تعریف

کتب لغت میں لفظ ملک کا معنی ' ' کسی چیز پرقبضہ اورحق تصر ف ہے،، ۔

ابن درید کاقول ہے:

الملك مايحويه الانسان من ماله (1)

'' انسان کا جس چیز پرقبضہ ہو، وہ اس کی ملکیت ہے،،

ابن سیدہ کاقول ہے:

الملك احتواء الشئى والقدرة اعلى الاستبداد به (2)

'' کسی چیز کاقبضہ اوراختیار تصرف ملکیت ہے،، ۔

قرآن مجید میں بھی لفظ ملک اسی معنی میں استعمال ہواہے:

﴿أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَا أَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مَالِكُونَ ﴾

'' کیا ان کوعلم نہیں کہ ہم نے ان کےلیے جانور پیدا کیےاوریہ ان میں جو چاہیں تصرف کرتےہیں ،،۔

ملکیت کی اصطلاحی تعریف

کسی انسا ن کا کسی چیز کامالک ہونا یہ مفہوم رکھتاہےکہ اب کوئی دوسرا شخص مالک کی رضا مندی کےبغیر اس چیز سےکوئی فائدہ نہیں حاصل کرتا ۔

مذکور ہ مفہوم سلف کےعلم میں تھا اور معاملات میں وہ اس کاپورا خیال رکھتے۔جیسا کہ قرآنی احکام اوراحادیث رسولﷺ کسی کودوسرے کی ملکیت میں مداخلت سےنہ صرف منع کرتی ہیں بلکہ اسے ایک قابل سزا جرم گردانتی ہیں ۔جیساکہ چوری اورڈاکہ کی سزائیں اسلام میں معلوم ومعروف ہیں ۔

البتہ ملکیت کی ایسی تعریف کہ جس میں شروط وقیود کاخیال رکھا گیا ہواورایک فنی حیثیت رکھتی ہو، ساتویں صدی کےمشہور فقیہ القرانی سےقبل نہیں ملتی ، انکاقول ہے:

الملك إباحة شرعية فى عين أو منفعة تقتضى تمكن صاحبها من الانتفاع بتلك العين أوالمنفعة أو أخذالعوض عنه من حيث هى كذلك (4)

'' ملکیت وہ شرعی جواز ہےجس سےانسان کسی چیز کےعین منفعت کاحق داربن جاتاہےکہ وہ اس عین منفعت سےخود مستفید ہویا اس کاعوض حاصل کرسکے،،۔

مذکورہ تعریف چونکہ ابتدائی کوشش تھی چنانچہ ابن نجیم نےملکیت کی اصطلاحی تعریف مزید بہتر کی ہےجوجامع اورمانع ہے:

الملك قدرة يشبتها الشارع ابتداء على التصر ف إلا لمانع (5)

'' ملکیت وہ قدرت وصللاحیت ہےجسے شارع نے(سوائے کسی مانع کے)ابتداء اسے ہی تصرف کےلیے ثابت رکھا ہے،،۔

توشرعًا ملکیت انسان اورمال کاوہ تعلق ہےجسے شارع نےبرقراررکھااور انسان کوسوائےکسی مانع کےشرعی حدود میں رہتےہوئے اس سےہمہ قسم کےمنافع کاحصول کااختیار وتصرف دیا ہے۔

انسانی ملکیت

جیسا کہ ملکیت کی تعریف میں ذکر ہےکہ کوئی انسان کسی مملوکہ چیز کی ذات کامالک نہیں ہوتا بلکہ مملوکہ چیز سےمسلک فوائد اس کی ملکیت ہیں اورانسانی کی رغبت بھی کسی چیز سےاسی وقت تک قائم رہتی ہےجب تک مملوکہ چیز سےفوائد ومنافع منسلک ہوں۔فوائد کےخاتمہ کےساتھ ہی انسانی رغبت نہ صرف ختم ہوجاتی ہےبلکہ انسان اس سےعلیحدہ ہوجاتاہےاسی طرح انسان صرف انھی چیزوں کامالک بننا پسند کرتاہےجس سےفوائد حاصل ہونے کی توقع ہو۔بصورت دیگر وہ مالک بننا ہی پسند نہیں کرتا ۔

چونکہ وسائل پیداوار میں زمین کی حیثیت کلیدی ہےاورتمام بنی نوع انسان ہی زمین پرزندگی کی منصوبہ بندی کرتےہیں، حصول رزق کےلیے مشرق ومغرب کاسفراختیارکرتےہیں ۔اسی زمین پربستیاں وشہر آباد ہوتےہیں اوراسی زمین سےزرعی اجناس حصول کےلیے بڑے بڑے زرعی فارم وجود میں آتےہیں ۔ زمین کی پیداوار سےہی انسانی زندگی قائم ہے۔ زمیں پرہی بڑی بڑی تجارتی منڈیاں اوربڑی بڑی صنعتیں قائم ہیں تویوں انسان کےلیے ملکیت زمین ازحد ضروری ہےاورخو د انسان بھی ملکیت زمیں کودیگر اشیاء کی ملکیت پرترجیح دیتا ہے۔چنانچہ جنگ وجدل کااہم سبب زمین پرقبضہ ودفاع ہوتاہے۔

اسلام نےبھی اس فطری امر کےپیش نظر انفرادی واجتماعی ملکیت کا تصور کیا ہے۔لیکن یہ تصور ہردوتصور (اشتراکیت وسرمایہ داری ) سےمختلف ہے۔ایک اسلامی مملکت میں زمین بحیثیت مالک کےتین حصوں میں تقسیم ہوسکتی ہے:

1۔ مسلم افراد کی ملکیت ۔

2۔ غیرمسلم افراد(اہل الذمہ ) کی ملکیت ۔

۔3حکومت کی ملکیت ۔

ذیل میں سب سےپہلے ان اصول وقواعد کاذکر کیا جاتاہےجومسلم افراد کی ملکیت کےلیے اسلام نےاپنائے ہیں :

قاعدہ نمبر 1

کسی علاقہ میں جب ابتداء اسلام کی دعوت کاپرچارہواوراس وقت کوئی شخص مسلمان ہوجائے تو اس کی جملہ زمین جواسلام سےقبل اس کی ملکیت تھی، اسلام کےبعدبھی اس کی ملکیت میں برقرار رہےگی ۔جیساکہ مدینہ منورہ کےانصار اسلام قبول کرنےکےبعد بھی سابقہ زمینوں کےمالک تھے۔آج تک اس بات پراجماع ہےاوررسول اللہ ﷺ کایہ فرمان ہے:

'' إذا أسلم الرجل فهو أحق بأرضه وماله

'' جب کوئی شخص مسلمان ہوتووہ اپنی زمین اور اپنےمال کازیادہ حق دار ہے،،۔

حضرت عمربن الخطاب نےحضرت سعدبن ابی وقاص کوخط لکھا کہ جوشخص قتال سےقبل مسلمان ہوجائے ہو امت مسلمہ کاایک فر د ہےاور اسے مسلمانوں کےتمام حقوق حاصل ہیں ۔

اسی طرح حذیفہ بن یمان کےخط کےجواب میں حضرت عمر عمرنےلکھا:

أيما رجل أسلم قبل أن تضع الخراد على أرضه وعلى رأسه فخذ من أرضه العشروألغ عن رأسه ولا تأخذ من مسلم خراجا

'' جوشخص اس سے قبل کہ آپ کی زمین پرخراد اوراس کی ذات پرجزیہ مقرر کریں،مسلمان ہوجائے تواس کی زمین سےعشر وصول کرواورجزیہ ختم کردواورکسی مسلمان سےخراج وصول نہ کرو ،،۔

اب چن فقہاء کےاقوال نقل کرتےہیں تاکہ بات مزید واضح ہوجائے ۔مجاہدین جبیر﷫کاقول ہے :

كل من أسلم من خلق الله قبل القتال فهم أحرار مسلمون وأرضوهم أرض عشر۔

'' مخلوق خدا میں سے جوبھی قتال سےقبل اسلام قبول کرلےوہ آزاد مسلمان ہیں اور ان کی زمینیں ان کی ملکیت ہیں، ان سےعشروصول ہوگا ،،۔

حسن بن صالح کاقول ہے:

إذا أسلم على الأرض أهلها فهى أرض العشر

'' جب کسی علاقہ کےلوگ مسلمان ہوجائیں توان کی زمین ان کی ملکیت رہےگی اوریہ عُشری زمین ہوگی ،، ۔

قاضی ابویوسف سےایسے لوگوں کےمتعلق سوال ہوا جواہل حرب سےخود بخودمسلمان ہوجاتےہیں تو فرمایا:

إن دمائهم حرام وماأسلموا من أموالهم فلهم وكذلك أرضولهم وهى أرض عشربمنزلة المدينة حيث أسلم أهلها مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وكانت أرضهم أرض عشر(11)

'' ان کا قتل حرا م ہ ےاوراسلام کےوقت جوبھی ان کامال ہےوہ سب ان کی ملکیت ہےاسی طرح ان کی زمینیں بھی ان کی ہیں اوریہ عشری زمین ہےمدینہ کی زمین کی طرح کہ وہ لوگ رسول ﷺ کےساتھ مسلمان ہوئے اوران کی زمینیں عشری ہیں،،۔

امام ابوعبیدقاسم بن سلام نےبھی عشری زمینوں کی انواع واقسام بیان کرتےہوئےسب سے پہلی قسم یہ بیا ن کی ہےکہ جس زمین کےباشندے خودبخود اسلام قبول کرلیں ۔(12)